اگر جنگوں سے ریاستوں میں امن آسکتا اگر جنگوں سے ریاست ہمیشہ قائم رہ سکتے اگر جنگوں سے عوام ریاست اور حکمرانی برقرار رہ سکتی اگر جنگوں سے تاریخ برقرار رہ سکتا تو رومن امپائر کیسے زوال پزیر ہونا ہمارے اسلامی دنیا کا سب سے مضبوط ایماندار بہادر امیر امیر المومنین نے فرمایا اگر جنرل ریاس
ت سے زیادہ طاقتور ہو تو اس ریاست میں زوال بہت قریب ہے جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں قدیم روم میں فوجی جرنیل اکثر مسلسل جنگوں کو ایک سیاسی اور سماجی ذریعہ کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے تاکہ عوام کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ فوج ریاست کی سب سے اہم طاقت ہے۔ اس وقت روم کے اندر غربت، بے روزگاری، اور معاشی عدم مساوات جیسے سنگین مسائل موجود تھے۔ اگر عوام ان مسائل پر زیادہ توجہ دیتے تو وہ حکومت اور اشرافیہ کے خلاف بغاوت یا احتجاج کر سکتے تھے۔ لیکن جب جنگ جاری رہتی تھی، تو عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹ کر فوج کی کامیابیوں اور ریاست کی طاقت پر مرکوز ہو جاتی تھی۔
ت سے زیادہ طاقتور ہو تو اس ریاست میں زوال بہت قریب ہے جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں قدیم روم میں فوجی جرنیل اکثر مسلسل جنگوں کو ایک سیاسی اور سماجی ذریعہ کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے تاکہ عوام کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ فوج ریاست کی سب سے اہم طاقت ہے۔ اس وقت روم کے اندر غربت، بے روزگاری، اور معاشی عدم مساوات جیسے سنگین مسائل موجود تھے۔ اگر عوام ان مسائل پر زیادہ توجہ دیتے تو وہ حکومت اور اشرافیہ کے خلاف بغاوت یا احتجاج کر سکتے تھے۔ لیکن جب جنگ جاری رہتی تھی، تو عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹ کر فوج کی کامیابیوں اور ریاست کی طاقت پر مرکوز ہو جاتی تھی۔
فوجی جرنیل جنگوں کے ذریعے اپنی اہمیت کو ثابت کرتے تھے۔ جب کوئی جنرل کسی علاقے کو فتح کرتا، تو اسے ہیرو سمجھا جاتا تھا۔ فتح کے بعد روم میں بڑی تقریبات منعقد ہوتی تھیں جنہیں “فتح کا جلوس” کہا جاتا تھا۔ ان تقریبات میں جنرل اور اس کی فوج کو عوام کے سامنے پیش کیا جاتا تھا، مالِ غنیمت دکھایا جاتا تھا، اور قیدیوں کو بھی لایا جاتا تھا۔ اس سے عوام کے ذہن میں یہ تصور مضبوط ہوتا تھا کہ فوج ہی وہ طاقت ہے جو روم کو عظیم اور محفوظ بناتی ہے۔ اس طرح عوام کی توجہ غربت اور دیگر داخلی مسائل سے ہٹ جاتی تھی۔
مثال کے طور پر جولیس سیزر نے گال (Gaul) کی جنگوں میں مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔ ان فتوحات نے اسے عوام میں بے حد مقبول بنا دیا۔ عوام اس کی فوجی کامیابیوں سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اس کی سیاسی طاقت میں اضافے کو بھی قبول کر لیا۔ اس دوران روم کے اندر معاشی مسائل اور سیاسی بدامنی موجود تھی، لیکن فوجی فتوحات نے عوام کی توجہ ان مسائل سے ہٹا دیا۔
مزید یہ کہ مسلسل جنگوں نے عوام کو یہ یقین دلایا کہ فوج کے بغیر ریاست کمزور ہو جائے گی۔ جرنیل اس بات کو نمایاں کرتے تھے کہ دشمن ہر وقت موجود ہیں اور صرف ایک مضبوط فوج ہی عوام کی حفاظت کر سکتی ہے۔ اس خوف اور تحفظ کے احساس نے عوام کو فوج کی اہمیت تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔ نتیجے کے طور پر، عوام نے فوج اور جرنیلوں کی حمایت جاری رکھی، حتیٰ کہ جب ان کی اپنی معاشی حالت خراب تھی۔
رومن ریپبلک کے آخری دور میں فوج اور اس کے جرنیل اتنے طاقتور ہو گئے کہ وہ براہِ راست سیاست پر اثر انداز ہونے لگے۔ فوجیوں کی وفاداری اکثر ریاست کے بجائے اپنے جنرل کے ساتھ ہوتی تھی، کیونکہ جنرل انہیں جنگ کے ذریعے دولت، زمین، اور عزت دلاتے رہتے تھے۔ اس طرح مسلسل جنگوں نے نہ صرف فوج کی اہمیت کو عوام کے ذہن میں بڑھایا بلکہ جرنیلوں کو بھی سیاسی طاقت حاصل کرنے کا موقع دیا۔
آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلسل جنگیں صرف دشمنوں کو شکست دینے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی توجہ غربت اور اندرونی مسائل سے ہٹانے، فوج کی اہمیت ظاہر کرنے، اور جرنیلوں کی طاقت بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ تھیں۔ جنگوں نے عوام کو مصروف رکھا، قومی فخر پیدا کیا، اور فوج کو ریاست کا سب سے طاقتور اور قابلِ احترام ادارہ بنا دیا مگر یہ چیزیں ان لوگوں کیلئے اہمیت کا حامل ہیں جو صرف طاقت کیلئے لڑتے ہیں وہ امت مسلمہ کا کوئ بھی ایمان رکھنے والا سپاہی جو دل میں ایمان لیکر لڑتا ہے غازی یا شہید ہونے کا تمنا دل میں لیئے محاذوں پر اپنے فیملی اور اہل و عیال سے دور رہ کر صرف اپنے ملت اپنے عزت اپنے مقصد اور اپنے حرمت کی غرض سے چاک و چوبند کھڑا رہتا ہے نہ انہیں کبھی طاقت کا لالچ رہا نہ انہیں کسی عہدے کی غرض نہ انہیں کوئ تخت سے سرو کار رہی وہ حقیقی مومن ہیں اور وہ ظالموں کیلئے موت اور مظلوموں کیلئے مضبوط سائبان تصور کیئے جاتے ہیں اور ایسے سپاہیوں کیلئے جو اس ملت کا حصہ ہیں چاہے مسلمان ہوں۔ یا غیر مسلم ملت کے لوگ ان کیلئے ہمیشہ دعاگو رہتے ہیں جیسا کہ حق کی خاطر اپنے شمشیر کو مظلوموں کیلئے ہمیشہ بے نیام کرنے والے سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی صلاح الدین ایوبی #نوردین زنگی جیسے مجاھدین نے ہمیشہ اسلام کا عالم بلند رکھا اور انمیں کسی چیز کی تفریق نہیں تھا ہمارے ساتھ رہنے والے کون ہیں انہوں نے ہمیشہ انصاف کو اپنا دائمی شیار بنایا اس لیئے انہیں مسلم لوگوں کے ساتھ ساتھ وقتا فوقتاً غیر مسلم بھی ساتھ رہے کیونکہ وہ لوگ دیکھتے اور جانتے تھے انصاف سے کی جانے والی حکمرانی میں ہمارا مال جائیداد عزت اور جانیں محفوظ رہیںگے


No comments:
Post a Comment