جب انسان لالچ کے زنجیر میں قید ہو تو اس انسان کو کہیں سے ظلم اور ناانصافی نظر آتا میں ایک چرواہا اور ایک ادنی سا صحافتی دعویدار ہوں میری کوئ حیثیت ہی نہیں لیکن اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر گزار ہوں مجھے جھوٹ اور سچ کو زرہ بھر الگ الگ دکھانے اور لکھنے کی توفیق ضرور عطا کی ہے کیونکہ میرا دوست بھی بہت کم ہیں صحافی و سیاسی برداری بھی مجھ سے اکثر نالاں ہیں وجہ صرف تھوڑا سا سچ لکھنا ہے میں ڈیرہ غازیخان اور تونسہ شریف کے سیاسی سماجی خصوصا کوہ سلیمان ریجن کے صحافی برداری سے گزارش کرتا ہوں سو میں صرف دس باتیں سچ لکھا کرو اللہ تعالی آپ لوگوں کو اجر دیگا ہم سبکو مر کر اس زمین میں دفن ہونا ہے نہ وہاں پارٹی کام آئیگا نہ سردار ملیں گے نہ وڈیرے نہ پیسوں کا سہارا ہوگا صرف اور صرف سچائ اور اچھے اعمال ساتھ دینگے ڈی جی خان کے کوہ سلیمان کے بلوچ تیس فیصد تعلیم یافتہ ہیں انکی اکثریت ملازم کاروبار یا کہیں نا کہیں کوئ پیشے سے منسلک ضرور ہے بزدار قیصرانی کھوسہ لیغاری وغیرہ وغیرہ کے قبائل میں ستر فیصد لوگ تعلیم روڈ صحت سمیت سوئ جتنا حکومتی سہولیات سے سو فیصد محروم ہیں اگر کہیں کچھ ہے بھی تو وہ ان لوگوں کیلئے نہیں کیونکہ ان کے پاس بولنے کیلئے زبان نہیں جو ہمارے علاقے کے معزز رہنما وکیل جج صحافی صاحبان ہیں وہ تو ویسے شہروں میں آباد ہیں انکے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں روڈ صحت بجلی سمیت انہیں کوئ مسئلہ درپیش نہیں کہیں گلی محلے کی بات ہو تو انکے پاس زبان ہے وہ مسائل اجاگر کرنے سے پہلے حل کیئے جاتے ہیں آج کل کچھ صحافی و سماجی دوست لکھتے ہیں سردار اویس خان لیغاری صاحب نے ڈی جی خان میں قتل کیئے گئے راشد بخاری کی قاتلوں کی آواز اسمبلی میں اٹھاکر علاقے کا حق ادا کردیا ان دوستوں کیلئے عرض ہے میں سردار صاحب کے پارٹی کا ورکر ہوں لیکن وفاق اور صوبے میں اویس خان کتنے بار وزیر رہے اور ڈی جی خان میں کتنے قتل ہوئے کہیں اسمبلی میں اسکی بات نہیں سنی آباؤ اجداد سے وزارتوں میں رہنے والے سردار اویس خان لیغاری کو سیاسی قتل ضرور نظر آتا ہے لیغاری قبائل سمیت ٹرائیبل ایریا میں ستر فیصد عوام جیتے جی مررہا ہے انکی بات اسمبلی کے فلور پر کیوں نہیں کی گئ گورنر اور وزیر رہنے والے کھوسہ سرداروں کے زرا نظر دواڑائیں میدانی علاقوں ہونے کے باوجود بستیوں میں جانے والے لنک روڈ تک نہیں کہیں سکول ہیں تو پڑھانے کیلئے ماسٹر کہیں نظر نہیں آتے زرا اب بزدار قبائل کے حالات جانچیں انکے حال لیغاری اور قبائل سے مختلف نہیں کیوں کیونکہ وجہ صرف لالچ کی زنجیر ہے اس علاقے میں کتنے صحافی ہیں کیوں علاقے کی آواز نہیں اٹھاتے بار بار سرداروں اور جاگیرداروں کی تعریف پر پل تو باندھتے ہیں ظلم کے چکی میں پسنے والے لاکھوں عوام پیسوں کی دمک اور چمک سے نظر نہیں آتے ان صحافی برداران کے ایسے درجنوں صحافی میرے نظروں سے گزرے ہیں کبھی اویس کے ساتھ تھے آج سی ایم پنجاب سردار عثمان خان بزدار کے ساتھ ہیں کبھی عثمان خان بزدار کے ساتھ تھے آج اویس خان لیغاری یا خواجگان کے جھولی میں ہیں ان سرداروں یا خواجگان سے جاکر کوئ پوچھے کتنے بار ایم پی اے یا ایم این اے سلیکٹ یا الیکٹ ہوکر کتنے بار اسمبلیوں میں گئے ہیں کیا انہیں فنڈ نہیں ملتا یہ پسماندگی اور بریریت کے زمیدار ہمارے پڑھے لکھے معاشرہ اور رہنما ہیں ہم عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے فنڈ نہ ملنے کی پارٹی بدلنے کی بات کرکے ہمیں ورغلایا جاتا ہے صرف ڈی جی خان تونسہ شریف راجن پور کیلئے فنڈ نہیں ہی. ملتان سے لیکر راولپنڈی تک فنڈنگ امریکہ سے نہیں یہ لاہور اور اسلام آباد سے ہوتی ہے نہ یہ اتنے کمزور ہیں اپنے فنڈ چھوڑ کر گھر بیٹھیں ہاں ترقیاتی فنڈ کا آدھا دیکر کہتے ہیں نہ پورا فنڈ دے دیں نہ ہمارے کرپشن پر انکوائری بٹھائیں سودا برابر /کیونکہ پانی اس طرف بہتا ہے جہاں مٹی نہیں ہوتی#
Welcome To Tibalnews1. Here Uou Will Find Every Local National News Of DGKhan Taunsa And Koh Suleiman Kn A Blink Of An Eye With All Languages Kinds Of Articles.
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Featured post
کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش
http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201
-
لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگ...
-
یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بش...
-
قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو ...
No comments:
Post a Comment