تونسہ شریف#
صحافیوں اور فسادی ڈاکٹرز کے درمیان مزاکرات انتظامیہ کے تعاون کی وجہ سے کامیاب ہوے ہیں۔اس میں اسسٹنٹ کمشنر تونسہ نے اہم رول ادا کیا ان کامیاب مزاکرات سے جو متاثرہ مریض ہونگے جن کی کوریج کے لئے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا ہے۔ وہ آسان ہو گیا ہے۔ اب جو بھی شکایتی جس کو ڈاکٹر چیک نہیں کریں گے۔ اس کے احتجاج کے لئے باقاعدہ طور پر ہمیں کمرہ فراہم کر دیا جاے گا۔ اب ہم اس روم کے اندر بیٹھ کر آرام سے اس مریض اور انکے لواحقین کی لائیو کوریج تک کر سکیں گے۔ ہم بھی نہیں چاہتے تھے کہ صحافی ہر جگہ تماشا کریں ۔اب عزت سے ہسپتال کے ہال روم میں اس کے بیان کو ریکارڈ کریں گے۔ یہ ہمارے بڑی کامیابی ہے۔ ڈاکٹرز حضرات اب ہمیں ہر ایمرجنسی واقعہ کی فوٹیج خود بنوا کر دیں گے۔ پہلے ہماری گائنی وارڈ ایمر جنسی وارڈ۔ ایم ایل سی پیشنٹ ۔وی آئی پی پیشنٹ تک کوریج نہایت مشکل تھی لیکن اب ڈاکٹر خضرات جسے فوکل پرسن مقرر کریں گے وہ ہمیں تفصیلات ویڈیو فراہم کرنے کے پابند ہونگے۔ جس کا بھی یہ علاج نہیں کریں گے وہ وہیں ہمارے لئے مقرر کردہ ہال روم میں آکر آگاہ کریں گے اور ان مریضوں کی وہیں پر پہلے سے زیادہ فعال انداز میں آواز بنیں گے۔ اور ہماری تمام تر سیفٹی کے ذمہ دار اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس ہونگے۔ جو کہ ہماری جیت ہے۔ ہمارے ایک دوست حماد گاڈی کے کچھ پوسٹوں کی وجہ سے ڈاکٹر حضرات کی دل آزاری ہوئ اور ان پر سائیبر ایکٹ لگنے کی وجہ سے ہمیں ڈاکٹرز کی اس بات کو ماننے پر مجبور ہوے کہ حماد بطور رپورٹر ہسپتال نہیں آسکے گا۔ بطور مریض یا اپنے مریض لواحقین کیساتھ آنے سے اسے نہیں روکا جاسکے گا۔ اب آپ کسی بھی ڈاکٹر مریض کی علاج نہ ہونے کی شکایت ہمیں کریں گے تو ہم فوری طور پر آپکی مدد کو پہنچیں گے اور مقرر کردہ میڈیا روم میں آپکی پریس کانفرنس اور احتجاج کریں گے۔ اس معاہدے سے ہسپتال کا نظام خراب بھی نہیں ہوگا اور ہمیں غریب اور متاثرہ مریضوں کی آواز بنے پہنچانے میں مزید آسانی ہو گی۔ ہم ہسپتال میں کام دیکھنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر اگر کسی بھی مریض کے علاج میں غفلت کا مظاہرہ کریں گے ہم آپ کی آواز ہیں آواز بنیں گے۔ آپ ہمیں اپنے ساتھ کسی بھی ظلم اور زیادتی کی اطلاع کر سکتے ہیں۔ ہم پہلے بھی آپکی آواز تھے اب بھی آپکی آواز ہیں
صحافیوں اور فسادی ڈاکٹرز کے درمیان مزاکرات انتظامیہ کے تعاون کی وجہ سے کامیاب ہوے ہیں۔اس میں اسسٹنٹ کمشنر تونسہ نے اہم رول ادا کیا ان کامیاب مزاکرات سے جو متاثرہ مریض ہونگے جن کی کوریج کے لئے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا ہے۔ وہ آسان ہو گیا ہے۔ اب جو بھی شکایتی جس کو ڈاکٹر چیک نہیں کریں گے۔ اس کے احتجاج کے لئے باقاعدہ طور پر ہمیں کمرہ فراہم کر دیا جاے گا۔ اب ہم اس روم کے اندر بیٹھ کر آرام سے اس مریض اور انکے لواحقین کی لائیو کوریج تک کر سکیں گے۔ ہم بھی نہیں چاہتے تھے کہ صحافی ہر جگہ تماشا کریں ۔اب عزت سے ہسپتال کے ہال روم میں اس کے بیان کو ریکارڈ کریں گے۔ یہ ہمارے بڑی کامیابی ہے۔ ڈاکٹرز حضرات اب ہمیں ہر ایمرجنسی واقعہ کی فوٹیج خود بنوا کر دیں گے۔ پہلے ہماری گائنی وارڈ ایمر جنسی وارڈ۔ ایم ایل سی پیشنٹ ۔وی آئی پی پیشنٹ تک کوریج نہایت مشکل تھی لیکن اب ڈاکٹر خضرات جسے فوکل پرسن مقرر کریں گے وہ ہمیں تفصیلات ویڈیو فراہم کرنے کے پابند ہونگے۔ جس کا بھی یہ علاج نہیں کریں گے وہ وہیں ہمارے لئے مقرر کردہ ہال روم میں آکر آگاہ کریں گے اور ان مریضوں کی وہیں پر پہلے سے زیادہ فعال انداز میں آواز بنیں گے۔ اور ہماری تمام تر سیفٹی کے ذمہ دار اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس ہونگے۔ جو کہ ہماری جیت ہے۔ ہمارے ایک دوست حماد گاڈی کے کچھ پوسٹوں کی وجہ سے ڈاکٹر حضرات کی دل آزاری ہوئ اور ان پر سائیبر ایکٹ لگنے کی وجہ سے ہمیں ڈاکٹرز کی اس بات کو ماننے پر مجبور ہوے کہ حماد بطور رپورٹر ہسپتال نہیں آسکے گا۔ بطور مریض یا اپنے مریض لواحقین کیساتھ آنے سے اسے نہیں روکا جاسکے گا۔ اب آپ کسی بھی ڈاکٹر مریض کی علاج نہ ہونے کی شکایت ہمیں کریں گے تو ہم فوری طور پر آپکی مدد کو پہنچیں گے اور مقرر کردہ میڈیا روم میں آپکی پریس کانفرنس اور احتجاج کریں گے۔ اس معاہدے سے ہسپتال کا نظام خراب بھی نہیں ہوگا اور ہمیں غریب اور متاثرہ مریضوں کی آواز بنے پہنچانے میں مزید آسانی ہو گی۔ ہم ہسپتال میں کام دیکھنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر اگر کسی بھی مریض کے علاج میں غفلت کا مظاہرہ کریں گے ہم آپ کی آواز ہیں آواز بنیں گے۔ آپ ہمیں اپنے ساتھ کسی بھی ظلم اور زیادتی کی اطلاع کر سکتے ہیں۔ ہم پہلے بھی آپکی آواز تھے اب بھی آپکی آواز ہیں


No comments:
Post a Comment