ہمارے ادارے ہماری انتظامیہ سب مافیاز و بلوچ سرداروں ونوابوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں ۔افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ بلوچستان کو پاکستان کا صوبہ نہیں سمجھا جا رہا ہے اس ملک کا حصہ نہیں سمجھا جا رہا ہے ۔اتنا بڑا صوبہ بلوچستان جو سارے پاکستان کو چلانے والا صوبہ ہے ہمارے ادارے ہماری انتظامیہ اس بڑے صوبے کو ایک کالونی سمجھ رہے ہیں اور اسے نوابوں و سرداروں کے ہاتھوں یرغمال کیا گیا ہے۔اس صوبے میں ادارے، انتظامیہ،عدالتیں سب نے مافیا و سرداران نواب کو چھوٹ دیا ہوا ہے۔ یہ سارے ادارے بلوچستان کی تباہ حالی میں ان مافیاز نواب و سرداران کے ساتھ برابر کے شریک ہیں وہ یہ سمجھ رہے ہیں ۔بلوچ قوم و سرزمین بلوچستان سرداروں نوابوں کی جاگیر ہے اور وہی زور آور ٹولہ اس کے مالک ہیں ۔ہم اپنے اداروں سے اپیل کرتے ہیں۔ اپنےافواج پاکستان سے اپیل کرتے ہیں سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان سے اپیل کرتے ہیں ۔خدارا بلوچ قوم وسرزمین بلوچستان کو سرداروں و نوابوں جاگیر داروں کے ہاتھوں یرغمال نہ بنایا جائے ۔یہی سردار نواب اس ملک وقوم کے دشمن ہیں ۔بلوچ قوم اس ملک کا دشمن نہیں ۔
یہی بلوچ قوم آکے ملک کے ہر ادارے میں ملک و قوم کی خدمت کرتے ہیں مافیاز نواب سرداران نہیں، یہی بلوچ قوم کے بچے أکے ہر روز اپنے ملک پاکستان کی دفاع میں شہید ہوتے ہیں نواب و سرداران کے بیٹے شہید نہیں ہوتے اس ملک کے دفاع میں ۔
ہم عرض کرتے ہیں تو پھر ہماری سرکار بلوچستان میں ان سرداروں کے ہاتھوں یرغمال کیوں? ،ان جاگیر دار سردار ونوابوں کے سامنے بے بس کیوں ?
آئین شکنی بھی یہی سردار کریں ،یہی سردار ریاست کے اندر بھی اپنی ریاست بنائیں ، انتظامیہ کے ہوتے ہوئے اپنی نجی جیلیں بنائیں ،ہمارے ملک کے سب سے بڑے طاقتور ادارے کے ہوتے ہوئے یعنی عدلیہ سیشن کورٹ ،ہائی کورٹ ،وسپریم۔کورٹ کے ہوتے ہوئے اپنی عدالتیں قائم کریں۔پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہماری ریاست نے خود انکو خود چھوٹ دیا ہوا ہے یا یہ ریاست سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں ۔اس لیے انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر سکتا ۔دومہنے پہلے کی بات ہے مغوی گران ناز قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی سے رہائی کی اپیل کر رہی تھی کہ انہیں اور اسکے بچوں کو صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی سے آزاد کرایا جائے۔ٹھیک اسکے کچھ ہی دن بعد وہ ویڈیو بنانے والی بچی امیراں بی بی کھیتران کو ڈی این اے ٹیسٹ کے مطابق ریپ کرکے اور جسمانی زیادتی کرکے منہ پہ تیزاب پھینک کر چہرہ مسخ کرکے صوبائی سردار عبدالرحمن کھیتران نے اپنے نجی جیل میں قید مظلوم خان محمد مری کے دو بیٹوں کو انکے ماں کے سامنے ظلم وزیادتی تشدد کا نشانہ بنا کر انکے ہاتھ پاؤں توڑ کر جسمانی تشدد کا نشانہ بنا کر گولی مار کر شہید کردیا اور میتوں کو بوریوں میں بند کر کے کنویں میں پھینک دیا ۔تین دن بعد لاشوں کے بدبو سے لوگ جب اس کنویں پہ پہنچے تین بوری بند لاشیں نکالیں گئی ایک امیراں بی بی کھیتران اور دو خان محمد مری کے نوجوان بیٹے کی شناخت ہوئی ۔جو صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی جیل میں قید تھے۔اسکے بعد مری قوم و آل پاکستان مری اتحاد و تمام طبقہ فکر کے لوگوں کی احتجاج کے بدولت صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے اپنے نجی جیل سے سب کو رہا کر دیا۔اسکے بعد وہاں کی لیویز پولیس سب کو نہیں پتہ کہ یہ لوگ کہاں سے بازیاب ہوئے کس نے بازیاب کیے اور کون کون ملوث ہے عبدالرحمن کھیتران کے ساتھ کوئی پتہ نہیں کیسے بازیاب ہوئے۔اور وہ عورت جو سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی جیل میں قرآن پاک کا واسطہ دیکر رہائی کی اپیل کر رہی تھی کیسے رہا ہوئی اور کیسے تین قیدیوں کو مار کر لاش بوری میں بند کر کے کنویں میں پھینک دیا نہ کوئی معلوم اور نہ ہی کی رپورٹ نہ ہی کوئی کیس ۔یعنی سب جان کر سردار عبدالرحمن کھیتران کے خلاف ایکشن لینے والا کوئی نہیں ،اب جب عوام نے لاش وزیراعلی بلوچستان کے ہاؤس کے سامنے رکھ کر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جب تک وزیر عبدالرحمن کھیتران کو گرفتار نہیں کیا جائے گا ہم لاشوں کو دفن نہیں کریں گے۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران صاحب نے خود کو کچھ دنوں کیلئے اپنے ریسٹ ہاؤس الھدی سینٹر جیل میں آرام فرما کر حالات کو مزید بگڑنے سے بچا لیا ۔اسی میں بہتری سمجھی کہ کچھ دن آرام فرماؤ ۔لوگ خاموش ہو جائیں ۔اسکے بعد تین قتل مقتولہ امیراں بی بی کھیتران کے ساتھ جنسی زیادتی وجسمانی زیادتی ودو نوجوانوں کے ساتھ جسمانی قید ومشقت اور اسکے بعد قتل کرکے لاش بوری میں بند کرکے کنویں پھینکنے والے اور باقی زندہ بچ جانے والے بوڑھی ماں گراں ناز کے ساتھ جسمانی زیادتی اور اسکی 17سالہ بیٹی کے ساتھ جنسی وجسمانی زیادتی و تشدد اور بچوں کے ساتھ جسمانی زیادتی تشدد آٹھ سال تک اپنےنجی جیل میں قید کرنے بعد صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے خلاف نہ کوئی عدالتی کاروائی ہوئی نہ سزا جزا سردار صاحب بضمانت جیل سے رہا ہوئے اور ایک دو بیل کے بعد باعزت بری ہو جائیں گے ۔تو ہم اپنے اداروں سے پوچھتے ہیں آپ کشمیر کی آزادی کے تو بات کرتے ہو۔ادھر آپکے اپنے ہی ملک میں سرداروں نے بلوچستان پہ قبضہ کیا ہوا ہے تمھاری ساری انتظامیہ انکے سامنے بے بس صوبائی حکومت ان سرداروں نوابوں کی تمھاری ساری انتظامیہ پولیس لیویز وکیل جج عدالت انتظامیہ سب ان کے گرفت میں ،سب ان سرداروں نوابوں کے انڈر میں اور اوپر سے آپ وفاق انکو سالانہ اربوں کھربوں روپے روپے دیتے ہو صوبائی بجٹ کی مد میں ۔تو ہم بلوچستان کی عوام آپ اپنے ملک پاکستان کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں ۔خدارا کشمیر سے پہلے ہمیں بلوچستانیوں کو سرداروں نوابوں کے نجی جیلوں عدالتوں اور انتظامیہ سے آزاد کراؤ ہم تمھارے پاکستانی ہیں۔ہم کشمیری نہیں ہم اس ملک کے باشندے ہیں ہمیں کشمیر سے پہلے بلوچستان کے سرداروں ونوابوں کے نجی حکومت سے آزاد کراؤ۔ اس ظالم صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کو بچانے والے سردار نواب ٹولہ قدوس کابینہ کو ہٹا کر گورنر راج نافذ کیا جائے۔قاتل وزیر عبدالرحمن کھیتران کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔تاکہ ریاست کے ہوتے ہوئے کوئی اور ریاست نہ بنائیں سرکاری عدالتوں و جج صاحبان کے ہوتے ہوئے۔کوئی عبدالرحمن کھیتران اپنا نجی جیل عدالت نہ بنائے۔ہم عرض کرتے ہیں فلفور صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کا ضمانت منسوخ کرکے دوبارہ گرفتار کرکے اسے فلفور سزا دیا جائے ۔اور جو باقی صوبائی انتظامیہ ہماری لیویز پولیس وکیل جج عدالتیں سب انکے زیردست افسران لگے ہوئے ہیں انکے خلاف فوری ایکشن لیا جائے کیونکہ بلوچستان میں بھی حکومت پاکستان کی رٹ قائم ہو۔عوام کو باقی صوبوں کے برابر حقوق دیے جائیں۔بلوچستان کو ان سرداروں ونوابوں کی گرفت سے آزاد کرایا جائے۔ اس ملک کے آئین وقانون کی بالادستی قائم کرایا جائے ۔
مظلوم عوام بلوچستان
Http://Youtube.Com/@Bolkohesuleman


No comments:
Post a Comment