Monday, 5 November 2018

پاکستان کے کوہ پیماؤں کی روداد

پاکستانی کوہ پیما: ’پہاڑوں کے بادشاہ‘ مگر اعتراف سے محروم

نیپال کے شرپا کہلانے والے لوگ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے غیر ملکی کوہ پیماؤں کے ہمراہ ان کا سامان لے کر چلتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے پہاڑی سلسلوں کی بلند چوٹیوں کو سر کرنے کے شوقین ملکی اور غیرملکی کوہ پیماؤں کو مقامی پہاڑی یا کوہستانی افراد کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ شرپا ہوں یا پاکستان کے کوہستانی، یہ حضرات اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر مہم جوئی کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔
اس خطرناک سفر میں کئی افراد نے شدید برفانی موسموں میں اپنی جانیں بھی ضائع کی ہیں اور کئی ایک کو تو عمر بھر کی معذوری کا بھی سامنا رہا ہے۔ ایسے جری مہم جو افراد میں سے ایک فضل علی بھی ہیں، اور یہ دنیا کے واحد شخص ہیں، جنہوں نے تین مرتبہ کے ٹو کی چوٹی سر کی ہے۔ کے ٹو نامی چوٹی کو ’ہلاکت خیز پہاڑ‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے کیونکہ اس کی بلندی تک پہنچنے والا کوئی بھی راستہ آسان نہیں ہے۔
پاکستانی کوہ پیما فضل کریم کے ٹو کی مہم جوئی کے دوران سن 2008 میں ہلاک ہو گئے تھے
اس وقت چالیس برس کی عمر کے فضل علی کو کوہ پیمائی کرتے ہوئے بیس برس ہو گئے ہیں۔ کوہ پیماؤں کے ہمراہ پہاڑی راستوں پر سامان برداری اور رہنمائی کرنا اُن کا پیشہ ہے۔ انہوں نے کے ٹو کو سن 2014، 2017 اور 2018 میں سر کیا ہے۔ وہ کے ٹو کی انتہائی خطرناک ڈھلانوں پر مختصر سی جگہ پر غیر ملکی کوہ پیماؤں کے لیے کھانا پکانے کے علاوہ کسی تنگ درے یا راستے کے برفباری کے باعث بند ہو جانے کے بعد کسی دوسرے راستے سے متعلق معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔
گِنیس ورلڈ ریکارڈ کے ایبرہارڈ ژُورگالسکی کا کہنا ہے کہ کوہ پیمائی کے شعبے میں فضل علی واحد مہم جو ہیں، جنہیں ’سفاک پہاڑ‘ کے ٹو کو تین مرتبہ سر کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ دنیا کے پیشہ ور مہم جو افراد میں فضل علی کو ایک معتبر حوالے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستانی کوہ پیماؤں کی مدد کرنے والی کمیونٹی میں بھی ان کو بہت تکریم حاصل ہے۔
ایک بلند پاکستانی چوٹی کو سر کرنے والے کوہ پیماؤں کا خیمہ
گِنیس بُک آف ورلڈ ریکارڈز میں اپنا نام شامل کیے جانے پر فضل علی نے مسرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے تاسف کے ساتھ کہا کہ ملک کے اندر اُن کے اس اعزاز کو کبھی بھی کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر ملکی کوہ پیما بھی ابتدا میں بہت وعدے کرتے ہیں، لیکن کام نکل جانے کے بعد وہ بھی اُن جیسے افراد کو بھول جاتے ہیں۔ علی کے مطابق غیر ملکی کوہ پیما اُن کی رہنمائی میں چوٹیاں سر کرتے ہیں اور بلندی پر پہنچ کر اپنی تصویریں اکیلے بنواتے ہیں، جو حقیقت سے انکار کے برابر ہے۔
پاکستان کا شمالی پہاڑی علاقہ تین پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے ملاپ کی جگہ بھی ہے۔ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے تین اسی علاقے میں واقع ہیں۔ کے ٹو ان میں سے ایک ہے، جس کی بلندی 8611 میٹر( 28251 فٹ) ہے۔

Monday, 8 October 2018

ھیڈلائن

https://www.instagram.com/p/BooJ1XHhx0W/?utm_source=ig_share_sheet&igshid=1rgt57pd48a46

Friday, 14 September 2018

کرکٹ ٹیم کو آئندہ سرفراز احمد کو قیادت سونپنے کا عندیہ

لاہور(سٹیٹ ویوز)سابق پاکستانی کرکٹر معین خان کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد نے اپنی قیادت میں درجن سے زائد نوجوان پلیئرزکوصلاحیتوں کے اظہارکے مواقع فراہم کیے. کپتان کی جانب سے دیے گئے اعتماد کی بدولت نوجوان پلیئرز میچ ونرز کے روپ میں سامنے آئے۔
میرے خیال میں سرفرازاحمد طویل عرصے کیلیے کپتانی کے حقدار ہیں تاکہ وہ بھرپوراعتماد کے ساتھ قومی ٹیم کوفتوحات کے ٹریک پرگامزن رکھ سکیں۔
سابق کرکٹر معین خان نے سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک کپتان مقررکرنے کا مطالبہ کردیا۔سابق کپتان کا کہنا ہے کہ سرفراز کی زیر قیادت نوجوان پلیئرز میچ ونرزکے روپ میں سامنے آئے، طویل عرصے تک قیادت کا اعلان کرنے سے اعتماد میں اضافہ اور ٹیم کی کارکردگی میں نکھار آئے گا۔
ورلڈ کپ 1992 کی فاتح ٹیم کے رکن، سابق وکٹ کیپر اور کپتان نے کہاکہ ورلڈ کپ 2019 میں گرین شرٹس کی بہتر کارکردگی کیلئے ضروری ہے کہ انھیں میگا ایونٹ تک قومی ٹیم کا مقررکرنے کا اعلان کردیا جائے۔۔
سرفراز احمد پاکستانی ٹیم کی قیادت شاندار انداز میں کررہے ہیں، وہ ایک فائٹر ہیں اور انھوں نے تمام فارمیٹس میں ٹیم کی باگ ڈور عمدگی سے سنبھالی ہے، پی سی بی انتظامیہ سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک پاکستان ٹیم کا کپتان مقرر کردے اور اس کے ساتھ کسی نوجوان کرکٹر کو نائب قائدکی حیثیت سے گروم کرے تاکہ وقت پڑنے پر وہ ٹیم کی ذمے داری سنبھال سکے۔
سابق کپتان کا کہنا تھاکہ وکٹ کیپر بیٹسمین نے پوری ٹیم میں فائٹنگ اسپرٹ پیدا کی ہے اور شاہینوں نے دنیائے کرکٹ کی بڑی ٹیموں کے خلاف ذہنی مضبوطی کیساتھ فتوحات سمیٹیں، قومی ٹیم نے اپنے اسی اسپرٹ کے ساتھ چیمپئنز ٹرافی اور ٹرائی سیریز میں آسٹریلیا کیخلاف فائنل میں کم بیک کیا، ایسی مثالیں پہلے کم ہی ملتی ہیں

کرکٹ ٹیم کو آئندہ سرفراز احمد کو قیادت سونپنے کا عندیہ

لاہور(سٹیٹ ویوز)سابق پاکستانی کرکٹر معین خان کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد نے اپنی قیادت میں درجن سے زائد نوجوان پلیئرزکوصلاحیتوں کے اظہارکے مواقع فراہم کیے. کپتان کی جانب سے دیے گئے اعتماد کی بدولت نوجوان پلیئرز میچ ونرز کے روپ میں سامنے آئے۔
میرے خیال میں سرفرازاحمد طویل عرصے کیلیے کپتانی کے حقدار ہیں تاکہ وہ بھرپوراعتماد کے ساتھ قومی ٹیم کوفتوحات کے ٹریک پرگامزن رکھ سکیں۔
سابق کرکٹر معین خان نے سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک کپتان مقررکرنے کا مطالبہ کردیا۔سابق کپتان کا کہنا ہے کہ سرفراز کی زیر قیادت نوجوان پلیئرز میچ ونرزکے روپ میں سامنے آئے، طویل عرصے تک قیادت کا اعلان کرنے سے اعتماد میں اضافہ اور ٹیم کی کارکردگی میں نکھار آئے گا۔
ورلڈ کپ 1992 کی فاتح ٹیم کے رکن، سابق وکٹ کیپر اور کپتان نے کہاکہ ورلڈ کپ 2019 میں گرین شرٹس کی بہتر کارکردگی کیلئے ضروری ہے کہ انھیں میگا ایونٹ تک قومی ٹیم کا مقررکرنے کا اعلان کردیا جائے۔۔
سرفراز احمد پاکستانی ٹیم کی قیادت شاندار انداز میں کررہے ہیں، وہ ایک فائٹر ہیں اور انھوں نے تمام فارمیٹس میں ٹیم کی باگ ڈور عمدگی سے سنبھالی ہے، پی سی بی انتظامیہ سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک پاکستان ٹیم کا کپتان مقرر کردے اور اس کے ساتھ کسی نوجوان کرکٹر کو نائب قائدکی حیثیت سے گروم کرے تاکہ وقت پڑنے پر وہ ٹیم کی ذمے داری سنبھال سکے۔
سابق کپتان کا کہنا تھاکہ وکٹ کیپر بیٹسمین نے پوری ٹیم میں فائٹنگ اسپرٹ پیدا کی ہے اور شاہینوں نے دنیائے کرکٹ کی بڑی ٹیموں کے خلاف ذہنی مضبوطی کیساتھ فتوحات سمیٹیں، قومی ٹیم نے اپنے اسی اسپرٹ کے ساتھ چیمپئنز ٹرافی اور ٹرائی سیریز میں آسٹریلیا کیخلاف فائنل میں کم بیک کیا، ایسی مثالیں پہلے کم ہی ملتی ہیں

Sunday, 9 September 2018

تونسہ شریف سے ٹرائیبل ایریا

ٹرائیبل ایریا کے عوام کیلئے میٹرو جو مسلم لیگ کے دور میں بنا کر اہل عوام کو دے دی

Monday, 3 September 2018

ڈی جی خان میں ٹیکنالوجی نے عدالتی نظام آسان بنا دیا

ڈیرہ غازی خان میں عدالتی نوٹسز کی اطلاع یابی کے لیے عدالتی اہلکاروں کو موبائل فون فراہم کردیے گئے۔تیرہ خواتین سمیت122 اہلکار نوٹسز کی تعمیل اب جدید طریقے سے کرائیں گے۔
ڈیرہ غازی خان میں عدالتی نوٹسزکی تعمیل اب موبائل فون کے ذریعے باآسانی ہوگی۔یہ طریقہ کار ایسا ہے کہ دو نمبری بھی نہ چل سکے گی۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شفیق الرحمٰن نےبتایاکہ عدالت عالیہ نے ماتحت عدلیہ کے تعمیلی اسٹاف کو پہلے مرحلے میں موٹرسائیکل اور دوسرے مرحلے میں اب موبائل فون دیے ہیں تاکہ عدالتی نظام میں تیزی آئے، عدالتی عملہ نوٹسز کی تعمیل کے وقت سیلفی بھی بنائے گا تاکہ کنفرم ہو کہ نوٹس اصل آدمی تک پہنچ گیا ہے۔
عدالتی اہلکارکاکہناہےکہ جدید طریقے سےعدالتی نظام میں مزید بہتری آئے گی۔پہلے نوٹسز کی تعمیل میں کافی دشواری ہوتی تھی۔ اب  موٹرسائیکل اور موبائل فون کےذریعے مقدمات کو جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔
عدالتی نظام میں ہونے والی اصلاحات سے نہ صرف انصاف کی جلد فراہمی ممکن ہوگی بلکہ عرصہ دراز سے زیرالتواء مقدمات کو جلد نمٹانے میں بھی مدد ملے گی۔ http://intl.yukbacaberita.com/ur-pk/detail/2263795667763601?app=browser_detailrec&uc_param_str=dnfrpfbivesvmtsscpgimibtbmntniladsnwktch&entry=browser%2Cbrowser&entry1=shareback&entry2=page_share_btn&comment_stat=1

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201