Monday, 10 April 2023

جھوٹی تسلی دینے سے بہتر ہے سچے دل سے ظلم اور ظالموں کا مقابلہ کرو قلم کار حسن خان بزدار



کیا ہم کلمہ طیبہ پڑھ کر خوش ہیں کہ ہم مومن مسلمان ہیں کیا ہم بھوکا اور پیاسا رہ کر خوش ہیں کہ ہم نے روزہ رکھا دیندار ہیں کیا ہم نے دو منٹ میں 20 سجدے کیئے ہم خوش ہیں ہم نمازی ہیں نہیں ایسا کوئ بھی نہ مومن ہوسکتا ہے نہ پکا مسلمان کیا کی ہے ہم نے اسلام کی خاطر کیا کبھی آپنے کسی مظلوم کا ساتھ دی کبھی آپنے سچائ کو تھاما کیا کبھی دین محمدی کیلئے آپنے کوئ خاطر خواہ کردار ادا کی افسوس کہ ہم نے کچھ بھی نہیں کی جب اس زندگی سے ہجرت کرجائینگے تو روز محشر ہم اپنے آپکو بخشوانے کیلئے خالق کائنات کو کیا کہیں گے کہ ہم بھی مسلمان ہیں اے مالک ہمیں بخش دے نماز پڑھ کر نکلے تو جھوٹ اور دھوکہ دہی کو شروع کیا روزہ رکھا تو زبان پر جھوٹ دل میں منافقت کلمہ طیبہ پڑھ کر کسی کے دو فٹ زمین کو اپنایا ہرگز یہ اسلام میں نہیں کہ آپکے دل میں منافقت ہو آپ دوسو دانے کا تسبیح لیکر خود کو صوفی ثابت کرنے کی کوشش کریں عمرہ ادا کرکے دوسروں کا حق ماریں کلمہ طیبہ پڑھ کر کسی کی زمین پر قبضہ کریں روزہ رکھ کر جھوٹ بولیں دغابازی کریں اسے اسلام میں بالکل اجازت نہیں ہم نے لمیٹ کو کراس کرکے بہت دور نکل چکے ہیں اپنے بچوں کو حرام کھلا کر کہتے ہیں اولاد نافرمان ہیں مقتول کے ورثاء سے پیسے لیکر اسکا ایف آئ آر نہیں کرتے پیسے لیکر قاتل کو سینے سے لگا کر اسے اپنا دوست بناتے ہیں مظلوم کو انصاف مانگتے مانگتے اسکی نسلیں جوان ہوتی ہیں حتی کہ آنے والے مستقبل کی زندگیاں بھی ختم ہوجاتے ہیں منصفین کے راشی ہونے کی وجہ سے انصاف دینے کے بجائے مظلوموں کو انصاف لینا ہی چھوڑنا پڑتا ہے سوائے چند ایک کے عالموں کو کرسی کے لالچ میں اتنا اندھا بنا دی ہے کہ ہمیں اسلام کا درس دینا ہے وہ بھی چھوڑ دی ہے سوائے سیاسی بیٹھک کے کبھی کسی عالم نے یہ سوچا کہ فلانا راشی ہے اسکے خلاف بولوں وہ ظالم ہے اسے سمجھاؤں وہ زانی ہے اسے روکوں ہاں یہ فتوے ان لوگوں کیلئے ضرور دیئے جاتے ہیں جسکے جیب میں ایک روپیہ نہ ہو جسکے پاس کوئ سرکاری عہدہ نہ ہو جس کا سیاست سے دور دور تک تعلق نہ ہو اگر ہم جاہلوں سے لیکر پڑھے لکھے معزز علماء سبھی اپنے اپنے مفاد کیلئے سب کرتے رہیں تو کیا ہم مومن یا مسلمان کہلاتے ہیں ہمارے پاکستان کے سیاستدانوں کو لے لیں کیا ہم خوش ہیں ہم مسلمان ممالک میں آزاد ہیں کبھی بھی نہیں ہم ایسے غلام ہیں جیسا کہ فرعون کے دور میں ہوا کرتے تھے حالات اس سے بھی بد تر ہیں ہمارے حکمران خود کو زمینی خدا سمجھ بیٹھے ہیں پاکستان کے حکمرانوں بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ علماء کرام کی حالات آپکے سامنے ہے ملک پاکستان اور غریب عوام کو اس نہج پر کس نے پہنچایا اس دور میں دو وقت کا کھانا تقریبا ناممکن ہوتا جارہا ہے انصاف کا گلہ گھونٹ کر اسے کئ عشروں پہلے دفن کیا جاچکا ہے اگر کسی نیک علماء و مشائخ نے ظلم کے خلاف آواز بلند بھی کی تو اسے مارا جاتا ہے یا اسے سلاخوں کے پیچھے سلایا جاتا ہے وگرنہ علماء کرام اپنے بچوں کا مستقبل بناکر ان ظالموں کا دست و بازو بن کر عوام کا گلہ دبانے میں برابر کے شریک ہیں کھلے عام قاتل بیوروکریسی اور سیاست دانوں  کے جھولی میں بیٹھ کر کسی کو بھی قتل کرکے پھینک دیتے ہیں اسمبلیوں میں بیٹھے بھیڑیے اسلام کے شکوں میں علماء کرام کو ساتھ لیکر کفر کے کہنے پر بلا جھجک ترمیم کرتے ہیں 2016 میں جب نواز لیگ مولانا فضل الرحمان پیپلز پارٹی نے جہاد کو ہٹانے کی کوشش کی تو سوائے سابق وزیر اعظم #میر_ظفراللہ_جمالی نے کسی نے اختلاف نہیں کی اسنے کہا اللہ کرے شک کی تبدیلی سے پہلے میں مرجاؤں لیکن آپکے اس گھناؤنا ظلم کے ساتھ نہیں دیتا کچھ لوگوں کی وجہ سے پاکستان کے آئین میں اسلام کا شرعی نفاظ محفوظ ہے لیکن وہ بھی محدود وگرنہ اکثر سیاسی مولویان پاکستان کے لالچی حکمرانوں سے ملکر پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مغربی جمہوریت کے طرض پر لاکر کھڑا کرتے اب بھی ہم خوش ہیں کہ ہمارے حکمران ہمارے سیاست دان ہمارے بیوروکریسی ہمارے سیاسی مولوی ہمارے پاکستان کو مکمل اسلامی طور طریقوں اور قرآن مجید کے احکامات کے مطابق ہمیں مضبوط اسلامی ریاست بناکر دینگے اگر یہ لوگ 75 سالوں سے کرپشن کو نا انصافی ظلم و جبر کو بڑھاتے بڑھاتے یہاں تک پہنچا چکے ہیں یہ ہمیں آگے کیا اسلامی مملکت بناکر دینگے ان سے توقع رکھنا بالکل سو% بے سود ہے ہمیں دین سے دور کیا جارہا ہے ہمیں ظلم کے راستے پر لیکر یہ لوگ چل رہے ہیں انصاف کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا گیا پھر بھی ہم کہتے ہیں اللہ تعالی ہم پر ناراض ہے ہم اتنے سخت دل ہو چکے ہیں چند پیسوں کیلئے اپنے والدین کو دشمن سمجھتے ہیں اپنے بھائیوں سے دھوکہ کرکے انکو وراثت سے بے دخل کرتے ہیں اپنے ہمسائیوں پر جیسا ہی دل نے چاہا وہی کرتے ہیں دو سجدے ادا کرکے اپنے آپکو گنج بخش سمجھتے ہیں روزہ رکھ کر خود کو معین الدین چشتی سمجھتے ہیں کسی سائل کو دس روپیہ دیکر حاتم طائ کو کہتے ہیں ہم جیسے سخی آپ نہیں ہوسکتے زخیرہ اندوزی لوٹ مار کرکے عمرہ کی ادائیگی کے بعد خود کو دودھ کا دھلا ہوا سمجھ کر ظلم کو مزید طول دیتے ہیں رشوت لیکر صبح تہجد پر بیٹھ کر اپنے آپکو شاہ سلیمان تونسوی سمجھتے ہیں تھوڑا نہیں پورا سوچیں میرے اور آپکے اس دکھاوا کے عمرہ اور حج نماز و روزہ سے کچھ ہونے والا نہیں ظلم کے ہر حد عبور کرکے کہتے ہیں روز محشر آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین ہماری شفاعت کریگی شفاعت اسکی کی جائیگی جسے مجبوری کے عالم میں کوئ کوتاہی ہوئ ہو جان بوجھ کر ظلم کا بازار لگانے والوں کیلئے سفارش کس چیز کا قرآن مجید کے 30 پارے ہیں یہ ہمارے ہی رہنمائ کیلئے آیا ہوا ہے اگر ہم اسے جھٹلا کر شفاعت کا سوچیں تو یہ ہماری بھول بھی ہے اور ہم حقدار بھی نہیں اللہ تعالی مالک و خالق ہے اگر کسی یہودی و نصرانی کو بخش دے تو اسے کوئ نہیں پوچھ سکتا مگر ہم اپنے آپکو بہت دھوکہ دے رہے ہیں بہت ظلم کررہے ہیں اپنے آپکو جنت سے نکلوا کر جہنم کا ایندھن بننے کیلئے تیار کررہے ہیں بیوی بچوں کو چھوٹی سی غلطی پر کتنا سزا دیتے اور مارتے ہیں اگر نماز نہ پڑھیں روزہ نہ رکھیں تو کوئ بات نہیں کام پر ڈانٹ دین پر سمجھوتہ یہ میرے رب کو قبول نہیں ہمیں اس دنیا پھر بھیجنے کا مقصد اس مالک کی حکم عدولی بجالانا ہے نہ کہ اس کے حکم کے سے بغاوت کرنے کیلئے پیدا فرمایا گیا اگر حکم کی نافرمانی پر سمجھوتہ ہوتا تو ابلیس کو ملعون قرار نہیں دیا جاتا وہ بھی فرشتوں کا سردار تھا زمین کو بالشت بالشت سجدے کیئے لیکن حکم کے برخلاف اسے ہمیشہ کیلئے لعنتی قرار دیکر جنت سے نکالا گیا کیونکہ ہم آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کے امتی ہیں اگر ہم تھوڑا سا کوشش بھی کریں تو یقیننا ہمیں بخشا جائیگا بشرطہ حکم کے خلاف نہیں حکم بجا لانے پر جان بوجھ کر غلطی پر نہیں بھول چوک پر معاف کیا جاسکتا ہے جب تک دل میں محبت یا خوف خدا نہ ہو تو ظاہری عمل بیکار ہے دعا ہے رب جلیل سے کہ ہمیں شیطان کی پکڑ سے محفوظ اور اپنے بتائے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

No comments:

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201