کیا ہم کلمہ طیبہ پڑھ کر خوش ہیں کہ ہم مومن مسلمان ہیں کیا ہم بھوکا اور پیاسا رہ کر خوش ہیں کہ ہم نے روزہ رکھا دیندار ہیں کیا ہم نے دو منٹ میں 20 سجدے کیئے ہم خوش ہیں ہم نمازی ہیں نہیں ایسا کوئ بھی نہ مومن ہوسکتا ہے نہ پکا مسلمان کیا کی ہے ہم نے اسلام کی خاطر کیا کبھی آپنے کسی مظلوم کا ساتھ دی کبھی آپنے سچائ کو تھاما کیا کبھی دین محمدی کیلئے آپنے کوئ خاطر خواہ کردار ادا کی افسوس کہ ہم نے کچھ بھی نہیں کی جب اس زندگی سے ہجرت کرجائینگے تو روز محشر ہم اپنے آپکو بخشوانے کیلئے خالق کائنات کو کیا کہیں گے کہ ہم بھی مسلمان ہیں اے مالک ہمیں بخش دے نماز پڑھ کر نکلے تو جھوٹ اور دھوکہ دہی کو شروع کیا روزہ رکھا تو زبان پر جھوٹ دل میں منافقت کلمہ طیبہ پڑھ کر کسی کے دو فٹ زمین کو اپنایا ہرگز یہ اسلام میں نہیں کہ آپکے دل میں منافقت ہو آپ دوسو دانے کا تسبیح لیکر خود کو صوفی ثابت کرنے کی کوشش کریں عمرہ ادا کرکے دوسروں کا حق ماریں کلمہ طیبہ پڑھ کر کسی کی زمین پر قبضہ کریں روزہ رکھ کر جھوٹ بولیں دغابازی کریں اسے اسلام میں بالکل اجازت نہیں ہم نے لمیٹ کو کراس کرکے بہت دور نکل چکے ہیں اپنے بچوں کو حرام کھلا کر کہتے ہیں اولاد نافرمان ہیں مقتول کے ورثاء سے پیسے لیکر اسکا ایف آئ آر نہیں کرتے پیسے لیکر قاتل کو سینے سے لگا کر اسے اپنا دوست بناتے ہیں مظلوم کو انصاف مانگتے مانگتے اسکی نسلیں جوان ہوتی ہیں حتی کہ آنے والے مستقبل کی زندگیاں بھی ختم ہوجاتے ہیں منصفین کے راشی ہونے کی وجہ سے انصاف دینے کے بجائے مظلوموں کو انصاف لینا ہی چھوڑنا پڑتا ہے سوائے چند ایک کے عالموں کو کرسی کے لالچ میں اتنا اندھا بنا دی ہے کہ ہمیں اسلام کا درس دینا ہے وہ بھی چھوڑ دی ہے سوائے سیاسی بیٹھک کے کبھی کسی عالم نے یہ سوچا کہ فلانا راشی ہے اسکے خلاف بولوں وہ ظالم ہے اسے سمجھاؤں وہ زانی ہے اسے روکوں ہاں یہ فتوے ان لوگوں کیلئے ضرور دیئے جاتے ہیں جسکے جیب میں ایک روپیہ نہ ہو جسکے پاس کوئ سرکاری عہدہ نہ ہو جس کا سیاست سے دور دور تک تعلق نہ ہو اگر ہم جاہلوں سے لیکر پڑھے لکھے معزز علماء سبھی اپنے اپنے مفاد کیلئے سب کرتے رہیں تو کیا ہم مومن یا مسلمان کہلاتے ہیں ہمارے پاکستان کے سیاستدانوں کو لے لیں کیا ہم خوش ہیں ہم مسلمان ممالک میں آزاد ہیں کبھی بھی نہیں ہم ایسے غلام ہیں جیسا کہ فرعون کے دور میں ہوا کرتے تھے حالات اس سے بھی بد تر ہیں ہمارے حکمران خود کو زمینی خدا سمجھ بیٹھے ہیں پاکستان کے حکمرانوں بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ علماء کرام کی حالات آپکے سامنے ہے ملک پاکستان اور غریب عوام کو اس نہج پر کس نے پہنچایا اس دور میں دو وقت کا کھانا تقریبا ناممکن ہوتا جارہا ہے انصاف کا گلہ گھونٹ کر اسے کئ عشروں پہلے دفن کیا جاچکا ہے اگر کسی نیک علماء و مشائخ نے ظلم کے خلاف آواز بلند بھی کی تو اسے مارا جاتا ہے یا اسے سلاخوں کے پیچھے سلایا جاتا ہے وگرنہ علماء کرام اپنے بچوں کا مستقبل بناکر ان ظالموں کا دست و بازو بن کر عوام کا گلہ دبانے میں برابر کے شریک ہیں کھلے عام قاتل بیوروکریسی اور سیاست دانوں کے جھولی میں بیٹھ کر کسی کو بھی قتل کرکے پھینک دیتے ہیں اسمبلیوں میں بیٹھے بھیڑیے اسلام کے شکوں میں علماء کرام کو ساتھ لیکر کفر کے کہنے پر بلا جھجک ترمیم کرتے ہیں 2016 میں جب نواز لیگ مولانا فضل الرحمان پیپلز پارٹی نے جہاد کو ہٹانے کی کوشش کی تو سوائے سابق وزیر اعظم #میر_ظفراللہ_جمالی نے کسی نے اختلاف نہیں کی اسنے کہا اللہ کرے شک کی تبدیلی سے پہلے میں مرجاؤں لیکن آپکے اس گھناؤنا ظلم کے ساتھ نہیں دیتا کچھ لوگوں کی وجہ سے پاکستان کے آئین میں اسلام کا شرعی نفاظ محفوظ ہے لیکن وہ بھی محدود وگرنہ اکثر سیاسی مولویان پاکستان کے لالچی حکمرانوں سے ملکر پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مغربی جمہوریت کے طرض پر لاکر کھڑا کرتے اب بھی ہم خوش ہیں کہ ہمارے حکمران ہمارے سیاست دان ہمارے بیوروکریسی ہمارے سیاسی مولوی ہمارے پاکستان کو مکمل اسلامی طور طریقوں اور قرآن مجید کے احکامات کے مطابق ہمیں مضبوط اسلامی ریاست بناکر دینگے اگر یہ لوگ 75 سالوں سے کرپشن کو نا انصافی ظلم و جبر کو بڑھاتے بڑھاتے یہاں تک پہنچا چکے ہیں یہ ہمیں آگے کیا اسلامی مملکت بناکر دینگے ان سے توقع رکھنا بالکل سو% بے سود ہے ہمیں دین سے دور کیا جارہا ہے ہمیں ظلم کے راستے پر لیکر یہ لوگ چل رہے ہیں انصاف کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا گیا پھر بھی ہم کہتے ہیں اللہ تعالی ہم پر ناراض ہے ہم اتنے سخت دل ہو چکے ہیں چند پیسوں کیلئے اپنے والدین کو دشمن سمجھتے ہیں اپنے بھائیوں سے دھوکہ کرکے انکو وراثت سے بے دخل کرتے ہیں اپنے ہمسائیوں پر جیسا ہی دل نے چاہا وہی کرتے ہیں دو سجدے ادا کرکے اپنے آپکو گنج بخش سمجھتے ہیں روزہ رکھ کر خود کو معین الدین چشتی سمجھتے ہیں کسی سائل کو دس روپیہ دیکر حاتم طائ کو کہتے ہیں ہم جیسے سخی آپ نہیں ہوسکتے زخیرہ اندوزی لوٹ مار کرکے عمرہ کی ادائیگی کے بعد خود کو دودھ کا دھلا ہوا سمجھ کر ظلم کو مزید طول دیتے ہیں رشوت لیکر صبح تہجد پر بیٹھ کر اپنے آپکو شاہ سلیمان تونسوی سمجھتے ہیں تھوڑا نہیں پورا سوچیں میرے اور آپکے اس دکھاوا کے عمرہ اور حج نماز و روزہ سے کچھ ہونے والا نہیں ظلم کے ہر حد عبور کرکے کہتے ہیں روز محشر آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین ہماری شفاعت کریگی شفاعت اسکی کی جائیگی جسے مجبوری کے عالم میں کوئ کوتاہی ہوئ ہو جان بوجھ کر ظلم کا بازار لگانے والوں کیلئے سفارش کس چیز کا قرآن مجید کے 30 پارے ہیں یہ ہمارے ہی رہنمائ کیلئے آیا ہوا ہے اگر ہم اسے جھٹلا کر شفاعت کا سوچیں تو یہ ہماری بھول بھی ہے اور ہم حقدار بھی نہیں اللہ تعالی مالک و خالق ہے اگر کسی یہودی و نصرانی کو بخش دے تو اسے کوئ نہیں پوچھ سکتا مگر ہم اپنے آپکو بہت دھوکہ دے رہے ہیں بہت ظلم کررہے ہیں اپنے آپکو جنت سے نکلوا کر جہنم کا ایندھن بننے کیلئے تیار کررہے ہیں بیوی بچوں کو چھوٹی سی غلطی پر کتنا سزا دیتے اور مارتے ہیں اگر نماز نہ پڑھیں روزہ نہ رکھیں تو کوئ بات نہیں کام پر ڈانٹ دین پر سمجھوتہ یہ میرے رب کو قبول نہیں ہمیں اس دنیا پھر بھیجنے کا مقصد اس مالک کی حکم عدولی بجالانا ہے نہ کہ اس کے حکم کے سے بغاوت کرنے کیلئے پیدا فرمایا گیا اگر حکم کی نافرمانی پر سمجھوتہ ہوتا تو ابلیس کو ملعون قرار نہیں دیا جاتا وہ بھی فرشتوں کا سردار تھا زمین کو بالشت بالشت سجدے کیئے لیکن حکم کے برخلاف اسے ہمیشہ کیلئے لعنتی قرار دیکر جنت سے نکالا گیا کیونکہ ہم آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کے امتی ہیں اگر ہم تھوڑا سا کوشش بھی کریں تو یقیننا ہمیں بخشا جائیگا بشرطہ حکم کے خلاف نہیں حکم بجا لانے پر جان بوجھ کر غلطی پر نہیں بھول چوک پر معاف کیا جاسکتا ہے جب تک دل میں محبت یا خوف خدا نہ ہو تو ظاہری عمل بیکار ہے دعا ہے رب جلیل سے کہ ہمیں شیطان کی پکڑ سے محفوظ اور اپنے بتائے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
Welcome To Tibalnews1. Here Uou Will Find Every Local National News Of DGKhan Taunsa And Koh Suleiman Kn A Blink Of An Eye With All Languages Kinds Of Articles.
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Featured post
کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش
http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201
-
لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگ...
-
یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بش...
-
قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو ...

No comments:
Post a Comment