کوہ سلیمان میں مزاحمت کی ایک طویل تاریخ ھے جو کے لوگوں نے اپنے حقوق اور سر زمین کے دفاع کے لیے بہادری سے رقم کیے۔ یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ ھفت دسمبر موومنٹ کوہ سلیمان کی تاریخ میں ایک ایسی سیاسی قوت کے طور پر ابھری جس نے نہ صرف بلوچ قومی سیاست بلکہ کوہ سلیمان بالخصوص ڈیرہ جات اور اس سے ملحقہ قبائلی پٹی کو وسیع پیمانے پر اثرانداز کیا۔ 7 دسمبر 1967ء کو سرکار کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ نے ڈیرہ جات میں نہ صرف بلوچ سیاست کو توانا کیا بلکہ اپنے حقوق کی دفاع اور قومی وحدانیت کو برقرار رکھنے کے لیے اس تحریک نے کئی مراحل طے کیے۔
ھفت دسمبر موومنٹ کے آغاز اور اس مزاحمتی تحریک سے آگاہی کے لیے لازمی ھے کہ اس میں تاریخی اور نفسیاتی پس منظر کا مختصراً جائزہ لیا جائے۔ بلوچ مزاحمتی تاریخ میں حملہ آوروں اور قابض اقوام کے خلاف مزاحمت میں جو نفسیاتی پہلو غالب رہا وہ یہ کہ بلوچ بحیثیت قوم اپنی آزادی اور حق ملکیت سے دستبردار ھونا میار سمجھتے ہیں چاہے اسکی کتنی ھی بھاری قیمت ادا نہ کرنا پڑے۔ بلوچ ثقافتی اقدار اس حق ملکیت کے تصور کو مزید حساس کر دیتی ھیں ۔ 1967 جنگ میں اپنی سرزمین و ملکیت سے محرومی کے خوف نے یہاں کے باسیوں کو سرکار کے خلاف اجتماعی مزاحمت پر مجبور کیا۔
تاریخی پس منظر کو دیکھا جائے تو کوہ سلیمان میں سکھ اور انگریز سامراج کے خلاف کئ مزاحمتی جنگیں لڑی گئیں۔ بلوچ وحدانیت کو تقسیم کرنے کے لیے انگریزوں نے "تقسیم کرو اور حکومت کرو" پالیسی کے تحت مشرقی بلوچ قبائل کو فاٹا کی طرح براہ راست وائسرائے ھند کے ماتحت کر دیا۔ برطانیہ کے انخلا سے ایک سال قبل 26 نومبر 1946ء کو نواب جمال خان لغاری ، نواب اکبر بگٹی ، دودا مری و دیگر تمندار کی طرف سے انگریز سرکار کو یاداشت پیش کیا گیا کہ ڈیرہ غازیخان ، راجن پور ، اور مری بگٹی علاقوں کو ریاست قلات میں شامل کیا جائے ۔ یکم مارچ 1949ء کو پنجاب کے گورنر سر فرانسس مودی کی سربراہی میں ایک وفد نے ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا اور بلوچی جرگہ ممبران سے ملاقات کے دوران دوبارہ یہ سوال اٹھایا کہ آپ پنجاب میں شامل ھونا چاہتے ہیں یا بلوچستان میں، تو اس وقت کے جرگہ ممبران ، و دیگر معززین نے بلوچستان میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پنجابی بیوروکریسی سے تنگ یہاں کے تمام بلوچ قبائل لغاری، مزاری، گورشانی، بزدار، قیصرانی لُنڈ، کھوسہ و دیگر معتبرین نے متفق ہو کر بلوچستان میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا اور یہ بھی مطالبہ کیا کہ اگر بلوچستان میں انھیں کسی وجہ سے شامل نہیں کیا جارھا تو انھیں فاٹا میں شامل کر دیا کیا جائے مگر وہ پنجاب کے ساتھ شمولیت کے لیے کسی صورت تیار نہیں کیونکہ انگریز نے بھی اتنا بدتر سلوک یہاں کے بلوچ قبائل سے روا نہیں رکھا جتنا کہ پنجاب کی بیوروکریسی نے۔ مگر جنوری 1950ء میں لوگوں کی منشا کے بغیر جبری طور پر ان علاقوں کو پنجاب میں شامل کردیا گیا۔ اس جبری الحاق اور پنجاب کے توسیع پسندانہ و متعصبانہ رویوں سے یہاں کے بلوچ قبائل نالاں تھے۔
1967ء میں ایوبی آمریت کے دوران پنجاب حکومت نے محکمہ ریونیو کے زریعے ان علاقوں میں زمینوں کے بندوبست و اراضی کا فیصلہ کیا اور مقامی سطح پر لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ سرکار ریونیو ایکٹ کے تحت زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ھے۔ معدنی وسائل سے مالامال ان علاقوں میں سرکار کے لیے بندوبست اور ریکارڈ اس لیے بھی لازمی تھا تاکہ بلوچ قبائل میں مشترکہ اور غیر آباد زمینوں کو سرکاری قرار دے کر لوٹ کھسوٹ کی جائے۔ حکومت کے اس فیصلے سے یہاں کے بلوچ قبائل میں بے چینی پیدا ھوئی اور بزدار قبیلہ نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا اور معززین نے متفق ھو کر فیصلہ کیا کہ وہ کسی صورت سرکاری سطح پر زمینوں کی پیمائش اور بندوبست نہیں ھونے دیں گے۔
اس صورتحال کو بھانپتے ھوئے پولیٹکل اسسٹنٹ ڈیرہ غازی کوہ سلیمان( بھارتی) آئے اور سردار دوست محمد بزدار اور دیگر معززین سے ملاقات کے لیے جرگہ منعقد کیا گیا۔ اس جرگہ میں تمن بزدار سے دور دراز سے ائے کئی معززین اور نوجوانوں نے خود شرکت کی کیونکہ وہ اس مسلئے کو لے کر کافی حساس ہو چکے تھے اور اس فیصلے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرنا چاھتے تھے۔ یہاں تمام علاقہ معززین نے پولیٹکل اسسٹنٹ اور دیگر سرکاری افسران کو واضح کیا کہ یہ زمینیں ھماری ہیں اور ھم سرکاری بندوبست کے خلاف ھیں۔ اگرچہ اس وقت کوہ سلیمان میں شرح خواندگی نہ ھونے کے برابر تھی مگر اس جرگے میں دو تعلیم یافتہ نوجوان بھی شامل تھے۔ دوران جرگہ سرکاری آفیسر اور لوگوں میں شدید تکرار ہوا اور پولیٹکل اسسٹنٹ طیش میں آکر بلند آواز میں لوگوں سے مخاطب ھو کر کہتے ھیں کہ " I am the King of Koh-e-suleman" اور اس کے جواب میں ایک نوجوان پی-اے کو للکارتے ھوئے کہتا ھے۔۔
" We are the lions of koh-e - Suleman"
(جاری ھے)







