پارٹی کا حقیقی سربراہ ورکرز ہیں جہاں پارٹی منشور کوئ نہیں پہنچا سکتا وہاں ورکر پہبچاتا ہے
جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہمارے بہت سے سیاست دان غلط راستے پر گامزن ہیں اس لیئے
ایک ورکر دس وڈیرے یا چوہدری یا جاگیردار پر بھاری پڑتا ہے
کیونکہ جو راستہ دس سے پچاس سال پہلے ہمارے علاقائ اور ملکی سیاستدانوں نے چنا یا اختیار کی یا اختیار کروایا گیا وہ اب آخری ہچکیاں لے رہا ہے سیاست دان ہمیشہ سے اپنے کامیابی کا سہرا ہر گوٹھ ہر بستی یا ہر محلے کے فرقے کے وڈیرے یا چوہدری کے سر پر سجاتے آرہے ہیں کہیں آرگنائز قاتلوں کی ضرورت بھی پڑتی ہے اس لیئے کچھ نہ ماننے والے لکھاریوں کو آخر کار ب ن د و ق کے گ و ل ی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس تن آور آواز کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش کرنے کی ناکام کوشش کیا جاتا ہے کیونکہ ایک اواز دبانے سے سینکڑوں آوازیں اور اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں کسی کا جان لینا اپنے یا ان پر دباو بڑھانا ہنرمندی یا طاقت نہیں ایک کمزور سوچ کو پروان چڑھانا ہے لیکن اب وہ وقت بھی گزر گیا ہے جب کسی قومی سفید پوش کا کسی بھی علاقائ رہنما سے ووٹ کیلئے ان کے ڈیرے پر آکر انسے دعا خیر ہو جاتی تو پورا قوم پورا بستی پورا محلہ آنکھیں بند خرکے اسکے پیچھے لگے رہتے تھے اب ہر فرد اپنی جگہ پے معزز بن چکا ہے کچھ نہ کچھ تعلیمی شعور بھی آچکا ہے ہر کوئ اپنے اپنے جنگ اور مستقبل کیلئے فکر مندی میں مدہوش ہے کسی بھی فرقے کے سفید پوش جس سیاسی رہنماوں کے ساتھ سیاسی الحاق کرے اسکی بات پر اسکے قوم کے 10% لوگ بھی بڑی مشکل سے اسکے ساتھ چلتے ہیں ہر کوئ اپنی مفاد اور مستقبل کیلئے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہے اس لیئے کہتا ہوں ورکرز وڈیروں چوہدریوں سے اگے نکل چکے ہیں فرض کریں ایک فرقے کا سربراہ آپکے ساتھ ملکر اپنے فرقے سے تمہیں 10سے50% ووٹ لیکر دیگا اور ایک ورکر جو منعظم ہے اسکی ایک پوسٹ ملک بھر سے آپکے ہر ممبر کو 100 ووٹ لیکر دینے کا اہلیت رکھتا ہے کیونکہ ورکرز پورے ملک اور دنیا بھر میں اپنے ملک اور قومی پارٹی کیلئے ہر ووٹر تک آپکے پیغام پہنچانے اور پارٹی کی ترجمانی میں لڑتا رہتا ہے صرف اسکے سر پر بڑا پگڑی نہیں نیچے گاڑی نہیں اور سوٹ بوٹ نہیں اس لیئے اسے ترجیع نہیں دیا جارہا اور اسے ترجیع نہ دینے کا خمیازہ بھی پارٹیز یا لوکل سیاسی رہنما کو اسوقت بھگتا پڑتا ہے جب وہ آپکا ساتھ چھوڑ کر سامنے آکر اپنے حقوق کیلئے کھڑا ہوکر سوال کرے کہ میں نے اپنے زندگی میں آپکیلئے اور آپکے پارٹی کیلئے جنگ لڑا آپ نے میرے لیئے یا مستقبل کیلئے اور میرے علاقے بستی محلے کیلئے کیا بتائیں مجھے بتائیں اور دکھائیں اس لیئے میں اب آپکے ساتھ نہیں چل سکتا آپ غلط روش لیکر الٹے راستے پر ہیں آپ دوسروں سے میرے حق کا سودا کرتے آرہے ہیں میرا حق کسی اور کو کیوں دیا جارہا اور مجھے کیوں نہیں ملتا میں کسی بھی غلط فرد یا افراد یا پارٹی کو سپورٹ نہیں کرتا تو تمہیں سمجھ آتی ہے کہ اب عرب سے عجم تک تماری اور تمہارے پارٹی کی کار کردگی پر سوالیہ نشان بناکر لوگوں تک پہنچائے تو لوگ بھی آپکو اور آپکے پارٹی کو ٹیڑھی نظروں سے دیکھنا شروع کردینگے اگر ایک فرقے کا سربراہ یا چوہدری آپسے روٹھ جائے تو وہ صرف اپنے ہی فرقے کے 50 ووٹ آپ تک پہنچنے نہیں دیتا اور پورے ملک میں آپکا حشر نشر تو نہیں کر سکتا نہ پورے ملک میں کسی بھی رہنما یا پارٹی کے کارکردگی پر سوالیہ نشان بناکر پیش نہیں کر سکتا مگر جو دس سال پہلے قومی معززین کہہ کر پکارا لکھا اور بولا کرتے تھے آج انہی معززین کو اس جدید دور میں لوگ (پگڑ_پوش) لکھ بول اور پکار رہے ہیں معزرت کے ساتھ میں کسی کی گستاخی یا تضحیک نہیں کررہا ہوں صرف حقیقت بتا رہا ہوں اب وہ دور نہیں رہا جس میں آپ جاگیرادارانہ سوچ لیکر پیدا ہوئے تھے اور عوام کو صرف اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا کرتے رہے پورے علاقے کو داو پر لگا کر اندھیرے میں ٹھونستے رہے اسوقت جب کسی بھی سیاست دان کا کسی وڈیرے کے مہمان خانے میں آنے کی آمد ہوتی تو پورا قوم پانچ گھنٹے پہلے اس وڈہرے کے ڈیرے میں لوگ پہنچ جاتے سیاست دان کے آنے پر اسکا پرجوش انداز میں استقبال کیا جاتا اور آنے کی خوشی میں دھڑا دھڑ ہوائ فائرنگ ہوتی جب وڈیرہ صاحب اور سیاست دان بیٹھ کر اپنے حتمی فیصلے پر پہنچ جاتے پورے قوم محلے اور بستی کا سودا مکمل ہو جاتا تو آخر میں دعائے خیر کہہ کر سیاستدان کو الوداع کہتا لیکن عوام کو یہ بھی پتہ تک نہیں تھا کہ کس بات پر #ملک_صاحب نے ہمارے ووٹ اسے دیئے ہمارے لیئے کیا مطالبہ کیا گیا کسی کو نہیں معلوم صرف آخر میں یہ کہا جاتا میں اپنے پورے برادری محلے یا بستی کے ساتھ آپکے ساتھ شمولیت اختیار کرتا ہوں ہمارا ووٹ آپکا ہے ہم آپکے ساتھ دینگے لیکن وہاں موجود کسی میں یہ ہمت ہی نہیں تھا کہ زرا بھی جاکر چوہدری یا #وڈیرہ_صاحب سے پوچھ تو لیں ہمارے ووٹ کے بدلے میں ہمیں کیا ملیگا مجال ہے کسی میں یہ ہمت ہوتی بس صرف دعاوں سے جھولیاں بھر بھر کر واپس خالی منہ لیکر شام کو گھر واپس چلے جاتے لیکن کسی اور کے پوچھنے پر بھی پورے محلے یا بستی قوم کے کسی بھی فرد کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا ہم کس خوشی میں انہیں ووٹ دیتے ہیں ہمیں کیا ملیگا صرف یہ کہہ سکتے تھے پتہ نہیں وڈیرہ صاحب نے سردار صاحب کے ساتھ یا خواجہ صاحب کے ساتھ دعا خیر کی اب ہمارا ووٹ بھی اسکا ہے اب یہ نہیں چلیگا کام کام اور کام سیاستدانوں کو چاہیئے معززین اپنی جگہ قابل احترام ہیں لیکن ورکرز پورے پارٹی کیلئے وہ حیثیت رکھتے ہیں جیسا کہ کسی پارٹی کے سربراہ اور پارٹی سربراہ کے بیانیئے کو لیکر ملک کے گلی کوچوں میں آپکا پیغام یہی ورکرز پہنچاتے پھر رہے ہیں جہاں نہ پارٹی سربراہ جاسکتا ہے نہ پارٹی کا کوئ ممبر پہنچ سکا وہاں پارٹی منشور پہنچانے والے صرف پارٹی ورکرز ہوتے ہیں جو پارٹی کا پیغام لیکر ہر گھر کے ہر فرد کو الگ الگ پہنچانے کا فن جانتے ہیں اور وہ صرف یہی ورکر ہیں اگر 80 کلو بھاری بھرکم جسم والے ترو تازہ انسان کے منہ میں خدا نخواستہ دو چٹانگ زبان نہ ہو یا بولتا نہیں یا کچھ اور ہو تو جسم کے کسی بھی حصے میں کوئ تکلیف ہو تو وہ صرف روتا تو ہے لیکن بتا نہیں سکتا کیونکہ 80 کلو جسم صرف دو چٹانگ زبان کا محتاج ہے جسے اللہ تعالی نے بہت حکمت سے نوازا اسکا مقصد یہی ہوا کہ کسی بھی پارٹی کے پورا وجود ہی مکمل ہو اسکے ورکرز نہیں یا انہیں ورکرز کی قدر نہیں تو پارٹی کا پورا وجود بے جان ہے اور اسکا زبان نہیں تو صحیح اور غلط کا ازالہ کیسے کیا جاسکتا ہے اور پارٹی کی مجبوریوں کو کون عوام تک پہنچا سکتا ہے جسے عوام کو معلوم پڑے یہ پارٹی اس مجبوری کی وجہ سے یہی کرنے پر مجبور ہے






