Friday, 27 February 2026

خود کو پانے انسان اللہ تعالیٰ کو ہر صورت پاتے ہیں الحمداللہ

تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں نے بنائے ہیں جو اپنے دل میں ایمان لیکر نکلتے ہیں دنیا پر ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد کیا جاتا ہے جنہیں دیں محمدی کا جذبہ پایا جاتا ہو اس فانی دنیا پر ظالموں کے دل میں دہشت کا علامت وہی لوگ بنتے ہیں جن کے دل میں عشق الہی بستا ہو آخرت میں درجات انہی لوگوں کا بلند رہتا ہے
 جو دنیا بسے کیڑے مکوڑے کی جان کو جان سمجھے قبر بھی انہی لوگوں کو دل سے خوش آمدید کہتی ہے جنہیں دنیا پر عام رعایا دل سے خوش آمدید کہا کرتا تھا فرشتے بھی انہی لوگوں کا استقبال کرتے ہیں جنہیں دنیا میں غریب لوگ ملنے کیلئے خوش آمدید کہا کرتے تھے ہمارے آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین اسے اپنا پسندیدہ امتی سمجھتا ہے جسے اس دنیا پر لوگ پسندیدہ سمجھا کرتے تھے حوض کوثر میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روز محشر انہی خوش نصیبوں کو شہد سے میٹھا دودھ سے سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا پانی ملتا ہے
 جو اس دنیا پر ہر خاص و عام میں فرق کیئے بغیر گھل مل کر بیٹھتا تھا اور انکے زخموں پر مرہم رکھتا تھا روز میزان اللہ تعالی کی رحمتیں بشمول ہم سب پر برستی ہیں مگر سب سے اس بندے سے محبت فرماتا ہے جو اس فانی دنیا پر ہر مظلوم کے ساتھ ملکر ظالموں سے لڑتا رہتا انکی ہر قسمی دشمنی کو مول لیتا تھا کیونکہ اعمال سے دنیا بھی بنتی ہے اور آخرت بھی سنور جاتا ہے اگر اس دنیا پر ہم لوگ صرف دولت عزت شہرت کیلئے جتنا جینے کی جنگ لڑرہے ہیں یہ صرف چند پل کا ایک خواب کے سوا کچھ نہیں اور ایسے لوگ چاہے حکمران ہوں یا عالم حافظ ہوں یا پیدائشی بزرگان دیں کے خاندانوں کے وارث یہ کچھ بھی کام نہیں آنے والا اگر آپکو اور مجھ سمیت کسی کو بھی اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کا شوق ہے آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کے امتی ہونے کا شرف حاصل کرنا ہے تو اس دنیا پر خود کو سب سے عاجز بنانا پڑتا ہے اسلامی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں


 آج کی گدی نشینوں کو نہیں انکے آباو اجداد کا مشاہدہ کرنے کیلئے آپکو سو سے چودہ سو سال پہلے جانا ہوگا اور وہاں سے افق کو چھونے والے تن اوار ان درختوں کو دیکھیں سوچیں کیا ہم اس دنیا سے جاتے وقت جب ہم اس خاکی زمین کے سپرد کیئے جائیں تو ہمارے ساتھ کیا ہوگا اور ہمارے پلے میں کیا ہے ہم یہاں سے کیا لیکر جارہے ہیں جو ہمیں دفن ہونے سے لیکر قیامت قائم ہونے تک کام آسکتا ہے اگر اکیلے بیٹھ کر صرف چند منٹ سوچیں تو سر چرانے لگ جاتا ہے  کیونکہ ہم اس دنیا فانی میں بیٹھ کر صرف خود کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں نہ کہ اپنے بھلائ کیلئے اگر جنت میں رہائش جو ہم سمجھ رہے ہیں اتنا آسان ہوتا تو سوچیں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران اسلام نے کیا کچھ برداشت نہیں کیئے ان پر کتنے مظالم ڈھائے گئے کیا اسنے کبھی آپنے زندگی کو آسان بنانے کیلئے کبھی آپنے رب سے کوئ شکایت کی کیونکہ وہ جانتے تھے اگر ہم اس دنیا پر سکون سے بیٹھ کر اللہ تعالی کے حکم کے برعکس کریں تو روز محشر ہم جوابدہ ہیں مگر ہم کیوں نہیں سمجھتے لیکن ہم سب جانتے ہیں قرآن مجید میں لفظ بہ لفظ ہمیں آگاہ رکھا اور ہماری رہنمائ کیلئے ہر مشکل کا آسان حل بتادیا لیکن ہم سمجھنے سوچنے اور دیکھنے سے اتنا عاری کیوں کیا ہمیں یہ دنیا سے اٹھایا نہیں جائیگا کیا ہم زمین کے ختم ہونے تک یہاں رہینگے لیکن ہم کمزور ہیں بہت سست ہیں مگر اللہ تعالی نے قرآن مجید ہمارے لیئے یہ پیغام (( اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم )) لکھ کر ہمیں سمجھایا کہ بیشک آپ سست ہونگے شیطان کا غلبہ شدید ہوگا مگر مدد آپ طلب کریں میں آپکو رسد ضرور پہنچاونگا لیکن ہم اتنے سیاہ دل کے مالک بن گئے ہیں 
 اپنے رب سے مدد طلب کرنے کی فہرست تک نہیں نہ ہمیں اللہ تعالی کے غضب کا کبھی خوف رہا اگر کوئ بھی مسلمان زرہ برابر بھی اپنے اللہ سے محبت یا خوف رکھتا ہو تو نہ ظلم کا راستہ اختیار کرتا ہے نہ کسی سے بغض رکھتا ہے نہ کسی کی جان ومال سے حشر کرتا ہے اور نہ کسی امراء کے دولت سے مانوس ہوتا ہے اور نہ وہ اپنے غربت سے پریشان کیونکہ جس دل میں نور ایمانی کا چراغ جل رہا ہو وہ کبھی وسوسے نہیں کرتا اور وہ جانتا ہے 
 👉لاغالبا اللہ 👈 
بیشک اللہ تعالی ہر چیز پر غالب ہے

Tuesday, 24 February 2026

دعا گو ہوں اللہ تعالی مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین

اسلام علیکم صبح بخیر

ایک نہ ایک دن ہم سبکو قصہ پارینہ بننا ہے موت سانسوں سے بھی قریب رہتا ہے کچھ پتہ نہیں کب اور کس وقت دبوچ لیتا پے مگر صرف یادیں رہ جاتی ہیں انسان غلطی کا کتلا ہے مگر معاف کرنے والے رحمن سے کبھی ناامیدی نہیں کی جاسکتی سفید ٹوپی اور کالا جیکٹ پہنے سفید ریش انسان کبھی اس دنیا میں جناب عالی عزت مآب جیسے القاب سے نوازے جاتے تھے آج مرحوم دفعدار احمد خان جلالانی لکھا اور پکارا جائے گا کیونکہ یہ دنیا کی فطرت ہے کہ ہم عام تمام لوگ یہ کہیں لیکن آپنے بھی یہی کہتے ہیں اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے کیونکہ ہم جانے والوں پر منحصر ہے اگر اس دنیا میں رہ کر اپنے لیئے لڑیں تو ہم بہت کچھ پاکر اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اگر ہم اپنے مستقبل کیلئے کوشش کریں یقیننا دنیائے فانی سے جاتے ہوئے خود کو بھی بہت بڑے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہم طاقت میں مغرور ہوتے ہیں دولت میں مدہوش اور ہم یہ نہیں سمجھتے کہ سب چیزیں عارضی ہیں یہ دولت یہ طاقت یہ عہدے حتی کہ اپنی جان مگر سمجھنے میں ہمیں اگر مشکلات نہ آتے تو یقیننا ہم فائدے میں ہوتے کیونکہ کسی کی پرواہ کیئے بغیر اپنے روح کو زندہ رکھنا ہے نفس کو مار کر اگر نفس کو زندہ رکھیں گے تو روح مارا جائیگا اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے ہم نفس کو زندہ رکھ کر روح کو مار دیتے ہیں اگر ہمیشہ کیلئے امر ہونا ہے تو ابھی سے پڑھیں
اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم @
بسم اللہ الرحمن الرحیم @ 

@ آنا فتحنا الک فتح االمبین 


ہم اکثر لوگ فتح خود سے چاہتے ہیں

مزید تفصیلات

 مگر ہم ہمیشہ شیطان کے ساتھی اپنے نفس کا غلام بنے رہتے ہیں کیونکہ ہم ایک ایسے مذہب کے پیروکار ہیں الحمداللہ زندگی کے آخری سانس تک اگر اپنے رب سے توبہ کریں معافی کا طلبگار بنیں یقین جانیں تم ایسا ہو جاوگے جیسا کہ پیدا ہی ابھی ہوئے ہو غلطیاں تو ہم سے ضرور ہوتی ہیں مگر یہ جان لو جب واپس پلٹو گے تو میرا ایمان اگر ہم دیکھنے کے قابل ہوتے تو یہ دنیا اور آخرت میں ہمارے کی گئ توبہ سے اللہ تعالی چراغاں روشن کرتے فرشتوں کو پکار کر کہتے ہے آپ گواہ ہیں میرے فلانے بندے نے توبہ کی میں نے انہیں معاف فرمایا کہنے لکھنے کا مقصد دفعدار احمد خان جلالانی کو میں قریب سے جانتا تھا بیشک انسان میں ہزار کمی کوتاہیاں ہونگے لیکن ہمیشہ  صاف دل خوش اخلاق میں پیش پیش رہا 

مزید تفصیلات

جب طبیعت میں بگاڑ پیدا ہوا تو عمرہ پاک کی سعادت حاصل کی اور بہت زیادہ اللہ تعالی سے قریب ہونے کی کوشش میں لگا رہا اور دل ہی دل میں ٹوٹ چکا تھا اور اپنے رب کی رحمتوں سے امید رکھتا اور یہی کہتا بس دعا کریں اللہ تعالی ہمیں معاف فرمائے اور روز محشر آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کی شفاعت سے بہرامند فرمائے آمین


Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201