Monday, 2 March 2026

دین محمدی صرف شمشیر سے نہیں تو کیسے پوری دنیا میں پھیلا دیا گیا پڑھنے کیلیے کلک کریں

کیا آپ جانتے ہیں اس روح زمین پر اسلام نے جس تیزی سے پھیلا اسکی بنیاد کیا تھے اور اب جس تیزی سے مغدوش ہوتا چلا جارہا اور اسکی بھی کیا وجہ ہو سکتی اگر نہیں جانتے تو آئیے آج تھوڑا سمجھاتا ہوں آج سے تقریبا چودہ سو سال پہلے اس روح زمین پر اسلام بہت کم تھا کہیں کہیں بالکل تھی ہی نہیں جب ہمارے آقائے کائنات نے اسلام کا جھنڈا بلند کی تو اسوقت سوائے چند لوگوں کے اسلامی مجاہدین کے لشکر میں  بہت کم صحابہ کرام رضوان اللہ تھے اور وہ اسلام کی چنگاری کو مکہ معظمہ کے ریگستانوں میں بھڑکا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ چنگاری آہستہ آہستہ بھڑکتا چلا گیا دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی سائے نے پورے عرب کو بہت قلیل مدت میں اپنے لپیٹ میں لے لیا پھر آگے بڑھتے گئے پورے روح زمین پر ایک نور سا رونق افروز منظر ابھرا کوئ بارڈر کوئ ظالم کوئ طاقت اسکے سامنے ٹک نہ سکا اسکی سب سے بڑی وجہ انصاف کے معیار کو متوازن رکھنا پر کسی کے ساتھ ایک جیسا سلوک اسلامی قوانین کے مطابق کوئ کسی سے بڑا یا چھوٹا نہیں سمجھا جاتا کوئ امیر کو کسی غریب سے برتری حاصل نہیں تھا کسی سپہ سالار کو کسی عام انسان پر بلاجواز آف کرنے کی طاقت نہیں تھا 

کسی مسلمان کو کسی بھی غیر مسلم کا حقوق غصب کرنے کا اختیار نہیں تھا کسی امراء کو کسی فقیر پر ڈانٹنے کی طاقت نہیں رہا جب غیر مسلموں نے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے انصاف کو سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک دیکھ کر وہ جان گئے تھے یہی وہ واحد مذہب ہے جو ہمیں ہر قسمی غلامی سے آزادی دلا سکتا یہی وہ واحد مذہب ہے جو ہمیں ہمارا حق دلا سکتا ہے یہی وہ واحد مذہب ہے جسکے سائے میں کسی کو کسی سے برتری نہیں یہ سب دیکھنے کے بعد لوگ جوق در جوق اسلام کی طرف راغب ہوتے چلے گئے اور اسلام کو راہ نجات مان کر اسلامی جھنڈے ئنیچے ہمیشہ کیلئے اپنا مسکن چنا


 کیونکہ جنگوں سے زمینیں ضرور جیتی جاسکتی ہیں مگر ان جیت کو برقرار رکھنا بہت مشکل تھا اصل فتح تو دلوں کا ہے اور دلوں کو صرف کلمہ حق کا عالم بلند کرنے والے دلوں کو فتح کرسکتے ہیں ظلم اور جبر سے اگر کوئ بھی مذہب کے ماننے والے پھلتے پھولتے تو اس دنیا کی تاریخ میں آج تک فرعونوں کی حکمرانی ہوتی اگر ظلم اور جبر سے کوئ سلطنت قائم رہ سکتا تو آج تک اس دنیا پر صلیبیوں کی حکمرانی ہوتی اور مار دھاڑ سے دنیا پر کی گئی قبضہ برقرار رکھا جاتا تو منگولوں کا سلطنت جانے ایک تہائی دنیا پر قبضہ جمالیا مگر وہ آج کہاں ہے لیکن اس دنیا کو فتح کرنے کیلئے دلوں کا فتح لازم ملزوم ہے اور دلوں کو فتح صرف اور صرف اسلام کے وہ مجاھدین فتح کرسکتے ہیں



 جس کے اپنے دلوں میں دین محمدی کا پرچار ہو نور ایمانی سے انکے دلوں کی آنکھیں دیکھ سکتے ہوں مگر آج اسلام کا نام لیوا تو بہت ہیں لیکن اسلامی قوانین کو پس پشت ڈالا گیا ہے کوئ منافقت کا لباس پہنا ہوا ہے تو ڈر کا لبادہ اوڑھ کر ظالموں کے صف میں کھڑا ہے کیونکہ دنیا کی بربادی اب بہت قریب ہے اسلیئے مومن یا مسلمان بننے کیلئے ایمان ضرورت ہے لبادہ نہیں

No comments:

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201