پاکستان میں اسوقت صرف کرسی بچانے چھیننے کی جنگ لڑی جارہی ہے نہ ملک پاکستان کی کوئ پرواہ ہے نہ 24 کروڑ عوام سے کسی کو کوئ غرض پی ٹی آئ بمقابلہ پی ڈی ایم عدلیہ بمقابلہ الیکشن کمیشن اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ پی ٹی آئ بیوروکریسی بمقابلہ غریب عوام سبھی کے سب غریب قوم کے خون چوسنے اور غریبوں پر دندناتے ظلم بالجبر کرکے اپنے تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں اسوقت پاکستان میں قانون 100% ختم ہوچکا غریب قوم فاقہ کشیاں کرنے پر مجبور ہیں اسٹیبلشمنٹ بیوروکریسی پی ڈی ایم پی ٹی آئ عدلیہ الیکشن کمیشن سب کے سب ملک پاکستان اور 24 کروڑ عوام پر بوجھ بنے ہوئے ہیں کیونکہ ظالم ترین لوگ خود مفت کے کھاتے ہیں عوام کو 12000 ہزار میں گندم کی بوری بیچ دیتے ہیں مفت چائے پیتے ہیں عوام کیلئے فی کلو چائے 2000 کے اور چینی 6500 کے بوری بیچ دیتے ہیں خود پٹرول مفت میں ڈلوانے ہیں عوام کیلئے 300کو لیٹر بیچا جاتا ہے خود ڈیزل مفت میں ڈلوانے والے کو کیا معلوم کہ عوام 310 میں لیٹر خریدتے وقت کتنے اذیت میں ہوگا خود مفت میں گیس سے چولہا جلانے والوں کو کیا پتہ عوام کو 250 پر کلو گیس بیچ کر اسکے دل پر کیا گزرتی ہوگی خود ایک مہینے کے 3لاکھ سے 50لاکھ لینے والوں کو کیا پتہ کہ غریب عوام 15سے 25 ہزار پر منتھ کمانے والے کس طرح گھر چلانے پر مجبور ہیں خود کیلئے فری میڈیکل لینے والوں کیا پتہ کہ غریب عوام 50روپے ایک پتہ پہناڈول خریدتے وقت کتنے پریشانی کے عالم میں ہوگا خود کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے سے برطانیہ یا امریکہ میں علاج کیلئے جانے والوں کو کیا پتہ کہ پاکستانی غریب عوام کے پیارے سسک سسک کر گھر میں کتنے سالوں سے پڑے ہیں انکی علاج کیلئے ورثاء کے جیب میں 5000 تک نہیں کہیں اسے ہسپتال میں لیجا کر انکی ٹریٹمنٹ کروائیں خود کے بچے امریکہ اور برطانیہ میں زیرے تعلیم یا زیر علاج ہونے والوں کو کیا پتہ کہ غریب عوام کے بچوں کیلئے پرائمری اسکول کے ماسٹرز رجسٹر حاضری بھی سکول میں پڑے رہنے نہیں دیتے اسے گھر لیجا کر اپنی حاضریاں لگوا کر عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لے جاتے ہیں ہمارے پاکستان میں سکہ صرف ظلم کا چلتا ہے مظلوم کو ہمیشہ سے ہر مکاتب فکر کی طرف سے ہر ادارے کی طرف سے ہر سیاسی و سماجی شخصیات و پارٹی کی طرف روندا گیا ہے ہم یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ظالم راشی قاتل کرپٹ کے خلاف بولنے لکھنے حتی کہ اسکے خلاف بائیکاٹ تک نہیں کرسکتے مزید اسے طاقت بخشنے کیلئے اس گینگ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر اسے مضبوط کرنے اور اپنے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیلنے کیلئے انکے ساتھ دیتے ہیں پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر کمپیئن صرف ان سیاسی مگرمچھوں ان ظالم انتظامیہ انصاف سے عاری عدلیہ تحفظ سے پرے اسٹیبلشمنٹ قاتل و جابر بیوروکریسی کی تشہیر کو ہم بہت فخر سے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جیسا کہ ان لوگوں نے پاکستان کو دنیا کے مضبوط ترین ملک غریب عوام کو امیر ترین قوم بناکر انصاف دیکر چھوڑا ہے لیکن 98% جرنلسٹ بھوکے پیاسے ننگے عوام لرزتی ہچکولے کھاتی اس مملکت خداد کو اس نہج پر پہنچانے والے ظالموں کے خلاف اس لیئے بولنے سے قاصر ہیں کہیں ہم پر سیاست دان حکمران اسٹیبلشمنٹ یا بیوروکریسی ذخیرہ اندوز ناراض ہوکر ہمارے ملنے والے بیک اپ کو روک نہ دیں غریب لوگوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اگر صحافی برادری لکھنا بولنا شروع کردے تو ان پر عوام کی خالی دعائیں ہونگے اللہ تعالی راضی ہوگا دنیا پر پتہ نہیں آخرت ضرور بنے گا پر ہمیں بھی صرف پیٹ بھر کر ہی یہاں دنیا پر موجیں کرنی ہے آخرت سے ہمیں کیا پرواہ یقیننا اگر پاکستان میں صرف جرنلسٹ پینلز صحیح راستے پر نکلیں تو کسی مائ کے لال میں یہ ہمت ہی پیدا نہیں ہوگا کہ میں ملک پاکستان اور اسمیں بسے عوام پر اگر ظلم کروں تو وہ بےنقاب کرینگے یہ کام بھی وہ لوگ کرنے کے مجاز ہونگے جنہیں لالچ کی عینک پہنی نہیں ہوگی اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق اپنا کام سرانجام دے رہے ہوں وہی مجاھد جرنلسٹ اپنے قلم اور مائیک و کیمرے کی مدد سے ظالموں کے ظلم کو دنیا تک پہنچاتے رہیں تو آٹومیٹک پاکستان میں 50سے 80% ظلم کو روک جانے پر مجبور ہونگے لیکن اس چیز کیلئے بھی شرف ایمانی ضرورت ہوگا سیاستدانوں جج جرنیلوں بیوروکریسی کے کچن کیلئے ویلاگ یا رپورٹنگ تو آئے روز کیئے جاتے ہیں پاکستان کی بقاء غریب عوام کی مستقبل کیلئے نہ کسی کا قلم چلتا ہے نہ کسی کی زبان ہلتی ہے نہ کسی کا کیمرہ اوپن ہوتا ہے کیونکہ ان سب چیزوں کا زمیدار 80% بھی ہم خود غریب عوام بھی ہیں اگر ہم جان کر یہ حکمران جج جرنیل سیاستدان بیوروکریسی ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں تو ہم کیوں انکی خوشنودی کرتے ہیں کیوں انہیں ووٹ ڈالتے ہیں کیوں انکے خلاف بولتے نہیں جب تک ہم پاکستان کے عوام میں یہ سیلفی رواج یہ لالچی رسم یہ خوشنودی کا بازار بند نہیں کرتے تو ان لوگوں کا ہم پر ظلم کرنے سے کچھ نہیں جاتا اس لیئے انہیں معلوم ہے پاکستان کے بیوقوف عوام ہمارے اصل بنیادی واردات کو بھانپ ہی نہیں رہے تو وہ بھی آئے روز اپنے مقاصد میں کامیابیاں سمیٹتے ہی رہینگے اور غریب لوگ خودکشیوں پر مجبور ہوتے رہینگے ملک پاکستان کا دنیا بھر کوئ مقام ہی نہیں بنیگا کشکول حکمران کے القاب سے اسی طرح ہمیں نوازتے رہیں گے ہمارے حکمران اور اعلی عہدوں پر فائز لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد دنیا میں جہاں دل نے چاہا جزیرے خریدتے رہینگے ہمیں کبھی آٹے کے لائن میں لگاکر مارتے ہیں کبھی کھاد کے لائن لگ کر مرنا ہے کبھی پٹرولیم کیلئے لائنوں میں دھکے کھانے پڑتے ہیں ہم عوام اپنے بچوں کے پیٹ پالنے کیلئے کبھی گردہ پیچتے ہیں کبھی بچوں کو ختم کرکے خود خودکشی کرجاتے ہیں تو ہمارا ہی حافظ نہیں اور کیا ہوگا
Welcome To Tibalnews1. Here Uou Will Find Every Local National News Of DGKhan Taunsa And Koh Suleiman Kn A Blink Of An Eye With All Languages Kinds Of Articles.
Saturday, 15 April 2023
Monday, 10 April 2023
جھوٹی تسلی دینے سے بہتر ہے سچے دل سے ظلم اور ظالموں کا مقابلہ کرو قلم کار حسن خان بزدار
کیا ہم کلمہ طیبہ پڑھ کر خوش ہیں کہ ہم مومن مسلمان ہیں کیا ہم بھوکا اور پیاسا رہ کر خوش ہیں کہ ہم نے روزہ رکھا دیندار ہیں کیا ہم نے دو منٹ میں 20 سجدے کیئے ہم خوش ہیں ہم نمازی ہیں نہیں ایسا کوئ بھی نہ مومن ہوسکتا ہے نہ پکا مسلمان کیا کی ہے ہم نے اسلام کی خاطر کیا کبھی آپنے کسی مظلوم کا ساتھ دی کبھی آپنے سچائ کو تھاما کیا کبھی دین محمدی کیلئے آپنے کوئ خاطر خواہ کردار ادا کی افسوس کہ ہم نے کچھ بھی نہیں کی جب اس زندگی سے ہجرت کرجائینگے تو روز محشر ہم اپنے آپکو بخشوانے کیلئے خالق کائنات کو کیا کہیں گے کہ ہم بھی مسلمان ہیں اے مالک ہمیں بخش دے نماز پڑھ کر نکلے تو جھوٹ اور دھوکہ دہی کو شروع کیا روزہ رکھا تو زبان پر جھوٹ دل میں منافقت کلمہ طیبہ پڑھ کر کسی کے دو فٹ زمین کو اپنایا ہرگز یہ اسلام میں نہیں کہ آپکے دل میں منافقت ہو آپ دوسو دانے کا تسبیح لیکر خود کو صوفی ثابت کرنے کی کوشش کریں عمرہ ادا کرکے دوسروں کا حق ماریں کلمہ طیبہ پڑھ کر کسی کی زمین پر قبضہ کریں روزہ رکھ کر جھوٹ بولیں دغابازی کریں اسے اسلام میں بالکل اجازت نہیں ہم نے لمیٹ کو کراس کرکے بہت دور نکل چکے ہیں اپنے بچوں کو حرام کھلا کر کہتے ہیں اولاد نافرمان ہیں مقتول کے ورثاء سے پیسے لیکر اسکا ایف آئ آر نہیں کرتے پیسے لیکر قاتل کو سینے سے لگا کر اسے اپنا دوست بناتے ہیں مظلوم کو انصاف مانگتے مانگتے اسکی نسلیں جوان ہوتی ہیں حتی کہ آنے والے مستقبل کی زندگیاں بھی ختم ہوجاتے ہیں منصفین کے راشی ہونے کی وجہ سے انصاف دینے کے بجائے مظلوموں کو انصاف لینا ہی چھوڑنا پڑتا ہے سوائے چند ایک کے عالموں کو کرسی کے لالچ میں اتنا اندھا بنا دی ہے کہ ہمیں اسلام کا درس دینا ہے وہ بھی چھوڑ دی ہے سوائے سیاسی بیٹھک کے کبھی کسی عالم نے یہ سوچا کہ فلانا راشی ہے اسکے خلاف بولوں وہ ظالم ہے اسے سمجھاؤں وہ زانی ہے اسے روکوں ہاں یہ فتوے ان لوگوں کیلئے ضرور دیئے جاتے ہیں جسکے جیب میں ایک روپیہ نہ ہو جسکے پاس کوئ سرکاری عہدہ نہ ہو جس کا سیاست سے دور دور تک تعلق نہ ہو اگر ہم جاہلوں سے لیکر پڑھے لکھے معزز علماء سبھی اپنے اپنے مفاد کیلئے سب کرتے رہیں تو کیا ہم مومن یا مسلمان کہلاتے ہیں ہمارے پاکستان کے سیاستدانوں کو لے لیں کیا ہم خوش ہیں ہم مسلمان ممالک میں آزاد ہیں کبھی بھی نہیں ہم ایسے غلام ہیں جیسا کہ فرعون کے دور میں ہوا کرتے تھے حالات اس سے بھی بد تر ہیں ہمارے حکمران خود کو زمینی خدا سمجھ بیٹھے ہیں پاکستان کے حکمرانوں بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ علماء کرام کی حالات آپکے سامنے ہے ملک پاکستان اور غریب عوام کو اس نہج پر کس نے پہنچایا اس دور میں دو وقت کا کھانا تقریبا ناممکن ہوتا جارہا ہے انصاف کا گلہ گھونٹ کر اسے کئ عشروں پہلے دفن کیا جاچکا ہے اگر کسی نیک علماء و مشائخ نے ظلم کے خلاف آواز بلند بھی کی تو اسے مارا جاتا ہے یا اسے سلاخوں کے پیچھے سلایا جاتا ہے وگرنہ علماء کرام اپنے بچوں کا مستقبل بناکر ان ظالموں کا دست و بازو بن کر عوام کا گلہ دبانے میں برابر کے شریک ہیں کھلے عام قاتل بیوروکریسی اور سیاست دانوں کے جھولی میں بیٹھ کر کسی کو بھی قتل کرکے پھینک دیتے ہیں اسمبلیوں میں بیٹھے بھیڑیے اسلام کے شکوں میں علماء کرام کو ساتھ لیکر کفر کے کہنے پر بلا جھجک ترمیم کرتے ہیں 2016 میں جب نواز لیگ مولانا فضل الرحمان پیپلز پارٹی نے جہاد کو ہٹانے کی کوشش کی تو سوائے سابق وزیر اعظم #میر_ظفراللہ_جمالی نے کسی نے اختلاف نہیں کی اسنے کہا اللہ کرے شک کی تبدیلی سے پہلے میں مرجاؤں لیکن آپکے اس گھناؤنا ظلم کے ساتھ نہیں دیتا کچھ لوگوں کی وجہ سے پاکستان کے آئین میں اسلام کا شرعی نفاظ محفوظ ہے لیکن وہ بھی محدود وگرنہ اکثر سیاسی مولویان پاکستان کے لالچی حکمرانوں سے ملکر پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مغربی جمہوریت کے طرض پر لاکر کھڑا کرتے اب بھی ہم خوش ہیں کہ ہمارے حکمران ہمارے سیاست دان ہمارے بیوروکریسی ہمارے سیاسی مولوی ہمارے پاکستان کو مکمل اسلامی طور طریقوں اور قرآن مجید کے احکامات کے مطابق ہمیں مضبوط اسلامی ریاست بناکر دینگے اگر یہ لوگ 75 سالوں سے کرپشن کو نا انصافی ظلم و جبر کو بڑھاتے بڑھاتے یہاں تک پہنچا چکے ہیں یہ ہمیں آگے کیا اسلامی مملکت بناکر دینگے ان سے توقع رکھنا بالکل سو% بے سود ہے ہمیں دین سے دور کیا جارہا ہے ہمیں ظلم کے راستے پر لیکر یہ لوگ چل رہے ہیں انصاف کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا گیا پھر بھی ہم کہتے ہیں اللہ تعالی ہم پر ناراض ہے ہم اتنے سخت دل ہو چکے ہیں چند پیسوں کیلئے اپنے والدین کو دشمن سمجھتے ہیں اپنے بھائیوں سے دھوکہ کرکے انکو وراثت سے بے دخل کرتے ہیں اپنے ہمسائیوں پر جیسا ہی دل نے چاہا وہی کرتے ہیں دو سجدے ادا کرکے اپنے آپکو گنج بخش سمجھتے ہیں روزہ رکھ کر خود کو معین الدین چشتی سمجھتے ہیں کسی سائل کو دس روپیہ دیکر حاتم طائ کو کہتے ہیں ہم جیسے سخی آپ نہیں ہوسکتے زخیرہ اندوزی لوٹ مار کرکے عمرہ کی ادائیگی کے بعد خود کو دودھ کا دھلا ہوا سمجھ کر ظلم کو مزید طول دیتے ہیں رشوت لیکر صبح تہجد پر بیٹھ کر اپنے آپکو شاہ سلیمان تونسوی سمجھتے ہیں تھوڑا نہیں پورا سوچیں میرے اور آپکے اس دکھاوا کے عمرہ اور حج نماز و روزہ سے کچھ ہونے والا نہیں ظلم کے ہر حد عبور کرکے کہتے ہیں روز محشر آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین ہماری شفاعت کریگی شفاعت اسکی کی جائیگی جسے مجبوری کے عالم میں کوئ کوتاہی ہوئ ہو جان بوجھ کر ظلم کا بازار لگانے والوں کیلئے سفارش کس چیز کا قرآن مجید کے 30 پارے ہیں یہ ہمارے ہی رہنمائ کیلئے آیا ہوا ہے اگر ہم اسے جھٹلا کر شفاعت کا سوچیں تو یہ ہماری بھول بھی ہے اور ہم حقدار بھی نہیں اللہ تعالی مالک و خالق ہے اگر کسی یہودی و نصرانی کو بخش دے تو اسے کوئ نہیں پوچھ سکتا مگر ہم اپنے آپکو بہت دھوکہ دے رہے ہیں بہت ظلم کررہے ہیں اپنے آپکو جنت سے نکلوا کر جہنم کا ایندھن بننے کیلئے تیار کررہے ہیں بیوی بچوں کو چھوٹی سی غلطی پر کتنا سزا دیتے اور مارتے ہیں اگر نماز نہ پڑھیں روزہ نہ رکھیں تو کوئ بات نہیں کام پر ڈانٹ دین پر سمجھوتہ یہ میرے رب کو قبول نہیں ہمیں اس دنیا پھر بھیجنے کا مقصد اس مالک کی حکم عدولی بجالانا ہے نہ کہ اس کے حکم کے سے بغاوت کرنے کیلئے پیدا فرمایا گیا اگر حکم کی نافرمانی پر سمجھوتہ ہوتا تو ابلیس کو ملعون قرار نہیں دیا جاتا وہ بھی فرشتوں کا سردار تھا زمین کو بالشت بالشت سجدے کیئے لیکن حکم کے برخلاف اسے ہمیشہ کیلئے لعنتی قرار دیکر جنت سے نکالا گیا کیونکہ ہم آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کے امتی ہیں اگر ہم تھوڑا سا کوشش بھی کریں تو یقیننا ہمیں بخشا جائیگا بشرطہ حکم کے خلاف نہیں حکم بجا لانے پر جان بوجھ کر غلطی پر نہیں بھول چوک پر معاف کیا جاسکتا ہے جب تک دل میں محبت یا خوف خدا نہ ہو تو ظاہری عمل بیکار ہے دعا ہے رب جلیل سے کہ ہمیں شیطان کی پکڑ سے محفوظ اور اپنے بتائے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
Subscribe to:
Comments (Atom)
Featured post
کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش
http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201
-
لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگ...
-
یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بش...
-
قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو ...

