Friday, 31 August 2018

پاک بھارت کا معرکہ 1965 کی تاریخ

بھارت اور پاکستان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان میں ہونے والی یہ پہلی بین الاقوامی جنگ تھی جس میں ایک فریق (بھارت) نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے فریق ثانی(پاکستان) پر جنگ مسلط کی۔ آپریشن جبرالٹر اس کی بنیادی وجہ تھی۔ 177 روزہ اس جنگ میں دونوں فریق اپنی اپنی کامیابی کا دعوی کرتے ہیں۔


اجمالی معلومات: Indo-Pakistani War of 1965, تاریخ …

جنگ سے پہلے کشیدگی


تقسیم ہند کے بعد ہی سے پاکستان اور بھارت کے  درمیان میں خاصی کشیدگیاں رہیں۔ اگرچہ تمام مسائل میں مسئلہ کشمیر سب سے بڑا مسئلہ رہا  مگر دوسرے سرحدی تنازعات بھی چلتے رہے مثلاRann of Kutch کا مسئلہ جس نے 1956ء میں سر اٹھایا۔ رن آف کچھ بھارتی گجرات کا ایک بنجر  علاقہ ہے، اس مسئلے کا اختتام بھارت کے متنازع علاقے پر دوبارہ قبضے سے ہوا۔ کچھ اخبارات کے مطابق جنوری 1965ء میں پاکستانی سرحدی  محافظوں نے بھارتی علاقے میں گشت شروع کر دیا جس کے بعد 8 اپریل 1965 کو دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سرحدی پوسٹوں کے اوپر حملے شروع کر دیے۔ ابتدا میں دونوں ممالک کی سرحدی پولیس کے درمیان یہ تنازع چلتا رہا مگرجلد ہی دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے آگئیں۔ جون 1965ء میںBritish Prime Minister مسٹر Harold Wilson نے دونوں  ممالک کوقائل کر لیا کہ کشیدگی کم کر کے اپنے مسائل ایک ٹریبونل کی مدد سے حل کریں۔ فیصلے کے مطابق جو بعد میں 1968ء میں آیا پاکستان کو رن آف کچھ کا 350 مربع میل (910 کلومیٹر2) کا علاقہ دیا گیا جبکہ پاکستان نے 3,500 مربع میل (9,100 کلومیٹر2)۔ کے علاقے کا دعویٰ کیا تھا۔


اس کے بعد آپریشن جبرالٹر مزید کشیدگی کا باعث  بنا۔ جس کا پس منظر یہ ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے درگاہ حضرت بل کی بے حرمتی نے  کشمیری مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہوا تھا۔ وادی کشمیر کی حیثیت سے متعلق بھارتی پارلیمان میں پیش ہونے والے قانون کی وجہ سے بھی کشمیری مسلمانوں میں شدید اضطراب کی سے کیفیت تھی اور وہ آزادی کے لیے مستعد نظر آتے تھے، کشمیر کی یہ وہ صورت حال تھی جس سے پاکستان نے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ آپریشن جبرالٹر کے نتائج خاصے خطرناک نکلے اور اسی آپریشن کے بطن سے 1965ء کی پاک بھارت جنگ نے جنم لیا۔

جنگ


25 اگست 1965ء کو 26,000 سے 33,000 پاکستانی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول کو عبور کیا، بھارتی افواج کو، مقامی آبادی نے بتایا کہ  15 اگست کو سرحد عبور کی گئی ہے۔ ابتدائی طور  پر، بھارتی فوج کو کافی کامیابی ملی، توپ خانہ کے ذریعے کی گئی گولہ باری سے بھارت نے تین اہم پہاڑی مقامات پر قبضہ کر لیا۔ اگست کے آخر تک، البتہ فریقین کی ایک جیسی پیشرفت رہی۔ پاکستان نے تتوال، پونچھ اور اوڑی کے علاقوں میں پیش رفت کی جبکہ بھارت نے حاجی پیر پاس میں پاکستانی کشمیر میں 88 کلو میٹر تک قبضہ کر لیا 1 ستمبر 1965ء کو، پاکستان نے ایک جوابی حملے کا آغاز کیا، جسے آپریش گرینڈ سلام کا نام  دیا گیا۔ جس کا مقصد جموں کے اہم شہر اکھنور پر قبضہ کرنا تھا، جہاں سے بھارتی فوجیوں تک رسد کا راستہ اور مواصلاتی سلسلہ کاٹ دیا جاتا۔ ایوب خان نے حساب لگایا کہ، ہندو صحیح وقت اور جگہ پر کھڑے رہنے کا حوصلہ نہیں کریں گے۔


نقصانات کا جائزہ


جنگی نقصانات اور تباہی کے متعلق بھارت اور پاکستان کی جانب سے ایک دوسرے کے بارے میں خاصے مختلف دعوے کیے گئے ہیں۔ ذیل کے جدول میں دونوں ملکوں کے دعووں کا خلاصہ پیش ہے۔


مزید معلومات: بھارت کے دعوے[23], پاکستان کے دعوے[24] …

فوجی اعزازات


جنگی اعزاز


جنگ کے بعد بھارت میں بھارتی فوج کی مختلف یونٹوں کو 16 جنگی اعزازات اور 3 میدان جنگ سے متعلق اعزازات (theatre honour) دیے گئے۔ ان میں سے کچھ یونٹیں درج ذیل ہیں: 


جموں اور کشمیر 1965 (theatre honour)


پنجاب 1965 (theatre honour)


راجستھان 1965 (theatre honour)


اصل اتر


برکی


دوگرائے


حاجی پیر


کالی دھار


او پی ہل


پھلورا


بہادری کے اعزازات


میدان جنگ میں بہادری دکھانے والوں کو بھارت نے Param Vir Chakra اور پاکستان نے نشان حیدر دیا۔


بھارت

کمپنی کوارٹر ماسٹر حوالدار عبد الحامد(بعد از شہادت)


لیفٹینٹ کرنل اردشھیر تارا پورے(بعد از شہادت)


پاکستان

میجر راجہ عزیز بھٹی شہید (بعد از شہادت)


جنگ میں انڈونیشیا کا کردار


1965 کی جنگ میں انڈونیشیا نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ اس وقت کے صدر سوئیکارنو نے ایک جانب تو اندمان اور نکوبار کے جزائر کا محاصرہ کروایا اور پاکستان کی مدد کے لیے فوری طور پر دو آبدوزیں اور دو میزائل بردار کشتیاں روانہ کیں لیکن اس وقت تک پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ہو چکی تھی


عمران خان کرکٹر سے پرائم منسر آف پاکستان


17 اگست 2018ء کو عمران خان 176 ووٹ حاصل کر کے بائیسویں وزیر اعظم پاکستان بن گئے جبکہ ان کے مد مقابل اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے 96 ووٹ حاصل کیے۔ انہوں نے  18 اگست 2018ء کو حلف لیا۔ 188 اگست، کو انہوں نے بیس رکنی کابینہ کا اعلان کیا اور وزیر داخلہ اور وزیر توانائی کا قلمدان خود کے لیے منتخب کیا۔

کابینہ


 تفصیلی مضمون کے لیے عمران خان وزارت ملاحظہ  کریں۔


عمران خان نے حلف لینے کے بعد اپنی کابینہ کا اعلان کر دیا تھا۔ ان کے زیادہ تر مقرر کردہ وزرا پہلے بھی مشرف کے دور میں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔

فلم


عمران خان کی جدو جہد پر 2013ء میں ایک فلمکپتان ریلیز ہوئی، جس میں عمران خان کے 19922ء سے لے کر 20133ء تک کے عوامی تبدیلی تک کے ادوار کو دکھایا گیا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے واضح کیا گیا کہ مذکورہ فلم کی سرمایہ کاری و پیش کاری کا عمران خان اور اس کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ایک قطعی غیر وابستہ منصوبہ ہے جو فلم اور میڈيا سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے بنائی گئی ہے۔


خود نوشت


عمران خان نے اپنی زندگی پر دو کتابیں لکھیں:


Warrior Race: A Journey Through the Land of the Tribal Pathans


میڈیا کو ہڈی نہ ڈالنے پر سی ایم پنجاب عثمان خان بزدار پر پنجابی لابیوں کیلئے عمران خان نے گلے کی ہڈی بنا ڈالی


سردار عثمان احمد بزدار کا وزیر اعلیٰ پنجاب بننا ابھی تک معمہ بنا ہوا ہے۔ وہ ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور پنجاب اسمبلی کا پہلی بار رکن بننے کے بعد اقتدار کا ہما ان کے سر پر بیٹھ گیا۔ سردار عثمان وزیر اعلیٰ کے منصب تک کیسے پہنچ گئے؟ ان کی شخصیت اور وزارت اعلیٰ تک پہنچنے کے اسرار سمجھنے کے لئے ان کے خاندان اور آبائی علاقہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ کا قبائلی علاقہ بزدار قبیلہ کا گڑھ ہے، اس قبیلہ نے تحریک پاکستان میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، ان کے ابائو اجداد میں شامل سردار عطا محمد بزدار 1946میں قانون ساز اسمبلی پنجاب کے ایم ایل اے کامیاب ہوئے اور قانون ساز اسمبلی میں قیام پاکستان کے حق میں آخری ووٹ سردار عطا محمد بزدار نے دیا تھا جس وجہ سے انہیں قائد اعظم کے قریبی ساتھی ہونے کا شرف حاصل ہوا اور قائد اعظم نے ڈیرہ غازی میں ان سے ملاقات کی تھی۔ سردار عطا محمد بزدار کی بڑی بیٹی خالدہ بزدار اور چھوٹی بیٹی شائستہ بزدار پیپلزپارٹی شعبہ خواتین پنجاب کی رہنما لاہور میں مقیم اور سماجی کاموں کے لئے زندگی وقف کر چکی ہیں۔ سردار عثمان بزدار کے دادا سردار دوست محمد خان، بزدار قبیلہ کے چیف اور 1970کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے علاقہ میں سب سے بڑے مخالف اور جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر نذیر شہید کے پینل کے ساتھ بطور امیدوار صوبائی اسمبلی الیکشن میں حصہ لیا، ڈاکٹر نذیر شہید جیت گئے تاہم سردار دوست محمد کامیاب نہ ہو سکے، سردار دوست محمد کے بعد ان کے بیٹے سردار فتح محمد بزدار والد کے جانشین بن گئے، وہ جامعہ کراچی سے ایم اے سیاسیات اور گورنمنٹ ہائی اسکول بارتھی میں ایس ایس ٹی استاد رہ چکے ہیں تاہم سیاست کی وجہ سے ملازمت سے استعفیٰ دے کر ممبر ضلع کونسل ڈیرہ غازی خان سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور پھر 1983-84 میں ضیاء الحق کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے،1985کے غیر جماعتی انتخابات میں رکن پنجاب اسمبلی کامیاب ہو کر حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہو گئے، سردار فتح محمد بزدار دوسری بار پرویز مشرف حکومت میں 2002 میں مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی کامیاب ہوئے اور 2008میں تیسری بار مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر کامیابی کے بعد پنجاب اسمبلی میں فارورڈ بلاک میں شامل ہو کر وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی حمایت کا اعلان کر دیا اور اس وفاداری کی وجہ سے 2013میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ دیا گیا تاہم انھوں نے بڑھاپے کے باعث انتخابی سیاست سے ریٹائرمنٹ لے کر اپنی جگہ پی پی 241ڈیرہ غازی خان صوبائی اسمبلی پنجاب کے لئے بیٹے سردار عثمان بزدار کو امیدوار نامزد کر دیا لیکن انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار تونسہ شریف کے سجادہ نشین خواجہ نظام المحمود کامیاب ہو گئے۔

سردار عثمان احمد بزدار 1969میں تونسہ کے گائوں بارتھی میں پیدا ہوئے، بہائو الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ایم اے سیاسیات اور ایل ایل بی کیا، ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے رکن بھی ہیں تاہم زراعت کے پیشہ سے منسلک اور عملی زندگی کا بیشتر وقت سیاست میں گزرا ہے۔ پرویز مشرف حکومت کے دوران 2001 میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں تحصیل ناظم تونسہ سے سیاست کا آغاز کیا اور 2006میں دوبارہ تحصیل ناظم کامیاب ہو گئے، بعدازاں ضلع کونسل ڈیرہ غازی خان کے رکن بھی رہے، اس دوران نیپا، مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب، لمز یونیورسٹی اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ امریکہ کے تربیتی پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا، سردار عثمان احمد بزدار مسلم لیگ ن سے علیحدگی اختیار کر کے رواں سال عام انتخابات میں آزاد امیدوار الیکشن کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ اس دوران مسلم لیگ ن کے چھ ارکان قومی اسمبلی نے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کر کے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ قائم کر دیا جس کا سرپرست سابق وزیر اعظم بلخ شیر مزاری اور صدر مخدوم خسرو بختیار کو بنایا گیا۔ صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کے جنرل سیکرٹری طاہر بشیر چیمہ اور سردار فتح محمد بزدار کے درمیان مسلم لیگ ق حکومت میں سیاسی تعلقات تھے، جنوبی پنجاب صوبہ محاذ قائم ہوا تو انہی تعلقات کی بنیاد پر دونوں رہنمائوں کے سیاسی رابطوں کا دوبارہ آغاز ہو گیا اور جنوبی پنجاب رابطہ مہم کے دوران 27اپریل کو طاہر بشیر چیمہ، رانا قاسم نون، باسط بخاری اور سمیع اللہ چودھری پر مشتمل وفد سردار فتح محمد بزدار سے یونین کونسل مبارکی میں ملاقات کے لئے پہنچا جہاں سردار فتح محمد بزدار، ان کے بیٹوں سردار عثمان احمد بزدار اور جعفر خان بزدار چیئرمین یونین کونسل مبارکی نے بزدار ہائوس میں جلسہ عام کر کے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ جہانگیر ترین کی سفارش پر سردار عثمان احمد بزدار کو ٹکٹ جاری ہو گیا، الیکشن ہوئے تو سردار عثمان احمد بزدار 26897ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ تحریک انصاف الیکشن منشور میں صوبہ جنوبی پنجاب قائم کرنے کا وعدہ کر چکی تھی جس کے لئے جنوبی پنجاب کے عوام کو مطمئن کرنے کے لئے وہاں سے وزیر اعلیٰ لینے کا فیصلہ کیا گیا، جہانگیر ترین کو مخدوم ہاشم جواں بخت اور شاہ محمود قریشی کو حسنین بہادر دریشک کے ناموں پر اختلاف پید ا ہو گیا، عمران خان نے دونوں ناموں کو مسترد کر دیا، جہانگیر ترین نے لودھراں میں اپنی رہائش پر سردار عثمان احمد سے ملاقات کر کے ان کا نام پیش کیا جس کو عمران خان کی جانب سے منظور کر لیا گیا۔ سردار عثمان احمد بزدار کے خلاف پولیس، ایف آئی اے، انٹی کرپشن، نیب انکوائریوں کی مکمل جانچ پڑتال کرکے انہیں کلیئر کر دیا گیا، سردار عثمان احمد بزدار الیکشن جیت کر حلف اٹھانے لاہور پہنچے تو اپنی رہائش نہیں تھی اور جوہر ٹائون میں دوست کے دو کمروں کے فلیٹ پر قیام کیا، ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چار دنوں بعد وزیر اعلیٰ پنجاب بن جائیں گے۔ پنجاب اسمبلی میں 19اگست 2018کو وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہوا تو سردار عثمان احمد بزدار 186ووٹوں سے جیت گئے ۔ سردار عثمان احمد بزدار نے تحریک انصاف میں شمولیت سے وزیر اعلیٰ تک سفر صرف تین ماہ 22دنوں کے مختصر ترین وقت میں طے کیا۔ وہ کہتے ہیں عمران خان نے انہیں پسماندہ علاقے کی وجہ سے منتخب کیا تاہم سردار عثمان احمد بزدار علاقہ کے دولت مند گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والد سردار فتح محمد، بزدار قبیلہ کے چیف ہیں جو ڈیرہ غازی خان، تونسہ قبائلی علاقے، سندھ اور بلوچستان تک پھیلا ہوا ہے، ڈیرہ غازی خان میں بزدرار قبیلہ آبادی کے لحاظ سے لغاری، کھوسہ، قیصرانی سے بڑا ہے، بتایا جاتا ہے کہ سردار فتح محمد بزدار نے میاں چنوں ضلع خانیوال میں 10مربعہ زرخیز اراضی ٹھیکہ پر دے رکھی ہے ، 10مربعہ زرعی اراضی تونسہ میں ہے جبکہ دو ہزار ایکڑ بنجر اراضی تونسہ کے قبائلی پہاڑوں میں ہے، سردار عثمان بزدار کی ڈیرہ غازی خان، تونسہ، ملتان میں تین کوٹھیاں اور اثاثوں کی مالیت 14کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ ان کی اہلیہ گورنمنٹ انٹر کالج ماڈل ٹائون ڈیرہ غازی خان میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، ان کی اولاد میں تین بیٹیاں ہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب کے پانچ بھائی اور پانچ بہنیں ہیں، بھائی عمر بزدار بارڈر ملٹری پولیس جو قبائلی علاقوں میں پولیس کے فرائض ادا کرتی ہے اس میں جمعدار (انسپکٹر)، جعفر خان چیئرمین یونین کونسل مبارکی، ایوب، طاہر اور پانچویں بھائی زمینداری سے وابستہ ہیں۔ سردار عثمان احمد بزدار کا علاقہ بارتھی پہاڑوں پر واقع ہے، دور دراز اور دشوار گزار ہونے کی وجہ سے وہاں عوام محرومیوں کا شکار ہیں حتیٰ کہ بجلی بھی موجود نہیں اور سولر بجلی استعمال ہوتی ہے، انسان اور حیوان ایک گھاٹ میں پانی پیتے ہیں، اس علاقہ کو پاکستان بھر میں محرومیوں کا دارالخلافہ کہا جاتا ہے، سڑکیں، پانی، بجلی، صحت، تعلیم کی سہولیات موجود نہیں اور مقامی آبادی پتھر کے زمانے میں رہتی ہے، آج بھی وہاں کھیتی باڑی کے لئے بیلوں کے ذریعے ہل چلایا جاتا ہے الغرض ہر طرف زندگی ویران اور پریشان ہے لیکن یہ حال پورے جنوبی پنجاب میں ہے جہاں زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ سردار عثمان احمد بزدار، ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری ، صوبائی وزیروں میں مخدوم ہاشم جواں بخت، حسنین بہادر دریشک، محسن لغاری، سمیع اللہ خان سمیت دیگر کو اہم قلمدان سونپے ہیں، مرکز میں شاہ محمود قریشی، طارق بشیر چیمہ، مخدوم خسر بختیار کو وزاتیں سونپی گئی ہیں، سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان وزارتوں سے جنوبی پنجاب کی محرومیاں ختم ہوں گی؟ کیا جنوبی پنجاب الگ صوبہ بن جائے گا؟ سرائیکی وسیب کے عوام اس حوالے سے غیر مطمئن ہیں کیونکہ اصل طاقت اسلام آباد اور لاہور میں بیورو کریسی کے ہاتھوں میں ہے جو جنوبی پنجاب کو اپنی کالونی رکھنا چاہتی ہے، ملتان میں سول سیکرٹریٹ کا ذیلی دفتر اور چند ڈپٹی سیکرٹریوں کو ٹرانسفر کر کے عارضی بندوبست ہو گا لیکن صوبہ جنوبی پنجاب کا خواب پورا نہیں ہو گا۔

پسماندہ ترین علاقہ ڈی جی خان کے ٹرائیبل ایریا تا حال تھری جی سے محروم کیوں

ڈیرہ غازی خان کے کے ٹرائیبل ایریا میں بسنے والے مظلوم عوام کی معیارے زندگی میں پاکستان بننے سے لیکر آج تک ستر سال بہت نے کے باوجود بد قسمت علاقہ اور عوام کیلئے کوئ بھی کام کرنے کیلئے تاحال تیار نظر تونسہ شریف اور ٹرائیبل ایریا کے رہبر اعلی جناب عزت ماآب رہنما پنجاب کے چیف منسٹر سردار عثمان خان بزدار سے پر اور اپیل کرتے ہیں خدا را جلد آزاد ٹرائیبل ایریا کے عوام کو ضرورتے زندگی کے ساتھ ساتھ  جاز وارد نیٹورک کو لوٹ مار کے ساتھ جلد سے جلد تھری جی نیٹ بحال کروانے پر دباؤ ڈالا جائے ٹرائیبل ایریا میں بسنے والے تقریبا پانچ لاکھ آبادی تاحال تھری جی نیٹ سے محروم عوام کو نیٹ پیکجز کی ضیاں کا ازالہ کیا جائے 

پاکستان کی ثقافت اور قومی تہزیب

ثقافت اور معاشرہ


 تفصیلی مضمون کے لیے پاکستانی ثقافت ملاحظہ  کریں۔


تہذیب




مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر


گندھارا سے بدھ کا مجسمہ

پاکستان کی بہت قديم اور رنگارنگ تہذيب ہے۔ پاکستان کا علاقہ ماضی ميں دراوڑ، آريا، ہن،ايرانی، يونانی، عرب، ترک اور منگول لوگوں کی  رياستوں ميں شامل رہا ہے۔ ان تمام تہذيبوں نے پاکستان کی موجودہ تہذيب پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف صوبوں ميں لباس، کھانے، زبان اور تمدن کا فرق پايا جاتا ہے۔ اس ميں اس علاقوں کی تاريخی عليحدگی کے ساتھ ساتھ موسم اور آب و ہوا کا بھی بہت اثر ہے۔ ليکن ايکاسلامی تہذيب کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس ميں  کافی تہذيبی ہم آہنگی بھی موجود ہے۔

پاکستان ميں بہت مختلف قسم کی موسيقی ملتی ہے۔ کلاسيکی موسيقی، نيم کلاسيکی موسيقی، لوک موسيقی اور اس کے ساتھ ساتھ جديد پاپولر ميوزک، ان سب کے پاکستان ميں بلند پايہ موسيقار موجود ہيں۔ پاکستان دنيا بھر ميں قوالی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

پاکستانی تہذيب ميں مغربی عناصر بڑھتے جا رہے ہيں۔ يہ امراء اور روساء ميں اور بڑے شہروں ميں زيادہ نماياں ہے کيونکہ مغربی اشياء، ميڈيا اور تہذيب تک ان کی زيادہ رسائی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ايک بڑھتی ہوئی تحريک ہے جو مغربی اثرات کو کم ديکھنا چاہتی ہے۔ کچھ جگہوں ميں اس تحريک کا زيادہ جھکاؤ اسلام اور کچھ ميں روايات کی طرف ہے۔

پاکستانيوں کی بڑی تعداد امريکہ، برطانيہ،آسٹريليا، کینیڈا اور مشرق وسطی ميں مقيم ہے- ان  بيرون ملک پاکستانيوں کا پاکستان پر اور پاکستان کی بين الاقوامی تصوير پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ ان لوگوں نے ماضی ميں پاکستان ميں بہت سرمايہ کاری بھی کی ہے۔

پاکستان کا سب سے پسنديدہ کھيل کرکٹ ہے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹيم دنيا کی اچھی ٹيموں ميں شمار ہوتی ہے۔ کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان ميںہاکی بھی بہت شوق سے کھيلی جاتی ہے۔ ہاکی پاكستان كا قومى كھيل بھى ہےـ چوگان (پولو) پاکستان کے شمالی علاقہ جات كے لوگوں كا كھيل  ہے اور اس كھيل كى پيدائش بھى يہيں ہوئى اور آج تک ان علاقوں ميں بہت شوق سے کھیلی جاتی ہے۔

لباس،فن اور فیشن


 تفصیلی مضامین کے لیے پاکستانی لباس، شلوار قمیص، قراقلی (ٹوپی)  اور پشاوری چپل ملاحظہ کریں۔


خواتین کا بلوچی علاقائی لباس

پاکستان میں سب سے عام لباس شلوار قمیض ہے  جس کو قومی لباس کا درجہ حاصل ہے، شلوار قمیص کو پاکستان کے چاروں صوبوں بلوچستان،پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت قبائلی علاقہ جات، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پہنا  جاتا ہے۔ تاہم پھر ہر صوبے اور علاقے میں شلوار قمیص پہننے کا طرز تھوڑا مختلف بھی ہوتا ہے ہر کوئی اپنے مقامی انداز میں پہنتا ہے۔

شلوار قمیص کے علاوہ اور بھی بہت سے لباس پاکستان میں میں پہنے جاتے ہیں جن میں سوٹ اور نیکٹائی بھی عام ہے جن کا استعمال اسکول، کالج، جامعات، دفاتر، وغیرہ میں ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں شہروں کے بہ نسبت سوٹ او ر ٹائی کا استعمال کم ہوتا ہے۔ شیروانی کا استعمال خاص کر  تقاریب اور خوشیوں کے مواقع پر کیا جاتا ہے۔

خواتین میں بھی پاکستانی شلوار قمیض کا استعمال ہوتا ہے تاہم خواتین شلوار قمیض کے علاوہ انارکلی، لہنگا، گاگرہ، وغیرہ بھی پہنتی ہیں۔

میڈیا


 تفصیلی مضمون کے لیے پاکستانی میڈیا ملاحظہ  کریں۔


پاکستان میں بہت سے ذرائع ابلاغ موجود ہیں ، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا دونوں میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔اس سے پہلے پی ٹی وی ملک کا  واحد چینل نیٹورک ہوتا تھا اور حکومت پاکستان اس نیٹورک کو چلا رہا تھا۔ 2002ء کے بعد  الیکٹرونک میڈیا نے ترقی کی اور پے در پے نئے نجی چینل آتے رہے۔اس وقت پاکستان میں 50 سے بھی زیادہ صرف نجی چینلز موجود ہیں جن کی نشریات 24 گھنٹے جاری رہتی ہیں۔ اس وقت پاکستان میں نیوز، انٹرٹینمنٹ، ہیلتھ، ایجوکیشن، علاقائی اور بہت سے چینلز موجود ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر چینلز کے نشریات اردو میں ہوتے ہیں تاہم ملک کے علاقائی زبانوں (پشتو، پنجابی،سندھی، بلوچی، کشمیری، سرائیکی وغیرہ) کے بھی ٹی وی چینلز موجود ہیں۔ پی ٹی وی ورلڈ پاکستان کا پہلا انگریزی چینل ہے۔

اردو فلم انڈسٹری لالی وڈ کی صدر مقامات لاہور،کراچی اور پشاور میں واقع ہے۔ لالی وڈ نے اب تک  بہت سے فلمیں ریلیز کی ہیں اور کر رہا ہے۔ پاکستان میں سب سے عام اردو ڈراما سیریلز ہیں جو مختلف چینلز پر چلائے جاتے ہیں۔

ادب اور فلسفہ


فن تعمیرات


 تفصیلی مضمون کے لیے پاکستانی فن تعمیر ملاحظہ کریں۔


پاکستان کے فن تعمیرات ان مختلف عمارات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مختلف ادوار میں موجودہ پاکستان کے علاقوں میں بنائے گئے ہیں۔وادئ سندھ کی تہذیب کے شروع ہونے کے ساتھ ہی جو 35000 قبل مسیح تھا، موجودہ پاکستان کے علاقے میں شہری ثقافت کا ارتقاء ہوا جس میں بڑی عمارتیں تھیں جن میں سے کچھ آج بھی موجود ہیں۔ اس کے بعد گندھارا طرز کا بدھ طرز تعمیر آیا  جس میں قدیم یونان کے اجزاء بھی شامل تہے۔ اس کے بقایا جات گندھارا کے صدر مقام ٹیکسلا میں  دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے علاوہ پاکستان میں مغل اور انگریزی طرز تعمیر کی مثالیں بھی موجود ہیں جو نہایت ہی اہم ہیں۔

آزادی کے بعد کا فن تعمیر بھی ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ آزادی کے بعد پاکستان نے اپنی نئی حا صل کی گئی آزادی اور شناخت کو فن تعمیر کے ذریعے سے ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان خود کو جدید عمارتوں میں ظاہر کرتا ہے مثلاً فیصل مسجد جو دارالخلافہ میں واقع ہے اور 1960ء میں  بنایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری عمارتیں بھی قابل ذکر ہیں جیسے مینار پاکستان، سفید ماربل سے بنا مزار قائد اعظم ۔ یہ عمارتیں نئی ریاست کی خود اعتمادی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ملکی دارالخلافہ اسلام آباد میں موجود قومی یادگار تہذیب، آزادی اور جدید فن تعمیر کا ایک حسین امتزاج ہے۔

پاکستان میں اس وقت چھ (6) جگہیں ایسی ہیں جنہیں عالمی ورثہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے، ان کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔

موہنجو داڑو کے اثریاتی کھنڈر


تخت بائی اور پڑوسی شہر شہر بہلول کے بدھ مت کے کھنڈر


شاہی قلعہ لاہور اور شالیمار باغ لاہور


ٹھٹھہ کی تاریخی یادگاریں


قلعہ روہتاس


ٹیکسلا


سیاحت


 تفصیلی مضمون کے لیے پاکستان میں سیاحت ملاحظہ کریں۔


پاکستان اپنے نظاروں، لوگوں اور تہذیبوں کے حوالے سے ایک وسیع ملک ہے اور اسی وجہ سے سال2012ء میں یہاں دس (100) لاکھ سیاح آئے۔ پاکستان کی سیاحت کی صنعت 1970ء کے عشرے  کے دوران میں عروج پر تھی جب یہاں ایک بہت بڑی تعداد میں سیاح آتے تہے۔ ان سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ قابل دلچسپی جگہیں خیبر پاس،پشاور، کراچی، لاہور، سوات اور راولپنڈی تھیں۔ اس  ملک کی حامل کشش جگہوں میں موہنجو داڑو،ٹیکسلا اور ہڑپہ جیسی تہذیبوں کے کھنڈر سے لیکرکوہ ہمالیہ کے پہاڑی مقامات تک ہیں۔ پاکستان 70000 میٹر سے زیادہ بلند کئی چوٹیوں کا مسکن ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں کئی پرانے قلعے ہیں، پرانے زمانے کی فن تعمیر، ہنزہ اور چترال کی وادیاں جو ایک چھوٹی سی غیر مسلم سماجی گروہ کیلاش کا مسکن ہے جو خود کو سکندر اعظم کی اولاد سے بتاتے ہیں۔

پاکستان کے ثقافتی مرکز و صدر مقام لاہور میں  مغل فن تعمیر کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جیسے بادشاہی مسجد، شالیمار باغ، مقبرہ جھانگیر، اور قلعہ لاہور شامل ہیں جو سارے سیاحوں کی  دلچسپی کا مرکز ہیں۔ عالمی معاشی بحران سے پہلے پاکستان میں سالانہ تقریباً پانچ (5) لاکھ سیاح آتے تہے۔ تاہم سال 2008ء سے پاکستان میں  اندرونی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے یہ تعداد کافی کم ہو گئی ہے۔

اکتوبر 2006ءمیں کشمیر کے زلزلے کے بعد رسالہ  دی گارڈین نے پاکستان کے پانچ مقبول ترین سیاحتی مقامات کے نام سے ایک مضمون شائع کیا تاکہ پاکستان کی سیاحتی کی صنعت کی مدد کر سکے۔ یہ پانچ مقامات ٹیکسلا، لاہور، شاہراہ قراقرم، کریم آباد، اور جھیل سیف الملوک تہے۔ عالمی  معاشی فورم کے سفر اور سیاحت کے مقابلے کی رپورٹ نے پاکستان کو مقبول ترین 25 فیصد سیاحتی مقامات کا اعزاز عالمی ورثہ کے مقامات کے طور پر مقرر کیا۔ سیاحتی مقامات کی پہنچ جنوب میں مینگروو جنگلات سے وادئ سندھ کی تہذیب کے موہنجو داڑو اور ہڑپہ جیسے 50000 سال  پرانے شہروں تک ہے۔

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201