Welcome To Tibalnews1. Here Uou Will Find Every Local National News Of DGKhan Taunsa And Koh Suleiman Kn A Blink Of An Eye With All Languages Kinds Of Articles.
Monday, 17 December 2018
بارتھی اور فاضلہ میں ریسکیو سروسز کا آغاز
تونسہ شریف وزیر اعلی کے آبائی علاقہ بارتھی اور فاضلہ کچھ میں ریسکیو سروس کا آغاز
تونسہ شریف. ریسکیو سروس کا افتتاح ڈسٹرکٹ ریسکیو آفیسر ڈاکٹر ناطق حیات غلزئی نے کیا
تونسہ شریف. ریسکیو انچارج تونسہ اسامہ زیشان بھی انکے ہمراہ تھے
تونسہ شریف. قبائلی علاقے جلد مکمل سٹیشن کی تعمیر کا کا شروع ہوگا. ڈاکٹر ناطق حیات
تونسہ شریف. بارتھی اور فاضلہ کے عوام کو رسیکیو تمام سہولتیں میسر کیجاٰئینگی.ریسکیو انچارج اسامہ زیشان
تونسہ شریف. دو ایمبولینس اور چار ریسکیو ہر وقت سٹیشن پر موجود رہیں گے.ڈاکٹر ناطق حیات
تونسہ شریف. میڈیکل ٹیکنیشن اور ڈرایور بھی ہمہ وقت موجود رہیں گے.
Sunday, 16 December 2018
تحصیل کوہ سلیمان اور ھیڈ کوارٹر کے مابین قریبا دوسو کلومیٹر کا وقفہ کیوں
تحصیل کوہ سلیمان کی کشتی ایک بار پھر ہچکولوں میں # ڈی جی خان اور تونسہ شریف کے غربی دامن میں پڑے لاکھوں نفوس پر مشتمل غریب عوام اور درجنوں قبائلی قوموں کی پہچان کوہ سلیمان جو کہ کچھ عرصہ قبل تحصیل ٹرائیبل ایریا کے نام سے منسوب تھا ان دور دراز علاقے کے عوام کو مشکلات سے بچنے کیلئے اس علاقے کو الگ تحصیل کا درجہ دیا گیا تھا لہذا اس تحصیل میں تمن بزدار تمن قیصرانی تمن کھوسہ اور تمن لیغاری کے اکثر آبادی شامل ہے جسے الگ تحصیل سابق صدر اور چیف آف آرمی سٹاف جرنل پرویز مشرف کے دور میں بنایا گیا تھا جو دو ہزار تیرہ کے الیکشن کے بعد ختم کر دی گئ جو ایک بار پھر دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں تمن بزدار کے سردار سردار عثمان خان بزدار کے کامیابی اور چیف منسٹر پنجاب بننے کے بعد ان بے بس قبائلی عوام کو اپنے کامیابی کا شمع جلتا ہوا نظر آرہا تھا اور ان مظلوم قبائلیوں نے اپنے دشوار گزار علاقے اور آنے والے مستقبل کیلئے بہت سے سہارے اپنے دل میں لیئے بیٹھے تھے جو عثمان خان بزدار کے سر پر سی ایم پنجاب کا سہرا اور عوام کو درپیش مشکلات سے نکلنے کا سہارا لیا ہوا تھا ان قبائلی عوام کو اپنے ستر سالوں کے طویل دکھوں کا مداوا ختم ہوتے ہوئے نظر آنے لگے تھے اپنے علاقے اور اپنے بچوں کی کامیابی کیلئے پرجوش قبائلی عوام کافی خوش نظر آتے تھے جو آجکل دھندلا دھندلا سا نظر آنے لگا اور ٹرائیبل ایریا کے بیچارہ مظلوم عوام کے امیدیں دم توڑتے ہوئے نظر آنے لگی ہیں چیف منسٹر پنجاب سردار عثمان خان بزدار کا گزشتہ ہفتے اپنے آبائ علاقہ بارتھی کے دورہ کے دوران تحصیل ٹرائیبل کوہ سلیمان کا اعلان کرکے عوام کے دل تو جیتے لیکن دو دن سے جاری تحصیل کوہ سلیمان کی نوٹیفکیشن نے ایک بار پھر ہنگامہ کھڑا کر دیا نوٹیفکیشن میں صاف لکھا ہے تحصیل کا ہیڈ کواٹر ڈیرہ غازیخان ہوگا جوکہ ان کوہ سلیمان کے غریب باسیوں کیلئے ڈیرہ غازیخان کا ہیڈ کواٹر کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی اس تحصیل کا بارڈر جنوب میں وہوا جنوب مغرب سے صوبہ بلوچستان کا ضلع موسی خیل ٹچ کرتا ہے ان بیروزگار اور غریب عوام کیلئے ڈیرہ غازیخان جانا کسی صورت برداشت سے باہر ہے جو کہ پہلے سے ان قبائلی عوام کے کام تحصیل تونسہ سے ہوا کرتے ہیں جو انہی علاقوں سے پچاس سے ساٹھ کلومیٹر کا فاصلہ بنتا ہے اگر تحصیل کوہ سلیمان کے ہیڈ کواٹر ڈیرہ غازیخان منتقل کر دی گئ تو ان بیچارہ عوام کو120سے 140کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑیگا جو کہ نہایت ظلم
اور زیادتی کا باعث بنیگا گزشتہ روز اتفاقا یکجا بزدار عوام کے بہت سے قبائلی عمائدین عوامی مجمے سے ملاقات ہوئ جن کے زبان پر ایک ہی لفظ سننے کو ملا سی ایم پنجاب عثمان خان بزدار کو چاہئیے ہمیں ہمارا حق دیں اگر دے نہیں سکتے تو چھیننا نہیں چاہئیے تحصیل کوہ سلیمان کے لاکھوں عوام بڑوں بچوں بوڑھوں کو اپنے گھر اور در سے گھسیٹ کر ڈیرہ غازیخان تک مت لے جائیں یا تو پھر ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دو یا ہمارے حال پر ترس کرو پی ٹی آئ حکومت کہتی تو ہے ہم عوام کے حقوق عوام کے دہلیز تک پہنچائیں گے ہم کوہ سلیمان کے قبائلی مظلوم غریب بے بس عوام کا دہلیز کے حقوق تو دور کی بات اس صورت حال میں غریب عوام کا دہلیز بھی چھیننا جارہا ہے جو کہتے تھے لاہور نے ہمیں پسماندہ رکھا اب یہ بات الٹ نظر آنے لگا ہے بیماری اپنی جان سے پیدا ہوتا ہے علاج بھی خود کرنا پڑتا ہے ہمیں اجالا تو نظر نہیں آتا نوالا چھینا ہوا ضرور دیکھنے کو مل رہا شکواہ نہیں کسی سے کسی سے گلہ نہیں قسمت میں نہیں تھا جو وہ ہمیں ملا نہیں
Tuesday, 13 November 2018
بلوچوں کے گم شدہ ہزاروں افراد کا کوئ پتہ نہیں پنجاب میں چرائے گئے کیلے والے پچےکے ساتھ وفاقی وزہر کی ہمدردی
افسوس پاکستان میں اپنے عوام کے ظلم اور مساوی برتری ایک طرف پنجاب میں مظاھروں میں ایک پھل فروش بچے کے پھلوں کو کھانے اور نقصان کرنے پر وزیر موصوف نے اس بچے کو میڈیا پر لاکر پورا دنیا کو دکھایا کہ اسکے ساتھ یہ ظلم ہوا ہے ہم بہی اس واقعہ کا مزمت کرتے ہیں نہی ہونا چاھئے لیکن
دوسری طرف بلوچستان کی یہ معصوم بلوچ بچی جسکے بھائی دن کے روشنی .میں غائب ہوگئے
اسکے لئے کسی ٹی وی چینل نے لائیو کورج نہی کی کوئی اسکا تکلیف پوچھنے.نہی آیا معلوم ھے کیوں ؟؟؟
کیونکہ اس بچی کا تعلق پنجاب سے نہی بلکہ بلوچستان سے ہیں اور اس کیمپ میں بیٹھے ان بہنوں کا تعلق بہی پنجاب سے نہی بلوچستان سے ہیں جنکے پیارے غائب ہیں
پھر اتنا دور بلوچستان میں
حکومت وزراء میڈیا کیوں انکے پاس جاتے ؟
اسرائیلی جارحیت کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع
لاہور # اسرائیلی جارحیت کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع ہوگئی، پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی کنول لیاقت ایڈووکیٹ نے قرارداد جمع کرائی۔
یہ بھی لازمی پڑھیں: غلطی کسی کی، سزا کا مستحق کوئی اور ۔۔۔
ایڈووکیٹ کنول لیاقت نے قرارداد جمع کراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں ظلم، بربریت اور اسلام دشمنی کی تاریخ رقم کی ہے، جو انسانیت سوزی کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نےکہا کہ اسرائیلی حملوں سے نہتے مسلمان اور معصوم بچے شہید ہوتے ہیں، پنجاب اسمبلی کا ایوان اسرائیلی ظالمانہ رویے اور گھناؤنے جرم کی بھر پور مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عالمی عدالت انصاف پر زور ڈالا جائے کہ اسرائیل کو انسانیت سوز کارروائیوں سے باز رہنے کی تنبیہ کی جائے بصورت دیگر سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔
اسرائیلی جارحیت کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع
لاہور # اسرائیلی جارحیت کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع ہوگئی، پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی کنول لیاقت ایڈووکیٹ نے قرارداد جمع کرائی۔
یہ بھی لازمی پڑھیں: غلطی کسی کی، سزا کا مستحق کوئی اور ۔۔۔
ایڈووکیٹ کنول لیاقت نے قرارداد جمع کراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں ظلم، بربریت اور اسلام دشمنی کی تاریخ رقم کی ہے، جو انسانیت سوزی کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نےکہا کہ اسرائیلی حملوں سے نہتے مسلمان اور معصوم بچے شہید ہوتے ہیں، پنجاب اسمبلی کا ایوان اسرائیلی ظالمانہ رویے اور گھناؤنے جرم کی بھر پور مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عالمی عدالت انصاف پر زور ڈالا جائے کہ اسرائیل کو انسانیت سوز کارروائیوں سے باز رہنے کی تنبیہ کی جائے بصورت دیگر سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔
Monday, 5 November 2018
پاکستان کے کوہ پیماؤں کی روداد
پاکستانی کوہ پیما: ’پہاڑوں کے بادشاہ‘ مگر اعتراف سے محروم
نیپال کے شرپا کہلانے والے لوگ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے غیر ملکی کوہ پیماؤں کے ہمراہ ان کا سامان لے کر چلتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے پہاڑی سلسلوں کی بلند چوٹیوں کو سر کرنے کے شوقین ملکی اور غیرملکی کوہ پیماؤں کو مقامی پہاڑی یا کوہستانی افراد کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ شرپا ہوں یا پاکستان کے کوہستانی، یہ حضرات اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر مہم جوئی کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔
اس خطرناک سفر میں کئی افراد نے شدید برفانی موسموں میں اپنی جانیں بھی ضائع کی ہیں اور کئی ایک کو تو عمر بھر کی معذوری کا بھی سامنا رہا ہے۔ ایسے جری مہم جو افراد میں سے ایک فضل علی بھی ہیں، اور یہ دنیا کے واحد شخص ہیں، جنہوں نے تین مرتبہ کے ٹو کی چوٹی سر کی ہے۔ کے ٹو نامی چوٹی کو ’ہلاکت خیز پہاڑ‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے کیونکہ اس کی بلندی تک پہنچنے والا کوئی بھی راستہ آسان نہیں ہے۔
پاکستانی کوہ پیما فضل کریم کے ٹو کی مہم جوئی کے دوران سن 2008 میں ہلاک ہو گئے تھے
اس وقت چالیس برس کی عمر کے فضل علی کو کوہ پیمائی کرتے ہوئے بیس برس ہو گئے ہیں۔ کوہ پیماؤں کے ہمراہ پہاڑی راستوں پر سامان برداری اور رہنمائی کرنا اُن کا پیشہ ہے۔ انہوں نے کے ٹو کو سن 2014، 2017 اور 2018 میں سر کیا ہے۔ وہ کے ٹو کی انتہائی خطرناک ڈھلانوں پر مختصر سی جگہ پر غیر ملکی کوہ پیماؤں کے لیے کھانا پکانے کے علاوہ کسی تنگ درے یا راستے کے برفباری کے باعث بند ہو جانے کے بعد کسی دوسرے راستے سے متعلق معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔
گِنیس ورلڈ ریکارڈ کے ایبرہارڈ ژُورگالسکی کا کہنا ہے کہ کوہ پیمائی کے شعبے میں فضل علی واحد مہم جو ہیں، جنہیں ’سفاک پہاڑ‘ کے ٹو کو تین مرتبہ سر کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ دنیا کے پیشہ ور مہم جو افراد میں فضل علی کو ایک معتبر حوالے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستانی کوہ پیماؤں کی مدد کرنے والی کمیونٹی میں بھی ان کو بہت تکریم حاصل ہے۔
ایک بلند پاکستانی چوٹی کو سر کرنے والے کوہ پیماؤں کا خیمہ
گِنیس بُک آف ورلڈ ریکارڈز میں اپنا نام شامل کیے جانے پر فضل علی نے مسرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے تاسف کے ساتھ کہا کہ ملک کے اندر اُن کے اس اعزاز کو کبھی بھی کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر ملکی کوہ پیما بھی ابتدا میں بہت وعدے کرتے ہیں، لیکن کام نکل جانے کے بعد وہ بھی اُن جیسے افراد کو بھول جاتے ہیں۔ علی کے مطابق غیر ملکی کوہ پیما اُن کی رہنمائی میں چوٹیاں سر کرتے ہیں اور بلندی پر پہنچ کر اپنی تصویریں اکیلے بنواتے ہیں، جو حقیقت سے انکار کے برابر ہے۔
پاکستان کا شمالی پہاڑی علاقہ تین پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے ملاپ کی جگہ بھی ہے۔ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے تین اسی علاقے میں واقع ہیں۔ کے ٹو ان میں سے ایک ہے، جس کی بلندی 8611 میٹر( 28251 فٹ) ہے۔
Featured post
کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش
http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201
-
لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگ...
-
یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بش...
-
قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو ...