Monday, 3 September 2018

ڈی جی خان میں ٹیکنالوجی نے عدالتی نظام آسان بنا دیا

ڈیرہ غازی خان میں عدالتی نوٹسز کی اطلاع یابی کے لیے عدالتی اہلکاروں کو موبائل فون فراہم کردیے گئے۔تیرہ خواتین سمیت122 اہلکار نوٹسز کی تعمیل اب جدید طریقے سے کرائیں گے۔
ڈیرہ غازی خان میں عدالتی نوٹسزکی تعمیل اب موبائل فون کے ذریعے باآسانی ہوگی۔یہ طریقہ کار ایسا ہے کہ دو نمبری بھی نہ چل سکے گی۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شفیق الرحمٰن نےبتایاکہ عدالت عالیہ نے ماتحت عدلیہ کے تعمیلی اسٹاف کو پہلے مرحلے میں موٹرسائیکل اور دوسرے مرحلے میں اب موبائل فون دیے ہیں تاکہ عدالتی نظام میں تیزی آئے، عدالتی عملہ نوٹسز کی تعمیل کے وقت سیلفی بھی بنائے گا تاکہ کنفرم ہو کہ نوٹس اصل آدمی تک پہنچ گیا ہے۔
عدالتی اہلکارکاکہناہےکہ جدید طریقے سےعدالتی نظام میں مزید بہتری آئے گی۔پہلے نوٹسز کی تعمیل میں کافی دشواری ہوتی تھی۔ اب  موٹرسائیکل اور موبائل فون کےذریعے مقدمات کو جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔
عدالتی نظام میں ہونے والی اصلاحات سے نہ صرف انصاف کی جلد فراہمی ممکن ہوگی بلکہ عرصہ دراز سے زیرالتواء مقدمات کو جلد نمٹانے میں بھی مدد ملے گی۔ http://intl.yukbacaberita.com/ur-pk/detail/2263795667763601?app=browser_detailrec&uc_param_str=dnfrpfbivesvmtsscpgimibtbmntniladsnwktch&entry=browser%2Cbrowser&entry1=shareback&entry2=page_share_btn&comment_stat=1

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کا انتخاب کل ہوگا

لاہور( ٹرائیبل نیوز) چیئرمین پی سی بی کا انتخاب کل ہوگا ،  تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئیں،احسان مانی کے بلا مقابلہ چیئرمین بننے کا امکان ہے۔
,
چیئرمین پی سی بی کے انتخاب کےلئے الیکشن کمشنر پی سی بی  جسٹس ریٹائرڈ افضل حیدر کی نگرانی میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں تمام تیاریاں مکمل کر لی  گئیں ۔
,
کل صبح 11 بجے کاغذات نامزدگی جمع ہوں گے  ،  گورننگ بورڈ کے 9 ارکان میں سے کوئی بھی چیئرمین کا الیکشن لڑ سکتا ہے اور 9 ارکان ہی ووٹ ڈالیں گے ۔
,
ان 9 ارکان میں سے میں دو  کی نامزدگی وزیر اعظم نے کی ہے  جب کہ دیگر 7 میں سے 4 ادارے واپڈا،کے آر ایل،حبیب بینک،سوئی سدرن گیس کے علاوہ تین ریجنز لاہور،فاٹا اورکوئٹہ کے صدور شامل ہیں ۔
,
سیالکوٹ ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن میں ایڈہاک کے باعث نمائندگی نہیں ہوسکے گی، احسان مانی کے مقابلہ میں کاغذات جمع ہونے کی صورت میں الیکشن دوپہر ایک بجےہوگا،تاہم ان کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کے قوی امکانات ہیں

Share image

پاکستان میں نوابی ریاستیں

نوابوں کا اختیار برصغیر سے اگست 1947ء میں قانون آزادی ہند 1947 کے تحت برطانیہ کی واپسی پر برطانوی راج کے تحت سینکڑوں نوابی ریاستیں ان تمام ماتحت اتحاد اور دیگر معاہدوں جو برطانوی راج کے ساتھ کیے گئے تھے سے مکمل آزاد ہو گئیں۔ وہ نو آزاد ریاستوں بھار "پاکستان کی نوابی ریاستیں" on @Wikipedia: https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA%DB%8C%DA%BA?wprov=sfta1

بھارت نے پاکستان کو بڑی پیشکش کردی

http://intl.yukbacaberita.com/ur-pk/video_detail/2067837407864238?channel_id=100&app=browser_card&uc_param_str=dnfrpfbivesvmtsscpgimibtbmntniladsnwktch&entry=browser&entry1=shareback&entry2=page_share_btn&comment_stat=1

وزیر اعظم عمران کے نام اہم پیغام


آپ کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونا مبارک ہو!آپ تبدیلی کے نعرے پر آئے ہیں ‘ہماری دعا ہے کہ آپ کی برپا کی ہوئی تبدیلیاں ملک وملّت کے لیے بہتر ثابت ہوں ‘ آپ سے ایک بے ضرر سی تبدیلی کی فرمائش ہم بھی کرنا چاہتے ہیں ‘ وہ یہ ہے :
اسلام میں ہفتہ وار تعطیل کا کوئی تصور نہیں ‘لیکن عالم انسانیت نے اپنی آسانی کے لیے ہفتہ وار تعطیل کا شعار اختیار کرلیا ہے‘سو بیشتر ممالک میں ہفتے میں پانچ دن کام اور دو دن تعطیل ہوتی ہے ‘تاکہ لوگ آرام کر کے تازہ دم ہوجائیںاور اپنے ضروری کام بھی اس دوران نمٹا لیں۔ پس اس شعار کو اختیار کرنے میں کوئی شرعی قباحت بھی نہیں اور ہمارے ہاں بھی یہی رائج ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہمارے ہاں ہفتہ وار تعطیل اتوار کو ہوا کرتی تھی اور ظاہر ہے کہ یہ شعار ہم نے برطانوی راج سے ورثے میں پایا تھا۔ اسلام میں بھی جمعۃ المبارک کی لازمی تعطیل کا کوئی تصور نہیں۔‘قرآنِ کریم میں صرف اتنا حکم ہے : ”اے مومنو! جب نمازِ جمعہ کے لیے ندا دی جائے ‘تو اللہ کے ذکر (یعنی نماز )کی طرف دوڑے چلے آئو اور (محدود وقت کے لیے )کاروبار کو چھوڑ دو‘یہ تمہارے لیے بہتر ہے ‘اگر تم جانو‘پھر جب نماز ادا کرلی جائے‘ تو تم زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرو تاکہ تم فلاح پائو‘‘۔اللہ کے فضل کا ایک معنی یہ ہے کہ روزی کے حصول کی جستجو کرو‘یعنی نمازِ جمعہ کی ادائی کے لیے دنیاوی کاروبار پرایک محدود وقت کے لیے جو بندش لگائی گئی تھی‘ وہ نماز سے فراغت کے بعد اٹھا دی گئی ہے۔
قرآنِ کریم میں بعض مقامات پر امر کا صیغہ اباحت کے معنی میں بھی آیا ہے۔ جمعۃ المبارک اسلامی شعائر میں سے ہے ‘ہفتے کا یہ واحد دن ہے ‘ جس کے احکام اورفضیلت کو بیان کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ”سورۃ ُالجمعہ‘‘ نازل فرمائی ‘ اس کا دوسرا رکوع مکمل احکامِ جمعہ سے متعلق ہے۔نمازِ جمعہ کے ترک پر رسول اللہﷺ نے سخت وعید فرمائی ہے :(1)آپ ﷺ نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: لوگ نمازِ جمعہ کو ترک کرنے سے باز آجائیں ‘ ورنہ اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں پر ضرور مہر لگا دے گا‘پھر وہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے‘‘(2)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” جس نے سستی کی بنا پر تین جمعے چھوڑ دیے ‘(اس کے وبال کے طور پر) اللہ اُس کے دل پر مہر لگا دے گا‘‘۔
(3): ”ہم (دنیا میں) بعثت کے اعتبار سے آخری امت ہیں اور قیامت کے دن محشر میں حضوری کے اعتبار سے سب سے پہلے ہوں گے ‘سوائے اس کے کہ اُن (یہود ونصاریٰ)کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اورہمیں اُن کے بعد دی گئی ‘ پھر اس (جمعہ کے )دن ان پر نماز فرض کی گئی ‘ انہوں نے اس میں اختلاف کیا ‘تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں (اس کی فضیلت کو سمجھ پانے کی) ہدایت عطا فرمائی اور لوگ ہمارے پیچھے رہے ‘یہود نے اگلے دن (ہفتے) کو اختیار کرلیا اور نصاریٰ نے اس کے بعد والے دن (یعنی اتوار کو اختیار کرلیا)‘‘۔اس حدیث کا منشا یہ ہے کہ یہود ونصاریٰ جمعۃ المبارک کے شرف سے محروم ہوگئے اور انہوں نے بالترتیب ہفتے اور اتوار کو اپنے مذہبی تقدس کے لیے اختیار کرلیا ؛چنانچہ یہودی ہفتے کے دن اور نصاریٰ اتوار کے دن اپنی اپنی عبادت گاہ میں عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں ۔ان گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ ہفتے اور اتوار کے دن کے ساتھ یہودونصاریٰ کا مذہبی تقدس کا رشتہ قائم ہے ‘جبکہ ہماری یہ نسبت جمعۃ المبارک کے ساتھ ہے ‘ لیکن ہم نے اپنے مقدس دن کو چھوڑ کر یہود ونصاریٰ کے مقدس ایام کو ہفتہ وار تعطیل قرار دے ڈالا ۔
1977ء کی تحریکِ نظامِ مصطفی ﷺ کے دوران اُس وقت کے وزیراعظم جنابِ ذوالفقار علی بھٹو نے چند اقدامات کا اعلان کیا ‘ان میں جمعے کی ہفتہ وار تعطیل ‘شراب کی ممانعت اورقِمار پر مبنی گھڑدوڑکی ممانعت وغیرہ شامل تھے۔ بعد میں جب نواز شریف صاحب کو 1997ء کے انتخابات میں دو تہائی اکثریت ملی ‘تو انہوں نے قوم کے نام اپنے پہلے خطاب میں جمعۃ المبارک کی تعطیل کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ۔ہمارے نزدیک کسی حکمران کے زوال کے زمینی اسباب توہوتے ہی ہیں اور وہ سب کو معلوم ہیں ‘لیکن قدرت کی طرف سے مافوق الاسباب بھی کچھ فیصلے ہوتے ہیں ‘ہماری نظر میں اُن کے زوال کے ماورائی اسباب میں سے ایک جمعۃ المبارک کی تعطیل کی منسوخی بھی تھی ‘اسی طرح جنرل (ر) پرویز مشرف صاحب کا اقتدار اپنے پورے عروج پر تھا کہ انہوں نے حدودِ الٰہی کو چھیڑا ‘پھراُن کے زوال کا سفر شروع ہوا ۔
اُن کے زوال کے زمینی اسباب میں عدلیہ کو کنٹرول میں لانا شامل تھا ‘لیکن مافوق الاسباب کچھ قدرت کے بھی فیصلے تھے ‘ کیونکہ انہوں نے کسی تحدید وتوازن کے بغیر فحاشی کے فروغ کے لیے سب دروبند کھول دیے اور آج پوری قوم اُسے بھگت رہی ہے ‘جو لوگ قدرت کے غیر مرئی فیصلوں پر یقین نہیں رکھتے‘ وہ ہماری باتوں کا تمسخر اڑاتے ہیں ‘وہ ایسا کرسکتے ہیں / حسن بزدار ٹرائیبل ایریا

درخت لگائیں پاکستان کو سر سبز بنائیں

"Plant for Pakistan" campaign launched | Neo News http://newshub.uodoo.com/video_detail/3643746733500777?entry1=shareback&entry2=browser&app=h5_iflow&reco_id=f915b9d3-92c7-4fba-856c-333aad9dffa5

سستی شہرت

Pakistani Actress Meera forget to close paint zip on picture http://newshub.uodoo.com/video_detail/161308160460827?entry1=shareback&entry2=browser&app=h5_iflow&reco_id=b13cb915-be9c-4336-8ae4-d12bac487f10

میری دعوت مت کریں بلکہ اس کے پیسے

http://intl.yukbacaberita.com/ur-pk/video_detail/2428197984832518?channel_id=3500&app=browser_card&uc_param_str=dnfrpfbivesvmtsscpgimibtbmntniladsnwktch&entry=browser&entry1=shareback&entry2=page_share_btn&comment_stat=1

دنیا کی امیر ترین شخصیات کی فہرست جاری

http://intl.yukbacaberita.com/ur-pk/video_detail/4386771458230939?channel_id=3500&app=browser_card&uc_param_str=dnfrpfbivesvmtsscpgimibtbmntniladsnwktch&entry=browser&entry1=shareback&entry2=page_share_btn&comment_stat=1

پنجاب کے 19 اضلاع میں ہیلتھ انشورنس سکیم

http://intl.yukbacaberita.com/ur-pk/video_detail/3799551174013616?channel_id=3500&app=browser_card&uc_param_str=dnfrpfbivesvmtsscpgimibtbmntniladsnwktch&entry=browser&entry1=shareback&entry2=page_share_btn&comment_stat=1

چوتھے ٹیسٹ میں سیریز کا تاج انگلینڈ کے سر


چوتھے ٹیسٹ میں بھارت کو 60رنز سے شکست، سیریز انگلینڈ کے نام

فائل فوٹو
ساؤتھ ہیمپٹن:ساؤتھ ہیمپٹں میں انگلینڈ اوربھارت کے درمیان چوتھا ٹیسٹ آل راؤنڈر معین علی کے نام رہا،مہمان ٹیم کو چوتھے ٹیسٹ میں 60رنز سے شکست ہوگئی،5میچوں کی سیریز ایک میچ قبل ہی انگلینڈ کے نام ہوگئی۔
ایجزروز بال میں انگلینڈ،بھارتی ٹیم پر بھاری پڑگیا،معین علی کی اسپن بولنگ کا جادو خوب چلا۔
کھیل کے چوتھے روز بھارتی ٹیم کو جیت کیلئے 245رنز بنانا تھے،22پر3وکٹیں گرگئیں۔
ویرات کوہلی اوررہانے نے نصف سنچریاں بناکر مزاحمت کی،معین علی دونوں کو چلتا کیا تو انگلینڈ کی فتح یقینی ہوگئی۔
بھارتی ٹیم 184رنزپرآؤٹ ہوئی،اننگز میں 4اور میچ میں 9 وکٹیں، معین علی ہیروقرارپائے،سیریز کا پانچواں اور آخری ٹیسٹ 7ستمبر سے لندن میں شروع ہوگا۔
Share image

پاک بھارت کا معرکہ 1965 کی تاریخ

بھارت اور پاکستان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان میں ہونے والی یہ پہلی بین الاقوامی جنگ تھی جس میں ایک فریق (بھارت) نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے فریق ثانی(پاکستان) پر جنگ مسلط کی۔ آپریشن جبرالٹر اس کی بنیادی وجہ تھی۔ 177 روزہ اس جنگ میں دونوں فریق اپنی اپنی کامیابی کا دعوی کرتے ہیں۔


اجمالی معلومات: Indo-Pakistani War of 1965, تاریخ …

جنگ سے پہلے کشیدگی


تقسیم ہند کے بعد ہی سے پاکستان اور بھارت کے  درمیان میں خاصی کشیدگیاں رہیں۔ اگرچہ تمام مسائل میں مسئلہ کشمیر سب سے بڑا مسئلہ رہا  مگر دوسرے سرحدی تنازعات بھی چلتے رہے مثلاRann of Kutch کا مسئلہ جس نے 1956ء میں سر اٹھایا۔ رن آف کچھ بھارتی گجرات کا ایک بنجر  علاقہ ہے، اس مسئلے کا اختتام بھارت کے متنازع علاقے پر دوبارہ قبضے سے ہوا۔ کچھ اخبارات کے مطابق جنوری 1965ء میں پاکستانی سرحدی  محافظوں نے بھارتی علاقے میں گشت شروع کر دیا جس کے بعد 8 اپریل 1965 کو دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سرحدی پوسٹوں کے اوپر حملے شروع کر دیے۔ ابتدا میں دونوں ممالک کی سرحدی پولیس کے درمیان یہ تنازع چلتا رہا مگرجلد ہی دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے آگئیں۔ جون 1965ء میںBritish Prime Minister مسٹر Harold Wilson نے دونوں  ممالک کوقائل کر لیا کہ کشیدگی کم کر کے اپنے مسائل ایک ٹریبونل کی مدد سے حل کریں۔ فیصلے کے مطابق جو بعد میں 1968ء میں آیا پاکستان کو رن آف کچھ کا 350 مربع میل (910 کلومیٹر2) کا علاقہ دیا گیا جبکہ پاکستان نے 3,500 مربع میل (9,100 کلومیٹر2)۔ کے علاقے کا دعویٰ کیا تھا۔


اس کے بعد آپریشن جبرالٹر مزید کشیدگی کا باعث  بنا۔ جس کا پس منظر یہ ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے درگاہ حضرت بل کی بے حرمتی نے  کشمیری مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہوا تھا۔ وادی کشمیر کی حیثیت سے متعلق بھارتی پارلیمان میں پیش ہونے والے قانون کی وجہ سے بھی کشمیری مسلمانوں میں شدید اضطراب کی سے کیفیت تھی اور وہ آزادی کے لیے مستعد نظر آتے تھے، کشمیر کی یہ وہ صورت حال تھی جس سے پاکستان نے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ آپریشن جبرالٹر کے نتائج خاصے خطرناک نکلے اور اسی آپریشن کے بطن سے 1965ء کی پاک بھارت جنگ نے جنم لیا۔

جنگ


25 اگست 1965ء کو 26,000 سے 33,000 پاکستانی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول کو عبور کیا، بھارتی افواج کو، مقامی آبادی نے بتایا کہ  15 اگست کو سرحد عبور کی گئی ہے۔ ابتدائی طور  پر، بھارتی فوج کو کافی کامیابی ملی، توپ خانہ کے ذریعے کی گئی گولہ باری سے بھارت نے تین اہم پہاڑی مقامات پر قبضہ کر لیا۔ اگست کے آخر تک، البتہ فریقین کی ایک جیسی پیشرفت رہی۔ پاکستان نے تتوال، پونچھ اور اوڑی کے علاقوں میں پیش رفت کی جبکہ بھارت نے حاجی پیر پاس میں پاکستانی کشمیر میں 88 کلو میٹر تک قبضہ کر لیا 1 ستمبر 1965ء کو، پاکستان نے ایک جوابی حملے کا آغاز کیا، جسے آپریش گرینڈ سلام کا نام  دیا گیا۔ جس کا مقصد جموں کے اہم شہر اکھنور پر قبضہ کرنا تھا، جہاں سے بھارتی فوجیوں تک رسد کا راستہ اور مواصلاتی سلسلہ کاٹ دیا جاتا۔ ایوب خان نے حساب لگایا کہ، ہندو صحیح وقت اور جگہ پر کھڑے رہنے کا حوصلہ نہیں کریں گے۔


نقصانات کا جائزہ


جنگی نقصانات اور تباہی کے متعلق بھارت اور پاکستان کی جانب سے ایک دوسرے کے بارے میں خاصے مختلف دعوے کیے گئے ہیں۔ ذیل کے جدول میں دونوں ملکوں کے دعووں کا خلاصہ پیش ہے۔


مزید معلومات: بھارت کے دعوے[23], پاکستان کے دعوے[24] …

فوجی اعزازات


جنگی اعزاز


جنگ کے بعد بھارت میں بھارتی فوج کی مختلف یونٹوں کو 16 جنگی اعزازات اور 3 میدان جنگ سے متعلق اعزازات (theatre honour) دیے گئے۔ ان میں سے کچھ یونٹیں درج ذیل ہیں: 


جموں اور کشمیر 1965 (theatre honour)


پنجاب 1965 (theatre honour)


راجستھان 1965 (theatre honour)


اصل اتر


برکی


دوگرائے


حاجی پیر


کالی دھار


او پی ہل


پھلورا


بہادری کے اعزازات


میدان جنگ میں بہادری دکھانے والوں کو بھارت نے Param Vir Chakra اور پاکستان نے نشان حیدر دیا۔


بھارت

کمپنی کوارٹر ماسٹر حوالدار عبد الحامد(بعد از شہادت)


لیفٹینٹ کرنل اردشھیر تارا پورے(بعد از شہادت)


پاکستان

میجر راجہ عزیز بھٹی شہید (بعد از شہادت)


جنگ میں انڈونیشیا کا کردار


1965 کی جنگ میں انڈونیشیا نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ اس وقت کے صدر سوئیکارنو نے ایک جانب تو اندمان اور نکوبار کے جزائر کا محاصرہ کروایا اور پاکستان کی مدد کے لیے فوری طور پر دو آبدوزیں اور دو میزائل بردار کشتیاں روانہ کیں لیکن اس وقت تک پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ہو چکی تھی


Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201