بھارت اور پاکستان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان میں ہونے والی یہ پہلی بین الاقوامی جنگ تھی جس میں ایک فریق (بھارت) نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے فریق ثانی(پاکستان) پر جنگ مسلط کی۔ آپریشن جبرالٹر اس کی بنیادی وجہ تھی۔ 177 روزہ اس جنگ میں دونوں فریق اپنی اپنی کامیابی کا دعوی کرتے ہیں۔
اجمالی معلومات: Indo-Pakistani War of 1965, تاریخ …
جنگ سے پہلے کشیدگی
تقسیم ہند کے بعد ہی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان میں خاصی کشیدگیاں رہیں۔ اگرچہ تمام مسائل میں مسئلہ کشمیر سب سے بڑا مسئلہ رہا مگر دوسرے سرحدی تنازعات بھی چلتے رہے مثلاRann of Kutch کا مسئلہ جس نے 1956ء میں سر اٹھایا۔ رن آف کچھ بھارتی گجرات کا ایک بنجر علاقہ ہے، اس مسئلے کا اختتام بھارت کے متنازع علاقے پر دوبارہ قبضے سے ہوا۔ کچھ اخبارات کے مطابق جنوری 1965ء میں پاکستانی سرحدی محافظوں نے بھارتی علاقے میں گشت شروع کر دیا جس کے بعد 8 اپریل 1965 کو دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سرحدی پوسٹوں کے اوپر حملے شروع کر دیے۔ ابتدا میں دونوں ممالک کی سرحدی پولیس کے درمیان یہ تنازع چلتا رہا مگرجلد ہی دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے آگئیں۔ جون 1965ء میںBritish Prime Minister مسٹر Harold Wilson نے دونوں ممالک کوقائل کر لیا کہ کشیدگی کم کر کے اپنے مسائل ایک ٹریبونل کی مدد سے حل کریں۔ فیصلے کے مطابق جو بعد میں 1968ء میں آیا پاکستان کو رن آف کچھ کا 350 مربع میل (910 کلومیٹر2) کا علاقہ دیا گیا جبکہ پاکستان نے 3,500 مربع میل (9,100 کلومیٹر2)۔ کے علاقے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس کے بعد آپریشن جبرالٹر مزید کشیدگی کا باعث بنا۔ جس کا پس منظر یہ ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے درگاہ حضرت بل کی بے حرمتی نے کشمیری مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہوا تھا۔ وادی کشمیر کی حیثیت سے متعلق بھارتی پارلیمان میں پیش ہونے والے قانون کی وجہ سے بھی کشمیری مسلمانوں میں شدید اضطراب کی سے کیفیت تھی اور وہ آزادی کے لیے مستعد نظر آتے تھے، کشمیر کی یہ وہ صورت حال تھی جس سے پاکستان نے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ آپریشن جبرالٹر کے نتائج خاصے خطرناک نکلے اور اسی آپریشن کے بطن سے 1965ء کی پاک بھارت جنگ نے جنم لیا۔
جنگ
25 اگست 1965ء کو 26,000 سے 33,000 پاکستانی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول کو عبور کیا، بھارتی افواج کو، مقامی آبادی نے بتایا کہ 15 اگست کو سرحد عبور کی گئی ہے۔ ابتدائی طور پر، بھارتی فوج کو کافی کامیابی ملی، توپ خانہ کے ذریعے کی گئی گولہ باری سے بھارت نے تین اہم پہاڑی مقامات پر قبضہ کر لیا۔ اگست کے آخر تک، البتہ فریقین کی ایک جیسی پیشرفت رہی۔ پاکستان نے تتوال، پونچھ اور اوڑی کے علاقوں میں پیش رفت کی جبکہ بھارت نے حاجی پیر پاس میں پاکستانی کشمیر میں 88 کلو میٹر تک قبضہ کر لیا 1 ستمبر 1965ء کو، پاکستان نے ایک جوابی حملے کا آغاز کیا، جسے آپریش گرینڈ سلام کا نام دیا گیا۔ جس کا مقصد جموں کے اہم شہر اکھنور پر قبضہ کرنا تھا، جہاں سے بھارتی فوجیوں تک رسد کا راستہ اور مواصلاتی سلسلہ کاٹ دیا جاتا۔ ایوب خان نے حساب لگایا کہ، ہندو صحیح وقت اور جگہ پر کھڑے رہنے کا حوصلہ نہیں کریں گے۔
نقصانات کا جائزہ
جنگی نقصانات اور تباہی کے متعلق بھارت اور پاکستان کی جانب سے ایک دوسرے کے بارے میں خاصے مختلف دعوے کیے گئے ہیں۔ ذیل کے جدول میں دونوں ملکوں کے دعووں کا خلاصہ پیش ہے۔
مزید معلومات: بھارت کے دعوے[23], پاکستان کے دعوے[24] …
فوجی اعزازات
جنگی اعزاز
جنگ کے بعد بھارت میں بھارتی فوج کی مختلف یونٹوں کو 16 جنگی اعزازات اور 3 میدان جنگ سے متعلق اعزازات (theatre honour) دیے گئے۔ ان میں سے کچھ یونٹیں درج ذیل ہیں:
جموں اور کشمیر 1965 (theatre honour)
پنجاب 1965 (theatre honour)
راجستھان 1965 (theatre honour)
اصل اتر
برکی
دوگرائے
حاجی پیر
کالی دھار
او پی ہل
پھلورا
بہادری کے اعزازات
میدان جنگ میں بہادری دکھانے والوں کو بھارت نے Param Vir Chakra اور پاکستان نے نشان حیدر دیا۔
بھارت
کمپنی کوارٹر ماسٹر حوالدار عبد الحامد(بعد از شہادت)
لیفٹینٹ کرنل اردشھیر تارا پورے(بعد از شہادت)
پاکستان
میجر راجہ عزیز بھٹی شہید (بعد از شہادت)
جنگ میں انڈونیشیا کا کردار
1965 کی جنگ میں انڈونیشیا نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ اس وقت کے صدر سوئیکارنو نے ایک جانب تو اندمان اور نکوبار کے جزائر کا محاصرہ کروایا اور پاکستان کی مدد کے لیے فوری طور پر دو آبدوزیں اور دو میزائل بردار کشتیاں روانہ کیں لیکن اس وقت تک پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ہو چکی تھی