بڑے بڑوں سے ہمیشہ سننے کو ملے اور سنتے آرہے ہیں ہر کامیاب اور ناکام خاندان کے پیچھے ایک فرد کا ہاتھ ہوتا ہے اگر اسمیں ٹیلینٹ ہو اجڑے ہوئے فیملی کو اباد کر سکتا ہے اگر منفی سوچ کا مالک ہو تو ہنستے بستے گھر کو اجاڑ دیتا ہے عین اسی طرح تونسہ شریف میں گزشتہ چھے مہینے سے اجتک مرکز میں حکومت ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن کی حالات روز بروز تنزلی کی طرف گامزن ہے جب 2018میں پی ٹی آئ کا گورنمنٹ مرکز اور پنجاب میں بنا لوگوں کو لارے میں لاکر ووت لیئے گمنام بازو کا سہارا لیکر کھڑا تو ہوا لیکن ہر گزرتے وقت عوام کا دل ٹوٹتے ٹوٹتے آخر کار تونسہ شریف میں اہل عوام نے مسلم ن کا نعرہ بلند کرنا شروع کردی ہے جبکہ تونسہ شریف کے شہری دیہی اور کچھ پہاڑی سطع پر مسلم لیگ ن کے گن گانے والے لوگ بہت ہی پھرتی سے اگے بڑھ رہے تھے پی ٹی آئ اور پی پی پی کے ووٹروں کو توڑکر ن لیگ میں شمولیت کیلئے دن رات کوشاں رہنے والے عوام اور اسکے پیچھے ورکرز کے سپورٹ ہوتے ہوئے بہت تیزی سے اپنا منزل طے کرتے ہوئے کامیابی کی طرف گامزن تھے کیونکہ تونسہ شریف کے پی پی 286اور این اے 189 میں مسلم لیگ ن کا گزشتہ الیکشن میں یہاں کوئ کنڈیڈیٹ ہی نہیں تھا جب تونسہ شریف میں پی پی 286 کیلئے آنے والے 2023کے عام انتخابات کیلئے مسلم لیگ ن نے اپنا ٹکٹ خواجہ نظام المحمود صاحب کو دینے کی افر کی جو کہ یہی خواجہ صاحب 2013سے 2018 تک پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر جیت کر پنجاب اسمبلی کے ممبر ہی رہ چکے تھے جونہی خواجہ نطام المحمود صاحب کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ ہولڈر بنایا گیا آہستہ آہستہ اہل علاقہ کے عوام واپسی اختیار کرتے چلے گئے کیونکہ یہی خواجہ صاحب کو تونسہ شریف کے عوام پہلے پانچ سال کیلئے کامیاب کرا کر پنجاب اسمبلی تک پہنچا چکے تھے اسی پانچ سال میں اس مرد مجاھد نے ایک اینٹ تک اپنے حلقے کے عوام کو دینے کا گوارہ ہی نہیں کی اسی پانچ سال میں اپنا ٹینور اکثر ملتان لاہور اور گرمیوں میں مری کے ٹھنڈے موسم انجوائے کرتے ہوئے گزارے عوام کو معلوم تھا کہ خواجہ صاحب ہمارے دیکھے اور ماضی میں کامیاب کروائے گئے امیدوار کو جب ہم دوسری بار دوسری پارٹی سے ٹکٹ لیکر ہم مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ اہل عوام کو بالکل قبول ہی نہیں پارٹیاں بدلنے سے انسان کا سوچ نہیں بدل سکتا نہ پارٹی بدلنے سے علاقے میں ترقی کا انقلاب آسکتا ہے جب چار مہینے قبل تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں طوفانی بارشوں کے اور سیلاب کی تباہ کاریاں شروع ہوگئیں تو مرکز میں مسلم لیگ ن کی دور حکومت ہونے اور اسی ٹکٹ ہولڈر خواجہ نطام المحمود صاحب کو پورے علاقے اور اپنے حلقے کیلئے ایک بار محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے علاقے کا دورہ کرکے راشن خیمے بشمول تمام ضروریات زندگی کی ہر چیز خواجہ صاحب کو عوام کی زندگی بحال رکھنے کیلئے ضروریات کو بھانپ کر بہت بڑی تعداد میں خوراک وغیرہ دیکر چلی گئی بہت تھوڑے ہی وقفے کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ صاحب کا وزٹ ہوا پھر سے بہت بڑا سامان جو عوام کو وقتی وقت گزارنے کیلئے راشن اور سر پر عارضی چھت کیلئے خیمے برتن جو سامان ضروریات کے تھے دے کر چلے گئے اور اسی دن تونسہ شریف کے بستی منگروٹھ میں دوران تقریر عطا تارڑ صاحب نے کہا میں جانتا ہوں یہ سامان یہاں کے عوام کیلئے کافی نہیں جونہی اسلام آباد پہنچا انشااللہ آپ عوام کیلئے مزید راشن خیمے کمبل کپڑا وغیرہ جو آپکے ضروریات کے ہیں خواجہ نظام المحمود صاحب کو بھیجونگا وہ اسی وقت آکر آپکو بانٹیں گے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے نہ محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کا دیا گیا سامان کا پتہ چلا نہ عطا تارڑ صاحب کے دیئے گئے راشن اور خیموں کی کوئ معلومات منظر عام پر آئ ماسوائے چند اپنے قریبی دوستوں اور اپنے زاتی ملازمین کو لیکر صرف چند ایک جگہ جاکر سیلفیاں بنوائیں زمینی طور پر خواجہ نطام المحمود صاحب کی کارکردگی ماضی بعید کی طرح ماضی حال اور مستقبل بھی ناکام رہنے کا زمیدار خود ہی مسلم لیگ ن ہی تصور ہوگا کیونکہ فندز اور ترقیاتی منصوبے تو دور پارٹی کی طرف دیئے گئے غریب عوام کے راشن خیمے برتن کپڑے بستر بھی حقداروں تک پہنچ سکے عوام کی حالات سیلاب سے آج تک جوں کے توں ہے کیونکہ مسلم لیگ ن مقامی لوگوں کے کہنے پر اپنا ٹکٹ پی پی پی 286 کیلئے خواجہ نظام صاحب کو دیکر اپنا ہی گلہ خود گھونٹ کر اس حلقے سے عوام کے دلوں سے باہر ہو گئے ہیں 2018 میں خواجہ نطام المحمود صاحب جیپ کے ٹکٹ پر سابق سی ایم پنجاب سردار عثمان خان کے مد مقابل تھے جنہیں عوام نے سولہ ہزار ووٹ ڈالے اس بار خواجہ صاحب کو 8 ہزار ووٹ ملے تو بھی مسلم لیگ ن کی اس حلقے میں کامیابی تصور ہوگی
Welcome To Tibalnews1. Here Uou Will Find Every Local National News Of DGKhan Taunsa And Koh Suleiman Kn A Blink Of An Eye With All Languages Kinds Of Articles.
Saturday, 3 December 2022
Thursday, 1 December 2022
دنیا آگے نکل چکا ہے ہم بلوچ واحد قوم ہیں جو پیچھے کی طرف گامزن ہیں
ڈیرہ غازی خان تونسہ شریف اور کوہ سلیمان پاکستان بشمول پنجاب کا وہ خطہ ہے جو 1947 سے لیکر آج تک یہاں کے حالات جوں کے توں ہیں سیاسی رہنما بدلے انکی اولادیں آئیں پارٹیاں بدلتے رہے ہر پانچ سال بعد ایک نیا نعرہ لیکر اہل عوام کو ورغلاتے بہلاتے پھسلاتے ووٹ لیتے رہے ملک بھر کی طرح یہاں بھی وہی پارٹیاں ہیں جو مرکڑ اور صوبے پر حکمرانی کرتے آرہے ہیں تونسہ شریف اور ڈی جی خان کے سیاستدان بھی انہی پارٹیوں کے ساتھ دیتے رہے لیکن عوام بھی انہی سیاسی رہنماوں کے ساتھ چل کر ہمیشہ سے انہیں کامیاب کرتے رہے لیکن ان سیاستدانوں نے ہمیشہ سے اپنے مفاد کو لیکر پارٹیاں بدلتے رپے عوام کو پس پشت ڈال کر آجتک ان عوامل کو یہ لوگ اپنا ووٹر نہیں صرف انہیں غلام سمجھ کر 1947سے دھتکارتے قومیت کے نعرے لگواتے پیرو مرشد کا سائیہ دکھاکر بیوقوف بناتے رہے ڈیرہ غازی خان سے وہوا تک مختلف ادوار میں مختلف بلوچ رہنماوں نے مختلف پارٹیوں کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ ہمیشہ سے اس خطے کے سرداروں نے کسی نہ کسی کے ساتھ وزارتوں میں جڑے رہے ڈیرہ غازی خان میں بلوچ قوم کا مضبوط اور طویل ترین سیاست رکھنے والے خاندان لیغاری خاندان ہے جو کہ قریب آباو اجداد سے پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں سابق صدر مرحوم سردار فاروق احمد خان لیغاری اور اسکے بیٹوں تک پاکستان بننے کے بعد اب تک ہمیشہ کسی نہ کسی پارٹی سے ملکر ہمیشہ سے حکومتوں میں حصے دار رہے ہیں 1973 سے 1993 تک پاکستان کے سابق صدر فاروق احمد خان لیغاری نے ایک طویل مدت میں ہمیشہ سے وزارتوں میں ہوتے ہوئے آخر کار 1993 میں پیپلز پارٹی نے انہیں صدر پاکستان بنا دی ہے لیکن اسے سے پہلے فاروق احمد خان لیغاری کے والد صاحب سردار جمال خان لیغاری بھی کہیں نا کہیں پنجاب میں وزارتوں میں فائز ہوتے رہے اتنے طویل دور گزارنے کے بعد ڈیرہ غازی خان کے دامن میں کوہ سلیمان کی حالات نہیں بدلا اجتک اس بد قسمت بلوچ قوم کی حالات وہی کے وہی ہیں کھوسہ سرداروں میں سردار زوالفقار خان کھوسہ کھوسہ سرداروں کی اہل خاندان کی طویل مدت تک حکمرانی رہی جوکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ وابستہ رہ کر پنجاب کے گورنر وفاقی وزیر اور اسکے بیٹے سردار دوست محمد خان کھوسہ وزہر اعلی پنجاب رہے تونسہ شریف کے خواجگان بھی اسی طرح ایک بہت بڑا سیاسی تاریخ رکھتے ہیں خواجہ کماالدین انور جو بہت بڑے عرصے تک پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ جڑا رہا اسکے بعد اسکے بیٹے خواجہ شیراز محمود جوکہ سابق صدر پرویز مشرف کے مارشالاء کے دوران ق لیگ میں 1998 میں اپنا سیاسی کیرئر کا آغاز کرکے اجتک تونسہ شریف میں ایک مضبوط سیاسی پائیہ کے طور پر جانا جاتا ہے تونسہ شریف کے سٹی نظامت سے لیکر وفاقی وزیر رہا لیکن تونسہ شریف میں صرف ایم این اے شپ پر قابض رہنے کے علاوہ 20سالہ دور میں کہیں ایک گلی تک نہ بنا سکا اور گزشتہ 2013سے 2018تک پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر پی پی 286 میں الیکشن لڑنے والے خواجہ نطام المحمود پانچ سال تک پنجاب اسمبلی کا ممبر رہ کر اس پانچ سال میں بھلے ہی پنجاب کی حکمرانی مسلم لیگ ن کے ساتھ تھا لیکن اپنے ایم پی اے فنڈز کو عوام پر خرچ نہ کرنے اسے بچانے کیلئے اسی پانچ سال میں سوائے کسی اپنے بڑے بزرگ کے عرس مبارک میں آنے کے علاوہ تونسہ شریف کو خیرباد کہہ کر ملتان لاہور اور گرمیوں کو مری مین موسم انجوائے کرتے رہے لیکن اپنے علاقے اور عوام کو ملنے کا بھی گوارا نہیں کرسکتا اسی طرح 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئ کامیاب ہونے کے بعد پنجاب اور مرکز پر اپنا قبضہ جمانے میں کامیاب رہا اور تخت پنجاب کا سہرہ بھی تونسہ شریف کے سر سج گیا پنجاب میں ساڑھے تین سالہ کالے اور گورے کا مالک یہی تونسہ اور کوہ سلیمان کا بیٹا سردار عثمان خان بزدار رہا مگر تونسہ شریف ڈی جی خان اور کوہ سلیمان اس طویل عرصے میں بیک وڈ ہونے کی وجہ سے 75سال سے پسماندگی میں اتنا متاثر تھا کہ یہاں دیہی علاقوں میں چھے سے سات لاکھ ابادی پر مشتمل علاقے کے عوام کو حکومت اور پہلے سے یہاں پر حکمرانی کرنے والے لوکل رہنماوں کی طرف صرف شناختی کارڈ تو جاری کیئے گئے لیکن اس دشوار گزار پہاڑی اور پرپیچ علاقوں میں کہیں بھی ایسا روڈ سرے سے موجود ہی نہیں تھا جس پر کوئ آکر علاقے میں وزٹ ہی کر سکتا ہو اور کسی بھی مریض کیلئے ایسا کچا ٹریک ہی موجود نہیں تھا جس پر کوئ گاڑی جاکر مریض کو کسی شہر میں کہیں ہسپتال تک پہنچا سکتے 90% لوگ اپنے مریضوں اور ڈیڈ باڈیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نوو کرنے کیلئے کاندھے یا اونٹ کا سہارا لیکر جایا جاتا جاتا رہا اور سردار عثمان خان جوکہ تین سال تک سی ایم پنجاب ہونے کے باوجود جو کرنا تھا تو نہ کر سکا لیکن پھر بھی تونسہ شریف ڈی جی خان کے شہری اور ملحقہ آبادیوں کیلئے اکثر لنک روڈ بناکر دیہاتوں کو شہروں تک پہنچانے میں بہت کردار ادا کی پہاڑی علاقوں کو شہروں سے ملانے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کر گیا کہیں کچے تو کہیں چھوٹی سی لنک روڈز بناکر وقت اور سفر کو آسان بنانے میں بہت مدد ملی ہے لیکن جو کہ ایک صوبے کے سربراہ ہونے کے باوجود جو کرنا تھا ناکام رہا روزگار تعلیم صحت سمیت زندگی کے تمام تر جو بنیادی ضروریات تھے وہ وہسے کے ویسے رہے اہل علاقہ اج بھی دہائیاں دیتا رہا لیکن قسمت نے ساتھ نہیں دی یا یہاں کے رہنماوں کے دل میں منافقت نہ نکل سکا جو کہ پاکستان بننے سے لیکر اج تک حل طلب ہے لگتا ہے یہ مسائل یہی کے یہی رہینگے کیونکہ حکمران جو بھی جہاں بھی ہو حکومت بنانے والے بھی یہی لوگ ہوتے ہیں اور پانچ سال بعد ہمیں اکر بتاتے ہیں کہ حکمران پارٹی یا اس حکومت نے میری بات نہیں سنی اس لیئے میں دوسری پارٹی جوائن کرکے اگلے دفعہ بہت کچھ کرونگا مگر یہ تو صرف زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں اس لیئے 75سالوں میں انہیں لوکل سیاسی رہنماوں نے کچھ نہیں کی اور آگے بھی یہ کچھ نہیں کرسکتے اس لیئے کہ اس غفلت علاقے کے پسماندگی میں سیاست دانوں سے زیادہ ہم عوام کے سپورٹ بھی ایک کلیدی کردار ادا کررہا ہے کیونکہ ہم لوگ اپنے مستقبل کی سوچ سے پہلے ہم اپنے اناء کو ترجیع دیتے ہیں اور اناء کی وجہ سے ہم روز بروز روشنی کے بجائے اندھیرے کی طرف محو سفر ہیں کیونکہ سب سے بڑی وجہ ہماری جہالت ہے تعلیم کی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے ہم میں کوئ پیرو مرشد کو ووٹ دینے کو ترجیع دیتے ہیں کوئ قومیت کے بل بوتے پر اپنے قبائلی سرداروں کو سپورٹ کرتے ہیں ہمیں ایسے مضبوط سوچ کے ساتھ ایسی تربیت دی گئ چلو کرتا تو کوئ بھی نہیں میرا مرشد روز محشر ہمیں جہنم سے تو بچالیگا یا یہی سوچ کر ہم سرداروں کو ووت ڈالتے ہیں یار دیتا تو کوئ کچھ نہیں چلو میرا سردار ہے اپنے قوم کو بدنام ہونے سے ہر صورت بچانا ہے مگر ہمیں اپنے مستبقل کا یہ سوچ پروان نہیں چڑھتا کہ کہ یہ سرداروں کی ہار سے نہ یم بدنام ہوتے ہیں نہ یہ مرشد ہمیں جہنم سے بچا سکتے
Tuesday, 29 November 2022
تونسہ جاگ چکا ہے ہم چہرے بھانپ چکے ہیں
تونسہ جاگ چکا ہے ہم چہرے بھانپ چکے ہیں ؟
تونسہ شریف؟ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے دنیا و اخرت پر سدا اسکی ہی حکمرانی قائم رہیگی ہر پریشانی ہر مصیبت کی بڑی وجہ سب سے پہلے ہمارے اپنے ہی اعمال ہیں اس میں کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیئے دنیا اور اخرت میں کامیابی اور ناکامی کا سبب اللہ تعالی نے قرآن مجید میں صادر فرمایا جو میرے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرے اسکی کامیابی میرے رب نے اپنے ہی زمے اٹھا رکھا ہے جو شیطان کے وسوسوں پر چلے اسکے کہا مانے تو اسکا ذمیدار وہ خود ہے کیونکہ اللہ تعالی نے گھر سے لیکر علاقے اور ملکوں پر بھی سربراہی کی ذمیداریاں بھی اللہ تعالی نے انسانوں کو دی ہے پورے کائنات کو چلانے والا واحد طاقت تو ایک ہی اللہ رب کائنات ہے مگر ہمیں انسانوں کو بھی اللہ تعالی نے کسی نہ کسی مقصد کیلئے ضرور بنایا ہے عبادت سے ریاضت اگر ہم اپنے زمیداریوں سے رو گردانی کریں تو اسکا خمیازہ ہی ہمیں بھگتا پڑتا ہے جیسا کہ گزرے تین سے چار مہینے قبل کوہ سلیمان میں طوفانی بارشیں ہوئیں پورے کوہ سلیمان کو تہس نہس کر رکھا اور کوہ سلیمان کے بارشوں کا پانی تونسہ شریف پر گر کر جو بڑی شدت سے سیلاب بن کر جو تباہی مچائ شائید ہی تاریخ میں اتنا بڑا نقصان تونسہ شریف اور اسکے مضافات کا کبھی ہوا ہو تونسہ کے سو سالہ بزرگ نے کہا کہ ہمارے آباو اجداد نے ہمیں اتنے بڑے تباہی کا کبھی نہیں بتایا جو گزشتہ تین مہینے پہلے ہوا کیونکہ تونسہ شریف کے دیہاتوں اور کوہ سلیمان کے چوٹیوں پر بسے وہ نہایت ہی غریب لوگ اباد ہیں جو کچے مٹی اور کچے پتھروں سے بنائے گئے کمروں اور جھونپڑیاں بناکر اپنے زندگی بسر کرتے رہے لیکن اس سیلابی تباہی نے جھونپڑیوں پتھر کے اور مٹی کے بنائے گئے کچے کمروں کو لپیٹ کر 90% لوگوں کے چھت زمین برد کیئے حکومت پنجاب اور مرکزی حکومتوں نے دعوے تو بڑے کیئے لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں جو کہ دنیا کے نظروں سے بالکل اوجھل ہیں سابق سی ایم پنجاب پی ٹی آئ رہنما ایم این اے خواجہ شیراز محمود ایم پی اے خواجہ داود سلیمانی پی ایم ایل این کے رہنما خواجہ نطام المحمود سردار میربادشاہ قیصرانی سمیت مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئ کے کسی بھی رکن کو یہ گوارا ہی نہیں گزرا کہ یہاں کے عوام سے پچھہتر سالوں سے ہم نے اور ہمارے آباو اجداد ووٹ لیتے آرہے لیکن ووٹ لینے کا مقصد یہ ہر گز نہیں کامیاب ہوکر یا سرکاری خزانے سے فنڈز اور امدادی سامان لیکر عوام کے ساتھ کہیں جاکر صرف سیلفیاں بنانا نہیں انہیں دوبارہ آباد کرنا بھی حکومت وقت کی زمیداری ہے مگر افسوس کہ ان رہنماوں نے سوائے چند ایک جگہ پر سیلفیاں بنانے تک محدود رہے جو ایک نہایت ہی دکھ اور تکلیف کی بات ہے اس مشکل گھڑی میں اپنے عوام کیلئے جو کام تونسہ اور کوہ سلیمان کیلئے
((عام آدمی تحریک پاکستان))
کے چیئرمین اور صدر ((ملک فرحان خان بھٹہ اور محترمہ راشدہ بھٹہ صاحبہ)) نے سر انجام دی اور دے رہے ہیں تونسہ شریف اور کوہ سلیمان کے غریبوں کیلئے جو نہ مسلم لیگ ن کرپائے نہ پی ٹی آئ کیونکہ ((عام آدمی تحریک پاکستان )) کے منشور اپنے غریب عوام کی خدمت ہے ان کیلئے سب سے پہلے خیمہ اور راشن مہیا کرنا اب دوسری کھیپ میں شدید سردیوں میں انہیں گرم کپڑے برتن مچھر دانیاں بسترے اور کمبل پورا کرنے کا ٹاسک لیکر دن رات کوشاں ہیں تونسہ اور کوہ کے جو بغیر چھت کے لوگ پڑے ہیں ان کیلئے (عام آدمی تحریک پاکستان) اپنا فلاحی و عوامی امداد کا ٹاسک پورا کرنے کیلئے ہمہ وقت غریبوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر انکی جنگ لڑ رہی ہے گزشتہ دن (ملک فرحان خان بھٹہ) سے ملاقات ہوئ اس کا کہنا تھا ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں جو ہم اپنے گھر سے پورا کرسکیں ڈونرز اور فلاحی اداروں کے تعاون سے انشااللہ جلد سیلاب متاثرین کیلئے جنکے گھر منہدم ہوئے ہیں انہیں پاکستان کے عوام کی مدد سے چھت فراہم کرنے کیلئے بڑی تیزی سے کوشش کررہا ہوں شدید سردیوں سے پہلے انہیں چھت فراہم کرکے اپنے انسانی اور جزبہ ایمانی کا بنایا گیا منشور پورا کرکے غریب عوام اور اپنے علاقے کی بحالی پر پورا اتر سکوں کیونکہ ہم نہ ایم پی اے ہیں نہ ایم این اے نہ کسی حکومت کا حصہ ہیں میں پاکستان اور آوٹ کنٹری میں ڈونرز دوستوں کے سپورٹ سے انشااللہ اپنے تونسہ اور کوہ سلیمان کے غریبوں کی مدد کیلئے کسی بھی کسر باقی نہیں چھوڑونگا اور (محترمہ راشدہ بھٹہ صاحبہ) نے ایک سوال کے جواب میں کہا میں افسوس سے کہتی ہوں کہ ہمارے تونسہ شریف کے نمائندے جنہیں عوام نے ووٹ دیکر کامیاب بنایا اسمبلیوں تک بھیجا کسی کی حکومت پنجاب میں ہے تو کسی کا مرکز پر براجمانی انہیں عوام کیلئے حکومت اور ڈونرز کی طرف سے بہت بڑی امدادی کھیپ ملا لیکن تونسہ اور کوہ سلیمان کے بد قسمت عوام تک انکے امداد کی سوئ ؟ بھی نہ مل سکا یہ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئ رہنماوں کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے اور انے والے وقت میں یہ عوام میں جاکر کس منہ سے ووٹ مانگتے ہیں جو اس سیلاب کی تباہی کو نظر انداز کرکے روپوش ہیں اور جو رہنما اپنے عوام کو ایک خیمہ تک نہ دے سکا وہ آنے والے وقت میں ہمارے غریب عوام کو کیا دینگے اور اب عوام بھی جاگ چکا ہے پچھہتر سالوں سے پسماندہ رکھنے والے سردار اور خواجگان اتنا ہی نہ کر سکے تو یہ لوگ ہمارے تونسہ اور کوہ سلیمان کو لاہور یا اسلام آباد بھی نہیں بنا سکتے انکے خالی دعووں کا پول سیلاب نے کھول کر رکھ دی ہے
Featured post
کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش
http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201
-
لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگ...
-
یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بش...
-
قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو ...


