Tuesday, 5 December 2023

ہفت دسمبر کوہ سلیمان کے شہداء کے نام



کوہ سلیمان میں مزاحمت کی ایک طویل تاریخ ھے جو کے لوگوں نے اپنے حقوق اور سر زمین کے دفاع کے لیے بہادری سے رقم کیے۔  یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ ھفت دسمبر موومنٹ کوہ سلیمان کی تاریخ میں ایک ایسی سیاسی قوت کے طور پر ابھری جس نے نہ صرف بلوچ قومی سیاست بلکہ کوہ سلیمان بالخصوص ڈیرہ جات اور اس سے ملحقہ قبائلی پٹی کو وسیع پیمانے پر اثرانداز کیا۔   7 دسمبر 1967ء کو سرکار کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ نے ڈیرہ جات میں  نہ صرف بلوچ سیاست کو توانا کیا بلکہ اپنے حقوق کی دفاع اور قومی وحدانیت کو برقرار رکھنے کے لیے اس تحریک نے کئی مراحل طے کیے۔ 
ھفت دسمبر موومنٹ کے آغاز اور اس مزاحمتی تحریک سے آگاہی کے لیے لازمی ھے کہ اس میں  تاریخی اور نفسیاتی پس منظر کا مختصراً جائزہ لیا جائے۔   بلوچ مزاحمتی تاریخ میں حملہ آوروں اور قابض اقوام کے خلاف مزاحمت میں جو نفسیاتی پہلو غالب رہا وہ یہ کہ بلوچ بحیثیت قوم اپنی آزادی اور حق ملکیت سے دستبردار ھونا میار سمجھتے ہیں چاہے اسکی کتنی ھی بھاری قیمت ادا نہ کرنا پڑے۔ بلوچ ثقافتی اقدار اس حق ملکیت کے تصور کو مزید حساس کر دیتی ھیں ۔ 1967 جنگ میں اپنی سرزمین و ملکیت سے محرومی کے خوف نے یہاں کے باسیوں کو سرکار کے خلاف اجتماعی مزاحمت پر مجبور کیا۔ 
تاریخی پس منظر کو دیکھا جائے تو کوہ سلیمان میں سکھ اور انگریز سامراج کے خلاف کئ مزاحمتی جنگیں لڑی گئیں۔  بلوچ وحدانیت کو تقسیم کرنے کے لیے انگریزوں نے "تقسیم کرو اور  حکومت کرو" پالیسی کے تحت مشرقی بلوچ قبائل کو فاٹا کی طرح براہ راست وائسرائے ھند کے ماتحت کر دیا۔   برطانیہ کے انخلا سے ایک سال قبل 26 نومبر 1946ء کو  نواب جمال خان لغاری ، نواب اکبر بگٹی ، دودا مری و دیگر تمندار کی طرف سے انگریز سرکار کو یاداشت پیش کیا گیا کہ ڈیرہ غازیخان ، راجن پور ، اور مری بگٹی علاقوں کو ریاست قلات میں شامل کیا جائے ۔   یکم مارچ 1949ء کو پنجاب کے گورنر  سر فرانسس مودی کی سربراہی میں ایک وفد نے ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا اور بلوچی جرگہ ممبران سے ملاقات کے دوران دوبارہ یہ سوال اٹھایا کہ آپ پنجاب میں شامل ھونا چاہتے ہیں یا بلوچستان میں،  تو اس وقت  کے جرگہ ممبران ، و دیگر معززین نے بلوچستان میں شمولیت کا اعلان کیا۔  پنجابی بیوروکریسی سے تنگ یہاں کے تمام بلوچ قبائل لغاری، مزاری، گورشانی، بزدار، قیصرانی لُنڈ، کھوسہ و دیگر معتبرین نے متفق ہو کر بلوچستان میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا اور یہ بھی مطالبہ کیا کہ اگر  بلوچستان میں انھیں کسی وجہ سے شامل نہیں کیا جارھا تو انھیں فاٹا میں شامل کر دیا کیا جائے مگر وہ پنجاب کے ساتھ شمولیت کے لیے کسی صورت تیار نہیں کیونکہ انگریز نے  بھی اتنا بدتر سلوک یہاں کے بلوچ قبائل سے روا نہیں رکھا جتنا  کہ پنجاب کی بیوروکریسی نے۔  مگر جنوری 1950ء میں لوگوں کی منشا کے بغیر جبری طور پر ان علاقوں کو پنجاب میں شامل کردیا گیا۔  اس جبری الحاق اور پنجاب کے توسیع پسندانہ و متعصبانہ رویوں سے یہاں کے بلوچ قبائل نالاں تھے۔ 
1967ء میں ایوبی آمریت کے دوران پنجاب حکومت نے محکمہ ریونیو کے زریعے ان علاقوں میں زمینوں کے بندوبست و اراضی کا فیصلہ کیا اور مقامی سطح پر لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ سرکار ریونیو ایکٹ کے تحت زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ھے۔ معدنی وسائل سے مالامال ان علاقوں میں سرکار کے لیے بندوبست اور ریکارڈ اس لیے بھی لازمی تھا تاکہ بلوچ قبائل میں مشترکہ اور غیر آباد زمینوں کو سرکاری قرار دے کر لوٹ کھسوٹ کی جائے۔ حکومت کے اس فیصلے سے یہاں کے بلوچ قبائل میں بے چینی پیدا ھوئی اور بزدار قبیلہ نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا اور معززین نے  متفق ھو کر فیصلہ کیا کہ وہ کسی صورت سرکاری سطح پر زمینوں کی پیمائش اور بندوبست نہیں ھونے دیں گے۔ 
اس صورتحال کو بھانپتے ھوئے پولیٹکل اسسٹنٹ ڈیرہ غازی کوہ سلیمان( بھارتی) آئے اور سردار دوست محمد بزدار اور دیگر معززین سے ملاقات کے لیے جرگہ منعقد کیا گیا۔ اس جرگہ میں تمن بزدار سے دور دراز سے ائے کئی معززین اور نوجوانوں نے خود شرکت کی کیونکہ وہ اس مسلئے کو لے کر کافی حساس ہو چکے تھے اور اس فیصلے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرنا چاھتے تھے۔  یہاں تمام علاقہ معززین نے پولیٹکل اسسٹنٹ اور دیگر سرکاری افسران کو واضح کیا کہ یہ  زمینیں ھماری ہیں اور ھم سرکاری بندوبست کے خلاف ھیں۔  اگرچہ اس وقت کوہ سلیمان میں شرح خواندگی نہ ھونے کے برابر تھی مگر اس جرگے میں دو تعلیم یافتہ نوجوان بھی شامل تھے۔ دوران جرگہ سرکاری آفیسر اور لوگوں میں شدید تکرار ہوا اور پولیٹکل اسسٹنٹ طیش میں آکر بلند آواز میں لوگوں سے مخاطب ھو کر کہتے ھیں کہ " I am the King of Koh-e-suleman" اور اس کے جواب میں ایک نوجوان پی-اے کو للکارتے ھوئے کہتا ھے۔۔
" We are the lions of koh-e - Suleman"
(جاری ھے)

Wednesday, 29 November 2023

ملک شام اور ہمارے آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کے حدیث کے مطابق عربوں میں زوال کی بشارتیں #Shame #Arub #Hadespak #Farmanenabvi


  مُلکِ شام کے حالات
‏2:-  امام مہدی كا ظہور 
‏اور 
‏3:-  نبی صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم كی پیشن گوئیاں .

‏اللّٰه کے رَسُول  صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے قیامت کے نشانات بتلاتے ہوئے فرمایا کہ :
‏" اُونٹوں اور بَکریوں کے چَروَاہے جو بَرہَنَہ بَدَن اور ننگے پاؤں ہونگے وه ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے لمبی لمبی عمارتیں بنوائیں گے اور فخر کریں گے ... "
‏(صحیح مسلم 

‏ریاض شہر میں عمارتوں کا یہ مقابلہ آج اپنے عُروج پر پہنچ گیا،
‏ دبئی میں ’’برج خلیفہ‘‘ کی عمارت دنیا کی سب سے اُونچی عمارت بن گئی تو ساتھ ہی شہزاده  ولید بن طلال نے جَدَّه میں اس سے بھی بڑی عمارت بنانے کا اعلان کر دیا ہے
‏ جو دھڑا دھڑ بنتی چلی جا رہی ہے، 
‏عرب کی عمارتیں سارے جہان سے اونچی ہو چکی ہیں 

‏عرض کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ
‏میرے پیارے رسول حضرت مُحمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے جو فرمایا وه پُورا ہو چکا ہے
‏اور پیشگوئی پُوری ہو کر اپنے نُکتۂ کمال کو  تقریبا پہنچ چکی ہے .

‏عرب کا سب سے زیاده تیل خریداری کرنے والے امریکہ نے
‏ صَدَّام کو ختم کر کے تیل کی دولت سے سَیراب مُلک عِرَاق کے کنوؤں پر قبضہ جما لیا ہے
‏اور لاکھوں بیرل
‏ مُفت وصول کر رہا ہے
‏تو پھر تیل کی گِرتی مانگ نے تیل کی قیمتوں کو نچلی سطح پر پہنچا دیا
‏جس سے عرب ممالک کا سُنہرا دَور خاتمے کے قریب ہے 

‏سوال پیدا ہوتا ہے اس زوال کے بعد کیا ہے ...؟

‏اللّٰه کے رَسُول صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم کی ایک اور حدیث ہے کہ :

‏" قیامت سے پہلے سَرزَمینِ عرب دوباره سَرسَبز ہو جائیگی"
‏(صحیح مسلم)

‏سعودی عرب اور امارات میں بارشیں شروع ہو چکی ہیں،
‏مَکَّہ اور جَدَّه میں سَیلاب آ چکے ہیں۔ 

‏عرب سرزمین جسے پہلے ہی جدید ٹیکنالوجی کو کام میں لا کر سرسبز بنانے کی کوشش کی گئی ہے 
‏وه قدرتی موسم کی وجہ سے بھی سرسبز بننے جا رہی ہے۔
‏سعودی عرب گندم میں پہلے ہی خودکفیل ہو چکا ہے،
‏اب وہاں خشک پہاڑوں پر بارشوں کی وجہ سے سبزه اُگنا شروع ہو چکا ہے،
‏ پہاڑ سرسبز ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
‏بارشوں کی وجہ سے آخرکار حکومت کو ڈیم بنانا ہوں گے
‏جس سے پانی کی نہریں نکلیں گی،
‏ ہریالی ہو گی،
‏ سبزه مزید ہو گا،
‏ فصلیں لہلہائیں گی،
‏ یُوں یہ پیشگوئی بھی اپنے تکمیلی مَرَاحِل سے گزرنے جا رہی ہے
‏ اور جو میرے حضور صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا اسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے جا رہے ہیں ...!

‏اگر احادیث پر غور کریں تو مَشرقِ وُسطیٰ کے زوال کا آغاز مُلکِ شام سے شروع ہوا لیکن شاید عرب حُکمران یا تو یہود و نصاریٰ کی چال سمجھ نہ سکے
‏یا بے رخی اختیار کی لیکن وجہ جو بھی ہو یا نہ ہو،
‏سرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم کی بتائی ہوئی علامات کو تو ظاہر ہونا ہی تھا
‏حدیث کے مطابق ...!

‏چُنانچہ
‏حدیث پاک میں ارشاد ہے 
‏ﺭﺳﻮﻝ اللّٰه صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
‏" ﺟﺐ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﻭ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﯿﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ "
‏(ﺳﻨﻦ ﺍﻟﺘﺮﻣﺬﯼ 2192: ﺑﺎﺏ ﻣﺎﺟﺎﺀ ﻓﯽ ﺍﻟﺸﺎﻡ، ﺣﺪﯾﺚ ﺻﺤﯿﺢ)

‏میرے محترم و مکرم قارئین کرام یاد ﺭﮐﮭﯿﮟ ...! 
‏ﺍَﺣﺎﺩﯾﺚِ ﻣُﺒَﺎﺭﮐﮧ ﮐﯽ ﺭُﻭ ﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﻭ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺍُﻣَّﺖِ ﻣُﺴﻠﻤﮧ ﮐﺎ ﻣُﺴﺘﻘﺒﻞ ﻭَﺍﺑﺴﺘﮧ ﮨﮯ،
‏ﺍﮔﺮ مُلکِ شام ایسے ہی ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮتے رہا ﺗﻮ
‏ﭘُﻮﺭﯼ ﺍُﻣَّﺖِ ﻣُﺴﻠﻤﮧ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ،
‏ویسے تو 90 فیصد برباد ہو چکا .........!

‏اب جبکہ پانچ سالہ خُونریزی میں 8 لاکھ  بےگناه بَچّے، بُوڑھے، عَورتیں شہید اور لاتعداد دُوسرے مُلک کی سرحدوں پر زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں اور اتنے ہی تعداد میں زخمی یا معذور ہو چکے،
‏لہٰذا شام مُکمَّل تباہی کے بعد اب نزع کی حالت میں ہے ...!

‏اس حدیث کے حساب سے عرب ممالک کے سُنہرے دَور کے خاتمہ کی اہم وجہ مُلکِ شام کے مَوجُودَہ حالات ہيں،
‏گویا نبی صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم  کی ایک اور  پیشگوئی کی عَلامَت ظاہر ہو رہی ہے یا ہوچکی ..

‏یاد رکھیں .

‏کہ مُلکِ شام کے مُتعلّق اِسرائیل، رُوس و امریکہ جو بھی جھوٹے بہانے بنائے،
‏لیکن ان سب کا اَصل ہَدَف جَزیرَة ُالعَرَب ہے
‏ کیونکہ
‏کُفَّار کا عقیدہ ہے کہ
‏ دَجَّال مَسِیحَا ہے
‏اس وجہ سے یہ لوگ دَجَّال کے اِنتظامات مُکمَّل کر رہے ہیں 
‏جس کے لیے عرب ممالک میں عَدمِ اِستحکام پیدا کرنا ہے
‏کیونکہ
‏مُلکِ شام پر یہود و نصاریٰ قبضہ کرنا چاہتے ہیں
‏ اور یہ ہو کر رہیگا 
‏حضرت مہدی عَلیهِ السَّلام کے ظہور سے قبل .....!

‏چُنانچہ کتابِ فِتَن میں ہے کہ :
‏" آخری زمانے میں جب مُسلمان ہر طرف سے مَغلوب ہوجائیں گے،
‏ مُسلسل جَنگیں ہوں گی،

‏شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہو جائے گی،
‏عُلماء کرام سے سُنا ہےکہ
‏ سَعُودیہ، مِصر، ترکی بهى باقى نہ رہیگا
‏ہر جگہ کُفَّار کے مظالم بڑھ جائیں گے،
‏اُمَّت آپسی خَانہ جَنگی کا شِکار رہےگی.
‏عرب 
‏(خلیجی ممالک سعودی عرب وغیره) 
‏میں بھی مسلمانوں کی باقاعدہ پُرشوکت حکومت نہیں رہےگی
‏،
‏ خَیبَر/ الخبر (سعودی عرب کا چھوٹا شہر مَدینةُ المُنَوَّره سے 170 ک م كے فاصلے پر ہے) کے قریب تک یہود و نصاریٰ پہنچ جائیں گے، 
‏اور اس جگہ تک ان کی حکومت قائم ہوجائے گی، 
‏بچے کھچے مسلمان مَدِینة ُالمُنَوَّرَه پہنچ جائیں گے، 
‏اس وقت حضرت امام مہدی عَليهِ السَّلام مدینہ منوره میں ہوں گے "

‏دُوسری طرف دریائے طبریہ بھی تیزی سے خُشک ہو رہا ہے جو کہ مہدی عَلیہِ السَّلام کے ظہور سے قبل خُشک ہوگا 

‏اسلئے جب مَشرقِ وُسطیٰ کے حالات کو خُصُوصاً مُسَلمانوں اور ساری دُنیا کے حالات کو دیکھتے ہیں 
‏تو صاف نظر آتا ہے کہ دُنیا ہولناکیوں کی جانب بڑھ رہی ہے،
‏ فرانس میں حَملوں کے بعد فرانس اور پوپ بھی عالمی جنگ کی بات کر چکے ہیں۔
‏سوال پیدا ہوتا ہے كه
‏ اس عالمی جنگ کا مرکز کون سا خطہ ہو گا ...؟ 
‏وَاضِح نظر آ رہا ہے، مَشرقِ وُسطیٰ ہی مُتَوَقّع ہے .
‏یہاں بھی ہند و پاک کی رَنجِشیں اور کشمکش کے بڑھتے حالات سے بھی لگتا ہے
‏ کہ
‏غَزوه ہند کی طرف رُخ کر رہے ہیں
‏ 
‏کیونکہ حضرت ابو ہریره رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنه سے روایت ہے کہ رَسُولُ اللّٰه
‏ صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا :
‏" میری قوم کا ایک لشکر وَقتِ آخِر کے نزدیک ہند پر چَڑھائی کرے گا
‏اور اللّٰه اس لشکر کو فتح نصیب کرے گا،
‏یہاں تک کہ وه ہند کے حُکمرانوں کو بیڑیوں میں جَکڑ کر لائیں گے۔
‏اللّٰه اس لشکر کے تمام گناہ معاف کر دے گا۔
‏پھر وه لشکر وَاپس رُخ کرے گا
‏اور شام میں موجود عیسیٰ ابنِ مَریم عَليهِ السَّلام کے ساتھ جا کر مِل جائے گا "

‏حضرت ابوہریره رَضِىَ اللّٰه تعالىٰ عَنه نے فرمایا :
‏" اگر میں اُس وقت تک زندہ رہا تو میں اپنا سب کچھ بیچ کر بھی اُس لشکر کا حِصَّہ بَنُوں گا،
‏ اور پھر جب اللّٰه ہمیں فتح نصیب کرے گا تو میں ابوہریره (جہنم کی آگ سے) آزاد کہلاؤں گا۔ پھر جب میں شام پہنچوں گا
‏تو عیسیٰ ابنِ مَریم عَليهِ السَّلام کو تلاش کر کے انہیں بتاؤں گا کہ
‏ میں مُحَمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم كا ساتھی رہا ہوں "

‏رسول پاک صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے تَبَسُّم فرمایا اور کہا : 
‏"بہت مشکل،
‏بہت مشکل"
‏(کتاب الفتن۔ صفحہ ۴۰۹)

‏(واللہ تعالٰی اعلم)

‏آنے والے اَدوَار بڑے پُرفِتن نظر آتے ہیں اور اس کے مُتعلّق بھی سَرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا تھا 
‏کہ میری اُمَّت پر ایک دَور ایسے آئیگا
‏جس میں فِتنے ایسے تیزی سے آئیں گے 
‏جیسے تسبیح ٹوٹ جانے سے تسبیح کے دانے تیزی سے زمین کی طرف آتے ہیں،
‏ لہٰذا اپنی نَسلوں کی ابھی سے تربیت اور ایمان کی فِکر فرمایئے،

‏موبائل كے بےجا استعمال سے،
‏ دیر رات تک جاگنے، فیشن اور یہودی انداز اپنانے سے،
‏نمازوں کو تَرک کرنے سے روكئے ... 
‏ورنہ آزمائش کا مقابلہ  دُشوار ہو گا .

‏ چلتے، چلتے ایک آخری بات عرض کرتی چلوں کہ
‏ اگر کوئی ایسی نایاب ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگے،
‏ 
‏تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے،
‏یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا
‏لیکن
‏ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کرده تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہوں۔
‏میرے اور آپکے لیے صدقہ جاریہ بن جائے
Urdu

Saturday, 15 April 2023

Lalchi Qome Ke Zawal & Zalim Hokmranoon Ki Mojin



پاکستان میں اسوقت صرف کرسی بچانے چھیننے کی جنگ لڑی جارہی ہے نہ ملک پاکستان کی کوئ پرواہ ہے نہ 24 کروڑ عوام سے کسی کو کوئ غرض پی ٹی آئ بمقابلہ پی ڈی ایم عدلیہ بمقابلہ الیکشن کمیشن اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ پی ٹی آئ بیوروکریسی بمقابلہ غریب عوام سبھی کے سب غریب قوم کے خون چوسنے اور غریبوں پر دندناتے ظلم بالجبر کرکے اپنے تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں اسوقت پاکستان میں قانون 100% ختم ہوچکا غریب قوم فاقہ کشیاں کرنے پر مجبور ہیں اسٹیبلشمنٹ بیوروکریسی پی ڈی ایم پی ٹی آئ عدلیہ الیکشن کمیشن سب کے سب ملک پاکستان اور 24 کروڑ عوام پر بوجھ بنے ہوئے ہیں کیونکہ ظالم ترین لوگ خود مفت کے کھاتے ہیں عوام کو 12000 ہزار میں گندم کی بوری بیچ دیتے ہیں مفت چائے پیتے ہیں عوام کیلئے فی کلو چائے 2000 کے اور چینی 6500 کے بوری بیچ دیتے ہیں خود پٹرول مفت میں ڈلوانے ہیں عوام کیلئے 300کو لیٹر بیچا جاتا ہے خود ڈیزل مفت میں ڈلوانے والے کو کیا معلوم کہ عوام 310 میں لیٹر خریدتے وقت کتنے اذیت میں ہوگا خود مفت میں گیس سے چولہا جلانے والوں کو کیا پتہ عوام کو 250 پر کلو گیس بیچ کر اسکے دل پر کیا گزرتی ہوگی خود ایک مہینے کے 3لاکھ سے 50لاکھ لینے والوں کو کیا پتہ کہ غریب عوام 15سے 25 ہزار پر منتھ کمانے والے کس طرح گھر چلانے پر مجبور ہیں خود کیلئے فری میڈیکل لینے والوں کیا پتہ کہ غریب عوام 50روپے ایک پتہ پہناڈول خریدتے وقت کتنے پریشانی کے عالم میں ہوگا خود کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے سے برطانیہ یا امریکہ میں علاج کیلئے جانے والوں کو کیا پتہ کہ پاکستانی غریب عوام کے پیارے سسک سسک کر گھر میں کتنے سالوں سے پڑے ہیں انکی علاج کیلئے ورثاء کے جیب میں 5000 تک نہیں کہیں اسے ہسپتال میں لیجا کر انکی ٹریٹمنٹ کروائیں خود کے بچے امریکہ اور برطانیہ میں زیرے تعلیم یا زیر علاج ہونے والوں کو کیا پتہ کہ غریب عوام کے بچوں کیلئے پرائمری اسکول کے ماسٹرز رجسٹر حاضری بھی سکول میں پڑے رہنے نہیں دیتے اسے گھر لیجا کر اپنی حاضریاں لگوا کر عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لے جاتے ہیں ہمارے پاکستان میں سکہ صرف ظلم کا چلتا ہے مظلوم کو ہمیشہ سے ہر مکاتب فکر کی طرف سے ہر ادارے کی طرف سے ہر سیاسی و سماجی شخصیات و پارٹی کی طرف روندا گیا ہے ہم یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ظالم راشی قاتل کرپٹ کے خلاف بولنے لکھنے حتی کہ اسکے خلاف بائیکاٹ تک نہیں کرسکتے مزید اسے طاقت بخشنے کیلئے اس گینگ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر اسے مضبوط کرنے اور اپنے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیلنے کیلئے انکے ساتھ دیتے ہیں پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر کمپیئن صرف ان سیاسی مگرمچھوں ان ظالم انتظامیہ انصاف سے عاری عدلیہ تحفظ سے پرے اسٹیبلشمنٹ قاتل و جابر بیوروکریسی کی تشہیر کو ہم بہت فخر سے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جیسا کہ ان لوگوں نے پاکستان کو دنیا کے مضبوط ترین ملک غریب عوام کو امیر ترین قوم بناکر انصاف دیکر چھوڑا ہے لیکن 98% جرنلسٹ بھوکے پیاسے ننگے عوام لرزتی ہچکولے کھاتی اس مملکت خداد کو اس نہج پر پہنچانے والے ظالموں کے خلاف اس لیئے بولنے سے قاصر ہیں کہیں ہم پر سیاست دان حکمران اسٹیبلشمنٹ یا بیوروکریسی ذخیرہ اندوز ناراض ہوکر ہمارے ملنے والے بیک اپ کو روک نہ دیں غریب لوگوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اگر صحافی برادری لکھنا بولنا شروع کردے تو ان پر عوام کی خالی دعائیں ہونگے اللہ تعالی راضی ہوگا دنیا پر پتہ نہیں آخرت ضرور بنے گا پر ہمیں بھی صرف پیٹ بھر کر ہی یہاں دنیا پر موجیں کرنی ہے آخرت سے ہمیں کیا پرواہ یقیننا  اگر پاکستان میں صرف جرنلسٹ پینلز صحیح راستے پر نکلیں تو کسی مائ کے لال میں یہ ہمت ہی پیدا نہیں ہوگا کہ میں ملک پاکستان اور اسمیں بسے عوام پر اگر ظلم کروں تو وہ بےنقاب کرینگے یہ کام بھی وہ لوگ کرنے کے مجاز ہونگے جنہیں لالچ کی عینک پہنی نہیں ہوگی اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق اپنا کام سرانجام دے رہے ہوں وہی مجاھد جرنلسٹ اپنے قلم اور مائیک و کیمرے کی مدد سے ظالموں کے ظلم کو دنیا تک پہنچاتے رہیں تو آٹومیٹک پاکستان میں 50سے 80% ظلم کو روک جانے پر مجبور ہونگے لیکن اس چیز کیلئے بھی شرف ایمانی ضرورت ہوگا سیاستدانوں جج جرنیلوں بیوروکریسی کے کچن کیلئے ویلاگ یا رپورٹنگ تو آئے روز کیئے جاتے ہیں پاکستان کی بقاء غریب عوام کی مستقبل کیلئے نہ کسی کا قلم چلتا ہے نہ کسی کی زبان ہلتی ہے نہ کسی کا کیمرہ اوپن ہوتا ہے کیونکہ ان سب چیزوں کا زمیدار 80% بھی ہم خود غریب عوام بھی ہیں اگر ہم جان کر یہ حکمران جج جرنیل سیاستدان بیوروکریسی ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں تو ہم کیوں انکی خوشنودی کرتے ہیں کیوں انہیں ووٹ ڈالتے ہیں کیوں انکے خلاف بولتے نہیں جب تک ہم پاکستان کے عوام میں یہ سیلفی رواج یہ لالچی رسم یہ خوشنودی کا بازار بند نہیں کرتے تو ان لوگوں کا ہم پر ظلم کرنے سے کچھ نہیں جاتا اس لیئے انہیں معلوم ہے پاکستان کے بیوقوف عوام ہمارے اصل بنیادی واردات کو بھانپ ہی نہیں رہے تو وہ بھی آئے روز اپنے مقاصد میں کامیابیاں سمیٹتے ہی رہینگے اور غریب لوگ خودکشیوں پر مجبور ہوتے رہینگے ملک پاکستان کا دنیا بھر کوئ مقام ہی نہیں بنیگا کشکول حکمران کے القاب سے اسی طرح ہمیں نوازتے رہیں گے ہمارے حکمران اور اعلی عہدوں پر فائز لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد دنیا میں جہاں دل نے چاہا جزیرے خریدتے رہینگے ہمیں کبھی آٹے کے لائن میں لگاکر مارتے ہیں کبھی کھاد کے لائن لگ کر مرنا ہے کبھی پٹرولیم کیلئے لائنوں میں دھکے کھانے پڑتے ہیں ہم عوام اپنے بچوں کے پیٹ پالنے کیلئے کبھی گردہ پیچتے ہیں کبھی بچوں کو ختم کرکے خود خودکشی کرجاتے ہیں تو ہمارا ہی حافظ نہیں اور کیا ہوگا

Monday, 10 April 2023

جھوٹی تسلی دینے سے بہتر ہے سچے دل سے ظلم اور ظالموں کا مقابلہ کرو قلم کار حسن خان بزدار



کیا ہم کلمہ طیبہ پڑھ کر خوش ہیں کہ ہم مومن مسلمان ہیں کیا ہم بھوکا اور پیاسا رہ کر خوش ہیں کہ ہم نے روزہ رکھا دیندار ہیں کیا ہم نے دو منٹ میں 20 سجدے کیئے ہم خوش ہیں ہم نمازی ہیں نہیں ایسا کوئ بھی نہ مومن ہوسکتا ہے نہ پکا مسلمان کیا کی ہے ہم نے اسلام کی خاطر کیا کبھی آپنے کسی مظلوم کا ساتھ دی کبھی آپنے سچائ کو تھاما کیا کبھی دین محمدی کیلئے آپنے کوئ خاطر خواہ کردار ادا کی افسوس کہ ہم نے کچھ بھی نہیں کی جب اس زندگی سے ہجرت کرجائینگے تو روز محشر ہم اپنے آپکو بخشوانے کیلئے خالق کائنات کو کیا کہیں گے کہ ہم بھی مسلمان ہیں اے مالک ہمیں بخش دے نماز پڑھ کر نکلے تو جھوٹ اور دھوکہ دہی کو شروع کیا روزہ رکھا تو زبان پر جھوٹ دل میں منافقت کلمہ طیبہ پڑھ کر کسی کے دو فٹ زمین کو اپنایا ہرگز یہ اسلام میں نہیں کہ آپکے دل میں منافقت ہو آپ دوسو دانے کا تسبیح لیکر خود کو صوفی ثابت کرنے کی کوشش کریں عمرہ ادا کرکے دوسروں کا حق ماریں کلمہ طیبہ پڑھ کر کسی کی زمین پر قبضہ کریں روزہ رکھ کر جھوٹ بولیں دغابازی کریں اسے اسلام میں بالکل اجازت نہیں ہم نے لمیٹ کو کراس کرکے بہت دور نکل چکے ہیں اپنے بچوں کو حرام کھلا کر کہتے ہیں اولاد نافرمان ہیں مقتول کے ورثاء سے پیسے لیکر اسکا ایف آئ آر نہیں کرتے پیسے لیکر قاتل کو سینے سے لگا کر اسے اپنا دوست بناتے ہیں مظلوم کو انصاف مانگتے مانگتے اسکی نسلیں جوان ہوتی ہیں حتی کہ آنے والے مستقبل کی زندگیاں بھی ختم ہوجاتے ہیں منصفین کے راشی ہونے کی وجہ سے انصاف دینے کے بجائے مظلوموں کو انصاف لینا ہی چھوڑنا پڑتا ہے سوائے چند ایک کے عالموں کو کرسی کے لالچ میں اتنا اندھا بنا دی ہے کہ ہمیں اسلام کا درس دینا ہے وہ بھی چھوڑ دی ہے سوائے سیاسی بیٹھک کے کبھی کسی عالم نے یہ سوچا کہ فلانا راشی ہے اسکے خلاف بولوں وہ ظالم ہے اسے سمجھاؤں وہ زانی ہے اسے روکوں ہاں یہ فتوے ان لوگوں کیلئے ضرور دیئے جاتے ہیں جسکے جیب میں ایک روپیہ نہ ہو جسکے پاس کوئ سرکاری عہدہ نہ ہو جس کا سیاست سے دور دور تک تعلق نہ ہو اگر ہم جاہلوں سے لیکر پڑھے لکھے معزز علماء سبھی اپنے اپنے مفاد کیلئے سب کرتے رہیں تو کیا ہم مومن یا مسلمان کہلاتے ہیں ہمارے پاکستان کے سیاستدانوں کو لے لیں کیا ہم خوش ہیں ہم مسلمان ممالک میں آزاد ہیں کبھی بھی نہیں ہم ایسے غلام ہیں جیسا کہ فرعون کے دور میں ہوا کرتے تھے حالات اس سے بھی بد تر ہیں ہمارے حکمران خود کو زمینی خدا سمجھ بیٹھے ہیں پاکستان کے حکمرانوں بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ علماء کرام کی حالات آپکے سامنے ہے ملک پاکستان اور غریب عوام کو اس نہج پر کس نے پہنچایا اس دور میں دو وقت کا کھانا تقریبا ناممکن ہوتا جارہا ہے انصاف کا گلہ گھونٹ کر اسے کئ عشروں پہلے دفن کیا جاچکا ہے اگر کسی نیک علماء و مشائخ نے ظلم کے خلاف آواز بلند بھی کی تو اسے مارا جاتا ہے یا اسے سلاخوں کے پیچھے سلایا جاتا ہے وگرنہ علماء کرام اپنے بچوں کا مستقبل بناکر ان ظالموں کا دست و بازو بن کر عوام کا گلہ دبانے میں برابر کے شریک ہیں کھلے عام قاتل بیوروکریسی اور سیاست دانوں  کے جھولی میں بیٹھ کر کسی کو بھی قتل کرکے پھینک دیتے ہیں اسمبلیوں میں بیٹھے بھیڑیے اسلام کے شکوں میں علماء کرام کو ساتھ لیکر کفر کے کہنے پر بلا جھجک ترمیم کرتے ہیں 2016 میں جب نواز لیگ مولانا فضل الرحمان پیپلز پارٹی نے جہاد کو ہٹانے کی کوشش کی تو سوائے سابق وزیر اعظم #میر_ظفراللہ_جمالی نے کسی نے اختلاف نہیں کی اسنے کہا اللہ کرے شک کی تبدیلی سے پہلے میں مرجاؤں لیکن آپکے اس گھناؤنا ظلم کے ساتھ نہیں دیتا کچھ لوگوں کی وجہ سے پاکستان کے آئین میں اسلام کا شرعی نفاظ محفوظ ہے لیکن وہ بھی محدود وگرنہ اکثر سیاسی مولویان پاکستان کے لالچی حکمرانوں سے ملکر پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مغربی جمہوریت کے طرض پر لاکر کھڑا کرتے اب بھی ہم خوش ہیں کہ ہمارے حکمران ہمارے سیاست دان ہمارے بیوروکریسی ہمارے سیاسی مولوی ہمارے پاکستان کو مکمل اسلامی طور طریقوں اور قرآن مجید کے احکامات کے مطابق ہمیں مضبوط اسلامی ریاست بناکر دینگے اگر یہ لوگ 75 سالوں سے کرپشن کو نا انصافی ظلم و جبر کو بڑھاتے بڑھاتے یہاں تک پہنچا چکے ہیں یہ ہمیں آگے کیا اسلامی مملکت بناکر دینگے ان سے توقع رکھنا بالکل سو% بے سود ہے ہمیں دین سے دور کیا جارہا ہے ہمیں ظلم کے راستے پر لیکر یہ لوگ چل رہے ہیں انصاف کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا گیا پھر بھی ہم کہتے ہیں اللہ تعالی ہم پر ناراض ہے ہم اتنے سخت دل ہو چکے ہیں چند پیسوں کیلئے اپنے والدین کو دشمن سمجھتے ہیں اپنے بھائیوں سے دھوکہ کرکے انکو وراثت سے بے دخل کرتے ہیں اپنے ہمسائیوں پر جیسا ہی دل نے چاہا وہی کرتے ہیں دو سجدے ادا کرکے اپنے آپکو گنج بخش سمجھتے ہیں روزہ رکھ کر خود کو معین الدین چشتی سمجھتے ہیں کسی سائل کو دس روپیہ دیکر حاتم طائ کو کہتے ہیں ہم جیسے سخی آپ نہیں ہوسکتے زخیرہ اندوزی لوٹ مار کرکے عمرہ کی ادائیگی کے بعد خود کو دودھ کا دھلا ہوا سمجھ کر ظلم کو مزید طول دیتے ہیں رشوت لیکر صبح تہجد پر بیٹھ کر اپنے آپکو شاہ سلیمان تونسوی سمجھتے ہیں تھوڑا نہیں پورا سوچیں میرے اور آپکے اس دکھاوا کے عمرہ اور حج نماز و روزہ سے کچھ ہونے والا نہیں ظلم کے ہر حد عبور کرکے کہتے ہیں روز محشر آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین ہماری شفاعت کریگی شفاعت اسکی کی جائیگی جسے مجبوری کے عالم میں کوئ کوتاہی ہوئ ہو جان بوجھ کر ظلم کا بازار لگانے والوں کیلئے سفارش کس چیز کا قرآن مجید کے 30 پارے ہیں یہ ہمارے ہی رہنمائ کیلئے آیا ہوا ہے اگر ہم اسے جھٹلا کر شفاعت کا سوچیں تو یہ ہماری بھول بھی ہے اور ہم حقدار بھی نہیں اللہ تعالی مالک و خالق ہے اگر کسی یہودی و نصرانی کو بخش دے تو اسے کوئ نہیں پوچھ سکتا مگر ہم اپنے آپکو بہت دھوکہ دے رہے ہیں بہت ظلم کررہے ہیں اپنے آپکو جنت سے نکلوا کر جہنم کا ایندھن بننے کیلئے تیار کررہے ہیں بیوی بچوں کو چھوٹی سی غلطی پر کتنا سزا دیتے اور مارتے ہیں اگر نماز نہ پڑھیں روزہ نہ رکھیں تو کوئ بات نہیں کام پر ڈانٹ دین پر سمجھوتہ یہ میرے رب کو قبول نہیں ہمیں اس دنیا پھر بھیجنے کا مقصد اس مالک کی حکم عدولی بجالانا ہے نہ کہ اس کے حکم کے سے بغاوت کرنے کیلئے پیدا فرمایا گیا اگر حکم کی نافرمانی پر سمجھوتہ ہوتا تو ابلیس کو ملعون قرار نہیں دیا جاتا وہ بھی فرشتوں کا سردار تھا زمین کو بالشت بالشت سجدے کیئے لیکن حکم کے برخلاف اسے ہمیشہ کیلئے لعنتی قرار دیکر جنت سے نکالا گیا کیونکہ ہم آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کے امتی ہیں اگر ہم تھوڑا سا کوشش بھی کریں تو یقیننا ہمیں بخشا جائیگا بشرطہ حکم کے خلاف نہیں حکم بجا لانے پر جان بوجھ کر غلطی پر نہیں بھول چوک پر معاف کیا جاسکتا ہے جب تک دل میں محبت یا خوف خدا نہ ہو تو ظاہری عمل بیکار ہے دعا ہے رب جلیل سے کہ ہمیں شیطان کی پکڑ سے محفوظ اور اپنے بتائے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

Saturday, 8 April 2023

خود کو جھوٹی تسلی دینے سے بہتر ہے سچے دل سے ظلم اور ظالموں کا مقابلہ کرو



کیا ہم کلمہ طیبہ پڑھ کر خوش ہیں کہ ہم مومن مسلمان ہیں کیا ہم بھوکا اور پیاسا رہ کر خوش ہیں کہ ہم نے روزہ رکھا دیندار ہیں کیا ہم نے دو منٹ میں 20 سجدے کیئے ہم خوش ہیں ہم نمازی ہیں نہیں ایسا کوئ بھی نہ مومن ہوسکتا ہے نہ پکا مسلمان کیا کی ہے ہم نے اسلام کی خاطر کیا کبھی آپنے کسی مظلوم کا ساتھ دی کبھی آپنے سچائ کو تھاما کیا کبھی دین محمدی کیلئے آپنے کوئ خاطر خواہ کردار ادا کی افسوس کہ ہم نے کچھ بھی نہیں کی جب اس زندگی سے ہجرت کرجائینگے تو روز محشر ہم اپنے آپکو بخشوانے کیلئے خالق کائنات کو کیا کہیں گے کہ ہم بھی مسلمان ہیں اے مالک ہمیں بخش دے نماز پڑھ کر نکلے تو جھوٹ اور دھوکہ دہی کو شروع کیا روزہ رکھا تو زبان پر جھوٹ دل میں منافقت کلمہ طیبہ پڑھ کر کسی کے دو فٹ زمین کو اپنایا ہرگز یہ اسلام میں نہیں کہ آپکے دل میں منافقت ہو آپ دوسو دانے کا تسبیح لیکر خود کو صوفی ثابت کرنے کی کوشش کریں عمرہ ادا کرکے دوسروں کا حق ماریں کلمہ طیبہ پڑھ کر کسی کی زمین پر قبضہ کریں روزہ رکھ کر جھوٹ بولیں دغابازی کریں اسے اسلام میں بالکل اجازت نہیں ہم نے لمیٹ کو کراس کرکے بہت دور نکل چکے ہیں اپنے بچوں کو حرام کھلا کر کہتے ہیں اولاد نافرمان ہیں مقتول کے ورثاء سے پیسے لیکر اسکا ایف آئ آر نہیں کرتے پیسے لیکر قاتل کو سینے سے لگا کر اسے اپنا دوست بناتے ہیں مظلوم کو انصاف مانگتے مانگتے اسکی نسلیں جوان ہوتی ہیں حتی کہ آنے والے مستقبل کی زندگیاں بھی ختم ہوجاتے ہیں منصفین کے راشی ہونے کی وجہ سے انصاف دینے کے بجائے مظلوموں کو انصاف لینا ہی چھوڑنا پڑتا ہے سوائے چند ایک کے عالموں کو کرسی کے لالچ میں اتنا اندھا بنا دی ہے کہ ہمیں اسلام کا درس دینا ہے وہ بھی چھوڑ دی ہے سوائے سیاسی بیٹھک کے کبھی کسی عالم نے یہ سوچا کہ فلانا راشی ہے اسکے خلاف بولوں وہ ظالم ہے اسے سمجھاؤں وہ زانی ہے اسے روکوں ہاں یہ فتوے ان لوگوں کیلئے ضرور دیئے جاتے ہیں جسکے جیب میں ایک روپیہ نہ ہو جسکے پاس کوئ سرکاری عہدہ نہ ہو جس کا سیاست سے دور دور تک تعلق نہ ہو اگر ہم جاہلوں سے لیکر پڑھے لکھے معزز علماء سبھی اپنے اپنے مفاد کیلئے سب کرتے رہیں تو کیا ہم مومن یا مسلمان کہلاتے ہیں ہمارے پاکستان کے سیاستدانوں کو لے لیں کیا ہم خوش ہیں ہم مسلمان ممالک میں آزاد ہیں کبھی بھی نہیں ہم ایسے غلام ہیں جیسا کہ فرعون کے دور میں ہوا کرتے تھے حالات اس سے بھی بد تر ہیں ہمارے حکمران خود کو زمینی خدا سمجھ بیٹھے ہیں پاکستان کے حکمرانوں بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ علماء کرام کی حالات آپکے سامنے ہے ملک پاکستان اور غریب عوام کو اس نہج پر کس نے پہنچایا اس دور میں دو وقت کا کھانا تقریبا ناممکن ہوتا جارہا ہے انصاف کا گلہ گھونٹ کر اسے کئ عشروں پہلے دفن کیا جاچکا ہے اگر کسی نیک علماء و مشائخ نے ظلم کے خلاف آواز بلند بھی کی تو اسے مارا جاتا ہے یا اسے سلاخوں کے پیچھے سلایا جاتا ہے وگرنہ علماء کرام اپنے بچوں کا مستقبل بناکر ان ظالموں کا دست و بازو بن کر عوام کا گلہ دبانے میں برابر کے شریک ہیں کھلے عام قاتل بیوروکریسی اور سیاست دانوں  کے جھولی میں بیٹھ کر کسی کو بھی قتل کرکے پھینک دیتے ہیں اسمبلیوں میں بیٹھے بھیڑیے اسلام کے شکوں میں علماء کرام کو ساتھ لیکر کفر کے کہنے پر بلا جھجک ترمیم کرتے ہیں 2016 میں جب نواز لیگ مولانا فضل الرحمان پیپلز پارٹی نے جہاد کو ہٹانے کی کوشش کی تو سوائے سابق وزیر اعظم #میر_ظفراللہ_جمالی نے کسی نے اختلاف نہیں کی اسنے کہا اللہ کرے شک کی تبدیلی سے پہلے میں مرجاؤں لیکن آپکے اس گھناؤنا ظلم کے ساتھ نہیں دیتا کچھ لوگوں کی وجہ سے پاکستان کے آئین میں اسلام کا شرعی نفاظ محفوظ ہے لیکن وہ بھی محدود وگرنہ اکثر سیاسی مولویان پاکستان کے لالچی حکمرانوں سے ملکر پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مغربی جمہوریت کے طرض پر لاکر کھڑا کرتے اب بھی ہم خوش ہیں کہ ہمارے حکمران ہمارے سیاست دان ہمارے بیوروکریسی ہمارے سیاسی مولوی ہمارے پاکستان کو مکمل اسلامی طور طریقوں اور قرآن مجید کے احکامات کے مطابق ہمیں مضبوط اسلامی ریاست بناکر دینگے اگر یہ لوگ 75 سالوں سے کرپشن کو نا انصافی ظلم و جبر کو بڑھاتے بڑھاتے یہاں تک پہنچا چکے ہیں یہ ہمیں آگے کیا اسلامی مملکت بناکر دینگے ان سے توقع رکھنا بالکل سو% بے سود ہے ہمیں دین سے دور کیا جارہا ہے ہمیں ظلم کے راستے پر لیکر یہ لوگ چل رہے ہیں انصاف کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا گیا پھر بھی ہم کہتے ہیں اللہ تعالی ہم پر ناراض ہے ہم اتنے سخت دل ہو چکے ہیں چند پیسوں کیلئے اپنے والدین کو دشمن سمجھتے ہیں اپنے بھائیوں سے دھوکہ کرکے انکو وراثت سے بے دخل کرتے ہیں اپنے ہمسائیوں پر جیسا ہی دل نے چاہا وہی کرتے ہیں دو سجدے ادا کرکے اپنے آپکو گنج بخش سمجھتے ہیں روزہ رکھ کر خود کو معین الدین چشتی سمجھتے ہیں کسی سائل کو دس روپیہ دیکر حاتم طائ کو کہتے ہیں ہم جیسے سخی آپ نہیں ہوسکتے زخیرہ اندوزی لوٹ مار کرکے عمرہ کی ادائیگی کے بعد خود کو دودھ کا دھلا ہوا سمجھ کر ظلم کو مزید طول دیتے ہیں رشوت لیکر صبح تہجد پر بیٹھ کر اپنے آپکو شاہ سلیمان تونسوی سمجھتے ہیں تھوڑا نہیں پورا سوچیں میرے اور آپکے اس دکھاوا کے عمرہ اور حج نماز و روزہ سے کچھ ہونے والا نہیں ظلم کے ہر حد عبور کرکے کہتے ہیں روز محشر آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین ہماری شفاعت کریگی شفاعت اسکی کی جائیگی جسے مجبوری کے عالم میں کوئ کوتاہی ہوئ ہو جان بوجھ کر ظلم کا بازار لگانے والوں کیلئے سفارش کس چیز کا قرآن مجید کے 30 پارے ہیں یہ ہمارے ہی رہنمائ کیلئے آیا ہوا ہے اگر ہم اسے جھٹلا کر شفاعت کا سوچیں تو یہ ہماری بھول بھی ہے اور ہم حقدار بھی نہیں اللہ تعالی مالک و خالق ہے اگر کسی یہودی و نصرانی کو بخش دے تو اسے کوئ نہیں پوچھ سکتا مگر ہم اپنے آپکو بہت دھوکہ دے رہے ہیں بہت ظلم کررہے ہیں اپنے آپکو جنت سے نکلوا کر جہنم کا ایندھن بننے کیلئے تیار کررہے ہیں بیوی بچوں کو چھوٹی سی غلطی پر کتنا سزا دیتے اور مارتے ہیں اگر نماز نہ پڑھیں روزہ نہ رکھیں تو کوئ بات نہیں کام پر ڈانٹ دین پر سمجھوتہ یہ میرے رب کو قبول نہیں ہمیں اس دنیا پھر بھیجنے کا مقصد اس مالک کی حکم عدولی بجالانا ہے نہ کہ اس کے حکم کے سے بغاوت کرنے کیلئے پیدا فرمایا گیا اگر حکم کی نافرمانی پر سمجھوتہ ہوتا تو ابلیس کو ملعون قرار نہیں دیا جاتا وہ بھی فرشتوں کا سردار تھا زمین کو بالشت بالشت سجدے کیئے لیکن حکم کے برخلاف اسے ہمیشہ کیلئے لعنتی قرار دیکر جنت سے نکالا گیا کیونکہ ہم آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کے امتی ہیں اگر ہم تھوڑا سا کوشش بھی کریں تو یقیننا ہمیں بخشا جائیگا بشرطہ حکم کے خلاف نہیں حکم بجا لانے پر جان بوجھ کر غلطی پر نہیں بھول چوک پر معاف کیا جاسکتا ہے جب تک دل میں محبت یا خوف خدا نہ ہو تو ظاہری عمل بیکار ہے دعا ہے رب جلیل سے کہ ہمیں شیطان کی پکڑ سے محفوظ اور اپنے بتائے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

Sunday, 26 March 2023

کینسر کے موذی مرض کا شافی علاج اور طریقہ کار


جس دھماسہ بوٹی سے میں نے دو مہینوں میں آخری سٹیج ۵۰% کینسر ختم ہوتے  دیکھا ہے وہ ہرے رنگ کا پاؤڈر ہے جو تازہ بوٹی توڑ کر صاف کرکے سکھاکر پسوایا گیا تھا۔ یادرہے کینسر پورے جسم میں معدے،پھیپھڑے،جگر حتٰی کہ ہڈّیوں تک پھیل گیا تھا۔ براہِ مہربانی اپنے  پیاروں کو کیمو کی تکلیف سے بچائیے  دھماسہ کھلائیے۔
کچھ لوگ دھماسہ کو غلطی سےجَوَاں، جواہیاں یا جَمَایَاں سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ علیحدہ پودہ ہے۔
دھماسہ کے پودے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر چار چار کانٹوں کا ایک سیٹ ہوتا ہے جس میں ہر دو کانٹوں کے درمیان پتلا اور لمبوترا پتہ ہوتا ہے۔ یہ کانٹےتین بھی ہو سکتے ہیں، اور چار بھی۔ اس کی شاخیں بہت پتلی ہوتی ہیں، اس لئے یہ براہ راست بڑھ نہیں سکتے ہیں اور ایک چھوٹی سی جھاڑی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ پودہ اٹلی، جرمنی، مشرق وسطیٰ کے ممالک، پاکستان اور بھارت میں بھی پایا جاتا ہے۔ یہ کینسر خاص طور پر خون اور جگر کے کینسر کے علاج کے طور پر مانا جاتا ہے۔
اس کے پھولوں کا رنگ ہلکاجامنی ہے۔ پھول جھڑنے کے بعد اس کے کانٹوں کے قریب 00 شکل کے چھوٹے بیج بڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔

دھماسہ کے فوائد

۔۔ یہ سب سے اچھا مصفّا خون ہے اور خون کے لوتھڑوں کو پگھلاکر خون کو پتلا کرتا ہے جس کی وجہ سے برین ہیمبرج، ہارٹ اٹیک، اور فالج وغیرہ سے حفاظت ہوتی ہے۔
۔۔ اس کے پھول اور پتیوں سے کینسر اور تھیلاسیمیا کی ہر قسم کا علاج ممکن ہے۔
۔۔ جسم کی کی گرمی کو زائل کرنے اور ٹھنڈک کے اثرات کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
۔۔ اس کے ذریعے ہیپاٹائٹس کی تمام اقسام کا علاج ممکن ہے۔
۔۔ جگر کو طاقت دے کر جگر کے کینسر کا بھی علاج کیا جا سکتا ہے۔
۔۔ دل اور دماغ کی صلاحیتوں میں بہتری لانے میں معاون ہے۔
۔۔ جسمانی دردوں کے علاج میں مددگار ہے۔
۔۔ مختلف قسم کی الرجی کا علاج ہے۔
۔۔ کیل، مہاسے، چھائیاں اور دیگر جلدکے امراض سے نجات دلاتا ہے۔
۔۔ معدہ کو تقویت دے کر بھوک بڑھاتا ہے۔
۔۔ اس سے قے، پیاس اور جلن، وغیرہ جیسی علامات ختم ہو جاتی ہیں۔
۔۔ کمزور جسم کو طاقت دے کر فربہ بناتاہے، اور موٹے افراد کے لئے وزن کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہے۔
۔۔ منہ اور مسوڑھوں کے امراض علاج ہے۔
۔۔ بلڈ پریشر کو معمول پر لاتا ہے۔
۔۔ دمہ اور عمومی سانس لینے میں دشواری کا علاج

Friday, 17 March 2023

سنو پاکستانی عوام آج تھوڑا نہیں حقیقت اور کڑوا سچ سنوListen to the poor people of Pakistan today, not a little complete and bitter truth

Listen to the poor people of Pakistan today, not a little complete and bitter truth

, in 1993, I started with 20 rupees and in 2004 the wage reached 200 daily wages and he also used to spend 20 rupees in his mount Suleiman in the nearby cities for daily wages. These mobile phones came to Tunsa after 2000 

((2000)) Whose government was the dictator who drove these Sheikhs away, before 1998, after 2008, they are ruled by sheikhs, before 1998, the poor people were committing suicides, which have started again today. During Musharraf's time, I bought a motorcycle, which is still there today, but these sheikhs again caused that earthquake on Pakistan, by God, now it is  becoming difficult for people like us who owned cars to work.1

2 Now they have gone out for labor at this time, but Today I say with pain that the people of Pakistan are the worst greedy nation including me that we have been betraying the country and our future by strengthening their hand in selling our country by voting for them again and again D_P_ What was the situation before consolation, now what is the first ruler, who is now this PDM group is that, even if you try to explain to her, even if you keep quiet, do not say cruelty, even if these beasts made Pakistan a rich country before Imran Khan, then what could Imran Khan do to the rich country in 3 years? If there is nothing in the country, did Imran Khan destroy Pakistan in the same 3 years, the curse of these little ones (() What came to me during Musharraf's tenure controlled their loot before two or three years 05, after that the country and the people started getting fruits

There is a problem for two times bread to eat, 2022 is about to be the year of devastating floods, I could not make a room because these killers have brought the poor people of Pakistan, including me, to this point, but we poor people are also cursed who fought for us. I am not a scholar or mufti, but as a sinful Muslim, I will definitely say that if a person who commits suicide can go to Hell, then what should be considered to be his future, his children, his stomach, and those who fight against his country. 

(1) Where does Pakistan stand today?

(2) Where do the poor people stand today?


پاکستانی غریب عوام سنو آج تھوڑا سا نہیں پورا اور کڑوا سا سچ 1993 میں میں 20 روپے سے اسٹارٹ کرتے ہوئے مزدوری 2004 میں 200 تک دیہاڑی پہنچا اور وہ بھی اپنے کوہ سلیمان میں 20 روپے دیہاڑی کیلئے نزدیکی شہروں میں بٹھکتا رہا کبھی تھا کبھی نہیں لیکن 2004 میں صبح مزدوری کیلئے نکلتا شام کو واپس گھر آجاتا  اور میں نے موٹر سائیکل بھی اپنے کوہ سلیمان میں 2000 کے بعد دیکھے یہ موبائل فون 2000 کے بعد تونسہ میں آئے 

(( 2000 )) میں کس کی حکومت تھی اس ڈکٹیٹر کی جسنے ان شیخ صاحبان کو بھگایا 1998 سے پہلے 2008 کے بعد انہیں شیخوں کی حکمرانی ہے 1998 سے پہلے اسی طرح غریب لوگو خودکشیاں کررہے تھے جو آج پھر دھڑلے سے خود کشیاں شروع ہوچکے ہیں 1999 سے پہلے مجھے مزدوری نہیں ملتا میرے جیب  میں فری دس روپے نہیں تھے جب مشرف نے اوور ٹیک کی غریب لوگوں نے خودکشیاں بند کیں امیروں نے خود کشیاں شروع کی ہیں مشرف کے دور میں میں نے موٹر سائیکل خریدا جو آج بھی ہے لیکن ان شیخوں نے پھر پاکستان پر وہ زلزلہ طاری کی خدا کی قسم اب موٹر سائیکل رکھنا ہم جیسے لوگوں کیلئے مشکل ہوتا جا رہا ہے جو گاڑیوں کے مالک تھے وہ اسوقت مزدوری کیلئے نکل پڑے ہیں لیکن میں آج درد سے کہتا ہوں پاکستان عوام مجھ سمیت ناقص ترین بدترین لالچ ترین قوم ہیں کہ ہم بار انکو ووٹ دیکر اپنے ملک کو بیچنے میں ہم انکا ہاتھ مضبوط کرکے ساتھ دیکر ملک پاکستان اور اپنے مستقبل سے 100% غداری کرتے آرہے ہیں یہ  #پبلکP_دشمنD_مورچہM ان لوگوں نے پہلے بھی پاکستان کے عوام پر ظلم کیئے اب بڑھ کر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں خود سوچیں تسلی سے پہلے کیا صورتحال تھی اب کیا ہے پہلے کون حکمران تھے اب کون ہے یہ پی ڈی ایم کا ٹولہ وہ ننگی عورت ہے اگر اسے سمجھانے کی کوشش کریں تو بھی بدنام اگر چپ رہیں تو ظلم نہ کہیں تو بھی بدنام اگر ان درندوں عمران خان سے پہلے پاکستان کو امیر ملک بنایا تو 3سال میں عمران خان امیر ملک کا کیا کرسکتا تھا اگر ملک میں کچھ نہیں نہیں تو کیا اسی 3 سال میں پاکستان عمران خان نے برباد کی لعنت ان چھوٹوں پر ((( مشرف کے دور میں جو میرے پاس آیا وہ دو تین سال 05 سے پہلے انکی لوٹ مار کو کنٹرول کرگیا اسکے بعد ملک اور عوام کو ثمرات ملنا شروع ہوئے 08کے بعد چوروں کا غلبہ آیا 018 کے بعد پھر مجھے 100 میں 70% فائدہ پہنچا اب 9 مہینے ہوئے کھانے کیلئے دو ٹائم کی روٹی کیلئے پریشانی ہے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے سال ہونے کو ہے مجھ سے کمرہ نہ بن سکا کیونکہ سکت ان قاتلوں ان رہزنوں نے مجھ سمیت پورے پاکستان کے غریب عوام کو اس نہج تک پہنچا چکے ہیں لیکن ہم غریب بھی لعنتی ہیں جو ہمارے لیئے لڑا ہم اسکے مخالف بن جاتے ہیں جو ہمیں بھوک سے مارنے کا پلان ترتیب دیتے ہیں ہم اسکے ساتھ چل پڑتے ہیں میں کوئی عالم یا مفتی نہیں لیکن ایک گناہ گار مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ ضرور کہوں گا اگر خود کشی کرنے والا جہنم میں جاسکتا ہے تو اپنے مستقبل اپنے بچوں اپنے پیٹ اپنے ملک کے خلاف لڑنے والوں کا ساتھ دینا کیا سمجھا جائے 

(1)آج پاکستان کہاں کھڑا ہے فیصلہ آپکا

(2)آج غریب عوام کہاں کھڑا ہے فیصلہ آپکا

Thursday, 16 March 2023

تونسہ شریف مال بناؤ عوام بھگاؤ کے موروثی کھلاڑیوں کیلئے نیا سپرے تیار جوکہ اس الیکشن پر اکھاڑے میں چھڑکاؤ کی تیاریاں مکمل

 


ایک بات تو طے ہے پی ٹی آئ کے تمام ٹکٹ ہولڈرز کو اگر عمران خان ٹکٹ نہ دے تو ان میں 100 کے بعد 5 لوگ بھی بڑی کوشش کے بعد الیکشن میں کامیاب ہونگے کیونکہ پی ٹی میں 95%وہ لوگ ہیں جو دوسرے تمام پارٹیوں نے انہیں نکال دی ہے پاکستان کے عوام ووٹ صرف عمران کو دیتا ہے صرف تونسہ لے لیں پی پی 286 سابق سی ایم پنجاب کا گھر ہے اگر پی ٹی کا ٹکٹ نہ ملے تو سردار صاحب مجھے کامیاب ہوکر دکھائے کیونکہ عثمان خان نے تونسہ میں ایک ایم این اے جتنا کام ضرور کیئے اور پی ٹی آئ کے ایم این اے صاحب نے کونسلر جتنا بھی عوام کو نہیں دکھایا خواجہ شیراز صاحب اب پچھلے پانچ سال کے فنڈز میں تہائی لیکر وڈیروں گودوں میں تقسیم کرینگے وہ وڈیرے عوام کو بیوقوف بناکر ووٹ لیکر شیراز صاحب کو دلوائیں گے مسلم لیگ ن کے خواجہ نظام المحمود کو صرف وہ ووٹ پڑینگے جنہیں بزدار کے نام سے چڑ ہے باقی 90% پاگل بھی خواجہ نظام المحمود کو ووٹ نہیں دینگے اس بار سردار اکرم خان ملغانی پچھلے الیکشن سے بڑھ جائیگا مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر اگر خواجہ نطام المحمود رہا تو 8 سے دس ہزار ووٹ بڑی مشکل سے لے پائیگا

مسلم لیگ ن کے قائدین کو اگر عوام پر ڈھائے جانے والے مہنگائ و مظالم سے فرست ملے تو اپنے اس ٹکٹ کو ذرا برباد ہونے سے بھی بچائے کیونکہ مسلم لیگ ن کا ہر امیدوار اگر ہار بھی جاتا تو صرف  دو سے تین ہزار تک ہار جاتا تھا اس بار اگر خواجہ نطام المحمود صاحب رہا اسکا تو 20 ہزار سے زائد تک ہار کنفارم ہے ایک تو مسلم لیگ ن کو اقتدار میں دھکیلنے والے زرداری نے پارٹی کا ستیا ناس کردی مہنگائ بے روزگاری 300% تک برھادیا گیا دوسرا اسی خواجہ صاحب نے 2013 کے الیکشن جیتنے کے بعد تونسہ شریف کے عوام کو اپنا منہ دکھانے کا بھی گوارہ نہ کرسکا اور یہ وہ آٹھ سے دس ووٹ بھی سابق سی ایم پنجاب کے مختاروں کی وجہ سے جسنے عوام کو بیوقوف بناکر اسکا دل توڑا ہے ہمیشہ دھوکہ دیکر ورغلاتے رہے کسی سے بٹورتے رہے اور کسی کو بٹوارتے رہے کیونکہ اسکا خمیازہ تو سردار صاحبان کو بھگتنا ہوگا یہ عوامی ناراضگی کا زلزلہ بھی ان پر پڑیگا کیونکہ شیطان کا مطلب ہی افراتفری پھیلانا اچھے اعمال سے دور رکھنا نماز قضاء کروانا برے کاموں میں ہاتھ بٹانا اسکا حساب تو تمہیں جہنم کی صورت میں دینا ہوگا اس لیئے سردار صاحبان نے عوام سے زیادہ چمچوں کو فوکس کی اسکا حساب تو چکانا پڑتا ہے اس فنی کلپ پر کس کو یقین ہوگا کہ یہ فنی نہیں حقیقت ہے یہی چمچے اس بار تو نہیں اگلی بار تو ضرور ڈبودینگے اگر ان مختاروں نے آدھا کلو گھی پندرہ سو کا ترپال ایک کلو دال لنڈے کے کپڑے محفوظ نہ رہ سکے تو کیا انکی باتوں پر کونسا سر پھاڑ ہوگا جو انکے کہنے پر سردار عثمان خان ووٹ دینگے الٹا طعنے اور گالم گلوچ تو ہوگا انہیں ووٹ کوئ نہیں دیگا یہی لوگوں نے عثمان خان کو سیاست کا بٹہ بٹھادی خود لنڈے کے سامان سے مالا مال ہوئے اس الیکشن میں موروثی سیاست کیلئے تونسہ شریف اور کوہ میں ایک مضبوط سپرے بھی تیار ہوچکا ہے وہ ان لوگوں کو آنے والے الیکشن کو دن میں تارے دکھا دینگے اس وقت پی پی 286 اور پی پی 287 میں عام آدمی تحریک پاکستان نے جس مضبوطی سے عوام میں انٹر ہو چکا ہے اور (عام آدمی تحریک پاکستان ) عام عوام کی پارٹی ہے اور اس تباہ کن سیلاب میں جس جانفشانی سے عوام کے مدد کو پہنچے اسکی نظیر نہیں ملتی ڈی آئی خان سے جام پور تک ہر گھر اور ہر در تک جو عوامی فلاح میں کردار ((عام آدمی تحریک پاکستان )) نے ادا کی وہ شائید ہی کوئ اور کرسکا ہو کیونکہ نہ یہ کسی گورنمٹ کا حصہ تھے نہ پارٹی میں کوئ ایم این اے تھا نہ کوئ ایم پی اے اپنے تحت آپ نیشنل اور انٹرنیشنل  ڈونرز دوستوں کی مدد سے جو جنگ (عام آدمی تحریک پاکستان ) نے عوام اور اپنے ڈوبے ہوئے علاقے کیلئے لڑا وہ ہمیشہ یاد رکھے جائینگے اور دوسری جماعت اسلامی بھی اس سیلاب سے تباہ حال علاقے کیلئے کوشاں کی وہ بھی قابل تعریف ہے لیکن تونسہ شریف اور مضافات میں یہ دونوں پارٹیاں پرانے کھلاڑیوں  کے لیئے درد سر بن بیٹھے ہیں کیونکہ 2022 کے تباہ کن سیلاب میں پی ٹی آئ کے ایم این اے خواجہ شیراز محمود کا عوامی کارکردگی بالکل 100پ%صفر رہا سابق سی ایم پنجاب کو چمچوں نے عوام سے دور رکھا الٹا عوامی امداد کیلئے آئے سامان بھی چمچوں نے ڈگار لیئے ضلع بنانے کا دکان بھی اسوقت ایک پٹاخا ثابت ہوچکا ہے جس کے نام پر ہمیشہ یہ لوگ ادھار چلاتے رہے اگر ضلع کا وجود ہے بھی تو وہ صرف عمران خان کی وجہ سے ہے نہ کہ تونسہ شریف کے پی ٹی آئ ٹکٹ ہولڈرز کے مرہون منت ہے

Tuesday, 14 March 2023

Balochistan Min Zulam Ka Bazar Grne Rakhne Min Kise Ne Koi Kassar Ni Chora Abdul Rahman Khetran Ne Zulam Ke Pahar Torre Sabhi Zalmon Ko Peche Chora

 ہمارے ادارے ہماری انتظامیہ سب مافیاز  و بلوچ سرداروں ونوابوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں ۔افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ بلوچستان کو پاکستان کا صوبہ نہیں سمجھا جا رہا ہے اس ملک کا حصہ  نہیں سمجھا  جا رہا ہے ۔اتنا بڑا صوبہ بلوچستان جو سارے پاکستان کو   چلانے والا صوبہ ہے  ہمارے ادارے ہماری انتظامیہ اس بڑے صوبے کو ایک کالونی سمجھ رہے ہیں اور اسے نوابوں و سرداروں کے ہاتھوں یرغمال کیا گیا ہے۔اس صوبے میں ادارے، انتظامیہ،عدالتیں سب  نے مافیا و سرداران نواب کو چھوٹ دیا ہوا ہے۔ یہ سارے ادارے بلوچستان کی تباہ حالی  میں ان مافیاز نواب و سرداران کے ساتھ برابر کے شریک ہیں وہ یہ سمجھ رہے ہیں ۔بلوچ قوم و  سرزمین بلوچستان سرداروں نوابوں کی جاگیر ہے اور وہی زور آور ٹولہ اس کے مالک ہیں ۔ہم اپنے اداروں سے اپیل کرتے ہیں۔  اپنےافواج پاکستان  سے اپیل کرتے ہیں سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان سے اپیل کرتے ہیں ۔خدارا بلوچ قوم وسرزمین بلوچستان کو سرداروں  و نوابوں جاگیر داروں کے ہاتھوں یرغمال نہ بنایا جائے ۔یہی سردار نواب اس ملک  وقوم کے دشمن ہیں ۔بلوچ قوم اس ملک کا دشمن نہیں ۔

یہی بلوچ قوم آکے  ملک کے ہر ادارے میں ملک و قوم کی خدمت کرتے ہیں مافیاز نواب سرداران نہیں، یہی بلوچ قوم کے بچے أکے ہر روز اپنے ملک پاکستان کی دفاع میں شہید ہوتے ہیں نواب و سرداران کے بیٹے شہید  نہیں ہوتے اس ملک کے دفاع میں ۔

ہم عرض کرتے ہیں تو پھر ہماری سرکار بلوچستان میں ان سرداروں کے ہاتھوں یرغمال کیوں? ،ان جاگیر دار سردار ونوابوں کے سامنے بے بس کیوں ?

آئین شکنی بھی یہی سردار کریں ،یہی سردار ریاست کے اندر بھی اپنی ریاست بنائیں ، انتظامیہ کے ہوتے ہوئے اپنی نجی جیلیں بنائیں ،ہمارے ملک کے سب سے بڑے طاقتور ادارے کے ہوتے ہوئے یعنی عدلیہ سیشن کورٹ ،ہائی کورٹ ،وسپریم۔کورٹ کے ہوتے ہوئے اپنی عدالتیں قائم کریں۔پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہماری  ریاست نے خود  انکو خود چھوٹ دیا ہوا ہے یا یہ ریاست سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں ۔اس لیے انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر سکتا ۔دومہنے پہلے کی بات ہے  مغوی گران ناز قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی سے رہائی کی اپیل کر رہی تھی کہ انہیں اور اسکے بچوں کو صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی سے آزاد کرایا جائے۔ٹھیک اسکے کچھ ہی دن بعد وہ ویڈیو بنانے والی بچی امیراں بی بی کھیتران کو ڈی این اے ٹیسٹ کے مطابق ریپ کرکے اور جسمانی زیادتی کرکے منہ پہ تیزاب پھینک کر  چہرہ مسخ کرکے صوبائی سردار عبدالرحمن کھیتران نے اپنے نجی جیل میں قید  مظلوم خان محمد مری کے دو بیٹوں کو انکے ماں کے سامنے ظلم وزیادتی تشدد کا نشانہ بنا کر انکے ہاتھ پاؤں توڑ کر جسمانی تشدد کا نشانہ بنا کر گولی مار کر شہید کردیا اور میتوں کو بوریوں میں بند کر کے کنویں میں پھینک دیا ۔تین دن بعد لاشوں کے بدبو سے لوگ جب اس کنویں پہ پہنچے تین بوری بند لاشیں نکالیں گئی ایک امیراں بی بی کھیتران اور دو خان محمد مری کے نوجوان بیٹے کی شناخت ہوئی ۔جو صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی جیل میں قید تھے۔اسکے  بعد مری قوم و   آل پاکستان مری اتحاد و تمام طبقہ فکر کے لوگوں کی احتجاج کے بدولت صوبائی وزیر  سردار  عبدالرحمن کھیتران نے اپنے نجی جیل سے سب کو رہا کر دیا۔اسکے بعد وہاں کی لیویز  پولیس سب کو نہیں پتہ کہ یہ لوگ کہاں سے بازیاب ہوئے کس نے بازیاب کیے اور کون کون ملوث ہے عبدالرحمن کھیتران کے ساتھ کوئی پتہ نہیں کیسے بازیاب ہوئے۔اور وہ عورت جو سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی جیل میں قرآن پاک کا واسطہ دیکر رہائی کی اپیل کر رہی تھی کیسے رہا ہوئی اور کیسے تین قیدیوں کو مار کر لاش بوری میں بند کر کے کنویں میں پھینک دیا نہ کوئی معلوم اور نہ ہی کی رپورٹ نہ ہی کوئی کیس ۔یعنی سب جان کر سردار عبدالرحمن کھیتران کے خلاف ایکشن لینے والا کوئی نہیں ،اب جب عوام نے لاش  وزیراعلی بلوچستان کے ہاؤس کے سامنے رکھ کر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جب تک  وزیر عبدالرحمن کھیتران کو گرفتار نہیں کیا جائے گا ہم لاشوں کو دفن نہیں کریں گے۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران صاحب نے خود کو کچھ دنوں کیلئے اپنے ریسٹ ہاؤس الھدی سینٹر جیل میں آرام فرما کر حالات کو مزید بگڑنے سے بچا لیا ۔اسی میں بہتری سمجھی کہ کچھ دن آرام فرماؤ ۔لوگ خاموش ہو جائیں ۔اسکے بعد تین قتل مقتولہ امیراں بی بی  کھیتران کے  ساتھ جنسی زیادتی وجسمانی زیادتی  ودو نوجوانوں کے ساتھ جسمانی قید ومشقت اور اسکے بعد قتل کرکے لاش بوری میں بند کرکے کنویں پھینکنے والے اور باقی زندہ بچ جانے والے بوڑھی  ماں گراں ناز کے ساتھ جسمانی زیادتی اور اسکی 17سالہ بیٹی کے ساتھ جنسی وجسمانی زیادتی و تشدد اور بچوں کے ساتھ جسمانی زیادتی تشدد  آٹھ سال تک اپنےنجی جیل میں قید کرنے بعد  صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن  کھیتران کے خلاف نہ کوئی عدالتی کاروائی ہوئی نہ سزا جزا سردار صاحب بضمانت جیل سے رہا ہوئے اور ایک دو بیل کے بعد باعزت بری ہو جائیں گے ۔تو ہم اپنے اداروں سے پوچھتے ہیں آپ کشمیر کی آزادی کے تو بات کرتے ہو۔ادھر آپکے اپنے ہی ملک میں سرداروں نے بلوچستان پہ قبضہ کیا ہوا ہے تمھاری ساری انتظامیہ انکے سامنے بے بس  صوبائی حکومت ان سرداروں نوابوں کی تمھاری ساری انتظامیہ پولیس لیویز وکیل جج عدالت انتظامیہ سب ان کے گرفت میں ،سب ان سرداروں نوابوں کے انڈر میں اور اوپر سے آپ وفاق انکو سالانہ اربوں کھربوں روپے روپے دیتے ہو صوبائی بجٹ کی مد میں ۔تو ہم بلوچستان کی عوام آپ اپنے ملک پاکستان کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں ۔خدارا کشمیر سے پہلے ہمیں بلوچستانیوں کو سرداروں نوابوں کے نجی جیلوں عدالتوں اور انتظامیہ سے آزاد کراؤ ہم تمھارے پاکستانی ہیں۔ہم کشمیری نہیں ہم اس ملک کے باشندے ہیں ہمیں کشمیر سے پہلے بلوچستان کے سرداروں ونوابوں کے نجی حکومت سے آزاد کراؤ۔ اس ظالم صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کو بچانے والے سردار نواب ٹولہ قدوس کابینہ کو ہٹا کر گورنر راج نافذ کیا جائے۔قاتل وزیر  عبدالرحمن کھیتران کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔تاکہ ریاست کے ہوتے ہوئے کوئی اور ریاست نہ بنائیں سرکاری  عدالتوں و جج صاحبان کے ہوتے ہوئے۔کوئی عبدالرحمن کھیتران اپنا نجی جیل عدالت نہ بنائے۔ہم عرض کرتے ہیں فلفور صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کا ضمانت منسوخ کرکے دوبارہ گرفتار کرکے اسے فلفور سزا دیا جائے ۔اور جو باقی صوبائی انتظامیہ ہماری لیویز پولیس  وکیل جج عدالتیں سب انکے زیردست افسران لگے ہوئے ہیں انکے خلاف فوری ایکشن لیا جائے کیونکہ بلوچستان میں بھی حکومت پاکستان کی رٹ قائم ہو۔عوام کو باقی صوبوں کے برابر حقوق دیے جائیں۔بلوچستان کو ان سرداروں ونوابوں کی گرفت سے آزاد کرایا جائے۔ اس ملک کے آئین وقانون کی بالادستی قائم کرایا جائے ۔

مظلوم عوام بلوچستان 

Http://Youtube.Com/@Bolkohesuleman 



Sunday, 12 March 2023

Apne Mustaqbil Apne Elaqe Apne Zat Se Barh Kr Kuch Ni Ye Politicans Kelly Ni Apne Ley Larrin

 اگر خود سے جنگ لڑنی ہے تو سیاستدانوں کیلئے لڑیں اگر مستقبل کی کامیابی چاہتے ہو تو ان ظالم سیاستدانوں سے طبل جنگ کا آج سے آغاز کریں ؟؟؟

You Want That Calim In Video To Click On Link 👇👇


 Http://Youtube.Com/@Bolkohesuleman 


 الیکشن کے للکار سیاستدانوں کا پکار عوام ان سے رہیں ہوشیار تباہ کن سیلاب میں بستیوں کے بستیاں اجڑگئے لیکن حکمرانوں کے جھولی میں بیٹھے نہ کوئ سردار نے عوام کی سنی نہ کسی خواجگان کے کانوں میں جوں رینگا مگر تونسہ شریف اور کوہ سلیمان کے غریب عوام کی خدمت میں پیش پیش جو خدمت خلق عام آدمی تحریک پاکستان نے کی وہ نہ کوئ ایم این اے کرسکا نہ کوئ ایم پی اے نہ کوئ وزیر کے سر میں کھجلی ہوئ  نہ کوئ مشیر کو احساس ہوا جونہی الیکشن کا اعلان ہوا عوام کے غم خوار بننے کی کوشش میں پانچ سال کا پورا فوت ہونے والوں کے ورثاء اور عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے ایک لمبی لسٹ لیکر فاتحہ خوانی میں منہ لٹکانے پھرنے والے پیر میر پیش پیش ہیں تونسہ اور کوہ سلیمان والو ہر کسی کا چوائس تو اپنا ہے لیکن علاقے کو مد نظر رکھ کر اگے بڑھیں اپنے مستقبل اور نسلوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں 2022 کے درد اور تکلیف کو سامنے رکھ کر اپنا ووٹ دیں جنہیں تمہارا گھر نظر آیا جو بڑے بڑے محلات میں رہ کر بڑے بڑے گاڑیوں میں بیٹھ کر آپکا سودا کرتے ہیں خدا را ان سے دور رہیں اگر ہمارا ووٹ قیمتی ہے تو ہمارے جان و مال کی ان ظالموں کے سامنے قدر کیوں نہیں نہ ہم غریبوں کے بچوں کو کھلے آسمان کے نیچے اٹھارہ سالہ ایم این اے کو نظر آئے نہ وزیر اور نہ انکے چھچوروں کو ہم دکھائ دیئے لیکن اگر آپکے بچے آپکی تکلیف جس کو محسوس ہوا وہ Farhan Ullah Malik 

اور Rashda Bhutta  تھیں باقی سب نے ملکر ہمارے نام پر میرے نام پر آپکے نام پر نہ سرکاری خزانے کو بخشا نہ فلاحی اداروں کا دیا گیا سامان چھوڑا خود بھی عیش سے کھائے اپنے ٹھیکیداروں منشیوں اور چیلوں کو بھی خوب نوازتے رہے میں روتا رہا سننے کیلئے انکے کان بند تھے میں روتا رہا دیکھنے کیلئے وہ اندھے تھے میں روتا رہا بولنے کیلئے انکے زبانوں پر تالے تھے میرے بچے بغیر چھت کے لیٹے رہے انہیں نظر نہیں آیا میرے نام پر سیاست کرتے رہے میرے لیئے لائے گئے ہر وہ چیز ان لوگوں نے دبوچا جو لاہور کے لنڈے سے لیکر اللہ والوں نے خرید کر میرے لیئے دیئے ہر وہ چیز کو چھپایا جو اسلام آباد کے گلیوں میں گھوم کر میرے لیئے جمع کیئے ان لوگوں نے ان خیموں کے قیمت لگائے جو میرے لیئے چائینا ترکی سعودی عرب کے عوام اور حکمرانوں نے انسانی ہمدردی کیلئے میرے بچوں اور آپکے بچوں کیلئے بھیجا ان لوگوں نے نہ اس چیز کو دبایا جو کراچی کے چوراہوں پر خیمہ لگا کر میرے لیئے اور آپکے بچوں کیلئے چندہ جمع کی ان بے رحم لوگوں نے اتنا بھی ترس نہیں آیا کچھ تو غریبوں کو بھی دیں اتنا نہیں جو مخیئر حضرات سمیت انہیں جو  فلاحی اداروں کی طرف میرے بچوں کے لیئے دیئے گئے آپکے بچوں کے سر چھپانے کیلئے دیئے گئے وہ سامان وڈیروں کے سکولوں ٹھیکیداروں کے مہمان خانوں میں رکھ کر اپنا سیاست چمکاتے رہے انکے بیٹھک کو سجاتے رہے لیکن ووٹ کے لیئے انہیں عوام کی ہمدردی چاہیئے اب سردار صاحبان بھی یہ نعرہ لیکر عوام میں آنے والے ہیں ہم آپکے سردار ہیں مجھے آپکا ووٹ چاہیئے یہ قومیت کا سوال ہے چھوٹے چھوٹے ٹھیکدار وڈیرے بن کر میرے اور آپکے در پر حاضر ہونگے میں آپکا سفید ریش ہوں یا آپکا ہمسایہ ووٹ مجھے چاہیئے پیر سائیں بھی اپنا چھڑی لیکر پہنچیں ووٹ لیکر جنت کا بشارت دیکر چلتے بنیں گے کیونکہ یہ تینوں چیزیں عوام کو پاگل بنانے کیلئے مضبوط ہتھیار تصور کیئے جاتے ہیں سردار کو ووٹ نہیں دی تو قومیت خطرے میں پیر کو ووٹ نہیں دی تو ایمان خطرے میں وڈیرے کو ووٹ نہیں دی تو فرقے سے لاتعلقی کا اظہار تصور ہوگا ہمسائے کو ووٹ نہیں دی شائید کل آپکیلئے ایک پہاڑ جیسا خطرہ کھڑا کریگا کوئ آپکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا شیطان بھی آپکے ایمان کا کھلم کھلا دشمن ہے جہاں موقع ملا آپکا دھوکہ دیکر ہی رہیگا مگر یہ بھی ایسے ہیں جب انکے پنجے آپکے گردن میں جسوقت پڑے کسی صورت یہ آپکو معاف نہیں کرینگے ڈر اور نکال کر چھوٹے چھوٹے کیڑوں کو سرے سے بچیں تاکہ بڑے ہوکر ایک مگرمچھ کی صورت اختیار نہ کرسکیں جہاں سے غلطی ہوئ اسکا سدباب کرنا آپ پر فرض ہے تاکہ بعد میں یہ پچھتاوا نہ رہے کہ میں نے دوسری بار بھی غلطی کی


Sunday, 22 January 2023

کیا کوہ سلیمان پنجاب بشمول پاکستان کا حصہ نہیں


 سیلاب کی تباہ کاریاں کوہ سلیمان میں اب بھی وہی ہیں جہاں چھے مہینے قبل لاکھوں عوام کے گھر بار منہدم ہوئے جو اج بھی خیموں کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں 

کسی بھی پارٹی قیادت سے ورکرز کو کم تر سمجھنا پارٹی کے ناکامی کا سبب بن سکتا ہے تحریر حسن خان بزدار


 پارٹی کا حقیقی سربراہ ورکرز ہیں جہاں پارٹی منشور کوئ نہیں پہنچا سکتا وہاں ورکر پہبچاتا ہے



جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہمارے بہت سے سیاست دان غلط راستے پر گامزن ہیں اس لیئے 


ایک ورکر دس وڈیرے یا چوہدری یا جاگیردار پر بھاری  پڑتا ہے 


کیونکہ جو راستہ دس سے پچاس سال پہلے ہمارے علاقائ اور ملکی سیاستدانوں نے چنا یا اختیار کی یا اختیار کروایا گیا وہ اب آخری ہچکیاں لے رہا ہے سیاست دان ہمیشہ سے اپنے کامیابی کا سہرا ہر گوٹھ ہر بستی یا ہر محلے کے فرقے کے وڈیرے یا چوہدری کے سر پر سجاتے آرہے ہیں کہیں آرگنائز قاتلوں کی ضرورت بھی پڑتی ہے اس لیئے کچھ نہ ماننے والے لکھاریوں کو آخر کار ب ن د و ق کے گ و ل ی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس تن آور آواز کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش کرنے کی ناکام کوشش کیا جاتا ہے کیونکہ ایک اواز دبانے سے سینکڑوں آوازیں اور اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں کسی کا جان لینا اپنے یا ان پر دباو بڑھانا ہنرمندی یا طاقت نہیں ایک کمزور سوچ کو پروان چڑھانا ہے لیکن اب وہ وقت بھی گزر گیا ہے جب کسی قومی سفید پوش کا کسی بھی علاقائ رہنما سے ووٹ کیلئے ان کے ڈیرے پر آکر انسے دعا خیر ہو جاتی تو پورا قوم پورا بستی پورا محلہ آنکھیں بند خرکے اسکے پیچھے لگے رہتے تھے اب ہر فرد اپنی جگہ پے معزز بن چکا ہے کچھ نہ کچھ تعلیمی شعور بھی آچکا ہے ہر کوئ اپنے اپنے جنگ اور مستقبل کیلئے فکر مندی میں مدہوش ہے کسی بھی فرقے کے سفید پوش جس سیاسی رہنماوں کے ساتھ سیاسی الحاق کرے اسکی بات پر اسکے قوم کے 10% لوگ بھی بڑی مشکل سے اسکے ساتھ چلتے ہیں ہر کوئ اپنی مفاد اور مستقبل کیلئے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہے اس لیئے کہتا ہوں ورکرز وڈیروں چوہدریوں سے اگے نکل چکے ہیں فرض کریں ایک فرقے کا سربراہ آپکے ساتھ ملکر اپنے فرقے سے تمہیں 10سے50% ووٹ لیکر دیگا اور ایک ورکر جو منعظم ہے اسکی ایک پوسٹ ملک بھر سے آپکے ہر ممبر کو 100 ووٹ لیکر دینے کا اہلیت رکھتا ہے کیونکہ ورکرز پورے ملک اور دنیا بھر میں اپنے ملک اور قومی پارٹی کیلئے ہر ووٹر تک آپکے پیغام پہنچانے اور پارٹی کی ترجمانی میں لڑتا رہتا ہے صرف اسکے سر پر بڑا پگڑی نہیں نیچے گاڑی نہیں اور سوٹ بوٹ نہیں اس لیئے اسے ترجیع نہیں دیا جارہا اور اسے ترجیع نہ دینے کا خمیازہ بھی پارٹیز یا لوکل سیاسی رہنما کو اسوقت بھگتا پڑتا ہے جب وہ آپکا ساتھ چھوڑ کر سامنے آکر اپنے حقوق کیلئے کھڑا ہوکر سوال کرے کہ میں نے اپنے زندگی میں آپکیلئے اور آپکے پارٹی کیلئے جنگ لڑا آپ نے میرے لیئے یا مستقبل کیلئے اور میرے علاقے بستی محلے کیلئے کیا بتائیں مجھے بتائیں اور دکھائیں اس لیئے میں اب آپکے ساتھ نہیں چل سکتا آپ غلط روش لیکر الٹے راستے پر ہیں آپ دوسروں سے میرے حق کا سودا کرتے آرہے ہیں میرا حق کسی اور کو کیوں دیا جارہا اور مجھے کیوں نہیں ملتا میں کسی بھی غلط فرد یا افراد یا پارٹی کو سپورٹ نہیں کرتا تو تمہیں سمجھ آتی ہے کہ اب عرب سے عجم تک تماری اور تمہارے پارٹی کی کار کردگی پر سوالیہ نشان بناکر لوگوں تک پہنچائے تو لوگ بھی آپکو اور آپکے پارٹی کو ٹیڑھی نظروں سے دیکھنا شروع کردینگے اگر ایک فرقے کا سربراہ یا چوہدری آپسے روٹھ جائے تو وہ صرف اپنے ہی فرقے کے 50 ووٹ آپ تک پہنچنے نہیں دیتا اور پورے ملک میں آپکا حشر نشر تو نہیں کر سکتا نہ پورے ملک میں کسی بھی رہنما یا پارٹی کے کارکردگی پر سوالیہ نشان بناکر پیش نہیں کر سکتا مگر جو دس سال پہلے قومی معززین کہہ کر پکارا لکھا اور بولا کرتے تھے آج انہی معززین کو اس جدید دور میں لوگ (پگڑ_پوش) لکھ بول اور پکار رہے ہیں معزرت کے ساتھ میں کسی کی گستاخی یا تضحیک نہیں کررہا ہوں صرف حقیقت بتا رہا ہوں اب وہ دور نہیں رہا جس میں آپ جاگیرادارانہ سوچ لیکر پیدا ہوئے تھے اور عوام کو صرف اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا کرتے رہے پورے علاقے کو داو پر لگا کر اندھیرے میں ٹھونستے رہے اسوقت جب کسی بھی سیاست دان کا کسی وڈیرے کے مہمان خانے میں آنے کی آمد ہوتی تو پورا قوم پانچ گھنٹے پہلے اس وڈہرے کے ڈیرے میں لوگ پہنچ جاتے سیاست دان کے آنے پر اسکا پرجوش انداز میں استقبال کیا جاتا اور آنے کی خوشی میں دھڑا دھڑ ہوائ فائرنگ ہوتی جب وڈیرہ صاحب اور سیاست دان بیٹھ کر اپنے حتمی فیصلے پر پہنچ جاتے پورے قوم محلے اور بستی کا سودا مکمل ہو جاتا تو آخر میں دعائے خیر کہہ کر سیاستدان کو الوداع کہتا لیکن عوام کو یہ بھی پتہ تک نہیں تھا کہ کس بات پر #ملک_صاحب نے ہمارے ووٹ اسے دیئے ہمارے لیئے کیا مطالبہ کیا گیا کسی کو نہیں معلوم صرف آخر میں یہ کہا جاتا میں اپنے پورے برادری محلے یا بستی کے ساتھ آپکے ساتھ شمولیت اختیار کرتا ہوں ہمارا ووٹ آپکا ہے ہم آپکے ساتھ دینگے لیکن وہاں موجود کسی میں یہ ہمت ہی نہیں تھا کہ زرا بھی جاکر چوہدری یا #وڈیرہ_صاحب سے پوچھ تو لیں ہمارے ووٹ کے بدلے میں ہمیں کیا ملیگا مجال ہے کسی میں یہ ہمت ہوتی بس صرف دعاوں سے جھولیاں بھر بھر کر واپس خالی منہ لیکر شام کو گھر واپس چلے جاتے لیکن کسی اور کے پوچھنے پر بھی پورے محلے یا بستی قوم کے کسی بھی فرد کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا ہم کس خوشی میں انہیں ووٹ دیتے ہیں ہمیں کیا ملیگا صرف یہ کہہ سکتے تھے پتہ نہیں وڈیرہ صاحب نے سردار صاحب کے ساتھ یا خواجہ صاحب کے ساتھ دعا خیر کی اب ہمارا ووٹ بھی اسکا ہے اب یہ نہیں چلیگا کام کام اور کام سیاستدانوں کو چاہیئے معززین اپنی جگہ قابل احترام ہیں لیکن ورکرز پورے پارٹی کیلئے وہ حیثیت رکھتے ہیں جیسا کہ کسی پارٹی کے سربراہ اور پارٹی سربراہ کے بیانیئے کو لیکر ملک کے گلی کوچوں میں آپکا پیغام یہی ورکرز پہنچاتے پھر رہے ہیں جہاں نہ پارٹی سربراہ جاسکتا ہے نہ پارٹی کا کوئ ممبر پہنچ سکا وہاں پارٹی منشور پہنچانے والے صرف پارٹی ورکرز ہوتے ہیں جو پارٹی کا پیغام لیکر ہر گھر کے ہر فرد کو الگ الگ پہنچانے کا فن جانتے ہیں اور وہ صرف یہی ورکر ہیں اگر 80 کلو بھاری بھرکم جسم والے ترو تازہ انسان کے منہ میں خدا نخواستہ دو چٹانگ زبان نہ ہو یا بولتا نہیں یا کچھ اور ہو تو جسم کے کسی بھی حصے میں کوئ تکلیف ہو تو وہ صرف روتا تو ہے لیکن بتا نہیں سکتا کیونکہ 80 کلو جسم صرف دو چٹانگ زبان کا محتاج ہے جسے اللہ تعالی نے بہت حکمت سے نوازا اسکا مقصد یہی ہوا کہ کسی بھی پارٹی کے پورا وجود ہی مکمل ہو اسکے ورکرز نہیں یا انہیں ورکرز کی قدر نہیں تو پارٹی کا پورا وجود بے جان ہے اور اسکا زبان نہیں تو صحیح اور غلط کا ازالہ کیسے کیا جاسکتا ہے اور پارٹی کی مجبوریوں کو کون عوام تک پہنچا سکتا ہے جسے عوام کو معلوم پڑے یہ پارٹی اس مجبوری کی وجہ سے یہی کرنے پر مجبور ہے


Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201