Welcome To Tibalnews1. Here Uou Will Find Every Local National News Of DGKhan Taunsa And Koh Suleiman Kn A Blink Of An Eye With All Languages Kinds Of Articles.
Tuesday, 5 December 2023
ہفت دسمبر کوہ سلیمان کے شہداء کے نام
Wednesday, 29 November 2023
ملک شام اور ہمارے آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کے حدیث کے مطابق عربوں میں زوال کی بشارتیں #Shame #Arub #Hadespak #Farmanenabvi
Saturday, 15 April 2023
Lalchi Qome Ke Zawal & Zalim Hokmranoon Ki Mojin
Monday, 10 April 2023
جھوٹی تسلی دینے سے بہتر ہے سچے دل سے ظلم اور ظالموں کا مقابلہ کرو قلم کار حسن خان بزدار
Saturday, 8 April 2023
خود کو جھوٹی تسلی دینے سے بہتر ہے سچے دل سے ظلم اور ظالموں کا مقابلہ کرو
Sunday, 26 March 2023
کینسر کے موذی مرض کا شافی علاج اور طریقہ کار
جس دھماسہ بوٹی سے میں نے دو مہینوں میں آخری سٹیج ۵۰% کینسر ختم ہوتے دیکھا ہے وہ ہرے رنگ کا پاؤڈر ہے جو تازہ بوٹی توڑ کر صاف کرکے سکھاکر پسوایا گیا تھا۔ یادرہے کینسر پورے جسم میں معدے،پھیپھڑے،جگر حتٰی کہ ہڈّیوں تک پھیل گیا تھا۔ براہِ مہربانی اپنے پیاروں کو کیمو کی تکلیف سے بچائیے دھماسہ کھلائیے۔
Friday, 17 March 2023
سنو پاکستانی عوام آج تھوڑا نہیں حقیقت اور کڑوا سچ سنوListen to the poor people of Pakistan today, not a little complete and bitter truth
, in 1993, I started with 20 rupees and in 2004 the wage reached 200 daily wages and he also used to spend 20 rupees in his mount Suleiman in the nearby cities for daily wages. These mobile phones came to Tunsa after 2000
Thursday, 16 March 2023
تونسہ شریف مال بناؤ عوام بھگاؤ کے موروثی کھلاڑیوں کیلئے نیا سپرے تیار جوکہ اس الیکشن پر اکھاڑے میں چھڑکاؤ کی تیاریاں مکمل
ایک بات تو طے ہے پی ٹی آئ کے تمام ٹکٹ ہولڈرز کو اگر عمران خان ٹکٹ نہ دے تو ان میں 100 کے بعد 5 لوگ بھی بڑی کوشش کے بعد الیکشن میں کامیاب ہونگے کیونکہ پی ٹی میں 95%وہ لوگ ہیں جو دوسرے تمام پارٹیوں نے انہیں نکال دی ہے پاکستان کے عوام ووٹ صرف عمران کو دیتا ہے صرف تونسہ لے لیں پی پی 286 سابق سی ایم پنجاب کا گھر ہے اگر پی ٹی کا ٹکٹ نہ ملے تو سردار صاحب مجھے کامیاب ہوکر دکھائے کیونکہ عثمان خان نے تونسہ میں ایک ایم این اے جتنا کام ضرور کیئے اور پی ٹی آئ کے ایم این اے صاحب نے کونسلر جتنا بھی عوام کو نہیں دکھایا خواجہ شیراز صاحب اب پچھلے پانچ سال کے فنڈز میں تہائی لیکر وڈیروں گودوں میں تقسیم کرینگے وہ وڈیرے عوام کو بیوقوف بناکر ووٹ لیکر شیراز صاحب کو دلوائیں گے مسلم لیگ ن کے خواجہ نظام المحمود کو صرف وہ ووٹ پڑینگے جنہیں بزدار کے نام سے چڑ ہے باقی 90% پاگل بھی خواجہ نظام المحمود کو ووٹ نہیں دینگے اس بار سردار اکرم خان ملغانی پچھلے الیکشن سے بڑھ جائیگا مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر اگر خواجہ نطام المحمود رہا تو 8 سے دس ہزار ووٹ بڑی مشکل سے لے پائیگا
مسلم لیگ ن کے قائدین کو اگر عوام پر ڈھائے جانے والے مہنگائ و مظالم سے فرست ملے تو اپنے اس ٹکٹ کو ذرا برباد ہونے سے بھی بچائے کیونکہ مسلم لیگ ن کا ہر امیدوار اگر ہار بھی جاتا تو صرف دو سے تین ہزار تک ہار جاتا تھا اس بار اگر خواجہ نطام المحمود صاحب رہا اسکا تو 20 ہزار سے زائد تک ہار کنفارم ہے ایک تو مسلم لیگ ن کو اقتدار میں دھکیلنے والے زرداری نے پارٹی کا ستیا ناس کردی مہنگائ بے روزگاری 300% تک برھادیا گیا دوسرا اسی خواجہ صاحب نے 2013 کے الیکشن جیتنے کے بعد تونسہ شریف کے عوام کو اپنا منہ دکھانے کا بھی گوارہ نہ کرسکا اور یہ وہ آٹھ سے دس ووٹ بھی سابق سی ایم پنجاب کے مختاروں کی وجہ سے جسنے عوام کو بیوقوف بناکر اسکا دل توڑا ہے ہمیشہ دھوکہ دیکر ورغلاتے رہے کسی سے بٹورتے رہے اور کسی کو بٹوارتے رہے کیونکہ اسکا خمیازہ تو سردار صاحبان کو بھگتنا ہوگا یہ عوامی ناراضگی کا زلزلہ بھی ان پر پڑیگا کیونکہ شیطان کا مطلب ہی افراتفری پھیلانا اچھے اعمال سے دور رکھنا نماز قضاء کروانا برے کاموں میں ہاتھ بٹانا اسکا حساب تو تمہیں جہنم کی صورت میں دینا ہوگا اس لیئے سردار صاحبان نے عوام سے زیادہ چمچوں کو فوکس کی اسکا حساب تو چکانا پڑتا ہے اس فنی کلپ پر کس کو یقین ہوگا کہ یہ فنی نہیں حقیقت ہے یہی چمچے اس بار تو نہیں اگلی بار تو ضرور ڈبودینگے اگر ان مختاروں نے آدھا کلو گھی پندرہ سو کا ترپال ایک کلو دال لنڈے کے کپڑے محفوظ نہ رہ سکے تو کیا انکی باتوں پر کونسا سر پھاڑ ہوگا جو انکے کہنے پر سردار عثمان خان ووٹ دینگے الٹا طعنے اور گالم گلوچ تو ہوگا انہیں ووٹ کوئ نہیں دیگا یہی لوگوں نے عثمان خان کو سیاست کا بٹہ بٹھادی خود لنڈے کے سامان سے مالا مال ہوئے اس الیکشن میں موروثی سیاست کیلئے تونسہ شریف اور کوہ میں ایک مضبوط سپرے بھی تیار ہوچکا ہے وہ ان لوگوں کو آنے والے الیکشن کو دن میں تارے دکھا دینگے اس وقت پی پی 286 اور پی پی 287 میں عام آدمی تحریک پاکستان نے جس مضبوطی سے عوام میں انٹر ہو چکا ہے اور (عام آدمی تحریک پاکستان ) عام عوام کی پارٹی ہے اور اس تباہ کن سیلاب میں جس جانفشانی سے عوام کے مدد کو پہنچے اسکی نظیر نہیں ملتی ڈی آئی خان سے جام پور تک ہر گھر اور ہر در تک جو عوامی فلاح میں کردار ((عام آدمی تحریک پاکستان )) نے ادا کی وہ شائید ہی کوئ اور کرسکا ہو کیونکہ نہ یہ کسی گورنمٹ کا حصہ تھے نہ پارٹی میں کوئ ایم این اے تھا نہ کوئ ایم پی اے اپنے تحت آپ نیشنل اور انٹرنیشنل ڈونرز دوستوں کی مدد سے جو جنگ (عام آدمی تحریک پاکستان ) نے عوام اور اپنے ڈوبے ہوئے علاقے کیلئے لڑا وہ ہمیشہ یاد رکھے جائینگے اور دوسری جماعت اسلامی بھی اس سیلاب سے تباہ حال علاقے کیلئے کوشاں کی وہ بھی قابل تعریف ہے لیکن تونسہ شریف اور مضافات میں یہ دونوں پارٹیاں پرانے کھلاڑیوں کے لیئے درد سر بن بیٹھے ہیں کیونکہ 2022 کے تباہ کن سیلاب میں پی ٹی آئ کے ایم این اے خواجہ شیراز محمود کا عوامی کارکردگی بالکل 100پ%صفر رہا سابق سی ایم پنجاب کو چمچوں نے عوام سے دور رکھا الٹا عوامی امداد کیلئے آئے سامان بھی چمچوں نے ڈگار لیئے ضلع بنانے کا دکان بھی اسوقت ایک پٹاخا ثابت ہوچکا ہے جس کے نام پر ہمیشہ یہ لوگ ادھار چلاتے رہے اگر ضلع کا وجود ہے بھی تو وہ صرف عمران خان کی وجہ سے ہے نہ کہ تونسہ شریف کے پی ٹی آئ ٹکٹ ہولڈرز کے مرہون منت ہے
Tuesday, 14 March 2023
Balochistan Min Zulam Ka Bazar Grne Rakhne Min Kise Ne Koi Kassar Ni Chora Abdul Rahman Khetran Ne Zulam Ke Pahar Torre Sabhi Zalmon Ko Peche Chora
ہمارے ادارے ہماری انتظامیہ سب مافیاز و بلوچ سرداروں ونوابوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں ۔افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ بلوچستان کو پاکستان کا صوبہ نہیں سمجھا جا رہا ہے اس ملک کا حصہ نہیں سمجھا جا رہا ہے ۔اتنا بڑا صوبہ بلوچستان جو سارے پاکستان کو چلانے والا صوبہ ہے ہمارے ادارے ہماری انتظامیہ اس بڑے صوبے کو ایک کالونی سمجھ رہے ہیں اور اسے نوابوں و سرداروں کے ہاتھوں یرغمال کیا گیا ہے۔اس صوبے میں ادارے، انتظامیہ،عدالتیں سب نے مافیا و سرداران نواب کو چھوٹ دیا ہوا ہے۔ یہ سارے ادارے بلوچستان کی تباہ حالی میں ان مافیاز نواب و سرداران کے ساتھ برابر کے شریک ہیں وہ یہ سمجھ رہے ہیں ۔بلوچ قوم و سرزمین بلوچستان سرداروں نوابوں کی جاگیر ہے اور وہی زور آور ٹولہ اس کے مالک ہیں ۔ہم اپنے اداروں سے اپیل کرتے ہیں۔ اپنےافواج پاکستان سے اپیل کرتے ہیں سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان سے اپیل کرتے ہیں ۔خدارا بلوچ قوم وسرزمین بلوچستان کو سرداروں و نوابوں جاگیر داروں کے ہاتھوں یرغمال نہ بنایا جائے ۔یہی سردار نواب اس ملک وقوم کے دشمن ہیں ۔بلوچ قوم اس ملک کا دشمن نہیں ۔
یہی بلوچ قوم آکے ملک کے ہر ادارے میں ملک و قوم کی خدمت کرتے ہیں مافیاز نواب سرداران نہیں، یہی بلوچ قوم کے بچے أکے ہر روز اپنے ملک پاکستان کی دفاع میں شہید ہوتے ہیں نواب و سرداران کے بیٹے شہید نہیں ہوتے اس ملک کے دفاع میں ۔
ہم عرض کرتے ہیں تو پھر ہماری سرکار بلوچستان میں ان سرداروں کے ہاتھوں یرغمال کیوں? ،ان جاگیر دار سردار ونوابوں کے سامنے بے بس کیوں ?
آئین شکنی بھی یہی سردار کریں ،یہی سردار ریاست کے اندر بھی اپنی ریاست بنائیں ، انتظامیہ کے ہوتے ہوئے اپنی نجی جیلیں بنائیں ،ہمارے ملک کے سب سے بڑے طاقتور ادارے کے ہوتے ہوئے یعنی عدلیہ سیشن کورٹ ،ہائی کورٹ ،وسپریم۔کورٹ کے ہوتے ہوئے اپنی عدالتیں قائم کریں۔پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہماری ریاست نے خود انکو خود چھوٹ دیا ہوا ہے یا یہ ریاست سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں ۔اس لیے انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر سکتا ۔دومہنے پہلے کی بات ہے مغوی گران ناز قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی سے رہائی کی اپیل کر رہی تھی کہ انہیں اور اسکے بچوں کو صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی سے آزاد کرایا جائے۔ٹھیک اسکے کچھ ہی دن بعد وہ ویڈیو بنانے والی بچی امیراں بی بی کھیتران کو ڈی این اے ٹیسٹ کے مطابق ریپ کرکے اور جسمانی زیادتی کرکے منہ پہ تیزاب پھینک کر چہرہ مسخ کرکے صوبائی سردار عبدالرحمن کھیتران نے اپنے نجی جیل میں قید مظلوم خان محمد مری کے دو بیٹوں کو انکے ماں کے سامنے ظلم وزیادتی تشدد کا نشانہ بنا کر انکے ہاتھ پاؤں توڑ کر جسمانی تشدد کا نشانہ بنا کر گولی مار کر شہید کردیا اور میتوں کو بوریوں میں بند کر کے کنویں میں پھینک دیا ۔تین دن بعد لاشوں کے بدبو سے لوگ جب اس کنویں پہ پہنچے تین بوری بند لاشیں نکالیں گئی ایک امیراں بی بی کھیتران اور دو خان محمد مری کے نوجوان بیٹے کی شناخت ہوئی ۔جو صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی جیل میں قید تھے۔اسکے بعد مری قوم و آل پاکستان مری اتحاد و تمام طبقہ فکر کے لوگوں کی احتجاج کے بدولت صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے اپنے نجی جیل سے سب کو رہا کر دیا۔اسکے بعد وہاں کی لیویز پولیس سب کو نہیں پتہ کہ یہ لوگ کہاں سے بازیاب ہوئے کس نے بازیاب کیے اور کون کون ملوث ہے عبدالرحمن کھیتران کے ساتھ کوئی پتہ نہیں کیسے بازیاب ہوئے۔اور وہ عورت جو سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی جیل میں قرآن پاک کا واسطہ دیکر رہائی کی اپیل کر رہی تھی کیسے رہا ہوئی اور کیسے تین قیدیوں کو مار کر لاش بوری میں بند کر کے کنویں میں پھینک دیا نہ کوئی معلوم اور نہ ہی کی رپورٹ نہ ہی کوئی کیس ۔یعنی سب جان کر سردار عبدالرحمن کھیتران کے خلاف ایکشن لینے والا کوئی نہیں ،اب جب عوام نے لاش وزیراعلی بلوچستان کے ہاؤس کے سامنے رکھ کر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جب تک وزیر عبدالرحمن کھیتران کو گرفتار نہیں کیا جائے گا ہم لاشوں کو دفن نہیں کریں گے۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران صاحب نے خود کو کچھ دنوں کیلئے اپنے ریسٹ ہاؤس الھدی سینٹر جیل میں آرام فرما کر حالات کو مزید بگڑنے سے بچا لیا ۔اسی میں بہتری سمجھی کہ کچھ دن آرام فرماؤ ۔لوگ خاموش ہو جائیں ۔اسکے بعد تین قتل مقتولہ امیراں بی بی کھیتران کے ساتھ جنسی زیادتی وجسمانی زیادتی ودو نوجوانوں کے ساتھ جسمانی قید ومشقت اور اسکے بعد قتل کرکے لاش بوری میں بند کرکے کنویں پھینکنے والے اور باقی زندہ بچ جانے والے بوڑھی ماں گراں ناز کے ساتھ جسمانی زیادتی اور اسکی 17سالہ بیٹی کے ساتھ جنسی وجسمانی زیادتی و تشدد اور بچوں کے ساتھ جسمانی زیادتی تشدد آٹھ سال تک اپنےنجی جیل میں قید کرنے بعد صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے خلاف نہ کوئی عدالتی کاروائی ہوئی نہ سزا جزا سردار صاحب بضمانت جیل سے رہا ہوئے اور ایک دو بیل کے بعد باعزت بری ہو جائیں گے ۔تو ہم اپنے اداروں سے پوچھتے ہیں آپ کشمیر کی آزادی کے تو بات کرتے ہو۔ادھر آپکے اپنے ہی ملک میں سرداروں نے بلوچستان پہ قبضہ کیا ہوا ہے تمھاری ساری انتظامیہ انکے سامنے بے بس صوبائی حکومت ان سرداروں نوابوں کی تمھاری ساری انتظامیہ پولیس لیویز وکیل جج عدالت انتظامیہ سب ان کے گرفت میں ،سب ان سرداروں نوابوں کے انڈر میں اور اوپر سے آپ وفاق انکو سالانہ اربوں کھربوں روپے روپے دیتے ہو صوبائی بجٹ کی مد میں ۔تو ہم بلوچستان کی عوام آپ اپنے ملک پاکستان کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں ۔خدارا کشمیر سے پہلے ہمیں بلوچستانیوں کو سرداروں نوابوں کے نجی جیلوں عدالتوں اور انتظامیہ سے آزاد کراؤ ہم تمھارے پاکستانی ہیں۔ہم کشمیری نہیں ہم اس ملک کے باشندے ہیں ہمیں کشمیر سے پہلے بلوچستان کے سرداروں ونوابوں کے نجی حکومت سے آزاد کراؤ۔ اس ظالم صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کو بچانے والے سردار نواب ٹولہ قدوس کابینہ کو ہٹا کر گورنر راج نافذ کیا جائے۔قاتل وزیر عبدالرحمن کھیتران کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔تاکہ ریاست کے ہوتے ہوئے کوئی اور ریاست نہ بنائیں سرکاری عدالتوں و جج صاحبان کے ہوتے ہوئے۔کوئی عبدالرحمن کھیتران اپنا نجی جیل عدالت نہ بنائے۔ہم عرض کرتے ہیں فلفور صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کا ضمانت منسوخ کرکے دوبارہ گرفتار کرکے اسے فلفور سزا دیا جائے ۔اور جو باقی صوبائی انتظامیہ ہماری لیویز پولیس وکیل جج عدالتیں سب انکے زیردست افسران لگے ہوئے ہیں انکے خلاف فوری ایکشن لیا جائے کیونکہ بلوچستان میں بھی حکومت پاکستان کی رٹ قائم ہو۔عوام کو باقی صوبوں کے برابر حقوق دیے جائیں۔بلوچستان کو ان سرداروں ونوابوں کی گرفت سے آزاد کرایا جائے۔ اس ملک کے آئین وقانون کی بالادستی قائم کرایا جائے ۔
مظلوم عوام بلوچستان
Http://Youtube.Com/@Bolkohesuleman
Sunday, 12 March 2023
Apne Mustaqbil Apne Elaqe Apne Zat Se Barh Kr Kuch Ni Ye Politicans Kelly Ni Apne Ley Larrin
اگر خود سے جنگ لڑنی ہے تو سیاستدانوں کیلئے لڑیں اگر مستقبل کی کامیابی چاہتے ہو تو ان ظالم سیاستدانوں سے طبل جنگ کا آج سے آغاز کریں ؟؟؟
You Want That Calim In Video To Click On Link 👇👇
Http://Youtube.Com/@Bolkohesuleman
الیکشن کے للکار سیاستدانوں کا پکار عوام ان سے رہیں ہوشیار تباہ کن سیلاب میں بستیوں کے بستیاں اجڑگئے لیکن حکمرانوں کے جھولی میں بیٹھے نہ کوئ سردار نے عوام کی سنی نہ کسی خواجگان کے کانوں میں جوں رینگا مگر تونسہ شریف اور کوہ سلیمان کے غریب عوام کی خدمت میں پیش پیش جو خدمت خلق عام آدمی تحریک پاکستان نے کی وہ نہ کوئ ایم این اے کرسکا نہ کوئ ایم پی اے نہ کوئ وزیر کے سر میں کھجلی ہوئ نہ کوئ مشیر کو احساس ہوا جونہی الیکشن کا اعلان ہوا عوام کے غم خوار بننے کی کوشش میں پانچ سال کا پورا فوت ہونے والوں کے ورثاء اور عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے ایک لمبی لسٹ لیکر فاتحہ خوانی میں منہ لٹکانے پھرنے والے پیر میر پیش پیش ہیں تونسہ اور کوہ سلیمان والو ہر کسی کا چوائس تو اپنا ہے لیکن علاقے کو مد نظر رکھ کر اگے بڑھیں اپنے مستقبل اور نسلوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں 2022 کے درد اور تکلیف کو سامنے رکھ کر اپنا ووٹ دیں جنہیں تمہارا گھر نظر آیا جو بڑے بڑے محلات میں رہ کر بڑے بڑے گاڑیوں میں بیٹھ کر آپکا سودا کرتے ہیں خدا را ان سے دور رہیں اگر ہمارا ووٹ قیمتی ہے تو ہمارے جان و مال کی ان ظالموں کے سامنے قدر کیوں نہیں نہ ہم غریبوں کے بچوں کو کھلے آسمان کے نیچے اٹھارہ سالہ ایم این اے کو نظر آئے نہ وزیر اور نہ انکے چھچوروں کو ہم دکھائ دیئے لیکن اگر آپکے بچے آپکی تکلیف جس کو محسوس ہوا وہ Farhan Ullah Malik
اور Rashda Bhutta تھیں باقی سب نے ملکر ہمارے نام پر میرے نام پر آپکے نام پر نہ سرکاری خزانے کو بخشا نہ فلاحی اداروں کا دیا گیا سامان چھوڑا خود بھی عیش سے کھائے اپنے ٹھیکیداروں منشیوں اور چیلوں کو بھی خوب نوازتے رہے میں روتا رہا سننے کیلئے انکے کان بند تھے میں روتا رہا دیکھنے کیلئے وہ اندھے تھے میں روتا رہا بولنے کیلئے انکے زبانوں پر تالے تھے میرے بچے بغیر چھت کے لیٹے رہے انہیں نظر نہیں آیا میرے نام پر سیاست کرتے رہے میرے لیئے لائے گئے ہر وہ چیز ان لوگوں نے دبوچا جو لاہور کے لنڈے سے لیکر اللہ والوں نے خرید کر میرے لیئے دیئے ہر وہ چیز کو چھپایا جو اسلام آباد کے گلیوں میں گھوم کر میرے لیئے جمع کیئے ان لوگوں نے ان خیموں کے قیمت لگائے جو میرے لیئے چائینا ترکی سعودی عرب کے عوام اور حکمرانوں نے انسانی ہمدردی کیلئے میرے بچوں اور آپکے بچوں کیلئے بھیجا ان لوگوں نے نہ اس چیز کو دبایا جو کراچی کے چوراہوں پر خیمہ لگا کر میرے لیئے اور آپکے بچوں کیلئے چندہ جمع کی ان بے رحم لوگوں نے اتنا بھی ترس نہیں آیا کچھ تو غریبوں کو بھی دیں اتنا نہیں جو مخیئر حضرات سمیت انہیں جو فلاحی اداروں کی طرف میرے بچوں کے لیئے دیئے گئے آپکے بچوں کے سر چھپانے کیلئے دیئے گئے وہ سامان وڈیروں کے سکولوں ٹھیکیداروں کے مہمان خانوں میں رکھ کر اپنا سیاست چمکاتے رہے انکے بیٹھک کو سجاتے رہے لیکن ووٹ کے لیئے انہیں عوام کی ہمدردی چاہیئے اب سردار صاحبان بھی یہ نعرہ لیکر عوام میں آنے والے ہیں ہم آپکے سردار ہیں مجھے آپکا ووٹ چاہیئے یہ قومیت کا سوال ہے چھوٹے چھوٹے ٹھیکدار وڈیرے بن کر میرے اور آپکے در پر حاضر ہونگے میں آپکا سفید ریش ہوں یا آپکا ہمسایہ ووٹ مجھے چاہیئے پیر سائیں بھی اپنا چھڑی لیکر پہنچیں ووٹ لیکر جنت کا بشارت دیکر چلتے بنیں گے کیونکہ یہ تینوں چیزیں عوام کو پاگل بنانے کیلئے مضبوط ہتھیار تصور کیئے جاتے ہیں سردار کو ووٹ نہیں دی تو قومیت خطرے میں پیر کو ووٹ نہیں دی تو ایمان خطرے میں وڈیرے کو ووٹ نہیں دی تو فرقے سے لاتعلقی کا اظہار تصور ہوگا ہمسائے کو ووٹ نہیں دی شائید کل آپکیلئے ایک پہاڑ جیسا خطرہ کھڑا کریگا کوئ آپکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا شیطان بھی آپکے ایمان کا کھلم کھلا دشمن ہے جہاں موقع ملا آپکا دھوکہ دیکر ہی رہیگا مگر یہ بھی ایسے ہیں جب انکے پنجے آپکے گردن میں جسوقت پڑے کسی صورت یہ آپکو معاف نہیں کرینگے ڈر اور نکال کر چھوٹے چھوٹے کیڑوں کو سرے سے بچیں تاکہ بڑے ہوکر ایک مگرمچھ کی صورت اختیار نہ کرسکیں جہاں سے غلطی ہوئ اسکا سدباب کرنا آپ پر فرض ہے تاکہ بعد میں یہ پچھتاوا نہ رہے کہ میں نے دوسری بار بھی غلطی کی
Sunday, 22 January 2023
کیا کوہ سلیمان پنجاب بشمول پاکستان کا حصہ نہیں
سیلاب کی تباہ کاریاں کوہ سلیمان میں اب بھی وہی ہیں جہاں چھے مہینے قبل لاکھوں عوام کے گھر بار منہدم ہوئے جو اج بھی خیموں کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
کسی بھی پارٹی قیادت سے ورکرز کو کم تر سمجھنا پارٹی کے ناکامی کا سبب بن سکتا ہے تحریر حسن خان بزدار
پارٹی کا حقیقی سربراہ ورکرز ہیں جہاں پارٹی منشور کوئ نہیں پہنچا سکتا وہاں ورکر پہبچاتا ہے
جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہمارے بہت سے سیاست دان غلط راستے پر گامزن ہیں اس لیئے
ایک ورکر دس وڈیرے یا چوہدری یا جاگیردار پر بھاری پڑتا ہے
کیونکہ جو راستہ دس سے پچاس سال پہلے ہمارے علاقائ اور ملکی سیاستدانوں نے چنا یا اختیار کی یا اختیار کروایا گیا وہ اب آخری ہچکیاں لے رہا ہے سیاست دان ہمیشہ سے اپنے کامیابی کا سہرا ہر گوٹھ ہر بستی یا ہر محلے کے فرقے کے وڈیرے یا چوہدری کے سر پر سجاتے آرہے ہیں کہیں آرگنائز قاتلوں کی ضرورت بھی پڑتی ہے اس لیئے کچھ نہ ماننے والے لکھاریوں کو آخر کار ب ن د و ق کے گ و ل ی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس تن آور آواز کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش کرنے کی ناکام کوشش کیا جاتا ہے کیونکہ ایک اواز دبانے سے سینکڑوں آوازیں اور اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں کسی کا جان لینا اپنے یا ان پر دباو بڑھانا ہنرمندی یا طاقت نہیں ایک کمزور سوچ کو پروان چڑھانا ہے لیکن اب وہ وقت بھی گزر گیا ہے جب کسی قومی سفید پوش کا کسی بھی علاقائ رہنما سے ووٹ کیلئے ان کے ڈیرے پر آکر انسے دعا خیر ہو جاتی تو پورا قوم پورا بستی پورا محلہ آنکھیں بند خرکے اسکے پیچھے لگے رہتے تھے اب ہر فرد اپنی جگہ پے معزز بن چکا ہے کچھ نہ کچھ تعلیمی شعور بھی آچکا ہے ہر کوئ اپنے اپنے جنگ اور مستقبل کیلئے فکر مندی میں مدہوش ہے کسی بھی فرقے کے سفید پوش جس سیاسی رہنماوں کے ساتھ سیاسی الحاق کرے اسکی بات پر اسکے قوم کے 10% لوگ بھی بڑی مشکل سے اسکے ساتھ چلتے ہیں ہر کوئ اپنی مفاد اور مستقبل کیلئے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہے اس لیئے کہتا ہوں ورکرز وڈیروں چوہدریوں سے اگے نکل چکے ہیں فرض کریں ایک فرقے کا سربراہ آپکے ساتھ ملکر اپنے فرقے سے تمہیں 10سے50% ووٹ لیکر دیگا اور ایک ورکر جو منعظم ہے اسکی ایک پوسٹ ملک بھر سے آپکے ہر ممبر کو 100 ووٹ لیکر دینے کا اہلیت رکھتا ہے کیونکہ ورکرز پورے ملک اور دنیا بھر میں اپنے ملک اور قومی پارٹی کیلئے ہر ووٹر تک آپکے پیغام پہنچانے اور پارٹی کی ترجمانی میں لڑتا رہتا ہے صرف اسکے سر پر بڑا پگڑی نہیں نیچے گاڑی نہیں اور سوٹ بوٹ نہیں اس لیئے اسے ترجیع نہیں دیا جارہا اور اسے ترجیع نہ دینے کا خمیازہ بھی پارٹیز یا لوکل سیاسی رہنما کو اسوقت بھگتا پڑتا ہے جب وہ آپکا ساتھ چھوڑ کر سامنے آکر اپنے حقوق کیلئے کھڑا ہوکر سوال کرے کہ میں نے اپنے زندگی میں آپکیلئے اور آپکے پارٹی کیلئے جنگ لڑا آپ نے میرے لیئے یا مستقبل کیلئے اور میرے علاقے بستی محلے کیلئے کیا بتائیں مجھے بتائیں اور دکھائیں اس لیئے میں اب آپکے ساتھ نہیں چل سکتا آپ غلط روش لیکر الٹے راستے پر ہیں آپ دوسروں سے میرے حق کا سودا کرتے آرہے ہیں میرا حق کسی اور کو کیوں دیا جارہا اور مجھے کیوں نہیں ملتا میں کسی بھی غلط فرد یا افراد یا پارٹی کو سپورٹ نہیں کرتا تو تمہیں سمجھ آتی ہے کہ اب عرب سے عجم تک تماری اور تمہارے پارٹی کی کار کردگی پر سوالیہ نشان بناکر لوگوں تک پہنچائے تو لوگ بھی آپکو اور آپکے پارٹی کو ٹیڑھی نظروں سے دیکھنا شروع کردینگے اگر ایک فرقے کا سربراہ یا چوہدری آپسے روٹھ جائے تو وہ صرف اپنے ہی فرقے کے 50 ووٹ آپ تک پہنچنے نہیں دیتا اور پورے ملک میں آپکا حشر نشر تو نہیں کر سکتا نہ پورے ملک میں کسی بھی رہنما یا پارٹی کے کارکردگی پر سوالیہ نشان بناکر پیش نہیں کر سکتا مگر جو دس سال پہلے قومی معززین کہہ کر پکارا لکھا اور بولا کرتے تھے آج انہی معززین کو اس جدید دور میں لوگ (پگڑ_پوش) لکھ بول اور پکار رہے ہیں معزرت کے ساتھ میں کسی کی گستاخی یا تضحیک نہیں کررہا ہوں صرف حقیقت بتا رہا ہوں اب وہ دور نہیں رہا جس میں آپ جاگیرادارانہ سوچ لیکر پیدا ہوئے تھے اور عوام کو صرف اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا کرتے رہے پورے علاقے کو داو پر لگا کر اندھیرے میں ٹھونستے رہے اسوقت جب کسی بھی سیاست دان کا کسی وڈیرے کے مہمان خانے میں آنے کی آمد ہوتی تو پورا قوم پانچ گھنٹے پہلے اس وڈہرے کے ڈیرے میں لوگ پہنچ جاتے سیاست دان کے آنے پر اسکا پرجوش انداز میں استقبال کیا جاتا اور آنے کی خوشی میں دھڑا دھڑ ہوائ فائرنگ ہوتی جب وڈیرہ صاحب اور سیاست دان بیٹھ کر اپنے حتمی فیصلے پر پہنچ جاتے پورے قوم محلے اور بستی کا سودا مکمل ہو جاتا تو آخر میں دعائے خیر کہہ کر سیاستدان کو الوداع کہتا لیکن عوام کو یہ بھی پتہ تک نہیں تھا کہ کس بات پر #ملک_صاحب نے ہمارے ووٹ اسے دیئے ہمارے لیئے کیا مطالبہ کیا گیا کسی کو نہیں معلوم صرف آخر میں یہ کہا جاتا میں اپنے پورے برادری محلے یا بستی کے ساتھ آپکے ساتھ شمولیت اختیار کرتا ہوں ہمارا ووٹ آپکا ہے ہم آپکے ساتھ دینگے لیکن وہاں موجود کسی میں یہ ہمت ہی نہیں تھا کہ زرا بھی جاکر چوہدری یا #وڈیرہ_صاحب سے پوچھ تو لیں ہمارے ووٹ کے بدلے میں ہمیں کیا ملیگا مجال ہے کسی میں یہ ہمت ہوتی بس صرف دعاوں سے جھولیاں بھر بھر کر واپس خالی منہ لیکر شام کو گھر واپس چلے جاتے لیکن کسی اور کے پوچھنے پر بھی پورے محلے یا بستی قوم کے کسی بھی فرد کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا ہم کس خوشی میں انہیں ووٹ دیتے ہیں ہمیں کیا ملیگا صرف یہ کہہ سکتے تھے پتہ نہیں وڈیرہ صاحب نے سردار صاحب کے ساتھ یا خواجہ صاحب کے ساتھ دعا خیر کی اب ہمارا ووٹ بھی اسکا ہے اب یہ نہیں چلیگا کام کام اور کام سیاستدانوں کو چاہیئے معززین اپنی جگہ قابل احترام ہیں لیکن ورکرز پورے پارٹی کیلئے وہ حیثیت رکھتے ہیں جیسا کہ کسی پارٹی کے سربراہ اور پارٹی سربراہ کے بیانیئے کو لیکر ملک کے گلی کوچوں میں آپکا پیغام یہی ورکرز پہنچاتے پھر رہے ہیں جہاں نہ پارٹی سربراہ جاسکتا ہے نہ پارٹی کا کوئ ممبر پہنچ سکا وہاں پارٹی منشور پہنچانے والے صرف پارٹی ورکرز ہوتے ہیں جو پارٹی کا پیغام لیکر ہر گھر کے ہر فرد کو الگ الگ پہنچانے کا فن جانتے ہیں اور وہ صرف یہی ورکر ہیں اگر 80 کلو بھاری بھرکم جسم والے ترو تازہ انسان کے منہ میں خدا نخواستہ دو چٹانگ زبان نہ ہو یا بولتا نہیں یا کچھ اور ہو تو جسم کے کسی بھی حصے میں کوئ تکلیف ہو تو وہ صرف روتا تو ہے لیکن بتا نہیں سکتا کیونکہ 80 کلو جسم صرف دو چٹانگ زبان کا محتاج ہے جسے اللہ تعالی نے بہت حکمت سے نوازا اسکا مقصد یہی ہوا کہ کسی بھی پارٹی کے پورا وجود ہی مکمل ہو اسکے ورکرز نہیں یا انہیں ورکرز کی قدر نہیں تو پارٹی کا پورا وجود بے جان ہے اور اسکا زبان نہیں تو صحیح اور غلط کا ازالہ کیسے کیا جاسکتا ہے اور پارٹی کی مجبوریوں کو کون عوام تک پہنچا سکتا ہے جسے عوام کو معلوم پڑے یہ پارٹی اس مجبوری کی وجہ سے یہی کرنے پر مجبور ہے
Featured post
کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش
http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201
-
لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگ...
-
یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بش...
-
قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو ...













