Welcome To Tibalnews1. Here Uou Will Find Every Local National News Of DGKhan Taunsa And Koh Suleiman Kn A Blink Of An Eye With All Languages Kinds Of Articles.
Sunday, 22 January 2023
کیا کوہ سلیمان پنجاب بشمول پاکستان کا حصہ نہیں
سیلاب کی تباہ کاریاں کوہ سلیمان میں اب بھی وہی ہیں جہاں چھے مہینے قبل لاکھوں عوام کے گھر بار منہدم ہوئے جو اج بھی خیموں کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
کسی بھی پارٹی قیادت سے ورکرز کو کم تر سمجھنا پارٹی کے ناکامی کا سبب بن سکتا ہے تحریر حسن خان بزدار
پارٹی کا حقیقی سربراہ ورکرز ہیں جہاں پارٹی منشور کوئ نہیں پہنچا سکتا وہاں ورکر پہبچاتا ہے
جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہمارے بہت سے سیاست دان غلط راستے پر گامزن ہیں اس لیئے
ایک ورکر دس وڈیرے یا چوہدری یا جاگیردار پر بھاری پڑتا ہے
کیونکہ جو راستہ دس سے پچاس سال پہلے ہمارے علاقائ اور ملکی سیاستدانوں نے چنا یا اختیار کی یا اختیار کروایا گیا وہ اب آخری ہچکیاں لے رہا ہے سیاست دان ہمیشہ سے اپنے کامیابی کا سہرا ہر گوٹھ ہر بستی یا ہر محلے کے فرقے کے وڈیرے یا چوہدری کے سر پر سجاتے آرہے ہیں کہیں آرگنائز قاتلوں کی ضرورت بھی پڑتی ہے اس لیئے کچھ نہ ماننے والے لکھاریوں کو آخر کار ب ن د و ق کے گ و ل ی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس تن آور آواز کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش کرنے کی ناکام کوشش کیا جاتا ہے کیونکہ ایک اواز دبانے سے سینکڑوں آوازیں اور اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں کسی کا جان لینا اپنے یا ان پر دباو بڑھانا ہنرمندی یا طاقت نہیں ایک کمزور سوچ کو پروان چڑھانا ہے لیکن اب وہ وقت بھی گزر گیا ہے جب کسی قومی سفید پوش کا کسی بھی علاقائ رہنما سے ووٹ کیلئے ان کے ڈیرے پر آکر انسے دعا خیر ہو جاتی تو پورا قوم پورا بستی پورا محلہ آنکھیں بند خرکے اسکے پیچھے لگے رہتے تھے اب ہر فرد اپنی جگہ پے معزز بن چکا ہے کچھ نہ کچھ تعلیمی شعور بھی آچکا ہے ہر کوئ اپنے اپنے جنگ اور مستقبل کیلئے فکر مندی میں مدہوش ہے کسی بھی فرقے کے سفید پوش جس سیاسی رہنماوں کے ساتھ سیاسی الحاق کرے اسکی بات پر اسکے قوم کے 10% لوگ بھی بڑی مشکل سے اسکے ساتھ چلتے ہیں ہر کوئ اپنی مفاد اور مستقبل کیلئے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہے اس لیئے کہتا ہوں ورکرز وڈیروں چوہدریوں سے اگے نکل چکے ہیں فرض کریں ایک فرقے کا سربراہ آپکے ساتھ ملکر اپنے فرقے سے تمہیں 10سے50% ووٹ لیکر دیگا اور ایک ورکر جو منعظم ہے اسکی ایک پوسٹ ملک بھر سے آپکے ہر ممبر کو 100 ووٹ لیکر دینے کا اہلیت رکھتا ہے کیونکہ ورکرز پورے ملک اور دنیا بھر میں اپنے ملک اور قومی پارٹی کیلئے ہر ووٹر تک آپکے پیغام پہنچانے اور پارٹی کی ترجمانی میں لڑتا رہتا ہے صرف اسکے سر پر بڑا پگڑی نہیں نیچے گاڑی نہیں اور سوٹ بوٹ نہیں اس لیئے اسے ترجیع نہیں دیا جارہا اور اسے ترجیع نہ دینے کا خمیازہ بھی پارٹیز یا لوکل سیاسی رہنما کو اسوقت بھگتا پڑتا ہے جب وہ آپکا ساتھ چھوڑ کر سامنے آکر اپنے حقوق کیلئے کھڑا ہوکر سوال کرے کہ میں نے اپنے زندگی میں آپکیلئے اور آپکے پارٹی کیلئے جنگ لڑا آپ نے میرے لیئے یا مستقبل کیلئے اور میرے علاقے بستی محلے کیلئے کیا بتائیں مجھے بتائیں اور دکھائیں اس لیئے میں اب آپکے ساتھ نہیں چل سکتا آپ غلط روش لیکر الٹے راستے پر ہیں آپ دوسروں سے میرے حق کا سودا کرتے آرہے ہیں میرا حق کسی اور کو کیوں دیا جارہا اور مجھے کیوں نہیں ملتا میں کسی بھی غلط فرد یا افراد یا پارٹی کو سپورٹ نہیں کرتا تو تمہیں سمجھ آتی ہے کہ اب عرب سے عجم تک تماری اور تمہارے پارٹی کی کار کردگی پر سوالیہ نشان بناکر لوگوں تک پہنچائے تو لوگ بھی آپکو اور آپکے پارٹی کو ٹیڑھی نظروں سے دیکھنا شروع کردینگے اگر ایک فرقے کا سربراہ یا چوہدری آپسے روٹھ جائے تو وہ صرف اپنے ہی فرقے کے 50 ووٹ آپ تک پہنچنے نہیں دیتا اور پورے ملک میں آپکا حشر نشر تو نہیں کر سکتا نہ پورے ملک میں کسی بھی رہنما یا پارٹی کے کارکردگی پر سوالیہ نشان بناکر پیش نہیں کر سکتا مگر جو دس سال پہلے قومی معززین کہہ کر پکارا لکھا اور بولا کرتے تھے آج انہی معززین کو اس جدید دور میں لوگ (پگڑ_پوش) لکھ بول اور پکار رہے ہیں معزرت کے ساتھ میں کسی کی گستاخی یا تضحیک نہیں کررہا ہوں صرف حقیقت بتا رہا ہوں اب وہ دور نہیں رہا جس میں آپ جاگیرادارانہ سوچ لیکر پیدا ہوئے تھے اور عوام کو صرف اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا کرتے رہے پورے علاقے کو داو پر لگا کر اندھیرے میں ٹھونستے رہے اسوقت جب کسی بھی سیاست دان کا کسی وڈیرے کے مہمان خانے میں آنے کی آمد ہوتی تو پورا قوم پانچ گھنٹے پہلے اس وڈہرے کے ڈیرے میں لوگ پہنچ جاتے سیاست دان کے آنے پر اسکا پرجوش انداز میں استقبال کیا جاتا اور آنے کی خوشی میں دھڑا دھڑ ہوائ فائرنگ ہوتی جب وڈیرہ صاحب اور سیاست دان بیٹھ کر اپنے حتمی فیصلے پر پہنچ جاتے پورے قوم محلے اور بستی کا سودا مکمل ہو جاتا تو آخر میں دعائے خیر کہہ کر سیاستدان کو الوداع کہتا لیکن عوام کو یہ بھی پتہ تک نہیں تھا کہ کس بات پر #ملک_صاحب نے ہمارے ووٹ اسے دیئے ہمارے لیئے کیا مطالبہ کیا گیا کسی کو نہیں معلوم صرف آخر میں یہ کہا جاتا میں اپنے پورے برادری محلے یا بستی کے ساتھ آپکے ساتھ شمولیت اختیار کرتا ہوں ہمارا ووٹ آپکا ہے ہم آپکے ساتھ دینگے لیکن وہاں موجود کسی میں یہ ہمت ہی نہیں تھا کہ زرا بھی جاکر چوہدری یا #وڈیرہ_صاحب سے پوچھ تو لیں ہمارے ووٹ کے بدلے میں ہمیں کیا ملیگا مجال ہے کسی میں یہ ہمت ہوتی بس صرف دعاوں سے جھولیاں بھر بھر کر واپس خالی منہ لیکر شام کو گھر واپس چلے جاتے لیکن کسی اور کے پوچھنے پر بھی پورے محلے یا بستی قوم کے کسی بھی فرد کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا ہم کس خوشی میں انہیں ووٹ دیتے ہیں ہمیں کیا ملیگا صرف یہ کہہ سکتے تھے پتہ نہیں وڈیرہ صاحب نے سردار صاحب کے ساتھ یا خواجہ صاحب کے ساتھ دعا خیر کی اب ہمارا ووٹ بھی اسکا ہے اب یہ نہیں چلیگا کام کام اور کام سیاستدانوں کو چاہیئے معززین اپنی جگہ قابل احترام ہیں لیکن ورکرز پورے پارٹی کیلئے وہ حیثیت رکھتے ہیں جیسا کہ کسی پارٹی کے سربراہ اور پارٹی سربراہ کے بیانیئے کو لیکر ملک کے گلی کوچوں میں آپکا پیغام یہی ورکرز پہنچاتے پھر رہے ہیں جہاں نہ پارٹی سربراہ جاسکتا ہے نہ پارٹی کا کوئ ممبر پہنچ سکا وہاں پارٹی منشور پہنچانے والے صرف پارٹی ورکرز ہوتے ہیں جو پارٹی کا پیغام لیکر ہر گھر کے ہر فرد کو الگ الگ پہنچانے کا فن جانتے ہیں اور وہ صرف یہی ورکر ہیں اگر 80 کلو بھاری بھرکم جسم والے ترو تازہ انسان کے منہ میں خدا نخواستہ دو چٹانگ زبان نہ ہو یا بولتا نہیں یا کچھ اور ہو تو جسم کے کسی بھی حصے میں کوئ تکلیف ہو تو وہ صرف روتا تو ہے لیکن بتا نہیں سکتا کیونکہ 80 کلو جسم صرف دو چٹانگ زبان کا محتاج ہے جسے اللہ تعالی نے بہت حکمت سے نوازا اسکا مقصد یہی ہوا کہ کسی بھی پارٹی کے پورا وجود ہی مکمل ہو اسکے ورکرز نہیں یا انہیں ورکرز کی قدر نہیں تو پارٹی کا پورا وجود بے جان ہے اور اسکا زبان نہیں تو صحیح اور غلط کا ازالہ کیسے کیا جاسکتا ہے اور پارٹی کی مجبوریوں کو کون عوام تک پہنچا سکتا ہے جسے عوام کو معلوم پڑے یہ پارٹی اس مجبوری کی وجہ سے یہی کرنے پر مجبور ہے
Thursday, 8 December 2022
بزدار قبائل کا بہت سے اہم ہسٹری میں ایک اہم تاریخ ہفت دسمبر شہدائے کوہ سلیمان کے اسیران کا یاد ہمیشہ کیلئے زندہ و تابندہ بندہ رہیگا ؟
بزدار قوم کا ایک ادنی سا تاریخ
#کوہ سلیمان
,,ڈیرہ غازیخان میں بلوچ حقوقِ جدوجہد...
(07 ,,ہفت دسمبر )
☜(پٹواری جنگ)
,,بلوچستان کے وسیع تر رقبے میں 1948 میں پرنس آغا کریم,1958 میں بابو نوروز کی گوریلہ جنگ کے بعد یہ پٹواری جنگ تیسری بڑی جنگی میدان تھی,
1967 میں گورنمنٹ نے ڈیرہ غازیخان #کوہ سلیمان کے چھوٹے بارانی اور سیاہ آف زمینداروں پہ ٹیکس لاگو کرنے کی ٹھان لی،،
,,تو بلوچ محنت کش طبقہ, #راہکوں اور #شفانکوں نے ٹیکس دینے سے انکار کرتے ہوئے, واضح کالا قانون کے خلاف اعلان جنگ کیا, #بزدارسردار گورنمنٹ کیطرف سے سرداری اور مراعات کا بہانہ بنا کر گورنمنٹ کے پَلوُ میں جا بیٹھا,,
,,بزداروں نے اپنے #سردار سے بغاوت کر کے دو پڑھے لکھے نوجوان #صدیق بلوچ جس کا تعلق چاکرانی قبیلے سے اور ماسٹر #وحید ,جس کاتعلق شہوانی قبیلے سے ہے,
,,تمام بزدار جہد کاروں نے ان دو نوجوانوں کو اپنا کمانڈر تسلیم کیا, یہ جنگ ایوبی دور میں تمن بزدار کے علاقے تھلہ تھوخ میں لڑی گئی,,
,, تمن بزدار کے تمام نوجوانوں, بزرگوں,خواتین اور بچوں نے بھی حق کا علم بلند کرتے ہوئے کوہ سلیمان کی بلند چوٹیوں اور تھوخوں کا رخ کیا, یہ مزاحمت پورے چھ ماہ تک جاری رہی,,
,, اس مزاحمت کو کچلنے کیلئے #سرداروں نے گورنمنٹ سے ذاتی مفادات حاصل کر کے #وڈیروں کے بچوں کو دھڑا دھڑ قبائلی فورس BMP میں بھرتی کر لیا,
,پھر اسی #فورس کو #ریاست نے #انگریزوں کیطرح نہتے بلوچ عوام کے خلاف استعمال کیا, بلوچ جہد کاروں نے ہزاروں کی تعداد میں پہاڑوں کا رخ کیا,اور سرداروں اور بی.ایم. پی کو شکست ہوئی,,
,,سرداروں کی منافقت یا دوستی دوسرے بلوچ سرداروں نے بزدار سردار کیطرح جنگ سے لاتعلقی اختیار کیا, اور دوسرے بلوچ علاقوں سے کمیونیکیشن گیپ سے اس مزاحمتی جنگ میں صرف #بزدار قبیلے نے حصہ لیا, اسلحہ,خوراک , دیسی کارتوس اور دیسی بندوقیں حتی کہ بلوچ چرواہے شفانک اپنی کلہاڑیاں لیکر اپنے سے طاقتور کیخلاف مورچہ زن ہوگئے,,
,,اس جنگ میں کمانڈری کی خدمات #شہید صدیق چاکرانی اور #ماسٹروحیدشاہوانی جو آج بھی حیات ہیں نے انجام دیے,,
,,اس جنگ میں دوست محمد, محمدان, یارمحمد, رحیمو شہید ہوئے,,اناللہ واناالیہ راجعون
,,اس جنگ میں بہت سے بی. ایم. پی کے باضمیر سپاہیوں نے گورنمنٹ سے بغاوت کر کے بلوچ جہد کاروں کے ساتھ شامل ہوئے,جس میں سپاہی نور محمد کا نام نمایاں تھا, بارڈر ملٹری پولیس کی ناکامی کے بعد ریاست نے ایف.سی کو بلوچ گوریلہ جہد کار آمنے سامنے مڈ بھیڑ ہو گئے,,
,,گورنمنٹ کے پاس بھاری اسلحہ,توپ,گولے اور مشین گنیں تھیں,جبکہ بلوچ جہد کاروں کے پاس کلہاڑیاں,چند دیسی توپک محدود دیسی کارتوس اور پتھروں کے علاوہ کچھ نہ تھا, بزدار برادری نے ڈٹ کر مقابلہ کیا,,
,,آخر کار 7 دسمبر 1967 کو دوست محمد اور یار جان بزدار, وطن کی حفاظت میں شہید ہو گئے, اسلحہ اور خوراک نہ ہونے کیوجہ سے بلوچ مزاحمت کار منتشر ہو گئے,سینکڑوں نوجوانوں, بزرگوں, خواتین اور بچوں کو ایف.سی اور بی. ایم. پی نے گرفتار کرلیا,اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھر بار چھوڑ کر خواتین اور بچوں سمیت روپوش ہو گئے,
,,گورنمنٹ کیطرف سے لوٹ مار کا سلسلہ شروع ہوا,کھڑی فصلوں کو آگ لگادی گئی,کچے مکانات اور جھونپڑیوں کو منہدم کیاگیا, مال مویشی کے جھونپڑیوں کو آگ لگا کر مال مویشیاں ہانک کر لے گئے,1200 آدمیوں پر ریاست نے بغاوت کا مقدمہ درج کیا اور تقریباً 700 لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا,ملک کی مختلف جیلیں بزدار برادری سے بھر دی گئیں,
,,اس وقت کامشہور نعرہ تھا
,,چھکاں چماٹاں گو وافنوں,
پھرے واڑت پٹواری,,
,,یعنی ہمارے اپنے بچے چماٹ کھا کر سو جاتے ہیں
اور پٹواری بھی ہم سے کھانے کو مانگتا ہے,,
آج بھی ڈیرہ غازیخان اور تونسہ میں شہدائے کوہ سلیمان کی یاد میں بلوچ بزرگ ونوجوان, طلبأ, ہر سال ہفت دسمبر جوش اور جذبے میں مناتے ہیں,,
Saturday, 3 December 2022
گزشتہ چھے مہینے سے آجتک تونسہ شریف میں مسلم لیگ ن کیلئے ہیرو زیرو کیسے بنا جانیئے آجکے اخبار ڈیلی ایکسپریس میں
بڑے بڑوں سے ہمیشہ سننے کو ملے اور سنتے آرہے ہیں ہر کامیاب اور ناکام خاندان کے پیچھے ایک فرد کا ہاتھ ہوتا ہے اگر اسمیں ٹیلینٹ ہو اجڑے ہوئے فیملی کو اباد کر سکتا ہے اگر منفی سوچ کا مالک ہو تو ہنستے بستے گھر کو اجاڑ دیتا ہے عین اسی طرح تونسہ شریف میں گزشتہ چھے مہینے سے اجتک مرکز میں حکومت ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن کی حالات روز بروز تنزلی کی طرف گامزن ہے جب 2018میں پی ٹی آئ کا گورنمنٹ مرکز اور پنجاب میں بنا لوگوں کو لارے میں لاکر ووت لیئے گمنام بازو کا سہارا لیکر کھڑا تو ہوا لیکن ہر گزرتے وقت عوام کا دل ٹوٹتے ٹوٹتے آخر کار تونسہ شریف میں اہل عوام نے مسلم ن کا نعرہ بلند کرنا شروع کردی ہے جبکہ تونسہ شریف کے شہری دیہی اور کچھ پہاڑی سطع پر مسلم لیگ ن کے گن گانے والے لوگ بہت ہی پھرتی سے اگے بڑھ رہے تھے پی ٹی آئ اور پی پی پی کے ووٹروں کو توڑکر ن لیگ میں شمولیت کیلئے دن رات کوشاں رہنے والے عوام اور اسکے پیچھے ورکرز کے سپورٹ ہوتے ہوئے بہت تیزی سے اپنا منزل طے کرتے ہوئے کامیابی کی طرف گامزن تھے کیونکہ تونسہ شریف کے پی پی 286اور این اے 189 میں مسلم لیگ ن کا گزشتہ الیکشن میں یہاں کوئ کنڈیڈیٹ ہی نہیں تھا جب تونسہ شریف میں پی پی 286 کیلئے آنے والے 2023کے عام انتخابات کیلئے مسلم لیگ ن نے اپنا ٹکٹ خواجہ نظام المحمود صاحب کو دینے کی افر کی جو کہ یہی خواجہ صاحب 2013سے 2018 تک پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر جیت کر پنجاب اسمبلی کے ممبر ہی رہ چکے تھے جونہی خواجہ نطام المحمود صاحب کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ ہولڈر بنایا گیا آہستہ آہستہ اہل علاقہ کے عوام واپسی اختیار کرتے چلے گئے کیونکہ یہی خواجہ صاحب کو تونسہ شریف کے عوام پہلے پانچ سال کیلئے کامیاب کرا کر پنجاب اسمبلی تک پہنچا چکے تھے اسی پانچ سال میں اس مرد مجاھد نے ایک اینٹ تک اپنے حلقے کے عوام کو دینے کا گوارہ ہی نہیں کی اسی پانچ سال میں اپنا ٹینور اکثر ملتان لاہور اور گرمیوں میں مری کے ٹھنڈے موسم انجوائے کرتے ہوئے گزارے عوام کو معلوم تھا کہ خواجہ صاحب ہمارے دیکھے اور ماضی میں کامیاب کروائے گئے امیدوار کو جب ہم دوسری بار دوسری پارٹی سے ٹکٹ لیکر ہم مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ اہل عوام کو بالکل قبول ہی نہیں پارٹیاں بدلنے سے انسان کا سوچ نہیں بدل سکتا نہ پارٹی بدلنے سے علاقے میں ترقی کا انقلاب آسکتا ہے جب چار مہینے قبل تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں طوفانی بارشوں کے اور سیلاب کی تباہ کاریاں شروع ہوگئیں تو مرکز میں مسلم لیگ ن کی دور حکومت ہونے اور اسی ٹکٹ ہولڈر خواجہ نطام المحمود صاحب کو پورے علاقے اور اپنے حلقے کیلئے ایک بار محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے علاقے کا دورہ کرکے راشن خیمے بشمول تمام ضروریات زندگی کی ہر چیز خواجہ صاحب کو عوام کی زندگی بحال رکھنے کیلئے ضروریات کو بھانپ کر بہت بڑی تعداد میں خوراک وغیرہ دیکر چلی گئی بہت تھوڑے ہی وقفے کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ صاحب کا وزٹ ہوا پھر سے بہت بڑا سامان جو عوام کو وقتی وقت گزارنے کیلئے راشن اور سر پر عارضی چھت کیلئے خیمے برتن جو سامان ضروریات کے تھے دے کر چلے گئے اور اسی دن تونسہ شریف کے بستی منگروٹھ میں دوران تقریر عطا تارڑ صاحب نے کہا میں جانتا ہوں یہ سامان یہاں کے عوام کیلئے کافی نہیں جونہی اسلام آباد پہنچا انشااللہ آپ عوام کیلئے مزید راشن خیمے کمبل کپڑا وغیرہ جو آپکے ضروریات کے ہیں خواجہ نظام المحمود صاحب کو بھیجونگا وہ اسی وقت آکر آپکو بانٹیں گے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے نہ محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کا دیا گیا سامان کا پتہ چلا نہ عطا تارڑ صاحب کے دیئے گئے راشن اور خیموں کی کوئ معلومات منظر عام پر آئ ماسوائے چند اپنے قریبی دوستوں اور اپنے زاتی ملازمین کو لیکر صرف چند ایک جگہ جاکر سیلفیاں بنوائیں زمینی طور پر خواجہ نطام المحمود صاحب کی کارکردگی ماضی بعید کی طرح ماضی حال اور مستقبل بھی ناکام رہنے کا زمیدار خود ہی مسلم لیگ ن ہی تصور ہوگا کیونکہ فندز اور ترقیاتی منصوبے تو دور پارٹی کی طرف دیئے گئے غریب عوام کے راشن خیمے برتن کپڑے بستر بھی حقداروں تک پہنچ سکے عوام کی حالات سیلاب سے آج تک جوں کے توں ہے کیونکہ مسلم لیگ ن مقامی لوگوں کے کہنے پر اپنا ٹکٹ پی پی پی 286 کیلئے خواجہ نظام صاحب کو دیکر اپنا ہی گلہ خود گھونٹ کر اس حلقے سے عوام کے دلوں سے باہر ہو گئے ہیں 2018 میں خواجہ نطام المحمود صاحب جیپ کے ٹکٹ پر سابق سی ایم پنجاب سردار عثمان خان کے مد مقابل تھے جنہیں عوام نے سولہ ہزار ووٹ ڈالے اس بار خواجہ صاحب کو 8 ہزار ووٹ ملے تو بھی مسلم لیگ ن کی اس حلقے میں کامیابی تصور ہوگی
Thursday, 1 December 2022
دنیا آگے نکل چکا ہے ہم بلوچ واحد قوم ہیں جو پیچھے کی طرف گامزن ہیں
ڈیرہ غازی خان تونسہ شریف اور کوہ سلیمان پاکستان بشمول پنجاب کا وہ خطہ ہے جو 1947 سے لیکر آج تک یہاں کے حالات جوں کے توں ہیں سیاسی رہنما بدلے انکی اولادیں آئیں پارٹیاں بدلتے رہے ہر پانچ سال بعد ایک نیا نعرہ لیکر اہل عوام کو ورغلاتے بہلاتے پھسلاتے ووٹ لیتے رہے ملک بھر کی طرح یہاں بھی وہی پارٹیاں ہیں جو مرکڑ اور صوبے پر حکمرانی کرتے آرہے ہیں تونسہ شریف اور ڈی جی خان کے سیاستدان بھی انہی پارٹیوں کے ساتھ دیتے رہے لیکن عوام بھی انہی سیاسی رہنماوں کے ساتھ چل کر ہمیشہ سے انہیں کامیاب کرتے رہے لیکن ان سیاستدانوں نے ہمیشہ سے اپنے مفاد کو لیکر پارٹیاں بدلتے رپے عوام کو پس پشت ڈال کر آجتک ان عوامل کو یہ لوگ اپنا ووٹر نہیں صرف انہیں غلام سمجھ کر 1947سے دھتکارتے قومیت کے نعرے لگواتے پیرو مرشد کا سائیہ دکھاکر بیوقوف بناتے رہے ڈیرہ غازی خان سے وہوا تک مختلف ادوار میں مختلف بلوچ رہنماوں نے مختلف پارٹیوں کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ ہمیشہ سے اس خطے کے سرداروں نے کسی نہ کسی کے ساتھ وزارتوں میں جڑے رہے ڈیرہ غازی خان میں بلوچ قوم کا مضبوط اور طویل ترین سیاست رکھنے والے خاندان لیغاری خاندان ہے جو کہ قریب آباو اجداد سے پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں سابق صدر مرحوم سردار فاروق احمد خان لیغاری اور اسکے بیٹوں تک پاکستان بننے کے بعد اب تک ہمیشہ کسی نہ کسی پارٹی سے ملکر ہمیشہ سے حکومتوں میں حصے دار رہے ہیں 1973 سے 1993 تک پاکستان کے سابق صدر فاروق احمد خان لیغاری نے ایک طویل مدت میں ہمیشہ سے وزارتوں میں ہوتے ہوئے آخر کار 1993 میں پیپلز پارٹی نے انہیں صدر پاکستان بنا دی ہے لیکن اسے سے پہلے فاروق احمد خان لیغاری کے والد صاحب سردار جمال خان لیغاری بھی کہیں نا کہیں پنجاب میں وزارتوں میں فائز ہوتے رہے اتنے طویل دور گزارنے کے بعد ڈیرہ غازی خان کے دامن میں کوہ سلیمان کی حالات نہیں بدلا اجتک اس بد قسمت بلوچ قوم کی حالات وہی کے وہی ہیں کھوسہ سرداروں میں سردار زوالفقار خان کھوسہ کھوسہ سرداروں کی اہل خاندان کی طویل مدت تک حکمرانی رہی جوکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ وابستہ رہ کر پنجاب کے گورنر وفاقی وزیر اور اسکے بیٹے سردار دوست محمد خان کھوسہ وزہر اعلی پنجاب رہے تونسہ شریف کے خواجگان بھی اسی طرح ایک بہت بڑا سیاسی تاریخ رکھتے ہیں خواجہ کماالدین انور جو بہت بڑے عرصے تک پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ جڑا رہا اسکے بعد اسکے بیٹے خواجہ شیراز محمود جوکہ سابق صدر پرویز مشرف کے مارشالاء کے دوران ق لیگ میں 1998 میں اپنا سیاسی کیرئر کا آغاز کرکے اجتک تونسہ شریف میں ایک مضبوط سیاسی پائیہ کے طور پر جانا جاتا ہے تونسہ شریف کے سٹی نظامت سے لیکر وفاقی وزیر رہا لیکن تونسہ شریف میں صرف ایم این اے شپ پر قابض رہنے کے علاوہ 20سالہ دور میں کہیں ایک گلی تک نہ بنا سکا اور گزشتہ 2013سے 2018تک پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر پی پی 286 میں الیکشن لڑنے والے خواجہ نطام المحمود پانچ سال تک پنجاب اسمبلی کا ممبر رہ کر اس پانچ سال میں بھلے ہی پنجاب کی حکمرانی مسلم لیگ ن کے ساتھ تھا لیکن اپنے ایم پی اے فنڈز کو عوام پر خرچ نہ کرنے اسے بچانے کیلئے اسی پانچ سال میں سوائے کسی اپنے بڑے بزرگ کے عرس مبارک میں آنے کے علاوہ تونسہ شریف کو خیرباد کہہ کر ملتان لاہور اور گرمیوں کو مری مین موسم انجوائے کرتے رہے لیکن اپنے علاقے اور عوام کو ملنے کا بھی گوارا نہیں کرسکتا اسی طرح 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئ کامیاب ہونے کے بعد پنجاب اور مرکز پر اپنا قبضہ جمانے میں کامیاب رہا اور تخت پنجاب کا سہرہ بھی تونسہ شریف کے سر سج گیا پنجاب میں ساڑھے تین سالہ کالے اور گورے کا مالک یہی تونسہ اور کوہ سلیمان کا بیٹا سردار عثمان خان بزدار رہا مگر تونسہ شریف ڈی جی خان اور کوہ سلیمان اس طویل عرصے میں بیک وڈ ہونے کی وجہ سے 75سال سے پسماندگی میں اتنا متاثر تھا کہ یہاں دیہی علاقوں میں چھے سے سات لاکھ ابادی پر مشتمل علاقے کے عوام کو حکومت اور پہلے سے یہاں پر حکمرانی کرنے والے لوکل رہنماوں کی طرف صرف شناختی کارڈ تو جاری کیئے گئے لیکن اس دشوار گزار پہاڑی اور پرپیچ علاقوں میں کہیں بھی ایسا روڈ سرے سے موجود ہی نہیں تھا جس پر کوئ آکر علاقے میں وزٹ ہی کر سکتا ہو اور کسی بھی مریض کیلئے ایسا کچا ٹریک ہی موجود نہیں تھا جس پر کوئ گاڑی جاکر مریض کو کسی شہر میں کہیں ہسپتال تک پہنچا سکتے 90% لوگ اپنے مریضوں اور ڈیڈ باڈیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نوو کرنے کیلئے کاندھے یا اونٹ کا سہارا لیکر جایا جاتا جاتا رہا اور سردار عثمان خان جوکہ تین سال تک سی ایم پنجاب ہونے کے باوجود جو کرنا تھا تو نہ کر سکا لیکن پھر بھی تونسہ شریف ڈی جی خان کے شہری اور ملحقہ آبادیوں کیلئے اکثر لنک روڈ بناکر دیہاتوں کو شہروں تک پہنچانے میں بہت کردار ادا کی پہاڑی علاقوں کو شہروں سے ملانے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کر گیا کہیں کچے تو کہیں چھوٹی سی لنک روڈز بناکر وقت اور سفر کو آسان بنانے میں بہت مدد ملی ہے لیکن جو کہ ایک صوبے کے سربراہ ہونے کے باوجود جو کرنا تھا ناکام رہا روزگار تعلیم صحت سمیت زندگی کے تمام تر جو بنیادی ضروریات تھے وہ وہسے کے ویسے رہے اہل علاقہ اج بھی دہائیاں دیتا رہا لیکن قسمت نے ساتھ نہیں دی یا یہاں کے رہنماوں کے دل میں منافقت نہ نکل سکا جو کہ پاکستان بننے سے لیکر اج تک حل طلب ہے لگتا ہے یہ مسائل یہی کے یہی رہینگے کیونکہ حکمران جو بھی جہاں بھی ہو حکومت بنانے والے بھی یہی لوگ ہوتے ہیں اور پانچ سال بعد ہمیں اکر بتاتے ہیں کہ حکمران پارٹی یا اس حکومت نے میری بات نہیں سنی اس لیئے میں دوسری پارٹی جوائن کرکے اگلے دفعہ بہت کچھ کرونگا مگر یہ تو صرف زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں اس لیئے 75سالوں میں انہیں لوکل سیاسی رہنماوں نے کچھ نہیں کی اور آگے بھی یہ کچھ نہیں کرسکتے اس لیئے کہ اس غفلت علاقے کے پسماندگی میں سیاست دانوں سے زیادہ ہم عوام کے سپورٹ بھی ایک کلیدی کردار ادا کررہا ہے کیونکہ ہم لوگ اپنے مستقبل کی سوچ سے پہلے ہم اپنے اناء کو ترجیع دیتے ہیں اور اناء کی وجہ سے ہم روز بروز روشنی کے بجائے اندھیرے کی طرف محو سفر ہیں کیونکہ سب سے بڑی وجہ ہماری جہالت ہے تعلیم کی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے ہم میں کوئ پیرو مرشد کو ووٹ دینے کو ترجیع دیتے ہیں کوئ قومیت کے بل بوتے پر اپنے قبائلی سرداروں کو سپورٹ کرتے ہیں ہمیں ایسے مضبوط سوچ کے ساتھ ایسی تربیت دی گئ چلو کرتا تو کوئ بھی نہیں میرا مرشد روز محشر ہمیں جہنم سے تو بچالیگا یا یہی سوچ کر ہم سرداروں کو ووت ڈالتے ہیں یار دیتا تو کوئ کچھ نہیں چلو میرا سردار ہے اپنے قوم کو بدنام ہونے سے ہر صورت بچانا ہے مگر ہمیں اپنے مستبقل کا یہ سوچ پروان نہیں چڑھتا کہ کہ یہ سرداروں کی ہار سے نہ یم بدنام ہوتے ہیں نہ یہ مرشد ہمیں جہنم سے بچا سکتے
Tuesday, 29 November 2022
تونسہ جاگ چکا ہے ہم چہرے بھانپ چکے ہیں
تونسہ جاگ چکا ہے ہم چہرے بھانپ چکے ہیں ؟
تونسہ شریف؟ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے دنیا و اخرت پر سدا اسکی ہی حکمرانی قائم رہیگی ہر پریشانی ہر مصیبت کی بڑی وجہ سب سے پہلے ہمارے اپنے ہی اعمال ہیں اس میں کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیئے دنیا اور اخرت میں کامیابی اور ناکامی کا سبب اللہ تعالی نے قرآن مجید میں صادر فرمایا جو میرے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرے اسکی کامیابی میرے رب نے اپنے ہی زمے اٹھا رکھا ہے جو شیطان کے وسوسوں پر چلے اسکے کہا مانے تو اسکا ذمیدار وہ خود ہے کیونکہ اللہ تعالی نے گھر سے لیکر علاقے اور ملکوں پر بھی سربراہی کی ذمیداریاں بھی اللہ تعالی نے انسانوں کو دی ہے پورے کائنات کو چلانے والا واحد طاقت تو ایک ہی اللہ رب کائنات ہے مگر ہمیں انسانوں کو بھی اللہ تعالی نے کسی نہ کسی مقصد کیلئے ضرور بنایا ہے عبادت سے ریاضت اگر ہم اپنے زمیداریوں سے رو گردانی کریں تو اسکا خمیازہ ہی ہمیں بھگتا پڑتا ہے جیسا کہ گزرے تین سے چار مہینے قبل کوہ سلیمان میں طوفانی بارشیں ہوئیں پورے کوہ سلیمان کو تہس نہس کر رکھا اور کوہ سلیمان کے بارشوں کا پانی تونسہ شریف پر گر کر جو بڑی شدت سے سیلاب بن کر جو تباہی مچائ شائید ہی تاریخ میں اتنا بڑا نقصان تونسہ شریف اور اسکے مضافات کا کبھی ہوا ہو تونسہ کے سو سالہ بزرگ نے کہا کہ ہمارے آباو اجداد نے ہمیں اتنے بڑے تباہی کا کبھی نہیں بتایا جو گزشتہ تین مہینے پہلے ہوا کیونکہ تونسہ شریف کے دیہاتوں اور کوہ سلیمان کے چوٹیوں پر بسے وہ نہایت ہی غریب لوگ اباد ہیں جو کچے مٹی اور کچے پتھروں سے بنائے گئے کمروں اور جھونپڑیاں بناکر اپنے زندگی بسر کرتے رہے لیکن اس سیلابی تباہی نے جھونپڑیوں پتھر کے اور مٹی کے بنائے گئے کچے کمروں کو لپیٹ کر 90% لوگوں کے چھت زمین برد کیئے حکومت پنجاب اور مرکزی حکومتوں نے دعوے تو بڑے کیئے لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں جو کہ دنیا کے نظروں سے بالکل اوجھل ہیں سابق سی ایم پنجاب پی ٹی آئ رہنما ایم این اے خواجہ شیراز محمود ایم پی اے خواجہ داود سلیمانی پی ایم ایل این کے رہنما خواجہ نطام المحمود سردار میربادشاہ قیصرانی سمیت مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئ کے کسی بھی رکن کو یہ گوارا ہی نہیں گزرا کہ یہاں کے عوام سے پچھہتر سالوں سے ہم نے اور ہمارے آباو اجداد ووٹ لیتے آرہے لیکن ووٹ لینے کا مقصد یہ ہر گز نہیں کامیاب ہوکر یا سرکاری خزانے سے فنڈز اور امدادی سامان لیکر عوام کے ساتھ کہیں جاکر صرف سیلفیاں بنانا نہیں انہیں دوبارہ آباد کرنا بھی حکومت وقت کی زمیداری ہے مگر افسوس کہ ان رہنماوں نے سوائے چند ایک جگہ پر سیلفیاں بنانے تک محدود رہے جو ایک نہایت ہی دکھ اور تکلیف کی بات ہے اس مشکل گھڑی میں اپنے عوام کیلئے جو کام تونسہ اور کوہ سلیمان کیلئے
((عام آدمی تحریک پاکستان))
کے چیئرمین اور صدر ((ملک فرحان خان بھٹہ اور محترمہ راشدہ بھٹہ صاحبہ)) نے سر انجام دی اور دے رہے ہیں تونسہ شریف اور کوہ سلیمان کے غریبوں کیلئے جو نہ مسلم لیگ ن کرپائے نہ پی ٹی آئ کیونکہ ((عام آدمی تحریک پاکستان )) کے منشور اپنے غریب عوام کی خدمت ہے ان کیلئے سب سے پہلے خیمہ اور راشن مہیا کرنا اب دوسری کھیپ میں شدید سردیوں میں انہیں گرم کپڑے برتن مچھر دانیاں بسترے اور کمبل پورا کرنے کا ٹاسک لیکر دن رات کوشاں ہیں تونسہ اور کوہ کے جو بغیر چھت کے لوگ پڑے ہیں ان کیلئے (عام آدمی تحریک پاکستان) اپنا فلاحی و عوامی امداد کا ٹاسک پورا کرنے کیلئے ہمہ وقت غریبوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر انکی جنگ لڑ رہی ہے گزشتہ دن (ملک فرحان خان بھٹہ) سے ملاقات ہوئ اس کا کہنا تھا ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں جو ہم اپنے گھر سے پورا کرسکیں ڈونرز اور فلاحی اداروں کے تعاون سے انشااللہ جلد سیلاب متاثرین کیلئے جنکے گھر منہدم ہوئے ہیں انہیں پاکستان کے عوام کی مدد سے چھت فراہم کرنے کیلئے بڑی تیزی سے کوشش کررہا ہوں شدید سردیوں سے پہلے انہیں چھت فراہم کرکے اپنے انسانی اور جزبہ ایمانی کا بنایا گیا منشور پورا کرکے غریب عوام اور اپنے علاقے کی بحالی پر پورا اتر سکوں کیونکہ ہم نہ ایم پی اے ہیں نہ ایم این اے نہ کسی حکومت کا حصہ ہیں میں پاکستان اور آوٹ کنٹری میں ڈونرز دوستوں کے سپورٹ سے انشااللہ اپنے تونسہ اور کوہ سلیمان کے غریبوں کی مدد کیلئے کسی بھی کسر باقی نہیں چھوڑونگا اور (محترمہ راشدہ بھٹہ صاحبہ) نے ایک سوال کے جواب میں کہا میں افسوس سے کہتی ہوں کہ ہمارے تونسہ شریف کے نمائندے جنہیں عوام نے ووٹ دیکر کامیاب بنایا اسمبلیوں تک بھیجا کسی کی حکومت پنجاب میں ہے تو کسی کا مرکز پر براجمانی انہیں عوام کیلئے حکومت اور ڈونرز کی طرف سے بہت بڑی امدادی کھیپ ملا لیکن تونسہ اور کوہ سلیمان کے بد قسمت عوام تک انکے امداد کی سوئ ؟ بھی نہ مل سکا یہ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئ رہنماوں کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے اور انے والے وقت میں یہ عوام میں جاکر کس منہ سے ووٹ مانگتے ہیں جو اس سیلاب کی تباہی کو نظر انداز کرکے روپوش ہیں اور جو رہنما اپنے عوام کو ایک خیمہ تک نہ دے سکا وہ آنے والے وقت میں ہمارے غریب عوام کو کیا دینگے اور اب عوام بھی جاگ چکا ہے پچھہتر سالوں سے پسماندہ رکھنے والے سردار اور خواجگان اتنا ہی نہ کر سکے تو یہ لوگ ہمارے تونسہ اور کوہ سلیمان کو لاہور یا اسلام آباد بھی نہیں بنا سکتے انکے خالی دعووں کا پول سیلاب نے کھول کر رکھ دی ہے
Friday, 14 October 2022
قلم نگار حسن خان بزدار بلوچ قوم اس وقت اتنا کمزور کیوں
بلوچ اقوام اور اسکی موجودہ صورتحال ؟ ہم بلوچ اقوام اسوقت ایسے دو راہے پر کھڑے ہیں نہ خود میں اپنے اتحاد کو بحال رکھنے میں یکسو ہیں نہ ہمارے ارد گرد دنیا بھر کے طاقت ور حلقے یکجا ہونے دیا جاتا ہے اس لیئے سب سے پہلے ہمیں جب تک اپنے اندر یہ جزبہ بیدار نہ کر سکیں کہ ہم ایک قوم ہیں پاکستان سمیت دنیا بھر کے ہر کونے میں پائے جانے والے یہ اقوام ہرجگہ کسم پرسی کی حالات گزارنے پر مجبور ہیں اور ہم کچھ عرصے سے ایسے دور سے گزر رہے ہیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر فرد ہر وڈیرہ ہر سردار ایک سے دوسرے پر بازی لینے کیلئے دوسروں سے ہاتھ ملاکر اپنے مظلوم عوام کے خلاف لالچ میں آکر یہی سب کچھ کیا جارہا ہے جو قوم افراد یا فرد ملک علاقے اور قوم کیلئے مخلص ہو اسکے کیلئے جہدو جہد کرنے میں مصروف عمل ہو اسے اٹھا کر پھینکا جارہا ہے یا اسے ہمیشہ کیلئے خاموش کیا جاتا ہے کیونکہ اسکے زمیدار سب سے پہلے ہم خود ہیں دوسرے وہ طاقتیں ہیں جس نے اس انگریز کے بنائے گئے لاء کو ترتیب دیکر ازل سے اج تک ہمیں لڑا کر ہم پر حکمرانی کرتے چلے آرہے ہیں جن طاقتوں نے #لاشار اور #رند قبائل کو آپس میں لڑا کر ہم میں جو جدائ کا لکیر کھیچوایا گیا آج بھی تسلسل سے جاری و ساری ہے کیونکہ جب دونوں ایک تھے تو انگریز کی طاقت اسے دبا نہ سکا اس لیئے ان لوگوں نے بڑے چالاکی سے یہی راستہ اختیار کرنا پڑا جب تک بلوچوں کو آپس میں لڑایا نہیں جاتا تب تک انسے کسی صورت کسی بھی سیاسی اور مقامی باہم طریقے سے زیر نہیں کیا جاتا نہ کسی صورت کوئ قسم کی جنگ ان سے جیتنا ممکن نہیں اور ان لوگوں نے اسی طریقے کو مضبوطی سے ہم پر کوششوں کا آغاز کیا اخر کار اپنے انہونی مقاصد میں کامیاب ہوئے کیونکہ ہر کوئ وڈیرہ گیری اور سرداری کے لالچ میں آکر ہمیں نقصان پہنچایا وہی راہ تسلسل اج بھی ہر ملک میں بلوچوں کے خلاف منعظم اور مضبوطی سے جاری ہے ہمیں پہلے قومیت میں بانٹتے ہیں پھر پھلیوں میں اور اب ہمیں اتنا کمزور بنایا اور لالچ میں لایا گیا اب فرقوں میں یہ زہر بھرا جارہا ہے آج ہمیں اتنا کمزور کیا جاچکا ہے کہ بلوچ قومیت سے فرقے اور خاندانوں میں اپس میں نفرتیں اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے لیکن دنیا کے پاور ترین رکھنے اور حکمرانی کرنے والے بلوچ قوم اسوقت ہر جگہ محکوم بن چکا ہے اسکی بنیادی وجہ یہی اپس کی منافرت سیاست اور آپسی جنگ و جدل ہے جب تک ہم بلوچ اس چیز سے نکلنے کی کوشش نہ کریں تب تک یمارا یہ صورت حال مزید بد سے بد تر ہوتا جائیگا آنے والے اگر بلوچ نوجوانوں نے کوششیں نہ کی تو آنے والے وقت میں بلوچ قوم صرف تاریخ میں قصہ پارینہ بن جائیگا کیونکہ عرب سے لیکر عجم تک یورپ سے لیکر بنگال تک ہر مکتب فکر اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے ملک اور قومیں بلوچوں کو اسی طرح پیسا جارہا ہے جیسا کہ یہ انسان ہی نہیں اس لیئے کہ وہ لوگ بلوچوں کی تاریخ کو مد نظر رکھ کر یہی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے کہیں بلوچوں میں پھر سے اتحاد قائم نہ ہو اور اسی تاریخ کو لیکر آج دنیا بھر میں ہم بلوچوں کو طاقت رکھنے کے باوجود کہیں اور کسی بھی ملک میں نہ ہمیں پہچان مل رہا نہ ہمیں حقوق دیئے جارہے ہیں جب تک ہم اپس کے اس جنگ کو جدل کو ختم کرکے اپنے قومیت پر توجہ نہیں دیتے تب تک ایسے پستے مرتے اور مارے جائیں گے اب ہمیں ہر صورت ایک دوسرے سے بازی لینے کسی کے سر پر پرائیویٹ پگ رکھنے اور ہم میں کسی کو چن کر سربراہ بنانے کے خواب کو ہر حال میں یہ سب کچھ چھوڑنا ہوگا اور ہمیں سب سے پہلے اپنے آپکو یکجا کرنے ہونگے بہت ہوا ہمیں یہ سبز باغ دکھا کر اپس میں لڑاکر دنیا بھر کی وہی طاقتیں خود اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرتے چلے آرہے ہیں لیکن ہماری نسلوں کے نسلیں اجڑ چکے ہیں اب یہ ہمیں نوجوانوں کو کرنا ہے اور ہماری زمیداری بھی ہے اور ہم پر فرض بھی ہمارے بڑوں نے اس سیاسی ٹھیکیداری میں بہت کچھ کھویا ہے کسی کو کہیں سے لیکر حکمران بنانے اور کسی کو قومیت کے سرپرست اعلی کو اسی کے ہاتھوں یرغمال بنانے کی یہ سازشیں ماضی بعید میں کیا جانے والا مستقبل قریب میں بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے متانے کی پری پلان منصوبہ ہے ہمیں آنکھیں کھول کر دیکھنے کان کھول کر سننے دماغ پر زور دیکر سوچنا چاہیئے کہ ہم اس حکمرانی کی لالچ میں اپنے اپکو کس نہج تک پہنچا چکے ہین جو کہ یہ فرضی حکمرانی کہیں ہمارے لیئے نقصان دہ ثابت تو نہیں ہورہا ایران پاکستان ترکی دمشق امان یمن شام سمیت دنیا بھر کے ہر ممالک میں بغور سے جائزہ لیکر بلوچ قوم کو اپس میں سر جوڑ کر مل بیٹھنے کا وقت ہے ہمیں کیوں اس لیئے مولی گاجر سمجھ کر جس بے دردی سے کاٹا جارہا ہے آخر ہم میں کس جگہ سے کوتاہی سر زد ہوریا ہے کیونکہ ہر چیز تو اندر ہی موجود ہے اور ہر صورت میں اس پر توجہ دینا ہوگا
کیا وجہ ہے ہمیں اس طرح بلا عذر پیسا جارہا ہے اگر ہم اپنے حقوق مانگیں تو ہمیں غدار وطن یا ملک کیوں ڈکلیئر کیا جاتا ہے آخر ہم کونسا اتنا جرم کررہے ہیں جسے جہاں سے جس کا دل چاہے ہمیں مارا جاتا ہے جیسا کہ ہم اللہ کی مخلوق ہی نہیں انہی لوگوں کے بنائے ہوئے مورتیاں ہیں جب دل چاہے جسوقت دل کہے اسی وقت بلا جھجھک ہمیں یکجا کرکے مارا جاتا ہے کیا ہمارا کسی سے کوئی زاتیات ہے بالکل نہیں کیا ہم کسی مذہب کے خلاف ہیں بالکل نہیں کیا اپنے حقوق مانگنے اسکے خلاف آواز اٹھانے پر ہم دہشت گرد بن جاتے ہیں افسوس ہے ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں ہمیں ہر جگہ بری نظر سے کیوں دیکھا جاتا ہے صرف اس لیئے کہ ہماری تاریخ ہمیں جینے نہیں دے رہا اور اسوقت ہمیں آپس کے نفرتوں نے اس نہج پر پہنچایا
دنیا ہمیں نہیں ہمارے تاریخ کو دیکھتا ہے ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم اسوقت لالچ خود غرضی حکمرانی یا سرپرستی کے چکروں میں خود کو اور اپنے آنے والے نسلوں کیلئے ہزہمت کا سبب تو نہیں بن رہے آج دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچا ہم بلوچ آج بھی تالابوں کے پانی استعمال کرتے ہیں صحت کیلئے ہم جانتے نہیں کہ ہم بھی انسان ہیں بجلی کیلئے ہمارے بچے آج بھی سوچتے ہیں وہ کیا ہوتا ہے تعلیم کیلئے پہلے تو 80% بلوچ علاقوں میں سکول ہی نہیں اگر کہیں پرائمری یامڈل ہے تو اسے تالا پڑا ہے روڈز سرے سے موجود نہیں نہیں کہیں کچا ٹریک بنایا بھی گیا تو چند بارش کے قطروں کے سبب اس پر پیدل چلنا نا ممکن ہے اگر آج بھی کسی بلوچ قبائل میں کوئ سیریس مریض ہو تو میلوں مصافحت پر اسے کاندھوں پر اٹھاکر انکو کہیں روڈ کنارے لے جانا پڑتا ہے اگر کہیں چپڑاسی کیلئے ہمیں اپلائ کرنا ہو تو ہمارے بلوچ قوم میں مڈل پاس نہیں جو چپڑاسی کیلئے نوکر بھرتی ہو سکے اگر کسی شہر میں رات گزارنی ہو تو وہاں مسافر خانہ کے اونر دو گھنٹے ہم سے یہی تفتیش میں لگا رہتا ہے آپ کہاں اور کس علاقے سے ہیں اگر اپنے علاقے سے کسی اور شہر کیلئے سفر کرنا ہو یا کسی اور شہر سے اپنے گھر کیلئے آنا ہے تو راستے میں سینکڑوں چیک پوسٹوں پر 90% بلوچوں سے سارا دن یہی جھگڑا اٹھک بیٹھک تلاشی کا ٹوپی ڈرامہ رچایا جاتا ہے کہ آپ اس شہر کی طرف کیوں جارہے ہو کیا کرنا ہے واپسی کب ہوگی اگر اپنے گھر کی طرف واپسی ہو تو یہی سوالات پھر سے سامنے آتے ہیں آپ کیوں گئے تھے کیا کرنا تھا کب گئے تھے ہم بلوچ اپنے ہی دیس میں پردیسی تصور کیئے جاتے ہیں اور اپنے گھر میں بھی اجنبی کب تک یہ ظلم برداشت کرینگے اور کب تک یہ نطام ہم پر رائج ہوتا رہیگا خدا را بلوچ نوجوانو اٹھو سب سے خود کو مضبوط اور یکجا کرو دنیا خود بخود آپکے پیچھے انے پر مجبور ہوگا ہمیں ہمارے بڑوں نے بھی اتنا دھوکے میں رکھا جتنا کسی اور نے ہم پر ظلم ڈھائے ہمارے وڈیروں نوابوں سرداروں کے بچے اے سی کے لمبے لمبے گاڑیوں میں بیٹھ کر سکول جاتے ہیں نوکروں کے جھرمٹ میں سیروسیاحت کرتے ہیں لیکن ہم بلوچ عوام کے بچوں کو سکول دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوتا صرف اپنے گلہ بانی اور چرواہے کی صورت میں سنگلاخ ڈھلانوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اب جتنا دیر کررہے ہو اتنا ہی ہم پر سیاسی وڈیرے سردار نواب ہم پر غالب کیئے جارہے ہیں
اپنوں نے ستم کیئے اپنوں نے بھسم کیئے ؟ کسی سے کیا گلہ ہوگا جو اپنوں نے زخم دیئے
Featured post
کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش
http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201
-
لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگ...
-
یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بش...
-
قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو ...






