جو آج ہمیں سکھایا پڑھایا کھلایا پلایا جارہا ہے یہ تمام کے تمام چیزیں دین محمدی سے مماثلت نہیں رکھتے یہ سب کچھ مغرب کی دی ہوئی زہر ہے جو اب ہمارے حون میں حوراک بن کر ابھرا اسلیئے آج امت مسلمہ بالکل بے بس ہوکر سر جھکائے بیٹھا ہے
پہلے زمانے میں اسلام صرف عبادات کا نام نہیں تھا بلکہ مکمل زندگی کا نظام تھا۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں سچائی، امانت، انصاف جہاد اور بھائی چارہ عام تھا۔ لوگ دین کو صرف مسجد تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ تجارت، سیاست، معاشرت اور اخلاق میں بھی اسلام پر عمل کرتے تھے۔ اس زمانے میں مسلمان کم تھے مگر مضبوط تھے،
کپڑے پھٹے تھے ایمان مضبوط تھا گھر کچے تھے ایمان پکا تھا مسلمانوں کی رحم دلی وجہ سے ہر مذہب کے لوگ مسلمانوں سے محبت کرتے اور اسلام میں داخل ہوتے تھے
کیونکہ ان کے کردار میں اسلام نظر آتا تھا۔
وہ آج ہم مسلمانوں میں نہیں ہے جب ہمارا راستہ سیدھا ہے تو ہم بھتک کر دور جاکر گرے ہیں جب ہم مسلمان اسلام سے دغا کریں یا صراط مستقیم سے منہ موڑ لیں دوسروں کو اسلام کی تعلیمات دیں ہم خود جھوٹ بولیں دوسروں کو روکیں ہم خود رشوت لیں سود کھائیں ظلم پر گامزن رہیں تو دوسرے مذہب کو کیسے قائل کرسکتے ہیں اس لیئے آج ہم مسلمانوں نے خوبصورت اسلام کو بدنام کی ہے
لیکن اسلام آج بھی وہی ہے،جو 1400 سال پہلے مکمل ہوا لیکن ہم مسلمانوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ آج بہت سے لوگ اسلام کو صرف نماز، روزہ اور چند رسموں تک محدود سمجھتے ہیں۔ اخلاق، سچائی، برداشت اور عدل جیسے اصول کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے لوگ دین کے لیے دنیا چھوڑ دیتے تھے، آج اکثر لوگ دنیا کے لیے دین چھوڑ دیتے ہیں۔
پرانے زمانے میں علم کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ مسلمان علم، تحقیق اور انصاف میں دنیا کی رہنمائی کرتے تھے۔ آج بہت سے مسلمان علم سے دور ہو گئے ہیں اور آپس کے اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے کمزوری پیدا ہوئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام آج بھی مکمل اور سچا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ پہلے مسلمان اسلام پر چلتے تھے اور آج اسلام کو اپنے مطابق چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آج کے مسلمان دوبارہ سچائی، عدل، علم اور اخلاص کو اپنالیں تو وہی طاقت وہی عزت وہی عدل اور وہی جذبہ ایمان واپس آ سکتی ہے جو پہلے زمانے میں تھی۔ لیکن آج اس دور میں ہم صرف مسلمان ہیں مگر سینے میں زرہ برابر اسلام نہیں اسلام صرف عربی نام رکھنے سے نہیں ہو سکتا اسلام میں ہر وہ چیز شامل ہے جو انسانی اور کسی بھی جاندار کی زندگی کو ہر قسمی اور انہیں متوازن رکھا جاسکے لیکن آج ہم نے خود کو بھی متوازن رکھنے سے الگ رکھا صرف کاہلی لالچ خود غرضی بے اعتمادی جھوٹ جو برائیاں پہلے مسلمانوں کیلئے ہلاکت کا سبب بنا کرتے آج ہم اسے اپنا زندگی کا حصہ تصور کرتے ہیں کیونکہ ہم مسلمانوں نے قرآن مجید کی تعلیمات سے منہ موڑا انگریزی کو ترجیح دی ماں باپ سے نفرت اور سسر ساس سے محبت لیکن مسلمان ممالک میں سربراہ تو مسلمان ہیں مگر قوانین انگریزوں کے


No comments:
Post a Comment