Thursday, 8 December 2022

بزدار قبائل کا بہت سے اہم ہسٹری میں ایک اہم تاریخ ہفت دسمبر شہدائے کوہ سلیمان کے اسیران کا یاد ہمیشہ کیلئے زندہ و تابندہ بندہ رہیگا ؟

 بزدار قوم کا ایک ادنی سا تاریخ



#کوہ سلیمان

,,ڈیرہ غازیخان میں بلوچ حقوقِ جدوجہد...

(07 ,,ہفت دسمبر )

 ☜(پٹواری جنگ)

 ,,بلوچستان کے وسیع تر رقبے میں 1948 میں پرنس آغا کریم,1958 میں بابو نوروز کی گوریلہ جنگ کے بعد یہ پٹواری جنگ تیسری بڑی جنگی میدان تھی,

1967 میں گورنمنٹ نے ڈیرہ غازیخان #کوہ سلیمان کے چھوٹے بارانی اور سیاہ آف زمینداروں پہ ٹیکس لاگو کرنے کی ٹھان لی،،

 ,,تو بلوچ محنت کش طبقہ, #راہکوں اور #شفانکوں نے ٹیکس دینے سے انکار کرتے ہوئے, واضح کالا قانون کے خلاف اعلان جنگ کیا, #بزدارسردار گورنمنٹ کیطرف سے سرداری اور مراعات کا بہانہ بنا کر گورنمنٹ کے پَلوُ میں جا بیٹھا,,

,,بزداروں نے اپنے #سردار سے بغاوت کر کے دو پڑھے لکھے نوجوان #صدیق بلوچ جس کا تعلق چاکرانی قبیلے سے اور ماسٹر #وحید ,جس کاتعلق شہوانی قبیلے سے ہے, 

,,تمام بزدار جہد کاروں نے ان دو نوجوانوں کو اپنا کمانڈر تسلیم کیا, یہ جنگ ایوبی دور میں تمن بزدار کے علاقے تھلہ تھوخ میں لڑی گئی,,

,, تمن بزدار کے تمام نوجوانوں, بزرگوں,خواتین اور بچوں نے بھی حق کا علم بلند کرتے ہوئے کوہ سلیمان کی بلند چوٹیوں اور تھوخوں کا رخ کیا, یہ مزاحمت پورے چھ ماہ تک جاری رہی,,

,, اس مزاحمت کو کچلنے کیلئے #سرداروں نے گورنمنٹ سے ذاتی مفادات حاصل کر کے #وڈیروں کے بچوں کو دھڑا دھڑ قبائلی فورس BMP میں بھرتی کر لیا, 

,پھر اسی #فورس کو #ریاست نے #انگریزوں کیطرح نہتے بلوچ عوام کے خلاف استعمال کیا, بلوچ جہد کاروں نے ہزاروں کی تعداد میں پہاڑوں کا رخ کیا,اور سرداروں اور بی.ایم. پی کو شکست ہوئی,,

,,سرداروں کی منافقت یا دوستی دوسرے بلوچ سرداروں نے بزدار سردار کیطرح جنگ سے لاتعلقی اختیار کیا, اور دوسرے بلوچ علاقوں سے کمیونیکیشن گیپ سے اس مزاحمتی جنگ میں صرف #بزدار قبیلے نے حصہ لیا, اسلحہ,خوراک , دیسی کارتوس اور دیسی بندوقیں حتی کہ بلوچ چرواہے شفانک اپنی کلہاڑیاں لیکر اپنے سے طاقتور کیخلاف مورچہ زن ہوگئے,,

,,اس جنگ میں کمانڈری کی خدمات #شہید صدیق چاکرانی اور #ماسٹروحیدشاہوانی جو آج بھی حیات ہیں نے انجام دیے,,

,,اس جنگ میں دوست محمد, محمدان, یارمحمد,  رحیمو شہید ہوئے,,اناللہ واناالیہ راجعون


,,اس جنگ میں بہت سے بی. ایم. پی کے باضمیر سپاہیوں نے گورنمنٹ سے بغاوت کر کے بلوچ جہد کاروں کے ساتھ شامل ہوئے,جس میں سپاہی نور محمد کا نام نمایاں تھا, بارڈر ملٹری پولیس کی ناکامی کے بعد ریاست نے ایف.سی کو بلوچ گوریلہ جہد کار آمنے سامنے مڈ بھیڑ ہو گئے,, 

,,گورنمنٹ کے پاس بھاری اسلحہ,توپ,گولے اور مشین گنیں تھیں,جبکہ بلوچ جہد کاروں کے پاس کلہاڑیاں,چند دیسی توپک محدود دیسی کارتوس اور پتھروں کے علاوہ کچھ نہ تھا, بزدار برادری نے ڈٹ کر مقابلہ کیا,,


,,آخر کار 7 دسمبر 1967 کو دوست محمد اور یار جان بزدار, وطن کی حفاظت میں شہید ہو گئے, اسلحہ اور خوراک نہ ہونے کیوجہ سے بلوچ مزاحمت کار منتشر ہو گئے,سینکڑوں نوجوانوں, بزرگوں, خواتین اور بچوں کو ایف.سی اور بی. ایم. پی نے گرفتار کرلیا,اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھر بار چھوڑ کر خواتین اور بچوں سمیت روپوش ہو گئے,

,,گورنمنٹ کیطرف سے لوٹ مار کا سلسلہ شروع ہوا,کھڑی فصلوں کو آگ لگادی گئی,کچے مکانات اور جھونپڑیوں کو منہدم کیاگیا, مال مویشی کے جھونپڑیوں کو آگ لگا کر مال مویشیاں ہانک کر لے گئے,1200 آدمیوں پر ریاست نے بغاوت کا مقدمہ درج کیا اور تقریباً 700 لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا,ملک کی مختلف جیلیں بزدار برادری سے بھر دی گئیں,


,,اس وقت کامشہور نعرہ تھا


,,چھکاں چماٹاں گو وافنوں,

پھرے واڑت پٹواری,,


,,یعنی ہمارے اپنے بچے چماٹ کھا کر سو جاتے ہیں

اور پٹواری بھی ہم سے کھانے کو مانگتا ہے,,


آج بھی ڈیرہ غازیخان اور تونسہ میں شہدائے کوہ سلیمان کی یاد میں بلوچ بزرگ ونوجوان, طلبأ, ہر سال ہفت دسمبر جوش اور جذبے میں مناتے ہیں,,


No comments:

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201