ایک ناقابل فراموش سیاہ دن 😭😭😭😭😭
سردار فتح محمد خان بزدار مرحوم کی برسی کے موقع پر، ان کی ہمہ جہت شخصیت، قبائلی وجاہت اور علمی مرتبے کو خراجِ عقیدت
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا ذکر تاریخ کے اوراق میں خوشبو بن کر رچ بس جاتا ہے۔ سردار فتح محمد خان بزدار مرحوم ایک ایسی ہی قد آور اور ہمہ گیر شخصیت تھے، جن کا وجود کوہِ سلیمان کی عظمت اور تونسہ کی مٹی کی سادگی کا حسین سنگم تھا۔
یکم اپریل 2019 کو ان کی رحلت محض ایک فرد کا بچھڑنا نہ تھا، بلکہ شرافت، متانت اور اعلیٰ انسانی اقدار کے ایک درخشاں باب کا اختتام تھا۔
وہ صحیح معنوں میں مستحکم قبائلی روایات کے امین اور امن کے سچے داعی تھے۔ ان کی شخصیت میں مصلحت پسندی اور صلح جوئی کا وہ نایاب وصف تھا جو تضادات کے دور میں بھی اتحاد اور بھائی چارے کی فضا قائم رکھنے کا ہنر جانتا تھا۔ جامعہ کراچی سے پولیٹیکل سائنس کی ڈگری پانے والا وہ مردِ دانا، جب بارتھی کی خاک پر اپنے لوگوں کے درمیان زمین پر بیٹھتا، تو اقتدار کے تمام مصنوعی تفاخر ہیچ نظر آنے لگتے۔
انہوں نے سیاست کو کبھی ذاتی مفاد کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ "تونسہ اتحاد" اور اس خطے کو ضلع بنانے کا جو خواب دیکھا، وہ دراصل ان کی اپنے عوام سے بے لوث محبت کا آئینہ دار تھا۔
کوہ سلیمان//بلوچ قبائل کا مائیک ناز تمن دار جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا مرحوم سردار فتح محمد خان بزدار جو سابق وزیراعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کے والد گرامی تھے اسنے ہمیشہ کیلئے اپنے قوم اور علاقے کا سوچا تھا کبھی بھی کسی کے خلاف نہیں رہے نہ کسی سے زاتی دشمنی رکھا نہ کسی کو تکلیف دی جو تین مرتبہ ایم پی اے رہے مگر اسمبلی میں ہمیشہ سے اپنے محروم علاقے کی وکالت کرتا رہا
تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں یہ سکولوں کے بلڈنگز تونسہ شریف اور مضافات کے تمام بستیوں میں جانے والے لنک روڈ اور کوہ سلیمان میں کہیں کچی تو کہیں پکی سڑکیں آج بھی مرحوم سردار فتح محمد خان بزدار کے نام پر چلا چلا کر گواہی دے رہے ہیں لیکن یہاں سے خواجگان تونسہ شریف اور بھی بہت سے تمن داروں نے ووٹ لیئے مگر جو کام مرحوم سردار فتح محمد خان کر گئے اسکا بیٹا سردار عثمان احمد خان بزدار بھی نہ کر سکا جب 2018 میں سردار عثمان احمد خان بزدار وزیراعلی پنجاب بنے تو ہر وقت یہی کہتا رہا اگر کام کرنا ہے تو کام کریں اگر نہیں تو تونسہ شریف اور کوہ سلیمان کے عوام کو لالی پاپ مت دکھائیں مجھے یہ منظور نہیں جب تک میرے سانسیں چل رہی ہیں میں آپکو صرف دعوے کرنے نہیں دونگا مجھے اپنے عوام کا مستقبل چاہیئے نہ کہ دعوے آخر جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہو وہی ہوگا
سردار فتح محمد خان مرحوم ایک ایسی وضع دار تہذیب کے آخری ستون تھے جہاں منصب سے زیادہ اخلاق اور حرفِ وفا کو مقدم رکھا جاتا تھا۔ ان کی مجلسیں علم و دانش کا گہوارہ ہوتیں، جہاں سادگی کے ساتھ عجز و انکساری کا وہ نمونہ ملتا جو عصرِ حاضر میں ناپید ہے۔ وہ پروٹوکول کے قائل نہ تھے، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ اصل سرداری دلوں کو فتح کرنے میں ہے، محلوں کی زینت بننے میں نہیں۔
آج ان کی برسی کے موقع پر ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ سردار فتح محمد خان بزدار جیسے لوگ مرتے نہیں، بلکہ اپنے افکار اور اپنے کردار کی صورت میں نسلوں کی رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ ان کی علمی بصیرت، ان کا منصفانہ مزاج اور امن پسندی ہمارے لیے ایک مقدس ورثہ ہے۔
دعا ہے کہ باری تعالیٰ اس مردِ درویش کے درجات بلند فرمائے
اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ (آمین)

