مزید پڑھیں سرزمین بلوچ ڈیرہ غازی راجن پور تونسہ شریف وہوا اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ساتھ دیدہ زیب بڑے بڑے چٹانوں اور اونچے سرسبز درختوں میں چھپے خوبصورت
Welcome To Tibalnews1. Here Uou Will Find Every Local National News Of DGKhan Taunsa And Koh Suleiman Kn A Blink Of An Eye With All Languages Kinds Of Articles.
Thursday, 5 March 2026
کوہ سلیمان پسماندہ کیوں تمن بزدار تمن کھوسہ تمن لیغاری کے سربراہان کی غفلت یا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی
مزید پڑھیں سرزمین بلوچ ڈیرہ غازی راجن پور تونسہ شریف وہوا اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ساتھ دیدہ زیب بڑے بڑے چٹانوں اور اونچے سرسبز درختوں میں چھپے خوبصورت
Tuesday, 3 March 2026
ہمیں اپنے ایمان بچانے کیلئے اللہ تعالیٰ چودہ سو سال پہلے بتایا تھا وہ کیسے جانیئے اس رپورٹ میں
لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگر ہیں تو نام کے مسلمان مگر پھر مسلمان بھائیوں میں بالکل نہیں کیونکہ ہم نے ہمیشہ کف ار کے کہنے پر عمل کیا کفار لکھے گئے ہر الفاظ کو صحیح مانا اور کفار کے ہر پیشن گوئی کو سچ سمجھا افسوس نہ ہم قرآن مجید کے پیشن گوئی کو سچ سمجھتے
مزید پڑھیں
ہیں نہ ہم حدیث پاک پر یقین کرتے ہیں کیونکہ جو قرآن مجید اور حدیث پاک نے بتایا پہلی اور آخری لکیر وہی ہوگا اگر ہم میں زرہ برابر بھی ایمان موجود ہو تو یہ سب کفار کا ازل سے مضبوط چال ہے جسے وہ بہت چالاکی سے مسلمانوں میں بچھاتے ہیں اور ہم اندھے بہرے مسلمان بلا دھڑک اس پر یقین کرتے ہوئے اس پر عمل کرتے ہیں کیونکہ واشنگٹن پوسٹ کہاں سے چھپتا ہے کیا کسی نے آج تک اسی واشنگٹن پوسٹ میں کسی امریکی حکومت یا کسی ادارے یا محکمے کے خلاف کوئ بیان دیکھا ہے بشمول اس را ئیل اور یورپ کے کسی بھی ممالک کا کوئ خاص موضوع جو مسلمانوں کے حق میں ہو اور مظلوم مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے مترادف سمجھا جائے ایسا کوئ بھی خبر آج تک اس واشنگٹن پوسٹ میں نہیں چھپا اب یہ واویلا واشنگٹن پوسٹ پر اسلیئے چھپوایا گیا
مزید پڑھیں
تاکہ ہم نے جو جنگ کی چنگاری بھڑکادی اب اس چنگاری کو آگ میں تبدیل خود مسلمان کردیں ہم واپس اپنے گھروں میں لوٹ کر صرف دور سے تماشا دیکھیں اور مسلمان آپس میں ہمارے اس چنگاری کو آگ میں تبدیل کیئے جانے والے آگ میں جلتے رہیں جب سب راکھ بن جائیں تو پھر ہمارا کام بہت ہی آسان ہوجائیگا آپ سب جانتے ہیں 1980 میں عراق اور ایران کے مابین شروع کی گئ جنگ آخر کار 1988 میں ختم ہوئ اور یہ بھی جانتے ہونگے یہ جنگ شروع کس کے کہنے پر کی گئ اور پہلے عراق نے ایران پر حملہ کیا کیونکہ اسوقت یہی عراق کے صدر صدام حسین اسوقت امریکہ ایک اہم الائ کے طور پر جانا جاتا تھا اس آٹھ سال کے طویل جنگ میں عراق کو امریکہ نے ہر قسمی ہتھیار جہاز اور گولہ بارود فراہم کیا لیکن اس آٹھ سالہ طویل جنگ بغیر معنی خیز ختم ہوا کیونکہ امریکہ کو اس چیز سے کوئ سرو کار نہیں تھا عاق ایران پر قابض ہو یا ایران عراق پر امریکہ چاہتا تھا ان دونوں کی لڑائ میں ایک تو یہ کبھی ساتھ نہیں چلیں گے دوسرا انکے افواج میں اموات ملٹری کمزور ہو جب امریکہ نے اپنا احداف حاصل کی تو دو اے تین سال کے قلیل مدت گزرتے ہی امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا کیونکہ امریکہ انکے اندرونی معاملات کو اچھی طرح جان چکا تھا کہ اب عراق میں وہ پہلے جیسی طاقت نہیں رہی اسے مارنا بہت آسان ہے اور اسنے وہ کیا جو ہمیشہ سے کرتا چلا آرہا ہے اور پہلی عراق اور امریکی جنگ کا سبب عراق کا کویت پر حملے کو جواز بنایا گیا لیکن کویت پر حملہ بھی اسی امریکی منصوبے کا حصہ تھا مسلمانوں کا کمال اس بات پر ہے امریکہ اس را ئیل یو رپ وغیرہ کی باتوں پر کیسے یقین کرتے ہیں کیونکہ 1400 سال پہلے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا اے مومنو کفار اور نصاری کو کبھی اپنا بھائ مت بناو وقت آنے پر یہ اپنا ہر قسمی دشمنی بھول کر مسلمانوں پر ملکر لڑتے ہیں لیکن ہم لوگوں نے اس چیز کا۔مشاہدہ اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے پھر بھی ہمیں خود کے آنکھوں پر بھی یقین نہیں آتا تو قرآن کریم کے آیات پر کیسے عمل پیرا ہوں آنا اللہ واناالیہ راجعون
جب ایمان تاریکیوں میں گم جائے دماغ کی نالیاں بند ہوں آنکھوں پر پٹی بندھی ہو کانوں میں روئ ٹھونس دی جائیں دل پر خوف بٹھایا جائے ایمان کو شراب و شباب یا لالچ میں ڈھانپا جائے تو مسلم دنیا صرف ایک جملہ تصور ہوگا استغفراللہ اللہ اکبر کبیرہ
Monday, 2 March 2026
دین محمدی صرف شمشیر سے نہیں تو کیسے پوری دنیا میں پھیلا دیا گیا پڑھنے کیلیے کلک کریں
اگر طاقت شمشیر میں ہوتی تو رومن امپائر اور منگول سلطنت کو کیوں زوال پزیر ہوئے اگر جاننا چاہتے ہیں تو تفصیل موجود ہے
ت سے زیادہ طاقتور ہو تو اس ریاست میں زوال بہت قریب ہے جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں قدیم روم میں فوجی جرنیل اکثر مسلسل جنگوں کو ایک سیاسی اور سماجی ذریعہ کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے تاکہ عوام کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ فوج ریاست کی سب سے اہم طاقت ہے۔ اس وقت روم کے اندر غربت، بے روزگاری، اور معاشی عدم مساوات جیسے سنگین مسائل موجود تھے۔ اگر عوام ان مسائل پر زیادہ توجہ دیتے تو وہ حکومت اور اشرافیہ کے خلاف بغاوت یا احتجاج کر سکتے تھے۔ لیکن جب جنگ جاری رہتی تھی، تو عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹ کر فوج کی کامیابیوں اور ریاست کی طاقت پر مرکوز ہو جاتی تھی۔
Sunday, 1 March 2026
مسلمانوں نے اپنا راہ بہت جلد کیوں بدلا کیا آپ جاننا چاہتے ہیں تو مکمل تفصیل پڑھیں
Friday, 27 February 2026
خود کو پانے انسان اللہ تعالیٰ کو ہر صورت پاتے ہیں الحمداللہ
Tuesday, 24 February 2026
دعا گو ہوں اللہ تعالی مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین
اسلام علیکم صبح بخیر
ایک نہ ایک دن ہم سبکو قصہ پارینہ بننا ہے موت سانسوں سے بھی قریب رہتا ہے کچھ پتہ نہیں کب اور کس وقت دبوچ لیتا پے مگر صرف یادیں رہ جاتی ہیں انسان غلطی کا کتلا ہے مگر معاف کرنے والے رحمن سے کبھی ناامیدی نہیں کی جاسکتی سفید ٹوپی اور کالا جیکٹ پہنے سفید ریش انسان کبھی اس دنیا میں جناب عالی عزت مآب جیسے القاب سے نوازے جاتے تھے آج مرحوم دفعدار احمد خان جلالانی لکھا اور پکارا جائے گا کیونکہ یہ دنیا کی فطرت ہے کہ ہم عام تمام لوگ یہ کہیں لیکن آپنے بھی یہی کہتے ہیں اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے کیونکہ ہم جانے والوں پر منحصر ہے اگر اس دنیا میں رہ کر اپنے لیئے لڑیں تو ہم بہت کچھ پاکر اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اگر ہم اپنے مستقبل کیلئے کوشش کریں یقیننا دنیائے فانی سے جاتے ہوئے خود کو بھی بہت بڑے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہم طاقت میں مغرور ہوتے ہیں دولت میں مدہوش اور ہم یہ نہیں سمجھتے کہ سب چیزیں عارضی ہیں یہ دولت یہ طاقت یہ عہدے حتی کہ اپنی جان مگر سمجھنے میں ہمیں اگر مشکلات نہ آتے تو یقیننا ہم فائدے میں ہوتے کیونکہ کسی کی پرواہ کیئے بغیر اپنے روح کو زندہ رکھنا ہے نفس کو مار کر اگر نفس کو زندہ رکھیں گے تو روح مارا جائیگا اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے ہم نفس کو زندہ رکھ کر روح کو مار دیتے ہیں اگر ہمیشہ کیلئے امر ہونا ہے تو ابھی سے پڑھیں
اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم @
بسم اللہ الرحمن الرحیم @
@ آنا فتحنا الک فتح االمبین
m
ہم اکثر لوگ فتح خود سے چاہتے ہیں
مگر ہم ہمیشہ شیطان کے ساتھی اپنے نفس کا غلام بنے رہتے ہیں کیونکہ ہم ایک ایسے مذہب کے پیروکار ہیں الحمداللہ زندگی کے آخری سانس تک اگر اپنے رب سے توبہ کریں معافی کا طلبگار بنیں یقین جانیں تم ایسا ہو جاوگے جیسا کہ پیدا ہی ابھی ہوئے ہو غلطیاں تو ہم سے ضرور ہوتی ہیں مگر یہ جان لو جب واپس پلٹو گے تو میرا ایمان اگر ہم دیکھنے کے قابل ہوتے تو یہ دنیا اور آخرت میں ہمارے کی گئ توبہ سے اللہ تعالی چراغاں روشن کرتے فرشتوں کو پکار کر کہتے ہے آپ گواہ ہیں میرے فلانے بندے نے توبہ کی میں نے انہیں معاف فرمایا کہنے لکھنے کا مقصد دفعدار احمد خان جلالانی کو میں قریب سے جانتا تھا بیشک انسان میں ہزار کمی کوتاہیاں ہونگے لیکن ہمیشہ صاف دل خوش اخلاق میں پیش پیش رہا
جب طبیعت میں بگاڑ پیدا ہوا تو عمرہ پاک کی سعادت حاصل کی اور بہت زیادہ اللہ تعالی سے قریب ہونے کی کوشش میں لگا رہا اور دل ہی دل میں ٹوٹ چکا تھا اور اپنے رب کی رحمتوں سے امید رکھتا اور یہی کہتا بس دعا کریں اللہ تعالی ہمیں معاف فرمائے اور روز محشر آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کی شفاعت سے بہرامند فرمائے آمین
Featured post
کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش
http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201
-
لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگ...
-
یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بش...
-
قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو ...










