Friday, 12 April 2019

ڈیرہ غازیخان راجن پور اور تونسہ کے پسماندگی کا ذمیدار کون جانیئے

جب انسان لالچ کے زنجیر میں قید ہو تو اس انسان کو کہیں سے ظلم اور ناانصافی نظر آتا میں ایک چرواہا اور ایک ادنی سا صحافتی دعویدار ہوں میری کوئ حیثیت ہی نہیں لیکن اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر گزار ہوں مجھے جھوٹ اور سچ کو زرہ بھر الگ الگ دکھانے اور لکھنے کی توفیق ضرور عطا کی ہے کیونکہ میرا دوست بھی بہت کم ہیں صحافی و سیاسی برداری بھی مجھ سے اکثر نالاں ہیں وجہ صرف تھوڑا سا سچ لکھنا ہے میں ڈیرہ غازیخان اور تونسہ شریف کے سیاسی سماجی خصوصا کوہ سلیمان ریجن کے صحافی برداری سے گزارش کرتا ہوں سو میں صرف دس باتیں سچ لکھا کرو اللہ تعالی آپ لوگوں کو اجر دیگا ہم سبکو مر کر اس زمین میں دفن ہونا ہے نہ وہاں پارٹی کام آئیگا نہ سردار ملیں گے نہ وڈیرے نہ پیسوں کا سہارا ہوگا صرف اور صرف سچائ اور اچھے اعمال ساتھ دینگے ڈی جی خان کے کوہ سلیمان کے بلوچ تیس فیصد تعلیم یافتہ ہیں انکی اکثریت ملازم کاروبار یا کہیں نا کہیں کوئ پیشے سے منسلک ضرور ہے بزدار قیصرانی کھوسہ لیغاری وغیرہ وغیرہ کے قبائل میں ستر فیصد لوگ تعلیم روڈ صحت سمیت سوئ جتنا حکومتی سہولیات سے سو فیصد محروم ہیں اگر کہیں کچھ ہے بھی تو وہ ان لوگوں کیلئے نہیں کیونکہ ان کے پاس بولنے کیلئے زبان نہیں جو ہمارے علاقے کے معزز رہنما وکیل جج صحافی صاحبان ہیں وہ تو ویسے شہروں میں آباد ہیں انکے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں روڈ صحت بجلی سمیت انہیں کوئ مسئلہ درپیش نہیں کہیں گلی محلے کی بات ہو تو انکے پاس زبان ہے وہ مسائل اجاگر کرنے سے پہلے حل کیئے جاتے ہیں آج کل کچھ صحافی و سماجی دوست لکھتے ہیں سردار اویس خان لیغاری صاحب نے ڈی جی خان میں قتل کیئے گئے راشد بخاری کی قاتلوں کی آواز اسمبلی میں اٹھاکر علاقے کا حق ادا کردیا ان دوستوں کیلئے عرض ہے میں سردار صاحب کے پارٹی کا ورکر ہوں لیکن وفاق اور صوبے میں اویس خان کتنے بار وزیر رہے اور ڈی جی خان میں کتنے قتل ہوئے کہیں اسمبلی میں اسکی بات نہیں سنی آباؤ اجداد سے وزارتوں میں رہنے والے سردار اویس خان لیغاری کو سیاسی قتل ضرور نظر آتا ہے لیغاری قبائل سمیت ٹرائیبل ایریا میں ستر فیصد عوام جیتے جی مررہا ہے انکی بات اسمبلی کے فلور پر کیوں نہیں کی گئ گورنر اور وزیر رہنے والے کھوسہ سرداروں کے زرا نظر دواڑائیں میدانی علاقوں ہونے کے باوجود بستیوں میں جانے والے لنک روڈ تک نہیں کہیں سکول ہیں تو پڑھانے کیلئے ماسٹر کہیں نظر نہیں آتے زرا اب بزدار قبائل کے حالات جانچیں انکے حال لیغاری اور قبائل سے مختلف نہیں کیوں کیونکہ وجہ صرف لالچ کی زنجیر ہے اس علاقے میں کتنے صحافی ہیں کیوں علاقے کی آواز نہیں اٹھاتے بار بار سرداروں اور جاگیرداروں کی تعریف پر پل تو باندھتے ہیں ظلم کے چکی میں پسنے والے لاکھوں عوام پیسوں کی دمک اور چمک سے نظر نہیں آتے ان صحافی برداران کے ایسے درجنوں صحافی میرے نظروں سے گزرے ہیں کبھی اویس کے ساتھ تھے آج سی ایم پنجاب سردار عثمان خان بزدار کے ساتھ ہیں کبھی عثمان خان بزدار کے ساتھ تھے آج اویس خان لیغاری یا خواجگان کے جھولی میں ہیں ان سرداروں یا خواجگان سے جاکر کوئ پوچھے کتنے بار ایم پی اے یا ایم این اے سلیکٹ یا الیکٹ ہوکر کتنے بار اسمبلیوں میں گئے ہیں کیا انہیں فنڈ نہیں ملتا یہ پسماندگی اور بریریت کے زمیدار ہمارے پڑھے لکھے معاشرہ اور رہنما ہیں ہم عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے فنڈ نہ ملنے کی پارٹی بدلنے کی بات کرکے ہمیں ورغلایا جاتا ہے صرف ڈی جی خان تونسہ شریف راجن پور کیلئے فنڈ نہیں ہی. ملتان سے لیکر راولپنڈی تک فنڈنگ امریکہ سے نہیں یہ لاہور اور اسلام آباد سے ہوتی ہے نہ یہ اتنے کمزور ہیں اپنے فنڈ چھوڑ کر گھر بیٹھیں ہاں ترقیاتی فنڈ کا آدھا دیکر کہتے ہیں نہ پورا فنڈ دے دیں نہ ہمارے کرپشن پر انکوائری بٹھائیں سودا برابر /کیونکہ پانی اس طرف بہتا ہے جہاں مٹی نہیں ہوتی#

Thursday, 11 April 2019

توٹی ایچ کیو نسہ شریف میں کچھ دن سے فسادی ڈاکٹرز اور صحافیوں کے مابین مسائل تو حل ہوئے لیکن ڈاکٹرز کی جناب سے کچھ صحافیوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں

تونسہ شریف#

صحافیوں اور فسادی ڈاکٹرز کے درمیان مزاکرات انتظامیہ کے تعاون کی وجہ سے کامیاب ہوے ہیں۔اس میں اسسٹنٹ کمشنر تونسہ نے اہم رول ادا کیا ان کامیاب مزاکرات سے جو متاثرہ مریض ہونگے جن کی کوریج کے لئے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا ہے۔ وہ آسان ہو گیا ہے۔ اب جو بھی شکایتی جس کو ڈاکٹر چیک نہیں کریں گے۔ اس کے احتجاج کے لئے باقاعدہ طور پر ہمیں کمرہ فراہم کر دیا جاے گا۔ اب ہم اس روم کے اندر بیٹھ کر آرام سے اس مریض اور انکے لواحقین کی لائیو کوریج تک کر سکیں گے۔ ہم بھی نہیں چاہتے تھے کہ صحافی ہر جگہ تماشا کریں ۔اب عزت سے ہسپتال کے ہال روم میں اس کے بیان کو ریکارڈ کریں گے۔ یہ ہمارے بڑی کامیابی ہے۔ ڈاکٹرز حضرات اب ہمیں ہر ایمرجنسی واقعہ کی فوٹیج  خود بنوا کر دیں گے۔ پہلے ہماری گائنی وارڈ ایمر جنسی وارڈ۔ ایم ایل سی پیشنٹ ۔وی آئی پی پیشنٹ تک کوریج نہایت مشکل تھی لیکن اب ڈاکٹر خضرات جسے فوکل پرسن مقرر کریں گے وہ ہمیں تفصیلات ویڈیو فراہم کرنے کے پابند ہونگے۔ جس کا بھی یہ علاج نہیں کریں گے وہ وہیں ہمارے لئے مقرر کردہ ہال روم میں آکر آگاہ کریں گے اور ان مریضوں کی وہیں پر پہلے سے زیادہ فعال انداز میں آواز بنیں گے۔ اور ہماری تمام تر سیفٹی کے ذمہ دار اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس ہونگے۔ جو کہ ہماری جیت ہے۔ ہمارے ایک دوست حماد گاڈی کے کچھ پوسٹوں کی وجہ سے ڈاکٹر حضرات کی دل آزاری ہوئ اور ان پر سائیبر ایکٹ لگنے کی وجہ سے ہمیں ڈاکٹرز کی اس بات کو ماننے پر مجبور ہوے کہ حماد بطور رپورٹر ہسپتال نہیں آسکے گا۔ بطور مریض یا اپنے مریض لواحقین کیساتھ آنے سے اسے نہیں روکا جاسکے گا۔ اب آپ کسی بھی ڈاکٹر مریض کی علاج نہ ہونے کی شکایت ہمیں کریں گے تو ہم فوری طور پر آپکی مدد کو پہنچیں گے اور مقرر کردہ میڈیا روم میں آپکی پریس کانفرنس اور احتجاج کریں گے۔ اس معاہدے سے ہسپتال کا نظام خراب بھی نہیں ہوگا اور ہمیں غریب اور متاثرہ مریضوں کی آواز بنے پہنچانے میں مزید آسانی ہو گی۔ ہم ہسپتال میں کام دیکھنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر اگر کسی بھی مریض کے علاج میں غفلت کا مظاہرہ کریں گے ہم آپ کی آواز ہیں آواز بنیں گے۔ آپ ہمیں اپنے ساتھ کسی بھی ظلم اور زیادتی کی اطلاع کر سکتے  ہیں۔ ہم پہلے بھی آپکی آواز تھے اب بھی آپکی آواز ہیں

Monday, 8 April 2019

ہم ایک مضبوط قوم ہیں ہم بلوچ ہیں ہماری تاریخ بھی ہے دنیا کے طاقت ور قوموں کی صف میں ہمارا نام# اگر بلوچ قوم کی تاریخ دیکھا جائے پڑھا جائے تو افسوس آتا ہے اور آنکھوں سے آنسوں بہنا شروع ہوتے ہیں بلوچ قوم واحد قوم ہے جس نے کسی طاقت کے سامنے سر نہیں جھکایا نہ اپنے حقوق کے ساتھ کسی سے کمپرومائز کی آج مجھے بہت افسوس سے لکھنا پڑتا عرب سے عجم تک بلوچ قوم کی تاریخ مسخ ہوتی جارہی ہے ہماری تاریخ کو مسخ کرنے کی زمیدار کوئ دشمن نہیں خود ہمارے اپنے رہبر و رہنما ہیں جو چند پیسوں کے عوض بک جاتے ہیں اپنے آن بان شان کا سودہ کر بیٹھتے ہیں انہیں اپنے تاریخ اور قوم کی نہیں صرف پیسے اور کرسی چاہئیے کاش ہمارے بہرے رہنماؤں کو کوئ یہ بات سمجھا سکے تمہیں نہ کرسی کی لالچ طاقت دے سکتی ہے نہ پیسوں کا دب دبا عظیم قوم کا عظیم رہنما بنا سکتا ہے اللہ تعالی نے آپکو ہر صلاحیت سے خود مالا مال فرمایا تمہیں طاقت عطا کی کیوں غلام بننے کی سوچ آپکے زہنوں پر عیاں ہو چکا ہے جب قائد اعظم نے الگ مسلم ریاست کی جنگ شروع کی تو انہوں نے کہا آپکو وزیراعظم بنا دینگے الگ ریاست کا مطالبہ ترک کریں قائد اعظم نے کہا ہمیں وزیراعظم بنانے والے آپ ہو جب مرضی ہوا تو اتارنے والے بھی آپ ہونگے ہمیں شان کیلئے نہیں مسلم ریاست چاہئیے ہمارے بلوچ رہنما جب بولتے ہیں تو کسی کے آنکھوں پر پیسوں کی پٹی تو کسی کو کرسی کا شاہکار بنا دیا جاتا ہے لیکن ان لوگوں میں اتنی سی ہمت نہیں ہمیں ان چیزوں سے غرض نہیں ہماری عوام ہے ہم اپنے عوام کے حقوق لیکر رہینگے جب عوام کی طاقت ساتھ ہو تو کوئ طاقت اسے بڑھ کر نہیں کہیں بلوچوں کو مار کر خاموش کیا جاتا ہے کہیں آپس میں لڑا کر کمزور کیا جاتا ہے کہیں تعلیم سے دور رکھ کر غربت کی رسی سے جکڑا جاتا ہے تو یہ ہماری تاریخ کو ختم کرنے کی اہم نشانیوں میں سے ہیں ان طاقتوں کو اچھی طرح معلوم ہے یہ وہ قوم ہے جو بھوکے پیاسے گرمی اور سردی میں ہٹتے نہیں لڑ کر مرتے ضرور ہیں لیکن افسوس ہمیں مارنے والے بھوکے پیاسے رکھنے والے کوئ اور نہیں ہمارے اپنے رہنما ہیں ہم انکے ہاتھوں سولی پر چڑھتے ہیں یہ پیسے کی چمک سے ہمیں ہر موڑ پر مارتے ہیں گوادر سے لیکر ملتان تک ڈیرہ اسمعیل خان سے کراچی تک یہ موت اور بھوک کا کھیل صرف بلوچ قوم میں کیوں کھیلا جارہا ہے کیونکہ ہم پکار پر لڑتے ہیں حق پر نہیں اب وقت بدل گیا ہے سوچ بھی بدلنا ہوگا رہنما بدل گئے ہیں عوام کو بھی بدلنا ہوگا اس دور میں جنگ ہتھیار سے نہیں قلم سے لڑنا ہوتا ہے اب ان سرداروں وڈیروں کے پکار پر نہیں چلنا جس کے اپنے بچے اسلام آباد کراچی بشمول امریکہ برطانیہ سمیت یورپی ملکوں میں زیر تعلیم ہیں ہمارے مستقبل کیلئے پرائمری سکول تک نہیں اگر ہیں تو اس پر تالے اب وہ ہر فرد سردار ہے جو اپنے علاقے اور قوم کیلئے کوشاں ہیں ہمارے معزز رہنماؤں کے گھر کوئٹہ اسلام آباد کراچی لاہور ڈیرہ غازیخان کے پر آشائش علاقوں میں جب ہمیں انکی ضرورت پڑی تو کسی سے بیس ہزار قرضہ لیکر انکے کھوج لگانے کیلئے ہم ان پڑھوں کو مہینہ لگ جاتا ہے جب ان لوگوں کو پانچ سال بعد ووٹ لینے کیلئے ہماری ضرورت پڑی تو صرف ایک مہینہ لگا کر ہمیں بیوقوف بناکر چلے جاتے ہیں کیونکہ ہم میں تعلیم نہیں تو حقوق کا کیا پتہ اس لیئے بلوچ سرداروں وڈیروں کا منشور ہے کامیابی کا راز عوام کو جہالت میں رکھنے سے ہے ترقی و تعلیم دیکر خودکشی کرنے کے مترادف ہے اس دور میں الحمدللہ اپنے تحت آپ بلوچ قوم میں ایسے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان ہیں جو اپنے علاقے اور قوم کی رہنمائ کر سکتے ہیں کیونکہ اصل طاقت عوام اور تعلیم ہے ہمیں اپنے آنے والے مستقبل اور تاریخ کو بچانے کیلئے ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائ کرنے چاہئیے اور اسکا بھر پور ساتھ دیکر اپنے تاریخ کو مٹنے سے بچانا ہے آج نوٹ کر لیں اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو بلوچ قوم طاقت نہیں صرف ایک تاریخ رہ جائیگی بلوچ لخت جگروں نے سو سال تک بھوک پیاس جہالت برداشت کیئے اپنے پیاروں کو مرتے دیکھا کئ خاندانیں تباہ ہوئیں لاکھوں لوگ تباہ حالی سے تنگ آکر ہجرت پر مجبور ہوئے لیکن اپنے معزز سرداروں کی بات کو کبھی نہیں ٹھکرایا کاش ان کو بھی یہ احساس ہوتا تو ہمیں نہ کوئ علاقہ بدر کر سکتا تھا نہ بھوک و پیاس سے مرجاتے نہ تعلیم کی زیور سے محروم ہوتے کیونکہ یہ سب کرتا دھرتا انہیں آقاؤں کی ہے جس کی بدولت آج ہم دنیا کے وہ چند قیمتی نایاب پرندوں کے صف میں ہیں جو کبھی جنگلوں کے زینت بنا ہوا کرتے تھے آج پوری دنیا میں ماسوائے چند ایک جنگل میں صرف اسکا عکس دیکھا جاتا ہے آج بھی وقت ہے بدل دو نظام کو یہ بڑائ کسی حدیث پاک کا لفظ نہیں یہ بڑائ ہم چرواؤں کاشتکاروں کے اتفاق و اتحاد  میں ہے جس کے ساتھ چلیں وہ بڑا ہے جسے چھوڑ دیں وہ ہم جیسا انسان ہے #تحریرو پیشکش حسن خان بزدار

Friday, 5 April 2019

بزدار قبائل کے بچے زیور تعلیم کیلئے کوشاں

بارتھی کے بچے تعلیم حاصل کرنے والے جو پانچ فٹ گہرائ کے پہاڑی نما راستے استعمال کرکے زیور تعلیم کیلئے کوشاں ہیں

Monday, 1 April 2019

سی ایم پنجاب سردار عثمان خان بزدار کے والد مرحوم سردار فتح محمد خان بزدار

مرحوم چیف آف تمن بزدار سردار فتح محمد خان کی زندگی پر ایک نظر

مرحوم چیف آف تمن بزدار سردار فتح محمد خان بزدار ڈیرہ غازیخان کے پسماندہ ترین علاقہ بارتھی میں پیدا ہوئے انکے والد کا نام سردار دوست محمد تھا.
انہوں نے ابتدائ تعلیم کے بعد  اعلی تعلم جامعہ کراچی سے حاصل کی. انہوں اپنی سیاست کا آغاز
بلوچ ایجوکیشنل اسٹوڈنٹس سے کیا اور بعد میں 1963 کو جب BSO یعنی بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن بنی تو مرحوم اسکے صدر بھی رہے. تعیلم سے فراغت کے بعد محکمہ تعلم میں گزیٹیڈ پوسٹ کی نوکری لی اور اپنے والد سردار دوست محمد کے وفات تک سرکاری ملازم رہے. اور والد کی وفات کے بعد آج سے تقریباً 37 سال قبل بزدار کی تمن کی سرداری (پھاغ) سنبھالی اور ساتھ ہی ملازمت سے استعفی دیا.
ضیاء الحق کے مجلس شوریٰ کے رکن رہے. اس کے بعد مختلف ادوار میں الیکش جیت کر کل تین بار ایم پی اے رہے.
انتہائ دلیر انسان تھے. انکے دوست اور رفیق انکی دلیری کے گواہ نہیں بلکہ انکے مخالف بھی اس بات کے معترف ہیں.
پرانے ذہن کے بلوچ سخت مزاج اور نہ جھکنے والے انسان تھی. اپنی من مانی کے قائل تھے کبھی سمجھوتہ نہ کیا.
کفایت شعار انسان تھے پوری زندگی کبھی سرداری شان شوکت کی نمائش کے دوڑ میں نظر نہ آئے.
اپنے والد سردار دوست محمد کی طرح زمینوں سے کافی محبت تھی اور انکے آباد کرنے اور اضافہ کرنے کی خواہش رکھتے تھے.
بزدار تھے مگر بزداری(گلہ بانی) سے کئ گنا زیادہ زمینداری سے محبت تھی.
سیاست میں واجبی حد تک دلچسپی تھی انکو سیاست کا جنوں کبھی نہیں رہا اس لیے کسی پارٹی میں جم نہ سکے.
بلوچ انکو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور بلوچ سردار بھی مگر جس طرح قیصرانی سراد میربادشاہ دل سے انکا احترام کرتے تھے وہ مثالی تھی. ان کے منہ سے کبھی سردار فتح محمد کا لفظ نہیں سنا وہ جب انکا ذکر خیر فرماتے تو.
بابا سائیں کا لفظ انتہائی ادب سے استعمال کرتے.
انکی اولاد میں پانچ بیٹے اور پانچ بیٹاں ہیں.
جعفر سردار فیملی انکے سسرالی ہیں.
انکے بڑے بیٹے سردار عثمان بزدار اس وقت وزیر اعلی پنجاب ہیں.
دوسرے بیٹے عمر خان BMP میں سرکل  جمعدار(DSP)کے عہد ے پہ کام کرتے ہیں.
تیسرے بیٹے جعفر بزدار یونین کونسل مبارکی کے چیئرمین ہیں.
چوتھے بیٹے طاہر بزدار
پی پی 286 میں سردار عثمان بزدار کے حلقے مین بطور فوکل پرسن کے طور پہ کام کررہے ہیں.
سب سے چھوٹے بیٹے ایوب بزدار سرکاری ملازم ہیں.
اس غم موقع پہ میں اور پوری بلوچ قوم انکے بیٹوں اور باقی رشتہ داروں کے غم میں برابر کے شریک ہیں.
دعا گو ہیں کہ اللہ انکو صبر جمیل عطا فرمائے
اور مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے.
آمین.ثم آمین

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201