Thursday, 7 February 2019

صحت کارڈ حاصل کرنیکا طریقہ اور اسکے خدو خال

*صحت کارڈ کیا ہے یہ آپکو کہاں سے ملے گا اور آپ نے اسکو کیسے استعمال کرنا ہے*صحت سہولت پروگرام میں شمولیت کیلیے نیشنل پاورٹی سروے میں32.5سےنیچےریٹنگ والے تمام خاندانوں کویہ کارڈآٹومیٹک سسٹم کےذریعےدئیےجائیں گےصحت کارڈ فی کارڈ انشورنس سات سے نو لاکھ تک ہے ،اب یہ کارڈ ہے کیا یہ آپکو کہاں سے ملے گا اور آپ نے اسے استعمال کیسے کر ناہے
سب سے پہلی بات کہ یہ حکومت کا بہت ہی زبردست اقدام ہے اور اس کا زیادہ تر فائدہ پاکستان کے غریب طبقے کو ہے جو بمشکل اپنے گھر کے اخراجات چلا رہے ہوتے ہیں اور جب کبھی گھر کا فرد بیمار ہو جائے اور علاج کے لیئے کسی اچھے ہسپتال جانا پڑ جائے تو پورے مہینے کا بجٹ درہم برہم ہو جاتا ہے،اور کئی کئی مہینوں تک ان کو قرضوں کے بوجھ تلے رہنا پڑتا ہےاس سے پہلے یہ پروگرام امریکہ کے صدر باراک اوباما نے شروع کیا تھا لیکن صدر ٹرمپ نے آتے ہی ان منصوبے کو ختم کر دیا جس کی وجہ سے آج کل اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہےاب اسطرح کے فلاحی کام پاکستانی حکومت اپنے نچلے طبقے کے لیئے متعارف کروا رہی ہے
اس منصوبے سے پاکستان کے ڈیڑھ کروڑ خاندان یعنی اگر ایک گھر کے چھ افراد اوسط نکالی جائے تو یہ کارڈ نو کروڑ افراد کے لیئے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے
اس کارڈ کی انشورنس سات لاکھ سے نو لاکھ تک ہو گی مطلب ایک خاندان یعنی چھ افراد ایک سال میں سات سے نو لاکھ تک کا فری علاج نہ صرف سرکاری بلکہ ڈیڑھ سو سے زیادہ پرائیویٹ ہسپتالوں سے بھی کروا سکتے ہیں اب میں آپکو بتاتا ہوں کہ یہ کارڈ آپکو کیسے ملے گابات یہ ہے کہ اس کے لیئے آپکو کسی قسم کی رجسٹریشن کروانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کسی سفارش کی ضرورت ہے این ایس سی آر کی ٹیمیں سروے کر رہی ہیں پہلے یہ سروے 2012 میں ہوا تھا اب وہی ٹیمیں دوبارہ سروے کر رہی ہیںاسکا باقاعدہ سروے شروع ہو چکا ہے آپ نے کوئی کچھ نہیں کرنا اگر تو آپ کے گھر کا سروے ہو گیا تو ٹھیک نہیں تو جلد ہی سروے ٹیم آپ کے گھر آئے گی آپ سے آپ کے گھر کے مالی حالات جانے گی اور بعد میں آپکو کارڈ کا اجرا کر دیا جائے گا ہو سکتا ہے کارڈ آپکے گھر ڈیلیور کر دیا جائے اور اگر ڈیلیور نہیں ہوا تو چھوٹے چھوٹے قصبوں اور شہروں میں سہولیاتی سنٹر کھولے جائیں گے جہاں سے آپ اپنا کارڈ لے سکتے ہیںایک بات آپ نے یاد رکھنی ہے کہ آجکل فراڈ بہت ہے آپ نے صرف این ایس سی آر کی ٹیم ان کے سوال کے جائز جواب دینے ہیں ،اس سکیم میں کسی قسم کی کوئی سیاسی سفارش،یا اگر کوئی سرکاری ملازم آپ کو کہتا ہے کہ پیسے دیکر میں کروا سکتا ہوں تو وہ سب جھوٹ ہو گایہ کارڈ بالکل مفت ہوں گے کسی قسم کی کوئی فیس نہیں ہو گیانصاف صحت کارڈ انشورنس کیا ہے اس سے فائدہ کیسے اٹھانا ہے،طریقہ کار یہ ہے کہ حکومت پاکستان آپکے خاندان کے نام انشورنس کے دوہزار روپے بو جمع کرواتی ہے اس سے ایک سال کے اندر سیکنڈری کیئرsecondary care جس سے آپ کی جان کو خطرہ نہ ہو لیکن آپ بیمار ہوں جیسے بخار،وغیرہ تو اس کے لیئے آپکی انشورنس ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ بیس ہزار تک ہوگی2:دوسری بات کہ اللہ نہ کرے آپکو ایسی بیماری لاحق ہے جس سے آپکی جان کو خطرہ ہے،جیسے دل کے امراض،ٹی بی،شوگر ،گردے،دماغ کا آپریشن،اور روڈ ایکسیڈینٹ کے علاوہ،کینسر ،ہیپاٹائیٹس سی ہوں تو اس کے لیئے حکومت پاکستان نے آپ کے لیئے تین سے چھ لاکھ روپے سالانہ کی انشورنس جمع کروائی ہے
ایک بات آپ نے یاد رکھنی ہے کہ یہ نہیں سوچنا کہ اگر آپ یہ کارڈ استعمال نہیں کریں گے تو سال کے بعد رقم آپکو بطور کیش مل جائے گی ایسا ہر گز نہیں ہے ،جب کبھی اللہ نہ کرے آپ بیمار ہوتے ہیں تو اپنے قریبی اچھے سرکاری یا پرائیویٹ ہسپتال جائیں گے جہاں یہ کارڈ کارآمد ہو گا تو وہاں اس سکیم کا ایک نمائیندہ بیٹھا ہو گا جو آپکا کارڈ دیکھ کر آپکا شناختی کارڈ چیک کرے گا اور وہاں جو علاج معالجے کا خرچہ ہو گا وہ اس کارڈ کے ذریعے ادا کیا جائے گا
اگر ہیلتھ کارڈ سروے کی ٹیم آپ کے گھر نہیں آئی تو ان کے نمبر080026477 پر آپ کال کر کے معلومات لے سکتے ہیں
اس سکیم کا آغاز سب سے پہلے اسلام آباد سے ہو گا پھر فاٹا اور اس کے بعد ملک بھر میں اس کارڈ کا اجرا کیا جائے گا
اس سے پہلے یہ سکیم خیبر پختونخواہ میں پچھلے تین سال سے بہت کامیابی سے چل رہی ہے اور اب انشاءاللہ پورے پاکستان میں متعارف کروائی جائے گی
تو اگر آپ خود یا آپکے جاننے والے جو حقدار ہیں اس ہیلپ لائن نمبر پہ کال کریں اور سروے ٹیم سے کنفرم کریں کہ کیا ہماری رجسٹریشن ہو گئی ہے یا کب ہو گی

نواز شریف کو کچھ ہوا تو زمیدار عمران خان ہوگا حمزہ شہباز


مانگے تانگے کی حکومت گرا سکتے ہیں لیکن اس کو شہید نہیں بننے دیں گے جوڈیشل کمیشن بن جاتاتو دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی ہو جاتا ، پریس کانفرنس
لاہور(نمائندہ دنیا )پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے کہا ہے اگر نوازشریف کی صحت کو کچھ ہواتو ذمہ دار حکومت اور عمران خان ہونگے ، چاہیں تو مانگے تانگے کی حکومت کو گرا سکتے ہیں لیکن نیازی کی حکومت کو شہید نہیں بننے دیں گے ۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران حمزہ شہباز نے کہا نوازشریف کی صحت سے متعلق فیملی بہت زیادہ پریشان ہے ،وہ کئی امراض میں مبتلا ہیں، حکومت اپنی ذمہ داری اداکرے ۔حمزہ شہباز نے عمران خان کو جنوبی پنجاب اور معیشت کی بحالی کیلئے غیر مشروط تعاون کی پیشکش بھی کر ڈالی ۔حمزہ شہباز نے کہا قومی و پنجاب اسمبلی کا ماحول خراب ہو چکا ہے ، ٹاک شوز میں اچھی گفتگو نہیں ہوتی ،شیخ رشید کو اللہ ہدایت دے ۔ انہوں نے کہاحکومت کو جب چاہیں گرا دیں لیکن اپوزیشن میں خوش ہیں یہ اپنے وزن سے خود گر جائے گی ۔ انہوں نے کہا سانحہ ساہیوال پر اگر جوڈیشل کمیشن بن جاتاتو دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی ہو جاتا لیکن منیبہ اور خلیل کے لواحقین کو انصاف دلوانے تک حکومت کاپیچھا نہیں چھوڑوں گا۔انکا کہنا تھا حکومت کی جانب سے علیمہ خان کی سلائی مشین سے حاصل دولت کو تحفظ دینے کیلئے اسمبلی میں بل لایاگیا

Saturday, 2 February 2019

حب میر ضیاءالرحمن لانگو کا گڈانی جیل کا دورک

حب : صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو نے گڈانی جیل  کا دورہ کیا

حب : صوبائی وزیرِداخلہ میر ضیاء لانگو کو  جیل  قیدیوں سے ملاقات کیا

حب : قیدیوں کے مسائل سنے اور قیدیوں کی سزا میں دوماہ معافی کا اعلان کیا

حب : جیلوں میں ریفارم لارہے ہیں قیدیوں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کریں گئے ، میر ضیاء لانگو

حب : پولیس اور لیویز کو سیکورٹی کے لئے جدید آلات فراہم کریں گے ، میر ضیاء لانگو

حب : بلوچستان  اب مزید خون خرابی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ، صوبائی وزیر داخلہ

حب : روڈ حادثات کے روک تھام کے لئے اقدامات کررہے ہے ، میر ضیاء لانگو

حب : موٹروے پولیس ، لیویز اور پولیس کردار ادا کرے روڈ حادثوں پر کنڑول پایا جاسکتا ہے ، صوبائی وزیر داخلہ

حب : سانحہ بیلہ کے انکوائری رپورٹ جلد تیار ہوگئی ، سانحہ کے متعلق ہر زاویہ سے تحقیق کررہے ہیں ، میر ضیاء لانگو

حب : مسافر کوچوں کے اور لوڈنگ ، اور اسپیڈ کے خلاف سخت کاروائی کریں گے، ضیاء لانگو

حب: دورے  میں شہزاد صالح بھوتانی بھی ان کے ہمراہ تھے

ڈیرہ مراد جمالی میں تقریب


نصیرآباد میں 92نیوز کی بیباک اور پر اعتماد صحافت کے چار سال مکمل ہونے پر 92نیوز کی چوتھی سالگرہ نہایت دھوم دھام سے منائی گئی
نصیرآبادمیں منعقد ہونے والی 92نیوز کی چوتھی سالگرہ کی اس شاندار تقریب کا آغازتلاوت قرآن پاک سے کیا گیا تقریب میں کیک ڈپٹی کمشنر نصیرآباد قربان علی مگسی نے کاٹا اس تقریب میں سرکاری افسران میں ڈائریکٹر سوشل ویلفئیر محمد سلیم کہوسہ،ڈویثرنل ڈائریکٹر ہیلتھ حماداللہ زہری،اسپیشل برانچ کے انچارج لال محمد ،ضلع کونسل ایڈمنٹریشن احمد نواز جتک ،سیاسی سماجی قبائیلی شخصتیوں میں پی ٹی آئی بلوچستان کے رہنما سردار زادہ میر بیبرک رند،میر شوکت خان بنگلزئی ،جماعت اسلامی کے سابق امیر پروفیسر محمد ابراہیم ابڑو،خاوند بخش مینگل،عوامی تحریک کے چئیرمین نواب دین ڈومکی،ایم کیو ایم امداد علی مری،جمعیت علماء پاکستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری مولاناعبدالحکیم انقلابی، اقلیت کے رہنما ڈاسو مل ،پی ٹی آئی اقلیت کے رہنما سنجے کمار پنجوانی،رند قومی اتحاد کے ضلعی صدر منظور احمد مستوئی، بابو اصغر رند ،بی این پی کے صوبائی رہنما میر مرزا خان مینگل ،نیشل پارٹی کے ضلعی رہنما تاج بلوچ ضلعی صدر پی پی پی کے مرتضی منگی، پی ٹی آئی کے غازی خان پیچوہا ،بی این ایم کے سید قادر شاہ، امان اللہ بنگلزئی ، ،مسلم لیگ (ن) کے خان جان بنگلزئی نصیرآباد جرنلسٹ فورم(نجف ) کے چئیرمین حبیب اللہ رند، سمیت دیگر علاقائی صحافیوں اور لوگوں کی بڑی کی تعداد نے شرکت کی 92نیوز چینل کی چوتھی سالکرہ کی اس شاندار تقریب میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد قربان علی مگسی، سردار زادہ میر بیبرک رند، پی ٹی آئی کے میر شوکت خان بنگلزئی ،میر مرزا خان مینگل ، اقلیت کے رہنما ڈاسو مل سمیت سب شرکاء نے 92نیوز کو اپنا اور عوام الناس کا پسندیدہ چینل بتایا اور کہا کہ یہ نیوز چینل عوام الناس کی حقیقی مسائل کی ترجمانی کرتا ہے اس چینل نے اپنی بیباک اور پر اعتماد صحافت سے نہ صرف پاکستان کے شہریوں بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے دل بھی جیت لئے ہیں اس شاندار اور یادگار تقریب کے اختتام پر اس تقریب کے شرکاء کی طرف سے 92نیوز اور ملک پاکستان کے لئے خصوصی دوعائیں کی گئی۔

Monday, 28 January 2019

پاکستان میں بانچھ پن کا خطرناک حد تک اضافہ

کراچی(طبی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں بانجھ پن ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ ملک میں 15 سے 20فیصد جوڑے بانجھ پن کا شکار ہیں۔ ایسے بانجھ پن جوڑوں میں سے 40 فیصد مردوں، 30فیصد عورتوں اور 30فیصد کیسز میں مرد اور عورت دونوں میں خرابی ہوتی ہے۔ اس خرابی کے باعث خواتین معاشرے کی ستم ظریفی کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ اکثر اوقات مردوں میں خرابی کے باوجود عورتوں کو طلاق دے دی جاتی ہے۔ مرد تین، تین، چار، چار شادیوں کے باوجود بھی اولاد پیدا نہیں کرپارہا ہوتا ہے۔ بانجھ پن کی بیماری کے 80فیصد کیسز
کا اب علاج ممکن ہے۔پاکستان میں بانجھ پن کے مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ آج کل 19سے 22سال کی عمر کی نوجوان لڑکیوں میں ایک بیماری پولی سسٹک اوورین ڈیزیز کافی بڑھ گئی ہے جس میں لڑکیوں کی مونچھ اور داڑھی کے بال ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ایسی صورت حال ہونے پر والدین کو ایسی بچیوں کی جلد شادی کا سوچنا چاہیے کیونکہ شادی اور پھر بچوں کی پیدائش کے بعد یہ مسئلہ کافی کم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی جوڑے کے ہاں شادی کے 12 ماہ کے اندر ازدواجی تعلقات خوشگوار ہونے کے باوجود بچے کی پیدائش نہ ہو تو انہیں بانجھ پن کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے انہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے جس کے بعد وہ انہیں ضرورت کے مطابق ماہر امراض نسواں یا یورولوجسٹ کے پاس ریفر کر دے گا۔ بانجھ پن کا شکار جوڑوں کو کسی بنگالی بابا اور حکیم کے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے۔ بانجھ پن ایک بڑی سائنس ہے اور اس بیماری کے 80 فیصد کیسز کا کامیاب علاج ممکن ہے۔بانچھ پن کے 100میں سے 15فیصد کیسز ایسے ہوتے ہیں جن میں خرابی نہ ہونے کے باوجود بھی وہ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ،بیماری کی تشخیص کے لیے تجویز کیے گئے ٹیسٹ بھی بعض اوقات لوگ غیر معیاری لیبارٹریز سے کراتے ہیں جس سے رپورٹ صحیح نہیں ملتی اور بروقت علاج شروع نہیں ہو پاتا۔ بعض مردوں میں جرثومہ ہی نہیں ہوتاتو اس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔

امریکہ ڈیتھ لوئ ایئرپورٹ باکسر محمد علی کے نام ائیرپورٹ


محمد علی امریکی ریاست کینٹکی کے شہر لوئی ِیل میں پیدا ہوئے تھے۔ باکسنگ میں ان کا کیریئر ایک شوقیہ کھلاڑی کی حیثیت سے تھا  لیکن ان کوشہرت اس وقت حاصل ہوئی، جب 1960ء میں روم اولمپکس میں انہیں باکسنگ ڈسپلن میں سونے کا تمغہ حاصل ہوا۔
لیکن تمغہ جیتنے کے بعد جب محمد علی اپنے شہر واپس آئے تو وہ نسلی امتیاز کا شکار ہوگئے۔ ایک ریستوران میں انہیں اس لیے نوکری نہ مل سکی کیونکہ وہ سیاہ فام تھے اور اس واقعے کے نتیجے میں انہوں نے اپنا سونے کا تمغہ دریائے اوہائیو میں پھینک دیا تھا۔
اس باکسنگ چیمپیئن نے خود کو ہمیشہ عظیم تر انسان ثابت کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے کام سے یہ ثابت بھی کیا کہ ایک بڑا انسان بننےکے لیے صرف ارادے اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندگی کے کئی مشکل امتحان جیتنے والا یہ انسان  اپنی سب سے طویل جنگ "پارکنسنس سنڈروم" نامی مرض سے ہار گیا۔ وہ دس برس تک رعشے بیماری میں مبتلا رہنے کے بعد دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔
محمد علی کو خوبیوں کا قلعہ بھی کہا جاتا تھا۔ وہ ایک اچھے باکسر، ایک رحم دل انسان، انسانیت کا درد رکھنے والے چیمپئن، مخالفین کو اپنی حاضر جوابی سے چپ کرا دینے والے ہردلعزیز شخص بھی تھے۔ عام طور پر لوگ محمد علی کو ایک باکسر کے طور پر جانتے ہیں مگر وہ جتنے اچھے باکسر تھے اسے سے کہیں بڑے انسان بھی تھے۔ باکسنگ رنگ  میں مخالفوں کو ایک مکے سے چت کردینے والا محمد علی عملی زندگی میں انسانیت دشمن سوچ رکھنے والے افراد کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ تھا۔ باکسنگ رنگ کے ساتھ ساتھ ان کی سیاہ فام امریکیوں کے حقوق اور انسانیت کے لیے خدمات بھی قابل صد ستائش ہیں۔
میئر گریگ فشر نے ایک بیان میں کہا۔’’محمدعلی ... نے بشریت اور اخلاقیات کا ایک ورثہ چھوڑا ہے، جس سے اربوں افراد مستفید ہورہے ہیں۔یہ ضروری ہے کہ ہم، اس شہرکے ائیر پورٹ کواس چیمپئن کی عظمت کے نام کریں۔‘‘
لوئی ویل ہوائی اڈے کو  محمد علی لوئی ویل انٹرنیشنل ایئر پورٹ بنائے جانے پر اس عظیم باکسر کی بیوہ کافی خوش ہیں۔ وہ یہ کہتی ہیں کہ یہ شہر محمد علی کی شخصیت کا عکاس ہے۔
محمد علی اب اس دنیا میں نہیں رہے مگر جب تک دنیا قائم ہے انہیں ایک عظیم باکسر اور ایک عظیم  انسان کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ محمدعلی کے بقول ”وہ باکسنگ کو مس نہیں کریں گے باکسنگ رنگ ان کو ہمیشہ مس کرے گا۔“

محمد علی: عظیم باکسر کا شخصی خاکہ

سوچ سے بالا

سن 2015 میں اگست کی 15 تاریخ سے اکتوبر کی 10 تاریخ تک جاری رہنے والی اس نمائش میں اس سپر ہیرو کے تصاویر پیش کی گئیں۔ محمد علی کی یہ تصاویر شکاگو میں سن 1966 میں جرمن فوٹوگرافر تھوماس ہؤپکر نے لی تھیں۔ ہؤپکر محمد علی کے پسندیدہ ترین فوٹوگرافروں میں سے ایک تھے۔

محمد علی: عظیم باکسر کا شخصی خاکہ

محمد علی کی ’قربانی‘

کارل فشر نے سن 1967ء میں محمد علی کی یہ تصویر لی تھی، جسے ’اسکوائر‘ میگزین کا سرورق بنایا گیا تھا۔ اس تصویر میں اطالوی نشاط ثانیہ میں سینٹ سباستیان کے قتل کی پینٹنگ کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ سن 1967 میں جب محمد علی کو ویت نام کی جنگ میں حصہ لینے کے لیے کہا گیا تو انہیں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ کسی ویت نامی نے انہیں کبھی ’نیگرو‘ کہہ کر نہیں پکارا۔

محمد علی: عظیم باکسر کا شخصی خاکہ

بیٹلز کے ساتھ

سن 1964 میں ہیری بیسن نے اس وقت کیسیئس کلے کہلانے والے محمد علی کی معروف پاپ میوزک بینڈ ’دا بِیٹلز‘ کے ساتھ میامی میں ملاقات کے موقع پر یہ تصویر لی۔ محمد علی باکسنگ کے پہلے پاپ اسٹار بھی کہلاتے ہیں۔ اس تصویر میں چار پاپ اسٹارز اس عظیم باکسر کے ساتھ ہیں۔

محمد علی: عظیم باکسر کا شخصی خاکہ

اکھاڑے میں

xیہ باکسنگ رنگ میں محمد علی کی سب سے مشہور تصویر ہے۔ یہ تصویر لیویسٹن میں سن 1965میں محمد علی کی جانب سے سونی لِسٹن کو ناک آؤٹ کرنے کے چند لمحے بعد لی گئی تھی۔ دونوں باکسروں کے درمیان یہ دوسرا ٹکراؤ تھا۔ نیل لائیفر کے ہاتھوں لی گئی اس تصویر کو ’درست وقت پر، درست مقام سے، درست انداز سے لی گئی تصویر‘ بھی کہا جاتا ہے۔

محمد علی: عظیم باکسر کا شخصی خاکہ

دعا کی طاقت

کیسیئس کلے نے سن 1965 میں اسلام قبول کیا اور اپنا نام تبدیل کر کے محمد علی رکھ لیا۔ 1960ء کی دہائی کے آخر میں وہ امریکا میں میلکم ایکس اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ شہری حقوق کی تحریک سے جڑ گئے اور عوامی سطح پر عموماﹰ اپنے عقیدے اور مذہب پر بات کرتے نظر آتے تھے۔ سن 1966ء میں لی گئی اس تصویر میں علی رنگ میں دعا مانگ رہے ہیں۔

محمد علی: عظیم باکسر کا شخصی خاکہ

شو ہمیشہ جاری رہے گا

محمد علی نے تماشائیوں کے لیے کھیلنے کا کوئی موقع کبھی ضائع نہیں کیا۔ وہ اپنے ٹریننگ سیشن بھی عوام کے لیے کھلے رکھتے تھے۔ یہ تصویر پیٹر انجیلو سائمن نے لی تھی،

سی ٹی ڈی

کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کے ضرور کچھ اچھے کام بھی ہوں  گے لیکن  ان کا ایک دوسرا  افسوس ناک رخ بھی ہے 
سی ٹی ڈی کا ساہیوال میں یہ کوئی پہلا ظلم نہیں ہے ،سینکڑوں کی تعداد میں بے گناہ نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کر مارنا اس ’’ریاستی بندے مار‘‘ادارے کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔کسی بھی شخص کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے جوڑ کر اسے جان سے مارنے کی دھمکی  دے کر لاکھوں روپے بٹورنا اس ادارے کے افسران کا من پسند مشغلہ ہے ،اگر کسی شخص کا ماضی میں کسی کالعدم تنظیم جسے اُس دور میں ’’ریاستی سرپرستی ‘‘ حاصل تھی سے کوئی تعلق رہا ہو تو ایسا شخص سی ٹی ڈی کے نزدیک ’’سونے کا انڈہ دینے والی مرغی‘‘ قرار پاتی ہے ۔سی ٹی ڈی کے افسران اور اہلکار  ایسے افراد کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا اپنا حق سمجھتی ہے ۔درجنوں ایسے افراد بھی شہر میں موجود ہیں جو سی ٹی ڈی کے بھیانک ظلم کا شکار ہو کر ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں ۔کئی افراد ایسے بھی ہیں جو اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے کی بجائے سی ٹی ڈی کے کرپٹ افسران کی ناجائز اور بلاجواز فرمائشوں کو پورا کرنے کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں کہ اگر سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کو ’’حرام ‘‘ نہ کھلایا تو اسے کسی بھی وقت کسی کالعدم تنظیم کا دہشت گرد قرار دے کر شہر کے کسی ویرانے میں مار دیا جائے گا ۔اگر سی ٹی ڈی میں آپ کے کسی ’’بندے مار ‘‘ افسر کے ساتھ قریبی تعلقات اور بے تکلفی ہو تو پھر وہ آپ کو  بے گناہ بندوں کو دہشت گرد قرار دے کر مارنے کےایسے ایسے واقعات سنائے گا کہ آپ کی روح کانپ جائے گی۔سی ٹی ڈی کی بندے مار کارروائیوں میں اب تک سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ،سی ٹی ڈی کے مقابلوں کی تمام تفصیلات نکال کر دیکھ لیں آپ کو کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملے گا جس میں کوئی اصل مقابلہ ہوا ہو ۔اگر آپ حقیقی معنوں میں دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں اور ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث بھی ہیں لیکن ’’حرام ‘‘ کھلانے کے لئے آپ کے پاس وافر مقدار میں پیسے موجود ہیں تو پھر ’’ستے ای خیراں ہیں ‘‘سی ٹی ڈی کو ’’حرام ‘‘ کھلاتے رہیں اور ملک میں اودھم مچاتے رہیں ،یہ ریاستی ادارہ آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا ۔سی ٹی ڈی کے ’’کارناموں‘‘ کی بڑی لمبی فہرست موجود ہے ،آپ ماضی یا حال میں کسی دہشت گردی کی واردات میں ملوث نہیں رہے اور نہ ہی کبھی دہشت گردوں کی سہولت کاری کا فریضہ سرانجام دیا ہے لیکن اب کالعدم قرار پانے والی کسی کالعدم تنظیم سے تعلق رہا ہے تو  سی ٹی ڈی والے سونگھتے ہوئے آپ کے پاس پہنچ جائیں گے ،اگر ماضی کے اس’’سنگین جرم‘‘ میں آپ کو حراست میں لے لیا گیا ہے تو پھر سی ٹی ڈی افسران آپ کے ساتھ بار گیننگ کرتے ہیں ،اگر تو آپ ’’بھاری معاوضہ ‘‘دینے کی سکت رکھتے ہیں تو پھر تو کام ایک ماہ کی نظر بندی سے ہی چل جائے گا ،تھوڑے پیسوں کی صورت میں کم از کم ایسا مقدمہ بنایا جائے گا کہ جس میں دہشت گردی کی عدالت آپ کو تین سال سے لیکر 5 سال کی سزا سنائے گی اور اگر آپ سی ٹی ڈی کو حرام کھلانے کی پوزیشن میں بالکل بھی نہیں ہیں تو پھر اتنی مقدار میں بارودی مواد آپ کے کھاتے میں ڈالا جائے گا کہ عدالت آپ کو 15 سے لیکر 20 سال کی قید سنا دے گی ،یہ اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ جیل کی اذیت سے بچنے کے لئےاپنا گھر بار بیچتے ہیں یا بیوی بچوں کو دربدر بھیک مانگنے کے لئے چھوڑ کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے مقدر پر آنسو بہاتے ہیں ۔میں نے کئی ایسی فیملیز بھی دیکھ رکھی ہیں کہ جن کے مرد ماضی میں کسی مذہبی جماعت کا حصہ رہے تھے لیکن ایک مدت سے وہ اب اپنے بیوی بچوں کو پالنے کے لئے محنت مزدوری کا سہارا لئے ہوئے تھے ،مذہبی بیک گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے ان کی بیویاں بھی با پردہ تھیں لیکن جیسے ہی سی ٹی ڈی نے انہیں اپنا ’’مہمان‘‘ بنایا ان کی با پردہ بیویاں سی ٹی ڈی کے وحشی افسران کی ہوس کا نشانہ بن گئیں اور آج دربدر رلنے پر مجبور ہیں ۔سی ٹی ڈی کے کسی بے تکلف افسر  یا اہلکار کے پاس بیٹھیں تو ایسی ’’رنگین کہانیاں ‘‘ بھی آپ کو بڑی تعداد میں سننے کو ملیں گی

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201