آپ کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونا مبارک ہو!آپ تبدیلی کے نعرے پر آئے ہیں ‘ہماری دعا ہے کہ آپ کی برپا کی ہوئی تبدیلیاں ملک وملّت کے لیے بہتر ثابت ہوں ‘ آپ سے ایک بے ضرر سی تبدیلی کی فرمائش ہم بھی کرنا چاہتے ہیں ‘ وہ یہ ہے :
اسلام میں ہفتہ وار تعطیل کا کوئی تصور نہیں ‘لیکن عالم انسانیت نے اپنی آسانی کے لیے ہفتہ وار تعطیل کا شعار اختیار کرلیا ہے‘سو بیشتر ممالک میں ہفتے میں پانچ دن کام اور دو دن تعطیل ہوتی ہے ‘تاکہ لوگ آرام کر کے تازہ دم ہوجائیںاور اپنے ضروری کام بھی اس دوران نمٹا لیں۔ پس اس شعار کو اختیار کرنے میں کوئی شرعی قباحت بھی نہیں اور ہمارے ہاں بھی یہی رائج ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہمارے ہاں ہفتہ وار تعطیل اتوار کو ہوا کرتی تھی اور ظاہر ہے کہ یہ شعار ہم نے برطانوی راج سے ورثے میں پایا تھا۔ اسلام میں بھی جمعۃ المبارک کی لازمی تعطیل کا کوئی تصور نہیں۔‘قرآنِ کریم میں صرف اتنا حکم ہے : ”اے مومنو! جب نمازِ جمعہ کے لیے ندا دی جائے ‘تو اللہ کے ذکر (یعنی نماز )کی طرف دوڑے چلے آئو اور (محدود وقت کے لیے )کاروبار کو چھوڑ دو‘یہ تمہارے لیے بہتر ہے ‘اگر تم جانو‘پھر جب نماز ادا کرلی جائے‘ تو تم زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرو تاکہ تم فلاح پائو‘‘۔اللہ کے فضل کا ایک معنی یہ ہے کہ روزی کے حصول کی جستجو کرو‘یعنی نمازِ جمعہ کی ادائی کے لیے دنیاوی کاروبار پرایک محدود وقت کے لیے جو بندش لگائی گئی تھی‘ وہ نماز سے فراغت کے بعد اٹھا دی گئی ہے۔
قرآنِ کریم میں بعض مقامات پر امر کا صیغہ اباحت کے معنی میں بھی آیا ہے۔ جمعۃ المبارک اسلامی شعائر میں سے ہے ‘ہفتے کا یہ واحد دن ہے ‘ جس کے احکام اورفضیلت کو بیان کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ”سورۃ ُالجمعہ‘‘ نازل فرمائی ‘ اس کا دوسرا رکوع مکمل احکامِ جمعہ سے متعلق ہے۔نمازِ جمعہ کے ترک پر رسول اللہﷺ نے سخت وعید فرمائی ہے :(1)آپ ﷺ نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: لوگ نمازِ جمعہ کو ترک کرنے سے باز آجائیں ‘ ورنہ اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں پر ضرور مہر لگا دے گا‘پھر وہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے‘‘(2)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” جس نے سستی کی بنا پر تین جمعے چھوڑ دیے ‘(اس کے وبال کے طور پر) اللہ اُس کے دل پر مہر لگا دے گا‘‘۔
(3): ”ہم (دنیا میں) بعثت کے اعتبار سے آخری امت ہیں اور قیامت کے دن محشر میں حضوری کے اعتبار سے سب سے پہلے ہوں گے ‘سوائے اس کے کہ اُن (یہود ونصاریٰ)کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اورہمیں اُن کے بعد دی گئی ‘ پھر اس (جمعہ کے )دن ان پر نماز فرض کی گئی ‘ انہوں نے اس میں اختلاف کیا ‘تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں (اس کی فضیلت کو سمجھ پانے کی) ہدایت عطا فرمائی اور لوگ ہمارے پیچھے رہے ‘یہود نے اگلے دن (ہفتے) کو اختیار کرلیا اور نصاریٰ نے اس کے بعد والے دن (یعنی اتوار کو اختیار کرلیا)‘‘۔اس حدیث کا منشا یہ ہے کہ یہود ونصاریٰ جمعۃ المبارک کے شرف سے محروم ہوگئے اور انہوں نے بالترتیب ہفتے اور اتوار کو اپنے مذہبی تقدس کے لیے اختیار کرلیا ؛چنانچہ یہودی ہفتے کے دن اور نصاریٰ اتوار کے دن اپنی اپنی عبادت گاہ میں عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں ۔ان گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ ہفتے اور اتوار کے دن کے ساتھ یہودونصاریٰ کا مذہبی تقدس کا رشتہ قائم ہے ‘جبکہ ہماری یہ نسبت جمعۃ المبارک کے ساتھ ہے ‘ لیکن ہم نے اپنے مقدس دن کو چھوڑ کر یہود ونصاریٰ کے مقدس ایام کو ہفتہ وار تعطیل قرار دے ڈالا ۔
1977ء کی تحریکِ نظامِ مصطفی ﷺ کے دوران اُس وقت کے وزیراعظم جنابِ ذوالفقار علی بھٹو نے چند اقدامات کا اعلان کیا ‘ان میں جمعے کی ہفتہ وار تعطیل ‘شراب کی ممانعت اورقِمار پر مبنی گھڑدوڑکی ممانعت وغیرہ شامل تھے۔ بعد میں جب نواز شریف صاحب کو 1997ء کے انتخابات میں دو تہائی اکثریت ملی ‘تو انہوں نے قوم کے نام اپنے پہلے خطاب میں جمعۃ المبارک کی تعطیل کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ۔ہمارے نزدیک کسی حکمران کے زوال کے زمینی اسباب توہوتے ہی ہیں اور وہ سب کو معلوم ہیں ‘لیکن قدرت کی طرف سے مافوق الاسباب بھی کچھ فیصلے ہوتے ہیں ‘ہماری نظر میں اُن کے زوال کے ماورائی اسباب میں سے ایک جمعۃ المبارک کی تعطیل کی منسوخی بھی تھی ‘اسی طرح جنرل (ر) پرویز مشرف صاحب کا اقتدار اپنے پورے عروج پر تھا کہ انہوں نے حدودِ الٰہی کو چھیڑا ‘پھراُن کے زوال کا سفر شروع ہوا ۔
اُن کے زوال کے زمینی اسباب میں عدلیہ کو کنٹرول میں لانا شامل تھا ‘لیکن مافوق الاسباب کچھ قدرت کے بھی فیصلے تھے ‘ کیونکہ انہوں نے کسی تحدید وتوازن کے بغیر فحاشی کے فروغ کے لیے سب دروبند کھول دیے اور آج پوری قوم اُسے بھگت رہی ہے ‘جو لوگ قدرت کے غیر مرئی فیصلوں پر یقین نہیں رکھتے‘ وہ ہماری باتوں کا تمسخر اڑاتے ہیں ‘وہ ایسا کرسکتے ہیں / حسن بزدار ٹرائیبل ایریا
Welcome To Tibalnews1. Here Uou Will Find Every Local National News Of DGKhan Taunsa And Koh Suleiman Kn A Blink Of An Eye With All Languages Kinds Of Articles.
Monday, 3 September 2018
وزیر اعظم عمران کے نام اہم پیغام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Featured post
کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش
http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201
-
لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگ...
-
یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بش...
-
قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو ...
No comments:
Post a Comment