ثقافت اور معاشرہ
تفصیلی مضمون کے لیے پاکستانی ثقافت ملاحظہ کریں۔
تہذیب
مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر
گندھارا سے بدھ کا مجسمہ
پاکستان کی بہت قديم اور رنگارنگ تہذيب ہے۔ پاکستان کا علاقہ ماضی ميں دراوڑ، آريا، ہن،ايرانی، يونانی، عرب، ترک اور منگول لوگوں کی رياستوں ميں شامل رہا ہے۔ ان تمام تہذيبوں نے پاکستان کی موجودہ تہذيب پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف صوبوں ميں لباس، کھانے، زبان اور تمدن کا فرق پايا جاتا ہے۔ اس ميں اس علاقوں کی تاريخی عليحدگی کے ساتھ ساتھ موسم اور آب و ہوا کا بھی بہت اثر ہے۔ ليکن ايکاسلامی تہذيب کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس ميں کافی تہذيبی ہم آہنگی بھی موجود ہے۔
پاکستان ميں بہت مختلف قسم کی موسيقی ملتی ہے۔ کلاسيکی موسيقی، نيم کلاسيکی موسيقی، لوک موسيقی اور اس کے ساتھ ساتھ جديد پاپولر ميوزک، ان سب کے پاکستان ميں بلند پايہ موسيقار موجود ہيں۔ پاکستان دنيا بھر ميں قوالی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
پاکستانی تہذيب ميں مغربی عناصر بڑھتے جا رہے ہيں۔ يہ امراء اور روساء ميں اور بڑے شہروں ميں زيادہ نماياں ہے کيونکہ مغربی اشياء، ميڈيا اور تہذيب تک ان کی زيادہ رسائی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ايک بڑھتی ہوئی تحريک ہے جو مغربی اثرات کو کم ديکھنا چاہتی ہے۔ کچھ جگہوں ميں اس تحريک کا زيادہ جھکاؤ اسلام اور کچھ ميں روايات کی طرف ہے۔
پاکستانيوں کی بڑی تعداد امريکہ، برطانيہ،آسٹريليا، کینیڈا اور مشرق وسطی ميں مقيم ہے- ان بيرون ملک پاکستانيوں کا پاکستان پر اور پاکستان کی بين الاقوامی تصوير پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ ان لوگوں نے ماضی ميں پاکستان ميں بہت سرمايہ کاری بھی کی ہے۔
پاکستان کا سب سے پسنديدہ کھيل کرکٹ ہے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹيم دنيا کی اچھی ٹيموں ميں شمار ہوتی ہے۔ کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان ميںہاکی بھی بہت شوق سے کھيلی جاتی ہے۔ ہاکی پاكستان كا قومى كھيل بھى ہےـ چوگان (پولو) پاکستان کے شمالی علاقہ جات كے لوگوں كا كھيل ہے اور اس كھيل كى پيدائش بھى يہيں ہوئى اور آج تک ان علاقوں ميں بہت شوق سے کھیلی جاتی ہے۔
لباس،فن اور فیشن
تفصیلی مضامین کے لیے پاکستانی لباس، شلوار قمیص، قراقلی (ٹوپی) اور پشاوری چپل ملاحظہ کریں۔
پاکستان میں سب سے عام لباس شلوار قمیض ہے جس کو قومی لباس کا درجہ حاصل ہے، شلوار قمیص کو پاکستان کے چاروں صوبوں بلوچستان،پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت قبائلی علاقہ جات، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پہنا جاتا ہے۔ تاہم پھر ہر صوبے اور علاقے میں شلوار قمیص پہننے کا طرز تھوڑا مختلف بھی ہوتا ہے ہر کوئی اپنے مقامی انداز میں پہنتا ہے۔
شلوار قمیص کے علاوہ اور بھی بہت سے لباس پاکستان میں میں پہنے جاتے ہیں جن میں سوٹ اور نیکٹائی بھی عام ہے جن کا استعمال اسکول، کالج، جامعات، دفاتر، وغیرہ میں ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں شہروں کے بہ نسبت سوٹ او ر ٹائی کا استعمال کم ہوتا ہے۔ شیروانی کا استعمال خاص کر تقاریب اور خوشیوں کے مواقع پر کیا جاتا ہے۔
خواتین میں بھی پاکستانی شلوار قمیض کا استعمال ہوتا ہے تاہم خواتین شلوار قمیض کے علاوہ انارکلی، لہنگا، گاگرہ، وغیرہ بھی پہنتی ہیں۔
میڈیا
تفصیلی مضمون کے لیے پاکستانی میڈیا ملاحظہ کریں۔
پاکستان میں بہت سے ذرائع ابلاغ موجود ہیں ، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا دونوں میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔اس سے پہلے پی ٹی وی ملک کا واحد چینل نیٹورک ہوتا تھا اور حکومت پاکستان اس نیٹورک کو چلا رہا تھا۔ 2002ء کے بعد الیکٹرونک میڈیا نے ترقی کی اور پے در پے نئے نجی چینل آتے رہے۔اس وقت پاکستان میں 50 سے بھی زیادہ صرف نجی چینلز موجود ہیں جن کی نشریات 24 گھنٹے جاری رہتی ہیں۔ اس وقت پاکستان میں نیوز، انٹرٹینمنٹ، ہیلتھ، ایجوکیشن، علاقائی اور بہت سے چینلز موجود ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر چینلز کے نشریات اردو میں ہوتے ہیں تاہم ملک کے علاقائی زبانوں (پشتو، پنجابی،سندھی، بلوچی، کشمیری، سرائیکی وغیرہ) کے بھی ٹی وی چینلز موجود ہیں۔ پی ٹی وی ورلڈ پاکستان کا پہلا انگریزی چینل ہے۔
اردو فلم انڈسٹری لالی وڈ کی صدر مقامات لاہور،کراچی اور پشاور میں واقع ہے۔ لالی وڈ نے اب تک بہت سے فلمیں ریلیز کی ہیں اور کر رہا ہے۔ پاکستان میں سب سے عام اردو ڈراما سیریلز ہیں جو مختلف چینلز پر چلائے جاتے ہیں۔
ادب اور فلسفہ
فن تعمیرات
تفصیلی مضمون کے لیے پاکستانی فن تعمیر ملاحظہ کریں۔
پاکستان کے فن تعمیرات ان مختلف عمارات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مختلف ادوار میں موجودہ پاکستان کے علاقوں میں بنائے گئے ہیں۔وادئ سندھ کی تہذیب کے شروع ہونے کے ساتھ ہی جو 35000 قبل مسیح تھا، موجودہ پاکستان کے علاقے میں شہری ثقافت کا ارتقاء ہوا جس میں بڑی عمارتیں تھیں جن میں سے کچھ آج بھی موجود ہیں۔ اس کے بعد گندھارا طرز کا بدھ طرز تعمیر آیا جس میں قدیم یونان کے اجزاء بھی شامل تہے۔ اس کے بقایا جات گندھارا کے صدر مقام ٹیکسلا میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے علاوہ پاکستان میں مغل اور انگریزی طرز تعمیر کی مثالیں بھی موجود ہیں جو نہایت ہی اہم ہیں۔
آزادی کے بعد کا فن تعمیر بھی ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ آزادی کے بعد پاکستان نے اپنی نئی حا صل کی گئی آزادی اور شناخت کو فن تعمیر کے ذریعے سے ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان خود کو جدید عمارتوں میں ظاہر کرتا ہے مثلاً فیصل مسجد جو دارالخلافہ میں واقع ہے اور 1960ء میں بنایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری عمارتیں بھی قابل ذکر ہیں جیسے مینار پاکستان، سفید ماربل سے بنا مزار قائد اعظم ۔ یہ عمارتیں نئی ریاست کی خود اعتمادی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ملکی دارالخلافہ اسلام آباد میں موجود قومی یادگار تہذیب، آزادی اور جدید فن تعمیر کا ایک حسین امتزاج ہے۔
پاکستان میں اس وقت چھ (6) جگہیں ایسی ہیں جنہیں عالمی ورثہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے، ان کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔
موہنجو داڑو کے اثریاتی کھنڈر
تخت بائی اور پڑوسی شہر شہر بہلول کے بدھ مت کے کھنڈر
شاہی قلعہ لاہور اور شالیمار باغ لاہور
ٹھٹھہ کی تاریخی یادگاریں
سیاحت
تفصیلی مضمون کے لیے پاکستان میں سیاحت ملاحظہ کریں۔
پاکستان اپنے نظاروں، لوگوں اور تہذیبوں کے حوالے سے ایک وسیع ملک ہے اور اسی وجہ سے سال2012ء میں یہاں دس (100) لاکھ سیاح آئے۔ پاکستان کی سیاحت کی صنعت 1970ء کے عشرے کے دوران میں عروج پر تھی جب یہاں ایک بہت بڑی تعداد میں سیاح آتے تہے۔ ان سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ قابل دلچسپی جگہیں خیبر پاس،پشاور، کراچی، لاہور، سوات اور راولپنڈی تھیں۔ اس ملک کی حامل کشش جگہوں میں موہنجو داڑو،ٹیکسلا اور ہڑپہ جیسی تہذیبوں کے کھنڈر سے لیکرکوہ ہمالیہ کے پہاڑی مقامات تک ہیں۔ پاکستان 70000 میٹر سے زیادہ بلند کئی چوٹیوں کا مسکن ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں کئی پرانے قلعے ہیں، پرانے زمانے کی فن تعمیر، ہنزہ اور چترال کی وادیاں جو ایک چھوٹی سی غیر مسلم سماجی گروہ کیلاش کا مسکن ہے جو خود کو سکندر اعظم کی اولاد سے بتاتے ہیں۔
پاکستان کے ثقافتی مرکز و صدر مقام لاہور میں مغل فن تعمیر کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جیسے بادشاہی مسجد، شالیمار باغ، مقبرہ جھانگیر، اور قلعہ لاہور شامل ہیں جو سارے سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ عالمی معاشی بحران سے پہلے پاکستان میں سالانہ تقریباً پانچ (5) لاکھ سیاح آتے تہے۔ تاہم سال 2008ء سے پاکستان میں اندرونی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے یہ تعداد کافی کم ہو گئی ہے۔
اکتوبر 2006ءمیں کشمیر کے زلزلے کے بعد رسالہ دی گارڈین نے پاکستان کے پانچ مقبول ترین سیاحتی مقامات کے نام سے ایک مضمون شائع کیا تاکہ پاکستان کی سیاحتی کی صنعت کی مدد کر سکے۔ یہ پانچ مقامات ٹیکسلا، لاہور، شاہراہ قراقرم، کریم آباد، اور جھیل سیف الملوک تہے۔ عالمی معاشی فورم کے سفر اور سیاحت کے مقابلے کی رپورٹ نے پاکستان کو مقبول ترین 25 فیصد سیاحتی مقامات کا اعزاز عالمی ورثہ کے مقامات کے طور پر مقرر کیا۔ سیاحتی مقامات کی پہنچ جنوب میں مینگروو جنگلات سے وادئ سندھ کی تہذیب کے موہنجو داڑو اور ہڑپہ جیسے 50000 سال پرانے شہروں تک ہے۔
No comments:
Post a Comment