تونسہ شریف سے حسن بوزدار
لکھنے کو بہت دل کرتا ہے لیکن لکھنے کیلئے قلم نہیں کہنے کو بہت کہہ سکتا ہوں بولنے کیلئے حقیقی زبان نہیں حقائق سامنے لانے کیلئے دن بھر بہت خیالات آتے ہیں لیکن لکھتے وقت وہ ڈیٹا میموری سے آدھا ڈیلیٹ ہو جاتا ہے کیونکہ ڈیٹا سیو کرنے کیلئے جو سٹوریج ہونا چاہییے تھا اس سے ہمیں دور اور بہت دور تک رسائی نہیں لیکن سچ بات کہنے اور لکھنے میں کوئ قباحت نہیں جو اس وقت تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں ترقی و خوشحالی کے کام ہورہے ہیں وہ قابل ستائش اور قابل تحسین اور قابل دید ہیں لیکن فرسودہ قوموں کی ترقی امستقبل قریب کیلئے یہ مستقل ترقی نہیں صرف ایک خواب کی مانند ہے تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں بہت سے منصوبوں کا آغاز اور بہت سے آخری مراحل میں لیکن تونسہ شریف جو ہمارے کوہ سلیمان کا سب سے قریبی شہر ہے ان کیلئے سب سے پہلے اور سب
مزید خبروں تبصروں اور تجزیوں کیلئے http://fb.com/traibaltv
سے ضروری ایک یونیورسٹی ہے جو ہم کوہ سلیمان اور تونسہ شریف کے غریب باسیوں کیلئے کامیابی کا ایک اہم ترین کامیابی کا بنیاد ہوگا کیونکہ غریب انسان زندگی بھر کوشش بھی کرے تو غریب عوام پرائیویٹ اداروں میں اپنے بچوں کو نہیں پڑھا سکتے دوسرا ٹرائبل ایریا کیلئے چند ایک چیزیں جو خاص کر شدید تر عوام کو اس جدید دور میں دستیاب نہیں بلکہ 90% مشکل ترین نظر آرہا ہے وہ ہے انٹر نیٹ بجلی نادرا آفس ہسپتال اور تعلیم کوہ سلیمان کے مال دار حضرات 100میں زیادہ سے زیادہ 5% ہونگے وہ لوگ اکثر شہروں میں جاکر آباد ہوئے ہیں
http://traibal_news
یا اپنے بچوں کو تعلیم کی غرض سے شہروں میں بھیج چکے ہیں باقی جو غریب یا متوسط طبقہائے زندگی کے 90سے 95% کوہ سلیمان کے غریب عوام کہیں جانے یا اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کیلئے غربت کے باعث کہیں نہیں بھیج سکتے ہمیں اس وقت ہر یونین کے سطع پر ایک ایک کالج بہت ضروری ہے کوہ سلیمان کے قریب 10 دس لاکھ آبادی کے عوام کیلئے بنیادی ضروریات اور مستقبل قریب میں دنیا کے ساتھ چلنے کیلئے تعلیم جو کہ اسوقت کوہ سلیمان میں تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے سی ایم پنجاب سردار عثمان صاحب سے اہل عوام کی اپیل ہے اب سب غریب عوام کی نظریں آپ پر لگی ہوئی ہیں مستقبل قریب میں تیزی سے ابھرتے ہوئے تعلیم کے میدان میں ترقی سے عوام کے معاشی مستقبل کا بنیاد انہی تعلیم پر منحصر ہے جو کہ ہم کوہ سلیمان کے باسی ماضی بعید سے لیکر آج تک اس چراغ کی روشنی سے80%محرومی کا شکار ہیں آج نہیں تو کل ممکن ہی نہیں اب نہیں تو کبھی بھی ممکن نہیں پورا جنوبی پنجاب ڈی جی خان تونسہ شریف بشمول کوہ سلیمان کے عوام آپکی طرف دیکھ رہی ہے ان لنک روڈوں چند نامی گرامی شخصیت کیلئے سکولز یا ڈسپنسری کے بلڈنگ یا ان کیلئے صاف پانی کے نام پر بوریں یا زرعی آباد کاری کیلئے بورنگ یا چند سفید پوشوں کیلئے ملازمتیں دینے سے پورا کوہ سلیمان ترقی کے راہ پر گامزن ہوتا ہوا دکھانا غریب عوام سے دھوکہ تصور کیا جائیگا کوہ سلیمان کی ترقی کے منازل پانے کیلئے ہر یوسی میں ایک ایک کالجز اور ایک ایک ھسپتال4اہم روڈز ماضی قریب کے آنے والے ہمارے مستقبل کی ترقی کے نئے دور کا ابتداء ہوگا تونسہ شریف ٹو راڑہ شم تونسہ شریف ٹو موسی خیل اور سخی سرور ٹو رکنی چوتھا سخی سرور ٹو فاضلہ جب تک ان چاروں روڈز کو ڈبل کرکے نہیں بنوایا گیا تب تک اونٹ کے منہ میں نوالہ ڈالنے کے مترادف تصور ہوگا مجھے90%یقین ہے انشااللہ یہ ضرور بنینگے لیکن جو کچھ ہوکر میرے آنکھوں کے سامنے گزر رہا ہے تو ان ترقی کی بنیاد صرف ایک خواب نظر آرہا ہے میں جس حقیقت کو دیکھ کر کبھی کبھار سوشل میڈیا پر اس لیئے لکھا کرتا ہوں کہیں ہم جیسے عوامل کی آواز سی ایم پنجاب محترم سردار عثمان خان بزدار تک پہنچ جائے جو آپکے دیئے ہوئے عوام دوست خدمات میں ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں ان میں بے تحاشا دن کے12بجے کرپشن اور ناقص میٹیریل کا استعمال دھڑلے سے جاری ہے کوئ بھی پوچھنے والا کہیں سے نظر نہیں آرہا اس صورتحال میں18ماہ گزرنے کے باوجود کہیں سے ان ظالم کرپٹ ٹھیکداروں پر کوئ لگام ڈالنے والا مسیحا سے دعا سلام نہیں ہوا نہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان آپکے کوششوں اور کاوشوں کو صد سلام پیش کرتا ہوں جو آپ نے اپنے غریب عوام کیلئے اہم اور انتہائ اقدام کیلئے قدم اٹھائے ہیں بیشک وہ قابل تعریف اور داد مستحق ہیں لیکن محترم سے پھر بھی ایک بار اپیل کرتا ہوں جو آپکے ٹیم کے ڈی جی خان میں بیورو کریسی کی ذمہ داری ہے عوامی منصوبوں پر دیکھ بھال کرنا وہ آپکے دیئے ہوئے عوام دوست خدمات کے ترقیاتی پراجیکٹس کو اپنا پراپرٹی سمجھ کر اپنے آفسوں میں کچھ لو اور کچھ دو پر پراعتماد بنا کر کرسیوں پر براجمان ہیں ہاں آپ تک سب اچھا کا رپورٹس جو لوگ دے رہے ہیں وہ آپ کیلئے ہمارے لیئے بلکہ قوم کیلئے دسمبر کے اینڈ اور جنوری کے فسٹ کا وہ سموگ ثابت ہوگا روڈ پر جس کے حد نگاہ صرف0بتایا جاتا ہے
لکھنے کو بہت دل کرتا ہے لیکن لکھنے کیلئے قلم نہیں کہنے کو بہت کہہ سکتا ہوں بولنے کیلئے حقیقی زبان نہیں حقائق سامنے لانے کیلئے دن بھر بہت خیالات آتے ہیں لیکن لکھتے وقت وہ ڈیٹا میموری سے آدھا ڈیلیٹ ہو جاتا ہے کیونکہ ڈیٹا سیو کرنے کیلئے جو سٹوریج ہونا چاہییے تھا اس سے ہمیں دور اور بہت دور تک رسائی نہیں لیکن سچ بات کہنے اور لکھنے میں کوئ قباحت نہیں جو اس وقت تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں ترقی و خوشحالی کے کام ہورہے ہیں وہ قابل ستائش اور قابل تحسین اور قابل دید ہیں لیکن فرسودہ قوموں کی ترقی امستقبل قریب کیلئے یہ مستقل ترقی نہیں صرف ایک خواب کی مانند ہے تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں بہت سے منصوبوں کا آغاز اور بہت سے آخری مراحل میں لیکن تونسہ شریف جو ہمارے کوہ سلیمان کا سب سے قریبی شہر ہے ان کیلئے سب سے پہلے اور سب
مزید خبروں تبصروں اور تجزیوں کیلئے http://fb.com/traibaltv
سے ضروری ایک یونیورسٹی ہے جو ہم کوہ سلیمان اور تونسہ شریف کے غریب باسیوں کیلئے کامیابی کا ایک اہم ترین کامیابی کا بنیاد ہوگا کیونکہ غریب انسان زندگی بھر کوشش بھی کرے تو غریب عوام پرائیویٹ اداروں میں اپنے بچوں کو نہیں پڑھا سکتے دوسرا ٹرائبل ایریا کیلئے چند ایک چیزیں جو خاص کر شدید تر عوام کو اس جدید دور میں دستیاب نہیں بلکہ 90% مشکل ترین نظر آرہا ہے وہ ہے انٹر نیٹ بجلی نادرا آفس ہسپتال اور تعلیم کوہ سلیمان کے مال دار حضرات 100میں زیادہ سے زیادہ 5% ہونگے وہ لوگ اکثر شہروں میں جاکر آباد ہوئے ہیں
http://traibal_news
یا اپنے بچوں کو تعلیم کی غرض سے شہروں میں بھیج چکے ہیں باقی جو غریب یا متوسط طبقہائے زندگی کے 90سے 95% کوہ سلیمان کے غریب عوام کہیں جانے یا اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کیلئے غربت کے باعث کہیں نہیں بھیج سکتے ہمیں اس وقت ہر یونین کے سطع پر ایک ایک کالج بہت ضروری ہے کوہ سلیمان کے قریب 10 دس لاکھ آبادی کے عوام کیلئے بنیادی ضروریات اور مستقبل قریب میں دنیا کے ساتھ چلنے کیلئے تعلیم جو کہ اسوقت کوہ سلیمان میں تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے سی ایم پنجاب سردار عثمان صاحب سے اہل عوام کی اپیل ہے اب سب غریب عوام کی نظریں آپ پر لگی ہوئی ہیں مستقبل قریب میں تیزی سے ابھرتے ہوئے تعلیم کے میدان میں ترقی سے عوام کے معاشی مستقبل کا بنیاد انہی تعلیم پر منحصر ہے جو کہ ہم کوہ سلیمان کے باسی ماضی بعید سے لیکر آج تک اس چراغ کی روشنی سے80%محرومی کا شکار ہیں آج نہیں تو کل ممکن ہی نہیں اب نہیں تو کبھی بھی ممکن نہیں پورا جنوبی پنجاب ڈی جی خان تونسہ شریف بشمول کوہ سلیمان کے عوام آپکی طرف دیکھ رہی ہے ان لنک روڈوں چند نامی گرامی شخصیت کیلئے سکولز یا ڈسپنسری کے بلڈنگ یا ان کیلئے صاف پانی کے نام پر بوریں یا زرعی آباد کاری کیلئے بورنگ یا چند سفید پوشوں کیلئے ملازمتیں دینے سے پورا کوہ سلیمان ترقی کے راہ پر گامزن ہوتا ہوا دکھانا غریب عوام سے دھوکہ تصور کیا جائیگا کوہ سلیمان کی ترقی کے منازل پانے کیلئے ہر یوسی میں ایک ایک کالجز اور ایک ایک ھسپتال4اہم روڈز ماضی قریب کے آنے والے ہمارے مستقبل کی ترقی کے نئے دور کا ابتداء ہوگا تونسہ شریف ٹو راڑہ شم تونسہ شریف ٹو موسی خیل اور سخی سرور ٹو رکنی چوتھا سخی سرور ٹو فاضلہ جب تک ان چاروں روڈز کو ڈبل کرکے نہیں بنوایا گیا تب تک اونٹ کے منہ میں نوالہ ڈالنے کے مترادف تصور ہوگا مجھے90%یقین ہے انشااللہ یہ ضرور بنینگے لیکن جو کچھ ہوکر میرے آنکھوں کے سامنے گزر رہا ہے تو ان ترقی کی بنیاد صرف ایک خواب نظر آرہا ہے میں جس حقیقت کو دیکھ کر کبھی کبھار سوشل میڈیا پر اس لیئے لکھا کرتا ہوں کہیں ہم جیسے عوامل کی آواز سی ایم پنجاب محترم سردار عثمان خان بزدار تک پہنچ جائے جو آپکے دیئے ہوئے عوام دوست خدمات میں ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں ان میں بے تحاشا دن کے12بجے کرپشن اور ناقص میٹیریل کا استعمال دھڑلے سے جاری ہے کوئ بھی پوچھنے والا کہیں سے نظر نہیں آرہا اس صورتحال میں18ماہ گزرنے کے باوجود کہیں سے ان ظالم کرپٹ ٹھیکداروں پر کوئ لگام ڈالنے والا مسیحا سے دعا سلام نہیں ہوا نہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان آپکے کوششوں اور کاوشوں کو صد سلام پیش کرتا ہوں جو آپ نے اپنے غریب عوام کیلئے اہم اور انتہائ اقدام کیلئے قدم اٹھائے ہیں بیشک وہ قابل تعریف اور داد مستحق ہیں لیکن محترم سے پھر بھی ایک بار اپیل کرتا ہوں جو آپکے ٹیم کے ڈی جی خان میں بیورو کریسی کی ذمہ داری ہے عوامی منصوبوں پر دیکھ بھال کرنا وہ آپکے دیئے ہوئے عوام دوست خدمات کے ترقیاتی پراجیکٹس کو اپنا پراپرٹی سمجھ کر اپنے آفسوں میں کچھ لو اور کچھ دو پر پراعتماد بنا کر کرسیوں پر براجمان ہیں ہاں آپ تک سب اچھا کا رپورٹس جو لوگ دے رہے ہیں وہ آپ کیلئے ہمارے لیئے بلکہ قوم کیلئے دسمبر کے اینڈ اور جنوری کے فسٹ کا وہ سموگ ثابت ہوگا روڈ پر جس کے حد نگاہ صرف0بتایا جاتا ہے

