بلوچ اقوام اور اسکی موجودہ صورتحال ؟ ہم بلوچ اقوام اسوقت ایسے دو راہے پر کھڑے ہیں نہ خود میں اپنے اتحاد کو بحال رکھنے میں یکسو ہیں نہ ہمارے ارد گرد دنیا بھر کے طاقت ور حلقے یکجا ہونے دیا جاتا ہے اس لیئے سب سے پہلے ہمیں جب تک اپنے اندر یہ جزبہ بیدار نہ کر سکیں کہ ہم ایک قوم ہیں پاکستان سمیت دنیا بھر کے ہر کونے میں پائے جانے والے یہ اقوام ہرجگہ کسم پرسی کی حالات گزارنے پر مجبور ہیں اور ہم کچھ عرصے سے ایسے دور سے گزر رہے ہیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر فرد ہر وڈیرہ ہر سردار ایک سے دوسرے پر بازی لینے کیلئے دوسروں سے ہاتھ ملاکر اپنے مظلوم عوام کے خلاف لالچ میں آکر یہی سب کچھ کیا جارہا ہے جو قوم افراد یا فرد ملک علاقے اور قوم کیلئے مخلص ہو اسکے کیلئے جہدو جہد کرنے میں مصروف عمل ہو اسے اٹھا کر پھینکا جارہا ہے یا اسے ہمیشہ کیلئے خاموش کیا جاتا ہے کیونکہ اسکے زمیدار سب سے پہلے ہم خود ہیں دوسرے وہ طاقتیں ہیں جس نے اس انگریز کے بنائے گئے لاء کو ترتیب دیکر ازل سے اج تک ہمیں لڑا کر ہم پر حکمرانی کرتے چلے آرہے ہیں جن طاقتوں نے #لاشار اور #رند قبائل کو آپس میں لڑا کر ہم میں جو جدائ کا لکیر کھیچوایا گیا آج بھی تسلسل سے جاری و ساری ہے کیونکہ جب دونوں ایک تھے تو انگریز کی طاقت اسے دبا نہ سکا اس لیئے ان لوگوں نے بڑے چالاکی سے یہی راستہ اختیار کرنا پڑا جب تک بلوچوں کو آپس میں لڑایا نہیں جاتا تب تک انسے کسی صورت کسی بھی سیاسی اور مقامی باہم طریقے سے زیر نہیں کیا جاتا نہ کسی صورت کوئ قسم کی جنگ ان سے جیتنا ممکن نہیں اور ان لوگوں نے اسی طریقے کو مضبوطی سے ہم پر کوششوں کا آغاز کیا اخر کار اپنے انہونی مقاصد میں کامیاب ہوئے کیونکہ ہر کوئ وڈیرہ گیری اور سرداری کے لالچ میں آکر ہمیں نقصان پہنچایا وہی راہ تسلسل اج بھی ہر ملک میں بلوچوں کے خلاف منعظم اور مضبوطی سے جاری ہے ہمیں پہلے قومیت میں بانٹتے ہیں پھر پھلیوں میں اور اب ہمیں اتنا کمزور بنایا اور لالچ میں لایا گیا اب فرقوں میں یہ زہر بھرا جارہا ہے آج ہمیں اتنا کمزور کیا جاچکا ہے کہ بلوچ قومیت سے فرقے اور خاندانوں میں اپس میں نفرتیں اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے لیکن دنیا کے پاور ترین رکھنے اور حکمرانی کرنے والے بلوچ قوم اسوقت ہر جگہ محکوم بن چکا ہے اسکی بنیادی وجہ یہی اپس کی منافرت سیاست اور آپسی جنگ و جدل ہے جب تک ہم بلوچ اس چیز سے نکلنے کی کوشش نہ کریں تب تک یمارا یہ صورت حال مزید بد سے بد تر ہوتا جائیگا آنے والے اگر بلوچ نوجوانوں نے کوششیں نہ کی تو آنے والے وقت میں بلوچ قوم صرف تاریخ میں قصہ پارینہ بن جائیگا کیونکہ عرب سے لیکر عجم تک یورپ سے لیکر بنگال تک ہر مکتب فکر اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے ملک اور قومیں بلوچوں کو اسی طرح پیسا جارہا ہے جیسا کہ یہ انسان ہی نہیں اس لیئے کہ وہ لوگ بلوچوں کی تاریخ کو مد نظر رکھ کر یہی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے کہیں بلوچوں میں پھر سے اتحاد قائم نہ ہو اور اسی تاریخ کو لیکر آج دنیا بھر میں ہم بلوچوں کو طاقت رکھنے کے باوجود کہیں اور کسی بھی ملک میں نہ ہمیں پہچان مل رہا نہ ہمیں حقوق دیئے جارہے ہیں جب تک ہم اپس کے اس جنگ کو جدل کو ختم کرکے اپنے قومیت پر توجہ نہیں دیتے تب تک ایسے پستے مرتے اور مارے جائیں گے اب ہمیں ہر صورت ایک دوسرے سے بازی لینے کسی کے سر پر پرائیویٹ پگ رکھنے اور ہم میں کسی کو چن کر سربراہ بنانے کے خواب کو ہر حال میں یہ سب کچھ چھوڑنا ہوگا اور ہمیں سب سے پہلے اپنے آپکو یکجا کرنے ہونگے بہت ہوا ہمیں یہ سبز باغ دکھا کر اپس میں لڑاکر دنیا بھر کی وہی طاقتیں خود اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرتے چلے آرہے ہیں لیکن ہماری نسلوں کے نسلیں اجڑ چکے ہیں اب یہ ہمیں نوجوانوں کو کرنا ہے اور ہماری زمیداری بھی ہے اور ہم پر فرض بھی ہمارے بڑوں نے اس سیاسی ٹھیکیداری میں بہت کچھ کھویا ہے کسی کو کہیں سے لیکر حکمران بنانے اور کسی کو قومیت کے سرپرست اعلی کو اسی کے ہاتھوں یرغمال بنانے کی یہ سازشیں ماضی بعید میں کیا جانے والا مستقبل قریب میں بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے متانے کی پری پلان منصوبہ ہے ہمیں آنکھیں کھول کر دیکھنے کان کھول کر سننے دماغ پر زور دیکر سوچنا چاہیئے کہ ہم اس حکمرانی کی لالچ میں اپنے اپکو کس نہج تک پہنچا چکے ہین جو کہ یہ فرضی حکمرانی کہیں ہمارے لیئے نقصان دہ ثابت تو نہیں ہورہا ایران پاکستان ترکی دمشق امان یمن شام سمیت دنیا بھر کے ہر ممالک میں بغور سے جائزہ لیکر بلوچ قوم کو اپس میں سر جوڑ کر مل بیٹھنے کا وقت ہے ہمیں کیوں اس لیئے مولی گاجر سمجھ کر جس بے دردی سے کاٹا جارہا ہے آخر ہم میں کس جگہ سے کوتاہی سر زد ہوریا ہے کیونکہ ہر چیز تو اندر ہی موجود ہے اور ہر صورت میں اس پر توجہ دینا ہوگا
کیا وجہ ہے ہمیں اس طرح بلا عذر پیسا جارہا ہے اگر ہم اپنے حقوق مانگیں تو ہمیں غدار وطن یا ملک کیوں ڈکلیئر کیا جاتا ہے آخر ہم کونسا اتنا جرم کررہے ہیں جسے جہاں سے جس کا دل چاہے ہمیں مارا جاتا ہے جیسا کہ ہم اللہ کی مخلوق ہی نہیں انہی لوگوں کے بنائے ہوئے مورتیاں ہیں جب دل چاہے جسوقت دل کہے اسی وقت بلا جھجھک ہمیں یکجا کرکے مارا جاتا ہے کیا ہمارا کسی سے کوئی زاتیات ہے بالکل نہیں کیا ہم کسی مذہب کے خلاف ہیں بالکل نہیں کیا اپنے حقوق مانگنے اسکے خلاف آواز اٹھانے پر ہم دہشت گرد بن جاتے ہیں افسوس ہے ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں ہمیں ہر جگہ بری نظر سے کیوں دیکھا جاتا ہے صرف اس لیئے کہ ہماری تاریخ ہمیں جینے نہیں دے رہا اور اسوقت ہمیں آپس کے نفرتوں نے اس نہج پر پہنچایا
دنیا ہمیں نہیں ہمارے تاریخ کو دیکھتا ہے ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم اسوقت لالچ خود غرضی حکمرانی یا سرپرستی کے چکروں میں خود کو اور اپنے آنے والے نسلوں کیلئے ہزہمت کا سبب تو نہیں بن رہے آج دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچا ہم بلوچ آج بھی تالابوں کے پانی استعمال کرتے ہیں صحت کیلئے ہم جانتے نہیں کہ ہم بھی انسان ہیں بجلی کیلئے ہمارے بچے آج بھی سوچتے ہیں وہ کیا ہوتا ہے تعلیم کیلئے پہلے تو 80% بلوچ علاقوں میں سکول ہی نہیں اگر کہیں پرائمری یامڈل ہے تو اسے تالا پڑا ہے روڈز سرے سے موجود نہیں نہیں کہیں کچا ٹریک بنایا بھی گیا تو چند بارش کے قطروں کے سبب اس پر پیدل چلنا نا ممکن ہے اگر آج بھی کسی بلوچ قبائل میں کوئ سیریس مریض ہو تو میلوں مصافحت پر اسے کاندھوں پر اٹھاکر انکو کہیں روڈ کنارے لے جانا پڑتا ہے اگر کہیں چپڑاسی کیلئے ہمیں اپلائ کرنا ہو تو ہمارے بلوچ قوم میں مڈل پاس نہیں جو چپڑاسی کیلئے نوکر بھرتی ہو سکے اگر کسی شہر میں رات گزارنی ہو تو وہاں مسافر خانہ کے اونر دو گھنٹے ہم سے یہی تفتیش میں لگا رہتا ہے آپ کہاں اور کس علاقے سے ہیں اگر اپنے علاقے سے کسی اور شہر کیلئے سفر کرنا ہو یا کسی اور شہر سے اپنے گھر کیلئے آنا ہے تو راستے میں سینکڑوں چیک پوسٹوں پر 90% بلوچوں سے سارا دن یہی جھگڑا اٹھک بیٹھک تلاشی کا ٹوپی ڈرامہ رچایا جاتا ہے کہ آپ اس شہر کی طرف کیوں جارہے ہو کیا کرنا ہے واپسی کب ہوگی اگر اپنے گھر کی طرف واپسی ہو تو یہی سوالات پھر سے سامنے آتے ہیں آپ کیوں گئے تھے کیا کرنا تھا کب گئے تھے ہم بلوچ اپنے ہی دیس میں پردیسی تصور کیئے جاتے ہیں اور اپنے گھر میں بھی اجنبی کب تک یہ ظلم برداشت کرینگے اور کب تک یہ نطام ہم پر رائج ہوتا رہیگا خدا را بلوچ نوجوانو اٹھو سب سے خود کو مضبوط اور یکجا کرو دنیا خود بخود آپکے پیچھے انے پر مجبور ہوگا ہمیں ہمارے بڑوں نے بھی اتنا دھوکے میں رکھا جتنا کسی اور نے ہم پر ظلم ڈھائے ہمارے وڈیروں نوابوں سرداروں کے بچے اے سی کے لمبے لمبے گاڑیوں میں بیٹھ کر سکول جاتے ہیں نوکروں کے جھرمٹ میں سیروسیاحت کرتے ہیں لیکن ہم بلوچ عوام کے بچوں کو سکول دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوتا صرف اپنے گلہ بانی اور چرواہے کی صورت میں سنگلاخ ڈھلانوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اب جتنا دیر کررہے ہو اتنا ہی ہم پر سیاسی وڈیرے سردار نواب ہم پر غالب کیئے جارہے ہیں
اپنوں نے ستم کیئے اپنوں نے بھسم کیئے ؟ کسی سے کیا گلہ ہوگا جو اپنوں نے زخم دیئے

No comments:
Post a Comment