Monday, 28 January 2019

سی ٹی ڈی

کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کے ضرور کچھ اچھے کام بھی ہوں  گے لیکن  ان کا ایک دوسرا  افسوس ناک رخ بھی ہے 
سی ٹی ڈی کا ساہیوال میں یہ کوئی پہلا ظلم نہیں ہے ،سینکڑوں کی تعداد میں بے گناہ نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کر مارنا اس ’’ریاستی بندے مار‘‘ادارے کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔کسی بھی شخص کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے جوڑ کر اسے جان سے مارنے کی دھمکی  دے کر لاکھوں روپے بٹورنا اس ادارے کے افسران کا من پسند مشغلہ ہے ،اگر کسی شخص کا ماضی میں کسی کالعدم تنظیم جسے اُس دور میں ’’ریاستی سرپرستی ‘‘ حاصل تھی سے کوئی تعلق رہا ہو تو ایسا شخص سی ٹی ڈی کے نزدیک ’’سونے کا انڈہ دینے والی مرغی‘‘ قرار پاتی ہے ۔سی ٹی ڈی کے افسران اور اہلکار  ایسے افراد کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا اپنا حق سمجھتی ہے ۔درجنوں ایسے افراد بھی شہر میں موجود ہیں جو سی ٹی ڈی کے بھیانک ظلم کا شکار ہو کر ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں ۔کئی افراد ایسے بھی ہیں جو اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے کی بجائے سی ٹی ڈی کے کرپٹ افسران کی ناجائز اور بلاجواز فرمائشوں کو پورا کرنے کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں کہ اگر سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کو ’’حرام ‘‘ نہ کھلایا تو اسے کسی بھی وقت کسی کالعدم تنظیم کا دہشت گرد قرار دے کر شہر کے کسی ویرانے میں مار دیا جائے گا ۔اگر سی ٹی ڈی میں آپ کے کسی ’’بندے مار ‘‘ افسر کے ساتھ قریبی تعلقات اور بے تکلفی ہو تو پھر وہ آپ کو  بے گناہ بندوں کو دہشت گرد قرار دے کر مارنے کےایسے ایسے واقعات سنائے گا کہ آپ کی روح کانپ جائے گی۔سی ٹی ڈی کی بندے مار کارروائیوں میں اب تک سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ،سی ٹی ڈی کے مقابلوں کی تمام تفصیلات نکال کر دیکھ لیں آپ کو کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملے گا جس میں کوئی اصل مقابلہ ہوا ہو ۔اگر آپ حقیقی معنوں میں دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں اور ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث بھی ہیں لیکن ’’حرام ‘‘ کھلانے کے لئے آپ کے پاس وافر مقدار میں پیسے موجود ہیں تو پھر ’’ستے ای خیراں ہیں ‘‘سی ٹی ڈی کو ’’حرام ‘‘ کھلاتے رہیں اور ملک میں اودھم مچاتے رہیں ،یہ ریاستی ادارہ آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا ۔سی ٹی ڈی کے ’’کارناموں‘‘ کی بڑی لمبی فہرست موجود ہے ،آپ ماضی یا حال میں کسی دہشت گردی کی واردات میں ملوث نہیں رہے اور نہ ہی کبھی دہشت گردوں کی سہولت کاری کا فریضہ سرانجام دیا ہے لیکن اب کالعدم قرار پانے والی کسی کالعدم تنظیم سے تعلق رہا ہے تو  سی ٹی ڈی والے سونگھتے ہوئے آپ کے پاس پہنچ جائیں گے ،اگر ماضی کے اس’’سنگین جرم‘‘ میں آپ کو حراست میں لے لیا گیا ہے تو پھر سی ٹی ڈی افسران آپ کے ساتھ بار گیننگ کرتے ہیں ،اگر تو آپ ’’بھاری معاوضہ ‘‘دینے کی سکت رکھتے ہیں تو پھر تو کام ایک ماہ کی نظر بندی سے ہی چل جائے گا ،تھوڑے پیسوں کی صورت میں کم از کم ایسا مقدمہ بنایا جائے گا کہ جس میں دہشت گردی کی عدالت آپ کو تین سال سے لیکر 5 سال کی سزا سنائے گی اور اگر آپ سی ٹی ڈی کو حرام کھلانے کی پوزیشن میں بالکل بھی نہیں ہیں تو پھر اتنی مقدار میں بارودی مواد آپ کے کھاتے میں ڈالا جائے گا کہ عدالت آپ کو 15 سے لیکر 20 سال کی قید سنا دے گی ،یہ اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ جیل کی اذیت سے بچنے کے لئےاپنا گھر بار بیچتے ہیں یا بیوی بچوں کو دربدر بھیک مانگنے کے لئے چھوڑ کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے مقدر پر آنسو بہاتے ہیں ۔میں نے کئی ایسی فیملیز بھی دیکھ رکھی ہیں کہ جن کے مرد ماضی میں کسی مذہبی جماعت کا حصہ رہے تھے لیکن ایک مدت سے وہ اب اپنے بیوی بچوں کو پالنے کے لئے محنت مزدوری کا سہارا لئے ہوئے تھے ،مذہبی بیک گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے ان کی بیویاں بھی با پردہ تھیں لیکن جیسے ہی سی ٹی ڈی نے انہیں اپنا ’’مہمان‘‘ بنایا ان کی با پردہ بیویاں سی ٹی ڈی کے وحشی افسران کی ہوس کا نشانہ بن گئیں اور آج دربدر رلنے پر مجبور ہیں ۔سی ٹی ڈی کے کسی بے تکلف افسر  یا اہلکار کے پاس بیٹھیں تو ایسی ’’رنگین کہانیاں ‘‘ بھی آپ کو بڑی تعداد میں سننے کو ملیں گی

No comments:

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201