Tuesday, 13 November 2018

بلوچوں کے گم شدہ ہزاروں افراد کا کوئ پتہ نہیں پنجاب میں چرائے گئے کیلے والے پچےکے ساتھ وفاقی وزہر کی ہمدردی

افسوس پاکستان میں اپنے عوام کے ظلم اور مساوی برتری ایک طرف پنجاب میں مظاھروں میں ایک پھل فروش بچے کے پھلوں کو کھانے اور نقصان کرنے  پر وزیر موصوف نے اس بچے کو میڈیا پر لاکر پورا دنیا کو دکھایا کہ اسکے ساتھ یہ ظلم ہوا ہے ہم بہی اس واقعہ کا مزمت کرتے ہیں نہی ہونا چاھئے  لیکن
دوسری طرف بلوچستان کی یہ معصوم بلوچ بچی جسکے بھائی  دن کے روشنی .میں غائب ہوگئے
اسکے لئے کسی ٹی وی چینل نے لائیو کورج نہی کی کوئی اسکا تکلیف پوچھنے.نہی آیا معلوم ھے کیوں ؟؟؟
کیونکہ اس بچی کا تعلق پنجاب سے نہی بلکہ بلوچستان سے ہیں  اور اس کیمپ میں بیٹھے ان بہنوں کا تعلق بہی پنجاب سے نہی بلوچستان سے ہیں جنکے پیارے غائب ہیں
  پھر اتنا دور بلوچستان میں
حکومت وزراء میڈیا کیوں انکے پاس جاتے ؟

اسرائیلی جارحیت کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع

لاہور # اسرائیلی جارحیت کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع ہوگئی، پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی کنول لیاقت ایڈووکیٹ نے قرارداد جمع کرائی۔
یہ بھی لازمی پڑھیں: غلطی کسی کی، سزا کا مستحق کوئی اور ۔۔۔
ایڈووکیٹ کنول لیاقت نے قرارداد جمع کراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں ظلم، بربریت اور اسلام دشمنی کی تاریخ رقم کی ہے، جو انسانیت سوزی کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نےکہا کہ اسرائیلی حملوں سے نہتے مسلمان اور معصوم بچے شہید ہوتے ہیں، پنجاب اسمبلی کا ایوان اسرائیلی ظالمانہ رویے اور گھناؤنے جرم کی بھر پور مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عالمی عدالت انصاف پر زور ڈالا جائے کہ اسرائیل کو انسانیت سوز کارروائیوں سے باز رہنے کی تنبیہ کی جائے بصورت دیگر سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔

اسرائیلی جارحیت کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع

لاہور # اسرائیلی جارحیت کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع ہوگئی، پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی کنول لیاقت ایڈووکیٹ نے قرارداد جمع کرائی۔
یہ بھی لازمی پڑھیں: غلطی کسی کی، سزا کا مستحق کوئی اور ۔۔۔
ایڈووکیٹ کنول لیاقت نے قرارداد جمع کراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں ظلم، بربریت اور اسلام دشمنی کی تاریخ رقم کی ہے، جو انسانیت سوزی کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نےکہا کہ اسرائیلی حملوں سے نہتے مسلمان اور معصوم بچے شہید ہوتے ہیں، پنجاب اسمبلی کا ایوان اسرائیلی ظالمانہ رویے اور گھناؤنے جرم کی بھر پور مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عالمی عدالت انصاف پر زور ڈالا جائے کہ اسرائیل کو انسانیت سوز کارروائیوں سے باز رہنے کی تنبیہ کی جائے بصورت دیگر سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔

Monday, 5 November 2018

پاکستان کے کوہ پیماؤں کی روداد

پاکستانی کوہ پیما: ’پہاڑوں کے بادشاہ‘ مگر اعتراف سے محروم

نیپال کے شرپا کہلانے والے لوگ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے غیر ملکی کوہ پیماؤں کے ہمراہ ان کا سامان لے کر چلتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے پہاڑی سلسلوں کی بلند چوٹیوں کو سر کرنے کے شوقین ملکی اور غیرملکی کوہ پیماؤں کو مقامی پہاڑی یا کوہستانی افراد کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ شرپا ہوں یا پاکستان کے کوہستانی، یہ حضرات اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر مہم جوئی کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔
اس خطرناک سفر میں کئی افراد نے شدید برفانی موسموں میں اپنی جانیں بھی ضائع کی ہیں اور کئی ایک کو تو عمر بھر کی معذوری کا بھی سامنا رہا ہے۔ ایسے جری مہم جو افراد میں سے ایک فضل علی بھی ہیں، اور یہ دنیا کے واحد شخص ہیں، جنہوں نے تین مرتبہ کے ٹو کی چوٹی سر کی ہے۔ کے ٹو نامی چوٹی کو ’ہلاکت خیز پہاڑ‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے کیونکہ اس کی بلندی تک پہنچنے والا کوئی بھی راستہ آسان نہیں ہے۔
پاکستانی کوہ پیما فضل کریم کے ٹو کی مہم جوئی کے دوران سن 2008 میں ہلاک ہو گئے تھے
اس وقت چالیس برس کی عمر کے فضل علی کو کوہ پیمائی کرتے ہوئے بیس برس ہو گئے ہیں۔ کوہ پیماؤں کے ہمراہ پہاڑی راستوں پر سامان برداری اور رہنمائی کرنا اُن کا پیشہ ہے۔ انہوں نے کے ٹو کو سن 2014، 2017 اور 2018 میں سر کیا ہے۔ وہ کے ٹو کی انتہائی خطرناک ڈھلانوں پر مختصر سی جگہ پر غیر ملکی کوہ پیماؤں کے لیے کھانا پکانے کے علاوہ کسی تنگ درے یا راستے کے برفباری کے باعث بند ہو جانے کے بعد کسی دوسرے راستے سے متعلق معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔
گِنیس ورلڈ ریکارڈ کے ایبرہارڈ ژُورگالسکی کا کہنا ہے کہ کوہ پیمائی کے شعبے میں فضل علی واحد مہم جو ہیں، جنہیں ’سفاک پہاڑ‘ کے ٹو کو تین مرتبہ سر کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ دنیا کے پیشہ ور مہم جو افراد میں فضل علی کو ایک معتبر حوالے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستانی کوہ پیماؤں کی مدد کرنے والی کمیونٹی میں بھی ان کو بہت تکریم حاصل ہے۔
ایک بلند پاکستانی چوٹی کو سر کرنے والے کوہ پیماؤں کا خیمہ
گِنیس بُک آف ورلڈ ریکارڈز میں اپنا نام شامل کیے جانے پر فضل علی نے مسرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے تاسف کے ساتھ کہا کہ ملک کے اندر اُن کے اس اعزاز کو کبھی بھی کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر ملکی کوہ پیما بھی ابتدا میں بہت وعدے کرتے ہیں، لیکن کام نکل جانے کے بعد وہ بھی اُن جیسے افراد کو بھول جاتے ہیں۔ علی کے مطابق غیر ملکی کوہ پیما اُن کی رہنمائی میں چوٹیاں سر کرتے ہیں اور بلندی پر پہنچ کر اپنی تصویریں اکیلے بنواتے ہیں، جو حقیقت سے انکار کے برابر ہے۔
پاکستان کا شمالی پہاڑی علاقہ تین پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے ملاپ کی جگہ بھی ہے۔ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے تین اسی علاقے میں واقع ہیں۔ کے ٹو ان میں سے ایک ہے، جس کی بلندی 8611 میٹر( 28251 فٹ) ہے۔

Monday, 8 October 2018

ھیڈلائن

https://www.instagram.com/p/BooJ1XHhx0W/?utm_source=ig_share_sheet&igshid=1rgt57pd48a46

Friday, 14 September 2018

کرکٹ ٹیم کو آئندہ سرفراز احمد کو قیادت سونپنے کا عندیہ

لاہور(سٹیٹ ویوز)سابق پاکستانی کرکٹر معین خان کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد نے اپنی قیادت میں درجن سے زائد نوجوان پلیئرزکوصلاحیتوں کے اظہارکے مواقع فراہم کیے. کپتان کی جانب سے دیے گئے اعتماد کی بدولت نوجوان پلیئرز میچ ونرز کے روپ میں سامنے آئے۔
میرے خیال میں سرفرازاحمد طویل عرصے کیلیے کپتانی کے حقدار ہیں تاکہ وہ بھرپوراعتماد کے ساتھ قومی ٹیم کوفتوحات کے ٹریک پرگامزن رکھ سکیں۔
سابق کرکٹر معین خان نے سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک کپتان مقررکرنے کا مطالبہ کردیا۔سابق کپتان کا کہنا ہے کہ سرفراز کی زیر قیادت نوجوان پلیئرز میچ ونرزکے روپ میں سامنے آئے، طویل عرصے تک قیادت کا اعلان کرنے سے اعتماد میں اضافہ اور ٹیم کی کارکردگی میں نکھار آئے گا۔
ورلڈ کپ 1992 کی فاتح ٹیم کے رکن، سابق وکٹ کیپر اور کپتان نے کہاکہ ورلڈ کپ 2019 میں گرین شرٹس کی بہتر کارکردگی کیلئے ضروری ہے کہ انھیں میگا ایونٹ تک قومی ٹیم کا مقررکرنے کا اعلان کردیا جائے۔۔
سرفراز احمد پاکستانی ٹیم کی قیادت شاندار انداز میں کررہے ہیں، وہ ایک فائٹر ہیں اور انھوں نے تمام فارمیٹس میں ٹیم کی باگ ڈور عمدگی سے سنبھالی ہے، پی سی بی انتظامیہ سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک پاکستان ٹیم کا کپتان مقرر کردے اور اس کے ساتھ کسی نوجوان کرکٹر کو نائب قائدکی حیثیت سے گروم کرے تاکہ وقت پڑنے پر وہ ٹیم کی ذمے داری سنبھال سکے۔
سابق کپتان کا کہنا تھاکہ وکٹ کیپر بیٹسمین نے پوری ٹیم میں فائٹنگ اسپرٹ پیدا کی ہے اور شاہینوں نے دنیائے کرکٹ کی بڑی ٹیموں کے خلاف ذہنی مضبوطی کیساتھ فتوحات سمیٹیں، قومی ٹیم نے اپنے اسی اسپرٹ کے ساتھ چیمپئنز ٹرافی اور ٹرائی سیریز میں آسٹریلیا کیخلاف فائنل میں کم بیک کیا، ایسی مثالیں پہلے کم ہی ملتی ہیں

کرکٹ ٹیم کو آئندہ سرفراز احمد کو قیادت سونپنے کا عندیہ

لاہور(سٹیٹ ویوز)سابق پاکستانی کرکٹر معین خان کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد نے اپنی قیادت میں درجن سے زائد نوجوان پلیئرزکوصلاحیتوں کے اظہارکے مواقع فراہم کیے. کپتان کی جانب سے دیے گئے اعتماد کی بدولت نوجوان پلیئرز میچ ونرز کے روپ میں سامنے آئے۔
میرے خیال میں سرفرازاحمد طویل عرصے کیلیے کپتانی کے حقدار ہیں تاکہ وہ بھرپوراعتماد کے ساتھ قومی ٹیم کوفتوحات کے ٹریک پرگامزن رکھ سکیں۔
سابق کرکٹر معین خان نے سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک کپتان مقررکرنے کا مطالبہ کردیا۔سابق کپتان کا کہنا ہے کہ سرفراز کی زیر قیادت نوجوان پلیئرز میچ ونرزکے روپ میں سامنے آئے، طویل عرصے تک قیادت کا اعلان کرنے سے اعتماد میں اضافہ اور ٹیم کی کارکردگی میں نکھار آئے گا۔
ورلڈ کپ 1992 کی فاتح ٹیم کے رکن، سابق وکٹ کیپر اور کپتان نے کہاکہ ورلڈ کپ 2019 میں گرین شرٹس کی بہتر کارکردگی کیلئے ضروری ہے کہ انھیں میگا ایونٹ تک قومی ٹیم کا مقررکرنے کا اعلان کردیا جائے۔۔
سرفراز احمد پاکستانی ٹیم کی قیادت شاندار انداز میں کررہے ہیں، وہ ایک فائٹر ہیں اور انھوں نے تمام فارمیٹس میں ٹیم کی باگ ڈور عمدگی سے سنبھالی ہے، پی سی بی انتظامیہ سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک پاکستان ٹیم کا کپتان مقرر کردے اور اس کے ساتھ کسی نوجوان کرکٹر کو نائب قائدکی حیثیت سے گروم کرے تاکہ وقت پڑنے پر وہ ٹیم کی ذمے داری سنبھال سکے۔
سابق کپتان کا کہنا تھاکہ وکٹ کیپر بیٹسمین نے پوری ٹیم میں فائٹنگ اسپرٹ پیدا کی ہے اور شاہینوں نے دنیائے کرکٹ کی بڑی ٹیموں کے خلاف ذہنی مضبوطی کیساتھ فتوحات سمیٹیں، قومی ٹیم نے اپنے اسی اسپرٹ کے ساتھ چیمپئنز ٹرافی اور ٹرائی سیریز میں آسٹریلیا کیخلاف فائنل میں کم بیک کیا، ایسی مثالیں پہلے کم ہی ملتی ہیں

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201