Friday, 14 October 2022

قلم نگار حسن خان بزدار بلوچ قوم اس وقت اتنا کمزور کیوں

 بلوچ اقوام اور اسکی موجودہ صورتحال ؟ ہم بلوچ اقوام  اسوقت ایسے دو راہے پر کھڑے ہیں نہ خود میں اپنے اتحاد کو بحال رکھنے میں یکسو ہیں نہ ہمارے ارد گرد دنیا بھر کے طاقت ور حلقے یکجا ہونے دیا جاتا ہے اس لیئے سب سے پہلے ہمیں جب تک اپنے اندر یہ جزبہ بیدار نہ کر سکیں کہ ہم ایک قوم ہیں پاکستان سمیت دنیا بھر کے ہر کونے میں پائے جانے والے یہ اقوام ہرجگہ کسم پرسی کی حالات گزارنے پر مجبور ہیں اور ہم کچھ عرصے سے ایسے دور سے گزر رہے ہیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر فرد ہر وڈیرہ ہر سردار ایک سے دوسرے پر بازی لینے کیلئے دوسروں سے ہاتھ ملاکر اپنے مظلوم عوام کے خلاف لالچ میں آکر یہی سب کچھ کیا جارہا ہے جو قوم افراد یا فرد ملک علاقے اور قوم کیلئے مخلص ہو اسکے کیلئے جہدو جہد کرنے میں مصروف عمل ہو اسے اٹھا کر پھینکا جارہا ہے یا اسے ہمیشہ کیلئے خاموش کیا جاتا ہے کیونکہ اسکے زمیدار سب سے پہلے ہم خود ہیں دوسرے وہ طاقتیں ہیں جس نے اس انگریز کے بنائے گئے لاء کو ترتیب دیکر ازل سے اج تک ہمیں لڑا کر ہم پر حکمرانی کرتے چلے آرہے ہیں جن طاقتوں نے #لاشار  اور #رند قبائل کو آپس میں لڑا کر ہم میں جو جدائ کا لکیر کھیچوایا گیا آج بھی تسلسل سے جاری و ساری ہے کیونکہ جب دونوں ایک تھے تو انگریز کی طاقت اسے دبا نہ سکا اس لیئے ان لوگوں نے بڑے چالاکی سے یہی راستہ اختیار کرنا پڑا جب تک بلوچوں کو آپس میں لڑایا نہیں جاتا تب تک انسے کسی صورت کسی بھی سیاسی اور مقامی باہم طریقے سے زیر نہیں کیا جاتا نہ کسی صورت کوئ قسم کی جنگ ان سے جیتنا ممکن نہیں اور ان لوگوں نے اسی طریقے کو مضبوطی سے ہم پر کوششوں کا آغاز کیا اخر کار اپنے انہونی مقاصد میں کامیاب ہوئے کیونکہ ہر کوئ وڈیرہ گیری اور سرداری کے لالچ میں آکر ہمیں نقصان پہنچایا وہی راہ تسلسل اج بھی ہر ملک میں بلوچوں کے خلاف منعظم اور مضبوطی سے جاری ہے ہمیں پہلے قومیت میں بانٹتے ہیں پھر پھلیوں میں اور اب ہمیں اتنا کمزور بنایا اور لالچ میں لایا گیا اب فرقوں میں یہ زہر بھرا جارہا ہے آج ہمیں اتنا کمزور کیا جاچکا ہے کہ بلوچ قومیت سے فرقے اور خاندانوں میں اپس میں نفرتیں اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے لیکن دنیا کے پاور ترین رکھنے اور حکمرانی کرنے والے بلوچ قوم اسوقت ہر جگہ محکوم بن چکا ہے اسکی بنیادی وجہ یہی اپس کی منافرت سیاست اور آپسی جنگ و جدل ہے جب تک ہم بلوچ اس چیز سے نکلنے کی کوشش نہ کریں تب تک یمارا یہ صورت حال مزید بد سے بد تر ہوتا جائیگا آنے والے اگر بلوچ نوجوانوں نے کوششیں نہ کی تو آنے والے وقت میں بلوچ قوم صرف تاریخ میں قصہ پارینہ بن جائیگا کیونکہ عرب سے لیکر عجم تک یورپ سے لیکر بنگال تک ہر مکتب فکر اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے ملک اور قومیں بلوچوں کو اسی طرح پیسا جارہا ہے جیسا کہ یہ انسان ہی نہیں اس لیئے کہ وہ لوگ بلوچوں کی تاریخ کو مد نظر رکھ کر یہی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے کہیں بلوچوں میں پھر سے اتحاد قائم نہ ہو اور اسی تاریخ کو لیکر آج دنیا بھر میں ہم بلوچوں کو طاقت رکھنے کے باوجود کہیں اور کسی بھی ملک میں نہ ہمیں پہچان مل رہا نہ ہمیں حقوق دیئے جارہے ہیں جب تک ہم اپس کے اس جنگ کو جدل کو ختم کرکے اپنے قومیت پر توجہ نہیں دیتے تب تک ایسے پستے مرتے اور مارے جائیں گے اب ہمیں ہر صورت ایک دوسرے سے بازی لینے کسی کے سر پر پرائیویٹ پگ رکھنے اور ہم میں کسی کو چن کر سربراہ بنانے کے خواب کو ہر حال میں یہ سب کچھ چھوڑنا ہوگا اور ہمیں سب سے پہلے اپنے آپکو یکجا کرنے ہونگے بہت ہوا ہمیں یہ سبز باغ دکھا کر اپس میں لڑاکر دنیا بھر کی وہی طاقتیں خود اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرتے چلے آرہے ہیں لیکن ہماری نسلوں کے نسلیں   اجڑ چکے ہیں اب یہ ہمیں نوجوانوں کو کرنا ہے اور ہماری زمیداری بھی ہے اور ہم پر فرض بھی ہمارے بڑوں نے اس سیاسی ٹھیکیداری میں بہت کچھ کھویا ہے کسی کو کہیں سے لیکر حکمران بنانے اور کسی کو قومیت کے سرپرست اعلی کو اسی کے ہاتھوں یرغمال بنانے کی یہ سازشیں ماضی بعید میں کیا جانے والا مستقبل قریب میں بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے متانے کی پری پلان منصوبہ ہے ہمیں آنکھیں کھول کر دیکھنے کان کھول کر سننے دماغ پر زور دیکر سوچنا چاہیئے کہ ہم اس حکمرانی کی لالچ میں اپنے اپکو کس نہج تک پہنچا چکے ہین جو کہ یہ فرضی حکمرانی کہیں ہمارے لیئے نقصان دہ ثابت تو نہیں ہورہا ایران پاکستان ترکی دمشق امان یمن شام سمیت دنیا بھر کے ہر ممالک میں بغور سے جائزہ لیکر بلوچ قوم کو اپس میں سر جوڑ کر مل بیٹھنے کا وقت ہے ہمیں کیوں اس لیئے مولی گاجر سمجھ کر جس بے دردی سے کاٹا جارہا ہے آخر ہم میں کس جگہ سے کوتاہی سر زد ہوریا ہے کیونکہ ہر چیز تو اندر ہی موجود ہے اور ہر صورت میں اس پر توجہ دینا ہوگا 

 کیا وجہ ہے ہمیں اس طرح بلا عذر پیسا جارہا ہے اگر ہم اپنے حقوق مانگیں تو ہمیں غدار وطن یا ملک کیوں ڈکلیئر کیا جاتا ہے آخر ہم کونسا اتنا جرم کررہے ہیں جسے جہاں سے جس کا دل چاہے ہمیں مارا جاتا ہے جیسا کہ ہم اللہ کی مخلوق ہی نہیں انہی لوگوں کے بنائے ہوئے مورتیاں ہیں جب دل چاہے جسوقت دل کہے اسی وقت بلا جھجھک ہمیں یکجا کرکے مارا جاتا ہے کیا ہمارا کسی سے کوئی زاتیات ہے بالکل نہیں کیا ہم کسی مذہب کے خلاف ہیں بالکل نہیں کیا اپنے حقوق مانگنے اسکے خلاف آواز اٹھانے پر ہم دہشت گرد بن جاتے ہیں افسوس ہے ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں ہمیں ہر جگہ بری نظر سے کیوں دیکھا جاتا ہے صرف اس لیئے کہ ہماری تاریخ ہمیں جینے نہیں دے رہا اور اسوقت ہمیں آپس کے نفرتوں نے اس نہج پر پہنچایا 

دنیا ہمیں نہیں ہمارے تاریخ کو دیکھتا ہے ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم اسوقت لالچ خود غرضی  حکمرانی یا سرپرستی کے چکروں میں خود کو اور اپنے آنے والے نسلوں کیلئے ہزہمت کا سبب تو نہیں بن رہے آج دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچا ہم بلوچ آج بھی تالابوں کے پانی استعمال کرتے ہیں صحت کیلئے ہم جانتے نہیں کہ ہم بھی انسان ہیں بجلی کیلئے ہمارے بچے آج بھی سوچتے ہیں وہ کیا ہوتا ہے تعلیم کیلئے پہلے تو 80% بلوچ علاقوں میں سکول ہی نہیں اگر کہیں پرائمری یامڈل ہے تو اسے تالا پڑا ہے روڈز سرے سے موجود نہیں نہیں کہیں کچا ٹریک بنایا بھی گیا تو چند بارش کے قطروں کے سبب اس پر پیدل چلنا نا ممکن ہے اگر آج بھی کسی بلوچ قبائل میں کوئ سیریس مریض ہو تو میلوں مصافحت پر اسے کاندھوں پر اٹھاکر انکو کہیں روڈ کنارے لے جانا پڑتا ہے اگر کہیں چپڑاسی کیلئے ہمیں اپلائ کرنا ہو تو ہمارے بلوچ قوم میں مڈل پاس نہیں جو چپڑاسی کیلئے نوکر بھرتی ہو سکے اگر کسی شہر میں رات گزارنی ہو تو وہاں مسافر خانہ کے اونر دو گھنٹے ہم سے یہی تفتیش میں لگا رہتا ہے آپ کہاں اور کس علاقے سے ہیں اگر اپنے علاقے سے کسی اور شہر کیلئے سفر کرنا ہو یا کسی اور شہر سے اپنے گھر کیلئے آنا ہے تو راستے میں سینکڑوں چیک پوسٹوں پر 90% بلوچوں سے سارا دن یہی جھگڑا اٹھک بیٹھک تلاشی کا ٹوپی ڈرامہ رچایا جاتا ہے کہ آپ اس شہر کی طرف کیوں جارہے ہو کیا کرنا ہے واپسی کب ہوگی اگر اپنے گھر کی طرف واپسی ہو تو یہی سوالات پھر سے سامنے آتے ہیں آپ کیوں گئے تھے کیا کرنا تھا کب گئے تھے ہم بلوچ اپنے ہی دیس میں پردیسی تصور کیئے جاتے ہیں اور اپنے گھر میں بھی اجنبی کب تک یہ ظلم برداشت کرینگے اور کب تک یہ نطام ہم پر رائج ہوتا رہیگا خدا را بلوچ نوجوانو اٹھو سب سے خود کو مضبوط اور یکجا کرو دنیا خود بخود آپکے پیچھے انے پر مجبور ہوگا ہمیں ہمارے بڑوں نے بھی اتنا دھوکے میں رکھا جتنا کسی اور نے ہم پر ظلم ڈھائے ہمارے وڈیروں نوابوں سرداروں کے بچے اے سی کے لمبے لمبے گاڑیوں میں بیٹھ کر سکول جاتے ہیں نوکروں کے جھرمٹ میں سیروسیاحت کرتے ہیں لیکن ہم بلوچ عوام کے بچوں کو سکول دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوتا صرف اپنے گلہ بانی اور چرواہے کی صورت میں سنگلاخ ڈھلانوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اب جتنا دیر کررہے ہو اتنا ہی ہم پر سیاسی وڈیرے سردار نواب ہم پر غالب کیئے جارہے ہیں 


اپنوں نے ستم کیئے اپنوں نے بھسم کیئے ؟ کسی سے کیا گلہ ہوگا جو اپنوں نے زخم دیئے


Saturday, 12 February 2022

Kohesuleman Min New Rodes


کوہ سلیمان میں بننے والے نئے روڈوں پر جمپ تو بنائے گئے ہیں لیکن عوام اور محکمے کی طرف سے انہیں پہچان نہیں دیا گیا خدارا اس پر نشانات لگائے جائیں تاکہ کہیں باہر سے آنے والے کسی مسافر کیلئے خطرہ نہ ہو
Http://Youtube.Com/Tribalnews1

Wednesday, 2 February 2022

Cm Punjab Sardar Usman Buzdar Visited In Kohesuleman Barthi


 تونسہ شریف ۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بارتھی میں 5 ارب78 کروڑ روپے کے 9پراجیکٹس کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھ دیا


تونسہ شریف ۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے زین سے بارتھی تک سڑک کی مرمت اور نالہ سنگھڑ پر پل کی تعمیرکے منصوبے کا افتتاح کیا


تونسہ شریف ۔ زین بارتھی سڑک کی تعمیر مرمت او رنالہ سنگھڑ پر پل 71کروڑ 18 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر ہوا


تونسہ شریف ۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کوہ سلیمان ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت 7 منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا


تونسہ شریف ۔ کوہ سلیمان ڈویلپمنٹ کے تحت 7ترقیاتی منصوبوں پر 5ارب سے زائد لاگت آئے گی


تونسہ شریف ۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بارتھی کی 60بیڈ تک اپ گریڈیشن کی جائے گی


تونسہ شریف ۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بارتھی کی اپ گریڈیشن پر 32کروڑ 35لاکھ روپے لاگت آئے گی

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کوہ سلیمان میں سول وٹرنری ڈسپنسریوں کے قیام کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا


تونسہ شریف ۔کوہ سلیمان میں 11کروڑ روپے کی لاگت سے سول وٹرنری ڈسپنسریاں قائم کی جائیں گی


تونسہ شریف ۔وزیراعلیٰ نے بارڈر ملٹری پولیس چیک پوسٹ اور تھانوں کے منصوبوں کا بھی سنگ بنیاد رکھا


تونسہ شریف ۔ ڈیرہ غازی خان ضلع میں 7 بارڈر ملٹری پولیس چیک پوسٹ اور تھانے 12کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہوں گے


تونسہ شریف ۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کوہ سلیمان میں تحصیل کمپلیکس کی تعمیر کا بھی سنگ بنیاد رکھا


تونسہ شریف ۔کوہ سلیمان تحصیل کمپلیکس 12کروڑ روپے کی لاگت سے بنایا جائے گا


تونسہ شریف ۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بارتھی میں کوہ سلیمان پبلک سکول آف ایکسیلینس پراجیکٹ کا بھی سنگ بنیاد رکھا


تونسہ شریف ۔ کوہ سلیمان پبلک سکول آف ایکسیلینس بوائز اینڈ گرلز پراجیکٹ 2ارب 18کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوگا


تونسہ شریف ۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بارتھی ملٹی پرپز ہال کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھا


تونسہ شریف ۔بارتھی ملٹی پرپز ہال 3 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہوگا


تونسہ شریف ۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کوہ سلیمان کے مختلف علاقوں کی رابطہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے منصوبے کا بھی سنگ بنیاد رکھا


تونسہ شریف ۔کوہ سلیمان کے مختلف علاقوں کی 22رابطہ سڑکیں 2ار ب 13کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہوں گی


تونسہ شریف ۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو بارتھی میں این 55 چوکی والا تااین 70چاپر بلوچستان تک سڑک کی تعمیر کے منصوبے پر بریفنگ


تونسہ شریف ۔ این 55تا این 70پنجاب کو بلوچستان سے منسلک کرنے کے لئے 122کلومیٹر طویل روڈ تعمیر کی جائے گی


تونسہ شریف ۔چوکی والا کوبراستہ زین بارتھی اور کھڑل بزدار بلوچستان سے ملانے والی سڑک کی تعمیر و توسیع پر 8ارب93کروڑ روپے لاگت آئے گی

Http://Youtube.Com/Tribalnews1

Wednesday, 12 January 2022

تونسہ شریف میں جابز کیلئے لیئے پیسوں کا اسکینڈل

 محترمہ کلثوم حنا ہیڈ مسٹریس۔۔مکول کلاں جابز سیکنڈل کا مرکزی کردار۔۔۔جنکی ویڈیو کسی آفس میں بنائی گئی۔۔جو کچھ محترمہ فرما رہی ہیں اسکی روشنی میں چند سوال

میری فیملی کو دھمکیاں دی گئیں، بچوں کو اغوا کی دھمکی دی گئی۔۔کیا محترمہ نے ان دھمکیوں یا بچوں کے اغوا کی کوئی ایف آئی آر درج کرائی تھی؟

13 کروڑ 34 لاکھ محترمہ سے لیے گئے۔کیا یہ رقم یکمشت لی گئی۔۔یقینا ایسا نہیں ہوگا کیا ایک بار دھوکا کھانے کے بعد وہ سنبھل کیوں نہ سکیں؟

جن افراد کا محترمہ نام لے رہی ہیں سارا تونسہ جانتا ہے کہ وہ کسی گینگسٹر سے تعلق دار نہیں جو جان سے مارے دے جب وہ انہیں زچ کرکے رقم وصول کررہے تھے تو محترمہ نے کسی انتظامی افسر کو اس ،،بدمعاشی،، کی اطلاع کیوں نہ دی؟محترمہ کہتی ہیں کہ ہم متاثرین کو کیا جواب دیں جب نہ ریکوری ہوئی نہ جاب دی گئی۔۔جناب عالی آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں کیا آپ نہیں جانتی تھیں کہ ملازمتوں کے لیے باقاعدہ اشتہار دئیے جاتے ہیں،پھر ٹیسٹ انٹرویو ہوتے ہیں تب جا کر کہیں سفارش بھی چلا کر ،یا رقم کے دے دلا کر چند کو تو نوکری ملتی ہے مگر سینکڑوں کو نہیں، یوں رقم لے کر سیدھے آرڈر کیا اماں جی کا گھر ہے؟ ممکن ہے کہ لیے گئے ناموں نے اپنے تئیں کچھ رقم کی ہو مگر کیا کسی پراسس کے بغیر آجکے جدید دور میں ملازمتیں بانٹ لینا ممکن یے؟ سوال یہ بھی کہ سوشل میڈیا پر محترمہ سے جو جائیدادیں منسوب کی جارہی ہیں وہ بتائیں گی کہ کہاں سے آئی ہیں؟ کیا یہ انکی ہیں؟سوال یہ بھی کہ کہیں خود کو بچانے کے لیے سارا وزن دوسروں پر ڈالنے کی کوشش تو نہیں کی جارہی؟ سوال یہ بھی کہ محکمہ پولیس نے تاحال ٹھوس کاروائی کیوں نہ کی؟ سوال یہ بھی کہ اس سیکنڈل میں جب وزیر اعلیٰ پنجاب کا نام استعمال کیا جارہا ہے تو حکومت کی جانب سے سخت کارروائی کیوں نہیں کی جارہی؟ سوال یہ بھی کہ وہ لوگ جو ناجائز طریقے سے ملازمت حاصل کر کے دوسروں کی حق تلفی کرنا چاہتے تھے انکے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جارہی؟ سوال یہ بھی کہ جنکے نام محترمہ لیے جارہی ہیں ان سے بھی کوئی باز پرس ہونے والی ہے یا نہیں؟ سوال یہ بھی کیا سینکڑوں متاثرین کی رقم ان کو مل بھی پائے گی یا نہیں؟ سوال یہ بھی کہ کیا حقائق سامنے لائے بھی جائیں گے یا نہیں سوال تو بنتے ہیں

Monday, 8 February 2021

Cm Punjab Sardar Usman Buzdar Visited To Sakhi Sarwer DG Khan

 وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدارسے سخی سرور میں کوہ سلیمان کے تمن داروں، معززین اور مقامی لوگوں کی ملاقاتیں

تمن داروں، معززین اور مختلف مکاتب فکر کے نمائندوں نے علاقے کی ترقی کیلئے تجاویز پیش کیں

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی سخی سرور سمیت کوہ سلیمان کے علاقوں کے مسائل حل کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی یقین دہانی

لوگوں نے اپنے مسائل کے حل کیلئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو درخواستیں دیں

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے خود درخواستیں وصول کیں اور متعلقہ حکام کو عملدرآمد کیلئے احکامات دیئے

پنجاب کے ہر شہر اور ہر قصبے کے لوگوں کی بھرپور خدمت کا عزم رکھتے ہیں۔عثمان بزدار

برسوں سے رکے ہوئے ترقی کے سفر کی وجہ سے متعدد علاقے پسماندگی کا شکاررہے، اب دن بدلیں گے۔عثمان بزدار

مقامی لوگو ں کی بھرتی کیلئے قواعد و ضوابط میں ضروری تبدیلی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔عثمان بزدار

صحت،تعلیم، پولیس اور دیگر محکمو ں میں بھرتی کیلئے مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے گی۔عثمان بزدار

پسماندہ علاقوں کے ہسپتالوں اور تعلیمی ادارو ں کو اپ گریڈ کر رہے ہیں۔عثمان بزدار

سخی سرور میں کروڑوں روپے کے زیرتکمیل منصوبے جلد مکمل کرائیں گے۔عثمان بزدار

چھوٹے اور انٹرمیڈیٹ ڈیم بننے سے نہ صرف آبپاشی بلکہ پینے کیلئے بھی صاف پانی میسر ہوگا۔عثمان بزدار

حقدار تک ترقی کا حق پہنچانے کیلئے دن رات سرگرم ہوں، رکاوٹ نہیں آنے دوں گا۔عثمان بزدار

پچاد کے ایریا میں پانی کی فراہمی کیلئے دور دراز علاقوں میں ہینڈ پمپس بھی دیں گے۔عثمان بزدار

دسمبر تک پنجاب کے ہر شہری کو مفت علاج کی سہولت دینے کے عزم پر کاربند ہیں۔عثمان بزدار

پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے حقیقی تبدیلی آئے گی۔عثمان بزدار

ڈیرہ غازی خان کے کمشنر محمد ارشاد، ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) علی اعجاز، آر پی او، ڈی پی او اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے

Monday, 17 February 2020

تعلیم اور صحت کے بغیر73سالہ محرومیوں کا شکار قومیں آسانی سے ترقی نہیں کرسکتے م

تونسہ شریف سے حسن بوزدار
لکھنے کو بہت دل کرتا ہے لیکن لکھنے کیلئے قلم نہیں کہنے کو بہت کہہ سکتا ہوں بولنے کیلئے حقیقی زبان نہیں حقائق سامنے لانے کیلئے دن بھر بہت خیالات آتے ہیں لیکن لکھتے وقت وہ ڈیٹا میموری سے آدھا ڈیلیٹ ہو جاتا ہے کیونکہ ڈیٹا سیو کرنے کیلئے جو سٹوریج ہونا چاہییے تھا اس سے ہمیں دور اور بہت دور تک رسائی نہیں لیکن سچ بات کہنے اور لکھنے میں کوئ قباحت نہیں جو اس وقت تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں ترقی و خوشحالی کے کام ہورہے ہیں وہ قابل ستائش اور قابل تحسین  اور قابل دید ہیں لیکن فرسودہ قوموں کی ترقی امستقبل قریب کیلئے یہ مستقل ترقی نہیں صرف ایک خواب کی مانند ہے تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں بہت سے منصوبوں کا آغاز اور بہت سے آخری مراحل میں لیکن تونسہ شریف جو ہمارے کوہ سلیمان کا سب سے قریبی شہر ہے ان کیلئے سب سے پہلے اور سب
مزید خبروں تبصروں اور تجزیوں کیلئے http://fb.com/traibaltv

سے ضروری ایک یونیورسٹی ہے جو ہم کوہ سلیمان اور تونسہ شریف کے غریب باسیوں کیلئے کامیابی کا ایک اہم ترین کامیابی کا بنیاد ہوگا کیونکہ غریب انسان زندگی بھر کوشش بھی کرے تو غریب عوام پرائیویٹ اداروں میں اپنے بچوں کو نہیں پڑھا سکتے دوسرا ٹرائبل ایریا کیلئے چند ایک چیزیں جو خاص کر شدید تر عوام کو اس جدید دور میں دستیاب نہیں بلکہ 90% مشکل ترین نظر آرہا ہے وہ ہے انٹر نیٹ بجلی نادرا آفس ہسپتال اور تعلیم کوہ سلیمان کے مال دار حضرات 100میں زیادہ سے زیادہ 5% ہونگے وہ لوگ اکثر شہروں میں جاکر آباد ہوئے ہیں
http://traibal_news
 یا اپنے بچوں کو تعلیم کی غرض سے شہروں میں بھیج چکے ہیں باقی جو غریب یا متوسط طبقہائے زندگی کے 90سے 95% کوہ سلیمان کے غریب عوام کہیں جانے یا اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کیلئے غربت کے باعث کہیں نہیں بھیج سکتے ہمیں اس وقت ہر یونین کے سطع پر ایک ایک کالج بہت ضروری ہے کوہ سلیمان کے قریب 10 دس لاکھ آبادی کے عوام کیلئے بنیادی ضروریات اور مستقبل قریب میں دنیا کے ساتھ چلنے کیلئے تعلیم جو کہ اسوقت کوہ سلیمان میں تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے سی ایم پنجاب سردار عثمان صاحب سے اہل عوام کی اپیل ہے اب سب غریب عوام کی نظریں آپ پر لگی ہوئی ہیں مستقبل قریب میں تیزی سے ابھرتے ہوئے تعلیم کے میدان میں ترقی سے عوام کے معاشی مستقبل کا بنیاد انہی تعلیم پر منحصر ہے جو کہ ہم کوہ سلیمان کے باسی ماضی بعید سے لیکر آج تک اس چراغ کی روشنی سے80%محرومی کا شکار ہیں آج نہیں تو کل ممکن ہی نہیں اب نہیں تو کبھی بھی ممکن نہیں پورا جنوبی پنجاب ڈی جی خان تونسہ شریف بشمول کوہ سلیمان کے عوام آپکی طرف دیکھ رہی ہے ان لنک روڈوں چند نامی گرامی شخصیت کیلئے سکولز یا ڈسپنسری کے بلڈنگ یا ان کیلئے صاف پانی کے نام پر بوریں یا زرعی آباد کاری کیلئے بورنگ یا چند سفید پوشوں کیلئے ملازمتیں دینے سے پورا کوہ سلیمان ترقی کے راہ پر گامزن ہوتا ہوا دکھانا غریب عوام سے دھوکہ تصور کیا جائیگا کوہ سلیمان کی ترقی کے منازل پانے کیلئے ہر یوسی میں ایک ایک کالجز اور ایک ایک ھسپتال4اہم روڈز ماضی قریب کے آنے والے ہمارے مستقبل کی ترقی کے نئے دور کا ابتداء ہوگا تونسہ شریف ٹو راڑہ شم تونسہ شریف ٹو موسی خیل اور سخی سرور ٹو رکنی چوتھا سخی سرور ٹو فاضلہ جب تک ان چاروں روڈز کو ڈبل کرکے نہیں بنوایا گیا تب تک اونٹ کے منہ میں نوالہ ڈالنے کے مترادف تصور ہوگا مجھے90%یقین ہے انشااللہ یہ ضرور بنینگے لیکن جو کچھ ہوکر میرے آنکھوں کے سامنے گزر رہا ہے تو ان ترقی کی بنیاد صرف ایک خواب نظر آرہا ہے میں جس حقیقت کو دیکھ کر کبھی کبھار سوشل میڈیا پر اس لیئے لکھا کرتا ہوں کہیں ہم جیسے عوامل کی آواز سی ایم پنجاب محترم سردار عثمان خان بزدار تک پہنچ جائے جو آپکے دیئے ہوئے عوام دوست خدمات میں ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں ان میں بے تحاشا دن کے12بجے کرپشن اور ناقص میٹیریل کا استعمال دھڑلے سے جاری ہے کوئ بھی پوچھنے والا کہیں سے نظر نہیں آرہا اس صورتحال میں18ماہ گزرنے کے باوجود کہیں سے ان ظالم کرپٹ ٹھیکداروں پر کوئ لگام ڈالنے والا مسیحا سے دعا سلام نہیں ہوا نہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان آپکے کوششوں اور کاوشوں کو صد سلام پیش کرتا ہوں جو آپ نے اپنے غریب عوام کیلئے اہم اور انتہائ اقدام کیلئے قدم اٹھائے ہیں بیشک وہ قابل تعریف اور داد مستحق ہیں لیکن محترم سے پھر بھی ایک بار اپیل کرتا ہوں جو آپکے ٹیم کے ڈی جی خان میں بیورو کریسی کی ذمہ داری ہے عوامی منصوبوں پر دیکھ بھال کرنا وہ آپکے دیئے ہوئے عوام دوست خدمات کے ترقیاتی پراجیکٹس کو اپنا پراپرٹی سمجھ کر اپنے آفسوں میں کچھ لو اور کچھ دو پر پراعتماد بنا کر کرسیوں پر براجمان ہیں ہاں آپ تک سب اچھا کا رپورٹس جو لوگ دے رہے ہیں وہ آپ کیلئے ہمارے لیئے بلکہ قوم کیلئے دسمبر کے اینڈ اور جنوری کے فسٹ کا وہ سموگ ثابت ہوگا روڈ پر جس کے حد نگاہ صرف0بتایا جاتا ہے
تونسہ شریف سے حسن بوزدار
لکھنے کو بہت دل کرتا ہے لیکن لکھنے کیلئے قلم نہیں کہنے کو بہت کہہ سکتا ہوں بولنے کیلئے حقیقی زبان نہیں حقائق سامنے لانے کیلئے دن بھر بہت خیالات آتے ہیں لیکن لکھتے وقت وہ ڈیٹا میموری سے آدھا ڈیلیٹ ہو جاتا ہے کیونکہ ڈیٹا سیو کرنے کیلئے جو سٹوریج ہونا چاہییے تھا اس سے ہمیں دور اور بہت دور تک رسائی نہیں لیکن سچ بات کہنے اور لکھنے میں کوئ قباحت نہیں جو اس وقت تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں ترقی و خوشحالی کے کام ہورہے ہیں وہ قابل ستائش اور قابل تحسین  اور قابل دید ہیں لیکن فرسودہ قوموں کی ترقی امستقبل قریب کیلئے یہ مستقل ترقی نہیں صرف ایک خواب کی مانند ہے تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں بہت سے منصوبوں کا آغاز اور بہت سے آخری مراحل میں لیکن تونسہ شریف جو ہمارے کوہ سلیمان کا سب سے قریبی شہر ہے ان کیلئے سب سے پہلے اور سب سے ضروری ایک یونیورسٹی ہے جو ہم کوہ سلیمان اور تونسہ شریف کے غریب باسیوں کیلئے کامیابی کا ایک اہم ترین کامیابی کا بنیاد ہوگا کیونکہ غریب انسان زندگی بھر کوشش بھی کرے تو غریب عوام پرائیویٹ اداروں میں اپنے بچوں کو نہیں پڑھا سکتے دوسرا ٹرائبل ایریا کیلئے چند ایک چیزیں جو خاص کر شدید تر عوام کو اس جدید دور میں دستیاب نہیں بلکہ 90% مشکل ترین نظر آرہا ہے وہ ہے انٹر نیٹ بجلی نادرا آفس ہسپتال اور تعلیم کوہ سلیمان کے مال دار حضرات 100میں زیادہ سے زیادہ 5% ہونگے وہ لوگ اکثر شہروں میں جاکر آباد ہوئے ہیں یا اپنے بچوں کو تعلیم کی غرض سے شہروں میں بھیج چکے ہیں باقی جو غریب یا متوسط طبقہائے زندگی کے 90سے 95% کوہ سلیمان کے غریب عوام کہیں جانے یا اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کیلئے غربت کے باعث کہیں نہیں بھیج سکتے ہمیں اس وقت ہر یونین کے سطع پر ایک ایک کالج بہت ضروری ہے کوہ سلیمان کے قریب 10 دس لاکھ آبادی کے عوام کیلئے بنیادی ضروریات اور مستقبل قریب میں دنیا کے ساتھ چلنے کیلئے تعلیم جو کہ اسوقت کوہ سلیمان میں تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے سی ایم پنجاب سردار عثمان صاحب سے اہل عوام کی اپیل ہے اب سب غریب عوام کی نظریں آپ پر لگی ہوئی ہیں مستقبل قریب میں تیزی سے ابھرتے ہوئے تعلیم کے میدان میں ترقی سے عوام کے معاشی مستقبل کا بنیاد انہی تعلیم پر منحصر ہے جو کہ ہم کوہ سلیمان کے باسی ماضی بعید سے لیکر آج تک اس چراغ کی روشنی سے80%محرومی کا شکار ہیں آج نہیں تو کل ممکن ہی نہیں اب نہیں تو کبھی بھی ممکن نہیں پورا جنوبی پنجاب ڈی جی خان تونسہ شریف بشمول کوہ سلیمان کے عوام آپکی طرف دیکھ رہی ہے ان لنک روڈوں چند نامی گرامی شخصیت کیلئے سکولز یا ڈسپنسری کے بلڈنگ یا ان کیلئے صاف پانی کے نام پر بوریں یا زرعی آباد کاری کیلئے بورنگ یا چند سفید پوشوں کیلئے ملازمتیں دینے سے پورا کوہ سلیمان ترقی کے راہ پر گامزن ہوتا ہوا دکھانا غریب عوام سے دھوکہ تصور کیا جائیگا کوہ سلیمان کی ترقی کے منازل پانے کیلئے ہر یوسی میں ایک ایک کالجز اور ایک ایک ھسپتال4اہم روڈز ماضی قریب کے آنے والے ہمارے مستقبل کی ترقی کے نئے دور کا ابتداء ہوگا تونسہ شریف ٹو راڑہ شم تونسہ شریف ٹو موسی خیل اور سخی سرور ٹو رکنی چوتھا سخی سرور ٹو فاضلہ جب تک ان چاروں روڈز کو ڈبل کرکے نہیں بنوایا گیا تب تک اونٹ کے منہ میں نوالہ ڈالنے کے مترادف تصور ہوگا مجھے90%یقین ہے انشااللہ یہ ضرور بنینگے لیکن جو کچھ ہوکر میرے آنکھوں کے سامنے گزر رہا ہے تو ان ترقی کی بنیاد صرف ایک خواب نظر آرہا ہے میں جس حقیقت کو دیکھ کر کبھی کبھار سوشل میڈیا پر اس لیئے لکھا کرتا ہوں کہیں ہم جیسے عوامل کی آواز سی ایم پنجاب محترم سردار عثمان خان بزدار تک پہنچ جائے جو آپکے دیئے ہوئے عوام دوست خدمات میں ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں ان میں بے تحاشا دن کے12بجے کرپشن اور ناقص میٹیریل کا استعمال دھڑلے سے جاری ہے کوئ بھی پوچھنے والا کہیں سے نظر نہیں آرہا اس صورتحال میں18ماہ گزرنے کے باوجود کہیں سے ان ظالم کرپٹ ٹھیکداروں پر کوئ لگام ڈالنے والا مسیحا سے دعا سلام نہیں ہوا نہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان آپکے کوششوں اور کاوشوں کو صد سلام پیش کرتا ہوں جو آپ نے اپنے غریب عوام کیلئے اہم اور انتہائ اقدام کیلئے قدم اٹھائے ہیں بیشک وہ قابل تعریف اور داد مستحق ہیں لیکن محترم سے پھر بھی ایک بار اپیل کرتا ہوں جو آپکے ٹیم کے ڈی جی خان میں بیورو کریسی کی ذمہ داری ہے عوامی منصوبوں پر دیکھ بھال کرنا وہ آپکے دیئے ہوئے عوام دوست خدمات کے ترقیاتی پراجیکٹس کو اپنا پراپرٹی سمجھ کر اپنے آفسوں میں کچھ لو اور کچھ دو پر پراعتماد بنا کر کرسیوں پر براجمان ہیں ہاں آپ تک سب اچھا کا رپورٹس جو لوگ دے رہے ہیں وہ آپ کیلئے ہمارے لیئے بلکہ قوم کیلئے دسمبر کے اینڈ اور جنوری کے فسٹ کا وہ سموگ ثابت ہوگا روڈ پر جس کے حد نگاہ صرف0بتایا جاتا ہے

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201