تونسہ جاگ چکا ہے ہم چہرے بھانپ چکے ہیں ؟
تونسہ شریف؟ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے دنیا و اخرت پر سدا اسکی ہی حکمرانی قائم رہیگی ہر پریشانی ہر مصیبت کی بڑی وجہ سب سے پہلے ہمارے اپنے ہی اعمال ہیں اس میں کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیئے دنیا اور اخرت میں کامیابی اور ناکامی کا سبب اللہ تعالی نے قرآن مجید میں صادر فرمایا جو میرے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرے اسکی کامیابی میرے رب نے اپنے ہی زمے اٹھا رکھا ہے جو شیطان کے وسوسوں پر چلے اسکے کہا مانے تو اسکا ذمیدار وہ خود ہے کیونکہ اللہ تعالی نے گھر سے لیکر علاقے اور ملکوں پر بھی سربراہی کی ذمیداریاں بھی اللہ تعالی نے انسانوں کو دی ہے پورے کائنات کو چلانے والا واحد طاقت تو ایک ہی اللہ رب کائنات ہے مگر ہمیں انسانوں کو بھی اللہ تعالی نے کسی نہ کسی مقصد کیلئے ضرور بنایا ہے عبادت سے ریاضت اگر ہم اپنے زمیداریوں سے رو گردانی کریں تو اسکا خمیازہ ہی ہمیں بھگتا پڑتا ہے جیسا کہ گزرے تین سے چار مہینے قبل کوہ سلیمان میں طوفانی بارشیں ہوئیں پورے کوہ سلیمان کو تہس نہس کر رکھا اور کوہ سلیمان کے بارشوں کا پانی تونسہ شریف پر گر کر جو بڑی شدت سے سیلاب بن کر جو تباہی مچائ شائید ہی تاریخ میں اتنا بڑا نقصان تونسہ شریف اور اسکے مضافات کا کبھی ہوا ہو تونسہ کے سو سالہ بزرگ نے کہا کہ ہمارے آباو اجداد نے ہمیں اتنے بڑے تباہی کا کبھی نہیں بتایا جو گزشتہ تین مہینے پہلے ہوا کیونکہ تونسہ شریف کے دیہاتوں اور کوہ سلیمان کے چوٹیوں پر بسے وہ نہایت ہی غریب لوگ اباد ہیں جو کچے مٹی اور کچے پتھروں سے بنائے گئے کمروں اور جھونپڑیاں بناکر اپنے زندگی بسر کرتے رہے لیکن اس سیلابی تباہی نے جھونپڑیوں پتھر کے اور مٹی کے بنائے گئے کچے کمروں کو لپیٹ کر 90% لوگوں کے چھت زمین برد کیئے حکومت پنجاب اور مرکزی حکومتوں نے دعوے تو بڑے کیئے لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں جو کہ دنیا کے نظروں سے بالکل اوجھل ہیں سابق سی ایم پنجاب پی ٹی آئ رہنما ایم این اے خواجہ شیراز محمود ایم پی اے خواجہ داود سلیمانی پی ایم ایل این کے رہنما خواجہ نطام المحمود سردار میربادشاہ قیصرانی سمیت مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئ کے کسی بھی رکن کو یہ گوارا ہی نہیں گزرا کہ یہاں کے عوام سے پچھہتر سالوں سے ہم نے اور ہمارے آباو اجداد ووٹ لیتے آرہے لیکن ووٹ لینے کا مقصد یہ ہر گز نہیں کامیاب ہوکر یا سرکاری خزانے سے فنڈز اور امدادی سامان لیکر عوام کے ساتھ کہیں جاکر صرف سیلفیاں بنانا نہیں انہیں دوبارہ آباد کرنا بھی حکومت وقت کی زمیداری ہے مگر افسوس کہ ان رہنماوں نے سوائے چند ایک جگہ پر سیلفیاں بنانے تک محدود رہے جو ایک نہایت ہی دکھ اور تکلیف کی بات ہے اس مشکل گھڑی میں اپنے عوام کیلئے جو کام تونسہ اور کوہ سلیمان کیلئے
((عام آدمی تحریک پاکستان))
کے چیئرمین اور صدر ((ملک فرحان خان بھٹہ اور محترمہ راشدہ بھٹہ صاحبہ)) نے سر انجام دی اور دے رہے ہیں تونسہ شریف اور کوہ سلیمان کے غریبوں کیلئے جو نہ مسلم لیگ ن کرپائے نہ پی ٹی آئ کیونکہ ((عام آدمی تحریک پاکستان )) کے منشور اپنے غریب عوام کی خدمت ہے ان کیلئے سب سے پہلے خیمہ اور راشن مہیا کرنا اب دوسری کھیپ میں شدید سردیوں میں انہیں گرم کپڑے برتن مچھر دانیاں بسترے اور کمبل پورا کرنے کا ٹاسک لیکر دن رات کوشاں ہیں تونسہ اور کوہ کے جو بغیر چھت کے لوگ پڑے ہیں ان کیلئے (عام آدمی تحریک پاکستان) اپنا فلاحی و عوامی امداد کا ٹاسک پورا کرنے کیلئے ہمہ وقت غریبوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر انکی جنگ لڑ رہی ہے گزشتہ دن (ملک فرحان خان بھٹہ) سے ملاقات ہوئ اس کا کہنا تھا ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں جو ہم اپنے گھر سے پورا کرسکیں ڈونرز اور فلاحی اداروں کے تعاون سے انشااللہ جلد سیلاب متاثرین کیلئے جنکے گھر منہدم ہوئے ہیں انہیں پاکستان کے عوام کی مدد سے چھت فراہم کرنے کیلئے بڑی تیزی سے کوشش کررہا ہوں شدید سردیوں سے پہلے انہیں چھت فراہم کرکے اپنے انسانی اور جزبہ ایمانی کا بنایا گیا منشور پورا کرکے غریب عوام اور اپنے علاقے کی بحالی پر پورا اتر سکوں کیونکہ ہم نہ ایم پی اے ہیں نہ ایم این اے نہ کسی حکومت کا حصہ ہیں میں پاکستان اور آوٹ کنٹری میں ڈونرز دوستوں کے سپورٹ سے انشااللہ اپنے تونسہ اور کوہ سلیمان کے غریبوں کی مدد کیلئے کسی بھی کسر باقی نہیں چھوڑونگا اور (محترمہ راشدہ بھٹہ صاحبہ) نے ایک سوال کے جواب میں کہا میں افسوس سے کہتی ہوں کہ ہمارے تونسہ شریف کے نمائندے جنہیں عوام نے ووٹ دیکر کامیاب بنایا اسمبلیوں تک بھیجا کسی کی حکومت پنجاب میں ہے تو کسی کا مرکز پر براجمانی انہیں عوام کیلئے حکومت اور ڈونرز کی طرف سے بہت بڑی امدادی کھیپ ملا لیکن تونسہ اور کوہ سلیمان کے بد قسمت عوام تک انکے امداد کی سوئ ؟ بھی نہ مل سکا یہ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئ رہنماوں کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے اور انے والے وقت میں یہ عوام میں جاکر کس منہ سے ووٹ مانگتے ہیں جو اس سیلاب کی تباہی کو نظر انداز کرکے روپوش ہیں اور جو رہنما اپنے عوام کو ایک خیمہ تک نہ دے سکا وہ آنے والے وقت میں ہمارے غریب عوام کو کیا دینگے اور اب عوام بھی جاگ چکا ہے پچھہتر سالوں سے پسماندہ رکھنے والے سردار اور خواجگان اتنا ہی نہ کر سکے تو یہ لوگ ہمارے تونسہ اور کوہ سلیمان کو لاہور یا اسلام آباد بھی نہیں بنا سکتے انکے خالی دعووں کا پول سیلاب نے کھول کر رکھ دی ہے

No comments:
Post a Comment