Friday, 26 January 2024

بزدار سردار کی شرافت کا گواہ ہر فرد ہے جسکی زبان سے کہی میٹھی تو کسی کے زبان کڑوی الفاط چشم دید گواہ سوشل پلیٹ فارم

سب سے زیادہ جائز تنقید میں حسن خان اپنے سردار صاحبان پر کرتا ہوں لیکن جواز بناکر ہمیشہ سے اپنے علاقے اور عوام کی بات کی نہ کہ نفرت آمیز لہجے میں کسی بھی فرد یا سیاست دان کے خلاف خواہ مخواہ کسی پر بہتان تراشی یا کیچڑ اچھالی سے میرا کوئ تعلق نہیں جائز مطالبات ہر کسی کا حق ہے میں بھی وہی بولتا اور کہتا ہوں کیونکہ یہ ایسا دور ہے غریب عوام اگر جائز بات بھی کہے تو وہ بھی گوارہ نہیں لیکن ہمارے سردار صاحبان پر طرح طرح کے القابات سے نوازہ جاتا ہے انہی سردار صاحبان نے کبھی کسی پر اف تک نہیں کی مگر جتنا پرامن اور شریف سردار ہمارے بزدار قوم کے ہیں شائید ہی کہیں ایسا کوئ دوسرا سردار دیکھنے اور سننے کو ملا ہوگا کیونکہ اس چیز کیلئے مجھے زیادہ کہنے کی ضرورت تو نہیں ہر چیز سوشل میڈیا پر موجود ہے اگر ہمارے سردار بدامن یا ظالم ہوتے کیا یہ کوہ سلیمان کا امن قائم رکھ سکتا تھا بالکل نہیں جب الیکشن کمپیئن کیلئے نکلتے ہیں تو وہی ایک گاڑی میں دو فرد ساتھ لیکر چلتے ہیں جب کہیں جانا ہو تو وہی ایک گاڑی لیکر جاتے ہیں تاکہ کہیں کسی کے غریب عوام کے ہاں تھوڑا سٹے کرنا پڑا تاکہ انہیں تکلیف نہ ہو دو سے پانچ افراد کا کھانا یا چائے ہر کوئ غریب کے ہاں بن سکتا ہے اگر باقی بلوچ قوم پرستوں کی طرح درجنوں گاڑیاں اور سینکڑوں مسلح افراد لیکر کسی غریب عوام کے ہاں جائیں تو ہم جیسے لوگوں کے پاس آن لوگوں کیلئے اتنی چٹائیاں بھی نہیں انہیں پھیلا کر لشکر کو بٹھایا جاسکے نہ ہمارے سردار اپنے غریب عوام کو اپنا دب دبا دکھاتے ہین اگر ایسا کرنا چاہتے تو یہی قوم سردار صاحبان کے ساتھ چلتے کیونکہ انہیں جیب سے تھوڑا خرچہ کرنا ہے وہ گورنمنٹ کے کھاتے سے نکال کر خرچ کرتے مگر یہ چیزیں بھی انسانوں کی فطرت ہوا کرتا ہے بزدار سرداروں کی فطرت میں یہ دب دبا نہیں عاجزی اور انکساری ہے ہاں سردار اپنے عوام کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھنے تعلیم صحت سمیت ہر قسمی سہولیات سے تو دور رکھتے ہیں مگر سردار عثمان خان بزدار کا قلیل دورانیہ سی ایم شپ میں بہت کوششیں تو کی مگر نہ ہوسکا لیغاری اور کھوسہ کو لے لیں مرحوم سردار فاروق خان لیغاری صدر پاکستان سردار اویس خان لیغاری ہر وقت جیت کر وفاقی وزیر رہتا ہے سردار زوالفقار خان کھوسہ گورنر پنجاب اور وفاقی وزیر رہے اسکا بیٹا سردار دوست محمد کھوسہ کھوسہ وزیراعلی پنجاب بلوچستان سے لیکر دریائے سندھ تک اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو سبھی سرداروں سے زیادہ سردار عثمان خان بزدار نے کام کیئے اگر سردار صاحب کے خلاف تونسہ شریف ڈی جی خان سمیت تمام پارٹیاں اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے متحد ہوکر روڑے نہ اٹکاتے تو تونسہ شریف ڈی جی خان اور کوہ سلیمان میں بہت کچھ ہوجاتا لیکن یہ متحد ہونے والوں کو صاف نظر آرہا تھا اگر عثمان خان بزدار جو کرنا چاہ رہا ہے سب ہو جائیں تو ہمیں سیاست کا بوری بستر لپیٹ کر یہاں سے بھاگ جانا ہے کیونکہ ان لوگوں کے ذہنوں میں پنپنے والے منافرت کی وجہ سے نقصان صرف علاقے اور غریب عوام کا ہوا وہ اپنے بچوں کی روزی تو بچا کر گئے ہیں مگر ہمارے غریب عوام کے بچوں کا پیٹ چیر کر ہمیں دلدل میں گرانے میں کامیاب ہوئے دوسرا پرامن علاقہ کوہ سلیمان جو بھی قومیں آباد ہیں بزدار قوم کی ٹوٹل آبادی اسی کوہ سلیمان میں ہے  قبائلی نظام میں قبائلی علاقہ اور عوام جتنا محفوظ ہے انہی سرداروں وڈیروں اور قومیت کے بل بوتے پر ہے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سے لیکر کوہ سلیمان تک پٹھانوں کے وزیرستان سے لیکر روجھان تک چاہے بلوچ ہوں یا پٹھان ہاں اگر قوموں کے مابین سیاسی اور زاتی کشمکش بڑھ جائیں یا کسی تھرڈ پارٹی کی مداخلت سے ان علاقوں میں آوٹ فورس بھیجا جائے تو اس دن سے امن کے سائے کو خدا حافظ کہہ کر غریب لوگوں کو علاقہ چھوڑا کر کہیں اور ہجرت کرنی ہوگی مگر قبائل ازم میں ان ججز اور حکمرانوں کے قانون سے زیادہ قبائلی قانون زیادہ طاقت ور ہے جو کہیں نا کہیں خوش اسلوبی سے راستہ بناکر مزید خون خرابہ سے روکا جاسکتا ہے لیکن مانتا ہوں سرداری نظام میں خامیاں ضرور ہیں مگر جتنا کہا جارہا ہے اتنا بھی نہیں سرداروں اور وڈیروں کے ظلم کی داستانیں تو بہت ہیں مگر ہمارے تمن بزدار میں وہ نہیں جو لکھا اور بولا جاریا ہے ہمارے بزدار قبائل کوہ سلیمان میں امن کی وجہ بھی یہی سردار اور وڈیرے ہیں اگر یہ لوگ بدامنی کی طرف ہمیں دھکیلیں تو یقیننا یہ کوہ سلیمان بھی اپنے ہمسائے تمن کھوسہ یا بلوچستان کی طرح ہو سکتا ہے جہاں قبائلی فورس یا قبائلی معززین کی رسد کو محدود کیا وہاں صرف خون ہی خون نظر آتا ہے نہ کسی کی عزت محفوظ ہے نہ کسی کا جان و مال ؟؟؟ قلم کار حسن خان بزدار 


Tuesday, 5 December 2023

ہفت دسمبر کوہ سلیمان کے شہداء کے نام



کوہ سلیمان میں مزاحمت کی ایک طویل تاریخ ھے جو کے لوگوں نے اپنے حقوق اور سر زمین کے دفاع کے لیے بہادری سے رقم کیے۔  یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ ھفت دسمبر موومنٹ کوہ سلیمان کی تاریخ میں ایک ایسی سیاسی قوت کے طور پر ابھری جس نے نہ صرف بلوچ قومی سیاست بلکہ کوہ سلیمان بالخصوص ڈیرہ جات اور اس سے ملحقہ قبائلی پٹی کو وسیع پیمانے پر اثرانداز کیا۔   7 دسمبر 1967ء کو سرکار کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ نے ڈیرہ جات میں  نہ صرف بلوچ سیاست کو توانا کیا بلکہ اپنے حقوق کی دفاع اور قومی وحدانیت کو برقرار رکھنے کے لیے اس تحریک نے کئی مراحل طے کیے۔ 
ھفت دسمبر موومنٹ کے آغاز اور اس مزاحمتی تحریک سے آگاہی کے لیے لازمی ھے کہ اس میں  تاریخی اور نفسیاتی پس منظر کا مختصراً جائزہ لیا جائے۔   بلوچ مزاحمتی تاریخ میں حملہ آوروں اور قابض اقوام کے خلاف مزاحمت میں جو نفسیاتی پہلو غالب رہا وہ یہ کہ بلوچ بحیثیت قوم اپنی آزادی اور حق ملکیت سے دستبردار ھونا میار سمجھتے ہیں چاہے اسکی کتنی ھی بھاری قیمت ادا نہ کرنا پڑے۔ بلوچ ثقافتی اقدار اس حق ملکیت کے تصور کو مزید حساس کر دیتی ھیں ۔ 1967 جنگ میں اپنی سرزمین و ملکیت سے محرومی کے خوف نے یہاں کے باسیوں کو سرکار کے خلاف اجتماعی مزاحمت پر مجبور کیا۔ 
تاریخی پس منظر کو دیکھا جائے تو کوہ سلیمان میں سکھ اور انگریز سامراج کے خلاف کئ مزاحمتی جنگیں لڑی گئیں۔  بلوچ وحدانیت کو تقسیم کرنے کے لیے انگریزوں نے "تقسیم کرو اور  حکومت کرو" پالیسی کے تحت مشرقی بلوچ قبائل کو فاٹا کی طرح براہ راست وائسرائے ھند کے ماتحت کر دیا۔   برطانیہ کے انخلا سے ایک سال قبل 26 نومبر 1946ء کو  نواب جمال خان لغاری ، نواب اکبر بگٹی ، دودا مری و دیگر تمندار کی طرف سے انگریز سرکار کو یاداشت پیش کیا گیا کہ ڈیرہ غازیخان ، راجن پور ، اور مری بگٹی علاقوں کو ریاست قلات میں شامل کیا جائے ۔   یکم مارچ 1949ء کو پنجاب کے گورنر  سر فرانسس مودی کی سربراہی میں ایک وفد نے ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا اور بلوچی جرگہ ممبران سے ملاقات کے دوران دوبارہ یہ سوال اٹھایا کہ آپ پنجاب میں شامل ھونا چاہتے ہیں یا بلوچستان میں،  تو اس وقت  کے جرگہ ممبران ، و دیگر معززین نے بلوچستان میں شمولیت کا اعلان کیا۔  پنجابی بیوروکریسی سے تنگ یہاں کے تمام بلوچ قبائل لغاری، مزاری، گورشانی، بزدار، قیصرانی لُنڈ، کھوسہ و دیگر معتبرین نے متفق ہو کر بلوچستان میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا اور یہ بھی مطالبہ کیا کہ اگر  بلوچستان میں انھیں کسی وجہ سے شامل نہیں کیا جارھا تو انھیں فاٹا میں شامل کر دیا کیا جائے مگر وہ پنجاب کے ساتھ شمولیت کے لیے کسی صورت تیار نہیں کیونکہ انگریز نے  بھی اتنا بدتر سلوک یہاں کے بلوچ قبائل سے روا نہیں رکھا جتنا  کہ پنجاب کی بیوروکریسی نے۔  مگر جنوری 1950ء میں لوگوں کی منشا کے بغیر جبری طور پر ان علاقوں کو پنجاب میں شامل کردیا گیا۔  اس جبری الحاق اور پنجاب کے توسیع پسندانہ و متعصبانہ رویوں سے یہاں کے بلوچ قبائل نالاں تھے۔ 
1967ء میں ایوبی آمریت کے دوران پنجاب حکومت نے محکمہ ریونیو کے زریعے ان علاقوں میں زمینوں کے بندوبست و اراضی کا فیصلہ کیا اور مقامی سطح پر لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ سرکار ریونیو ایکٹ کے تحت زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ھے۔ معدنی وسائل سے مالامال ان علاقوں میں سرکار کے لیے بندوبست اور ریکارڈ اس لیے بھی لازمی تھا تاکہ بلوچ قبائل میں مشترکہ اور غیر آباد زمینوں کو سرکاری قرار دے کر لوٹ کھسوٹ کی جائے۔ حکومت کے اس فیصلے سے یہاں کے بلوچ قبائل میں بے چینی پیدا ھوئی اور بزدار قبیلہ نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا اور معززین نے  متفق ھو کر فیصلہ کیا کہ وہ کسی صورت سرکاری سطح پر زمینوں کی پیمائش اور بندوبست نہیں ھونے دیں گے۔ 
اس صورتحال کو بھانپتے ھوئے پولیٹکل اسسٹنٹ ڈیرہ غازی کوہ سلیمان( بھارتی) آئے اور سردار دوست محمد بزدار اور دیگر معززین سے ملاقات کے لیے جرگہ منعقد کیا گیا۔ اس جرگہ میں تمن بزدار سے دور دراز سے ائے کئی معززین اور نوجوانوں نے خود شرکت کی کیونکہ وہ اس مسلئے کو لے کر کافی حساس ہو چکے تھے اور اس فیصلے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرنا چاھتے تھے۔  یہاں تمام علاقہ معززین نے پولیٹکل اسسٹنٹ اور دیگر سرکاری افسران کو واضح کیا کہ یہ  زمینیں ھماری ہیں اور ھم سرکاری بندوبست کے خلاف ھیں۔  اگرچہ اس وقت کوہ سلیمان میں شرح خواندگی نہ ھونے کے برابر تھی مگر اس جرگے میں دو تعلیم یافتہ نوجوان بھی شامل تھے۔ دوران جرگہ سرکاری آفیسر اور لوگوں میں شدید تکرار ہوا اور پولیٹکل اسسٹنٹ طیش میں آکر بلند آواز میں لوگوں سے مخاطب ھو کر کہتے ھیں کہ " I am the King of Koh-e-suleman" اور اس کے جواب میں ایک نوجوان پی-اے کو للکارتے ھوئے کہتا ھے۔۔
" We are the lions of koh-e - Suleman"
(جاری ھے)

Wednesday, 29 November 2023

ملک شام اور ہمارے آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کے حدیث کے مطابق عربوں میں زوال کی بشارتیں #Shame #Arub #Hadespak #Farmanenabvi


  مُلکِ شام کے حالات
‏2:-  امام مہدی كا ظہور 
‏اور 
‏3:-  نبی صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم كی پیشن گوئیاں .

‏اللّٰه کے رَسُول  صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے قیامت کے نشانات بتلاتے ہوئے فرمایا کہ :
‏" اُونٹوں اور بَکریوں کے چَروَاہے جو بَرہَنَہ بَدَن اور ننگے پاؤں ہونگے وه ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے لمبی لمبی عمارتیں بنوائیں گے اور فخر کریں گے ... "
‏(صحیح مسلم 

‏ریاض شہر میں عمارتوں کا یہ مقابلہ آج اپنے عُروج پر پہنچ گیا،
‏ دبئی میں ’’برج خلیفہ‘‘ کی عمارت دنیا کی سب سے اُونچی عمارت بن گئی تو ساتھ ہی شہزاده  ولید بن طلال نے جَدَّه میں اس سے بھی بڑی عمارت بنانے کا اعلان کر دیا ہے
‏ جو دھڑا دھڑ بنتی چلی جا رہی ہے، 
‏عرب کی عمارتیں سارے جہان سے اونچی ہو چکی ہیں 

‏عرض کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ
‏میرے پیارے رسول حضرت مُحمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے جو فرمایا وه پُورا ہو چکا ہے
‏اور پیشگوئی پُوری ہو کر اپنے نُکتۂ کمال کو  تقریبا پہنچ چکی ہے .

‏عرب کا سب سے زیاده تیل خریداری کرنے والے امریکہ نے
‏ صَدَّام کو ختم کر کے تیل کی دولت سے سَیراب مُلک عِرَاق کے کنوؤں پر قبضہ جما لیا ہے
‏اور لاکھوں بیرل
‏ مُفت وصول کر رہا ہے
‏تو پھر تیل کی گِرتی مانگ نے تیل کی قیمتوں کو نچلی سطح پر پہنچا دیا
‏جس سے عرب ممالک کا سُنہرا دَور خاتمے کے قریب ہے 

‏سوال پیدا ہوتا ہے اس زوال کے بعد کیا ہے ...؟

‏اللّٰه کے رَسُول صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم کی ایک اور حدیث ہے کہ :

‏" قیامت سے پہلے سَرزَمینِ عرب دوباره سَرسَبز ہو جائیگی"
‏(صحیح مسلم)

‏سعودی عرب اور امارات میں بارشیں شروع ہو چکی ہیں،
‏مَکَّہ اور جَدَّه میں سَیلاب آ چکے ہیں۔ 

‏عرب سرزمین جسے پہلے ہی جدید ٹیکنالوجی کو کام میں لا کر سرسبز بنانے کی کوشش کی گئی ہے 
‏وه قدرتی موسم کی وجہ سے بھی سرسبز بننے جا رہی ہے۔
‏سعودی عرب گندم میں پہلے ہی خودکفیل ہو چکا ہے،
‏اب وہاں خشک پہاڑوں پر بارشوں کی وجہ سے سبزه اُگنا شروع ہو چکا ہے،
‏ پہاڑ سرسبز ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
‏بارشوں کی وجہ سے آخرکار حکومت کو ڈیم بنانا ہوں گے
‏جس سے پانی کی نہریں نکلیں گی،
‏ ہریالی ہو گی،
‏ سبزه مزید ہو گا،
‏ فصلیں لہلہائیں گی،
‏ یُوں یہ پیشگوئی بھی اپنے تکمیلی مَرَاحِل سے گزرنے جا رہی ہے
‏ اور جو میرے حضور صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا اسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے جا رہے ہیں ...!

‏اگر احادیث پر غور کریں تو مَشرقِ وُسطیٰ کے زوال کا آغاز مُلکِ شام سے شروع ہوا لیکن شاید عرب حُکمران یا تو یہود و نصاریٰ کی چال سمجھ نہ سکے
‏یا بے رخی اختیار کی لیکن وجہ جو بھی ہو یا نہ ہو،
‏سرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم کی بتائی ہوئی علامات کو تو ظاہر ہونا ہی تھا
‏حدیث کے مطابق ...!

‏چُنانچہ
‏حدیث پاک میں ارشاد ہے 
‏ﺭﺳﻮﻝ اللّٰه صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
‏" ﺟﺐ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﻭ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﯿﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ "
‏(ﺳﻨﻦ ﺍﻟﺘﺮﻣﺬﯼ 2192: ﺑﺎﺏ ﻣﺎﺟﺎﺀ ﻓﯽ ﺍﻟﺸﺎﻡ، ﺣﺪﯾﺚ ﺻﺤﯿﺢ)

‏میرے محترم و مکرم قارئین کرام یاد ﺭﮐﮭﯿﮟ ...! 
‏ﺍَﺣﺎﺩﯾﺚِ ﻣُﺒَﺎﺭﮐﮧ ﮐﯽ ﺭُﻭ ﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﻭ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺍُﻣَّﺖِ ﻣُﺴﻠﻤﮧ ﮐﺎ ﻣُﺴﺘﻘﺒﻞ ﻭَﺍﺑﺴﺘﮧ ﮨﮯ،
‏ﺍﮔﺮ مُلکِ شام ایسے ہی ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮتے رہا ﺗﻮ
‏ﭘُﻮﺭﯼ ﺍُﻣَّﺖِ ﻣُﺴﻠﻤﮧ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ،
‏ویسے تو 90 فیصد برباد ہو چکا .........!

‏اب جبکہ پانچ سالہ خُونریزی میں 8 لاکھ  بےگناه بَچّے، بُوڑھے، عَورتیں شہید اور لاتعداد دُوسرے مُلک کی سرحدوں پر زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں اور اتنے ہی تعداد میں زخمی یا معذور ہو چکے،
‏لہٰذا شام مُکمَّل تباہی کے بعد اب نزع کی حالت میں ہے ...!

‏اس حدیث کے حساب سے عرب ممالک کے سُنہرے دَور کے خاتمہ کی اہم وجہ مُلکِ شام کے مَوجُودَہ حالات ہيں،
‏گویا نبی صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم  کی ایک اور  پیشگوئی کی عَلامَت ظاہر ہو رہی ہے یا ہوچکی ..

‏یاد رکھیں .

‏کہ مُلکِ شام کے مُتعلّق اِسرائیل، رُوس و امریکہ جو بھی جھوٹے بہانے بنائے،
‏لیکن ان سب کا اَصل ہَدَف جَزیرَة ُالعَرَب ہے
‏ کیونکہ
‏کُفَّار کا عقیدہ ہے کہ
‏ دَجَّال مَسِیحَا ہے
‏اس وجہ سے یہ لوگ دَجَّال کے اِنتظامات مُکمَّل کر رہے ہیں 
‏جس کے لیے عرب ممالک میں عَدمِ اِستحکام پیدا کرنا ہے
‏کیونکہ
‏مُلکِ شام پر یہود و نصاریٰ قبضہ کرنا چاہتے ہیں
‏ اور یہ ہو کر رہیگا 
‏حضرت مہدی عَلیهِ السَّلام کے ظہور سے قبل .....!

‏چُنانچہ کتابِ فِتَن میں ہے کہ :
‏" آخری زمانے میں جب مُسلمان ہر طرف سے مَغلوب ہوجائیں گے،
‏ مُسلسل جَنگیں ہوں گی،

‏شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہو جائے گی،
‏عُلماء کرام سے سُنا ہےکہ
‏ سَعُودیہ، مِصر، ترکی بهى باقى نہ رہیگا
‏ہر جگہ کُفَّار کے مظالم بڑھ جائیں گے،
‏اُمَّت آپسی خَانہ جَنگی کا شِکار رہےگی.
‏عرب 
‏(خلیجی ممالک سعودی عرب وغیره) 
‏میں بھی مسلمانوں کی باقاعدہ پُرشوکت حکومت نہیں رہےگی
‏،
‏ خَیبَر/ الخبر (سعودی عرب کا چھوٹا شہر مَدینةُ المُنَوَّره سے 170 ک م كے فاصلے پر ہے) کے قریب تک یہود و نصاریٰ پہنچ جائیں گے، 
‏اور اس جگہ تک ان کی حکومت قائم ہوجائے گی، 
‏بچے کھچے مسلمان مَدِینة ُالمُنَوَّرَه پہنچ جائیں گے، 
‏اس وقت حضرت امام مہدی عَليهِ السَّلام مدینہ منوره میں ہوں گے "

‏دُوسری طرف دریائے طبریہ بھی تیزی سے خُشک ہو رہا ہے جو کہ مہدی عَلیہِ السَّلام کے ظہور سے قبل خُشک ہوگا 

‏اسلئے جب مَشرقِ وُسطیٰ کے حالات کو خُصُوصاً مُسَلمانوں اور ساری دُنیا کے حالات کو دیکھتے ہیں 
‏تو صاف نظر آتا ہے کہ دُنیا ہولناکیوں کی جانب بڑھ رہی ہے،
‏ فرانس میں حَملوں کے بعد فرانس اور پوپ بھی عالمی جنگ کی بات کر چکے ہیں۔
‏سوال پیدا ہوتا ہے كه
‏ اس عالمی جنگ کا مرکز کون سا خطہ ہو گا ...؟ 
‏وَاضِح نظر آ رہا ہے، مَشرقِ وُسطیٰ ہی مُتَوَقّع ہے .
‏یہاں بھی ہند و پاک کی رَنجِشیں اور کشمکش کے بڑھتے حالات سے بھی لگتا ہے
‏ کہ
‏غَزوه ہند کی طرف رُخ کر رہے ہیں
‏ 
‏کیونکہ حضرت ابو ہریره رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنه سے روایت ہے کہ رَسُولُ اللّٰه
‏ صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا :
‏" میری قوم کا ایک لشکر وَقتِ آخِر کے نزدیک ہند پر چَڑھائی کرے گا
‏اور اللّٰه اس لشکر کو فتح نصیب کرے گا،
‏یہاں تک کہ وه ہند کے حُکمرانوں کو بیڑیوں میں جَکڑ کر لائیں گے۔
‏اللّٰه اس لشکر کے تمام گناہ معاف کر دے گا۔
‏پھر وه لشکر وَاپس رُخ کرے گا
‏اور شام میں موجود عیسیٰ ابنِ مَریم عَليهِ السَّلام کے ساتھ جا کر مِل جائے گا "

‏حضرت ابوہریره رَضِىَ اللّٰه تعالىٰ عَنه نے فرمایا :
‏" اگر میں اُس وقت تک زندہ رہا تو میں اپنا سب کچھ بیچ کر بھی اُس لشکر کا حِصَّہ بَنُوں گا،
‏ اور پھر جب اللّٰه ہمیں فتح نصیب کرے گا تو میں ابوہریره (جہنم کی آگ سے) آزاد کہلاؤں گا۔ پھر جب میں شام پہنچوں گا
‏تو عیسیٰ ابنِ مَریم عَليهِ السَّلام کو تلاش کر کے انہیں بتاؤں گا کہ
‏ میں مُحَمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم كا ساتھی رہا ہوں "

‏رسول پاک صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے تَبَسُّم فرمایا اور کہا : 
‏"بہت مشکل،
‏بہت مشکل"
‏(کتاب الفتن۔ صفحہ ۴۰۹)

‏(واللہ تعالٰی اعلم)

‏آنے والے اَدوَار بڑے پُرفِتن نظر آتے ہیں اور اس کے مُتعلّق بھی سَرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا تھا 
‏کہ میری اُمَّت پر ایک دَور ایسے آئیگا
‏جس میں فِتنے ایسے تیزی سے آئیں گے 
‏جیسے تسبیح ٹوٹ جانے سے تسبیح کے دانے تیزی سے زمین کی طرف آتے ہیں،
‏ لہٰذا اپنی نَسلوں کی ابھی سے تربیت اور ایمان کی فِکر فرمایئے،

‏موبائل كے بےجا استعمال سے،
‏ دیر رات تک جاگنے، فیشن اور یہودی انداز اپنانے سے،
‏نمازوں کو تَرک کرنے سے روكئے ... 
‏ورنہ آزمائش کا مقابلہ  دُشوار ہو گا .

‏ چلتے، چلتے ایک آخری بات عرض کرتی چلوں کہ
‏ اگر کوئی ایسی نایاب ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگے،
‏ 
‏تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے،
‏یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا
‏لیکن
‏ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کرده تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہوں۔
‏میرے اور آپکے لیے صدقہ جاریہ بن جائے
Urdu

Saturday, 15 April 2023

Lalchi Qome Ke Zawal & Zalim Hokmranoon Ki Mojin



پاکستان میں اسوقت صرف کرسی بچانے چھیننے کی جنگ لڑی جارہی ہے نہ ملک پاکستان کی کوئ پرواہ ہے نہ 24 کروڑ عوام سے کسی کو کوئ غرض پی ٹی آئ بمقابلہ پی ڈی ایم عدلیہ بمقابلہ الیکشن کمیشن اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ پی ٹی آئ بیوروکریسی بمقابلہ غریب عوام سبھی کے سب غریب قوم کے خون چوسنے اور غریبوں پر دندناتے ظلم بالجبر کرکے اپنے تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں اسوقت پاکستان میں قانون 100% ختم ہوچکا غریب قوم فاقہ کشیاں کرنے پر مجبور ہیں اسٹیبلشمنٹ بیوروکریسی پی ڈی ایم پی ٹی آئ عدلیہ الیکشن کمیشن سب کے سب ملک پاکستان اور 24 کروڑ عوام پر بوجھ بنے ہوئے ہیں کیونکہ ظالم ترین لوگ خود مفت کے کھاتے ہیں عوام کو 12000 ہزار میں گندم کی بوری بیچ دیتے ہیں مفت چائے پیتے ہیں عوام کیلئے فی کلو چائے 2000 کے اور چینی 6500 کے بوری بیچ دیتے ہیں خود پٹرول مفت میں ڈلوانے ہیں عوام کیلئے 300کو لیٹر بیچا جاتا ہے خود ڈیزل مفت میں ڈلوانے والے کو کیا معلوم کہ عوام 310 میں لیٹر خریدتے وقت کتنے اذیت میں ہوگا خود مفت میں گیس سے چولہا جلانے والوں کو کیا پتہ عوام کو 250 پر کلو گیس بیچ کر اسکے دل پر کیا گزرتی ہوگی خود ایک مہینے کے 3لاکھ سے 50لاکھ لینے والوں کو کیا پتہ کہ غریب عوام 15سے 25 ہزار پر منتھ کمانے والے کس طرح گھر چلانے پر مجبور ہیں خود کیلئے فری میڈیکل لینے والوں کیا پتہ کہ غریب عوام 50روپے ایک پتہ پہناڈول خریدتے وقت کتنے پریشانی کے عالم میں ہوگا خود کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے سے برطانیہ یا امریکہ میں علاج کیلئے جانے والوں کو کیا پتہ کہ پاکستانی غریب عوام کے پیارے سسک سسک کر گھر میں کتنے سالوں سے پڑے ہیں انکی علاج کیلئے ورثاء کے جیب میں 5000 تک نہیں کہیں اسے ہسپتال میں لیجا کر انکی ٹریٹمنٹ کروائیں خود کے بچے امریکہ اور برطانیہ میں زیرے تعلیم یا زیر علاج ہونے والوں کو کیا پتہ کہ غریب عوام کے بچوں کیلئے پرائمری اسکول کے ماسٹرز رجسٹر حاضری بھی سکول میں پڑے رہنے نہیں دیتے اسے گھر لیجا کر اپنی حاضریاں لگوا کر عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لے جاتے ہیں ہمارے پاکستان میں سکہ صرف ظلم کا چلتا ہے مظلوم کو ہمیشہ سے ہر مکاتب فکر کی طرف سے ہر ادارے کی طرف سے ہر سیاسی و سماجی شخصیات و پارٹی کی طرف روندا گیا ہے ہم یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ظالم راشی قاتل کرپٹ کے خلاف بولنے لکھنے حتی کہ اسکے خلاف بائیکاٹ تک نہیں کرسکتے مزید اسے طاقت بخشنے کیلئے اس گینگ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر اسے مضبوط کرنے اور اپنے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیلنے کیلئے انکے ساتھ دیتے ہیں پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر کمپیئن صرف ان سیاسی مگرمچھوں ان ظالم انتظامیہ انصاف سے عاری عدلیہ تحفظ سے پرے اسٹیبلشمنٹ قاتل و جابر بیوروکریسی کی تشہیر کو ہم بہت فخر سے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جیسا کہ ان لوگوں نے پاکستان کو دنیا کے مضبوط ترین ملک غریب عوام کو امیر ترین قوم بناکر انصاف دیکر چھوڑا ہے لیکن 98% جرنلسٹ بھوکے پیاسے ننگے عوام لرزتی ہچکولے کھاتی اس مملکت خداد کو اس نہج پر پہنچانے والے ظالموں کے خلاف اس لیئے بولنے سے قاصر ہیں کہیں ہم پر سیاست دان حکمران اسٹیبلشمنٹ یا بیوروکریسی ذخیرہ اندوز ناراض ہوکر ہمارے ملنے والے بیک اپ کو روک نہ دیں غریب لوگوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اگر صحافی برادری لکھنا بولنا شروع کردے تو ان پر عوام کی خالی دعائیں ہونگے اللہ تعالی راضی ہوگا دنیا پر پتہ نہیں آخرت ضرور بنے گا پر ہمیں بھی صرف پیٹ بھر کر ہی یہاں دنیا پر موجیں کرنی ہے آخرت سے ہمیں کیا پرواہ یقیننا  اگر پاکستان میں صرف جرنلسٹ پینلز صحیح راستے پر نکلیں تو کسی مائ کے لال میں یہ ہمت ہی پیدا نہیں ہوگا کہ میں ملک پاکستان اور اسمیں بسے عوام پر اگر ظلم کروں تو وہ بےنقاب کرینگے یہ کام بھی وہ لوگ کرنے کے مجاز ہونگے جنہیں لالچ کی عینک پہنی نہیں ہوگی اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق اپنا کام سرانجام دے رہے ہوں وہی مجاھد جرنلسٹ اپنے قلم اور مائیک و کیمرے کی مدد سے ظالموں کے ظلم کو دنیا تک پہنچاتے رہیں تو آٹومیٹک پاکستان میں 50سے 80% ظلم کو روک جانے پر مجبور ہونگے لیکن اس چیز کیلئے بھی شرف ایمانی ضرورت ہوگا سیاستدانوں جج جرنیلوں بیوروکریسی کے کچن کیلئے ویلاگ یا رپورٹنگ تو آئے روز کیئے جاتے ہیں پاکستان کی بقاء غریب عوام کی مستقبل کیلئے نہ کسی کا قلم چلتا ہے نہ کسی کی زبان ہلتی ہے نہ کسی کا کیمرہ اوپن ہوتا ہے کیونکہ ان سب چیزوں کا زمیدار 80% بھی ہم خود غریب عوام بھی ہیں اگر ہم جان کر یہ حکمران جج جرنیل سیاستدان بیوروکریسی ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں تو ہم کیوں انکی خوشنودی کرتے ہیں کیوں انہیں ووٹ ڈالتے ہیں کیوں انکے خلاف بولتے نہیں جب تک ہم پاکستان کے عوام میں یہ سیلفی رواج یہ لالچی رسم یہ خوشنودی کا بازار بند نہیں کرتے تو ان لوگوں کا ہم پر ظلم کرنے سے کچھ نہیں جاتا اس لیئے انہیں معلوم ہے پاکستان کے بیوقوف عوام ہمارے اصل بنیادی واردات کو بھانپ ہی نہیں رہے تو وہ بھی آئے روز اپنے مقاصد میں کامیابیاں سمیٹتے ہی رہینگے اور غریب لوگ خودکشیوں پر مجبور ہوتے رہینگے ملک پاکستان کا دنیا بھر کوئ مقام ہی نہیں بنیگا کشکول حکمران کے القاب سے اسی طرح ہمیں نوازتے رہیں گے ہمارے حکمران اور اعلی عہدوں پر فائز لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد دنیا میں جہاں دل نے چاہا جزیرے خریدتے رہینگے ہمیں کبھی آٹے کے لائن میں لگاکر مارتے ہیں کبھی کھاد کے لائن لگ کر مرنا ہے کبھی پٹرولیم کیلئے لائنوں میں دھکے کھانے پڑتے ہیں ہم عوام اپنے بچوں کے پیٹ پالنے کیلئے کبھی گردہ پیچتے ہیں کبھی بچوں کو ختم کرکے خود خودکشی کرجاتے ہیں تو ہمارا ہی حافظ نہیں اور کیا ہوگا

Monday, 10 April 2023

جھوٹی تسلی دینے سے بہتر ہے سچے دل سے ظلم اور ظالموں کا مقابلہ کرو قلم کار حسن خان بزدار



کیا ہم کلمہ طیبہ پڑھ کر خوش ہیں کہ ہم مومن مسلمان ہیں کیا ہم بھوکا اور پیاسا رہ کر خوش ہیں کہ ہم نے روزہ رکھا دیندار ہیں کیا ہم نے دو منٹ میں 20 سجدے کیئے ہم خوش ہیں ہم نمازی ہیں نہیں ایسا کوئ بھی نہ مومن ہوسکتا ہے نہ پکا مسلمان کیا کی ہے ہم نے اسلام کی خاطر کیا کبھی آپنے کسی مظلوم کا ساتھ دی کبھی آپنے سچائ کو تھاما کیا کبھی دین محمدی کیلئے آپنے کوئ خاطر خواہ کردار ادا کی افسوس کہ ہم نے کچھ بھی نہیں کی جب اس زندگی سے ہجرت کرجائینگے تو روز محشر ہم اپنے آپکو بخشوانے کیلئے خالق کائنات کو کیا کہیں گے کہ ہم بھی مسلمان ہیں اے مالک ہمیں بخش دے نماز پڑھ کر نکلے تو جھوٹ اور دھوکہ دہی کو شروع کیا روزہ رکھا تو زبان پر جھوٹ دل میں منافقت کلمہ طیبہ پڑھ کر کسی کے دو فٹ زمین کو اپنایا ہرگز یہ اسلام میں نہیں کہ آپکے دل میں منافقت ہو آپ دوسو دانے کا تسبیح لیکر خود کو صوفی ثابت کرنے کی کوشش کریں عمرہ ادا کرکے دوسروں کا حق ماریں کلمہ طیبہ پڑھ کر کسی کی زمین پر قبضہ کریں روزہ رکھ کر جھوٹ بولیں دغابازی کریں اسے اسلام میں بالکل اجازت نہیں ہم نے لمیٹ کو کراس کرکے بہت دور نکل چکے ہیں اپنے بچوں کو حرام کھلا کر کہتے ہیں اولاد نافرمان ہیں مقتول کے ورثاء سے پیسے لیکر اسکا ایف آئ آر نہیں کرتے پیسے لیکر قاتل کو سینے سے لگا کر اسے اپنا دوست بناتے ہیں مظلوم کو انصاف مانگتے مانگتے اسکی نسلیں جوان ہوتی ہیں حتی کہ آنے والے مستقبل کی زندگیاں بھی ختم ہوجاتے ہیں منصفین کے راشی ہونے کی وجہ سے انصاف دینے کے بجائے مظلوموں کو انصاف لینا ہی چھوڑنا پڑتا ہے سوائے چند ایک کے عالموں کو کرسی کے لالچ میں اتنا اندھا بنا دی ہے کہ ہمیں اسلام کا درس دینا ہے وہ بھی چھوڑ دی ہے سوائے سیاسی بیٹھک کے کبھی کسی عالم نے یہ سوچا کہ فلانا راشی ہے اسکے خلاف بولوں وہ ظالم ہے اسے سمجھاؤں وہ زانی ہے اسے روکوں ہاں یہ فتوے ان لوگوں کیلئے ضرور دیئے جاتے ہیں جسکے جیب میں ایک روپیہ نہ ہو جسکے پاس کوئ سرکاری عہدہ نہ ہو جس کا سیاست سے دور دور تک تعلق نہ ہو اگر ہم جاہلوں سے لیکر پڑھے لکھے معزز علماء سبھی اپنے اپنے مفاد کیلئے سب کرتے رہیں تو کیا ہم مومن یا مسلمان کہلاتے ہیں ہمارے پاکستان کے سیاستدانوں کو لے لیں کیا ہم خوش ہیں ہم مسلمان ممالک میں آزاد ہیں کبھی بھی نہیں ہم ایسے غلام ہیں جیسا کہ فرعون کے دور میں ہوا کرتے تھے حالات اس سے بھی بد تر ہیں ہمارے حکمران خود کو زمینی خدا سمجھ بیٹھے ہیں پاکستان کے حکمرانوں بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ علماء کرام کی حالات آپکے سامنے ہے ملک پاکستان اور غریب عوام کو اس نہج پر کس نے پہنچایا اس دور میں دو وقت کا کھانا تقریبا ناممکن ہوتا جارہا ہے انصاف کا گلہ گھونٹ کر اسے کئ عشروں پہلے دفن کیا جاچکا ہے اگر کسی نیک علماء و مشائخ نے ظلم کے خلاف آواز بلند بھی کی تو اسے مارا جاتا ہے یا اسے سلاخوں کے پیچھے سلایا جاتا ہے وگرنہ علماء کرام اپنے بچوں کا مستقبل بناکر ان ظالموں کا دست و بازو بن کر عوام کا گلہ دبانے میں برابر کے شریک ہیں کھلے عام قاتل بیوروکریسی اور سیاست دانوں  کے جھولی میں بیٹھ کر کسی کو بھی قتل کرکے پھینک دیتے ہیں اسمبلیوں میں بیٹھے بھیڑیے اسلام کے شکوں میں علماء کرام کو ساتھ لیکر کفر کے کہنے پر بلا جھجک ترمیم کرتے ہیں 2016 میں جب نواز لیگ مولانا فضل الرحمان پیپلز پارٹی نے جہاد کو ہٹانے کی کوشش کی تو سوائے سابق وزیر اعظم #میر_ظفراللہ_جمالی نے کسی نے اختلاف نہیں کی اسنے کہا اللہ کرے شک کی تبدیلی سے پہلے میں مرجاؤں لیکن آپکے اس گھناؤنا ظلم کے ساتھ نہیں دیتا کچھ لوگوں کی وجہ سے پاکستان کے آئین میں اسلام کا شرعی نفاظ محفوظ ہے لیکن وہ بھی محدود وگرنہ اکثر سیاسی مولویان پاکستان کے لالچی حکمرانوں سے ملکر پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مغربی جمہوریت کے طرض پر لاکر کھڑا کرتے اب بھی ہم خوش ہیں کہ ہمارے حکمران ہمارے سیاست دان ہمارے بیوروکریسی ہمارے سیاسی مولوی ہمارے پاکستان کو مکمل اسلامی طور طریقوں اور قرآن مجید کے احکامات کے مطابق ہمیں مضبوط اسلامی ریاست بناکر دینگے اگر یہ لوگ 75 سالوں سے کرپشن کو نا انصافی ظلم و جبر کو بڑھاتے بڑھاتے یہاں تک پہنچا چکے ہیں یہ ہمیں آگے کیا اسلامی مملکت بناکر دینگے ان سے توقع رکھنا بالکل سو% بے سود ہے ہمیں دین سے دور کیا جارہا ہے ہمیں ظلم کے راستے پر لیکر یہ لوگ چل رہے ہیں انصاف کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا گیا پھر بھی ہم کہتے ہیں اللہ تعالی ہم پر ناراض ہے ہم اتنے سخت دل ہو چکے ہیں چند پیسوں کیلئے اپنے والدین کو دشمن سمجھتے ہیں اپنے بھائیوں سے دھوکہ کرکے انکو وراثت سے بے دخل کرتے ہیں اپنے ہمسائیوں پر جیسا ہی دل نے چاہا وہی کرتے ہیں دو سجدے ادا کرکے اپنے آپکو گنج بخش سمجھتے ہیں روزہ رکھ کر خود کو معین الدین چشتی سمجھتے ہیں کسی سائل کو دس روپیہ دیکر حاتم طائ کو کہتے ہیں ہم جیسے سخی آپ نہیں ہوسکتے زخیرہ اندوزی لوٹ مار کرکے عمرہ کی ادائیگی کے بعد خود کو دودھ کا دھلا ہوا سمجھ کر ظلم کو مزید طول دیتے ہیں رشوت لیکر صبح تہجد پر بیٹھ کر اپنے آپکو شاہ سلیمان تونسوی سمجھتے ہیں تھوڑا نہیں پورا سوچیں میرے اور آپکے اس دکھاوا کے عمرہ اور حج نماز و روزہ سے کچھ ہونے والا نہیں ظلم کے ہر حد عبور کرکے کہتے ہیں روز محشر آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین ہماری شفاعت کریگی شفاعت اسکی کی جائیگی جسے مجبوری کے عالم میں کوئ کوتاہی ہوئ ہو جان بوجھ کر ظلم کا بازار لگانے والوں کیلئے سفارش کس چیز کا قرآن مجید کے 30 پارے ہیں یہ ہمارے ہی رہنمائ کیلئے آیا ہوا ہے اگر ہم اسے جھٹلا کر شفاعت کا سوچیں تو یہ ہماری بھول بھی ہے اور ہم حقدار بھی نہیں اللہ تعالی مالک و خالق ہے اگر کسی یہودی و نصرانی کو بخش دے تو اسے کوئ نہیں پوچھ سکتا مگر ہم اپنے آپکو بہت دھوکہ دے رہے ہیں بہت ظلم کررہے ہیں اپنے آپکو جنت سے نکلوا کر جہنم کا ایندھن بننے کیلئے تیار کررہے ہیں بیوی بچوں کو چھوٹی سی غلطی پر کتنا سزا دیتے اور مارتے ہیں اگر نماز نہ پڑھیں روزہ نہ رکھیں تو کوئ بات نہیں کام پر ڈانٹ دین پر سمجھوتہ یہ میرے رب کو قبول نہیں ہمیں اس دنیا پھر بھیجنے کا مقصد اس مالک کی حکم عدولی بجالانا ہے نہ کہ اس کے حکم کے سے بغاوت کرنے کیلئے پیدا فرمایا گیا اگر حکم کی نافرمانی پر سمجھوتہ ہوتا تو ابلیس کو ملعون قرار نہیں دیا جاتا وہ بھی فرشتوں کا سردار تھا زمین کو بالشت بالشت سجدے کیئے لیکن حکم کے برخلاف اسے ہمیشہ کیلئے لعنتی قرار دیکر جنت سے نکالا گیا کیونکہ ہم آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کے امتی ہیں اگر ہم تھوڑا سا کوشش بھی کریں تو یقیننا ہمیں بخشا جائیگا بشرطہ حکم کے خلاف نہیں حکم بجا لانے پر جان بوجھ کر غلطی پر نہیں بھول چوک پر معاف کیا جاسکتا ہے جب تک دل میں محبت یا خوف خدا نہ ہو تو ظاہری عمل بیکار ہے دعا ہے رب جلیل سے کہ ہمیں شیطان کی پکڑ سے محفوظ اور اپنے بتائے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

Saturday, 8 April 2023

خود کو جھوٹی تسلی دینے سے بہتر ہے سچے دل سے ظلم اور ظالموں کا مقابلہ کرو



کیا ہم کلمہ طیبہ پڑھ کر خوش ہیں کہ ہم مومن مسلمان ہیں کیا ہم بھوکا اور پیاسا رہ کر خوش ہیں کہ ہم نے روزہ رکھا دیندار ہیں کیا ہم نے دو منٹ میں 20 سجدے کیئے ہم خوش ہیں ہم نمازی ہیں نہیں ایسا کوئ بھی نہ مومن ہوسکتا ہے نہ پکا مسلمان کیا کی ہے ہم نے اسلام کی خاطر کیا کبھی آپنے کسی مظلوم کا ساتھ دی کبھی آپنے سچائ کو تھاما کیا کبھی دین محمدی کیلئے آپنے کوئ خاطر خواہ کردار ادا کی افسوس کہ ہم نے کچھ بھی نہیں کی جب اس زندگی سے ہجرت کرجائینگے تو روز محشر ہم اپنے آپکو بخشوانے کیلئے خالق کائنات کو کیا کہیں گے کہ ہم بھی مسلمان ہیں اے مالک ہمیں بخش دے نماز پڑھ کر نکلے تو جھوٹ اور دھوکہ دہی کو شروع کیا روزہ رکھا تو زبان پر جھوٹ دل میں منافقت کلمہ طیبہ پڑھ کر کسی کے دو فٹ زمین کو اپنایا ہرگز یہ اسلام میں نہیں کہ آپکے دل میں منافقت ہو آپ دوسو دانے کا تسبیح لیکر خود کو صوفی ثابت کرنے کی کوشش کریں عمرہ ادا کرکے دوسروں کا حق ماریں کلمہ طیبہ پڑھ کر کسی کی زمین پر قبضہ کریں روزہ رکھ کر جھوٹ بولیں دغابازی کریں اسے اسلام میں بالکل اجازت نہیں ہم نے لمیٹ کو کراس کرکے بہت دور نکل چکے ہیں اپنے بچوں کو حرام کھلا کر کہتے ہیں اولاد نافرمان ہیں مقتول کے ورثاء سے پیسے لیکر اسکا ایف آئ آر نہیں کرتے پیسے لیکر قاتل کو سینے سے لگا کر اسے اپنا دوست بناتے ہیں مظلوم کو انصاف مانگتے مانگتے اسکی نسلیں جوان ہوتی ہیں حتی کہ آنے والے مستقبل کی زندگیاں بھی ختم ہوجاتے ہیں منصفین کے راشی ہونے کی وجہ سے انصاف دینے کے بجائے مظلوموں کو انصاف لینا ہی چھوڑنا پڑتا ہے سوائے چند ایک کے عالموں کو کرسی کے لالچ میں اتنا اندھا بنا دی ہے کہ ہمیں اسلام کا درس دینا ہے وہ بھی چھوڑ دی ہے سوائے سیاسی بیٹھک کے کبھی کسی عالم نے یہ سوچا کہ فلانا راشی ہے اسکے خلاف بولوں وہ ظالم ہے اسے سمجھاؤں وہ زانی ہے اسے روکوں ہاں یہ فتوے ان لوگوں کیلئے ضرور دیئے جاتے ہیں جسکے جیب میں ایک روپیہ نہ ہو جسکے پاس کوئ سرکاری عہدہ نہ ہو جس کا سیاست سے دور دور تک تعلق نہ ہو اگر ہم جاہلوں سے لیکر پڑھے لکھے معزز علماء سبھی اپنے اپنے مفاد کیلئے سب کرتے رہیں تو کیا ہم مومن یا مسلمان کہلاتے ہیں ہمارے پاکستان کے سیاستدانوں کو لے لیں کیا ہم خوش ہیں ہم مسلمان ممالک میں آزاد ہیں کبھی بھی نہیں ہم ایسے غلام ہیں جیسا کہ فرعون کے دور میں ہوا کرتے تھے حالات اس سے بھی بد تر ہیں ہمارے حکمران خود کو زمینی خدا سمجھ بیٹھے ہیں پاکستان کے حکمرانوں بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ علماء کرام کی حالات آپکے سامنے ہے ملک پاکستان اور غریب عوام کو اس نہج پر کس نے پہنچایا اس دور میں دو وقت کا کھانا تقریبا ناممکن ہوتا جارہا ہے انصاف کا گلہ گھونٹ کر اسے کئ عشروں پہلے دفن کیا جاچکا ہے اگر کسی نیک علماء و مشائخ نے ظلم کے خلاف آواز بلند بھی کی تو اسے مارا جاتا ہے یا اسے سلاخوں کے پیچھے سلایا جاتا ہے وگرنہ علماء کرام اپنے بچوں کا مستقبل بناکر ان ظالموں کا دست و بازو بن کر عوام کا گلہ دبانے میں برابر کے شریک ہیں کھلے عام قاتل بیوروکریسی اور سیاست دانوں  کے جھولی میں بیٹھ کر کسی کو بھی قتل کرکے پھینک دیتے ہیں اسمبلیوں میں بیٹھے بھیڑیے اسلام کے شکوں میں علماء کرام کو ساتھ لیکر کفر کے کہنے پر بلا جھجک ترمیم کرتے ہیں 2016 میں جب نواز لیگ مولانا فضل الرحمان پیپلز پارٹی نے جہاد کو ہٹانے کی کوشش کی تو سوائے سابق وزیر اعظم #میر_ظفراللہ_جمالی نے کسی نے اختلاف نہیں کی اسنے کہا اللہ کرے شک کی تبدیلی سے پہلے میں مرجاؤں لیکن آپکے اس گھناؤنا ظلم کے ساتھ نہیں دیتا کچھ لوگوں کی وجہ سے پاکستان کے آئین میں اسلام کا شرعی نفاظ محفوظ ہے لیکن وہ بھی محدود وگرنہ اکثر سیاسی مولویان پاکستان کے لالچی حکمرانوں سے ملکر پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مغربی جمہوریت کے طرض پر لاکر کھڑا کرتے اب بھی ہم خوش ہیں کہ ہمارے حکمران ہمارے سیاست دان ہمارے بیوروکریسی ہمارے سیاسی مولوی ہمارے پاکستان کو مکمل اسلامی طور طریقوں اور قرآن مجید کے احکامات کے مطابق ہمیں مضبوط اسلامی ریاست بناکر دینگے اگر یہ لوگ 75 سالوں سے کرپشن کو نا انصافی ظلم و جبر کو بڑھاتے بڑھاتے یہاں تک پہنچا چکے ہیں یہ ہمیں آگے کیا اسلامی مملکت بناکر دینگے ان سے توقع رکھنا بالکل سو% بے سود ہے ہمیں دین سے دور کیا جارہا ہے ہمیں ظلم کے راستے پر لیکر یہ لوگ چل رہے ہیں انصاف کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا گیا پھر بھی ہم کہتے ہیں اللہ تعالی ہم پر ناراض ہے ہم اتنے سخت دل ہو چکے ہیں چند پیسوں کیلئے اپنے والدین کو دشمن سمجھتے ہیں اپنے بھائیوں سے دھوکہ کرکے انکو وراثت سے بے دخل کرتے ہیں اپنے ہمسائیوں پر جیسا ہی دل نے چاہا وہی کرتے ہیں دو سجدے ادا کرکے اپنے آپکو گنج بخش سمجھتے ہیں روزہ رکھ کر خود کو معین الدین چشتی سمجھتے ہیں کسی سائل کو دس روپیہ دیکر حاتم طائ کو کہتے ہیں ہم جیسے سخی آپ نہیں ہوسکتے زخیرہ اندوزی لوٹ مار کرکے عمرہ کی ادائیگی کے بعد خود کو دودھ کا دھلا ہوا سمجھ کر ظلم کو مزید طول دیتے ہیں رشوت لیکر صبح تہجد پر بیٹھ کر اپنے آپکو شاہ سلیمان تونسوی سمجھتے ہیں تھوڑا نہیں پورا سوچیں میرے اور آپکے اس دکھاوا کے عمرہ اور حج نماز و روزہ سے کچھ ہونے والا نہیں ظلم کے ہر حد عبور کرکے کہتے ہیں روز محشر آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین ہماری شفاعت کریگی شفاعت اسکی کی جائیگی جسے مجبوری کے عالم میں کوئ کوتاہی ہوئ ہو جان بوجھ کر ظلم کا بازار لگانے والوں کیلئے سفارش کس چیز کا قرآن مجید کے 30 پارے ہیں یہ ہمارے ہی رہنمائ کیلئے آیا ہوا ہے اگر ہم اسے جھٹلا کر شفاعت کا سوچیں تو یہ ہماری بھول بھی ہے اور ہم حقدار بھی نہیں اللہ تعالی مالک و خالق ہے اگر کسی یہودی و نصرانی کو بخش دے تو اسے کوئ نہیں پوچھ سکتا مگر ہم اپنے آپکو بہت دھوکہ دے رہے ہیں بہت ظلم کررہے ہیں اپنے آپکو جنت سے نکلوا کر جہنم کا ایندھن بننے کیلئے تیار کررہے ہیں بیوی بچوں کو چھوٹی سی غلطی پر کتنا سزا دیتے اور مارتے ہیں اگر نماز نہ پڑھیں روزہ نہ رکھیں تو کوئ بات نہیں کام پر ڈانٹ دین پر سمجھوتہ یہ میرے رب کو قبول نہیں ہمیں اس دنیا پھر بھیجنے کا مقصد اس مالک کی حکم عدولی بجالانا ہے نہ کہ اس کے حکم کے سے بغاوت کرنے کیلئے پیدا فرمایا گیا اگر حکم کی نافرمانی پر سمجھوتہ ہوتا تو ابلیس کو ملعون قرار نہیں دیا جاتا وہ بھی فرشتوں کا سردار تھا زمین کو بالشت بالشت سجدے کیئے لیکن حکم کے برخلاف اسے ہمیشہ کیلئے لعنتی قرار دیکر جنت سے نکالا گیا کیونکہ ہم آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کے امتی ہیں اگر ہم تھوڑا سا کوشش بھی کریں تو یقیننا ہمیں بخشا جائیگا بشرطہ حکم کے خلاف نہیں حکم بجا لانے پر جان بوجھ کر غلطی پر نہیں بھول چوک پر معاف کیا جاسکتا ہے جب تک دل میں محبت یا خوف خدا نہ ہو تو ظاہری عمل بیکار ہے دعا ہے رب جلیل سے کہ ہمیں شیطان کی پکڑ سے محفوظ اور اپنے بتائے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

Sunday, 26 March 2023

کینسر کے موذی مرض کا شافی علاج اور طریقہ کار


جس دھماسہ بوٹی سے میں نے دو مہینوں میں آخری سٹیج ۵۰% کینسر ختم ہوتے  دیکھا ہے وہ ہرے رنگ کا پاؤڈر ہے جو تازہ بوٹی توڑ کر صاف کرکے سکھاکر پسوایا گیا تھا۔ یادرہے کینسر پورے جسم میں معدے،پھیپھڑے،جگر حتٰی کہ ہڈّیوں تک پھیل گیا تھا۔ براہِ مہربانی اپنے  پیاروں کو کیمو کی تکلیف سے بچائیے  دھماسہ کھلائیے۔
کچھ لوگ دھماسہ کو غلطی سےجَوَاں، جواہیاں یا جَمَایَاں سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ علیحدہ پودہ ہے۔
دھماسہ کے پودے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر چار چار کانٹوں کا ایک سیٹ ہوتا ہے جس میں ہر دو کانٹوں کے درمیان پتلا اور لمبوترا پتہ ہوتا ہے۔ یہ کانٹےتین بھی ہو سکتے ہیں، اور چار بھی۔ اس کی شاخیں بہت پتلی ہوتی ہیں، اس لئے یہ براہ راست بڑھ نہیں سکتے ہیں اور ایک چھوٹی سی جھاڑی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ پودہ اٹلی، جرمنی، مشرق وسطیٰ کے ممالک، پاکستان اور بھارت میں بھی پایا جاتا ہے۔ یہ کینسر خاص طور پر خون اور جگر کے کینسر کے علاج کے طور پر مانا جاتا ہے۔
اس کے پھولوں کا رنگ ہلکاجامنی ہے۔ پھول جھڑنے کے بعد اس کے کانٹوں کے قریب 00 شکل کے چھوٹے بیج بڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔

دھماسہ کے فوائد

۔۔ یہ سب سے اچھا مصفّا خون ہے اور خون کے لوتھڑوں کو پگھلاکر خون کو پتلا کرتا ہے جس کی وجہ سے برین ہیمبرج، ہارٹ اٹیک، اور فالج وغیرہ سے حفاظت ہوتی ہے۔
۔۔ اس کے پھول اور پتیوں سے کینسر اور تھیلاسیمیا کی ہر قسم کا علاج ممکن ہے۔
۔۔ جسم کی کی گرمی کو زائل کرنے اور ٹھنڈک کے اثرات کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
۔۔ اس کے ذریعے ہیپاٹائٹس کی تمام اقسام کا علاج ممکن ہے۔
۔۔ جگر کو طاقت دے کر جگر کے کینسر کا بھی علاج کیا جا سکتا ہے۔
۔۔ دل اور دماغ کی صلاحیتوں میں بہتری لانے میں معاون ہے۔
۔۔ جسمانی دردوں کے علاج میں مددگار ہے۔
۔۔ مختلف قسم کی الرجی کا علاج ہے۔
۔۔ کیل، مہاسے، چھائیاں اور دیگر جلدکے امراض سے نجات دلاتا ہے۔
۔۔ معدہ کو تقویت دے کر بھوک بڑھاتا ہے۔
۔۔ اس سے قے، پیاس اور جلن، وغیرہ جیسی علامات ختم ہو جاتی ہیں۔
۔۔ کمزور جسم کو طاقت دے کر فربہ بناتاہے، اور موٹے افراد کے لئے وزن کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہے۔
۔۔ منہ اور مسوڑھوں کے امراض علاج ہے۔
۔۔ بلڈ پریشر کو معمول پر لاتا ہے۔
۔۔ دمہ اور عمومی سانس لینے میں دشواری کا علاج

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201