Friday, 30 January 2026

کوہ سلیمان؟؟ چوکیوالا سے چھپر روڈ کا کام گزشتہ دو سال بند کیوں جانیئے اس رپورٹ میں



بینظیر انکم سپورٹ میں 8 سے بائیس کے طالبات کیلئے رجسٹریشن کا عمل شروع جاننے کیلئے ڈیسک انفارمیش

لہور)ا( ٹرائیبل نیوز) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے 8 سے 22 سال کے طلبہ کیلئے تعلیمی وظائف کی رجسٹریشن کا آغاز کر 
دیا ہے۔
 👇مزید 
http://tnnurdu.blogspot.com 

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے ملک بھر میں تعلیمی وظائف کیلئے رجسٹریشن کھول دی ہے جس کا مقصد کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں سہولت فراہم کرنا اور باصلاحیت طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

حکام کے مطابق والدین یا سرپرست اپنے بچوں کو قریبی بی آئی ایس پی دفتر میں رجسٹر کرا سکتے ہیں، رجسٹریشن کے لیے بچے کا بی فارم اور ایسا موبائل نمبر لازم ہے جو پہلے سے بی آئی ایس پی میں درج ہو، متعلقہ افسر اندراج مکمل کرنے کے بعد ایک پرچی جاری کرے گا جو بچوں کے اسکول میں تصدیق کے لیے جمع کروانی ہوگی، تصدیق کے بعد یہ پرچی دوبارہ بی آئی ایس پی دفتر میں جمع کروائی جائے گی۔

تعلیمی وظائف کے لیے وہ بچے اہل ہونگے جن کی والدہ بینظیر کفالت پروگرام میں شامل ہو، عمر کی حد پرائمری کے لیے 8 سے 18 سال، سیکنڈری کے لیے 13 سے 22 سال مقرر کی گئی ہے، طلبہ کے لیے اسکول میں کم از کم 70 فیصد حاضری لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ اسکول کی تبدیلی کی صورت میں بی آئی ایس پی کو آگاہ کرنا ضروری ہوگا۔

ذرائع کے مطابق وظائف کی رقم 3 ہزار سے 5 ہزار روپے تک ہوگی جبکہ پرائمری تعلیم مکمل کرنے والی طالبات کو اضافی 3 ہزار روپے بطور خصوصی ترغیب دیے جائے گے، بی آئی ایس پی کے مطابق یہ اقدام نہ صرف تعلیم کے فروغ بلکہ بچیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کرے گا۔


Saturday, 27 December 2025

قائد اعظم محمد علی جناح کے آخری لمحات جو قوم کیلئے ہمیشہ باعث ندامت رہیگا

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح صاحب کے آخری لمحات کی منظر کشی جو کتابوں میں لکھی جا چکی ہیں 💔
اسٹینلے ولپرٹ (Stanley Wolpert) ایک نامور امریکی ماہرِ تعلیم،مورخ اور مصنف تھے،جنہیں برصغیر پاک و ہند کی تاریخ اور خاص طور پر قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی پر ان کی تحقیق کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل ہوئی تھی ۔
انہوں نے Jinnah of Pakistan نامی کتاب لکھی جس میں انہوں نے بہت واقعات درج کئے ہیں ۔
کچھ صفحات آپ کے سامنے رکھتے ہیں ۔

"فاطمی مجھے اب زندہ رہنے میں دل چسپی نہیں ہے۔
جتنا جلد میں چلا جاؤں اتنا ہی بہتر ہے۔
اس سے اب کوئی فرق نہیں پڑتا میں زندہ رہوں یا مر جاؤں۔
جناح صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
وہ ایک ایسے شخص تھے جسے عام طور پر غیر جذباتی اور مضبوط سمجھا جاتا تھا۔
جذبات کے اس مظاہرہ سے ہم سب  حیرت زدہ رہ گئے۔
میں تجربہ سے جانتا تھا کہ جب ایک مریض ہمت ہار دے تو کوئی علاج چاہے کتنا ہی بھر پور کیوں نہ ہو زیادہ کامیاب نہیں ہو سکتا اور اس لیے یہ بات جان کر  کہ اس آہنی قوت ارادی کے شخص نے ہمت ہار دی تھی۔
سخت مایوسی ہوئی۔

ستمبر کے آغاز تک جناح کو نمونیا کے علاوہ تب دق اور پھیپھڑوں کا سرطان بھی ہو چکاتھا۔
ان کا بخار سو درجہ تھا.وزن صرف ستر پونڈ (35 کلو گرام)رہ گیا تھا. ان کی نبض غیر معمولی طور پر تیز اور بے ربط ہوگئی تھی.
ان کی حرکتِ قلب بے ترتیب ہو چکی تھی.سانس لینے کے لیے انھیں آکسیجن کی ضرورت تھی.کراچی سے ڈاکٹر ایم اے مستری کو کوئٹہ بلا بھیجا گیا. ڈاکٹر مستری نے معائنہ کے بعد کہا
اب کچھ نہیں رہ گیا.
جناح کو بے آرامی سے بستر پر کروٹیں لیتے ہوئے یہ کہتے سنا گیا.
کشمیر کمیشن کے ساتھ آج میرا اپائنمنٹ تھا
وہ کیوں نہیں آئے. کہاں ہیں وہ.

جناح صاحب کو اب واپس کراچی لے جانا تھا.کیونکہ وہ جس مقصد سے کوئیٹہ زیارت آئے تھے 
اب مزید اس کی ضرورت نہ تھی. جناح صاحب کو 11 ستمبر 1948 دوپہر دو بجے"ڈکوڈا" ہوائی جہاز سے کوئٹہ سے کراچی لے جانا تھا۔
جب انھیں اسٹریچر پر لٹا کر جہاز کی طرف لے جایا جانے لگا.
جہاز کے عملہ نے ایک طرف قطار میں کھڑا ہو کر انھیں سلیوٹ کیا.
جواب میں انھوں نے  نقاہت سے اپنا ہاتھ بلند کیا.ایک بستر جہاز میں لگا دیا گیا.
فاطمہ جناح، ڈاکٹر مستری اور نرس سسٹر ڈنہم قریب بیٹھ گئے. آکسیجن سلنڈر اور گیس ماسک تیار تھا.
جہاز فضا میں بلند ہوا.کوئی دو گھنٹے کی پرواز کے بعد شام 4 بجکر 10 منٹ پر ماڑی پور اترا.
یہ وہی ہوائی اڈا تھا جہاں آج سے ایک سال سے کچھ عرصہ  پہلے بھی اترے تھے، امیدواعتماد سے بھر پور کہ وہ پاکستان کو ایک عظیم مملکت بننے میں مدد دیں گے۔
تب  ہزاروں افراد انھیں خوش آمدید کہنے آئے تھے.
مگر آج یہاں کوئی بھی نہ تھا.
ہدایت کے مطابق جناح  صاحب  کی آمد کو خفیہ رکھا گیا تھا۔
جہاز سے باہر رن وے پر ایک ملٹری ایمبولنس کھڑی تھی.جسے جناح کے ملٹری سیکرٹری کرنل نول لے کر آئے تھے۔
جناح کے اسٹریچر کو ایمبولنس کے پچھلے حصہ میں رکھا گیا.
جہاں مس فاطمہ جناح، نرس سسٹر ڈنہم بیٹھیں. ڈاکٹر مستری پیچھے جناح کی نئی کیڈلاک کار میں تھے. کوئی چار یا پانچ میل کا فاصلہ طے کر کے ایمبولینس کے انجن نے کچھ آواز نکالی اور وہ رک گئی پانچ منٹ بعد فاطمہ جناح باہر نکلیں کہ ایمبولینس کیوں رک گئی ہے ؟
انھیں بتایا گیا کہ ایمبولینس میں پٹرول ختم ہو گیا ہے.
مگر ڈرائیور انجن میں الجھا ہوا تھا. ماحول میں ایک حبس تھا.جان لیوا گرمی پڑ رہی تھی. مکھیاں جناح صاحب کی چہرے پر بھنبھنا رہی تھیں.جناح صاحب میں اتنی سکت نہیں تھی کہ اپنے ہاتھ سے انھیں ہنکا سکیں. سسٹر ڈنہم اور فاطمہ جناح انھیں باری باری پنکھا جھلتی رہیں. اور
دوسری ایمبولینس کا انتظار کرتی رہیں.ہر منٹ اذیت کا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا💔
ڈاکٹر مستری کار سے باہر نکلے کہ دیکھیں جناح صاحب کی کیا کیفیت ہے؟ وہ یہ جان کر دہشت ذدہ رہ گئے کہ جناح صاحب کی بنض بدستور ڈوبتی جا رہی تھی
وہ بھاگ کر گرم چائے کا تھرموس اٹھا لایا. مس جناح نے انھیں ایک کپ گرم چائے پلائی.یہ کتنا بڑا المیہ تھا کہ ہوائی جہاز کا سفر کرنے کے باوجود یوں ہی سڑک کے کنارے بابائے قوم و گورنر جنرل پاکستان کو دم توڑنا پڑے گا.قریب ہی مہاجروں کی سینکڑوں جھونپڑیاں بنی ہوئی تھیں.جنھیں پتہ نہ تھا کہ جس ہستی نے ان کے لیے پاکستان بنایا وہ آج یہاں یوں سڑک کے کنارے زمانے کے رحم و کرم پر بے بس پڑی ہے.
پاس سے ہارن بجاتی گزرتی کاریں انھیں نہیں پتہ کہ سڑک کے کنارے جو ایمبولینس کھڑی ہے اس میں بابائے قوم موجود ہیں اور بے یار و مدد گار پڑے ہیں.ٹرک بھی آتے گڑگڑاتے گزر جاتے.ایمبولینس کا ڈرائیور انجن کو مرمت کرنے پر لگا ہوا تھا. اور ایک گھنٹہ گزر جانے کے بعد ‏بھی تسلیاں دے رہا تھا.
بس بس ابھی ٹھیک ہو جاتا ہے🤔
ہوائی اڈے سے وزیر منشن (کھار ادر) پہنچنے میں جتنا وقت لگا اتنا وقت کوئٹہ سے بذریعہ ہوائی جہاز کراچی پہنچنے میں نہیں لگا تھا.
خیر جناح صاحب اپنے گھر پہنچ کر کوئی دو گھنٹہ سکون سے سوئے.
پھر انھوں نے آنکھیں کھولیں
اور سرگوشی میں پکارے" فاطمی". سنتے ہی فاطمہ جناح قریب آئیں  کہ 11ستمبر 1948رات 10 بجکر 20 منٹ پر جناح صاحب کا سر داہنی طرف لڑھک گیا.
فاطمہ جناح یہ نظارہ دیکھ کر چیخ   پڑیں
ڈاکٹر مستری بھاگے آئے اور فاطمہ جناح نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ بابائے قوم کو سر سے پاؤں تک سفید چادر سے ڈھانپا جا رہا ہے. فاطمہ جناح یہ منظر برداشت نہ کر سکیں بے ہوش کر زمین پر گر پڑیں. 

قائدِ اعظم 11ستمبر1948
 رات 10 بجکر 20 منٹ پر انتقال فرما گئے۔ 
انا للّٰه وانا الیہ راجعون 
ایک سادہ کفن میں لپیٹ کے،
انھیں اگلے دن کراچی میں دفن کر دیاگیا۔
(جناح فادر آف دی نیشن)
 اسٹینلے ولپرٹ، صفحہ411۔ 413 
#tribalnews1 #Babayqome
#highlights #allfollowers #Historically #foryou #pakistan 

Thursday, 22 May 2025

بد ترین وحشت و دہشت کفار کنٹریز میں مگر بدنام پاکستان کو کیوں کیا جاتا ہے



دنیا میں فحاشی کے لحاظ سے سرفہرست دس ممالک کی غالب مذہب

1. تھائی لینڈ – (بدھ مت)

2. ڈنمارک – (عیسائیت)

3. اٹلی – (عیسائیت)

4. جرمنی – (عیسائیت)

5. فرانس – (عیسائیت)

6. ناروے – (عیسائیت)

7. بیلجیم – (عیسائیت)

8. اسپین – (عیسائیت)

9. برطانیہ – (عیسائیت)

10. فن لینڈ – (عیسائیت)

دنیا میں چوری کی شرح کے لحاظ سے سرفہرست دس ممالک اور ان کی غالب مذہب:

1. ڈنمارک اور فن لینڈ – (عیسائیت)

2. زمبابوے – (عیسائیت)

3. آسٹریلیا – (عیسائیت)

4. کینیڈا – (عیسائیت)

5. نیوزی لینڈ – (عیسائیت)

6. بھارت – (ہندومت)

7. انگلینڈ اور ویلز – (عیسائیت)

8. امریکا – (عیسائیت)

9. سویڈن – (عیسائیت)

10. جنوبی افریقہ – (عیسائیت)

دنیا میں شراب نوشی کی شرح کے لحاظ سے سرفہرست ممالک اور ان کی غالب مذہب:

1. مالڈووا – (عیسائیت)

2. بیلاروس – (عیسائیت)

3. لیتھوینیا – (عیسائیت)

4. روس – (عیسائیت)

5. چیک ریپبلک – (عیسائیت)

6. یوکرین – (عیسائیت)

7. انڈورا – (عیسائیت)

8. رومانیہ – (عیسائیت)

9. سربیا – (عیسائیت)

10. آسٹریلیا – (عیسائیت)

دنیا میں قتل کی بلند شرح والے ممالک اور ان کی غالب مذہب:

1. ہونڈوراس – (عیسائیت)

2. وینزویلا – (عیسائیت)

3. بیلیز – (عیسائیت)

4. ایل سلواڈور – (عیسائیت)

5. گوئٹے مالا – (عیسائیت)

6. جنوبی افریقہ – (عیسائیت)

7. سینٹ کٹس – (عیسائیت)

8. بہاماس – (عیسائیت)

9. لیسوتھو – (عیسائیت)

10. جمیکا – (عیسائیت)

دنیا کی چھ خطرناک ترین گینگوں کی مذہبی شناخت:

1. یاکوزا – جاپان (لا مذہبی)

2. اگبیرس – نائجیریا (عیسائیت)

3. واہ سینگ وُو – ہانگ کانگ / چین (بدھ مت)

4. جمیکا بوس – جمیکا (عیسائیت)

5. پی سی سی – برازیل (عیسائیت)

6. آرین برادرہڈ – امریکا (انتہا پسند سفید فام عیسائیت)

دنیا کے سب سے بڑے منشیات فروشوں کی قومیت اور مذہب:

1. پابلو ایسکوبار – کولمبیا (عیسائی)

2. آمادو کاریو – میکسیکو (عیسائی)

3. کارلوس لیدر – کولمبیا (عیسائی)

4. گریسیلڈا بلانکو – کولمبیا (عیسائی)

5. خواکین گوزمان (ال چاپو) – میکسیکو (عیسائی)

6. رافائیل کارو – میکسیکو (عیسائی)

پھر بھی ہمیں کہا جاتا ہے کہ اسلام دنیا میں دہشت گردی اور تشدد کا سبب ہے، اور ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم اس پر یقین کریں؟

مسلمانوں نے پہلی عالمی جنگ شروع نہیں کی، بلکہ یہ مغربی سیکولر عیسائیوں کی پیدا کردہ تھی

مسلمانوں نے دوسری عالمی جنگ بھی شروع نہیں کی، وہ بھی مغرب ہی نے بھڑکائی

آسٹریلیا کے بیس ملین مقامی باشندوں کا قتل مسلمانوں نے نہیں کیا، بلکہ وہ لوگ تھے جو "محبت کے دین" کے پیروکار تھے۔

جاپان کے دو شہروں (ہیروشیما اور ناگاساکی) پر ایٹمی بم گرانے والے بھی مسلمان نہیں تھے

جنوبی امریکا میں ایک کروڑ سے زائد ریڈ انڈینز کے قاتل بھی مسلمان نہیں تھے بلکہ "امن کا پیغام" لے کر آئے ہوئے عیسائی مبلغ تھے۔

شمالی امریکا میں پانچ کروڑ ریڈ انڈینز کا قتل بھی مسلمانوں نے نہیں کیا

افریقہ سے 18 کروڑ افراد کو غلام بنا کر لے جانے والے بھی مسلمان نہیں تھے بلکہ وہی تھے جو آزادی اور لبرل ازم کے نعرے لگاتے ہیں

مسلمان دہشت گرد نہیں
بلکہ دہشت گردی کی تعریف ہی مغرب کی طرف سے امتیازی اور جانبدار ہے۔

اگر کوئی غیر مسلم حملہ کرے تو وہ ایک "انفرادی جرم" کہلاتا ہے
Www.Facebook.com/Tribalnews
لیکن اگر کوئی مسلمان کسی حملے میں ملوث ہو، تو اُسے فوراً دہشت گردی قرار دے دیا جاتا ہے
چاہے وہ اپنے دین اور امت کے دفاع میں ہی کیوں نہ ہو

ایف بی آئی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق
1980 سے 2005 کے درمیان امریکا میں ہونے والے حملوں میں
صرف 6 فیصد حملے مسلمانوں سے منسوب تھے
جبکہ یہودیوں سے 7 فیصد
لیکن ان پر میڈیا نے کبھی توجہ نہیں دی

لہٰذا ہمیں دوہرے معیارات چھوڑنے ہوں گے
تبھی ہم اسلام کی اخلاقی بلندی اور عدل کو دنیا کے سامنے درست انداز میں پیش کر سکیں گے

اس پیغام کو خود تک محدود نہ رکھیں
اس سچائی کو دوسروں تک بھی پہنچائیں،
کیونکہ میڈیا کی طاقت دولت اور مفاد پرستی نے
اسلام کی تصویر کو مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی

اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ
ہماری ہی قوم کے کچھ منافق اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں

یہ دراصل اسلام کے خلاف ایک جنگ ہے
اور ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو اس حقیقت سے خبردار کریں
جتنے ممکن ہوں اور جتنے وسائل ہمارے پاس ہوں
Https://YouTube.Com/Bolkohesuleman1 
اور آخر میں فخر سے کہیں

میں مسلمان ہوں اپنے دین پر فخر ہے اور اپنی امت اور اس کی جدوجہد پر مجھے ناز ہے

اور اللہ کے محبوب نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا نہ بھولیں۔

Tuesday, 29 April 2025

پورن انٹرٹینمنٹس ( فحاشی پھیلانے کے نئے طریقے ) 2025 میں بہت کچھ بدل گیا حیران کر دینے والے حقائق

پورن انٹرٹینمنٹس ( فحاشی پھیلانے کے نئے طریقے )
2025 میں بہت کچھ بدل گیا حیران کر دینے والے حقائق 


شیطانی جال میں جکڑی انسانیت کا نوحہ

کبھی کبھی انسانیت خود اپنے ہاتھوں سے اپنی بنیادیں کھوکھلی کر لیتی ہے۔
آج ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں "پورن انٹرٹینمنٹ" نے تفریح کی شکل بدل کر تباہی کا عفریت بن لیا ہے۔
یہ محض فلمیں یا تصاویر نہیں، بلکہ ایک ایسا نفسیاتی ہتھیار ہے جس نے نسلِ انسان کو اپنی جڑوں سے کاٹنا شروع کر دیا ہے۔

1. جدید پورن انٹرٹینمنٹ کے مہلک طریقے (2025 کی صورتحال)

VR پورن (Virtual Reality):
اب صرف اسکرین پر نہیں، بلکہ تھری ڈی عینکیں لگا کر انسان "خود کو عمل میں موجود" محسوس کرتا ہے۔
دماغ اور جسم کو اتنا گمراہ کر دیا جاتا ہے کہ حقیقت اور فریب کا فرق مٹنے لگتا ہے۔

AI Generated پورن:
مصنوعی ذہانت اب ایسی ویڈیوز بنا رہی ہے جن میں حقیقی انسانوں کی شکلیں ڈال کر جعلی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں۔
نجی زندگی تباہ، شہوت کی آگ مزید بھڑکائی جاتی ہے۔

ہولوگرام پورن:
ہولوگرام پروجیکشنز کے ذریعے پورن اداکار یا منظر حقیقت میں کمرے کے اندر موجود لگتے ہیں،
اور انسان حقیقی تعلقات سے مزید دور ہو جاتا ہے۔

بچوں کو نشانہ بنانے والا مواد:
نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انٹرنیٹ پر کم عمر بچوں کو بھی ٹارگٹ کر کے ان کے ذہن کو آلودہ کیا جا رہا ہے۔

گیمز میں پورنوگرافک مواد:
عام ویڈیو گیمز میں چھپے ہوئے فحش مناظر، کرداروں کے غیر اخلاقی لباس، اور جسمانی تحریک انگیزی معمول بن گئی ہے۔

ڈیپ فیک پورن:
دشمنی یا تفریح کے نام پر خواتین کی تصاویر لے کر انہیں پورن ویڈیوز میں تبدیل کر دیا جاتا ہے،
جس سے معاشرتی عزت خاک میں مل رہی ہے۔

2. 2025 میں انسانیت کن شیطانی مسائل میں مبتلا ہے؟

نکاح سے فرار، زنا میں اضافہ:
نکاح کو مہنگا اور مشکل بنا دیا گیا، زنا کو آسان اور سستا۔
سوشل میڈیا، ڈیٹنگ ایپس اور فحش ویب سائٹس نے پاکیزگی کا جنازہ نکال دیا۔

ذہنی و روحانی مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد:
ڈپریشن، انگزائٹی، بے مقصدیت، خودکشی کی کوششیں، "میں کچھ نہیں ہوں" کا احساس —
یہ سب پورن کے دائمی اثرات میں شامل ہو چکے ہیں۔

معاشرتی تعلقات کی بربادی:
شوہر بیوی سے بے رغبت، بیوی شوہر سے بدظن۔
والدین اور بچوں کے درمیان حیا کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔

معاشی تباہی:
پورن انڈسٹری کھربوں ڈالر کا کاروبار بن چکی ہے، جبکہ قومیں فقر و افلاس میں ڈوب رہی ہیں۔

معاشرتی جرائم میں اضافہ:
ریپ، حراسانی، کم عمر بچوں کے ساتھ بدسلوکی — یہ سب اسی فحش تفریح کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔

3. قرآن و سنت کا پیغام:

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> "إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ"
(سورۃ النور: 19)

"جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں فحاشی پھیل جائے، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

> "حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے۔"
(بخاری)

4. طبِ قدیم اور قانونِ مفرد اعضاء کی روشنی میں:

حکیم دوست محمد صابر ملتانیؒ فرماتے ہیں:

> "جنسی خواہشات میں بے اعتدالی حرارتِ غریزی کو زائل کر کے
نہ صرف جسمانی بیماریوں کا دروازہ کھولتی ہے بلکہ روحانی بگاڑ کا سبب بھی بنتی ہے۔"

قانونِ مفرد اعضاء کی بنیاد کہتی ہے:

اعصاب (Nerves) کا حد سے زیادہ تحریک میں آ جانا → سسٹم کی تباہی

عضلات (Muscles) میں کمزوری اور جمود

غدد (Glands) کا سکڑاؤ اور ہارمونی عدم توازن

نتیجہ: جسمانی، ذہنی اور روحانی موت

5. آیورویدک تعلیمات:

آیوروید کہتا ہے:

> "اوہج (Ojas) کے ضیاع سے انسان کا جسم، عقل، اور قوت مدافعت تباہ ہو جاتی ہے۔
جنس کا غلط استعمال عمر کو گھٹا دیتا ہے۔"

6. موجودہ علاج اور بچاؤ:

روحانی علاج:
قرآن کی تلاوت، استغفار، نمازِ تہجد، دعا

طبی علاج:

حجامہ اور فصد

جڑی بوٹیاں: سلاجیت، اسگندھ، تخم بالنگا، ستاور، تخم ریحان

غذا: خون اور رطوبت بڑھانے والی قدرتی غذائیں

نفسیاتی علاج:

ڈیجیٹل ڈیٹوکس

سوشل میڈیا کا محدود استعمال

جسمانی مشقت اور ورزش

معاشرتی اقدامات:

نکاح کو آسان بنانا

والدین کا تربیتی کردار

تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم

7. حکیم محمد رضوان الحق سعید منگول کا پیغام:

> "شیطان کی سب سے بڑی چال یہی ہے کہ برائی کو تفریح بنا کر پیش کرے۔
اگر تم نے اپنے دل کو اللہ کے نور سے روشن نہ کیا، تو تمہاری جوانی شیطان کی نذر ہو جائے گی۔"

آخر میں!

آج ہم جس دلدل میں پھنس چکے ہیں، وہاں صرف ایک انقلاب ہی ہمیں بچا سکتا ہے:
حیا، حیاتی توانائی، روحانیت اور طبِ قدیم کا احیاء۔

آئیے!

اپنے دل و نگاہ کو پاک کریں

اپنی نسلوں کو بچائیں

فحاشی اور شہوت کے اس عفریت کے خلاف علم کا پرچم بلند کریں

سوال برائے قارئین:

کیا آپ نے کبھی اپنی زندگی میں ایسا لمحہ محسوس کیا جب آپ نے حیا کی روشنی کو اپنی روح میں محسوس کیا ہو؟
نیچے کمنٹس میں اپنی رائے اور تجربات شیئر کریں۔
اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، شاید آپ کا ایک شیئر کسی کی زندگی بدل دے۔

#انسانیت_کا_نوحہ
#حیاء_کا_پیغام
#پورن_تباہی_کا_راستہ
#طب_قدیم_کا_احیاء
#حکیم_رضوان_الحق
#اپنے_جوانی_بچاؤ
#اسلام_کا_نظام_زندگی
#پورن_انٹرٹینمنٹ_کا_فساد #Pornography_Corruption
#شیطانی_دلدل #Satanic_Swamp
#انسانیت_کا_زوال #Humanity_in_Decline
#جوانی_کا_تحفظ #Protect_Your_Youth
#اسلامی_طبی_تحقیق #Islamic_Medical_Research
#قانون_مفرد_اعضاء #Qanoon_Mufrad_Aaza
#طب_قدیم_اور_نئی_سچائیاں #Ancient_and_Modern_Medicine
#ذہنی_اور_روحانی_تباہی #Mental_and_Spiritual_Destruction
#فطرت_کی_طرف_واپسی #Return_to_Nature
#حکمت_کا_پیغام #Message_of_Hikmah
#جدید_فتنے #Modern_Fitnah
#نوجوانوں_کی_بیداری #Youth_Awakening
#معاشرتی_انحطاط #Social_Decay
#دیسی_علاج #Desi_Remedies
#نفسیاتی_صحت #Mental_Health
#روحانی_نجات #Spiritual_Salvation
#قرآنی_رہنمائی #Quranic_Guidance
#سنت_کا_احیاء #Revival_of_Sunnah
#انٹرنیٹ_کا_شیطانی_استعمال #Satanic_Use_of_Internet
#2025_کا_فساد #Corruption_of_2025

Friday, 26 January 2024

بزدار سردار کی شرافت کا گواہ ہر فرد ہے جسکی زبان سے کہی میٹھی تو کسی کے زبان کڑوی الفاط چشم دید گواہ سوشل پلیٹ فارم

سب سے زیادہ جائز تنقید میں حسن خان اپنے سردار صاحبان پر کرتا ہوں لیکن جواز بناکر ہمیشہ سے اپنے علاقے اور عوام کی بات کی نہ کہ نفرت آمیز لہجے میں کسی بھی فرد یا سیاست دان کے خلاف خواہ مخواہ کسی پر بہتان تراشی یا کیچڑ اچھالی سے میرا کوئ تعلق نہیں جائز مطالبات ہر کسی کا حق ہے میں بھی وہی بولتا اور کہتا ہوں کیونکہ یہ ایسا دور ہے غریب عوام اگر جائز بات بھی کہے تو وہ بھی گوارہ نہیں لیکن ہمارے سردار صاحبان پر طرح طرح کے القابات سے نوازہ جاتا ہے انہی سردار صاحبان نے کبھی کسی پر اف تک نہیں کی مگر جتنا پرامن اور شریف سردار ہمارے بزدار قوم کے ہیں شائید ہی کہیں ایسا کوئ دوسرا سردار دیکھنے اور سننے کو ملا ہوگا کیونکہ اس چیز کیلئے مجھے زیادہ کہنے کی ضرورت تو نہیں ہر چیز سوشل میڈیا پر موجود ہے اگر ہمارے سردار بدامن یا ظالم ہوتے کیا یہ کوہ سلیمان کا امن قائم رکھ سکتا تھا بالکل نہیں جب الیکشن کمپیئن کیلئے نکلتے ہیں تو وہی ایک گاڑی میں دو فرد ساتھ لیکر چلتے ہیں جب کہیں جانا ہو تو وہی ایک گاڑی لیکر جاتے ہیں تاکہ کہیں کسی کے غریب عوام کے ہاں تھوڑا سٹے کرنا پڑا تاکہ انہیں تکلیف نہ ہو دو سے پانچ افراد کا کھانا یا چائے ہر کوئ غریب کے ہاں بن سکتا ہے اگر باقی بلوچ قوم پرستوں کی طرح درجنوں گاڑیاں اور سینکڑوں مسلح افراد لیکر کسی غریب عوام کے ہاں جائیں تو ہم جیسے لوگوں کے پاس آن لوگوں کیلئے اتنی چٹائیاں بھی نہیں انہیں پھیلا کر لشکر کو بٹھایا جاسکے نہ ہمارے سردار اپنے غریب عوام کو اپنا دب دبا دکھاتے ہین اگر ایسا کرنا چاہتے تو یہی قوم سردار صاحبان کے ساتھ چلتے کیونکہ انہیں جیب سے تھوڑا خرچہ کرنا ہے وہ گورنمنٹ کے کھاتے سے نکال کر خرچ کرتے مگر یہ چیزیں بھی انسانوں کی فطرت ہوا کرتا ہے بزدار سرداروں کی فطرت میں یہ دب دبا نہیں عاجزی اور انکساری ہے ہاں سردار اپنے عوام کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھنے تعلیم صحت سمیت ہر قسمی سہولیات سے تو دور رکھتے ہیں مگر سردار عثمان خان بزدار کا قلیل دورانیہ سی ایم شپ میں بہت کوششیں تو کی مگر نہ ہوسکا لیغاری اور کھوسہ کو لے لیں مرحوم سردار فاروق خان لیغاری صدر پاکستان سردار اویس خان لیغاری ہر وقت جیت کر وفاقی وزیر رہتا ہے سردار زوالفقار خان کھوسہ گورنر پنجاب اور وفاقی وزیر رہے اسکا بیٹا سردار دوست محمد کھوسہ کھوسہ وزیراعلی پنجاب بلوچستان سے لیکر دریائے سندھ تک اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو سبھی سرداروں سے زیادہ سردار عثمان خان بزدار نے کام کیئے اگر سردار صاحب کے خلاف تونسہ شریف ڈی جی خان سمیت تمام پارٹیاں اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے متحد ہوکر روڑے نہ اٹکاتے تو تونسہ شریف ڈی جی خان اور کوہ سلیمان میں بہت کچھ ہوجاتا لیکن یہ متحد ہونے والوں کو صاف نظر آرہا تھا اگر عثمان خان بزدار جو کرنا چاہ رہا ہے سب ہو جائیں تو ہمیں سیاست کا بوری بستر لپیٹ کر یہاں سے بھاگ جانا ہے کیونکہ ان لوگوں کے ذہنوں میں پنپنے والے منافرت کی وجہ سے نقصان صرف علاقے اور غریب عوام کا ہوا وہ اپنے بچوں کی روزی تو بچا کر گئے ہیں مگر ہمارے غریب عوام کے بچوں کا پیٹ چیر کر ہمیں دلدل میں گرانے میں کامیاب ہوئے دوسرا پرامن علاقہ کوہ سلیمان جو بھی قومیں آباد ہیں بزدار قوم کی ٹوٹل آبادی اسی کوہ سلیمان میں ہے  قبائلی نظام میں قبائلی علاقہ اور عوام جتنا محفوظ ہے انہی سرداروں وڈیروں اور قومیت کے بل بوتے پر ہے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سے لیکر کوہ سلیمان تک پٹھانوں کے وزیرستان سے لیکر روجھان تک چاہے بلوچ ہوں یا پٹھان ہاں اگر قوموں کے مابین سیاسی اور زاتی کشمکش بڑھ جائیں یا کسی تھرڈ پارٹی کی مداخلت سے ان علاقوں میں آوٹ فورس بھیجا جائے تو اس دن سے امن کے سائے کو خدا حافظ کہہ کر غریب لوگوں کو علاقہ چھوڑا کر کہیں اور ہجرت کرنی ہوگی مگر قبائل ازم میں ان ججز اور حکمرانوں کے قانون سے زیادہ قبائلی قانون زیادہ طاقت ور ہے جو کہیں نا کہیں خوش اسلوبی سے راستہ بناکر مزید خون خرابہ سے روکا جاسکتا ہے لیکن مانتا ہوں سرداری نظام میں خامیاں ضرور ہیں مگر جتنا کہا جارہا ہے اتنا بھی نہیں سرداروں اور وڈیروں کے ظلم کی داستانیں تو بہت ہیں مگر ہمارے تمن بزدار میں وہ نہیں جو لکھا اور بولا جاریا ہے ہمارے بزدار قبائل کوہ سلیمان میں امن کی وجہ بھی یہی سردار اور وڈیرے ہیں اگر یہ لوگ بدامنی کی طرف ہمیں دھکیلیں تو یقیننا یہ کوہ سلیمان بھی اپنے ہمسائے تمن کھوسہ یا بلوچستان کی طرح ہو سکتا ہے جہاں قبائلی فورس یا قبائلی معززین کی رسد کو محدود کیا وہاں صرف خون ہی خون نظر آتا ہے نہ کسی کی عزت محفوظ ہے نہ کسی کا جان و مال ؟؟؟ قلم کار حسن خان بزدار 


Tuesday, 5 December 2023

ہفت دسمبر کوہ سلیمان کے شہداء کے نام



کوہ سلیمان میں مزاحمت کی ایک طویل تاریخ ھے جو کے لوگوں نے اپنے حقوق اور سر زمین کے دفاع کے لیے بہادری سے رقم کیے۔  یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ ھفت دسمبر موومنٹ کوہ سلیمان کی تاریخ میں ایک ایسی سیاسی قوت کے طور پر ابھری جس نے نہ صرف بلوچ قومی سیاست بلکہ کوہ سلیمان بالخصوص ڈیرہ جات اور اس سے ملحقہ قبائلی پٹی کو وسیع پیمانے پر اثرانداز کیا۔   7 دسمبر 1967ء کو سرکار کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ نے ڈیرہ جات میں  نہ صرف بلوچ سیاست کو توانا کیا بلکہ اپنے حقوق کی دفاع اور قومی وحدانیت کو برقرار رکھنے کے لیے اس تحریک نے کئی مراحل طے کیے۔ 
ھفت دسمبر موومنٹ کے آغاز اور اس مزاحمتی تحریک سے آگاہی کے لیے لازمی ھے کہ اس میں  تاریخی اور نفسیاتی پس منظر کا مختصراً جائزہ لیا جائے۔   بلوچ مزاحمتی تاریخ میں حملہ آوروں اور قابض اقوام کے خلاف مزاحمت میں جو نفسیاتی پہلو غالب رہا وہ یہ کہ بلوچ بحیثیت قوم اپنی آزادی اور حق ملکیت سے دستبردار ھونا میار سمجھتے ہیں چاہے اسکی کتنی ھی بھاری قیمت ادا نہ کرنا پڑے۔ بلوچ ثقافتی اقدار اس حق ملکیت کے تصور کو مزید حساس کر دیتی ھیں ۔ 1967 جنگ میں اپنی سرزمین و ملکیت سے محرومی کے خوف نے یہاں کے باسیوں کو سرکار کے خلاف اجتماعی مزاحمت پر مجبور کیا۔ 
تاریخی پس منظر کو دیکھا جائے تو کوہ سلیمان میں سکھ اور انگریز سامراج کے خلاف کئ مزاحمتی جنگیں لڑی گئیں۔  بلوچ وحدانیت کو تقسیم کرنے کے لیے انگریزوں نے "تقسیم کرو اور  حکومت کرو" پالیسی کے تحت مشرقی بلوچ قبائل کو فاٹا کی طرح براہ راست وائسرائے ھند کے ماتحت کر دیا۔   برطانیہ کے انخلا سے ایک سال قبل 26 نومبر 1946ء کو  نواب جمال خان لغاری ، نواب اکبر بگٹی ، دودا مری و دیگر تمندار کی طرف سے انگریز سرکار کو یاداشت پیش کیا گیا کہ ڈیرہ غازیخان ، راجن پور ، اور مری بگٹی علاقوں کو ریاست قلات میں شامل کیا جائے ۔   یکم مارچ 1949ء کو پنجاب کے گورنر  سر فرانسس مودی کی سربراہی میں ایک وفد نے ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا اور بلوچی جرگہ ممبران سے ملاقات کے دوران دوبارہ یہ سوال اٹھایا کہ آپ پنجاب میں شامل ھونا چاہتے ہیں یا بلوچستان میں،  تو اس وقت  کے جرگہ ممبران ، و دیگر معززین نے بلوچستان میں شمولیت کا اعلان کیا۔  پنجابی بیوروکریسی سے تنگ یہاں کے تمام بلوچ قبائل لغاری، مزاری، گورشانی، بزدار، قیصرانی لُنڈ، کھوسہ و دیگر معتبرین نے متفق ہو کر بلوچستان میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا اور یہ بھی مطالبہ کیا کہ اگر  بلوچستان میں انھیں کسی وجہ سے شامل نہیں کیا جارھا تو انھیں فاٹا میں شامل کر دیا کیا جائے مگر وہ پنجاب کے ساتھ شمولیت کے لیے کسی صورت تیار نہیں کیونکہ انگریز نے  بھی اتنا بدتر سلوک یہاں کے بلوچ قبائل سے روا نہیں رکھا جتنا  کہ پنجاب کی بیوروکریسی نے۔  مگر جنوری 1950ء میں لوگوں کی منشا کے بغیر جبری طور پر ان علاقوں کو پنجاب میں شامل کردیا گیا۔  اس جبری الحاق اور پنجاب کے توسیع پسندانہ و متعصبانہ رویوں سے یہاں کے بلوچ قبائل نالاں تھے۔ 
1967ء میں ایوبی آمریت کے دوران پنجاب حکومت نے محکمہ ریونیو کے زریعے ان علاقوں میں زمینوں کے بندوبست و اراضی کا فیصلہ کیا اور مقامی سطح پر لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ سرکار ریونیو ایکٹ کے تحت زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ھے۔ معدنی وسائل سے مالامال ان علاقوں میں سرکار کے لیے بندوبست اور ریکارڈ اس لیے بھی لازمی تھا تاکہ بلوچ قبائل میں مشترکہ اور غیر آباد زمینوں کو سرکاری قرار دے کر لوٹ کھسوٹ کی جائے۔ حکومت کے اس فیصلے سے یہاں کے بلوچ قبائل میں بے چینی پیدا ھوئی اور بزدار قبیلہ نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا اور معززین نے  متفق ھو کر فیصلہ کیا کہ وہ کسی صورت سرکاری سطح پر زمینوں کی پیمائش اور بندوبست نہیں ھونے دیں گے۔ 
اس صورتحال کو بھانپتے ھوئے پولیٹکل اسسٹنٹ ڈیرہ غازی کوہ سلیمان( بھارتی) آئے اور سردار دوست محمد بزدار اور دیگر معززین سے ملاقات کے لیے جرگہ منعقد کیا گیا۔ اس جرگہ میں تمن بزدار سے دور دراز سے ائے کئی معززین اور نوجوانوں نے خود شرکت کی کیونکہ وہ اس مسلئے کو لے کر کافی حساس ہو چکے تھے اور اس فیصلے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرنا چاھتے تھے۔  یہاں تمام علاقہ معززین نے پولیٹکل اسسٹنٹ اور دیگر سرکاری افسران کو واضح کیا کہ یہ  زمینیں ھماری ہیں اور ھم سرکاری بندوبست کے خلاف ھیں۔  اگرچہ اس وقت کوہ سلیمان میں شرح خواندگی نہ ھونے کے برابر تھی مگر اس جرگے میں دو تعلیم یافتہ نوجوان بھی شامل تھے۔ دوران جرگہ سرکاری آفیسر اور لوگوں میں شدید تکرار ہوا اور پولیٹکل اسسٹنٹ طیش میں آکر بلند آواز میں لوگوں سے مخاطب ھو کر کہتے ھیں کہ " I am the King of Koh-e-suleman" اور اس کے جواب میں ایک نوجوان پی-اے کو للکارتے ھوئے کہتا ھے۔۔
" We are the lions of koh-e - Suleman"
(جاری ھے)

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201