شادیاں ، مال ، رزق : ماہ رمضان اور مسلمانوں کے سب گناہوں کی معافی :
ہمارے گناہ ہم سے نعمتوں کے چھن جانے یا اُن کی دوری کا سبب بنتے ہیں ۔ یقین نہیں آتا تو ذرا نظر دوڑا کر معاشرے کی طرف دیکھئے ۔
۱) جنسی گناہ: لوگ طرح طرح کے جنسی گناہوں میں مُبتلا ہیں ۔ کچھ مثالیں انڈین ، پاکستانی یا ہالی ووڈ کی فلمیں اور ڈرامے دیکھ کر جنسی تسکین حاصل کرنا ، نا محرموں کی طرف نظر ڈالنا اور خود لذّتی وغیرہ جیسے اعمال ہیں ۔
نتیجہ : ان گناہوں کا صاف اور واضح نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان شادی جیسی نعمت سے دور ہو چکے ہیں ۔ دور ہونے کا کیا مطلب ہے؟ شریعت نے شادی کی عمر لڑکوں کیلئے ۱۴ یا ۱۵ سال اور لڑکیوں کیلئے ۹ یا ۱۰ سال رکھی ہے ۔ یہی وہ عمر ہے جب لڑکا اور لڑکی جنسی ضروریات محسوس کرنا شروع بھی کر دیتے ہیں اور ان کی شادی ہو بھی جانی چاہئے ، لیکن یہی شادی معاشرے میں ۹۹ فیصد حد تک ۲۰ سال سے اور بعض حالات میں ۳۰ سال سے بھی اوپر جا چکی ہے ۔ یعنی اس عمر تک لڑکے لڑکی کی شادی کا تصور ہی محال ہے کہ بروقت شادی کر کے معاشرہ اُنہیں گناہوں سے بچا لے ۔
حل: ماہ رمضان ہے ، صدق دل سے توبہ کرو ، تا کہ یہ نعمت معاشرے کو میسر آ سکے ۔ والدین اور اولاد سب مل کر کوشش کریں ۔ اس کا مزید تذکرہ آئندہ چل کر بھی آئے گا۔۔
۲) رشتے داروں سے بدسلوکی: طرح طرح سے رشتوں کو اذیّت دینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اُن کو تنگ کرنے کیلئے زبان کا غلط استعمال کرنے میں پہل کی جاتی ہے ۔ بہت حد تک اس کی وجہ بھی فلمیں ڈرامے وغیرہ ہی ہیں ، جن میں یہی کام بکثرت کئے جاتے ہیں ۔ ساس بہو کو اذیت دیتی ہے تو بدلے میں بہو ساس کے خلاف زہر اگلتی ہے ۔ وغیرہ وغیرہ
نتیجہ: معاشرہ سکون سے دور ہو چکا ہوا ہے ۔ ہر کوئی لڑنے میں ہی بہادری سمجھتا ہے ۔ جب کہ سکون تو نہ لڑنے اور غصے کو قابو میں رکھنے میں ہے ۔ علاوہ ازیں، اس بات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان تنہا ہو جاتا ہے ، رشتے داروں سے قطع تعلقی خود کو بھی دنیوی الجھنوں کا شکار کر دیتی ہے ، جس سے صحت بگڑ جاتی ہے اور عمر گھٹ جاتی ہے ۔ جبھی تمام مسلمانوں کی کتب میں روایات میں بھی یہی ملتا ہے کہ رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے انسان کے رزق اور عمر دونوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔
حل: کسی رشتے دار سے بدسلوکی میں پہل مت کریں اور ماہ رمضان میں اللہ تعالی سے توبہ کے طلبگار ہوں
۳) مال دُنیا کی ہوس: رشتے داروں کو مالی نُقصان دیا جاتا ہے ، جائیدادیں ہڑپ لی جاتی ہیں ، تا کہ اپنے مال میں اضافہ ہو سکے ۔ شادی بھی مال دنیا کے لالچ کی وجہ سے ہی دیر سے کی جاتی ہے ۔۔۔ لڑکے والے جہیز کا لالچ رکھتے ہیں اور لڑکی کی خوب سیرتی اور تقوی نہیں دیکھتے ، اور لڑکی والے بھی لڑکے کی جاب اور اس کا معاشرے میں اسٹیٹس دیکھتےہیں اور اس کا دین اور تقویٰ نہیں رکھتے ۔۔۔ یہ سب شیطانی چالیں ہیں ۔۔۔ جب کہ قرآن کی آیت کہتی ہے کہ شادی کرو اور صبر کرو تو اللہ تمہیں غنی بھی کر دے گا ۔۔۔
نتیجہ : اس مال دنیا کی ہوس کا نتیجہ بھی رشتے داروں سے دوری ہوتا ہے ، جس سے عمر اور رزق دونوں کم ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر جن رشتے داروں سے زیادتی کی گئی ہو ، وہ بھی ساتھ دینے سے اپنا ہاتھ روک لیتے ہیں ، کیونکہ انہیں یہی زیادتیاں یاد ہوتی ہیں ۔ پھر اگر آپ کو کوئی قتل بھی کر دے تو رشتے داروں کو افسوس نہیں ہوتا ، نا ہی وہ آپ کا کوئی ساتھ دیتے ہیں ۔
حل: ماہ رمضان کے صدقے میں اللہ سے رو رو کر معافی مانگیں ، اور قطع تعلقی کی بجائے صلح رحمی سے کام لیں ۔
۴) حسد: دوسروں سے حسد کیا جاتا ہے ، جو کہ حرام ہے ۔۔۔ اسی حسد کی وجہ سے دوسروں کو نقصان دینے یا ان کا بُرا چاہنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
نتیجہ: حسد کر کر کے انسان کی اپنی صحت خراب رہتی ہے ، کیونکہ وہ اپنا ہی خون جلاتا رہتا ہے اور خود کو منفی سرگرمیوں میں مصروف کر لیتا ہے ۔ نتیجتا موت جلد واقع ہو جاتی ہے ۔۔۔
حل: ماہ رمضان ہے ، توبہ کیجئے ۔۔۔!
ماحصل : کیا آپ نے معاشرے پر نظر دوڑا کر دیکھا کہ کس طرح گناہوں نے آپ سے جائز جنسی لذت یعنی شادی ، آپ کے رزق اور آپ کی زندگی کی عظیم ترین نعمتوں کو آہستہ آہستہ آپ سے دور کر دیا ہوا ہے اور مسلسل دور کئے جا رہے ہیں؟
تو اب ہمیں ان سب باتوں کا کیسے پتہ چلا ۔۔۔؟ عزیزو، مولائے متقیان امام حضرت علیؑ کا فرمان ہے کہ : جب انسان کسی بھی شئے کو ناجائز طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ اس کو سزا دینے کیلئے اسی شئے کو اس سے اُتنا ہی دور بھی کر دیتا ہے ۔
سبحان اللہ ! وقتی طور پر جنسی لذت لے بھی لی تو کلی طور پر شادی کی نعمت سے محروم رہے ۔۔۔ دھوکا دے کر پیسہ حاصل کر بھی لیا تو وہ بھی عارضی رہا اور اس کے بدلے میں صحت اور زندگی ہی گنوا دیئے ، یا پیسہ ہونے کے باوجود ذہنی سکون سے ہاتھ دھو بیٹھے اور پیسہ سکون ہی نہ دے سکا ۔۔۔
تو عقل استعمال کیجئے اور ماہ رمضان میں توبہ کر کے ان گناہوں کو مت دہرائیے اور شیطان کی ناک رگڑیں اور اس کے منہ پر تھوکیں ۔۔۔ وہ صرف دھوکا دیتا آیا ہے آپ کو ۔۔۔ جب کہ اللہ کے پاس آپ کیلئے سکون بھی ہے ، رزق بھی اور زندگی بھی ۔۔۔۔
شیطان چاہتا ہے کہ آپ مر جائیں اور مفلس رہیں ، جب کہ اللہ چاہتا ہےکہ آپ کو زندگی ملے اور رزق حلال حاصل ہو ، وہ بھی جنت کے ٹھکانے کے ساتھ ۔۔۔ ورنہ جہنم ۔۔۔ وقتی طور پر حالات خراب بھی ہیں تو صبر کریں ۔۔۔ اللہ نے اپنے نبیوں کے صبر کو بھی ضائع نہیں کیا ۔۔۔ اور آپ کے صبر کوبھی ضائع نہیں کرے گا ۔۔۔ آئیے عزم کریں اور دنیا کو ایک بہتر رہنے کی جگہ بنائیں ۔۔۔
ہماری تحریریں تمام انسانوں کیلئے بلا تفریق مذہب و فرقہ ہوا کرتی ہیں ۔ لہذا آپ بھی یہی سمجھ کر تمام انسانوں تک پہنچائیں اور میری مرحومہ والدہ کیلئے ضرور ہو سکے تو ایک بار کم از کم درود شریف پڑھ دیجئے اور اگر زیادہ ہو سکے تو ایک بار الحمد اور تین بار سورہ توحید پڑھ دیجئے ۔۔۔ بہت شکریہ ! والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔
تحریر و پیشکش: ایڈمن ریئل اسلام ۔
ہمارے گناہ ہم سے نعمتوں کے چھن جانے یا اُن کی دوری کا سبب بنتے ہیں ۔ یقین نہیں آتا تو ذرا نظر دوڑا کر معاشرے کی طرف دیکھئے ۔
۱) جنسی گناہ: لوگ طرح طرح کے جنسی گناہوں میں مُبتلا ہیں ۔ کچھ مثالیں انڈین ، پاکستانی یا ہالی ووڈ کی فلمیں اور ڈرامے دیکھ کر جنسی تسکین حاصل کرنا ، نا محرموں کی طرف نظر ڈالنا اور خود لذّتی وغیرہ جیسے اعمال ہیں ۔
نتیجہ : ان گناہوں کا صاف اور واضح نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان شادی جیسی نعمت سے دور ہو چکے ہیں ۔ دور ہونے کا کیا مطلب ہے؟ شریعت نے شادی کی عمر لڑکوں کیلئے ۱۴ یا ۱۵ سال اور لڑکیوں کیلئے ۹ یا ۱۰ سال رکھی ہے ۔ یہی وہ عمر ہے جب لڑکا اور لڑکی جنسی ضروریات محسوس کرنا شروع بھی کر دیتے ہیں اور ان کی شادی ہو بھی جانی چاہئے ، لیکن یہی شادی معاشرے میں ۹۹ فیصد حد تک ۲۰ سال سے اور بعض حالات میں ۳۰ سال سے بھی اوپر جا چکی ہے ۔ یعنی اس عمر تک لڑکے لڑکی کی شادی کا تصور ہی محال ہے کہ بروقت شادی کر کے معاشرہ اُنہیں گناہوں سے بچا لے ۔
حل: ماہ رمضان ہے ، صدق دل سے توبہ کرو ، تا کہ یہ نعمت معاشرے کو میسر آ سکے ۔ والدین اور اولاد سب مل کر کوشش کریں ۔ اس کا مزید تذکرہ آئندہ چل کر بھی آئے گا۔۔
۲) رشتے داروں سے بدسلوکی: طرح طرح سے رشتوں کو اذیّت دینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اُن کو تنگ کرنے کیلئے زبان کا غلط استعمال کرنے میں پہل کی جاتی ہے ۔ بہت حد تک اس کی وجہ بھی فلمیں ڈرامے وغیرہ ہی ہیں ، جن میں یہی کام بکثرت کئے جاتے ہیں ۔ ساس بہو کو اذیت دیتی ہے تو بدلے میں بہو ساس کے خلاف زہر اگلتی ہے ۔ وغیرہ وغیرہ
نتیجہ: معاشرہ سکون سے دور ہو چکا ہوا ہے ۔ ہر کوئی لڑنے میں ہی بہادری سمجھتا ہے ۔ جب کہ سکون تو نہ لڑنے اور غصے کو قابو میں رکھنے میں ہے ۔ علاوہ ازیں، اس بات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان تنہا ہو جاتا ہے ، رشتے داروں سے قطع تعلقی خود کو بھی دنیوی الجھنوں کا شکار کر دیتی ہے ، جس سے صحت بگڑ جاتی ہے اور عمر گھٹ جاتی ہے ۔ جبھی تمام مسلمانوں کی کتب میں روایات میں بھی یہی ملتا ہے کہ رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے انسان کے رزق اور عمر دونوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔
حل: کسی رشتے دار سے بدسلوکی میں پہل مت کریں اور ماہ رمضان میں اللہ تعالی سے توبہ کے طلبگار ہوں
۳) مال دُنیا کی ہوس: رشتے داروں کو مالی نُقصان دیا جاتا ہے ، جائیدادیں ہڑپ لی جاتی ہیں ، تا کہ اپنے مال میں اضافہ ہو سکے ۔ شادی بھی مال دنیا کے لالچ کی وجہ سے ہی دیر سے کی جاتی ہے ۔۔۔ لڑکے والے جہیز کا لالچ رکھتے ہیں اور لڑکی کی خوب سیرتی اور تقوی نہیں دیکھتے ، اور لڑکی والے بھی لڑکے کی جاب اور اس کا معاشرے میں اسٹیٹس دیکھتےہیں اور اس کا دین اور تقویٰ نہیں رکھتے ۔۔۔ یہ سب شیطانی چالیں ہیں ۔۔۔ جب کہ قرآن کی آیت کہتی ہے کہ شادی کرو اور صبر کرو تو اللہ تمہیں غنی بھی کر دے گا ۔۔۔
نتیجہ : اس مال دنیا کی ہوس کا نتیجہ بھی رشتے داروں سے دوری ہوتا ہے ، جس سے عمر اور رزق دونوں کم ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر جن رشتے داروں سے زیادتی کی گئی ہو ، وہ بھی ساتھ دینے سے اپنا ہاتھ روک لیتے ہیں ، کیونکہ انہیں یہی زیادتیاں یاد ہوتی ہیں ۔ پھر اگر آپ کو کوئی قتل بھی کر دے تو رشتے داروں کو افسوس نہیں ہوتا ، نا ہی وہ آپ کا کوئی ساتھ دیتے ہیں ۔
حل: ماہ رمضان کے صدقے میں اللہ سے رو رو کر معافی مانگیں ، اور قطع تعلقی کی بجائے صلح رحمی سے کام لیں ۔
۴) حسد: دوسروں سے حسد کیا جاتا ہے ، جو کہ حرام ہے ۔۔۔ اسی حسد کی وجہ سے دوسروں کو نقصان دینے یا ان کا بُرا چاہنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
نتیجہ: حسد کر کر کے انسان کی اپنی صحت خراب رہتی ہے ، کیونکہ وہ اپنا ہی خون جلاتا رہتا ہے اور خود کو منفی سرگرمیوں میں مصروف کر لیتا ہے ۔ نتیجتا موت جلد واقع ہو جاتی ہے ۔۔۔
حل: ماہ رمضان ہے ، توبہ کیجئے ۔۔۔!
ماحصل : کیا آپ نے معاشرے پر نظر دوڑا کر دیکھا کہ کس طرح گناہوں نے آپ سے جائز جنسی لذت یعنی شادی ، آپ کے رزق اور آپ کی زندگی کی عظیم ترین نعمتوں کو آہستہ آہستہ آپ سے دور کر دیا ہوا ہے اور مسلسل دور کئے جا رہے ہیں؟
تو اب ہمیں ان سب باتوں کا کیسے پتہ چلا ۔۔۔؟ عزیزو، مولائے متقیان امام حضرت علیؑ کا فرمان ہے کہ : جب انسان کسی بھی شئے کو ناجائز طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ اس کو سزا دینے کیلئے اسی شئے کو اس سے اُتنا ہی دور بھی کر دیتا ہے ۔
سبحان اللہ ! وقتی طور پر جنسی لذت لے بھی لی تو کلی طور پر شادی کی نعمت سے محروم رہے ۔۔۔ دھوکا دے کر پیسہ حاصل کر بھی لیا تو وہ بھی عارضی رہا اور اس کے بدلے میں صحت اور زندگی ہی گنوا دیئے ، یا پیسہ ہونے کے باوجود ذہنی سکون سے ہاتھ دھو بیٹھے اور پیسہ سکون ہی نہ دے سکا ۔۔۔
تو عقل استعمال کیجئے اور ماہ رمضان میں توبہ کر کے ان گناہوں کو مت دہرائیے اور شیطان کی ناک رگڑیں اور اس کے منہ پر تھوکیں ۔۔۔ وہ صرف دھوکا دیتا آیا ہے آپ کو ۔۔۔ جب کہ اللہ کے پاس آپ کیلئے سکون بھی ہے ، رزق بھی اور زندگی بھی ۔۔۔۔
شیطان چاہتا ہے کہ آپ مر جائیں اور مفلس رہیں ، جب کہ اللہ چاہتا ہےکہ آپ کو زندگی ملے اور رزق حلال حاصل ہو ، وہ بھی جنت کے ٹھکانے کے ساتھ ۔۔۔ ورنہ جہنم ۔۔۔ وقتی طور پر حالات خراب بھی ہیں تو صبر کریں ۔۔۔ اللہ نے اپنے نبیوں کے صبر کو بھی ضائع نہیں کیا ۔۔۔ اور آپ کے صبر کوبھی ضائع نہیں کرے گا ۔۔۔ آئیے عزم کریں اور دنیا کو ایک بہتر رہنے کی جگہ بنائیں ۔۔۔
ہماری تحریریں تمام انسانوں کیلئے بلا تفریق مذہب و فرقہ ہوا کرتی ہیں ۔ لہذا آپ بھی یہی سمجھ کر تمام انسانوں تک پہنچائیں اور میری مرحومہ والدہ کیلئے ضرور ہو سکے تو ایک بار کم از کم درود شریف پڑھ دیجئے اور اگر زیادہ ہو سکے تو ایک بار الحمد اور تین بار سورہ توحید پڑھ دیجئے ۔۔۔ بہت شکریہ ! والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔
تحریر و پیشکش: ایڈمن ریئل اسلام ۔

No comments:
Post a Comment