Friday, 20 March 2026

کیا آپ جانتے ہیں یہ دنیا آباد کیوں نہیں ہوسکتا اگر نہیں تو جانیئے مکمل رپورٹ اور وہ بھی ثبوتوں کے ساتھ

قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد  ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو چلانے کیلئے راضی نہیں ہوتا مگر قرض اور بھی یہود کا تو یہ تباہی کے علاؤہ کچھ نہیں جیسا پوری دنیا ہمارے سامنے ہے اور وہ بھی اپنے ہی نالائقیوں کی وجہ سے



پیرا گوٹے 1850 کے قریب دنیا کا وہ ملک تھا جسے کوئ بھی طاقت اکیلے روک نہیں سکتا تھا مگر ہمیشہ کی طرح اس دنیا پر فسادات کی بنیاد یہودی لا بنگ رہی جیسا کہ ازل سے آج تک 


اللہ تعالیٰ اپنے قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ہم نے تمہیں ہر چیز سے نوازہ دولت اولاد اور نعمتیں عطا کیں اپنے دنیا پر فساد برپا کردیا اس لیئے میں نے اپنے بندے بھیجھے اور آپکے فسادات سے چھٹکارا پایا اگر آپ باز نہ آئے تو پھر بھی ایسا ہی ہوگا


جب یہودیوں نے چار ملکوں میں جنگ کروادی اور نوے
 فیصد مردوں کو ختم کردیا جس سے بچوں کو جنگ لڑنا پڑی
۔
انیسوی صدی میں پیراگوئے معاشی طور پر خطے میں بہت مضبوط ہونے لگ گیا ،یہ جنوبی امریکہ کا واحد ملک تھا جو غیر ملکی قرضوں کا شکار نہیں تھا ،انہوں نے اپنی محنت پر ملک کو کھڑا کیا اور اتنا طاقتور ہوگیا کہ ساتھ والے ملکوں کو خطرہ محسوس ہونے لگ گیا
ساتھ والے ملک پہلے ہی یہودیوں کی بینکوں کے قرضوں میں ڈوبے تھے ،یہ بچا ہوا تھا اور یہودیوں کو یہ پسند نہیں تھا اس لیے انہوں نے ایک چال چلی کہ اس ملک پر جنگ مسلط کردی جائے
1864
میں تین ملک ارجنٹائن ،برازیل اور یوراگوئے نے اتحاد کرکے پیراگوئے پر حملہ کردیا




اس وقت امریکہ میں ابراہام کی حکومت تھی لیکن وہ اندرونی جنگوں میں مصروف تھا 
اور وہ یہودی لا بنگ سے بہت دور تھا اپنے ہی دفاع میں کررہا تھا اور اسوقت ان یہودیوں کے ہاتھوں برطانوی سامراج کٹھ پُتلی بنا رہا اور اسی کی مدد سے پیراگوائے پر ارجنٹائن برازیل یوراگوئے کا اتحاد بنواکر پیراگوائے پر جنگ شروع کروائی مگر دولت اسوقت بھی یہودیوں کا تھا اور آج بھی 
انہی شیطانوں کی ہے جو مظلوموں پر قہر بن کر ٹوٹ رہا ہے 



اسوقت دنیا ایک سپر پاور 
برطانیہ نے اپنی عوام کو یہ بتایا کہ پیراگوئے کا حکمران نپولین کی طرح کا ہے ،وہ دہشتگرد ہے ،بند ریاست ہے کسی سے تجارت نہیں کرتی ،وہاں کا حکمران عوام پر ظلم کررہا وغیرہ وغیرہ 
پرو پیگینڈے کا مقصد برطانیہ کی عوام پیراگوئے کی حمایت میں کھڑی نہ ہو اور ایسا ہی ہوا 
تب برازیل رتھشیلڈ خاندان کے قرضے میں ڈوبا تھا اور ارجنٹائن بیرنگ برادرز کے قرضے میں جو یورپ کی بہت بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا اس کے متعلق ابھی تحریر نہیں لکھی میں نے 
ان دونوں خاندانوں نے ان ملکوں کو ہتھیار خریدنے کے پیسے دئیے اور کہا کہ یہ ملک تمہارے لیے خطرہ ہوسکتا اس لیے اس کو ختم کردو تینوں مل کر اور کچھ علاقے رکھ لینا 
ملکوں کو اپنا لالچ اور ان خاندانوں کو اپنا 
دونوں کے لالچ نے جنگ شروع کروادی 
اس جنگ میں اس ملک کی یعنی پیراگوائے کی ساٹھ فیصد آبادی ختم ہوگئی اور نوے فیصد مرد بھی ختم ہوگئے 
ایک اندازے کے مطابق
 تین لاکھ لوگ پیراگوئے کے مارے گئے جن میں اس ملک کے نوے فیصد مرد تھے
کیونکہ پیراگوائے کے بے گناہ لوگوں اور حکمران کا یہ گناہ کی کہ اسنے اتنی محنت سے اپنے ملک کو سنوارا تاکہ ہمیں کسی سے مدد لینے کی ضرورت پیش نہ آئے اور اپنے ہی دن رات کی لگن کے بدولت اپنے ملک کو ہر طرح سے مضبوط رکھا مگر یہ یہودی فسادیوں کو منظور نہیں تھا تو انہوں نے سازشیں شروع کیں اسوقت کے بابے برطانیہ کے گود میں جا بیٹھا اور اس خطے کے مقدر بدلنے عوام کو برباد کرنے اپنے شیطانی نظام کو آباد کرنے کا منصوبہ بناکر ان چاروں ممالک کو آگ کے دلدل پھینکا اس کے نتیجے میں
برازیل کا ایک لاکھ سپاہی 
ارجنٹائن کا تیس ہزار سپاہی 
یوراگوئے کا پانچ ہزار سپاہی 
اس جنگ میں لڑائی کے علاوہ کچھ مزید چیزیں ہلاکت کا باعث بنی 
جو پانی وہ پیتے تھے اس میں لاشیں ہونے کی وجہ سے وہ زہریلا ہوگیا اور ہیضہ پھیل گیا جس کا شکار دوسرے ملکوں کے سپاہی بھی ہوئے
بھوک اور قحط پڑھ گیا جب سارے مرد جنگ پر تھے تو فصلیں تباہ ،جانور مرگئے 
چیچک بھی کافی پھیل چکا تھا جو کافی ہلاکتوں کا باعث بنا

اس کے علاوہ جیسے جیسے مخالف فوجیں اندر کی طرف آتی گئی لوگ نقل مکانی کرتے گئے جس کے دوران کمزور عورتیں بچے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔
علاج کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے زخمی یا بیمار لوگ بھی کافی تعداد میں مارے گئے





چھ سال جنگ کی وجہ سے جب مرد ختم ہوگئے تو لوپیز نے کہا کہ بچے میدان میں اتریں 
بتیس سو چھوٹے بچوں کو بندوقیں دے کر گھاس کے میدان میں اتار دیا گیا جہاں سامنے بیس ہزار برازیل کے ٹرین سپاہی تھے 
جنگ ہوئی جب بچوں کے پاس گولیاں ختم ہوگئی تو وہ لاٹھی ،پتھر اور خالی ہاتھوں سے حملہ کرنا شروع ہوگئے
 تو برازیل کے کمانڈر نے کہا کہ میدان کو آگ لگادو 
اس آگ میں بچے بھی مارے گئے اور پیچھے مائیں کھڑی دیکھ رہی تھی وہ بچانے کے لیے آگے آئیں اور وہ بھی جل کر راکھ ہوگئی
اسی وجہ سے سولہ اگست کو پیراگوئے میں بچوں کا دن منایا جاتا 
صدر لوپیز جنگل میں چلا گیا اپنے چند سپاہی بیوی اور بیٹے کے ساتھ 
اس کو گرفتار کرلیا گیا اور وہی پر اس کو اور بیٹے کو گولی مار دی اور اس کی بیوی کو ساتھ لیجانے کی کوشش کی گئی تو اس نے کہا کہ مجھے ان دونوں کو دفنانے دو
اس نے ہاتھوں سے قبر کھود کر اپنے شوہر اور بیٹے دفنایا۔
اس طرح یہ جنگ اختتام کو پہنچی ،تینوں ملکوں نے اپنے اپنے حصے کے علاقوں پر قبضہ کرلیا 
اور پھر یہودی خاندانوں نے پیراگوئے پر قبضہ کرکے نئی کٹھ پتلی حکومت کھڑی کردی 

پھر انہی یہودی بینکروں نے پیرا گوئے کی معیشت کے لیے تیس ملین ڈالر کا قرضہ دیا لیکن پیراگوئے میں صرف چار ملین ڈالر ہی پہنچے باقی انہوں بینکوں میں ٹیکسوں کے نام پر کھالیے اور سخت شرائط پر سود الگ چڑھادیا جو انہی بینکرز کے حق میں تھا اور پیراگوئے ملک کو دیوالیہ کردیا 

اور اس قرض اور سود کو لینے کے بہانے ان بینکرز نے کہا کہ ہم پیراگوئے کی سرکاری زمینیں بیچیں گے 
زمینیں خریدنے میں چار کمپنیاں سامنے آئی 
برطانیہ کے لوپیز بوش اور گیجو خاندان جنہوں نے بیس لاکھ ہیکٹر زمین خریدی 
سپین نے کارلوس کاساڈو نے پچاس لاکھ ہیکٹر زمین خریدی
میٹ لارنیگرا جو برازیل کی کمپنی تھی لیکن پیچھے وہی برطانیہ کے یہودی بینکرز تھے انہوں نے چائے کی پتی والے باغات پر قبضہ کرلیا اور مقامی لوگوں سے زبردستی مزدوری کرواکر باغات کا منافع لندن بھیجا گیا ان بینکرز کو 
اینگلو پیراگوئین لینڈ کمپنی یہ بیرنگ برادرز کی کمپنی تھی جنہوں نے پندرہ لاکھ ہیکٹر زمین ہتھیالی اور انہوں نے ایسے ہی چھوڑ دی تاکہ مستقبل میں جب ملک ترقی کرے آبادی بڑھے تب مہنگے داموں فروخت کی جاسکے 

جب ملک جنگ سے فارغ ہوا تو اٹھائیس عورتیں اور ایک مرد کا تناسب رہ گیا 
تعداد بڑھانے کے لیے ایک مرد سے کئی کئی عورتوں کی شادی کروائی گئی ،یہ ان کے مذہب کے خلاف تھا لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے سب مذہبی رہنما خاموش رہے 
عورتیں نے ہی تمام معیشت سنبھالی ،کسان ،دکاندار ،تاجر ہر فیلڈ میں عورتوں نے ہمت دکھائی اور ملک کو دوبارہ پیروں پر کھڑا کردیا۔




عورتوں نے اپنے تمام زیورات ،جمع پونجھی جو جو کچھ تھا ان کے پاس انہوں نے حکومت کو دے دیا 
اس میں کافی کچھ دردناک ہے لیکن تحریر کا اختتام کرتے 
۔
قرض اور سود یہودیوں کا سب سے بڑا ہتھیار رہے ہیں جو لوگ یقین نہیں کرتے میری تحریروں پر کہ یہودی اتنے طاقتور کیسے ہوسکتے کہ وہ ملک کے ملک اپنے بس میں کرلیں 
وہ صرف اپنے پاکستان کو دیکھ لیں جو آئی ایم ایف کے قرضوں تلے دبا ہے حالانکہ اس کو قرضوں کی ضرورت نہیں تھی لیکن ایسے حالات بنائے گئے تھے کہ یہ قرضے میں ڈوبے اور آنے والے وقتوں میں کوئی مزاحمت نہ کرسکے آج پاکستان کی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ قرضے یہودیوں کا ہتھیار ہیں 
۔
Some Coppyed by ✍️ Irfan Opal 

No comments:

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201