Thursday, 5 March 2026

کوہ سلیمان پسماندہ کیوں تمن بزدار تمن کھوسہ تمن لیغاری کے سربراہان کی غفلت یا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی



مزید پڑھیں سرزمین بلوچ ڈیرہ غازی راجن پور تونسہ شریف وہوا اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ساتھ دیدہ زیب بڑے بڑے چٹانوں اور اونچے سرسبز درختوں میں چھپے خوبصورت 
کوہِ سلیمان کے پہاڑ آج بھی پسماندہ کیوں؟
صوبہ پنجاب کے جنوبی کنارے پر واقع  کے مغرب میں پھیلا ہوا عظیم پہاڑی سلسلہ  صدیوں سے قدرتی حسن، معدنی وسائل سے مالا مال اور ثقافتی تنوع کا امین ہے، مگر افسوس ہے کہ یہ خطہ آج بھی ترقی تو دور یہ خطہ سوائے پنجاب کے حکمرانوں نااہلی سیاستدانوں اور پاکستان کے قبضے کے علاؤہ یہ سلیمانی خطہ سرکاروں اور سرداروں کے تابع رہنے کے باوجود جدید دوڑ میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

 سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اتنا اہم علاقہ مسلسل بدحالی اور محرومی کا شکار ہے؟ 🤔
سب سے بڑی وجہ حکومتی عدم توجہ ہے۔ جنوبی پنجاب خصوصاً قبائلی اور پہاڑی علاقوں کو ہمیشہ ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز کیا گیا۔ سڑکیں، ہسپتال، اسکول اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولتیں آج بھی بہت سے دیہات میں دستیاب نہیں۔ حتئ کہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے جانوروں کا بھوک اور پیاس سے اموات شروع ہو جاتے ہیں کیونکہ 2025 میں کوہ سلیمان میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے تمن بزدار زندہ پیر دالان تمن کھوسہ اور کئ علاقے پینے کیلئے پانی کے بوند کو ترس رہے ہیں اور غریب لوگ زندگی گزارنے سے پریشان ہیں اور بلوچ علاقے ہمیشہ سے سرکاری وسائل سے محروم رہے جب بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں تو ترقی کا سفر شروع ہی نہیں ہو سکتا۔ 


دوسری اہم وجہ جغرافیائی مشکلات ہیں۔ کوہِ سلیمان کا علاقہ دشوار گزار پہاڑوں، دور دراز بستیوں اور کمزور انفراسٹرکچر پر مشتمل ہے۔ یہاں تک پہنچنا بھی آسان نہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کم ہوتی ہے اور سرکاری ادارے بھی مؤثر انداز میں کام نہیں کر پاتے۔ نتیجہ یہ کہ لوگ آج بھی روایتی طرزِ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ 🏔️
تعلیم کی کمی بھی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ ہے اگر کہیں سکول کی دیواریں ہیں بھی تو وہاں پڑھانے کیلئے معلم صاحبان پڑھانے کے بجائے اپنے کاروبار کو ترجیح دیتے ہیں بہت سے علاقوں میں لڑکوں کے لیے بھی اسکول بہت کم ہیں جبکہ لڑکیوں کی تعلیم تو اکثر خواب ہی رہ جاتی ہے۔

کیونکہ کوہ سلیمان گرلز سکول سرے سے موجود ہی نہیں ہیں اگر کسی وڈیرے یا ملک کے گھر کے ساتھ ہو بھی تو وہ اسکا مسافر یا مال خانہ بنایا جاتا ہے جب تعلیم نہیں ہوگی تو شعور نہیں بڑھے گا، اور جب شعور نہیں بڑھے گا تو ترقی کا راستہ بھی بند رہے گا۔ 📚
اس کے علاوہ یہاں کے قدرتی وسائل کا درست استعمال بھی نہیں ہو سکا۔ اس خطے میں معدنیات، چراگاہیں اور سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں، مگر منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے یہ سب وسائل ضائع ہو رہے ہیں۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر کام کریں تو یہی علاقہ معاشی طور پر مضبوط بن سکتا ہے۔لوکل عوام کے ساتھ ساتھ حکومت پنجاب اور مرکز کو بھی بہت کچھ دلا سکتا ہے سب سے پہلے کوہ سلیمان میں روڈ انفراسٹرکچر سب سے بنیادی ضروریات ہے 
ایک اور مسئلہ قبائلی نظام اور غربت کا چکر ہے۔ غربت تعلیم کو روکتی ہے، تعلیم کی کمی روزگار کو محدود کرتی ہے، اور محدود روزگار غربت کو مزید بڑھاتا ہے۔ یہ ایسا دائرہ ہے جو کئی نسلوں سے چل رہا ہے۔ 🔄
ضرورت اس بات کی ہے کہ جنوبی پنجاب اور خصوصاً کوہِ سلیمان کے علاقوں کو خصوصی ترقیاتی پیکج دیا جائے۔ بہتر سڑکیں، معیاری تعلیم، صحت کی سہولتیں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ خطہ نہ صرف خود ترقی کرے گا بلکہ پورے ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ 🇵🇰
کوہِ سلیمان آج بھی خاموش ہے، مگر اس کی خاموشی میں ایک سوال چھپا ہے —
کیا یہ علاقہ ہمیشہ محروم رہے گا، یا کبھی اس کی قسمت بھی بدلے گی مگر کوہ سلیمان کے خوبصورت اونچے اونچے پہاڑوں سر سبز چراگاہوں آسمان سے ٹکراتے ہوئے گھنے درختوں غربت میں پسے بلوچ لوگوں تعلیم صحت صاف پانی روڈ سمیت تمام بنیادی محروم کوہ سلیمان دنیا کے ترقی یافتہ قوموں سے 1000٪ اس لیئے بہتر ہے کوہ سلیمان میں قتل چوری زناء بالجبر سمیت یہاں آج تک کسی قسم کا کوئ اجتماعی ایسی چیز نہیں بطور قوم یا بطور کوہ سلیمان بدنامی یا ظلم کا سبب مہیا کرے اگر کہیں انفرادی ایسے واقعات رونما ہو بھی جائے تو جلد سے جلد اہل علاقہ کے 

عوام اسکی ہر قسمی سدباب کی کوشش میں لگے رہتے ہیں تاکہ ایسا کوئ دوسرا واقع رونما نہ ہو اور زیادتی کرنے والے کو جتنا جلد ممکن ہو ایسے لوگوں کو کوہ سلیمان کے بلوچ بہت کم برداشت کرتے ہیں اگر ایسے لوگ عدالت سے بھاگنے یا چھپنے کی کوشش کریں اہل علاقہ اسے علاقہ بدر ہونے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ کوہ سلیمان میں گورنمنٹ کا رٹ کسی طرح چیلنج نہ ہو اور بدامنی کو ہوا دینے والے عناصر کسی طرح قابل قبول نہیں 


Tuesday, 3 March 2026

ہمیں اپنے ایمان بچانے کیلئے اللہ تعالیٰ چودہ سو سال پہلے بتایا تھا وہ کیسے جانیئے اس رپورٹ میں

لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگر ہیں تو نام کے مسلمان مگر پھر مسلمان بھائیوں میں بالکل نہیں کیونکہ ہم نے ہمیشہ کف ار کے کہنے پر عمل کیا کفار لکھے گئے ہر الفاظ کو صحیح مانا اور کفار کے ہر پیشن گوئی کو سچ سمجھا افسوس نہ ہم قرآن مجید کے پیشن گوئی کو سچ سمجھتے 

 

مزید پڑھیں

ہیں نہ ہم حدیث پاک پر یقین کرتے ہیں کیونکہ جو قرآن مجید اور حدیث پاک نے بتایا پہلی اور آخری لکیر وہی ہوگا اگر ہم میں زرہ برابر بھی ایمان موجود ہو تو یہ سب کفار کا ازل سے مضبوط چال ہے جسے وہ بہت چالاکی سے مسلمانوں میں بچھاتے ہیں اور ہم اندھے بہرے مسلمان بلا دھڑک اس پر یقین کرتے ہوئے اس پر عمل کرتے ہیں کیونکہ واشنگٹن پوسٹ کہاں سے چھپتا ہے کیا کسی نے آج تک اسی واشنگٹن پوسٹ میں کسی امریکی حکومت یا کسی ادارے یا محکمے کے خلاف کوئ بیان دیکھا ہے بشمول اس را ئیل اور یورپ کے کسی بھی ممالک کا کوئ خاص موضوع جو مسلمانوں کے حق میں ہو اور مظلوم مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے مترادف سمجھا جائے ایسا کوئ بھی خبر آج تک اس واشنگٹن پوسٹ میں نہیں چھپا اب یہ واویلا واشنگٹن پوسٹ پر اسلیئے چھپوایا گیا

مزید پڑھیں

 تاکہ ہم نے جو جنگ کی چنگاری بھڑکادی اب اس چنگاری کو آگ میں تبدیل خود مسلمان کردیں ہم واپس اپنے گھروں میں لوٹ کر صرف دور سے تماشا دیکھیں اور مسلمان آپس میں ہمارے اس چنگاری کو آگ میں تبدیل کیئے جانے والے آگ میں جلتے رہیں جب سب راکھ بن جائیں تو پھر ہمارا کام بہت ہی آسان ہوجائیگا آپ سب جانتے ہیں 1980 میں عراق اور ایران کے مابین شروع کی گئ جنگ آخر کار 1988 میں ختم ہوئ اور یہ بھی جانتے ہونگے یہ جنگ شروع کس کے کہنے پر کی گئ اور پہلے عراق نے ایران پر حملہ کیا کیونکہ اسوقت یہی عراق کے صدر صدام حسین اسوقت امریکہ ایک اہم الائ کے طور پر جانا جاتا تھا اس آٹھ سال کے طویل جنگ میں عراق کو امریکہ نے ہر قسمی ہتھیار جہاز اور گولہ بارود فراہم کیا لیکن اس آٹھ سالہ طویل جنگ بغیر معنی خیز ختم ہوا کیونکہ امریکہ کو اس چیز سے کوئ سرو کار نہیں تھا عاق ایران پر قابض ہو یا ایران عراق پر امریکہ چاہتا تھا ان دونوں کی لڑائ میں ایک تو یہ کبھی ساتھ نہیں چلیں گے دوسرا انکے افواج میں اموات ملٹری کمزور ہو جب امریکہ نے اپنا احداف حاصل کی تو دو اے تین سال کے قلیل مدت گزرتے ہی امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا کیونکہ امریکہ انکے اندرونی معاملات کو اچھی طرح جان چکا تھا کہ اب عراق میں وہ پہلے جیسی طاقت نہیں رہی اسے مارنا بہت آسان ہے اور اسنے وہ کیا جو ہمیشہ سے کرتا چلا آرہا ہے اور پہلی عراق اور امریکی جنگ کا سبب عراق کا کویت پر حملے کو جواز بنایا گیا لیکن کویت پر حملہ بھی اسی امریکی منصوبے کا حصہ تھا مسلمانوں کا کمال اس بات پر ہے امریکہ  اس را ئیل یو رپ وغیرہ کی باتوں پر کیسے یقین کرتے ہیں کیونکہ 1400 سال پہلے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا اے مومنو کفار اور نصاری کو کبھی اپنا بھائ مت بناو وقت آنے پر یہ اپنا ہر قسمی دشمنی بھول کر مسلمانوں پر ملکر لڑتے ہیں لیکن ہم لوگوں نے اس چیز کا۔مشاہدہ اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے پھر بھی ہمیں خود کے آنکھوں پر بھی یقین نہیں آتا تو قرآن کریم کے آیات پر کیسے عمل پیرا ہوں آنا اللہ واناالیہ راجعون 



جب ایمان تاریکیوں میں گم جائے دماغ کی نالیاں بند ہوں آنکھوں پر پٹی بندھی ہو کانوں میں روئ ٹھونس دی جائیں دل پر خوف بٹھایا جائے ایمان کو شراب و شباب یا لالچ میں ڈھانپا جائے تو مسلم دنیا صرف ایک جملہ تصور ہوگا استغفراللہ اللہ اکبر کبیرہ

Monday, 2 March 2026

دین محمدی صرف شمشیر سے نہیں تو کیسے پوری دنیا میں پھیلا دیا گیا پڑھنے کیلیے کلک کریں

کیا آپ جانتے ہیں اس روح زمین پر اسلام نے جس تیزی سے پھیلا اسکی بنیاد کیا تھے اور اب جس تیزی سے مغدوش ہوتا چلا جارہا اور اسکی بھی کیا وجہ ہو سکتی اگر نہیں جانتے تو آئیے آج تھوڑا سمجھاتا ہوں آج سے تقریبا چودہ سو سال پہلے اس روح زمین پر اسلام بہت کم تھا کہیں کہیں بالکل تھی ہی نہیں جب ہمارے آقائے کائنات نے اسلام کا جھنڈا بلند کی تو اسوقت سوائے چند لوگوں کے اسلامی مجاہدین کے لشکر میں  بہت کم صحابہ کرام رضوان اللہ تھے اور وہ اسلام کی چنگاری کو مکہ معظمہ کے ریگستانوں میں بھڑکا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ چنگاری آہستہ آہستہ بھڑکتا چلا گیا دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی سائے نے پورے عرب کو بہت قلیل مدت میں اپنے لپیٹ میں لے لیا پھر آگے بڑھتے گئے پورے روح زمین پر ایک نور سا رونق افروز منظر ابھرا کوئ بارڈر کوئ ظالم کوئ طاقت اسکے سامنے ٹک نہ سکا اسکی سب سے بڑی وجہ انصاف کے معیار کو متوازن رکھنا پر کسی کے ساتھ ایک جیسا سلوک اسلامی قوانین کے مطابق کوئ کسی سے بڑا یا چھوٹا نہیں سمجھا جاتا کوئ امیر کو کسی غریب سے برتری حاصل نہیں تھا کسی سپہ سالار کو کسی عام انسان پر بلاجواز آف کرنے کی طاقت نہیں تھا 

کسی مسلمان کو کسی بھی غیر مسلم کا حقوق غصب کرنے کا اختیار نہیں تھا کسی امراء کو کسی فقیر پر ڈانٹنے کی طاقت نہیں رہا جب غیر مسلموں نے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے انصاف کو سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک دیکھ کر وہ جان گئے تھے یہی وہ واحد مذہب ہے جو ہمیں ہر قسمی غلامی سے آزادی دلا سکتا یہی وہ واحد مذہب ہے جو ہمیں ہمارا حق دلا سکتا ہے یہی وہ واحد مذہب ہے جسکے سائے میں کسی کو کسی سے برتری نہیں یہ سب دیکھنے کے بعد لوگ جوق در جوق اسلام کی طرف راغب ہوتے چلے گئے اور اسلام کو راہ نجات مان کر اسلامی جھنڈے ئنیچے ہمیشہ کیلئے اپنا مسکن چنا


 کیونکہ جنگوں سے زمینیں ضرور جیتی جاسکتی ہیں مگر ان جیت کو برقرار رکھنا بہت مشکل تھا اصل فتح تو دلوں کا ہے اور دلوں کو صرف کلمہ حق کا عالم بلند کرنے والے دلوں کو فتح کرسکتے ہیں ظلم اور جبر سے اگر کوئ بھی مذہب کے ماننے والے پھلتے پھولتے تو اس دنیا کی تاریخ میں آج تک فرعونوں کی حکمرانی ہوتی اگر ظلم اور جبر سے کوئ سلطنت قائم رہ سکتا تو آج تک اس دنیا پر صلیبیوں کی حکمرانی ہوتی اور مار دھاڑ سے دنیا پر کی گئی قبضہ برقرار رکھا جاتا تو منگولوں کا سلطنت جانے ایک تہائی دنیا پر قبضہ جمالیا مگر وہ آج کہاں ہے لیکن اس دنیا کو فتح کرنے کیلئے دلوں کا فتح لازم ملزوم ہے اور دلوں کو فتح صرف اور صرف اسلام کے وہ مجاھدین فتح کرسکتے ہیں



 جس کے اپنے دلوں میں دین محمدی کا پرچار ہو نور ایمانی سے انکے دلوں کی آنکھیں دیکھ سکتے ہوں مگر آج اسلام کا نام لیوا تو بہت ہیں لیکن اسلامی قوانین کو پس پشت ڈالا گیا ہے کوئ منافقت کا لباس پہنا ہوا ہے تو ڈر کا لبادہ اوڑھ کر ظالموں کے صف میں کھڑا ہے کیونکہ دنیا کی بربادی اب بہت قریب ہے اسلیئے مومن یا مسلمان بننے کیلئے ایمان ضرورت ہے لبادہ نہیں

اگر طاقت شمشیر میں ہوتی تو رومن امپائر اور منگول سلطنت کو کیوں زوال پزیر ہوئے اگر جاننا چاہتے ہیں تو تفصیل موجود ہے

اگر جنگوں سے ریاستوں میں امن آسکتا اگر جنگوں سے ریاست ہمیشہ قائم رہ سکتے اگر جنگوں سے عوام ریاست اور حکمرانی برقرار رہ سکتی اگر جنگوں سے تاریخ برقرار رہ سکتا تو رومن امپائر کیسے زوال پزیر ہونا ہمارے اسلامی دنیا کا سب سے مضبوط ایماندار بہادر امیر امیر المومنین نے فرمایا اگر جنرل ریاس

ت سے زیادہ طاقتور ہو تو اس ریاست میں زوال بہت قریب ہے جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں قدیم روم میں فوجی جرنیل اکثر مسلسل جنگوں کو ایک سیاسی اور سماجی ذریعہ کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے تاکہ عوام کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ فوج ریاست کی سب سے اہم طاقت ہے۔ اس وقت روم کے اندر غربت، بے روزگاری، اور معاشی عدم مساوات جیسے سنگین مسائل موجود تھے۔ اگر عوام ان مسائل پر زیادہ توجہ دیتے تو وہ حکومت اور اشرافیہ کے خلاف بغاوت یا احتجاج کر سکتے تھے۔ لیکن جب جنگ جاری رہتی تھی، تو عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹ کر فوج کی کامیابیوں اور ریاست کی طاقت پر مرکوز ہو جاتی تھی۔
فوجی جرنیل جنگوں کے ذریعے اپنی اہمیت کو ثابت کرتے تھے۔ جب کوئی جنرل کسی علاقے کو فتح کرتا، تو اسے ہیرو سمجھا جاتا تھا۔ فتح کے بعد روم میں بڑی تقریبات منعقد ہوتی تھیں جنہیں “فتح کا جلوس” کہا جاتا تھا۔ ان تقریبات میں جنرل اور اس کی فوج کو عوام کے سامنے پیش کیا جاتا تھا، مالِ غنیمت دکھایا جاتا تھا، اور قیدیوں کو بھی لایا جاتا تھا۔ اس سے عوام کے ذہن میں یہ تصور مضبوط ہوتا تھا کہ فوج ہی وہ طاقت ہے جو روم کو عظیم اور محفوظ بناتی ہے۔ اس طرح عوام کی توجہ غربت اور دیگر داخلی مسائل سے ہٹ جاتی تھی۔

مثال کے طور پر جولیس سیزر نے گال (Gaul) کی جنگوں میں مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔ ان فتوحات نے اسے عوام میں بے حد مقبول بنا دیا۔ عوام اس کی فوجی کامیابیوں سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اس کی سیاسی طاقت میں اضافے کو بھی قبول کر لیا۔ اس دوران روم کے اندر معاشی مسائل اور سیاسی بدامنی موجود تھی، لیکن فوجی فتوحات نے عوام کی توجہ ان مسائل سے ہٹا دیا۔

مزید یہ کہ مسلسل جنگوں نے عوام کو یہ یقین دلایا کہ فوج کے بغیر ریاست کمزور ہو جائے گی۔ جرنیل اس بات کو نمایاں کرتے تھے کہ دشمن ہر وقت موجود ہیں اور صرف ایک مضبوط فوج ہی عوام کی حفاظت کر سکتی ہے۔ اس خوف اور تحفظ کے احساس نے عوام کو فوج کی اہمیت تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔ نتیجے کے طور پر، عوام نے فوج اور جرنیلوں کی حمایت جاری رکھی، حتیٰ کہ جب ان کی اپنی معاشی حالت خراب تھی۔

رومن ریپبلک کے آخری دور میں فوج اور اس کے جرنیل اتنے طاقتور ہو گئے کہ وہ براہِ راست سیاست پر اثر انداز ہونے لگے۔ فوجیوں کی وفاداری اکثر ریاست کے بجائے اپنے جنرل کے ساتھ ہوتی تھی، کیونکہ جنرل انہیں جنگ کے ذریعے دولت، زمین، اور عزت دلاتے رہتے تھے۔ اس طرح مسلسل جنگوں نے نہ صرف فوج کی اہمیت کو عوام کے ذہن میں بڑھایا بلکہ جرنیلوں کو بھی سیاسی طاقت حاصل کرنے کا موقع دیا۔

آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلسل جنگیں صرف دشمنوں کو شکست دینے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی توجہ غربت اور اندرونی مسائل سے ہٹانے، فوج کی اہمیت ظاہر کرنے، اور جرنیلوں کی طاقت بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ تھیں۔ جنگوں نے عوام کو مصروف رکھا، قومی فخر پیدا کیا، اور فوج کو ریاست کا سب سے طاقتور اور قابلِ احترام ادارہ بنا دیا مگر یہ چیزیں ان لوگوں کیلئے اہمیت کا حامل ہیں جو صرف طاقت کیلئے لڑتے ہیں وہ امت مسلمہ کا کوئ بھی ایمان رکھنے والا سپاہی جو دل میں ایمان لیکر لڑتا ہے غازی یا شہید ہونے کا تمنا دل میں لیئے محاذوں پر اپنے فیملی اور اہل و عیال سے دور رہ کر صرف اپنے ملت اپنے عزت اپنے مقصد  اور اپنے حرمت کی غرض سے چاک و چوبند کھڑا رہتا ہے نہ انہیں کبھی طاقت کا لالچ رہا نہ انہیں کسی عہدے کی غرض نہ انہیں کوئ تخت سے سرو کار رہی وہ حقیقی مومن ہیں اور وہ ظالموں کیلئے موت اور مظلوموں کیلئے مضبوط سائبان تصور کیئے جاتے ہیں اور ایسے سپاہیوں کیلئے جو اس ملت کا حصہ ہیں چاہے مسلمان ہوں۔ یا غیر مسلم ملت کے لوگ ان کیلئے ہمیشہ دعاگو رہتے ہیں جیسا کہ حق کی خاطر اپنے شمشیر کو مظلوموں کیلئے ہمیشہ بے نیام کرنے والے سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی صلاح الدین ایوبی #نوردین زنگی جیسے مجاھدین نے ہمیشہ اسلام کا عالم بلند رکھا اور انمیں کسی چیز کی تفریق نہیں تھا ہمارے ساتھ رہنے والے کون ہیں انہوں نے ہمیشہ انصاف کو اپنا دائمی شیار بنایا اس لیئے انہیں مسلم لوگوں کے ساتھ ساتھ وقتا فوقتاً غیر مسلم بھی ساتھ رہے کیونکہ وہ لوگ دیکھتے اور جانتے تھے انصاف سے کی جانے والی حکمرانی میں ہمارا مال جائیداد عزت اور جانیں محفوظ رہیںگے 

Sunday, 1 March 2026

مسلمانوں نے اپنا راہ بہت جلد کیوں بدلا کیا آپ جاننا چاہتے ہیں تو مکمل تفصیل پڑھیں

جو آج ہمیں سکھایا پڑھایا کھلایا پلایا جارہا ہے یہ تمام کے تمام چیزیں دین محمدی سے مماثلت نہیں رکھتے یہ سب کچھ مغرب کی دی ہوئی زہر ہے جو اب ہمارے حون میں حوراک بن کر ابھرا اسلیئے آج امت مسلمہ بالکل بے بس ہوکر سر جھکائے بیٹھا ہے 



اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں جس شکل میں تھا، وہی قیامت تک کے لیے ہے۔ اسلام کی تعلیمات نہ پہلے بدلی تھیں اور نہ آج بدلی ہیں، کیونکہ قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ محفوظ ہیں۔ لیکن اگر ہم غور کریں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ آج کے مسلمانوں کے عمل اور پہلے زمانے کے مسلمانوں کے عمل میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ یہی فرق اصل میں اسلام میں نہیں بلکہ مسلمانوں کی زندگیوں میں پیدا ہوا ہے۔

پہلے زمانے میں اسلام صرف عبادات کا نام نہیں تھا بلکہ مکمل زندگی کا نظام تھا۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں سچائی، امانت، انصاف جہاد اور بھائی چارہ عام تھا۔ لوگ دین کو صرف مسجد تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ تجارت، سیاست، معاشرت اور اخلاق میں بھی اسلام پر عمل کرتے تھے۔ اس زمانے میں مسلمان کم تھے مگر مضبوط تھے،
کپڑے پھٹے تھے ایمان مضبوط تھا گھر کچے تھے ایمان پکا تھا مسلمانوں کی رحم دلی وجہ سے ہر مذہب کے لوگ مسلمانوں سے محبت کرتے اور اسلام میں داخل ہوتے تھے
 کیونکہ ان کے کردار میں اسلام نظر آتا تھا۔
وہ آج ہم مسلمانوں میں نہیں ہے جب ہمارا راستہ سیدھا ہے تو ہم بھتک کر دور جاکر گرے ہیں جب ہم مسلمان اسلام سے دغا کریں یا صراط مستقیم سے منہ موڑ لیں دوسروں کو اسلام کی تعلیمات دیں ہم خود جھوٹ بولیں دوسروں کو روکیں ہم خود رشوت لیں سود کھائیں ظلم پر گامزن رہیں تو دوسرے مذہب کو کیسے قائل کرسکتے ہیں اس لیئے آج ہم مسلمانوں نے خوبصورت اسلام کو بدنام کی ہے 
 لیکن اسلام آج بھی وہی ہے،جو 1400 سال پہلے مکمل ہوا لیکن ہم مسلمانوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ آج بہت سے لوگ اسلام کو صرف نماز، روزہ اور چند رسموں تک محدود سمجھتے ہیں۔ اخلاق، سچائی، برداشت اور عدل جیسے اصول کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے لوگ دین کے لیے دنیا چھوڑ دیتے تھے، آج اکثر لوگ دنیا کے لیے دین چھوڑ دیتے ہیں۔
پرانے زمانے میں علم کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ مسلمان علم، تحقیق اور انصاف میں دنیا کی رہنمائی کرتے تھے۔ آج بہت سے مسلمان علم سے دور ہو گئے ہیں اور آپس کے اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے کمزوری پیدا ہوئی ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ اسلام آج بھی مکمل اور سچا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ پہلے مسلمان اسلام پر چلتے تھے اور آج اسلام کو اپنے مطابق چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آج کے مسلمان دوبارہ سچائی، عدل، علم اور اخلاص کو اپنالیں تو وہی طاقت وہی عزت وہی عدل اور وہی جذبہ ایمان واپس آ سکتی ہے جو پہلے زمانے میں تھی۔ لیکن آج اس دور میں ہم صرف مسلمان ہیں مگر سینے میں زرہ برابر اسلام نہیں اسلام صرف عربی نام رکھنے سے نہیں ہو سکتا اسلام میں ہر وہ چیز شامل ہے جو انسانی اور کسی بھی جاندار کی زندگی کو ہر قسمی اور انہیں متوازن رکھا جاسکے لیکن آج ہم نے خود کو بھی متوازن رکھنے سے الگ رکھا صرف کاہلی لالچ خود غرضی بے اعتمادی جھوٹ جو برائیاں پہلے مسلمانوں کیلئے ہلاکت کا سبب بنا کرتے آج ہم اسے اپنا زندگی کا حصہ تصور کرتے ہیں کیونکہ ہم مسلمانوں نے قرآن مجید کی تعلیمات سے منہ موڑا انگریزی کو ترجیح دی ماں باپ سے نفرت اور سسر ساس سے محبت لیکن مسلمان ممالک میں سربراہ تو مسلمان ہیں مگر قوانین انگریزوں کے 






Friday, 27 February 2026

خود کو پانے انسان اللہ تعالیٰ کو ہر صورت پاتے ہیں الحمداللہ

تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں نے بنائے ہیں جو اپنے دل میں ایمان لیکر نکلتے ہیں دنیا پر ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد کیا جاتا ہے جنہیں دیں محمدی کا جذبہ پایا جاتا ہو اس فانی دنیا پر ظالموں کے دل میں دہشت کا علامت وہی لوگ بنتے ہیں جن کے دل میں عشق الہی بستا ہو آخرت میں درجات انہی لوگوں کا بلند رہتا ہے
 جو دنیا بسے کیڑے مکوڑے کی جان کو جان سمجھے قبر بھی انہی لوگوں کو دل سے خوش آمدید کہتی ہے جنہیں دنیا پر عام رعایا دل سے خوش آمدید کہا کرتا تھا فرشتے بھی انہی لوگوں کا استقبال کرتے ہیں جنہیں دنیا میں غریب لوگ ملنے کیلئے خوش آمدید کہا کرتے تھے ہمارے آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین اسے اپنا پسندیدہ امتی سمجھتا ہے جسے اس دنیا پر لوگ پسندیدہ سمجھا کرتے تھے حوض کوثر میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روز محشر انہی خوش نصیبوں کو شہد سے میٹھا دودھ سے سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا پانی ملتا ہے
 جو اس دنیا پر ہر خاص و عام میں فرق کیئے بغیر گھل مل کر بیٹھتا تھا اور انکے زخموں پر مرہم رکھتا تھا روز میزان اللہ تعالی کی رحمتیں بشمول ہم سب پر برستی ہیں مگر سب سے اس بندے سے محبت فرماتا ہے جو اس فانی دنیا پر ہر مظلوم کے ساتھ ملکر ظالموں سے لڑتا رہتا انکی ہر قسمی دشمنی کو مول لیتا تھا کیونکہ اعمال سے دنیا بھی بنتی ہے اور آخرت بھی سنور جاتا ہے اگر اس دنیا پر ہم لوگ صرف دولت عزت شہرت کیلئے جتنا جینے کی جنگ لڑرہے ہیں یہ صرف چند پل کا ایک خواب کے سوا کچھ نہیں اور ایسے لوگ چاہے حکمران ہوں یا عالم حافظ ہوں یا پیدائشی بزرگان دیں کے خاندانوں کے وارث یہ کچھ بھی کام نہیں آنے والا اگر آپکو اور مجھ سمیت کسی کو بھی اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کا شوق ہے آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کے امتی ہونے کا شرف حاصل کرنا ہے تو اس دنیا پر خود کو سب سے عاجز بنانا پڑتا ہے اسلامی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں


 آج کی گدی نشینوں کو نہیں انکے آباو اجداد کا مشاہدہ کرنے کیلئے آپکو سو سے چودہ سو سال پہلے جانا ہوگا اور وہاں سے افق کو چھونے والے تن اوار ان درختوں کو دیکھیں سوچیں کیا ہم اس دنیا سے جاتے وقت جب ہم اس خاکی زمین کے سپرد کیئے جائیں تو ہمارے ساتھ کیا ہوگا اور ہمارے پلے میں کیا ہے ہم یہاں سے کیا لیکر جارہے ہیں جو ہمیں دفن ہونے سے لیکر قیامت قائم ہونے تک کام آسکتا ہے اگر اکیلے بیٹھ کر صرف چند منٹ سوچیں تو سر چرانے لگ جاتا ہے  کیونکہ ہم اس دنیا فانی میں بیٹھ کر صرف خود کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں نہ کہ اپنے بھلائ کیلئے اگر جنت میں رہائش جو ہم سمجھ رہے ہیں اتنا آسان ہوتا تو سوچیں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران اسلام نے کیا کچھ برداشت نہیں کیئے ان پر کتنے مظالم ڈھائے گئے کیا اسنے کبھی آپنے زندگی کو آسان بنانے کیلئے کبھی آپنے رب سے کوئ شکایت کی کیونکہ وہ جانتے تھے اگر ہم اس دنیا پر سکون سے بیٹھ کر اللہ تعالی کے حکم کے برعکس کریں تو روز محشر ہم جوابدہ ہیں مگر ہم کیوں نہیں سمجھتے لیکن ہم سب جانتے ہیں قرآن مجید میں لفظ بہ لفظ ہمیں آگاہ رکھا اور ہماری رہنمائ کیلئے ہر مشکل کا آسان حل بتادیا لیکن ہم سمجھنے سوچنے اور دیکھنے سے اتنا عاری کیوں کیا ہمیں یہ دنیا سے اٹھایا نہیں جائیگا کیا ہم زمین کے ختم ہونے تک یہاں رہینگے لیکن ہم کمزور ہیں بہت سست ہیں مگر اللہ تعالی نے قرآن مجید ہمارے لیئے یہ پیغام (( اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم )) لکھ کر ہمیں سمجھایا کہ بیشک آپ سست ہونگے شیطان کا غلبہ شدید ہوگا مگر مدد آپ طلب کریں میں آپکو رسد ضرور پہنچاونگا لیکن ہم اتنے سیاہ دل کے مالک بن گئے ہیں 
 اپنے رب سے مدد طلب کرنے کی فہرست تک نہیں نہ ہمیں اللہ تعالی کے غضب کا کبھی خوف رہا اگر کوئ بھی مسلمان زرہ برابر بھی اپنے اللہ سے محبت یا خوف رکھتا ہو تو نہ ظلم کا راستہ اختیار کرتا ہے نہ کسی سے بغض رکھتا ہے نہ کسی کی جان ومال سے حشر کرتا ہے اور نہ کسی امراء کے دولت سے مانوس ہوتا ہے اور نہ وہ اپنے غربت سے پریشان کیونکہ جس دل میں نور ایمانی کا چراغ جل رہا ہو وہ کبھی وسوسے نہیں کرتا اور وہ جانتا ہے 
 👉لاغالبا اللہ 👈 
بیشک اللہ تعالی ہر چیز پر غالب ہے

Tuesday, 24 February 2026

دعا گو ہوں اللہ تعالی مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین

اسلام علیکم صبح بخیر

ایک نہ ایک دن ہم سبکو قصہ پارینہ بننا ہے موت سانسوں سے بھی قریب رہتا ہے کچھ پتہ نہیں کب اور کس وقت دبوچ لیتا پے مگر صرف یادیں رہ جاتی ہیں انسان غلطی کا کتلا ہے مگر معاف کرنے والے رحمن سے کبھی ناامیدی نہیں کی جاسکتی سفید ٹوپی اور کالا جیکٹ پہنے سفید ریش انسان کبھی اس دنیا میں جناب عالی عزت مآب جیسے القاب سے نوازے جاتے تھے آج مرحوم دفعدار احمد خان جلالانی لکھا اور پکارا جائے گا کیونکہ یہ دنیا کی فطرت ہے کہ ہم عام تمام لوگ یہ کہیں لیکن آپنے بھی یہی کہتے ہیں اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے کیونکہ ہم جانے والوں پر منحصر ہے اگر اس دنیا میں رہ کر اپنے لیئے لڑیں تو ہم بہت کچھ پاکر اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اگر ہم اپنے مستقبل کیلئے کوشش کریں یقیننا دنیائے فانی سے جاتے ہوئے خود کو بھی بہت بڑے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہم طاقت میں مغرور ہوتے ہیں دولت میں مدہوش اور ہم یہ نہیں سمجھتے کہ سب چیزیں عارضی ہیں یہ دولت یہ طاقت یہ عہدے حتی کہ اپنی جان مگر سمجھنے میں ہمیں اگر مشکلات نہ آتے تو یقیننا ہم فائدے میں ہوتے کیونکہ کسی کی پرواہ کیئے بغیر اپنے روح کو زندہ رکھنا ہے نفس کو مار کر اگر نفس کو زندہ رکھیں گے تو روح مارا جائیگا اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے ہم نفس کو زندہ رکھ کر روح کو مار دیتے ہیں اگر ہمیشہ کیلئے امر ہونا ہے تو ابھی سے پڑھیں
اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم @
بسم اللہ الرحمن الرحیم @ 

@ آنا فتحنا الک فتح االمبین 


ہم اکثر لوگ فتح خود سے چاہتے ہیں

مزید تفصیلات

 مگر ہم ہمیشہ شیطان کے ساتھی اپنے نفس کا غلام بنے رہتے ہیں کیونکہ ہم ایک ایسے مذہب کے پیروکار ہیں الحمداللہ زندگی کے آخری سانس تک اگر اپنے رب سے توبہ کریں معافی کا طلبگار بنیں یقین جانیں تم ایسا ہو جاوگے جیسا کہ پیدا ہی ابھی ہوئے ہو غلطیاں تو ہم سے ضرور ہوتی ہیں مگر یہ جان لو جب واپس پلٹو گے تو میرا ایمان اگر ہم دیکھنے کے قابل ہوتے تو یہ دنیا اور آخرت میں ہمارے کی گئ توبہ سے اللہ تعالی چراغاں روشن کرتے فرشتوں کو پکار کر کہتے ہے آپ گواہ ہیں میرے فلانے بندے نے توبہ کی میں نے انہیں معاف فرمایا کہنے لکھنے کا مقصد دفعدار احمد خان جلالانی کو میں قریب سے جانتا تھا بیشک انسان میں ہزار کمی کوتاہیاں ہونگے لیکن ہمیشہ  صاف دل خوش اخلاق میں پیش پیش رہا 

مزید تفصیلات

جب طبیعت میں بگاڑ پیدا ہوا تو عمرہ پاک کی سعادت حاصل کی اور بہت زیادہ اللہ تعالی سے قریب ہونے کی کوشش میں لگا رہا اور دل ہی دل میں ٹوٹ چکا تھا اور اپنے رب کی رحمتوں سے امید رکھتا اور یہی کہتا بس دعا کریں اللہ تعالی ہمیں معاف فرمائے اور روز محشر آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کی شفاعت سے بہرامند فرمائے آمین


Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201