Welcome To Tibalnews1. Here Uou Will Find Every Local National News Of DGKhan Taunsa And Koh Suleiman Kn A Blink Of An Eye With All Languages Kinds Of Articles.
Saturday, 15 April 2023
Lalchi Qome Ke Zawal & Zalim Hokmranoon Ki Mojin
Monday, 10 April 2023
جھوٹی تسلی دینے سے بہتر ہے سچے دل سے ظلم اور ظالموں کا مقابلہ کرو قلم کار حسن خان بزدار
Saturday, 8 April 2023
خود کو جھوٹی تسلی دینے سے بہتر ہے سچے دل سے ظلم اور ظالموں کا مقابلہ کرو
Sunday, 26 March 2023
کینسر کے موذی مرض کا شافی علاج اور طریقہ کار
جس دھماسہ بوٹی سے میں نے دو مہینوں میں آخری سٹیج ۵۰% کینسر ختم ہوتے دیکھا ہے وہ ہرے رنگ کا پاؤڈر ہے جو تازہ بوٹی توڑ کر صاف کرکے سکھاکر پسوایا گیا تھا۔ یادرہے کینسر پورے جسم میں معدے،پھیپھڑے،جگر حتٰی کہ ہڈّیوں تک پھیل گیا تھا۔ براہِ مہربانی اپنے پیاروں کو کیمو کی تکلیف سے بچائیے دھماسہ کھلائیے۔
Friday, 17 March 2023
سنو پاکستانی عوام آج تھوڑا نہیں حقیقت اور کڑوا سچ سنوListen to the poor people of Pakistan today, not a little complete and bitter truth
, in 1993, I started with 20 rupees and in 2004 the wage reached 200 daily wages and he also used to spend 20 rupees in his mount Suleiman in the nearby cities for daily wages. These mobile phones came to Tunsa after 2000
Thursday, 16 March 2023
تونسہ شریف مال بناؤ عوام بھگاؤ کے موروثی کھلاڑیوں کیلئے نیا سپرے تیار جوکہ اس الیکشن پر اکھاڑے میں چھڑکاؤ کی تیاریاں مکمل
ایک بات تو طے ہے پی ٹی آئ کے تمام ٹکٹ ہولڈرز کو اگر عمران خان ٹکٹ نہ دے تو ان میں 100 کے بعد 5 لوگ بھی بڑی کوشش کے بعد الیکشن میں کامیاب ہونگے کیونکہ پی ٹی میں 95%وہ لوگ ہیں جو دوسرے تمام پارٹیوں نے انہیں نکال دی ہے پاکستان کے عوام ووٹ صرف عمران کو دیتا ہے صرف تونسہ لے لیں پی پی 286 سابق سی ایم پنجاب کا گھر ہے اگر پی ٹی کا ٹکٹ نہ ملے تو سردار صاحب مجھے کامیاب ہوکر دکھائے کیونکہ عثمان خان نے تونسہ میں ایک ایم این اے جتنا کام ضرور کیئے اور پی ٹی آئ کے ایم این اے صاحب نے کونسلر جتنا بھی عوام کو نہیں دکھایا خواجہ شیراز صاحب اب پچھلے پانچ سال کے فنڈز میں تہائی لیکر وڈیروں گودوں میں تقسیم کرینگے وہ وڈیرے عوام کو بیوقوف بناکر ووٹ لیکر شیراز صاحب کو دلوائیں گے مسلم لیگ ن کے خواجہ نظام المحمود کو صرف وہ ووٹ پڑینگے جنہیں بزدار کے نام سے چڑ ہے باقی 90% پاگل بھی خواجہ نظام المحمود کو ووٹ نہیں دینگے اس بار سردار اکرم خان ملغانی پچھلے الیکشن سے بڑھ جائیگا مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر اگر خواجہ نطام المحمود رہا تو 8 سے دس ہزار ووٹ بڑی مشکل سے لے پائیگا
مسلم لیگ ن کے قائدین کو اگر عوام پر ڈھائے جانے والے مہنگائ و مظالم سے فرست ملے تو اپنے اس ٹکٹ کو ذرا برباد ہونے سے بھی بچائے کیونکہ مسلم لیگ ن کا ہر امیدوار اگر ہار بھی جاتا تو صرف دو سے تین ہزار تک ہار جاتا تھا اس بار اگر خواجہ نطام المحمود صاحب رہا اسکا تو 20 ہزار سے زائد تک ہار کنفارم ہے ایک تو مسلم لیگ ن کو اقتدار میں دھکیلنے والے زرداری نے پارٹی کا ستیا ناس کردی مہنگائ بے روزگاری 300% تک برھادیا گیا دوسرا اسی خواجہ صاحب نے 2013 کے الیکشن جیتنے کے بعد تونسہ شریف کے عوام کو اپنا منہ دکھانے کا بھی گوارہ نہ کرسکا اور یہ وہ آٹھ سے دس ووٹ بھی سابق سی ایم پنجاب کے مختاروں کی وجہ سے جسنے عوام کو بیوقوف بناکر اسکا دل توڑا ہے ہمیشہ دھوکہ دیکر ورغلاتے رہے کسی سے بٹورتے رہے اور کسی کو بٹوارتے رہے کیونکہ اسکا خمیازہ تو سردار صاحبان کو بھگتنا ہوگا یہ عوامی ناراضگی کا زلزلہ بھی ان پر پڑیگا کیونکہ شیطان کا مطلب ہی افراتفری پھیلانا اچھے اعمال سے دور رکھنا نماز قضاء کروانا برے کاموں میں ہاتھ بٹانا اسکا حساب تو تمہیں جہنم کی صورت میں دینا ہوگا اس لیئے سردار صاحبان نے عوام سے زیادہ چمچوں کو فوکس کی اسکا حساب تو چکانا پڑتا ہے اس فنی کلپ پر کس کو یقین ہوگا کہ یہ فنی نہیں حقیقت ہے یہی چمچے اس بار تو نہیں اگلی بار تو ضرور ڈبودینگے اگر ان مختاروں نے آدھا کلو گھی پندرہ سو کا ترپال ایک کلو دال لنڈے کے کپڑے محفوظ نہ رہ سکے تو کیا انکی باتوں پر کونسا سر پھاڑ ہوگا جو انکے کہنے پر سردار عثمان خان ووٹ دینگے الٹا طعنے اور گالم گلوچ تو ہوگا انہیں ووٹ کوئ نہیں دیگا یہی لوگوں نے عثمان خان کو سیاست کا بٹہ بٹھادی خود لنڈے کے سامان سے مالا مال ہوئے اس الیکشن میں موروثی سیاست کیلئے تونسہ شریف اور کوہ میں ایک مضبوط سپرے بھی تیار ہوچکا ہے وہ ان لوگوں کو آنے والے الیکشن کو دن میں تارے دکھا دینگے اس وقت پی پی 286 اور پی پی 287 میں عام آدمی تحریک پاکستان نے جس مضبوطی سے عوام میں انٹر ہو چکا ہے اور (عام آدمی تحریک پاکستان ) عام عوام کی پارٹی ہے اور اس تباہ کن سیلاب میں جس جانفشانی سے عوام کے مدد کو پہنچے اسکی نظیر نہیں ملتی ڈی آئی خان سے جام پور تک ہر گھر اور ہر در تک جو عوامی فلاح میں کردار ((عام آدمی تحریک پاکستان )) نے ادا کی وہ شائید ہی کوئ اور کرسکا ہو کیونکہ نہ یہ کسی گورنمٹ کا حصہ تھے نہ پارٹی میں کوئ ایم این اے تھا نہ کوئ ایم پی اے اپنے تحت آپ نیشنل اور انٹرنیشنل ڈونرز دوستوں کی مدد سے جو جنگ (عام آدمی تحریک پاکستان ) نے عوام اور اپنے ڈوبے ہوئے علاقے کیلئے لڑا وہ ہمیشہ یاد رکھے جائینگے اور دوسری جماعت اسلامی بھی اس سیلاب سے تباہ حال علاقے کیلئے کوشاں کی وہ بھی قابل تعریف ہے لیکن تونسہ شریف اور مضافات میں یہ دونوں پارٹیاں پرانے کھلاڑیوں کے لیئے درد سر بن بیٹھے ہیں کیونکہ 2022 کے تباہ کن سیلاب میں پی ٹی آئ کے ایم این اے خواجہ شیراز محمود کا عوامی کارکردگی بالکل 100پ%صفر رہا سابق سی ایم پنجاب کو چمچوں نے عوام سے دور رکھا الٹا عوامی امداد کیلئے آئے سامان بھی چمچوں نے ڈگار لیئے ضلع بنانے کا دکان بھی اسوقت ایک پٹاخا ثابت ہوچکا ہے جس کے نام پر ہمیشہ یہ لوگ ادھار چلاتے رہے اگر ضلع کا وجود ہے بھی تو وہ صرف عمران خان کی وجہ سے ہے نہ کہ تونسہ شریف کے پی ٹی آئ ٹکٹ ہولڈرز کے مرہون منت ہے
Tuesday, 14 March 2023
Balochistan Min Zulam Ka Bazar Grne Rakhne Min Kise Ne Koi Kassar Ni Chora Abdul Rahman Khetran Ne Zulam Ke Pahar Torre Sabhi Zalmon Ko Peche Chora
ہمارے ادارے ہماری انتظامیہ سب مافیاز و بلوچ سرداروں ونوابوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں ۔افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ بلوچستان کو پاکستان کا صوبہ نہیں سمجھا جا رہا ہے اس ملک کا حصہ نہیں سمجھا جا رہا ہے ۔اتنا بڑا صوبہ بلوچستان جو سارے پاکستان کو چلانے والا صوبہ ہے ہمارے ادارے ہماری انتظامیہ اس بڑے صوبے کو ایک کالونی سمجھ رہے ہیں اور اسے نوابوں و سرداروں کے ہاتھوں یرغمال کیا گیا ہے۔اس صوبے میں ادارے، انتظامیہ،عدالتیں سب نے مافیا و سرداران نواب کو چھوٹ دیا ہوا ہے۔ یہ سارے ادارے بلوچستان کی تباہ حالی میں ان مافیاز نواب و سرداران کے ساتھ برابر کے شریک ہیں وہ یہ سمجھ رہے ہیں ۔بلوچ قوم و سرزمین بلوچستان سرداروں نوابوں کی جاگیر ہے اور وہی زور آور ٹولہ اس کے مالک ہیں ۔ہم اپنے اداروں سے اپیل کرتے ہیں۔ اپنےافواج پاکستان سے اپیل کرتے ہیں سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان سے اپیل کرتے ہیں ۔خدارا بلوچ قوم وسرزمین بلوچستان کو سرداروں و نوابوں جاگیر داروں کے ہاتھوں یرغمال نہ بنایا جائے ۔یہی سردار نواب اس ملک وقوم کے دشمن ہیں ۔بلوچ قوم اس ملک کا دشمن نہیں ۔
یہی بلوچ قوم آکے ملک کے ہر ادارے میں ملک و قوم کی خدمت کرتے ہیں مافیاز نواب سرداران نہیں، یہی بلوچ قوم کے بچے أکے ہر روز اپنے ملک پاکستان کی دفاع میں شہید ہوتے ہیں نواب و سرداران کے بیٹے شہید نہیں ہوتے اس ملک کے دفاع میں ۔
ہم عرض کرتے ہیں تو پھر ہماری سرکار بلوچستان میں ان سرداروں کے ہاتھوں یرغمال کیوں? ،ان جاگیر دار سردار ونوابوں کے سامنے بے بس کیوں ?
آئین شکنی بھی یہی سردار کریں ،یہی سردار ریاست کے اندر بھی اپنی ریاست بنائیں ، انتظامیہ کے ہوتے ہوئے اپنی نجی جیلیں بنائیں ،ہمارے ملک کے سب سے بڑے طاقتور ادارے کے ہوتے ہوئے یعنی عدلیہ سیشن کورٹ ،ہائی کورٹ ،وسپریم۔کورٹ کے ہوتے ہوئے اپنی عدالتیں قائم کریں۔پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہماری ریاست نے خود انکو خود چھوٹ دیا ہوا ہے یا یہ ریاست سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں ۔اس لیے انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر سکتا ۔دومہنے پہلے کی بات ہے مغوی گران ناز قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی سے رہائی کی اپیل کر رہی تھی کہ انہیں اور اسکے بچوں کو صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی سے آزاد کرایا جائے۔ٹھیک اسکے کچھ ہی دن بعد وہ ویڈیو بنانے والی بچی امیراں بی بی کھیتران کو ڈی این اے ٹیسٹ کے مطابق ریپ کرکے اور جسمانی زیادتی کرکے منہ پہ تیزاب پھینک کر چہرہ مسخ کرکے صوبائی سردار عبدالرحمن کھیتران نے اپنے نجی جیل میں قید مظلوم خان محمد مری کے دو بیٹوں کو انکے ماں کے سامنے ظلم وزیادتی تشدد کا نشانہ بنا کر انکے ہاتھ پاؤں توڑ کر جسمانی تشدد کا نشانہ بنا کر گولی مار کر شہید کردیا اور میتوں کو بوریوں میں بند کر کے کنویں میں پھینک دیا ۔تین دن بعد لاشوں کے بدبو سے لوگ جب اس کنویں پہ پہنچے تین بوری بند لاشیں نکالیں گئی ایک امیراں بی بی کھیتران اور دو خان محمد مری کے نوجوان بیٹے کی شناخت ہوئی ۔جو صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی جیل میں قید تھے۔اسکے بعد مری قوم و آل پاکستان مری اتحاد و تمام طبقہ فکر کے لوگوں کی احتجاج کے بدولت صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے اپنے نجی جیل سے سب کو رہا کر دیا۔اسکے بعد وہاں کی لیویز پولیس سب کو نہیں پتہ کہ یہ لوگ کہاں سے بازیاب ہوئے کس نے بازیاب کیے اور کون کون ملوث ہے عبدالرحمن کھیتران کے ساتھ کوئی پتہ نہیں کیسے بازیاب ہوئے۔اور وہ عورت جو سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی جیل میں قرآن پاک کا واسطہ دیکر رہائی کی اپیل کر رہی تھی کیسے رہا ہوئی اور کیسے تین قیدیوں کو مار کر لاش بوری میں بند کر کے کنویں میں پھینک دیا نہ کوئی معلوم اور نہ ہی کی رپورٹ نہ ہی کوئی کیس ۔یعنی سب جان کر سردار عبدالرحمن کھیتران کے خلاف ایکشن لینے والا کوئی نہیں ،اب جب عوام نے لاش وزیراعلی بلوچستان کے ہاؤس کے سامنے رکھ کر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جب تک وزیر عبدالرحمن کھیتران کو گرفتار نہیں کیا جائے گا ہم لاشوں کو دفن نہیں کریں گے۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران صاحب نے خود کو کچھ دنوں کیلئے اپنے ریسٹ ہاؤس الھدی سینٹر جیل میں آرام فرما کر حالات کو مزید بگڑنے سے بچا لیا ۔اسی میں بہتری سمجھی کہ کچھ دن آرام فرماؤ ۔لوگ خاموش ہو جائیں ۔اسکے بعد تین قتل مقتولہ امیراں بی بی کھیتران کے ساتھ جنسی زیادتی وجسمانی زیادتی ودو نوجوانوں کے ساتھ جسمانی قید ومشقت اور اسکے بعد قتل کرکے لاش بوری میں بند کرکے کنویں پھینکنے والے اور باقی زندہ بچ جانے والے بوڑھی ماں گراں ناز کے ساتھ جسمانی زیادتی اور اسکی 17سالہ بیٹی کے ساتھ جنسی وجسمانی زیادتی و تشدد اور بچوں کے ساتھ جسمانی زیادتی تشدد آٹھ سال تک اپنےنجی جیل میں قید کرنے بعد صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے خلاف نہ کوئی عدالتی کاروائی ہوئی نہ سزا جزا سردار صاحب بضمانت جیل سے رہا ہوئے اور ایک دو بیل کے بعد باعزت بری ہو جائیں گے ۔تو ہم اپنے اداروں سے پوچھتے ہیں آپ کشمیر کی آزادی کے تو بات کرتے ہو۔ادھر آپکے اپنے ہی ملک میں سرداروں نے بلوچستان پہ قبضہ کیا ہوا ہے تمھاری ساری انتظامیہ انکے سامنے بے بس صوبائی حکومت ان سرداروں نوابوں کی تمھاری ساری انتظامیہ پولیس لیویز وکیل جج عدالت انتظامیہ سب ان کے گرفت میں ،سب ان سرداروں نوابوں کے انڈر میں اور اوپر سے آپ وفاق انکو سالانہ اربوں کھربوں روپے روپے دیتے ہو صوبائی بجٹ کی مد میں ۔تو ہم بلوچستان کی عوام آپ اپنے ملک پاکستان کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں ۔خدارا کشمیر سے پہلے ہمیں بلوچستانیوں کو سرداروں نوابوں کے نجی جیلوں عدالتوں اور انتظامیہ سے آزاد کراؤ ہم تمھارے پاکستانی ہیں۔ہم کشمیری نہیں ہم اس ملک کے باشندے ہیں ہمیں کشمیر سے پہلے بلوچستان کے سرداروں ونوابوں کے نجی حکومت سے آزاد کراؤ۔ اس ظالم صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کو بچانے والے سردار نواب ٹولہ قدوس کابینہ کو ہٹا کر گورنر راج نافذ کیا جائے۔قاتل وزیر عبدالرحمن کھیتران کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔تاکہ ریاست کے ہوتے ہوئے کوئی اور ریاست نہ بنائیں سرکاری عدالتوں و جج صاحبان کے ہوتے ہوئے۔کوئی عبدالرحمن کھیتران اپنا نجی جیل عدالت نہ بنائے۔ہم عرض کرتے ہیں فلفور صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کا ضمانت منسوخ کرکے دوبارہ گرفتار کرکے اسے فلفور سزا دیا جائے ۔اور جو باقی صوبائی انتظامیہ ہماری لیویز پولیس وکیل جج عدالتیں سب انکے زیردست افسران لگے ہوئے ہیں انکے خلاف فوری ایکشن لیا جائے کیونکہ بلوچستان میں بھی حکومت پاکستان کی رٹ قائم ہو۔عوام کو باقی صوبوں کے برابر حقوق دیے جائیں۔بلوچستان کو ان سرداروں ونوابوں کی گرفت سے آزاد کرایا جائے۔ اس ملک کے آئین وقانون کی بالادستی قائم کرایا جائے ۔
مظلوم عوام بلوچستان
Http://Youtube.Com/@Bolkohesuleman
Featured post
کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش
http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201
-
لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگ...
-
یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بش...
-
قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو ...







