Welcome To Tibalnews1. Here Uou Will Find Every Local National News Of DGKhan Taunsa And Koh Suleiman Kn A Blink Of An Eye With All Languages Kinds Of Articles.
تونسہ شریف سے حسن بوزدار
لکھنے کو بہت دل کرتا ہے لیکن لکھنے کیلئے قلم نہیں کہنے کو بہت کہہ سکتا ہوں بولنے کیلئے حقیقی زبان نہیں حقائق سامنے لانے کیلئے دن بھر بہت خیالات آتے ہیں لیکن لکھتے وقت وہ ڈیٹا میموری سے آدھا ڈیلیٹ ہو جاتا ہے کیونکہ ڈیٹا سیو کرنے کیلئے جو سٹوریج ہونا چاہییے تھا اس سے ہمیں دور اور بہت دور تک رسائی نہیں لیکن سچ بات کہنے اور لکھنے میں کوئ قباحت نہیں جو اس وقت تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں ترقی و خوشحالی کے کام ہورہے ہیں وہ قابل ستائش اور قابل تحسین اور قابل دید ہیں لیکن فرسودہ قوموں کی ترقی امستقبل قریب کیلئے یہ مستقل ترقی نہیں صرف ایک خواب کی مانند ہے تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں بہت سے منصوبوں کا آغاز اور بہت سے آخری مراحل میں لیکن تونسہ شریف جو ہمارے کوہ سلیمان کا سب سے قریبی شہر ہے ان کیلئے سب سے پہلے اور سب مزید خبروں تبصروں اور تجزیوں کیلئے http://fb.com/traibaltv
سے ضروری ایک یونیورسٹی ہے جو ہم کوہ سلیمان اور تونسہ شریف کے غریب باسیوں کیلئے کامیابی کا ایک اہم ترین کامیابی کا بنیاد ہوگا کیونکہ غریب انسان زندگی بھر کوشش بھی کرے تو غریب عوام پرائیویٹ اداروں میں اپنے بچوں کو نہیں پڑھا سکتے دوسرا ٹرائبل ایریا کیلئے چند ایک چیزیں جو خاص کر شدید تر عوام کو اس جدید دور میں دستیاب نہیں بلکہ 90% مشکل ترین نظر آرہا ہے وہ ہے انٹر نیٹ بجلی نادرا آفس ہسپتال اور تعلیم کوہ سلیمان کے مال دار حضرات 100میں زیادہ سے زیادہ 5% ہونگے وہ لوگ اکثر شہروں میں جاکر آباد ہوئے ہیں http://traibal_news
یا اپنے بچوں کو تعلیم کی غرض سے شہروں میں بھیج چکے ہیں باقی جو غریب یا متوسط طبقہائے زندگی کے 90سے 95% کوہ سلیمان کے غریب عوام کہیں جانے یا اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کیلئے غربت کے باعث کہیں نہیں بھیج سکتے ہمیں اس وقت ہر یونین کے سطع پر ایک ایک کالج بہت ضروری ہے کوہ سلیمان کے قریب 10 دس لاکھ آبادی کے عوام کیلئے بنیادی ضروریات اور مستقبل قریب میں دنیا کے ساتھ چلنے کیلئے تعلیم جو کہ اسوقت کوہ سلیمان میں تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے سی ایم پنجاب سردار عثمان صاحب سے اہل عوام کی اپیل ہے اب سب غریب عوام کی نظریں آپ پر لگی ہوئی ہیں مستقبل قریب میں تیزی سے ابھرتے ہوئے تعلیم کے میدان میں ترقی سے عوام کے معاشی مستقبل کا بنیاد انہی تعلیم پر منحصر ہے جو کہ ہم کوہ سلیمان کے باسی ماضی بعید سے لیکر آج تک اس چراغ کی روشنی سے80%محرومی کا شکار ہیں آج نہیں تو کل ممکن ہی نہیں اب نہیں تو کبھی بھی ممکن نہیں پورا جنوبی پنجاب ڈی جی خان تونسہ شریف بشمول کوہ سلیمان کے عوام آپکی طرف دیکھ رہی ہے ان لنک روڈوں چند نامی گرامی شخصیت کیلئے سکولز یا ڈسپنسری کے بلڈنگ یا ان کیلئے صاف پانی کے نام پر بوریں یا زرعی آباد کاری کیلئے بورنگ یا چند سفید پوشوں کیلئے ملازمتیں دینے سے پورا کوہ سلیمان ترقی کے راہ پر گامزن ہوتا ہوا دکھانا غریب عوام سے دھوکہ تصور کیا جائیگا کوہ سلیمان کی ترقی کے منازل پانے کیلئے ہر یوسی میں ایک ایک کالجز اور ایک ایک ھسپتال4اہم روڈز ماضی قریب کے آنے والے ہمارے مستقبل کی ترقی کے نئے دور کا ابتداء ہوگا تونسہ شریف ٹو راڑہ شم تونسہ شریف ٹو موسی خیل اور سخی سرور ٹو رکنی چوتھا سخی سرور ٹو فاضلہ جب تک ان چاروں روڈز کو ڈبل کرکے نہیں بنوایا گیا تب تک اونٹ کے منہ میں نوالہ ڈالنے کے مترادف تصور ہوگا مجھے90%یقین ہے انشااللہ یہ ضرور بنینگے لیکن جو کچھ ہوکر میرے آنکھوں کے سامنے گزر رہا ہے تو ان ترقی کی بنیاد صرف ایک خواب نظر آرہا ہے میں جس حقیقت کو دیکھ کر کبھی کبھار سوشل میڈیا پر اس لیئے لکھا کرتا ہوں کہیں ہم جیسے عوامل کی آواز سی ایم پنجاب محترم سردار عثمان خان بزدار تک پہنچ جائے جو آپکے دیئے ہوئے عوام دوست خدمات میں ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں ان میں بے تحاشا دن کے12بجے کرپشن اور ناقص میٹیریل کا استعمال دھڑلے سے جاری ہے کوئ بھی پوچھنے والا کہیں سے نظر نہیں آرہا اس صورتحال میں18ماہ گزرنے کے باوجود کہیں سے ان ظالم کرپٹ ٹھیکداروں پر کوئ لگام ڈالنے والا مسیحا سے دعا سلام نہیں ہوا نہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان آپکے کوششوں اور کاوشوں کو صد سلام پیش کرتا ہوں جو آپ نے اپنے غریب عوام کیلئے اہم اور انتہائ اقدام کیلئے قدم اٹھائے ہیں بیشک وہ قابل تعریف اور داد مستحق ہیں لیکن محترم سے پھر بھی ایک بار اپیل کرتا ہوں جو آپکے ٹیم کے ڈی جی خان میں بیورو کریسی کی ذمہ داری ہے عوامی منصوبوں پر دیکھ بھال کرنا وہ آپکے دیئے ہوئے عوام دوست خدمات کے ترقیاتی پراجیکٹس کو اپنا پراپرٹی سمجھ کر اپنے آفسوں میں کچھ لو اور کچھ دو پر پراعتماد بنا کر کرسیوں پر براجمان ہیں ہاں آپ تک سب اچھا کا رپورٹس جو لوگ دے رہے ہیں وہ آپ کیلئے ہمارے لیئے بلکہ قوم کیلئے دسمبر کے اینڈ اور جنوری کے فسٹ کا وہ سموگ ثابت ہوگا روڈ پر جس کے حد نگاہ صرف0بتایا جاتا ہے
تونسہ شریف سے حسن بوزدار
لکھنے کو بہت دل کرتا ہے لیکن لکھنے کیلئے قلم نہیں کہنے کو بہت کہہ سکتا ہوں بولنے کیلئے حقیقی زبان نہیں حقائق سامنے لانے کیلئے دن بھر بہت خیالات آتے ہیں لیکن لکھتے وقت وہ ڈیٹا میموری سے آدھا ڈیلیٹ ہو جاتا ہے کیونکہ ڈیٹا سیو کرنے کیلئے جو سٹوریج ہونا چاہییے تھا اس سے ہمیں دور اور بہت دور تک رسائی نہیں لیکن سچ بات کہنے اور لکھنے میں کوئ قباحت نہیں جو اس وقت تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں ترقی و خوشحالی کے کام ہورہے ہیں وہ قابل ستائش اور قابل تحسین اور قابل دید ہیں لیکن فرسودہ قوموں کی ترقی امستقبل قریب کیلئے یہ مستقل ترقی نہیں صرف ایک خواب کی مانند ہے تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں بہت سے منصوبوں کا آغاز اور بہت سے آخری مراحل میں لیکن تونسہ شریف جو ہمارے کوہ سلیمان کا سب سے قریبی شہر ہے ان کیلئے سب سے پہلے اور سب سے ضروری ایک یونیورسٹی ہے جو ہم کوہ سلیمان اور تونسہ شریف کے غریب باسیوں کیلئے کامیابی کا ایک اہم ترین کامیابی کا بنیاد ہوگا کیونکہ غریب انسان زندگی بھر کوشش بھی کرے تو غریب عوام پرائیویٹ اداروں میں اپنے بچوں کو نہیں پڑھا سکتے دوسرا ٹرائبل ایریا کیلئے چند ایک چیزیں جو خاص کر شدید تر عوام کو اس جدید دور میں دستیاب نہیں بلکہ 90% مشکل ترین نظر آرہا ہے وہ ہے انٹر نیٹ بجلی نادرا آفس ہسپتال اور تعلیم کوہ سلیمان کے مال دار حضرات 100میں زیادہ سے زیادہ 5% ہونگے وہ لوگ اکثر شہروں میں جاکر آباد ہوئے ہیں یا اپنے بچوں کو تعلیم کی غرض سے شہروں میں بھیج چکے ہیں باقی جو غریب یا متوسط طبقہائے زندگی کے 90سے 95% کوہ سلیمان کے غریب عوام کہیں جانے یا اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کیلئے غربت کے باعث کہیں نہیں بھیج سکتے ہمیں اس وقت ہر یونین کے سطع پر ایک ایک کالج بہت ضروری ہے کوہ سلیمان کے قریب 10 دس لاکھ آبادی کے عوام کیلئے بنیادی ضروریات اور مستقبل قریب میں دنیا کے ساتھ چلنے کیلئے تعلیم جو کہ اسوقت کوہ سلیمان میں تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے سی ایم پنجاب سردار عثمان صاحب سے اہل عوام کی اپیل ہے اب سب غریب عوام کی نظریں آپ پر لگی ہوئی ہیں مستقبل قریب میں تیزی سے ابھرتے ہوئے تعلیم کے میدان میں ترقی سے عوام کے معاشی مستقبل کا بنیاد انہی تعلیم پر منحصر ہے جو کہ ہم کوہ سلیمان کے باسی ماضی بعید سے لیکر آج تک اس چراغ کی روشنی سے80%محرومی کا شکار ہیں آج نہیں تو کل ممکن ہی نہیں اب نہیں تو کبھی بھی ممکن نہیں پورا جنوبی پنجاب ڈی جی خان تونسہ شریف بشمول کوہ سلیمان کے عوام آپکی طرف دیکھ رہی ہے ان لنک روڈوں چند نامی گرامی شخصیت کیلئے سکولز یا ڈسپنسری کے بلڈنگ یا ان کیلئے صاف پانی کے نام پر بوریں یا زرعی آباد کاری کیلئے بورنگ یا چند سفید پوشوں کیلئے ملازمتیں دینے سے پورا کوہ سلیمان ترقی کے راہ پر گامزن ہوتا ہوا دکھانا غریب عوام سے دھوکہ تصور کیا جائیگا کوہ سلیمان کی ترقی کے منازل پانے کیلئے ہر یوسی میں ایک ایک کالجز اور ایک ایک ھسپتال4اہم روڈز ماضی قریب کے آنے والے ہمارے مستقبل کی ترقی کے نئے دور کا ابتداء ہوگا تونسہ شریف ٹو راڑہ شم تونسہ شریف ٹو موسی خیل اور سخی سرور ٹو رکنی چوتھا سخی سرور ٹو فاضلہ جب تک ان چاروں روڈز کو ڈبل کرکے نہیں بنوایا گیا تب تک اونٹ کے منہ میں نوالہ ڈالنے کے مترادف تصور ہوگا مجھے90%یقین ہے انشااللہ یہ ضرور بنینگے لیکن جو کچھ ہوکر میرے آنکھوں کے سامنے گزر رہا ہے تو ان ترقی کی بنیاد صرف ایک خواب نظر آرہا ہے میں جس حقیقت کو دیکھ کر کبھی کبھار سوشل میڈیا پر اس لیئے لکھا کرتا ہوں کہیں ہم جیسے عوامل کی آواز سی ایم پنجاب محترم سردار عثمان خان بزدار تک پہنچ جائے جو آپکے دیئے ہوئے عوام دوست خدمات میں ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں ان میں بے تحاشا دن کے12بجے کرپشن اور ناقص میٹیریل کا استعمال دھڑلے سے جاری ہے کوئ بھی پوچھنے والا کہیں سے نظر نہیں آرہا اس صورتحال میں18ماہ گزرنے کے باوجود کہیں سے ان ظالم کرپٹ ٹھیکداروں پر کوئ لگام ڈالنے والا مسیحا سے دعا سلام نہیں ہوا نہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان آپکے کوششوں اور کاوشوں کو صد سلام پیش کرتا ہوں جو آپ نے اپنے غریب عوام کیلئے اہم اور انتہائ اقدام کیلئے قدم اٹھائے ہیں بیشک وہ قابل تعریف اور داد مستحق ہیں لیکن محترم سے پھر بھی ایک بار اپیل کرتا ہوں جو آپکے ٹیم کے ڈی جی خان میں بیورو کریسی کی ذمہ داری ہے عوامی منصوبوں پر دیکھ بھال کرنا وہ آپکے دیئے ہوئے عوام دوست خدمات کے ترقیاتی پراجیکٹس کو اپنا پراپرٹی سمجھ کر اپنے آفسوں میں کچھ لو اور کچھ دو پر پراعتماد بنا کر کرسیوں پر براجمان ہیں ہاں آپ تک سب اچھا کا رپورٹس جو لوگ دے رہے ہیں وہ آپ کیلئے ہمارے لیئے بلکہ قوم کیلئے دسمبر کے اینڈ اور جنوری کے فسٹ کا وہ سموگ ثابت ہوگا روڈ پر جس کے حد نگاہ صرف0بتایا جاتا ہے
تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGESImage captionبغداد کے علاقے کاظمیہ میں مظاہرین القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور ملیشیا کمانڈر ابو مہدی المہندس کی تابوت بردار گاڑی کے گرد جمع ہیں
عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی ملٹری کمانڈر قاسم سلیمانی کی نمازہ جنازہ کے جلوس میں لوگوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل سلیمانی کو جمعرات کو بغداد میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔
سلیمانی مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی حکمتِ عملی اور کارروائیوں کے منصوبہ ساز تھے اور ایران نے ان کی موت کا 'کڑا بدلہ' لینے کا اعلان کیا ہے۔
ان کی میت کو نمازِ جنازہ کے لیے ایران لے جایا جائے گا اور وہاں انھیں ان کے آبائی قصبے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
بغداد میں لوگ ایران نواز ملیشیا گروہ کتائب حزب اللہ کے کمانڈر ابو مہدی المہندس کی ہلاکت پر سوگ کے لیے بھی جمع تھا جو جنرل سلیمانی کے ساتھ ہی ہلاک ہوگئے تھے۔
المہندس پاپولر موبلائزیشن یونٹ کے رہنما تھے جو ایران نواز ملیشیاؤں کا اتحاد تھا۔
سنیچر کو مظاہرین جلوس کے آغاز سے قبل علی الصبح ہی بغداد میں جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ مظاہرین عراقی اور ملیشیا پرچم لہراتے ہوئے 'امریکہ مردہ باد' کے نعرے لگا رہے تھے۔ لوگوں نے جنرل سلیمانی اور ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔
ایران میں جنرل سلیمانی کے لیے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان کی میت سنیچر کی شام کو ایران پہنچائی جائے گی۔
ان کی نمازِ جنازہ منگل کو وسطی ایران میں ان کے آبائی قصبے کرمان میں ادا کی جائے گی۔
دوسری جانب چند عراقیوں نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت پر بغداد کی سڑکوں پر جشن بھی منایا۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے وہاں حالیہ مہینوں میں ہونے والے جمہوریت کے حامی پرامن مظاہروں کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کی منصوبہ سازی کی تھی۔
تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGESImage captionمظاہرین جنرل قاسم سلیمانی کے جلوسِ جنازہ میں شریک ہیں
قطری وزیرِ خارجہ کی تہران آمد
قطر کے وزیرِ خارجہ محمد بن جاسم الثانی نے تہران کا دورہ کیا ہے جہاں انھوں نے ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف سے آج دوپہر ملاقات کی ہے۔
بی بی سی فارسی سروس نے روزنامہ ایران کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران اور قطر کے وزیرِ خارجہ کے درمیان ’خفیہ‘ مذاکرات ہو رہے ہیں۔
جمعے کو عراق کے سرکاری ٹی وی چینل نے بتایا کہ جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے 24 گھنٹے بعد ملک میں ایک اور فضائی حملہ کیا گیا ہے۔ عراقی فوج کے ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حالیہ حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ان اہلکار کے مطابق حملے میں سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق علی الصبح عراقی ملیشیا کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔
ایک امریکی فوجی ترجمان نے اس تاثر کی تردید کی کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اتحاد اس حملے کے لیے ذمہ دار تھا۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے والے حملے کے ممکنہ ردِعمل کا مقابلہ کرنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں مزید تین ہزار فوجی تعینات کردیے ہیں۔
اس کے علاوہ برطانیہ نے اپنے شہریوں کو عراق کا سفر کرنے میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
قاسم سلیمانی کو ’جنگ روکنے کے لیے‘ ہلاک کیا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے قاسم سلیمانی کو مارنے کا فیصلہ ’جنگ روکنے‘ کے لیے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں تمام ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہوں خاص طور پر ایران کے حوالے سے۔
خیال رہے کہ ایران نے بغداد میں امریکی حملے کے نتیجے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو ایک واضح دہشت گرد کارروائی قرار دیا ہے۔
امریکی صدر نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ’ہمارے اقدامات جنگ شروع کرنے کے لیے نہیں ہوتے۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی ایک بیمار انسان تھے، انھوں نے معصوم لوگوں کو ہلاک کیا اور ان کے حملوں سے دور دور تک لوگ متاثر ہوئے حتیٰ کہ نئی دہلی اور لندن تک۔ ‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ہم یہ جان کر سکھ کا سانس لے سکتے ہیں کہ ان کی دہشت ختم ہوئی۔‘
صدر ٹرمپ نے جنرل سلیمانی کو ایک ’دہشتگرد‘ قرار دیا جو سینکڑوں امریکی عام شہریوں اور سپاہیوں کی موت کے ذمہ دار تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مختصر نیوز کانفرنس میں امریکہ کے دشمنوں کو تنبیہ کی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’ہم آپ کو تلاش کر لیں گے۔ ہم آپ کو تباہ کر دیں گے۔ ہم ہمیشہ امریکیوں کی حفاظت کریں گے۔‘
ایران قانونی کارروائی کرے گا
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دبئی میں بات کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ’ایران بین الاقوامی سطح پر متعدد قانونی اقدامات کرے گا تاکہ سلیمانی کے قتل کے لیے امریکہ کو سزا دلوائی جاسکے۔‘
اس سے پہلے حملے کے فوراً بعد جواد ظریف نے ایک ٹویٹ میں امریکہ پر ’بین الاقوامی دہشت گردی‘ کا الزام عائد کیا تھا۔
تصویر کے کاپی رائٹREUTERS
اب تک کیا ہوا؟
امریکہ نے رات گئے ایک فضائی حملے میں ایران کے سب سے طاقتور فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا رہنماؤں کے ہمراہ ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے بعد صورتحال نہایت کشیدہ ہو گئی۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ ڈرون حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کیا تاکہ ایک ایسے شخص سے بیرون ملک موجود امریکیوں کا تحفظ کیا جا سکے جسے وہ ایک طویل عرصے سے خطرہ قرار دیتے ہیں۔
یہ اچانک اقدام امریکہ اور ایران کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد اٹھایا گیا۔ گذشتہ ماہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا نے امریکی کنٹریکٹر کو عراق میں قتل کر دیا جس کے بعد مغربی عراق اور مشرقی شام میں كتائب حزب الله ملیشیا کے خلاف امریکی فضائی حملے کیے گئے۔ اس کے بعد بغداد میں امریکی سفارتخانے کے باہر پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے۔ امریکہ نے اس کا الزام ایران پر عائد کیا۔
قاسم سلیمانی ایران کی قدس فوج کے قائد تھے۔ وہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے کافی قریب تھے۔ انھیں ایران میں دوسرا طاقتور ترین فرد تصور کیا جاتا تھا۔
ایران نے فوری طور پر اس حملے کی مذمت کی اور بعد ازاں اس اقدام کا ’کڑا بدلہ‘ لینے کا عزم کیا۔ ملک بھر میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور امریکی اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کیے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ ’جنرل سلیمانی سے ان کے ملک میں لوگ خوفزدہ بھی تھے اور نفرت بھی کرتے تھے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں کئی برس پہلے مار دیا جانا چاہیے تھا۔
جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ سنیچر کو ادا کی جائے گی۔
اس واقعے کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر عالمی رہنماؤں نے دیگر ممالک سے پر سکون رہنے کی اپیل کی ہے۔ ابتدائی طور پر عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ردِ عمل
مبصرین مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے اور ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ کے بارے میں تبصرے کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر اس وقت یہی موضوع زیرِ بحث ہے اور اسی خبر سے جڑے کئی ہیش ٹیگ، مثلاً #Iran #WWIII #Soleimani اور #قاسم_سليماني اس وقت ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
اس حملے کے اب تک کئی نتائج سامنے آئے ہیں۔ جنرل سلیمانی کی ہلاکت کی خبر آنے کے چند گھنٹوں بعد ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ عموماً مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں ہوتا ہے۔
برطانوی ماہرِ معاشیات جیسن ٹووے کے مطابق ہر چیز کا انحصار ایران کے ردِعمل پر ہوگا۔ ’ہمیں خدشات ہیں کہ اس پیش رفت سے خطے میں تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔‘
بین الاقوامی ردِ عمل
اس وقت پوری دنیا کی توجہ عراق پر مرکوز ہے اور سب یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ جس ملک کی سرزمین پر یہ حملہ ہوا ہے ان کا ردعمل کیا ہو گا۔
عراق کا سرکاری موقف ہے کہ امریکی کارروائی اس کی ’سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور ملک کے وقار پر کھلا حملہ ہے۔‘
تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
دوسری جانب عراقی شیعہ رہنما اور مہدی ملیشیا کے سربراہ مقتدیٰ الصدر نے کہا ہے کہ ’قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانا جہاد کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے لیکن یہ ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرے گا۔‘
انھوں نے اپنے پیروکاروں کو عراق کی حفاظت کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی کی۔
تاہم مشرقِ وسطی کے دیگر ممالک جیسے کہ قطر، سعودی عرب اور مصر کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
لبنانی گروہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلوانا دنیا بھر میں پھیلے تمام جنگجوؤں کا فرض ہے۔
تاہم شام کی جانب سے سامنے آنے والے ردِ عمل میں اس حملے کو ’بزدلانہ کارروائی‘ قرار دیا گیا ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ@REALDONLADTRUMP
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کے بعد اپنا ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’جنرل قاسم سلیمانی نے ایک طویل مدت کے دوران ہزاروں امریکیوں کو ہلاک یا بری طرح سے زخمی کیا ہے، اور وہ بہت سے لوگوں کو ہلاک کرنے کی سازشیں کر رہا تھا۔۔۔ لیکن وہ پکڑا گیا۔‘
تصویر کے کاپی رائٹ@REALDONALDTRUMP
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ 'وہ (جنرل سلیمانی) بلواسطہ یا بلاواسطہ بڑی تعداد میں ایرانی مظاہرین کی ہلاکت سمیت لاکھوں افراد کی موت کا ذمہ دار تھا۔ اگرچہ ایران کبھی بھی اس کا صحیح طور پر اعتراف نہیں کر سکے گا، لیکن سلیمانی کو ملک میں نفرت اور خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ایرانی اتنے غمگین نہیں ہے جتنا قائدین بیرونی دنیا کو یقین دلائیں گے۔ اسے کئی برس پہلے ہی ختم کر دینا چاہئے تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ان کی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باوجوہ سے قاسم سلیمانی کو اپنے دفاع میں ختم کرنے سے متعلق بات ہوئی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایرانی حکمرانوں کے اقدامات کی وجہ سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے اور امریکہ خطے میں اپنے مفادات، عملے ،تنصیبات اور اپنے حریفوں کے تحفظ کے اپنے عزم پر قائم ہے اور وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
تصویر کے کاپی رائٹWWW.TWITTER.COM/@SECPOMPEO
امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس سے اپنے دفاع کے لیے اٹھائے گئے صدر ٹرمپ کے اقدام یعنی قاسم سلیمانی کے خاتمے سے متعلق بات ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جرمنی کو بھی ایرانی حکومت کی طرف سے جاری فوجی اشتعال انگیزی پر تشویش لاحق ہے۔ امریکہ اب بھی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے پر عزم ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹWWW.TWITTER.COM/@SECPOMPEO
جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے مشرقی وسطیٰ کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں ہونے والے حالیہ واقعات پر گہری تشویش ہے اور یہ واقعات خطے کے استحکام اور امن کے لیے خطرہ ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں میں سے ہیں، جن پر عمل کیا جانا چاہئے۔ اس ضمن میں یکطرفہ اقدامات اور طاقت کے استعمال سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق، تمام فریقوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، صورتحال میں کشیدگی کو تعمیری انداز میں کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور سفارتی ذرائع سے معاملات کا حل تلاش کریں۔
برطانوی دفترِ خارجہ نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'ہم نے ہمیشہ سے قاسم سلیمانی کی سربراہی میں ایرانی القدس فورس کی جانب سے جارحیت کے خطرے کو مدِ نظر رکھا ہے۔'
ان کی ہلاکت کے بعد ہم تمام فریقوں کو کشیدگی کے ختم کرنے کا مشورہ دیں گے۔ مزید کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ@BERNIESANDERS
تاہم اس اعلامیہ میں سکائی نیوز کی اس خبر کا ذکر نہیں تھا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ برطانوی ملٹری نے خطے میں اپنی 'سکیورٹی اور تیاری' بڑھا دی ہے۔ وزیرِ دفاع کی جانب سے بھی اس خبر کی تصدیق ہونا باقی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدارتی دوڑ میں ڈیموکریٹک امیدوار برنی سینڈرز نے اپنی ساتھی امیدواروں الزبتھ وارن اور جو بائیڈن کی طرح فضائی حملہ کرنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔
انھوں نے عراق کی جنگ کے خلاف اپنے مؤقف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ حملہ 'ہمیں مشرقِ وسطیٰ میں تباہ کن جنگ کے قریب لے جائے گی جس سے ان گنت جانوں اور کھربوں ڈالرز کا زیاں ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب رپبکلن رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ کیون مکارتھی نے کہا کہ سلیمانی ایک دہشت گرد ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ہماری افواج نے ایران اور پوری دنیا کو یاددہانی کرائی ہے کہ ہم امریکہ کے خلاف ہونے والے حملوں کو ہر صورت جواب دیں گے۔
تصویر کے کاپی رائٹ@GOPLEADER
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رمیضان شریف نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ایک 'سخت ردِعمل' دیا جائے گا۔
انھوں نے جمعہ کی صبح مقامی ٹیلی ویژن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 'آج اسرائیلیوں اور امریکیوں نے تمام بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے ایک جرم کر دیا ہے۔'
خیال رہے کہ ایران اسرائیل کو اپنا روایتی دشمن سمجھتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ابھی غم کی حالت میں ہیں لیکن ’غاصب، صیہیونی امریکہ سے بدلہ لینے کا عظم بہت مضبوط ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'امریکیوں اور صیہونیوں کی وقتی خوشی بہت جلد غم میں تبدیل ہو جائے گی۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایک نئے دور کا آغاز کرے گی اور ایسے بہت سے اہلکار ہیں جو ان کی وراثت سنبھالنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نتنیاہو یونان سے اپنے دورہ مختصر کر کے وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔
اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے حوالے سے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے اسرائیل کے پاس اپنے دفاع کا حق ہے اسی طرح امریکہ کے پاس بھی اپنے دفاع کا حق موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی امریکی شہریوں سمیت متعدد بے گناہ افراد کی موت کے ذمہ دار تھے۔ ’وہ (جنرل سلیمانی) اپنے اور حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور صدر ٹرمپ کو ان کے خلاف فوری، طاقت ور اور فیصلہ کن کارروائی کرنے کا مکمل کریڈٹ جاتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل امریکہ کی امن اور اپنے دفاع کی جدوجہد میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ امریکہ کے حریف چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمعہ کے روز سامنے آنے والے ردِ عمل میں تمام قوّتوں، خاص کر امریکہ کو، تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کہا ہے۔
آج کل نتنیاہو ایتھنز میں یونان اور سائپرس کے درمیان ایک گیس پائپ لائن بنانے کے حوالے سے معاہدہ کرنے گئے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’بین الاقوامی تعلقات میں جارحیت کی مسلسل مخالفت کی ہے۔‘
روس کے دفترِ خارجہ نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 'امریکی حملے کے باعث سلیمانی کی ہلاکت کو ایک غیر محتاط قدم کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے پورے خطے میں تناؤ کی کیفیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔'
'سلیمانی نے ایران سے وفاداری نبھاتے ہوئے قومی مفادات کا دفاع کیا۔ ہم اس موقع پر ایران کے عوام سے بھرپور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔'
تیسری عالمی جنگ چھڑنے کا خدشہ
ساتھ ہی ماہرین کی جانب سے اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ کے یورپی اتحادیوں نے امریکہ کی اس کارروائی پر تنقید کر دی تو پھر کیا ہو گا؟
کالم نگار اور عالمی امور پر گہری نظر رکھنے والے وجاحت علی کہتے ہیں کہ ’اگر ہمارے یورپی اتحادیوں نے امریکہ کے سلیمانی کو قتل کرنے کے فیصلے پر تنقید کی اور ایران کے جوہری معاہدے پر قائم رہے تو ٹرپ کا ردِعمل کیا ہو گا؟‘
تصویر کے کاپی رائٹ@WAJAHATALI
سوشل میڈیا پر جہاں اس حملے کے حوالے سے بات کی جا رہی ہے، وہیں یہ بحث بھی ہو رہی ہے کہ کیا اس امریکی اقدام کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ جنگ کے خدشات بڑھ جائیں گے اور کیا یہ کشیدگی تیسری عالمی جنگِ کا پیش خیمہ تو ثابت نہیں ہو گی۔
امریکی سینیٹر ایڈ مارکی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے سلیمانی کی ہلاکت 'بڑی، دانستہ اور خطرناک کشیدگی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔'
'صدر ٹرمپ نے امریکی افواج سمیت خطے میں موجود عام لوگوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈال دی ہیں۔ ہم اس کشیدگی کو فوراً ختم کرنا ہو گا۔'
اس کے علاوہ مشرق وسطی پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار اور مصنف ولی نصر کے مطابق جنرل سلیمانی خطے میں کافی مقبول تھے اور ان کی ہلاکت کے بعد ایران پر جوابی کارروائی کرنے کے لیے کافی دباؤ ہوگا۔
تصویر کے کاپی رائٹTWITTER/VALI_NASR
دوسری جانب کتاب 'دی شیڈو وار' کے مصنف اور کالم نگار جیمز شیوٹو کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران حالیہ کشیدگی کے باعث آمنے سامنے آتے ہیں تو یہ امریکہ کے لیے کسی کسی بھی دوسری جنگ سے مختلف ہو گی
'ایران میں بڑھتی کشدیدگی امریکہ کے لیے کسی بھی دوسری جنگ سے مختلف ہو گی۔ ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہ خطے میں اور اقوام عالم میں سویلین اور خارجہ امور سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملوں کے علاوہ بحری جہازوں، پائپ لائنز، دیگر تنصیبات اور سائبر حملوں کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔'
تاہم ایران کے پاسدارنِ انقلاب کے حوالے سے لکھی گئی مقبول کتاب 'وین گارڈ آف دی امام' کے مصنف افشون اوسٹووار کہتے ہیں کہ 'اب جنگ ہو گی۔'
تصویر کے کاپی رائٹTWITTER/JIMSCIUTTO
جہاں تک امریکہ میں اس قدم پر عوامی ردعمل کا تعلق ہے تو جنرل سلیمانی کے کردار اور ان کو ہلاک کرنے کے فیصلے پر رائے منقسم ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ@GIACOMONYT
جہاں کچھ مغربی حلقے ان کی موت کو مشرقِ وسطی کےحالات میں ایک اہم پیش رفت مانتے ہیں، زیادہ تر کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس قدم سے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔
کئی امریکی سیاست دانوں نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر لیا، جس کا خمیازہ انھیں بھگتنا پڑے گا۔
تصویر کے کاپی رائٹ@CHRISMURPHYCT
امریکی سینیٹر کرس مرفی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’سلیمانی امریکہ کا دشمن تھا، سوال یہ نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ رپورٹس کے مطابق کیا امریکہ نے کسی کنگریشنل منظوری کے بغیر ہی ایران کے دوسرے سب سے مضبوط شخص کی ہلاکت کی اجازت دے دی یہ جانتے ہوئے کہ اس سے خطے میں بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے؟