پاکستان کے لفظی معنی پاک لوگوں کی سر زمینہے، پاک کے اردو اور فارسی میں معنی خالص اور صاف کے ہیں اور ستان کا مطلب زمین یا وطن کا ہے- 1933ء میں چودھری رحمت علی نے دوسری گول میز کانفرنس کے موقع پر اپنا مشہور کتابچہ (Now or Never) اب یا کبھی نہیں شائع کیا جس میں پہلی مرتبہ لفظ پاکستان استعمال کیا گیا۔
لفظ پاکستان اس وقت پانچ مسلم علاقوں کے ناموں کا سرنامیہ ہے۔ پ پنجاب، ا خیبر پختونخوا (افغانیہ)، ک کشمیر، س سندھ، تان بلوچستان۔
آئین،حکومت اور سياست
تفصیلی مضامین کے لیے پاکستان کی سیاست، آئین پاکستان اور پاکستان میں انسانی حقوق ملاحظہ کریں۔
پاکستان کا اعلیٰ اساسی قانون آئین پاکستان کہلاتا ہے۔آئین پاکستان کا وہ اعلیٰ قانون ہے جو ریاست پاکستان کے اندر تمام اہم چیزوں اور فیصلوں کا تعین کرتا ہے۔ملک میں چار مرتبہ مارشل لا لگا جس سے دو مرتبہ آئین معطل ہوا، ایک مرتبہ 1956ء کا آئین اور دوسری مرتبہ 1962ء کا آئین۔ 1972ءمیں مشرقی پاکستان میں مخالفین نے سازشیں کی ، دوسری طرف مشرقی پاکستان کی عوام میں احساس محرومی بڑھ گئی جس کی نتیجے میں وطن عزیز دو لخت ہو گیا اس وقت غور کیا گیا تو ملک ٹوٹنے کے بہت سے وجوہات تھے اسی بنا پر1973ء کا آئین بنایا گیا۔آئین بنانے کے لیے ایک خاص کمیٹی تشکیل دے دی گئی اور آئین میں ہر شعبے اور اہم امور کے لیے اصول بنے،آئین میں ریاست کی تمام بڑے فیصلوں کے لیے قوانین بنائے گئے،حکومت اور ریاست کا پورا تشکیل بیان کیا گیا۔مسودہ تیار ہونے کے بعد اسے قومی اسمبلی سے پاس کرایا گیا۔
پاکستانی سیاست کا بنیاد آئین پاکستان نے قائم کیا ہے۔آئین کے مطابق پاکستان ایک جمہوری اور قومی ریاست ہے۔آئین پاکستان نے ایک وفاق اور اس کے ماتحت صوبائی حکومتیں قائم کی ہیں۔آئین کا پہلا آرٹیکل بیان کرتا ہے کہ "مملکت پاکستان ایک وفاقی جمہوریت ہوگا جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوگا اور جسے بعد ازیں پاکستان کہا جائے گا"۔
پاکستان کی مختلف علاقہ جات کے متعلق آئین پاکستان کا دوسرا آرٹیکل بیان کرتا ہے:
پاکستان کے علاقے مندرجہ ذیل پر مشتمل ہونگے:
(الف) صوبہ جات: بلوچستان،خیبر پختونخوا،پنجاب اور سندھ(ب) وفاقی دار الحکومت اسلام آباد(ج) وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات(د) ایسے علاقے اور ریاستیں جو الحاق کے ذریعے پاکستان میں شامل ہیں یا ہو جائے
آرٹیکل 1 میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی کوئی واضح حیثیت تو بیان نہیں کی گئی لیکن2009ء میں قومی اسمبلی سے ایک اور بل پاس ہوا جس نے واضح طور پر گلگت بلتستان کو نیم-صوبے کا درجہ دیا اور یہاں باقاعدہ صوبائی حکومت قائم کیا گیا، جس کے تمام بنیادی شاخ (اسمبلی، عدلیہ، وزارتیں، وغیرہ) قائم کئے گئے۔
آئین نے مزید ملک میں دو قانون ساز ایوان قائم کئے ایک قومی اسمبلی اور دوسراں سینٹ۔ قومی اسمبلی کا بنیاد آبادی کے لحاظ سے ہے یعنی جہاں آبادی زیادہ ہوگی وہاں زیادہ نشستیں رکھی جائے گی اور قومی اسمبلی کے ارکان کو براہ راست عوام اپنے ووٹ سے منتخب کرتے ہیں۔ جبکہ سینٹ میں تمام صوبوں کو برابر کے نشستیں دیے گئے ہیں چاہے صوبہ چھوٹا ہو یا بڑا ۔سینٹ کے ارکان کو سینیٹر کہا جاتا ہے اور ان سینیٹرز کو چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ممبران اپنے ووٹ سے منتخب کر سکتے ہیں۔
خارجہ تعلقات
کسی ملک کے دوسرے ممالک سے تعلقات قائم کرنا تاکہ وہ ملک دیگر ممالک سے برآمدات اور درآمدات کا سلسلہ قائم رکھ سکے اس سلسلہ میں ملکی مذہبی امور، دفاعی سامان کی خرید وفروخت اور ملکی و قومی نظریات کو بھی مدنظر رکھاجاتا ہے،ایک نقطہ ذہن نشین کر لیں کہ خارجہ پالیسی میں نہ کوئی مستقل دشمن ہوتا ہے اور نہ مستقل دوست۔یہ سب وقت اور حالات کے تحت بدلتا رہتا ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے انڈونیشیا کے بعد دوسرا بڑا اسلامی ملک ہے۔ ایک ایٹمی قوت ہونے کے باعث بھی اسے اقوام عالم میں مسلمان ممالک میں اونچا مقام حاصل ہے۔ پاکستان ہر معاملے میں ایک آزاد خارجہ پالیسی رکھتا ہے خاص طور پر نیوکلیائی ہتھیاروں کا معاملہ ہو یا اسلحے کی خرید و فروخت کا۔
افواج
تفصیلی مضمون کے لیے پاکستان مسلح افواج ملاحظہ کریں۔
پاک بحریہ کے جوان مارچ کرتے ہوئے
ایک فوجی جوان نے سوات میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کے بعد پاکستان کا پرچم لگایا۔
پاک بحریہ کےجہاز سمندری سرحدوں کی حفاظت کے لیے تعینات
پاکستان کی دفاع کا ذمہ ملک کے مسلح افواج پر ہے جس کی بنیادی طور پر تین شاخیں ہیں:
1947ء میں قیام پاکستان سے پہلے پاک عسکریہ، ہندوستانی فوج کا حصہ تھی۔ اس لحاظ سے اس کے تاج برطانیہ کے زیر اثر پہلی جنگ عظیم اوردوسری جنگ عظیم میں بھی حصہ لیا ہے۔ تقسیم برصغیر کے بعد ہندوستانی فوج پاکستان اور بھارتمیں بالترتیب 36% اور 644% کےتناسب میں تقسیم ہو گئی۔ اس وقت اعلان ہوا کہ کوئی بھی فوجی جس بھی فوج میں جانا چاہتا ہے تو اسے مکمل اجازت ہے۔ اس وقت بہت سے مسلمان فوجی، پاک عسکریہ میں شامل ہوگئے۔ تقسیم کے وقت بھارت میں 16 آرڈیننس فیکٹریاں تھیں جبکہ پاکستان میں ایک بھی نہیں تھی۔ الحمد اللہ اب پاکستان کافی حد تک دفاعی اعتبار سے خود کفیل ہو گیا ہے لیکن بھارت کو اپنا دفاعی تناسب برقرار رکھنے کے لیے بڑی طاقتوں سے خریداری کرنا پڑتی ہے جس پر خطیر زر مبادلہ خرچ ہوتا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے
پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے بہت سے ادارے شامل ہیں جن میں سول ادارے بھی ہیں اور فوجی بھی۔ فوج اداروں میں پاک فوج، پاک فضائیہ اورپاک بحریہ شامل ہیں جو سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں، قدرتی آفت میں متاثرین کی امداد وغیرہ کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ دیگر نیم فوجی ادارے بھی قانون نافذ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ان نیم فوجی داروں میں فرنٹیئر کانسٹبلری، سرحد کور،پاکستان رینجرز شامل ہیں۔ پاکستان رینجرز کو ملک کے دو مشرقی صوبوں یعنی پنجاب اور سندھ میں ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اس لیے اس ادارے کے مزید دو شاخ بنائے گئے ہیں یعنی پنجاب رینجرزاور سندھ رینجرز۔ اسی طرح سرحد کور اورفرنٹیئر کانسٹبلری کو ملک کے مغربی صوبوں یعنی صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اسی ادارے کو مزید دو شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے یعنی پختونخوا کانسٹبلری اور بلوچستان کانسٹبلری۔
اس کے علاوہ ہر انتظامی اکائی میں مختلف پولیس فورسز بنائی گئی ہیں جن میں خیبر پختونخواپولیس، پنجاب پولیس، سندھ پولیس، بلوچستانپولیس،آزاد کشمیر پولیس اور گلگت بلتستان پولیس شامل ہیں۔پولیس فورس میں ایک الگ شاخ بھی بنایا گیا ہے جسے پولیس قومی رضا کار کہا جاتا ہے، اس فورس کا مقصد تمام صوبوں میں جہاں ضرورت پڑے وہاں کام کرنا ہے۔ ایئرپورٹ پولیس کا کام ایئرپورٹ کے امور سرانجام دینا ہے اسی طرح موٹروے پولیس اور قومی شاہراہ پولیس کا کام سڑکوں کی حفاظت ہے۔
تحقیقات کے لیے وفاقی ادارۂ تحقیقات (ایف آئی اے) اور دیگر تحقیقاتی ادارے موجود ہیں۔مخابرات اور ملک کے بیرون خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی مخابراتی ادارے (جیسے آئی ایس آئی،وغیرہ) موجود ہیں۔
No comments:
Post a Comment