Monday, 17 December 2018

لاہور سی ایم پنجاب سردار عثمان خان بزدار کا سو روزہ پلان پر پیشرفت کا جائزہ

بارتھی اور فاضلہ میں ریسکیو سروسز کا آغاز

تونسہ شریف وزیر اعلی کے آبائی علاقہ بارتھی اور فاضلہ کچھ میں ریسکیو سروس کا آغاز

تونسہ شریف. ریسکیو سروس کا افتتاح ڈسٹرکٹ ریسکیو آفیسر ڈاکٹر ناطق حیات غلزئی نے کیا

تونسہ شریف. ریسکیو انچارج تونسہ اسامہ زیشان بھی انکے ہمراہ تھے

تونسہ شریف. قبائلی علاقے جلد مکمل سٹیشن کی تعمیر کا کا شروع ہوگا. ڈاکٹر ناطق حیات

تونسہ شریف. بارتھی اور فاضلہ کے عوام کو رسیکیو تمام سہولتیں میسر کیجاٰئینگی.ریسکیو انچارج اسامہ زیشان

تونسہ شریف. دو ایمبولینس اور چار ریسکیو ہر وقت سٹیشن پر موجود رہیں گے.ڈاکٹر ناطق حیات

تونسہ شریف. میڈیکل ٹیکنیشن اور ڈرایور بھی ہمہ وقت موجود رہیں گے.

Sunday, 16 December 2018

تحصیل کوہ سلیمان اور ھیڈ کوارٹر کے مابین قریبا دوسو کلومیٹر کا وقفہ کیوں

تحصیل کوہ سلیمان کی کشتی ایک بار پھر ہچکولوں میں # ڈی جی خان اور تونسہ شریف کے غربی دامن میں پڑے لاکھوں نفوس پر مشتمل غریب عوام اور درجنوں قبائلی قوموں کی پہچان کوہ سلیمان  جو کہ کچھ عرصہ قبل تحصیل ٹرائیبل ایریا کے نام سے منسوب تھا ان دور دراز علاقے کے عوام کو مشکلات سے بچنے کیلئے اس علاقے کو الگ تحصیل کا درجہ دیا گیا تھا لہذا اس تحصیل میں تمن بزدار تمن قیصرانی تمن کھوسہ اور تمن لیغاری کے اکثر آبادی شامل ہے جسے الگ تحصیل سابق صدر اور چیف آف آرمی سٹاف جرنل پرویز مشرف کے دور میں بنایا گیا تھا جو دو ہزار تیرہ کے الیکشن کے  بعد ختم کر دی گئ جو ایک بار پھر دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں تمن بزدار کے سردار  سردار عثمان خان بزدار کے کامیابی اور چیف منسٹر پنجاب بننے کے بعد ان بے بس قبائلی عوام کو اپنے کامیابی کا شمع جلتا ہوا نظر آرہا تھا اور ان مظلوم قبائلیوں نے اپنے دشوار گزار علاقے اور آنے والے مستقبل کیلئے بہت سے سہارے اپنے دل میں لیئے بیٹھے تھے جو عثمان خان بزدار کے سر پر سی ایم پنجاب کا سہرا اور عوام کو درپیش مشکلات سے نکلنے  کا سہارا لیا ہوا تھا ان قبائلی عوام کو اپنے ستر سالوں کے طویل دکھوں کا مداوا ختم ہوتے ہوئے نظر آنے لگے تھے اپنے علاقے اور اپنے بچوں کی کامیابی کیلئے پرجوش قبائلی عوام کافی خوش نظر آتے تھے جو آجکل دھندلا دھندلا سا نظر آنے لگا اور ٹرائیبل ایریا کے بیچارہ مظلوم عوام کے امیدیں دم توڑتے ہوئے نظر آنے لگی ہیں چیف منسٹر پنجاب سردار عثمان خان بزدار کا گزشتہ ہفتے اپنے آبائ علاقہ بارتھی کے دورہ کے دوران تحصیل ٹرائیبل کوہ سلیمان کا اعلان کرکے عوام کے دل تو جیتے لیکن دو دن سے جاری تحصیل کوہ سلیمان کی نوٹیفکیشن نے ایک بار پھر ہنگامہ کھڑا کر دیا نوٹیفکیشن میں صاف لکھا ہے تحصیل کا ہیڈ کواٹر ڈیرہ غازیخان ہوگا جوکہ ان کوہ سلیمان کے غریب باسیوں کیلئے ڈیرہ غازیخان کا ہیڈ کواٹر کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی اس تحصیل کا بارڈر جنوب میں وہوا جنوب مغرب سے صوبہ بلوچستان کا ضلع موسی خیل ٹچ کرتا ہے ان بیروزگار اور غریب عوام کیلئے ڈیرہ غازیخان جانا کسی صورت برداشت سے باہر ہے جو کہ پہلے سے ان قبائلی عوام کے کام تحصیل تونسہ سے ہوا کرتے ہیں جو انہی علاقوں سے پچاس سے ساٹھ کلومیٹر کا فاصلہ بنتا ہے اگر تحصیل کوہ سلیمان کے ہیڈ کواٹر ڈیرہ غازیخان منتقل کر دی گئ تو ان بیچارہ عوام کو120سے 140کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑیگا جو کہ نہایت ظلم 


اور زیادتی کا باعث بنیگا گزشتہ روز اتفاقا یکجا بزدار عوام کے بہت سے قبائلی عمائدین عوامی مجمے سے ملاقات ہوئ جن کے زبان پر ایک ہی لفظ سننے کو ملا سی ایم پنجاب عثمان خان بزدار کو چاہئیے ہمیں ہمارا حق دیں اگر دے نہیں سکتے تو چھیننا نہیں چاہئیے تحصیل کوہ سلیمان کے لاکھوں عوام بڑوں بچوں بوڑھوں کو اپنے گھر اور در سے گھسیٹ کر ڈیرہ غازیخان تک مت لے جائیں یا تو پھر ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دو یا ہمارے حال پر ترس کرو پی ٹی آئ حکومت کہتی تو ہے ہم عوام کے حقوق عوام کے دہلیز تک پہنچائیں گے ہم کوہ سلیمان کے قبائلی مظلوم غریب بے بس عوام کا دہلیز کے حقوق تو دور کی بات اس صورت حال میں غریب عوام کا دہلیز بھی چھیننا جارہا ہے جو کہتے تھے لاہور نے ہمیں پسماندہ رکھا اب یہ بات الٹ نظر آنے لگا ہے بیماری اپنی جان سے پیدا ہوتا ہے علاج بھی خود کرنا پڑتا ہے ہمیں اجالا تو نظر نہیں آتا نوالا چھینا ہوا ضرور دیکھنے کو مل رہا شکواہ نہیں کسی سے کسی سے گلہ نہیں قسمت میں نہیں تھا جو وہ ہمیں ملا نہیں

Tuesday, 13 November 2018

بلوچوں کے گم شدہ ہزاروں افراد کا کوئ پتہ نہیں پنجاب میں چرائے گئے کیلے والے پچےکے ساتھ وفاقی وزہر کی ہمدردی

افسوس پاکستان میں اپنے عوام کے ظلم اور مساوی برتری ایک طرف پنجاب میں مظاھروں میں ایک پھل فروش بچے کے پھلوں کو کھانے اور نقصان کرنے  پر وزیر موصوف نے اس بچے کو میڈیا پر لاکر پورا دنیا کو دکھایا کہ اسکے ساتھ یہ ظلم ہوا ہے ہم بہی اس واقعہ کا مزمت کرتے ہیں نہی ہونا چاھئے  لیکن
دوسری طرف بلوچستان کی یہ معصوم بلوچ بچی جسکے بھائی  دن کے روشنی .میں غائب ہوگئے
اسکے لئے کسی ٹی وی چینل نے لائیو کورج نہی کی کوئی اسکا تکلیف پوچھنے.نہی آیا معلوم ھے کیوں ؟؟؟
کیونکہ اس بچی کا تعلق پنجاب سے نہی بلکہ بلوچستان سے ہیں  اور اس کیمپ میں بیٹھے ان بہنوں کا تعلق بہی پنجاب سے نہی بلوچستان سے ہیں جنکے پیارے غائب ہیں
  پھر اتنا دور بلوچستان میں
حکومت وزراء میڈیا کیوں انکے پاس جاتے ؟

اسرائیلی جارحیت کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع

لاہور # اسرائیلی جارحیت کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع ہوگئی، پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی کنول لیاقت ایڈووکیٹ نے قرارداد جمع کرائی۔
یہ بھی لازمی پڑھیں: غلطی کسی کی، سزا کا مستحق کوئی اور ۔۔۔
ایڈووکیٹ کنول لیاقت نے قرارداد جمع کراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں ظلم، بربریت اور اسلام دشمنی کی تاریخ رقم کی ہے، جو انسانیت سوزی کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نےکہا کہ اسرائیلی حملوں سے نہتے مسلمان اور معصوم بچے شہید ہوتے ہیں، پنجاب اسمبلی کا ایوان اسرائیلی ظالمانہ رویے اور گھناؤنے جرم کی بھر پور مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عالمی عدالت انصاف پر زور ڈالا جائے کہ اسرائیل کو انسانیت سوز کارروائیوں سے باز رہنے کی تنبیہ کی جائے بصورت دیگر سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔

اسرائیلی جارحیت کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع

لاہور # اسرائیلی جارحیت کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع ہوگئی، پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی کنول لیاقت ایڈووکیٹ نے قرارداد جمع کرائی۔
یہ بھی لازمی پڑھیں: غلطی کسی کی، سزا کا مستحق کوئی اور ۔۔۔
ایڈووکیٹ کنول لیاقت نے قرارداد جمع کراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں ظلم، بربریت اور اسلام دشمنی کی تاریخ رقم کی ہے، جو انسانیت سوزی کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نےکہا کہ اسرائیلی حملوں سے نہتے مسلمان اور معصوم بچے شہید ہوتے ہیں، پنجاب اسمبلی کا ایوان اسرائیلی ظالمانہ رویے اور گھناؤنے جرم کی بھر پور مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عالمی عدالت انصاف پر زور ڈالا جائے کہ اسرائیل کو انسانیت سوز کارروائیوں سے باز رہنے کی تنبیہ کی جائے بصورت دیگر سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔

Monday, 5 November 2018

پاکستان کے کوہ پیماؤں کی روداد

پاکستانی کوہ پیما: ’پہاڑوں کے بادشاہ‘ مگر اعتراف سے محروم

نیپال کے شرپا کہلانے والے لوگ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے غیر ملکی کوہ پیماؤں کے ہمراہ ان کا سامان لے کر چلتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے پہاڑی سلسلوں کی بلند چوٹیوں کو سر کرنے کے شوقین ملکی اور غیرملکی کوہ پیماؤں کو مقامی پہاڑی یا کوہستانی افراد کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ شرپا ہوں یا پاکستان کے کوہستانی، یہ حضرات اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر مہم جوئی کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔
اس خطرناک سفر میں کئی افراد نے شدید برفانی موسموں میں اپنی جانیں بھی ضائع کی ہیں اور کئی ایک کو تو عمر بھر کی معذوری کا بھی سامنا رہا ہے۔ ایسے جری مہم جو افراد میں سے ایک فضل علی بھی ہیں، اور یہ دنیا کے واحد شخص ہیں، جنہوں نے تین مرتبہ کے ٹو کی چوٹی سر کی ہے۔ کے ٹو نامی چوٹی کو ’ہلاکت خیز پہاڑ‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے کیونکہ اس کی بلندی تک پہنچنے والا کوئی بھی راستہ آسان نہیں ہے۔
پاکستانی کوہ پیما فضل کریم کے ٹو کی مہم جوئی کے دوران سن 2008 میں ہلاک ہو گئے تھے
اس وقت چالیس برس کی عمر کے فضل علی کو کوہ پیمائی کرتے ہوئے بیس برس ہو گئے ہیں۔ کوہ پیماؤں کے ہمراہ پہاڑی راستوں پر سامان برداری اور رہنمائی کرنا اُن کا پیشہ ہے۔ انہوں نے کے ٹو کو سن 2014، 2017 اور 2018 میں سر کیا ہے۔ وہ کے ٹو کی انتہائی خطرناک ڈھلانوں پر مختصر سی جگہ پر غیر ملکی کوہ پیماؤں کے لیے کھانا پکانے کے علاوہ کسی تنگ درے یا راستے کے برفباری کے باعث بند ہو جانے کے بعد کسی دوسرے راستے سے متعلق معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔
گِنیس ورلڈ ریکارڈ کے ایبرہارڈ ژُورگالسکی کا کہنا ہے کہ کوہ پیمائی کے شعبے میں فضل علی واحد مہم جو ہیں، جنہیں ’سفاک پہاڑ‘ کے ٹو کو تین مرتبہ سر کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ دنیا کے پیشہ ور مہم جو افراد میں فضل علی کو ایک معتبر حوالے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستانی کوہ پیماؤں کی مدد کرنے والی کمیونٹی میں بھی ان کو بہت تکریم حاصل ہے۔
ایک بلند پاکستانی چوٹی کو سر کرنے والے کوہ پیماؤں کا خیمہ
گِنیس بُک آف ورلڈ ریکارڈز میں اپنا نام شامل کیے جانے پر فضل علی نے مسرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے تاسف کے ساتھ کہا کہ ملک کے اندر اُن کے اس اعزاز کو کبھی بھی کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر ملکی کوہ پیما بھی ابتدا میں بہت وعدے کرتے ہیں، لیکن کام نکل جانے کے بعد وہ بھی اُن جیسے افراد کو بھول جاتے ہیں۔ علی کے مطابق غیر ملکی کوہ پیما اُن کی رہنمائی میں چوٹیاں سر کرتے ہیں اور بلندی پر پہنچ کر اپنی تصویریں اکیلے بنواتے ہیں، جو حقیقت سے انکار کے برابر ہے۔
پاکستان کا شمالی پہاڑی علاقہ تین پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے ملاپ کی جگہ بھی ہے۔ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے تین اسی علاقے میں واقع ہیں۔ کے ٹو ان میں سے ایک ہے، جس کی بلندی 8611 میٹر( 28251 فٹ) ہے۔

Monday, 8 October 2018

ھیڈلائن

https://www.instagram.com/p/BooJ1XHhx0W/?utm_source=ig_share_sheet&igshid=1rgt57pd48a46

Friday, 14 September 2018

کرکٹ ٹیم کو آئندہ سرفراز احمد کو قیادت سونپنے کا عندیہ

لاہور(سٹیٹ ویوز)سابق پاکستانی کرکٹر معین خان کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد نے اپنی قیادت میں درجن سے زائد نوجوان پلیئرزکوصلاحیتوں کے اظہارکے مواقع فراہم کیے. کپتان کی جانب سے دیے گئے اعتماد کی بدولت نوجوان پلیئرز میچ ونرز کے روپ میں سامنے آئے۔
میرے خیال میں سرفرازاحمد طویل عرصے کیلیے کپتانی کے حقدار ہیں تاکہ وہ بھرپوراعتماد کے ساتھ قومی ٹیم کوفتوحات کے ٹریک پرگامزن رکھ سکیں۔
سابق کرکٹر معین خان نے سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک کپتان مقررکرنے کا مطالبہ کردیا۔سابق کپتان کا کہنا ہے کہ سرفراز کی زیر قیادت نوجوان پلیئرز میچ ونرزکے روپ میں سامنے آئے، طویل عرصے تک قیادت کا اعلان کرنے سے اعتماد میں اضافہ اور ٹیم کی کارکردگی میں نکھار آئے گا۔
ورلڈ کپ 1992 کی فاتح ٹیم کے رکن، سابق وکٹ کیپر اور کپتان نے کہاکہ ورلڈ کپ 2019 میں گرین شرٹس کی بہتر کارکردگی کیلئے ضروری ہے کہ انھیں میگا ایونٹ تک قومی ٹیم کا مقررکرنے کا اعلان کردیا جائے۔۔
سرفراز احمد پاکستانی ٹیم کی قیادت شاندار انداز میں کررہے ہیں، وہ ایک فائٹر ہیں اور انھوں نے تمام فارمیٹس میں ٹیم کی باگ ڈور عمدگی سے سنبھالی ہے، پی سی بی انتظامیہ سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک پاکستان ٹیم کا کپتان مقرر کردے اور اس کے ساتھ کسی نوجوان کرکٹر کو نائب قائدکی حیثیت سے گروم کرے تاکہ وقت پڑنے پر وہ ٹیم کی ذمے داری سنبھال سکے۔
سابق کپتان کا کہنا تھاکہ وکٹ کیپر بیٹسمین نے پوری ٹیم میں فائٹنگ اسپرٹ پیدا کی ہے اور شاہینوں نے دنیائے کرکٹ کی بڑی ٹیموں کے خلاف ذہنی مضبوطی کیساتھ فتوحات سمیٹیں، قومی ٹیم نے اپنے اسی اسپرٹ کے ساتھ چیمپئنز ٹرافی اور ٹرائی سیریز میں آسٹریلیا کیخلاف فائنل میں کم بیک کیا، ایسی مثالیں پہلے کم ہی ملتی ہیں

کرکٹ ٹیم کو آئندہ سرفراز احمد کو قیادت سونپنے کا عندیہ

لاہور(سٹیٹ ویوز)سابق پاکستانی کرکٹر معین خان کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد نے اپنی قیادت میں درجن سے زائد نوجوان پلیئرزکوصلاحیتوں کے اظہارکے مواقع فراہم کیے. کپتان کی جانب سے دیے گئے اعتماد کی بدولت نوجوان پلیئرز میچ ونرز کے روپ میں سامنے آئے۔
میرے خیال میں سرفرازاحمد طویل عرصے کیلیے کپتانی کے حقدار ہیں تاکہ وہ بھرپوراعتماد کے ساتھ قومی ٹیم کوفتوحات کے ٹریک پرگامزن رکھ سکیں۔
سابق کرکٹر معین خان نے سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک کپتان مقررکرنے کا مطالبہ کردیا۔سابق کپتان کا کہنا ہے کہ سرفراز کی زیر قیادت نوجوان پلیئرز میچ ونرزکے روپ میں سامنے آئے، طویل عرصے تک قیادت کا اعلان کرنے سے اعتماد میں اضافہ اور ٹیم کی کارکردگی میں نکھار آئے گا۔
ورلڈ کپ 1992 کی فاتح ٹیم کے رکن، سابق وکٹ کیپر اور کپتان نے کہاکہ ورلڈ کپ 2019 میں گرین شرٹس کی بہتر کارکردگی کیلئے ضروری ہے کہ انھیں میگا ایونٹ تک قومی ٹیم کا مقررکرنے کا اعلان کردیا جائے۔۔
سرفراز احمد پاکستانی ٹیم کی قیادت شاندار انداز میں کررہے ہیں، وہ ایک فائٹر ہیں اور انھوں نے تمام فارمیٹس میں ٹیم کی باگ ڈور عمدگی سے سنبھالی ہے، پی سی بی انتظامیہ سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک پاکستان ٹیم کا کپتان مقرر کردے اور اس کے ساتھ کسی نوجوان کرکٹر کو نائب قائدکی حیثیت سے گروم کرے تاکہ وقت پڑنے پر وہ ٹیم کی ذمے داری سنبھال سکے۔
سابق کپتان کا کہنا تھاکہ وکٹ کیپر بیٹسمین نے پوری ٹیم میں فائٹنگ اسپرٹ پیدا کی ہے اور شاہینوں نے دنیائے کرکٹ کی بڑی ٹیموں کے خلاف ذہنی مضبوطی کیساتھ فتوحات سمیٹیں، قومی ٹیم نے اپنے اسی اسپرٹ کے ساتھ چیمپئنز ٹرافی اور ٹرائی سیریز میں آسٹریلیا کیخلاف فائنل میں کم بیک کیا، ایسی مثالیں پہلے کم ہی ملتی ہیں

Sunday, 9 September 2018

تونسہ شریف سے ٹرائیبل ایریا

ٹرائیبل ایریا کے عوام کیلئے میٹرو جو مسلم لیگ کے دور میں بنا کر اہل عوام کو دے دی

Monday, 3 September 2018

ڈی جی خان میں ٹیکنالوجی نے عدالتی نظام آسان بنا دیا

ڈیرہ غازی خان میں عدالتی نوٹسز کی اطلاع یابی کے لیے عدالتی اہلکاروں کو موبائل فون فراہم کردیے گئے۔تیرہ خواتین سمیت122 اہلکار نوٹسز کی تعمیل اب جدید طریقے سے کرائیں گے۔
ڈیرہ غازی خان میں عدالتی نوٹسزکی تعمیل اب موبائل فون کے ذریعے باآسانی ہوگی۔یہ طریقہ کار ایسا ہے کہ دو نمبری بھی نہ چل سکے گی۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شفیق الرحمٰن نےبتایاکہ عدالت عالیہ نے ماتحت عدلیہ کے تعمیلی اسٹاف کو پہلے مرحلے میں موٹرسائیکل اور دوسرے مرحلے میں اب موبائل فون دیے ہیں تاکہ عدالتی نظام میں تیزی آئے، عدالتی عملہ نوٹسز کی تعمیل کے وقت سیلفی بھی بنائے گا تاکہ کنفرم ہو کہ نوٹس اصل آدمی تک پہنچ گیا ہے۔
عدالتی اہلکارکاکہناہےکہ جدید طریقے سےعدالتی نظام میں مزید بہتری آئے گی۔پہلے نوٹسز کی تعمیل میں کافی دشواری ہوتی تھی۔ اب  موٹرسائیکل اور موبائل فون کےذریعے مقدمات کو جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔
عدالتی نظام میں ہونے والی اصلاحات سے نہ صرف انصاف کی جلد فراہمی ممکن ہوگی بلکہ عرصہ دراز سے زیرالتواء مقدمات کو جلد نمٹانے میں بھی مدد ملے گی۔ http://intl.yukbacaberita.com/ur-pk/detail/2263795667763601?app=browser_detailrec&uc_param_str=dnfrpfbivesvmtsscpgimibtbmntniladsnwktch&entry=browser%2Cbrowser&entry1=shareback&entry2=page_share_btn&comment_stat=1

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کا انتخاب کل ہوگا

لاہور( ٹرائیبل نیوز) چیئرمین پی سی بی کا انتخاب کل ہوگا ،  تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئیں،احسان مانی کے بلا مقابلہ چیئرمین بننے کا امکان ہے۔
,
چیئرمین پی سی بی کے انتخاب کےلئے الیکشن کمشنر پی سی بی  جسٹس ریٹائرڈ افضل حیدر کی نگرانی میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں تمام تیاریاں مکمل کر لی  گئیں ۔
,
کل صبح 11 بجے کاغذات نامزدگی جمع ہوں گے  ،  گورننگ بورڈ کے 9 ارکان میں سے کوئی بھی چیئرمین کا الیکشن لڑ سکتا ہے اور 9 ارکان ہی ووٹ ڈالیں گے ۔
,
ان 9 ارکان میں سے میں دو  کی نامزدگی وزیر اعظم نے کی ہے  جب کہ دیگر 7 میں سے 4 ادارے واپڈا،کے آر ایل،حبیب بینک،سوئی سدرن گیس کے علاوہ تین ریجنز لاہور،فاٹا اورکوئٹہ کے صدور شامل ہیں ۔
,
سیالکوٹ ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن میں ایڈہاک کے باعث نمائندگی نہیں ہوسکے گی، احسان مانی کے مقابلہ میں کاغذات جمع ہونے کی صورت میں الیکشن دوپہر ایک بجےہوگا،تاہم ان کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کے قوی امکانات ہیں

Share image

پاکستان میں نوابی ریاستیں

نوابوں کا اختیار برصغیر سے اگست 1947ء میں قانون آزادی ہند 1947 کے تحت برطانیہ کی واپسی پر برطانوی راج کے تحت سینکڑوں نوابی ریاستیں ان تمام ماتحت اتحاد اور دیگر معاہدوں جو برطانوی راج کے ساتھ کیے گئے تھے سے مکمل آزاد ہو گئیں۔ وہ نو آزاد ریاستوں بھار "پاکستان کی نوابی ریاستیں" on @Wikipedia: https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA%DB%8C%DA%BA?wprov=sfta1

بھارت نے پاکستان کو بڑی پیشکش کردی

http://intl.yukbacaberita.com/ur-pk/video_detail/2067837407864238?channel_id=100&app=browser_card&uc_param_str=dnfrpfbivesvmtsscpgimibtbmntniladsnwktch&entry=browser&entry1=shareback&entry2=page_share_btn&comment_stat=1

وزیر اعظم عمران کے نام اہم پیغام


آپ کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونا مبارک ہو!آپ تبدیلی کے نعرے پر آئے ہیں ‘ہماری دعا ہے کہ آپ کی برپا کی ہوئی تبدیلیاں ملک وملّت کے لیے بہتر ثابت ہوں ‘ آپ سے ایک بے ضرر سی تبدیلی کی فرمائش ہم بھی کرنا چاہتے ہیں ‘ وہ یہ ہے :
اسلام میں ہفتہ وار تعطیل کا کوئی تصور نہیں ‘لیکن عالم انسانیت نے اپنی آسانی کے لیے ہفتہ وار تعطیل کا شعار اختیار کرلیا ہے‘سو بیشتر ممالک میں ہفتے میں پانچ دن کام اور دو دن تعطیل ہوتی ہے ‘تاکہ لوگ آرام کر کے تازہ دم ہوجائیںاور اپنے ضروری کام بھی اس دوران نمٹا لیں۔ پس اس شعار کو اختیار کرنے میں کوئی شرعی قباحت بھی نہیں اور ہمارے ہاں بھی یہی رائج ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہمارے ہاں ہفتہ وار تعطیل اتوار کو ہوا کرتی تھی اور ظاہر ہے کہ یہ شعار ہم نے برطانوی راج سے ورثے میں پایا تھا۔ اسلام میں بھی جمعۃ المبارک کی لازمی تعطیل کا کوئی تصور نہیں۔‘قرآنِ کریم میں صرف اتنا حکم ہے : ”اے مومنو! جب نمازِ جمعہ کے لیے ندا دی جائے ‘تو اللہ کے ذکر (یعنی نماز )کی طرف دوڑے چلے آئو اور (محدود وقت کے لیے )کاروبار کو چھوڑ دو‘یہ تمہارے لیے بہتر ہے ‘اگر تم جانو‘پھر جب نماز ادا کرلی جائے‘ تو تم زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرو تاکہ تم فلاح پائو‘‘۔اللہ کے فضل کا ایک معنی یہ ہے کہ روزی کے حصول کی جستجو کرو‘یعنی نمازِ جمعہ کی ادائی کے لیے دنیاوی کاروبار پرایک محدود وقت کے لیے جو بندش لگائی گئی تھی‘ وہ نماز سے فراغت کے بعد اٹھا دی گئی ہے۔
قرآنِ کریم میں بعض مقامات پر امر کا صیغہ اباحت کے معنی میں بھی آیا ہے۔ جمعۃ المبارک اسلامی شعائر میں سے ہے ‘ہفتے کا یہ واحد دن ہے ‘ جس کے احکام اورفضیلت کو بیان کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ”سورۃ ُالجمعہ‘‘ نازل فرمائی ‘ اس کا دوسرا رکوع مکمل احکامِ جمعہ سے متعلق ہے۔نمازِ جمعہ کے ترک پر رسول اللہﷺ نے سخت وعید فرمائی ہے :(1)آپ ﷺ نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: لوگ نمازِ جمعہ کو ترک کرنے سے باز آجائیں ‘ ورنہ اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں پر ضرور مہر لگا دے گا‘پھر وہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے‘‘(2)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” جس نے سستی کی بنا پر تین جمعے چھوڑ دیے ‘(اس کے وبال کے طور پر) اللہ اُس کے دل پر مہر لگا دے گا‘‘۔
(3): ”ہم (دنیا میں) بعثت کے اعتبار سے آخری امت ہیں اور قیامت کے دن محشر میں حضوری کے اعتبار سے سب سے پہلے ہوں گے ‘سوائے اس کے کہ اُن (یہود ونصاریٰ)کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اورہمیں اُن کے بعد دی گئی ‘ پھر اس (جمعہ کے )دن ان پر نماز فرض کی گئی ‘ انہوں نے اس میں اختلاف کیا ‘تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں (اس کی فضیلت کو سمجھ پانے کی) ہدایت عطا فرمائی اور لوگ ہمارے پیچھے رہے ‘یہود نے اگلے دن (ہفتے) کو اختیار کرلیا اور نصاریٰ نے اس کے بعد والے دن (یعنی اتوار کو اختیار کرلیا)‘‘۔اس حدیث کا منشا یہ ہے کہ یہود ونصاریٰ جمعۃ المبارک کے شرف سے محروم ہوگئے اور انہوں نے بالترتیب ہفتے اور اتوار کو اپنے مذہبی تقدس کے لیے اختیار کرلیا ؛چنانچہ یہودی ہفتے کے دن اور نصاریٰ اتوار کے دن اپنی اپنی عبادت گاہ میں عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں ۔ان گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ ہفتے اور اتوار کے دن کے ساتھ یہودونصاریٰ کا مذہبی تقدس کا رشتہ قائم ہے ‘جبکہ ہماری یہ نسبت جمعۃ المبارک کے ساتھ ہے ‘ لیکن ہم نے اپنے مقدس دن کو چھوڑ کر یہود ونصاریٰ کے مقدس ایام کو ہفتہ وار تعطیل قرار دے ڈالا ۔
1977ء کی تحریکِ نظامِ مصطفی ﷺ کے دوران اُس وقت کے وزیراعظم جنابِ ذوالفقار علی بھٹو نے چند اقدامات کا اعلان کیا ‘ان میں جمعے کی ہفتہ وار تعطیل ‘شراب کی ممانعت اورقِمار پر مبنی گھڑدوڑکی ممانعت وغیرہ شامل تھے۔ بعد میں جب نواز شریف صاحب کو 1997ء کے انتخابات میں دو تہائی اکثریت ملی ‘تو انہوں نے قوم کے نام اپنے پہلے خطاب میں جمعۃ المبارک کی تعطیل کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ۔ہمارے نزدیک کسی حکمران کے زوال کے زمینی اسباب توہوتے ہی ہیں اور وہ سب کو معلوم ہیں ‘لیکن قدرت کی طرف سے مافوق الاسباب بھی کچھ فیصلے ہوتے ہیں ‘ہماری نظر میں اُن کے زوال کے ماورائی اسباب میں سے ایک جمعۃ المبارک کی تعطیل کی منسوخی بھی تھی ‘اسی طرح جنرل (ر) پرویز مشرف صاحب کا اقتدار اپنے پورے عروج پر تھا کہ انہوں نے حدودِ الٰہی کو چھیڑا ‘پھراُن کے زوال کا سفر شروع ہوا ۔
اُن کے زوال کے زمینی اسباب میں عدلیہ کو کنٹرول میں لانا شامل تھا ‘لیکن مافوق الاسباب کچھ قدرت کے بھی فیصلے تھے ‘ کیونکہ انہوں نے کسی تحدید وتوازن کے بغیر فحاشی کے فروغ کے لیے سب دروبند کھول دیے اور آج پوری قوم اُسے بھگت رہی ہے ‘جو لوگ قدرت کے غیر مرئی فیصلوں پر یقین نہیں رکھتے‘ وہ ہماری باتوں کا تمسخر اڑاتے ہیں ‘وہ ایسا کرسکتے ہیں / حسن بزدار ٹرائیبل ایریا

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201