ہم ایک مضبوط قوم ہیں ہم بلوچ ہیں ہماری تاریخ بھی ہے دنیا کے طاقت ور قوموں کی صف میں ہمارا نام# اگر بلوچ قوم کی تاریخ دیکھا جائے پڑھا جائے تو افسوس آتا ہے اور آنکھوں سے آنسوں بہنا شروع ہوتے ہیں بلوچ قوم واحد قوم ہے جس نے کسی طاقت کے سامنے سر نہیں جھکایا نہ اپنے حقوق کے ساتھ کسی سے کمپرومائز کی آج مجھے بہت افسوس سے لکھنا پڑتا عرب سے عجم تک بلوچ قوم کی تاریخ مسخ ہوتی جارہی ہے ہماری تاریخ کو مسخ کرنے کی زمیدار کوئ دشمن نہیں خود ہمارے اپنے رہبر و رہنما ہیں جو چند پیسوں کے عوض بک جاتے ہیں اپنے آن بان شان کا سودہ کر بیٹھتے ہیں انہیں اپنے تاریخ اور قوم کی نہیں صرف پیسے اور کرسی چاہئیے کاش ہمارے بہرے رہنماؤں کو کوئ یہ بات سمجھا سکے تمہیں نہ کرسی کی لالچ طاقت دے سکتی ہے نہ پیسوں کا دب دبا عظیم قوم کا عظیم رہنما بنا سکتا ہے اللہ تعالی نے آپکو ہر صلاحیت سے خود مالا مال فرمایا تمہیں طاقت عطا کی کیوں غلام بننے کی سوچ آپکے زہنوں پر عیاں ہو چکا ہے جب قائد اعظم نے الگ مسلم ریاست کی جنگ شروع کی تو انہوں نے کہا آپکو وزیراعظم بنا دینگے الگ ریاست کا مطالبہ ترک کریں قائد اعظم نے کہا ہمیں وزیراعظم بنانے والے آپ ہو جب مرضی ہوا تو اتارنے والے بھی آپ ہونگے ہمیں شان کیلئے نہیں مسلم ریاست چاہئیے ہمارے بلوچ رہنما جب بولتے ہیں تو کسی کے آنکھوں پر پیسوں کی پٹی تو کسی کو کرسی کا شاہکار بنا دیا جاتا ہے لیکن ان لوگوں میں اتنی سی ہمت نہیں ہمیں ان چیزوں سے غرض نہیں ہماری عوام ہے ہم اپنے عوام کے حقوق لیکر رہینگے جب عوام کی طاقت ساتھ ہو تو کوئ طاقت اسے بڑھ کر نہیں کہیں بلوچوں کو مار کر خاموش کیا جاتا ہے کہیں آپس میں لڑا کر کمزور کیا جاتا ہے کہیں تعلیم سے دور رکھ کر غربت کی رسی سے جکڑا جاتا ہے تو یہ ہماری تاریخ کو ختم کرنے کی اہم نشانیوں میں سے ہیں ان طاقتوں کو اچھی طرح معلوم ہے یہ وہ قوم ہے جو بھوکے پیاسے گرمی اور سردی میں ہٹتے نہیں لڑ کر مرتے ضرور ہیں لیکن افسوس ہمیں مارنے والے بھوکے پیاسے رکھنے والے کوئ اور نہیں ہمارے اپنے رہنما ہیں ہم انکے ہاتھوں سولی پر چڑھتے ہیں یہ پیسے کی چمک سے ہمیں ہر موڑ پر مارتے ہیں گوادر سے لیکر ملتان تک ڈیرہ اسمعیل خان سے کراچی تک یہ موت اور بھوک کا کھیل صرف بلوچ قوم میں کیوں کھیلا جارہا ہے کیونکہ ہم پکار پر لڑتے ہیں حق پر نہیں اب وقت بدل گیا ہے سوچ بھی بدلنا ہوگا رہنما بدل گئے ہیں عوام کو بھی بدلنا ہوگا اس دور میں جنگ ہتھیار سے نہیں قلم سے لڑنا ہوتا ہے اب ان سرداروں وڈیروں کے پکار پر نہیں چلنا جس کے اپنے بچے اسلام آباد کراچی بشمول امریکہ برطانیہ سمیت یورپی ملکوں میں زیر تعلیم ہیں ہمارے مستقبل کیلئے پرائمری سکول تک نہیں اگر ہیں تو اس پر تالے اب وہ ہر فرد سردار ہے جو اپنے علاقے اور قوم کیلئے کوشاں ہیں ہمارے معزز رہنماؤں کے گھر کوئٹہ اسلام آباد کراچی لاہور ڈیرہ غازیخان کے پر آشائش علاقوں میں جب ہمیں انکی ضرورت پڑی تو کسی سے بیس ہزار قرضہ لیکر انکے کھوج لگانے کیلئے ہم ان پڑھوں کو مہینہ لگ جاتا ہے جب ان لوگوں کو پانچ سال بعد ووٹ لینے کیلئے ہماری ضرورت پڑی تو صرف ایک مہینہ لگا کر ہمیں بیوقوف بناکر چلے جاتے ہیں کیونکہ ہم میں تعلیم نہیں تو حقوق کا کیا پتہ اس لیئے بلوچ سرداروں وڈیروں کا منشور ہے کامیابی کا راز عوام کو جہالت میں رکھنے سے ہے ترقی و تعلیم دیکر خودکشی کرنے کے مترادف ہے اس دور میں الحمدللہ اپنے تحت آپ بلوچ قوم میں ایسے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان ہیں جو اپنے علاقے اور قوم کی رہنمائ کر سکتے ہیں کیونکہ اصل طاقت عوام اور تعلیم ہے ہمیں اپنے آنے والے مستقبل اور تاریخ کو بچانے کیلئے ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائ کرنے چاہئیے اور اسکا بھر پور ساتھ دیکر اپنے تاریخ کو مٹنے سے بچانا ہے آج نوٹ کر لیں اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو بلوچ قوم طاقت نہیں صرف ایک تاریخ رہ جائیگی بلوچ لخت جگروں نے سو سال تک بھوک پیاس جہالت برداشت کیئے اپنے پیاروں کو مرتے دیکھا کئ خاندانیں تباہ ہوئیں لاکھوں لوگ تباہ حالی سے تنگ آکر ہجرت پر مجبور ہوئے لیکن اپنے معزز سرداروں کی بات کو کبھی نہیں ٹھکرایا کاش ان کو بھی یہ احساس ہوتا تو ہمیں نہ کوئ علاقہ بدر کر سکتا تھا نہ بھوک و پیاس سے مرجاتے نہ تعلیم کی زیور سے محروم ہوتے کیونکہ یہ سب کرتا دھرتا انہیں آقاؤں کی ہے جس کی بدولت آج ہم دنیا کے وہ چند قیمتی نایاب پرندوں کے صف میں ہیں جو کبھی جنگلوں کے زینت بنا ہوا کرتے تھے آج پوری دنیا میں ماسوائے چند ایک جنگل میں صرف اسکا عکس دیکھا جاتا ہے آج بھی وقت ہے بدل دو نظام کو یہ بڑائ کسی حدیث پاک کا لفظ نہیں یہ بڑائ ہم چرواؤں کاشتکاروں کے اتفاق و اتحاد میں ہے جس کے ساتھ چلیں وہ بڑا ہے جسے چھوڑ دیں وہ ہم جیسا انسان ہے #تحریرو پیشکش حسن خان بزدار
Welcome To Tibalnews1. Here Uou Will Find Every Local National News Of DGKhan Taunsa And Koh Suleiman Kn A Blink Of An Eye With All Languages Kinds Of Articles.
Monday, 8 April 2019
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Featured post
کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش
http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201
-
لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگ...
-
یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بش...
-
قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو ...

No comments:
Post a Comment