Welcome To Tibalnews1. Here Uou Will Find Every Local National News Of DGKhan Taunsa And Koh Suleiman Kn A Blink Of An Eye With All Languages Kinds Of Articles.
Thursday, 11 July 2019
بارتھی کے دیہی مرکز صحت میں غریب عوام کیلئے دوائیاں سو%نایاب
Tuesday, 9 July 2019
مھکمہ موسمیات نے زمین اور سورج کے درمیان فاصلہ کم ہونے کی پیشگوئ کردی
مزید خبریں: سانحہ ساہیوال کیس کا چالان انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش
شہر میں سورج کا پارہ آج بھی ہائی ہے، محکمہ موسمیات نے آج گرم ترین دن قرار دے دیا، آج زمین اور سورج کی گردش کے باعث دونوں میں فاصلہ کم ہوا، جس کی وجہ سے آج تپش بہت زیادہ ہے، طبی ماہرین نے لاہوریوں کو بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور کا درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 43 اور کم سے کم 30 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، ہوا میں نمی کا تناسب47 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ہوا 37کلو میٹر فی گھٹنہ کی رفتار سے چل رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج شام کو آندھی چلنے کا امکان ہے جبکہ بادل کل برسیں گے
Saturday, 22 June 2019
پاکستان کو لگا17سال بڑا جھٹکا پیر کو ہوسکتا ہے بڑا اعلان
پاکستان میں عام لوگوں کو ایک تو مہنگائی پریشان کر رہی ہے وہیں دوسری جانب روپئے میں آئی گراوٹ سے شیئر بازار میں لگے پیسے پر بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے شیئر بازار میں 17 سال کی سب سے بڑی گراوٹ درج ہوئی ہے۔ وہیں صرف دو دن میں پاکستان کا روپیہ ایک امریکی ڈالر کے مقابلے 3 روپئے تک کمزور ہوگیا ہے۔ پاکستان کی اس حالت کو دیکھ کر کئی معیشت سال 2008 کی مندی کی کا موازنہ اس موجودہ وقت سے کرنے لگے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگلے کچھ مہینوں میں مہنگائی 10 فیصدی کے پار پہنچ سکتی ہے۔ حالانکہ پیر کو پاکستان کا سینٹرل بینک اقتصادی حالات کو لیکر بڑے قدم اٹھانے کی تیاری میں ہے۔ مانا جارہا ہے کہ سود شرح کا فیصلہ ہوگا۔ ساتھ ہی روپئے کو سنبھالنے کیلئے کئی اہم اور بڑے فیصلے ہو سکتے ہیں۔
بلوم برگ نے پاکستانی روپے کو ایشیا کی بدترین کرنسی قرار دے دیا۔ پاکستانی کرنسی افغانستان، بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی کمزور ہو چکی ہے ۔ ہندوستان ،بھوٹان ، تھائی لینڈاور ساؤتھ افریقہ کی کرنسی بھی پاکستان سے بہتر ہے۔ معروف ایجنسی بلوم برگ نے روپے کی قدر کے حوالے سے تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے جس میں روپے کو گزشتہ 8 ماہ کے دوران کارکردگی کے لحاظ سے ایشیاء کی بدترین کرنسی قرار دیا۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی فائل فوٹو
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک ڈالر 149 روپے پر پہنچ گیا ہے ،دیگر ممالک کی کرنسی پاکستان کے مقابلے میں کچھ بہتر ہے۔ ایک ڈالر میں افغانستان کے79افغانی ملتے ہیں جبکہ ہندوستان میں ایک ڈالر کے 70روپے جبکہ بنگلہ دیش میں ایک ڈالر84ٹکے کے برابر ہے،اسی طرح نیپال میں ایک ڈالر112 کا روپے ہے، بھوٹان میں ڈالر 69 گلٹرم میں فروخت ہوتا ہے۔ تھائی لینڈ میں ایک ڈالر کی قیمت 32 بھات کے برابر ہے، ساؤتھ افریقہ میں ایک ڈالر کے14.45رینڈ ملتے ہیں۔
ایک سال میں پاکستان کی کرنسی کے حساب سے بدترین مارکیٹوں میں شمارہوتا ہے۔ مئی 2018 سے اب تک روپے کی قدر میں 29 فیصد کمی ہوئی، پہلی اور دوسری نمبر پر سوڈان اور ارجنٹائنا کی کرنسی ہے۔ دونوں ممالک کی کرنسی میں ایک سال کے دوارن 149 فیصد اور 81 فیصد کمی ہوچکی ہے۔پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو ڈالر 124 روپے 50 پیسے کا تھا، اس وقت ڈالر انٹر بینک میں 149 روپے میں ہوچکا ہے۔
(نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ )
Wednesday, 12 June 2019
ڈیرہ غازی خان کے سپوت مائیہ ناز رہنما وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان خان کے کاوشیں منفرد انداز میں جاری و ساری ہیں
ڈیرہ غازی خان کے کچھ خیالی عناصر کہتے رہے
ان پانچ سالوں میں ڈی جی خان کے لیئے کوئی میگا پروجیکٹ نہیں لاسکے گا اب دیکھیں.
مشیر صحت پنجاب محمد حنیف خان پتافی کی طرف سے وزیراعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار کو ڈی جی خان کے لیئے دی جانے والی مجوزہ سکیمیں پنجاب کے 2019/20 بجٹ میں منظور۔
1۔ کارڈیالوجی ہسپتال کے لیئے 4 ارب روپے
2۔نیو ایمرجنسی اوپی ڈی بلاک کے لیئے5۔4 ا رب روپے
3۔نیو گائینی بلاک کی تعمیر کے لیئے 2 ارب روپے
4۔میر چاکر یونیورسٹی کے لیئے ابتدائی بجٹ 1ارب روپے
5۔بیوٹی فیکیشن آف پل ڈاٹ 50کروڑ روپے
6۔بیوٹی فیکیشن آف مانکہ کینال 285 ملین روپے(1 ارب 12 کروڑ)
7۔گلیوں میں ٹف ٹائل کی تنصیب کے لیئے مزید 36 ملین روپے
8۔سیوریج کی کمپری ہینسیو سکیم کے لیئے 1300ملین روپے
ان پانچ سالوں میں ڈی جی خان کے لیئے کوئی میگا پروجیکٹ نہیں لاسکے گا اب دیکھیں.
مشیر صحت پنجاب محمد حنیف خان پتافی کی طرف سے وزیراعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار کو ڈی جی خان کے لیئے دی جانے والی مجوزہ سکیمیں پنجاب کے 2019/20 بجٹ میں منظور۔
1۔ کارڈیالوجی ہسپتال کے لیئے 4 ارب روپے
2۔نیو ایمرجنسی اوپی ڈی بلاک کے لیئے5۔4 ا رب روپے
3۔نیو گائینی بلاک کی تعمیر کے لیئے 2 ارب روپے
4۔میر چاکر یونیورسٹی کے لیئے ابتدائی بجٹ 1ارب روپے
5۔بیوٹی فیکیشن آف پل ڈاٹ 50کروڑ روپے
6۔بیوٹی فیکیشن آف مانکہ کینال 285 ملین روپے(1 ارب 12 کروڑ)
7۔گلیوں میں ٹف ٹائل کی تنصیب کے لیئے مزید 36 ملین روپے
8۔سیوریج کی کمپری ہینسیو سکیم کے لیئے 1300ملین روپے
Tuesday, 28 May 2019
ماہ مبارک میں گناہوں کی معافی اور مسلمانوں کیلئے بخشش کی بنیاد
شادیاں ، مال ، رزق : ماہ رمضان اور مسلمانوں کے سب گناہوں کی معافی :
ہمارے گناہ ہم سے نعمتوں کے چھن جانے یا اُن کی دوری کا سبب بنتے ہیں ۔ یقین نہیں آتا تو ذرا نظر دوڑا کر معاشرے کی طرف دیکھئے ۔
۱) جنسی گناہ: لوگ طرح طرح کے جنسی گناہوں میں مُبتلا ہیں ۔ کچھ مثالیں انڈین ، پاکستانی یا ہالی ووڈ کی فلمیں اور ڈرامے دیکھ کر جنسی تسکین حاصل کرنا ، نا محرموں کی طرف نظر ڈالنا اور خود لذّتی وغیرہ جیسے اعمال ہیں ۔
نتیجہ : ان گناہوں کا صاف اور واضح نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان شادی جیسی نعمت سے دور ہو چکے ہیں ۔ دور ہونے کا کیا مطلب ہے؟ شریعت نے شادی کی عمر لڑکوں کیلئے ۱۴ یا ۱۵ سال اور لڑکیوں کیلئے ۹ یا ۱۰ سال رکھی ہے ۔ یہی وہ عمر ہے جب لڑکا اور لڑکی جنسی ضروریات محسوس کرنا شروع بھی کر دیتے ہیں اور ان کی شادی ہو بھی جانی چاہئے ، لیکن یہی شادی معاشرے میں ۹۹ فیصد حد تک ۲۰ سال سے اور بعض حالات میں ۳۰ سال سے بھی اوپر جا چکی ہے ۔ یعنی اس عمر تک لڑکے لڑکی کی شادی کا تصور ہی محال ہے کہ بروقت شادی کر کے معاشرہ اُنہیں گناہوں سے بچا لے ۔
حل: ماہ رمضان ہے ، صدق دل سے توبہ کرو ، تا کہ یہ نعمت معاشرے کو میسر آ سکے ۔ والدین اور اولاد سب مل کر کوشش کریں ۔ اس کا مزید تذکرہ آئندہ چل کر بھی آئے گا۔۔
۲) رشتے داروں سے بدسلوکی: طرح طرح سے رشتوں کو اذیّت دینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اُن کو تنگ کرنے کیلئے زبان کا غلط استعمال کرنے میں پہل کی جاتی ہے ۔ بہت حد تک اس کی وجہ بھی فلمیں ڈرامے وغیرہ ہی ہیں ، جن میں یہی کام بکثرت کئے جاتے ہیں ۔ ساس بہو کو اذیت دیتی ہے تو بدلے میں بہو ساس کے خلاف زہر اگلتی ہے ۔ وغیرہ وغیرہ
نتیجہ: معاشرہ سکون سے دور ہو چکا ہوا ہے ۔ ہر کوئی لڑنے میں ہی بہادری سمجھتا ہے ۔ جب کہ سکون تو نہ لڑنے اور غصے کو قابو میں رکھنے میں ہے ۔ علاوہ ازیں، اس بات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان تنہا ہو جاتا ہے ، رشتے داروں سے قطع تعلقی خود کو بھی دنیوی الجھنوں کا شکار کر دیتی ہے ، جس سے صحت بگڑ جاتی ہے اور عمر گھٹ جاتی ہے ۔ جبھی تمام مسلمانوں کی کتب میں روایات میں بھی یہی ملتا ہے کہ رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے انسان کے رزق اور عمر دونوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔
حل: کسی رشتے دار سے بدسلوکی میں پہل مت کریں اور ماہ رمضان میں اللہ تعالی سے توبہ کے طلبگار ہوں
۳) مال دُنیا کی ہوس: رشتے داروں کو مالی نُقصان دیا جاتا ہے ، جائیدادیں ہڑپ لی جاتی ہیں ، تا کہ اپنے مال میں اضافہ ہو سکے ۔ شادی بھی مال دنیا کے لالچ کی وجہ سے ہی دیر سے کی جاتی ہے ۔۔۔ لڑکے والے جہیز کا لالچ رکھتے ہیں اور لڑکی کی خوب سیرتی اور تقوی نہیں دیکھتے ، اور لڑکی والے بھی لڑکے کی جاب اور اس کا معاشرے میں اسٹیٹس دیکھتےہیں اور اس کا دین اور تقویٰ نہیں رکھتے ۔۔۔ یہ سب شیطانی چالیں ہیں ۔۔۔ جب کہ قرآن کی آیت کہتی ہے کہ شادی کرو اور صبر کرو تو اللہ تمہیں غنی بھی کر دے گا ۔۔۔
نتیجہ : اس مال دنیا کی ہوس کا نتیجہ بھی رشتے داروں سے دوری ہوتا ہے ، جس سے عمر اور رزق دونوں کم ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر جن رشتے داروں سے زیادتی کی گئی ہو ، وہ بھی ساتھ دینے سے اپنا ہاتھ روک لیتے ہیں ، کیونکہ انہیں یہی زیادتیاں یاد ہوتی ہیں ۔ پھر اگر آپ کو کوئی قتل بھی کر دے تو رشتے داروں کو افسوس نہیں ہوتا ، نا ہی وہ آپ کا کوئی ساتھ دیتے ہیں ۔
حل: ماہ رمضان کے صدقے میں اللہ سے رو رو کر معافی مانگیں ، اور قطع تعلقی کی بجائے صلح رحمی سے کام لیں ۔
۴) حسد: دوسروں سے حسد کیا جاتا ہے ، جو کہ حرام ہے ۔۔۔ اسی حسد کی وجہ سے دوسروں کو نقصان دینے یا ان کا بُرا چاہنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
نتیجہ: حسد کر کر کے انسان کی اپنی صحت خراب رہتی ہے ، کیونکہ وہ اپنا ہی خون جلاتا رہتا ہے اور خود کو منفی سرگرمیوں میں مصروف کر لیتا ہے ۔ نتیجتا موت جلد واقع ہو جاتی ہے ۔۔۔
حل: ماہ رمضان ہے ، توبہ کیجئے ۔۔۔!
ماحصل : کیا آپ نے معاشرے پر نظر دوڑا کر دیکھا کہ کس طرح گناہوں نے آپ سے جائز جنسی لذت یعنی شادی ، آپ کے رزق اور آپ کی زندگی کی عظیم ترین نعمتوں کو آہستہ آہستہ آپ سے دور کر دیا ہوا ہے اور مسلسل دور کئے جا رہے ہیں؟
تو اب ہمیں ان سب باتوں کا کیسے پتہ چلا ۔۔۔؟ عزیزو، مولائے متقیان امام حضرت علیؑ کا فرمان ہے کہ : جب انسان کسی بھی شئے کو ناجائز طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ اس کو سزا دینے کیلئے اسی شئے کو اس سے اُتنا ہی دور بھی کر دیتا ہے ۔
سبحان اللہ ! وقتی طور پر جنسی لذت لے بھی لی تو کلی طور پر شادی کی نعمت سے محروم رہے ۔۔۔ دھوکا دے کر پیسہ حاصل کر بھی لیا تو وہ بھی عارضی رہا اور اس کے بدلے میں صحت اور زندگی ہی گنوا دیئے ، یا پیسہ ہونے کے باوجود ذہنی سکون سے ہاتھ دھو بیٹھے اور پیسہ سکون ہی نہ دے سکا ۔۔۔
تو عقل استعمال کیجئے اور ماہ رمضان میں توبہ کر کے ان گناہوں کو مت دہرائیے اور شیطان کی ناک رگڑیں اور اس کے منہ پر تھوکیں ۔۔۔ وہ صرف دھوکا دیتا آیا ہے آپ کو ۔۔۔ جب کہ اللہ کے پاس آپ کیلئے سکون بھی ہے ، رزق بھی اور زندگی بھی ۔۔۔۔
شیطان چاہتا ہے کہ آپ مر جائیں اور مفلس رہیں ، جب کہ اللہ چاہتا ہےکہ آپ کو زندگی ملے اور رزق حلال حاصل ہو ، وہ بھی جنت کے ٹھکانے کے ساتھ ۔۔۔ ورنہ جہنم ۔۔۔ وقتی طور پر حالات خراب بھی ہیں تو صبر کریں ۔۔۔ اللہ نے اپنے نبیوں کے صبر کو بھی ضائع نہیں کیا ۔۔۔ اور آپ کے صبر کوبھی ضائع نہیں کرے گا ۔۔۔ آئیے عزم کریں اور دنیا کو ایک بہتر رہنے کی جگہ بنائیں ۔۔۔
ہماری تحریریں تمام انسانوں کیلئے بلا تفریق مذہب و فرقہ ہوا کرتی ہیں ۔ لہذا آپ بھی یہی سمجھ کر تمام انسانوں تک پہنچائیں اور میری مرحومہ والدہ کیلئے ضرور ہو سکے تو ایک بار کم از کم درود شریف پڑھ دیجئے اور اگر زیادہ ہو سکے تو ایک بار الحمد اور تین بار سورہ توحید پڑھ دیجئے ۔۔۔ بہت شکریہ ! والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔
تحریر و پیشکش: ایڈمن ریئل اسلام ۔
ہمارے گناہ ہم سے نعمتوں کے چھن جانے یا اُن کی دوری کا سبب بنتے ہیں ۔ یقین نہیں آتا تو ذرا نظر دوڑا کر معاشرے کی طرف دیکھئے ۔
۱) جنسی گناہ: لوگ طرح طرح کے جنسی گناہوں میں مُبتلا ہیں ۔ کچھ مثالیں انڈین ، پاکستانی یا ہالی ووڈ کی فلمیں اور ڈرامے دیکھ کر جنسی تسکین حاصل کرنا ، نا محرموں کی طرف نظر ڈالنا اور خود لذّتی وغیرہ جیسے اعمال ہیں ۔
نتیجہ : ان گناہوں کا صاف اور واضح نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان شادی جیسی نعمت سے دور ہو چکے ہیں ۔ دور ہونے کا کیا مطلب ہے؟ شریعت نے شادی کی عمر لڑکوں کیلئے ۱۴ یا ۱۵ سال اور لڑکیوں کیلئے ۹ یا ۱۰ سال رکھی ہے ۔ یہی وہ عمر ہے جب لڑکا اور لڑکی جنسی ضروریات محسوس کرنا شروع بھی کر دیتے ہیں اور ان کی شادی ہو بھی جانی چاہئے ، لیکن یہی شادی معاشرے میں ۹۹ فیصد حد تک ۲۰ سال سے اور بعض حالات میں ۳۰ سال سے بھی اوپر جا چکی ہے ۔ یعنی اس عمر تک لڑکے لڑکی کی شادی کا تصور ہی محال ہے کہ بروقت شادی کر کے معاشرہ اُنہیں گناہوں سے بچا لے ۔
حل: ماہ رمضان ہے ، صدق دل سے توبہ کرو ، تا کہ یہ نعمت معاشرے کو میسر آ سکے ۔ والدین اور اولاد سب مل کر کوشش کریں ۔ اس کا مزید تذکرہ آئندہ چل کر بھی آئے گا۔۔
۲) رشتے داروں سے بدسلوکی: طرح طرح سے رشتوں کو اذیّت دینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اُن کو تنگ کرنے کیلئے زبان کا غلط استعمال کرنے میں پہل کی جاتی ہے ۔ بہت حد تک اس کی وجہ بھی فلمیں ڈرامے وغیرہ ہی ہیں ، جن میں یہی کام بکثرت کئے جاتے ہیں ۔ ساس بہو کو اذیت دیتی ہے تو بدلے میں بہو ساس کے خلاف زہر اگلتی ہے ۔ وغیرہ وغیرہ
نتیجہ: معاشرہ سکون سے دور ہو چکا ہوا ہے ۔ ہر کوئی لڑنے میں ہی بہادری سمجھتا ہے ۔ جب کہ سکون تو نہ لڑنے اور غصے کو قابو میں رکھنے میں ہے ۔ علاوہ ازیں، اس بات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان تنہا ہو جاتا ہے ، رشتے داروں سے قطع تعلقی خود کو بھی دنیوی الجھنوں کا شکار کر دیتی ہے ، جس سے صحت بگڑ جاتی ہے اور عمر گھٹ جاتی ہے ۔ جبھی تمام مسلمانوں کی کتب میں روایات میں بھی یہی ملتا ہے کہ رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے انسان کے رزق اور عمر دونوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔
حل: کسی رشتے دار سے بدسلوکی میں پہل مت کریں اور ماہ رمضان میں اللہ تعالی سے توبہ کے طلبگار ہوں
۳) مال دُنیا کی ہوس: رشتے داروں کو مالی نُقصان دیا جاتا ہے ، جائیدادیں ہڑپ لی جاتی ہیں ، تا کہ اپنے مال میں اضافہ ہو سکے ۔ شادی بھی مال دنیا کے لالچ کی وجہ سے ہی دیر سے کی جاتی ہے ۔۔۔ لڑکے والے جہیز کا لالچ رکھتے ہیں اور لڑکی کی خوب سیرتی اور تقوی نہیں دیکھتے ، اور لڑکی والے بھی لڑکے کی جاب اور اس کا معاشرے میں اسٹیٹس دیکھتےہیں اور اس کا دین اور تقویٰ نہیں رکھتے ۔۔۔ یہ سب شیطانی چالیں ہیں ۔۔۔ جب کہ قرآن کی آیت کہتی ہے کہ شادی کرو اور صبر کرو تو اللہ تمہیں غنی بھی کر دے گا ۔۔۔
نتیجہ : اس مال دنیا کی ہوس کا نتیجہ بھی رشتے داروں سے دوری ہوتا ہے ، جس سے عمر اور رزق دونوں کم ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر جن رشتے داروں سے زیادتی کی گئی ہو ، وہ بھی ساتھ دینے سے اپنا ہاتھ روک لیتے ہیں ، کیونکہ انہیں یہی زیادتیاں یاد ہوتی ہیں ۔ پھر اگر آپ کو کوئی قتل بھی کر دے تو رشتے داروں کو افسوس نہیں ہوتا ، نا ہی وہ آپ کا کوئی ساتھ دیتے ہیں ۔
حل: ماہ رمضان کے صدقے میں اللہ سے رو رو کر معافی مانگیں ، اور قطع تعلقی کی بجائے صلح رحمی سے کام لیں ۔
۴) حسد: دوسروں سے حسد کیا جاتا ہے ، جو کہ حرام ہے ۔۔۔ اسی حسد کی وجہ سے دوسروں کو نقصان دینے یا ان کا بُرا چاہنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
نتیجہ: حسد کر کر کے انسان کی اپنی صحت خراب رہتی ہے ، کیونکہ وہ اپنا ہی خون جلاتا رہتا ہے اور خود کو منفی سرگرمیوں میں مصروف کر لیتا ہے ۔ نتیجتا موت جلد واقع ہو جاتی ہے ۔۔۔
حل: ماہ رمضان ہے ، توبہ کیجئے ۔۔۔!
ماحصل : کیا آپ نے معاشرے پر نظر دوڑا کر دیکھا کہ کس طرح گناہوں نے آپ سے جائز جنسی لذت یعنی شادی ، آپ کے رزق اور آپ کی زندگی کی عظیم ترین نعمتوں کو آہستہ آہستہ آپ سے دور کر دیا ہوا ہے اور مسلسل دور کئے جا رہے ہیں؟
تو اب ہمیں ان سب باتوں کا کیسے پتہ چلا ۔۔۔؟ عزیزو، مولائے متقیان امام حضرت علیؑ کا فرمان ہے کہ : جب انسان کسی بھی شئے کو ناجائز طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ اس کو سزا دینے کیلئے اسی شئے کو اس سے اُتنا ہی دور بھی کر دیتا ہے ۔
سبحان اللہ ! وقتی طور پر جنسی لذت لے بھی لی تو کلی طور پر شادی کی نعمت سے محروم رہے ۔۔۔ دھوکا دے کر پیسہ حاصل کر بھی لیا تو وہ بھی عارضی رہا اور اس کے بدلے میں صحت اور زندگی ہی گنوا دیئے ، یا پیسہ ہونے کے باوجود ذہنی سکون سے ہاتھ دھو بیٹھے اور پیسہ سکون ہی نہ دے سکا ۔۔۔
تو عقل استعمال کیجئے اور ماہ رمضان میں توبہ کر کے ان گناہوں کو مت دہرائیے اور شیطان کی ناک رگڑیں اور اس کے منہ پر تھوکیں ۔۔۔ وہ صرف دھوکا دیتا آیا ہے آپ کو ۔۔۔ جب کہ اللہ کے پاس آپ کیلئے سکون بھی ہے ، رزق بھی اور زندگی بھی ۔۔۔۔
شیطان چاہتا ہے کہ آپ مر جائیں اور مفلس رہیں ، جب کہ اللہ چاہتا ہےکہ آپ کو زندگی ملے اور رزق حلال حاصل ہو ، وہ بھی جنت کے ٹھکانے کے ساتھ ۔۔۔ ورنہ جہنم ۔۔۔ وقتی طور پر حالات خراب بھی ہیں تو صبر کریں ۔۔۔ اللہ نے اپنے نبیوں کے صبر کو بھی ضائع نہیں کیا ۔۔۔ اور آپ کے صبر کوبھی ضائع نہیں کرے گا ۔۔۔ آئیے عزم کریں اور دنیا کو ایک بہتر رہنے کی جگہ بنائیں ۔۔۔
ہماری تحریریں تمام انسانوں کیلئے بلا تفریق مذہب و فرقہ ہوا کرتی ہیں ۔ لہذا آپ بھی یہی سمجھ کر تمام انسانوں تک پہنچائیں اور میری مرحومہ والدہ کیلئے ضرور ہو سکے تو ایک بار کم از کم درود شریف پڑھ دیجئے اور اگر زیادہ ہو سکے تو ایک بار الحمد اور تین بار سورہ توحید پڑھ دیجئے ۔۔۔ بہت شکریہ ! والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔
تحریر و پیشکش: ایڈمن ریئل اسلام ۔
Saturday, 4 May 2019
حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کتنا ٹیکس لیتا ہے جانیئے آپ بھی اس رپورٹ میں
اسلام آباد: (ٹرائیبل
نیوز) سینیٹ میں پیش کی گئی تفصیلات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک لٹر پٹرول پر چھبیس روپے پچاس پیسے ٹیکس وصولی جبکہ ڈسٹری بیوشن اینڈ ٹرانسپورٹیشن کاسٹ کیلئے نو روپے چوراسی پیسے کی کٹوتی کی جاتی ہے۔
,
تفصیلات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کے حوالے سے سینیٹ میں پیش گئی تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ حکومت پٹرول پر ٹیکسز کی مد میں چھبیس روپے 50 پیسے فی لٹر وصول کر رہی ہے جبکہ پٹرول پر ڈسٹری بیوشن اینڈ ٹرانسپورٹیشن کاسٹ کی مد میں 9 روپے 84 پیسے فی لٹر وصول کئے جا رہے ہیں۔
,
ہائی سپیڈ ڈیزل پر فی لٹر 39 روپے 96 پیسے فی لٹر ٹیکسز وصول کئے جا رہے ہیں جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل پر ڈسٹری بیوشن اینڈ ٹرانسپورٹیشن کاسٹ 7 روپے 21 پیسے فی لٹر لیے جا رہے ہیں۔
,
مٹی کے تیل پر حکومت 15 روپے 86 پیسے فی لٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے جبکہ اس پر 15 روپے 86 پیسے ڈسٹری بیوشن اینڈ ٹرانسپورٹیشن کاسٹ وصول کی جا رہی ہے۔
,
حکومت کی جانب سے سینیٹ میں پیش کیے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ لائٹ ڈیزل آئل پر 11 روپے 72 پیسے فی لٹر ٹیکسز وصول کئے جا رہے ہیں جبکہ اس پر 2 روپے 38 پیسے فی لٹر ڈسٹری بیوشن اینڈ ٹرانسپورٹیشن کاسٹ لی جا رہی ہے۔
,
پٹرول کی قیمت خرید 62 روپے 55 پیسے اور قیمت فروخت 98 روپے 89 پیسے ہے۔ ڈیزل کی قیمت خرید 70 روپے 26 پیسے اور قیمت فروکت 117 روپے 43 پیسے فی لٹر ہے۔
,
مٹی کے تیل کی قیمت خرید 69 روپے 65 پیسے اور قیمت فروخت 89 روپے 31 پیسے فی لٹر ہے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت خرید 66 روپے 44 پیسے اور فروخت 80 روپے 54 پیسے فی لٹر ہے۔
Friday, 12 April 2019
ڈیرہ غازیخان راجن پور اور تونسہ کے پسماندگی کا ذمیدار کون جانیئے
جب انسان لالچ کے زنجیر میں قید ہو تو اس انسان کو کہیں سے ظلم اور ناانصافی نظر آتا میں ایک چرواہا اور ایک ادنی سا صحافتی دعویدار ہوں میری کوئ حیثیت ہی نہیں لیکن اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر گزار ہوں مجھے جھوٹ اور سچ کو زرہ بھر الگ الگ دکھانے اور لکھنے کی توفیق ضرور عطا کی ہے کیونکہ میرا دوست بھی بہت کم ہیں صحافی و سیاسی برداری بھی مجھ سے اکثر نالاں ہیں وجہ صرف تھوڑا سا سچ لکھنا ہے میں ڈیرہ غازیخان اور تونسہ شریف کے سیاسی سماجی خصوصا کوہ سلیمان ریجن کے صحافی برداری سے گزارش کرتا ہوں سو میں صرف دس باتیں سچ لکھا کرو اللہ تعالی آپ لوگوں کو اجر دیگا ہم سبکو مر کر اس زمین میں دفن ہونا ہے نہ وہاں پارٹی کام آئیگا نہ سردار ملیں گے نہ وڈیرے نہ پیسوں کا سہارا ہوگا صرف اور صرف سچائ اور اچھے اعمال ساتھ دینگے ڈی جی خان کے کوہ سلیمان کے بلوچ تیس فیصد تعلیم یافتہ ہیں انکی اکثریت ملازم کاروبار یا کہیں نا کہیں کوئ پیشے سے منسلک ضرور ہے بزدار قیصرانی کھوسہ لیغاری وغیرہ وغیرہ کے قبائل میں ستر فیصد لوگ تعلیم روڈ صحت سمیت سوئ جتنا حکومتی سہولیات سے سو فیصد محروم ہیں اگر کہیں کچھ ہے بھی تو وہ ان لوگوں کیلئے نہیں کیونکہ ان کے پاس بولنے کیلئے زبان نہیں جو ہمارے علاقے کے معزز رہنما وکیل جج صحافی صاحبان ہیں وہ تو ویسے شہروں میں آباد ہیں انکے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں روڈ صحت بجلی سمیت انہیں کوئ مسئلہ درپیش نہیں کہیں گلی محلے کی بات ہو تو انکے پاس زبان ہے وہ مسائل اجاگر کرنے سے پہلے حل کیئے جاتے ہیں آج کل کچھ صحافی و سماجی دوست لکھتے ہیں سردار اویس خان لیغاری صاحب نے ڈی جی خان میں قتل کیئے گئے راشد بخاری کی قاتلوں کی آواز اسمبلی میں اٹھاکر علاقے کا حق ادا کردیا ان دوستوں کیلئے عرض ہے میں سردار صاحب کے پارٹی کا ورکر ہوں لیکن وفاق اور صوبے میں اویس خان کتنے بار وزیر رہے اور ڈی جی خان میں کتنے قتل ہوئے کہیں اسمبلی میں اسکی بات نہیں سنی آباؤ اجداد سے وزارتوں میں رہنے والے سردار اویس خان لیغاری کو سیاسی قتل ضرور نظر آتا ہے لیغاری قبائل سمیت ٹرائیبل ایریا میں ستر فیصد عوام جیتے جی مررہا ہے انکی بات اسمبلی کے فلور پر کیوں نہیں کی گئ گورنر اور وزیر رہنے والے کھوسہ سرداروں کے زرا نظر دواڑائیں میدانی علاقوں ہونے کے باوجود بستیوں میں جانے والے لنک روڈ تک نہیں کہیں سکول ہیں تو پڑھانے کیلئے ماسٹر کہیں نظر نہیں آتے زرا اب بزدار قبائل کے حالات جانچیں انکے حال لیغاری اور قبائل سے مختلف نہیں کیوں کیونکہ وجہ صرف لالچ کی زنجیر ہے اس علاقے میں کتنے صحافی ہیں کیوں علاقے کی آواز نہیں اٹھاتے بار بار سرداروں اور جاگیرداروں کی تعریف پر پل تو باندھتے ہیں ظلم کے چکی میں پسنے والے لاکھوں عوام پیسوں کی دمک اور چمک سے نظر نہیں آتے ان صحافی برداران کے ایسے درجنوں صحافی میرے نظروں سے گزرے ہیں کبھی اویس کے ساتھ تھے آج سی ایم پنجاب سردار عثمان خان بزدار کے ساتھ ہیں کبھی عثمان خان بزدار کے ساتھ تھے آج اویس خان لیغاری یا خواجگان کے جھولی میں ہیں ان سرداروں یا خواجگان سے جاکر کوئ پوچھے کتنے بار ایم پی اے یا ایم این اے سلیکٹ یا الیکٹ ہوکر کتنے بار اسمبلیوں میں گئے ہیں کیا انہیں فنڈ نہیں ملتا یہ پسماندگی اور بریریت کے زمیدار ہمارے پڑھے لکھے معاشرہ اور رہنما ہیں ہم عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے فنڈ نہ ملنے کی پارٹی بدلنے کی بات کرکے ہمیں ورغلایا جاتا ہے صرف ڈی جی خان تونسہ شریف راجن پور کیلئے فنڈ نہیں ہی. ملتان سے لیکر راولپنڈی تک فنڈنگ امریکہ سے نہیں یہ لاہور اور اسلام آباد سے ہوتی ہے نہ یہ اتنے کمزور ہیں اپنے فنڈ چھوڑ کر گھر بیٹھیں ہاں ترقیاتی فنڈ کا آدھا دیکر کہتے ہیں نہ پورا فنڈ دے دیں نہ ہمارے کرپشن پر انکوائری بٹھائیں سودا برابر /کیونکہ پانی اس طرف بہتا ہے جہاں مٹی نہیں ہوتی#
Subscribe to:
Comments (Atom)
Featured post
کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش
http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201
-
لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگ...
-
یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بش...
-
قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو ...



