Friday, 31 August 2018

دوسری جنگ عظیم



جنگ عظیم کا بیج اسی وقت بو دیاگیا تھا جبمعاہدہ ورسائی پر دستخط ہوئے تھے۔ لیکن اس کا باقاعدہ آغاز 1 ستمبر 1939ء کو ہوا جب پولینڈ پرجرمنی حملہ آور ہوا اور برطانیہ نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ 1918ء سے 19399ء تک کی یورپین تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ اس کا خواہاں تھا کہ ہٹلر زیادہ سے  زیادہ طاقت پکڑ جائے۔ اسی غرض سے اس نے چیکو سلواکیہ کے حصے علاحدہ کیے اور پھر پورے چیکوسلواکیہ پر جرمنوں کا قبضہ ہونے پر بھی برطانیہ خاموش رہا کہ ہٹلر کی حکومت مضبوط ہو جائے تاکہ وہ روس پر حملہ کرے۔ مگر جب ہٹلر نے روس پر حملہ کرنے کی بجائے پولینڈ پر حملہ کر دیا تو انگریز گھبرا اٹھے اور انھوں نے پولینڈ کی حمایت میں نازی جرمنی کے خلاف ہتھیار اٹھاے۔

واقعات


1939ء


ہٹلر اور مسولینی

یکم ستمبر 1939ء کو جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا۔ 3 ستمبر برطانیہ اور فرانس نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کیا۔ 28 ستمبر جرمنی اور روسمیں پولینڈ کی تقسیم کے بارے میں معاہدہ ہوا۔  30 نومبر کو روس نے فن لینڈ پر حملہ کر دیا۔ فن لینڈ پر حملے کے بعد جرمنی نے روس کو بھی اپنا دشمن بنا لیا


1940ء


9 اپریل 1940ء کو جرمنی نے ڈنمارک پر قبضہ کر لیا۔ اور ناروے پر حملہ کیا۔ 100 مئی کو جرمنی نے بلیجیم، ہالینڈ اور لکسمبرگ پر حملہ کیا۔ انہی دنوں چرچل وزیر اعظم بنا۔10 جون کو اطالیہ نے فرانسکے خلاف اعلان جنگ کیا۔ 133 جون جرمنی نے پیرس پر قبضہ کر لیا۔ 22 جون فرانس نے ہتھیار ڈال دیے۔ 27 ستمبر کوجرمنی، اطالیہ، جاپان کا سہ طاقتی معاہدہ ہوا۔


1941ء


14 اپریل 1941ء روس اور جاپان نے معاہدہ غیر جانبداری سامنے آیا۔ 222 جون کو روس پر جرمنی نے حملہ کر دیا۔ 25 تا 29 اگست برطانیہ اور روس کا ایران پر حملہ اور قبضہ ہوا۔ 77دسمبر کو جنگ میں اعلان کے بغیر جاپان نے شمولیت اختیار کی۔  8 دسمبر کو جاپان نے امریکا کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ 11 دسمبر کو جرمنی اور اطالیہ کی طرف سےامریکا کے خلاف اعلان جنگ کا ہوا۔


1943ء


26 جولائی 1943ء میں مسولینی کی حکومت کا تختہ الٹ دیاگیا۔ اور وہ گرفتار ہوا۔ 99 ستمبر 1943ء اطالیہ نے اتحادیوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ مسولینی کو خود عوام نے چوک پر پھانسی دینے کے بعد لاش کو آگ لگادی۔


1944ء


جون 1944ء اتحادی فوجیں سرزمین فرانس پر اتریں۔ فرانسیسی فوج نے جرمن فوج سے بری طرح شکست کھائی اور ہتھیار ڈال دیے۔ بعد میں سب موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ جرمنی کا زوال سٹالن گراڈ کی بھیانک جنگ سے شروع ہوا۔ جرمن فوج بلاشبہ کامیاب تھی لیکن سردی اور برف باری نے ان کی شکست یقینی بنادی۔ ہزاروں فوجی سردی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ سٹالن گرڈ کا قومی ہیرو Vasili Zaistov کو مانا جاتا ہے جو بہترین نشانہ باز تھے۔


1945ء


28 اپریل کو مسولینی کو اطالوی عوام نے پھانسی دے دی۔ 30 اپریل کو ہٹلر نے خود کشی کر لی۔  7 مئی کو جرمنی نے ہتھیار ڈال دیے۔ 66 اگست کو جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکا نے ایٹم بم گرایا۔ 9 اگست کو جاپان کا دوسرا شہر ناگا ساکی ایٹم بم کا نشانہ بنا۔ 144 اگست کو جاپان نے ہتھیار ڈال دیے۔


نتائج


اس جنگ میں 61 ملکوں نے حصہ لیا۔ ان کی مجموعی آبادی دنیا کی آبادی کا 80 فیصد تھی۔ اور فوجوں کی تعداد ایک ارب سے زائد۔ تقریباً 40 ملکوں کی سرزمین جنگ سے متاثر ہوئی۔ اور 5 کروڑ کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ نقصان روس کا ہوا۔ تقریباً 2 کروڑ روسی مارے گئے۔ اور اس سے اور کہیں زیادہ زخمی ہوئے۔ روس کے 1710000000 شہر اور قصبے۔ 70000 گاؤں اور 32000 کارخانے تباہ ہوئے۔ پولینڈ کے 600،0000،یوگوسلاویہ کے 1700000 فرانس کے  600000برطانیہ کے 375000 اور امریکا کے 4050000 افراد کام آئے۔ تقریباً 65000000 جرمن موت کے گھات اترے اور 1600000 کے قریب اٹلی اور جرمنی کے  دوسرے حلیف ملکوں کے افراد مرے۔ جاپان کے 1900000 آدمی مارے گئے۔ جنگ کا سب سے ظالمانہ پہلو ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکا کا ایٹمی حملہ تھا۔ جاپان تقریباً جنگ ہار چکا تھا لیکن دنیا میں انسانی حقوق کے نام نہاد ٹھیکے دار امریکا نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔


دوسری جنگ عظیم اور برصغیر


اس جنگ کی وجہ سے جہاں کروڑوں انسانوں کو نقصان ہوا وہی ہندوستان کے لوگوں کو فائدہ ہوا آزادی بھی ملی کیونکہ برطانیہ کی معیشت اس  جنگ کی وجہ سے کافی کمزور ہو گئی تھی اور وہجنوبی ایشیاء کے کروڑوں لوگوں جو پہلے ہی  بپھری ہوئی تھی کو سنبھال نہیں سکتا تھااور اس جنگ کی وجہ سے بھارت اور اور پاکستان کی آزادی  کی راہ ہموار ہوئی۔ جنگ کے عالمی منظر نامے پر دوررس اثرات مرتب ہوئے۔ تاج برطانیہ کا سورج  غروب ہوا اور جنگ کے بعد اسے اپنے کئی نوآبادیات میں سے نکلنا پڑا جس میں ہندوستان بھی شامل  تھا۔


دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی منظر نامے پر دو بڑی طاقتیں نمودار ہوئیں۔ روس اور امریکا۔ ان دو بڑی طاقتوں کے درمیان سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ جس کی وجہ سے کئی چھوٹی جنگیں لڑی گئیں۔ جدید جمہوری ریاستیں اور کمیونسٹ ریاستیں اس جنگ کے بعد ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہوگئیں

No comments:

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201