Sunday, 1 March 2026

مسلمانوں نے اپنا راہ بہت جلد کیوں بدلا کیا آپ جاننا چاہتے ہیں تو مکمل تفصیل پڑھیں

جو آج ہمیں سکھایا پڑھایا کھلایا پلایا جارہا ہے یہ تمام کے تمام چیزیں دین محمدی سے مماثلت نہیں رکھتے یہ سب کچھ مغرب کی دی ہوئی زہر ہے جو اب ہمارے حون میں حوراک بن کر ابھرا اسلیئے آج امت مسلمہ بالکل بے بس ہوکر سر جھکائے بیٹھا ہے 



اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں جس شکل میں تھا، وہی قیامت تک کے لیے ہے۔ اسلام کی تعلیمات نہ پہلے بدلی تھیں اور نہ آج بدلی ہیں، کیونکہ قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ محفوظ ہیں۔ لیکن اگر ہم غور کریں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ آج کے مسلمانوں کے عمل اور پہلے زمانے کے مسلمانوں کے عمل میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ یہی فرق اصل میں اسلام میں نہیں بلکہ مسلمانوں کی زندگیوں میں پیدا ہوا ہے۔

پہلے زمانے میں اسلام صرف عبادات کا نام نہیں تھا بلکہ مکمل زندگی کا نظام تھا۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں سچائی، امانت، انصاف جہاد اور بھائی چارہ عام تھا۔ لوگ دین کو صرف مسجد تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ تجارت، سیاست، معاشرت اور اخلاق میں بھی اسلام پر عمل کرتے تھے۔ اس زمانے میں مسلمان کم تھے مگر مضبوط تھے،
کپڑے پھٹے تھے ایمان مضبوط تھا گھر کچے تھے ایمان پکا تھا مسلمانوں کی رحم دلی وجہ سے ہر مذہب کے لوگ مسلمانوں سے محبت کرتے اور اسلام میں داخل ہوتے تھے
 کیونکہ ان کے کردار میں اسلام نظر آتا تھا۔
وہ آج ہم مسلمانوں میں نہیں ہے جب ہمارا راستہ سیدھا ہے تو ہم بھتک کر دور جاکر گرے ہیں جب ہم مسلمان اسلام سے دغا کریں یا صراط مستقیم سے منہ موڑ لیں دوسروں کو اسلام کی تعلیمات دیں ہم خود جھوٹ بولیں دوسروں کو روکیں ہم خود رشوت لیں سود کھائیں ظلم پر گامزن رہیں تو دوسرے مذہب کو کیسے قائل کرسکتے ہیں اس لیئے آج ہم مسلمانوں نے خوبصورت اسلام کو بدنام کی ہے 
 لیکن اسلام آج بھی وہی ہے،جو 1400 سال پہلے مکمل ہوا لیکن ہم مسلمانوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ آج بہت سے لوگ اسلام کو صرف نماز، روزہ اور چند رسموں تک محدود سمجھتے ہیں۔ اخلاق، سچائی، برداشت اور عدل جیسے اصول کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے لوگ دین کے لیے دنیا چھوڑ دیتے تھے، آج اکثر لوگ دنیا کے لیے دین چھوڑ دیتے ہیں۔
پرانے زمانے میں علم کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ مسلمان علم، تحقیق اور انصاف میں دنیا کی رہنمائی کرتے تھے۔ آج بہت سے مسلمان علم سے دور ہو گئے ہیں اور آپس کے اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے کمزوری پیدا ہوئی ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ اسلام آج بھی مکمل اور سچا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ پہلے مسلمان اسلام پر چلتے تھے اور آج اسلام کو اپنے مطابق چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آج کے مسلمان دوبارہ سچائی، عدل، علم اور اخلاص کو اپنالیں تو وہی طاقت وہی عزت وہی عدل اور وہی جذبہ ایمان واپس آ سکتی ہے جو پہلے زمانے میں تھی۔ لیکن آج اس دور میں ہم صرف مسلمان ہیں مگر سینے میں زرہ برابر اسلام نہیں اسلام صرف عربی نام رکھنے سے نہیں ہو سکتا اسلام میں ہر وہ چیز شامل ہے جو انسانی اور کسی بھی جاندار کی زندگی کو ہر قسمی اور انہیں متوازن رکھا جاسکے لیکن آج ہم نے خود کو بھی متوازن رکھنے سے الگ رکھا صرف کاہلی لالچ خود غرضی بے اعتمادی جھوٹ جو برائیاں پہلے مسلمانوں کیلئے ہلاکت کا سبب بنا کرتے آج ہم اسے اپنا زندگی کا حصہ تصور کرتے ہیں کیونکہ ہم مسلمانوں نے قرآن مجید کی تعلیمات سے منہ موڑا انگریزی کو ترجیح دی ماں باپ سے نفرت اور سسر ساس سے محبت لیکن مسلمان ممالک میں سربراہ تو مسلمان ہیں مگر قوانین انگریزوں کے 






Friday, 27 February 2026

خود کو پانے انسان اللہ تعالیٰ کو ہر صورت پاتے ہیں الحمداللہ

تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں نے بنائے ہیں جو اپنے دل میں ایمان لیکر نکلتے ہیں دنیا پر ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد کیا جاتا ہے جنہیں دیں محمدی کا جذبہ پایا جاتا ہو اس فانی دنیا پر ظالموں کے دل میں دہشت کا علامت وہی لوگ بنتے ہیں جن کے دل میں عشق الہی بستا ہو آخرت میں درجات انہی لوگوں کا بلند رہتا ہے
 جو دنیا بسے کیڑے مکوڑے کی جان کو جان سمجھے قبر بھی انہی لوگوں کو دل سے خوش آمدید کہتی ہے جنہیں دنیا پر عام رعایا دل سے خوش آمدید کہا کرتا تھا فرشتے بھی انہی لوگوں کا استقبال کرتے ہیں جنہیں دنیا میں غریب لوگ ملنے کیلئے خوش آمدید کہا کرتے تھے ہمارے آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین اسے اپنا پسندیدہ امتی سمجھتا ہے جسے اس دنیا پر لوگ پسندیدہ سمجھا کرتے تھے حوض کوثر میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روز محشر انہی خوش نصیبوں کو شہد سے میٹھا دودھ سے سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا پانی ملتا ہے
 جو اس دنیا پر ہر خاص و عام میں فرق کیئے بغیر گھل مل کر بیٹھتا تھا اور انکے زخموں پر مرہم رکھتا تھا روز میزان اللہ تعالی کی رحمتیں بشمول ہم سب پر برستی ہیں مگر سب سے اس بندے سے محبت فرماتا ہے جو اس فانی دنیا پر ہر مظلوم کے ساتھ ملکر ظالموں سے لڑتا رہتا انکی ہر قسمی دشمنی کو مول لیتا تھا کیونکہ اعمال سے دنیا بھی بنتی ہے اور آخرت بھی سنور جاتا ہے اگر اس دنیا پر ہم لوگ صرف دولت عزت شہرت کیلئے جتنا جینے کی جنگ لڑرہے ہیں یہ صرف چند پل کا ایک خواب کے سوا کچھ نہیں اور ایسے لوگ چاہے حکمران ہوں یا عالم حافظ ہوں یا پیدائشی بزرگان دیں کے خاندانوں کے وارث یہ کچھ بھی کام نہیں آنے والا اگر آپکو اور مجھ سمیت کسی کو بھی اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کا شوق ہے آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کے امتی ہونے کا شرف حاصل کرنا ہے تو اس دنیا پر خود کو سب سے عاجز بنانا پڑتا ہے اسلامی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں


 آج کی گدی نشینوں کو نہیں انکے آباو اجداد کا مشاہدہ کرنے کیلئے آپکو سو سے چودہ سو سال پہلے جانا ہوگا اور وہاں سے افق کو چھونے والے تن اوار ان درختوں کو دیکھیں سوچیں کیا ہم اس دنیا سے جاتے وقت جب ہم اس خاکی زمین کے سپرد کیئے جائیں تو ہمارے ساتھ کیا ہوگا اور ہمارے پلے میں کیا ہے ہم یہاں سے کیا لیکر جارہے ہیں جو ہمیں دفن ہونے سے لیکر قیامت قائم ہونے تک کام آسکتا ہے اگر اکیلے بیٹھ کر صرف چند منٹ سوچیں تو سر چرانے لگ جاتا ہے  کیونکہ ہم اس دنیا فانی میں بیٹھ کر صرف خود کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں نہ کہ اپنے بھلائ کیلئے اگر جنت میں رہائش جو ہم سمجھ رہے ہیں اتنا آسان ہوتا تو سوچیں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران اسلام نے کیا کچھ برداشت نہیں کیئے ان پر کتنے مظالم ڈھائے گئے کیا اسنے کبھی آپنے زندگی کو آسان بنانے کیلئے کبھی آپنے رب سے کوئ شکایت کی کیونکہ وہ جانتے تھے اگر ہم اس دنیا پر سکون سے بیٹھ کر اللہ تعالی کے حکم کے برعکس کریں تو روز محشر ہم جوابدہ ہیں مگر ہم کیوں نہیں سمجھتے لیکن ہم سب جانتے ہیں قرآن مجید میں لفظ بہ لفظ ہمیں آگاہ رکھا اور ہماری رہنمائ کیلئے ہر مشکل کا آسان حل بتادیا لیکن ہم سمجھنے سوچنے اور دیکھنے سے اتنا عاری کیوں کیا ہمیں یہ دنیا سے اٹھایا نہیں جائیگا کیا ہم زمین کے ختم ہونے تک یہاں رہینگے لیکن ہم کمزور ہیں بہت سست ہیں مگر اللہ تعالی نے قرآن مجید ہمارے لیئے یہ پیغام (( اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم )) لکھ کر ہمیں سمجھایا کہ بیشک آپ سست ہونگے شیطان کا غلبہ شدید ہوگا مگر مدد آپ طلب کریں میں آپکو رسد ضرور پہنچاونگا لیکن ہم اتنے سیاہ دل کے مالک بن گئے ہیں 
 اپنے رب سے مدد طلب کرنے کی فہرست تک نہیں نہ ہمیں اللہ تعالی کے غضب کا کبھی خوف رہا اگر کوئ بھی مسلمان زرہ برابر بھی اپنے اللہ سے محبت یا خوف رکھتا ہو تو نہ ظلم کا راستہ اختیار کرتا ہے نہ کسی سے بغض رکھتا ہے نہ کسی کی جان ومال سے حشر کرتا ہے اور نہ کسی امراء کے دولت سے مانوس ہوتا ہے اور نہ وہ اپنے غربت سے پریشان کیونکہ جس دل میں نور ایمانی کا چراغ جل رہا ہو وہ کبھی وسوسے نہیں کرتا اور وہ جانتا ہے 
 👉لاغالبا اللہ 👈 
بیشک اللہ تعالی ہر چیز پر غالب ہے

Tuesday, 24 February 2026

دعا گو ہوں اللہ تعالی مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین

اسلام علیکم صبح بخیر

ایک نہ ایک دن ہم سبکو قصہ پارینہ بننا ہے موت سانسوں سے بھی قریب رہتا ہے کچھ پتہ نہیں کب اور کس وقت دبوچ لیتا پے مگر صرف یادیں رہ جاتی ہیں انسان غلطی کا کتلا ہے مگر معاف کرنے والے رحمن سے کبھی ناامیدی نہیں کی جاسکتی سفید ٹوپی اور کالا جیکٹ پہنے سفید ریش انسان کبھی اس دنیا میں جناب عالی عزت مآب جیسے القاب سے نوازے جاتے تھے آج مرحوم دفعدار احمد خان جلالانی لکھا اور پکارا جائے گا کیونکہ یہ دنیا کی فطرت ہے کہ ہم عام تمام لوگ یہ کہیں لیکن آپنے بھی یہی کہتے ہیں اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے کیونکہ ہم جانے والوں پر منحصر ہے اگر اس دنیا میں رہ کر اپنے لیئے لڑیں تو ہم بہت کچھ پاکر اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اگر ہم اپنے مستقبل کیلئے کوشش کریں یقیننا دنیائے فانی سے جاتے ہوئے خود کو بھی بہت بڑے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہم طاقت میں مغرور ہوتے ہیں دولت میں مدہوش اور ہم یہ نہیں سمجھتے کہ سب چیزیں عارضی ہیں یہ دولت یہ طاقت یہ عہدے حتی کہ اپنی جان مگر سمجھنے میں ہمیں اگر مشکلات نہ آتے تو یقیننا ہم فائدے میں ہوتے کیونکہ کسی کی پرواہ کیئے بغیر اپنے روح کو زندہ رکھنا ہے نفس کو مار کر اگر نفس کو زندہ رکھیں گے تو روح مارا جائیگا اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے ہم نفس کو زندہ رکھ کر روح کو مار دیتے ہیں اگر ہمیشہ کیلئے امر ہونا ہے تو ابھی سے پڑھیں
اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم @
بسم اللہ الرحمن الرحیم @ 

@ آنا فتحنا الک فتح االمبین 


ہم اکثر لوگ فتح خود سے چاہتے ہیں

مزید تفصیلات

 مگر ہم ہمیشہ شیطان کے ساتھی اپنے نفس کا غلام بنے رہتے ہیں کیونکہ ہم ایک ایسے مذہب کے پیروکار ہیں الحمداللہ زندگی کے آخری سانس تک اگر اپنے رب سے توبہ کریں معافی کا طلبگار بنیں یقین جانیں تم ایسا ہو جاوگے جیسا کہ پیدا ہی ابھی ہوئے ہو غلطیاں تو ہم سے ضرور ہوتی ہیں مگر یہ جان لو جب واپس پلٹو گے تو میرا ایمان اگر ہم دیکھنے کے قابل ہوتے تو یہ دنیا اور آخرت میں ہمارے کی گئ توبہ سے اللہ تعالی چراغاں روشن کرتے فرشتوں کو پکار کر کہتے ہے آپ گواہ ہیں میرے فلانے بندے نے توبہ کی میں نے انہیں معاف فرمایا کہنے لکھنے کا مقصد دفعدار احمد خان جلالانی کو میں قریب سے جانتا تھا بیشک انسان میں ہزار کمی کوتاہیاں ہونگے لیکن ہمیشہ  صاف دل خوش اخلاق میں پیش پیش رہا 

مزید تفصیلات

جب طبیعت میں بگاڑ پیدا ہوا تو عمرہ پاک کی سعادت حاصل کی اور بہت زیادہ اللہ تعالی سے قریب ہونے کی کوشش میں لگا رہا اور دل ہی دل میں ٹوٹ چکا تھا اور اپنے رب کی رحمتوں سے امید رکھتا اور یہی کہتا بس دعا کریں اللہ تعالی ہمیں معاف فرمائے اور روز محشر آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کی شفاعت سے بہرامند فرمائے آمین


Saturday, 31 January 2026

رمضان المبارک میں 10000 کیش اور راشن کیسے مل سکتا ہے بہت آسان

اہور : رمضان المبارک میں عوام کو 10,000 روپے کیش دینے کا اعلان کردیا گیا، مستحقین بینک آف پنجاب کے برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس اور ون لنک نیٹ ورک سے منسلک کسی بھی ATM سے رقم نکلوا سکیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کی تاریخ کے سب سے بڑے "رمضان نگہبان پیکیج” کی حتمی منظوری دی، 47 ارب روپے کے اس بھاری بھرکم ریلیف پیکیج سے پنجاب کے تقریباً ایک کروڑ افراد مستفید ہوں گے، جس کا مقصد مقدس مہینے میں مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔

پنجاب کے 42 لاکھ مستحق خاندانوں کو فی خاندان 10,000 روپے فراہم کیے جائیں گے جبکہ راشن کارڈ ہولڈرز کے لیے ماہانہ امداد 3,000 روپے سے بڑھا کر 10,000 روپے کر دی گئی ہے۔


حکومت کی جانب سے 20 لاکھ سے زائد ‘نگہبان کارڈز’ جاری کیے جائیں گے، جن کے ذریعے نقد رقم کی وصولی اور اشیائے ضروریہ کی خریداری ممکن ہوگی۔

مستحقین بینک آف پنجاب (BOP) کے برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس اور ون لنک نیٹ ورک سے منسلک کسی بھی ATM سے رقم نکلوا سکیں گے۔

مزید پڑھیں : رمضان میں خریداری کرنے والوں کےلیے بڑی خبر

صوبے بھر میں کارڈز کی فعال سازی کے لیے 136 مراکز قائم کیے جائیں گے۔

وزیرِ اعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ خود گھر گھر جا کر مستحقین کو نگہبان کارڈز پہنچائے تاکہ عوام کو لائنوں میں نہ لگنا پڑے۔

اس کے علاوہ ہر تحصیل میں 8 "نگہبان دسترخوان” قائم کیے جائیں گے جہاں روزانہ 2,000 افراد کو باعزت طریقے سے افطاری کرائی جائے گی۔

صوبے کے 30 اضلاع میں 65 سہولت بازار فنکشنل رہیں گے، جبکہ دیگر مقامات پر عارضی بازار لگائے جائیں گے۔

پورے عمل کی مانیٹرنگ کے لیے ایک "رمضان نگہبان ڈیش بورڈ” تیار کیا گیا ہے، حکام کارڈ ہولڈرز کو کال کر کے امداد کی وصولی کی تصدیق کریں گے تاکہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی کا سدِباب ہو سکے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک میں کوئی بھی مستحق خاندان خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔ ہم دکھ سکھ میں غریب عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

رمضان نگہبان میں دس ہزار وصول کرنا اب اور بھی ہوا آسان


Friday, 30 January 2026

کوہ سلیمان؟؟ چوکیوالا سے چھپر روڈ کا کام گزشتہ دو سال بند کیوں جانیئے اس رپورٹ میں



بینظیر انکم سپورٹ میں 8 سے بائیس کے طالبات کیلئے رجسٹریشن کا عمل شروع جاننے کیلئے ڈیسک انفارمیش

لہور)ا( ٹرائیبل نیوز) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے 8 سے 22 سال کے طلبہ کیلئے تعلیمی وظائف کی رجسٹریشن کا آغاز کر 
دیا ہے۔
 👇مزید 
http://tnnurdu.blogspot.com 

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے ملک بھر میں تعلیمی وظائف کیلئے رجسٹریشن کھول دی ہے جس کا مقصد کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں سہولت فراہم کرنا اور باصلاحیت طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

حکام کے مطابق والدین یا سرپرست اپنے بچوں کو قریبی بی آئی ایس پی دفتر میں رجسٹر کرا سکتے ہیں، رجسٹریشن کے لیے بچے کا بی فارم اور ایسا موبائل نمبر لازم ہے جو پہلے سے بی آئی ایس پی میں درج ہو، متعلقہ افسر اندراج مکمل کرنے کے بعد ایک پرچی جاری کرے گا جو بچوں کے اسکول میں تصدیق کے لیے جمع کروانی ہوگی، تصدیق کے بعد یہ پرچی دوبارہ بی آئی ایس پی دفتر میں جمع کروائی جائے گی۔

تعلیمی وظائف کے لیے وہ بچے اہل ہونگے جن کی والدہ بینظیر کفالت پروگرام میں شامل ہو، عمر کی حد پرائمری کے لیے 8 سے 18 سال، سیکنڈری کے لیے 13 سے 22 سال مقرر کی گئی ہے، طلبہ کے لیے اسکول میں کم از کم 70 فیصد حاضری لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ اسکول کی تبدیلی کی صورت میں بی آئی ایس پی کو آگاہ کرنا ضروری ہوگا۔

ذرائع کے مطابق وظائف کی رقم 3 ہزار سے 5 ہزار روپے تک ہوگی جبکہ پرائمری تعلیم مکمل کرنے والی طالبات کو اضافی 3 ہزار روپے بطور خصوصی ترغیب دیے جائے گے، بی آئی ایس پی کے مطابق یہ اقدام نہ صرف تعلیم کے فروغ بلکہ بچیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کرے گا۔


Saturday, 27 December 2025

قائد اعظم محمد علی جناح کے آخری لمحات جو قوم کیلئے ہمیشہ باعث ندامت رہیگا

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح صاحب کے آخری لمحات کی منظر کشی جو کتابوں میں لکھی جا چکی ہیں 💔
اسٹینلے ولپرٹ (Stanley Wolpert) ایک نامور امریکی ماہرِ تعلیم،مورخ اور مصنف تھے،جنہیں برصغیر پاک و ہند کی تاریخ اور خاص طور پر قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی پر ان کی تحقیق کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل ہوئی تھی ۔
انہوں نے Jinnah of Pakistan نامی کتاب لکھی جس میں انہوں نے بہت واقعات درج کئے ہیں ۔
کچھ صفحات آپ کے سامنے رکھتے ہیں ۔

"فاطمی مجھے اب زندہ رہنے میں دل چسپی نہیں ہے۔
جتنا جلد میں چلا جاؤں اتنا ہی بہتر ہے۔
اس سے اب کوئی فرق نہیں پڑتا میں زندہ رہوں یا مر جاؤں۔
جناح صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
وہ ایک ایسے شخص تھے جسے عام طور پر غیر جذباتی اور مضبوط سمجھا جاتا تھا۔
جذبات کے اس مظاہرہ سے ہم سب  حیرت زدہ رہ گئے۔
میں تجربہ سے جانتا تھا کہ جب ایک مریض ہمت ہار دے تو کوئی علاج چاہے کتنا ہی بھر پور کیوں نہ ہو زیادہ کامیاب نہیں ہو سکتا اور اس لیے یہ بات جان کر  کہ اس آہنی قوت ارادی کے شخص نے ہمت ہار دی تھی۔
سخت مایوسی ہوئی۔

ستمبر کے آغاز تک جناح کو نمونیا کے علاوہ تب دق اور پھیپھڑوں کا سرطان بھی ہو چکاتھا۔
ان کا بخار سو درجہ تھا.وزن صرف ستر پونڈ (35 کلو گرام)رہ گیا تھا. ان کی نبض غیر معمولی طور پر تیز اور بے ربط ہوگئی تھی.
ان کی حرکتِ قلب بے ترتیب ہو چکی تھی.سانس لینے کے لیے انھیں آکسیجن کی ضرورت تھی.کراچی سے ڈاکٹر ایم اے مستری کو کوئٹہ بلا بھیجا گیا. ڈاکٹر مستری نے معائنہ کے بعد کہا
اب کچھ نہیں رہ گیا.
جناح کو بے آرامی سے بستر پر کروٹیں لیتے ہوئے یہ کہتے سنا گیا.
کشمیر کمیشن کے ساتھ آج میرا اپائنمنٹ تھا
وہ کیوں نہیں آئے. کہاں ہیں وہ.

جناح صاحب کو اب واپس کراچی لے جانا تھا.کیونکہ وہ جس مقصد سے کوئیٹہ زیارت آئے تھے 
اب مزید اس کی ضرورت نہ تھی. جناح صاحب کو 11 ستمبر 1948 دوپہر دو بجے"ڈکوڈا" ہوائی جہاز سے کوئٹہ سے کراچی لے جانا تھا۔
جب انھیں اسٹریچر پر لٹا کر جہاز کی طرف لے جایا جانے لگا.
جہاز کے عملہ نے ایک طرف قطار میں کھڑا ہو کر انھیں سلیوٹ کیا.
جواب میں انھوں نے  نقاہت سے اپنا ہاتھ بلند کیا.ایک بستر جہاز میں لگا دیا گیا.
فاطمہ جناح، ڈاکٹر مستری اور نرس سسٹر ڈنہم قریب بیٹھ گئے. آکسیجن سلنڈر اور گیس ماسک تیار تھا.
جہاز فضا میں بلند ہوا.کوئی دو گھنٹے کی پرواز کے بعد شام 4 بجکر 10 منٹ پر ماڑی پور اترا.
یہ وہی ہوائی اڈا تھا جہاں آج سے ایک سال سے کچھ عرصہ  پہلے بھی اترے تھے، امیدواعتماد سے بھر پور کہ وہ پاکستان کو ایک عظیم مملکت بننے میں مدد دیں گے۔
تب  ہزاروں افراد انھیں خوش آمدید کہنے آئے تھے.
مگر آج یہاں کوئی بھی نہ تھا.
ہدایت کے مطابق جناح  صاحب  کی آمد کو خفیہ رکھا گیا تھا۔
جہاز سے باہر رن وے پر ایک ملٹری ایمبولنس کھڑی تھی.جسے جناح کے ملٹری سیکرٹری کرنل نول لے کر آئے تھے۔
جناح کے اسٹریچر کو ایمبولنس کے پچھلے حصہ میں رکھا گیا.
جہاں مس فاطمہ جناح، نرس سسٹر ڈنہم بیٹھیں. ڈاکٹر مستری پیچھے جناح کی نئی کیڈلاک کار میں تھے. کوئی چار یا پانچ میل کا فاصلہ طے کر کے ایمبولینس کے انجن نے کچھ آواز نکالی اور وہ رک گئی پانچ منٹ بعد فاطمہ جناح باہر نکلیں کہ ایمبولینس کیوں رک گئی ہے ؟
انھیں بتایا گیا کہ ایمبولینس میں پٹرول ختم ہو گیا ہے.
مگر ڈرائیور انجن میں الجھا ہوا تھا. ماحول میں ایک حبس تھا.جان لیوا گرمی پڑ رہی تھی. مکھیاں جناح صاحب کی چہرے پر بھنبھنا رہی تھیں.جناح صاحب میں اتنی سکت نہیں تھی کہ اپنے ہاتھ سے انھیں ہنکا سکیں. سسٹر ڈنہم اور فاطمہ جناح انھیں باری باری پنکھا جھلتی رہیں. اور
دوسری ایمبولینس کا انتظار کرتی رہیں.ہر منٹ اذیت کا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا💔
ڈاکٹر مستری کار سے باہر نکلے کہ دیکھیں جناح صاحب کی کیا کیفیت ہے؟ وہ یہ جان کر دہشت ذدہ رہ گئے کہ جناح صاحب کی بنض بدستور ڈوبتی جا رہی تھی
وہ بھاگ کر گرم چائے کا تھرموس اٹھا لایا. مس جناح نے انھیں ایک کپ گرم چائے پلائی.یہ کتنا بڑا المیہ تھا کہ ہوائی جہاز کا سفر کرنے کے باوجود یوں ہی سڑک کے کنارے بابائے قوم و گورنر جنرل پاکستان کو دم توڑنا پڑے گا.قریب ہی مہاجروں کی سینکڑوں جھونپڑیاں بنی ہوئی تھیں.جنھیں پتہ نہ تھا کہ جس ہستی نے ان کے لیے پاکستان بنایا وہ آج یہاں یوں سڑک کے کنارے زمانے کے رحم و کرم پر بے بس پڑی ہے.
پاس سے ہارن بجاتی گزرتی کاریں انھیں نہیں پتہ کہ سڑک کے کنارے جو ایمبولینس کھڑی ہے اس میں بابائے قوم موجود ہیں اور بے یار و مدد گار پڑے ہیں.ٹرک بھی آتے گڑگڑاتے گزر جاتے.ایمبولینس کا ڈرائیور انجن کو مرمت کرنے پر لگا ہوا تھا. اور ایک گھنٹہ گزر جانے کے بعد ‏بھی تسلیاں دے رہا تھا.
بس بس ابھی ٹھیک ہو جاتا ہے🤔
ہوائی اڈے سے وزیر منشن (کھار ادر) پہنچنے میں جتنا وقت لگا اتنا وقت کوئٹہ سے بذریعہ ہوائی جہاز کراچی پہنچنے میں نہیں لگا تھا.
خیر جناح صاحب اپنے گھر پہنچ کر کوئی دو گھنٹہ سکون سے سوئے.
پھر انھوں نے آنکھیں کھولیں
اور سرگوشی میں پکارے" فاطمی". سنتے ہی فاطمہ جناح قریب آئیں  کہ 11ستمبر 1948رات 10 بجکر 20 منٹ پر جناح صاحب کا سر داہنی طرف لڑھک گیا.
فاطمہ جناح یہ نظارہ دیکھ کر چیخ   پڑیں
ڈاکٹر مستری بھاگے آئے اور فاطمہ جناح نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ بابائے قوم کو سر سے پاؤں تک سفید چادر سے ڈھانپا جا رہا ہے. فاطمہ جناح یہ منظر برداشت نہ کر سکیں بے ہوش کر زمین پر گر پڑیں. 

قائدِ اعظم 11ستمبر1948
 رات 10 بجکر 20 منٹ پر انتقال فرما گئے۔ 
انا للّٰه وانا الیہ راجعون 
ایک سادہ کفن میں لپیٹ کے،
انھیں اگلے دن کراچی میں دفن کر دیاگیا۔
(جناح فادر آف دی نیشن)
 اسٹینلے ولپرٹ، صفحہ411۔ 413 
#tribalnews1 #Babayqome
#highlights #allfollowers #Historically #foryou #pakistan 

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201