کسی مسلمان کو کسی بھی غیر مسلم کا حقوق غصب کرنے کا اختیار نہیں تھا کسی امراء کو کسی فقیر پر ڈانٹنے کی طاقت نہیں رہا جب غیر مسلموں نے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے انصاف کو سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک دیکھ کر وہ جان گئے تھے یہی وہ واحد مذہب ہے جو ہمیں ہر قسمی غلامی سے آزادی دلا سکتا یہی وہ واحد مذہب ہے جو ہمیں ہمارا حق دلا سکتا ہے یہی وہ واحد مذہب ہے جسکے سائے میں کسی کو کسی سے برتری نہیں یہ سب دیکھنے کے بعد لوگ جوق در جوق اسلام کی طرف راغب ہوتے چلے گئے اور اسلام کو راہ نجات مان کر اسلامی جھنڈے ئنیچے ہمیشہ کیلئے اپنا مسکن چنا
کیونکہ جنگوں سے زمینیں ضرور جیتی جاسکتی ہیں مگر ان جیت کو برقرار رکھنا بہت مشکل تھا اصل فتح تو دلوں کا ہے اور دلوں کو صرف کلمہ حق کا عالم بلند کرنے والے دلوں کو فتح کرسکتے ہیں ظلم اور جبر سے اگر کوئ بھی مذہب کے ماننے والے پھلتے پھولتے تو اس دنیا کی تاریخ میں آج تک فرعونوں کی حکمرانی ہوتی اگر ظلم اور جبر سے کوئ سلطنت قائم رہ سکتا تو آج تک اس دنیا پر صلیبیوں کی حکمرانی ہوتی اور مار دھاڑ سے دنیا پر کی گئی قبضہ برقرار رکھا جاتا تو منگولوں کا سلطنت جانے ایک تہائی دنیا پر قبضہ جمالیا مگر وہ آج کہاں ہے لیکن اس دنیا کو فتح کرنے کیلئے دلوں کا فتح لازم ملزوم ہے اور دلوں کو فتح صرف اور صرف اسلام کے وہ مجاھدین فتح کرسکتے ہیں
جس کے اپنے دلوں میں دین محمدی کا پرچار ہو نور ایمانی سے انکے دلوں کی آنکھیں دیکھ سکتے ہوں مگر آج اسلام کا نام لیوا تو بہت ہیں لیکن اسلامی قوانین کو پس پشت ڈالا گیا ہے کوئ منافقت کا لباس پہنا ہوا ہے تو ڈر کا لبادہ اوڑھ کر ظالموں کے صف میں کھڑا ہے کیونکہ دنیا کی بربادی اب بہت قریب ہے اسلیئے مومن یا مسلمان بننے کیلئے ایمان ضرورت ہے لبادہ نہیں

No comments:
Post a Comment