Welcome To Tibalnews1. Here Uou Will Find Every Local National News Of DGKhan Taunsa And Koh Suleiman Kn A Blink Of An Eye With All Languages Kinds Of Articles.
Wednesday, 1 April 2026
یہ کوہ گراں جو حائل ہیں ہم ان کو ہٹا کر دم لیں گے ہم اہل علم کے رہبر ہیں منزل پر جا کر دم لیں گے
Friday, 20 March 2026
کیا آپ جانتے ہیں یہ دنیا آباد کیوں نہیں ہوسکتا اگر نہیں تو جانیئے مکمل رپورٹ اور وہ بھی ثبوتوں کے ساتھ
Wednesday, 11 March 2026
جب تک ظلم کو برداشت کرینگے ہم پر مزید ظلم اسی طرح ڈھایا جائیگا افسوس سے احتیاط بہتر ہے
مطلب ظالم ظلم سے باز نہیں آنے والا کیونکہ جب کسی کے ہاتھ ✋ میں جبر کا لکیر پڑا ہو یا کسی کے پیٹ میں حرام کا لقمہ چلا گیا تو نہ وہ کھانے سے کتراتا ہے اور نہ ظلم کے بدلا جا سکتا ہے
اب یہ صاف ہوتا جارہا ہے ان لوگوں سے کسی نے ایسا معاہدہ کیا جسے عوام کی کوئ پرواہ نہیں صرف اپنا سوچتے ہیں اور وہ ہیں زرداری شہباز ایم کیو ایم بی این پی اے این پی جے ہو آئ کیونکہ انہوں نے ملکر پچیس کروڑ عوام کو روند ڈالا اب چاہے یہ لوگ جو کہیں بے معنی ہوگی پاکستانیو ان تمام گینگ سے کوئ بھی امید کی جاسکتی ہے خدارا اپنے پیارے وطن کا سوچیں کیونکہ جب وحشت عروج پر تو وہشی پن مزید ابھرتا ہے اب مجھے بھی کچھ محسوس ہو رہا ہے
عمران خان صحیح راستے پر گامزن تھا ہاں اگر ان لوگوں کا سیاسی مقابلہ صرف عمران خان سے ہوتا تو پچیس کروڑ عوام پر ایسے غضب ناک نہ ہونے انکا شکار پورا پاکستان اور پوار قوم ہے ہوشیار رہنا پچتانے سے بہتر ہے اور ہوشیاری صرف اپنے لیئے نہیں ملک پاکستان کیلئے کرنی ہوگی کیونکہ گند آپکے گھر کے سامنے جتنا زیادہ بڑھ جائے ایک نہ ایک دن انشااللہ وہ صاف کیا جاسکتا ہے مگر گندھ کی وجہ سے گھر 🏠 کو چھوڑا یا توڑا نہیں جاسکتا ہمارا گھر ہماری جنت ہے ملکر اسے ہمیں ہی صاف رکھنا ہے اگر ہم سے نہ بھی ہو تو ہمارے آنے والے نسلیں انہیں ان گند سے ضرور پاک کر دینگے مگر گھر کی حفاظت کرنا ایسا ہی سمجھیں جیسا کہ شیطان کو دل سے دور رکھنا ہو دو ہزار بائیس سے لیکر دو ہزار چھبیس تک جو کچھ پاکستان میں یہ سب چیزیں چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں
یہ لوگ کبھی خود کے خیر خواہ نہیں ہوئے پاکستانی قوم سے کیسے خیر خواہی کی توقیر کی جاسکتی ہے اگر یہ پی ڈی ایم دو ہزار بائیس میں سب نے ملکر پاکستانی قوم اور ملک کے بھاگ ڈور سنبھالا انہیں اپنے کھودے گئے گڑھے صاف صاف نظر آرہے تھے اگر آپس میں اتحاد نہ کی تو وہ انکے کھودے گڑھے میں یہ خود ہی دفن ہو جاتے اور انکا دفن ہونا ہی یقینی تھا کیونکہ اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر ملک پاکستان اور اسمیں بسے 25 کروڑ عوام کو پس پشت ڈال کر دل پر پتھر رکھ کر انہوں نے یہ فیصلہ لیا تاکہ ہماری جانیں جائیدادیں انٹرنیشنل جاگیریں اور بینک 🏦 بیلنس محفوظ رہ سکیں اور انہوں نے کسی تھرڈ پارٹی کی کاوشوں سے اپنی رنجشیں بھلا کر 50 سال کیا گیا
جمع شدہ دولت کو بچانے کی ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر پاکستان پر قابض ہوئے اور خوبصورت پاکستان کو ایسی دلدل میں دھکیلا شائید نکلنا بہت مشکل ہو مگر یہ لوگ حرص و لالچ میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں
انہیں کچھ دکھائ نہیں دیتا اور یہ نہیں جانتے اس روح زمین پر جب تک اللہ تعالیٰ کا نام لیوا ہیں تو انہیں خوشی خوشی اس ملک اور قوم کے خون پسینے کا حساب ہر صورت دینا ہوگا اگر خود دیں یا انکی نسلیں مگر حساب تو ہوکر ہی رہیگا جلد یا بدیر ان سے ہر ظلم کا حساب لیا جائے گا انشااللہ
Friday, 6 March 2026
تاریخ سر جھکانے والوں نے نہیں سر کٹوانے والوں نے لکھا ہے کیونکہ موت بھاگنے والوں جلد اور جہاد کرنیوالوں کو دیر سے پہنچتا ہے
یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بشمول دنیا کے آنکھوں پر ایسا کس کر پٹی باندھا گیا انہیں یہ سمجھ تک نہیں آریا ایران کا یہ حکمران جماعت اسلامی دنیا کا ایک مظبوط باڑھ ہے امر یکہ اور اس را ئیل 45 سال سے اس مضبوط باڑھ کو اس لیئے توڑنے میں لگا ہے جب تک اسلامی دنیا کا یہ مضبوط قلعہ ڈھایا نہیں گیا تب تک عرب دنیا کا فاتح ہونا ناممکن ہے مگر یہ اسلام کے ام ری کی اور اس را ئ یلی نوکر کب سمجھے گے اگر میں سمجھ رہا
تو انہیں کیوں نہیں سمجھ آرہا اس را ئیل نے پانچ سے سات دہائیاں اسی جنگ میں گزارا فلسطیں پر قبضہ کیا جا سکے لیکن ستر سالوں کی بے دریغ خون خرابہ کے باوجود نہ ہو سکا زرا نہیں کچھ زیادہ سوچیں عی سا ئ اور صی ہو نی جتنے بھی کوشش کررہے ہیں وہ سب رائیگاں چلا گیا کیونکہ اسکے ہر بنائے گئے منصوبے انہی ایرانیوں نے خاک میں ملا دیئے امر ی کہ نے گلف کنٹریز میں ایک ایسا باؤلا کتا 🐶 پال رکھا ہے تاکہ کبھی بھی عرب دنیا کو ام ری کی مفادات کے خلاف آپس میں ملکر ضرب لگانے فرست ہی نہ ملے اگر خدا نخواستہ ایران میں انقلاب کے سائے میں پلنے والا یہ جماعت کلعدم ہو چکا تو انگلی باری پاکستان کی ہے کیونکہ بغل میں بیٹھے منافق سب سے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جیسا کہ میں پانچ سال پہلے افغانستان کے متعلق کہا تھا طالبان کو فتح ملنے کے بعد آمری کہ یہ جان گیا تھا
جب تک پاکستان اور طالبان کو کسی نہ کسی طرح آپس میں لڑانا ہی سب سے بڑی فتح ہوگی اور طال بان کو ساتھ ملا کر پاکستان سے جان چھڑوانا جاسکتا ہے اب اگر ایران کے ساتھ بھی یہی ہوا تو زرا سوچیں ہمارے ساتھ کیا ہوگا لیکن اسوقت سمجھنے میں بہت دیر ہو چکی ہوگی ابھی بھی وقت ہے مندروں گرجا گھروں اور چرچوں میں پڑھنے والوں پر نہیں مسجدوں میں اپنے رب کے نام لیواوں پر یقین کرنا سب سے بہترین تدبیر ہے یہ سب جاننے کے بعد کہ ہمارے ساتھ ایسا ہونے والا ہے تو اس سے پہلے خوددار اور مضبوط لائحہ عمل کیوں ترتیب نہیں دیا جارہا کس لیئے اپنے گردن پر چھری چلوانے کی انتظار کررہے ہو اور دوسرے بھائ کی موت پر خاموش رہنے والا چاہے جتنا بھی خاموشی اختیار کریں یا جتنے بھی چشم پوشی کی جائے اسکی زندگی کسی بہادر سے پہلے ختم ہونے کی نشانی ہے 46 سال میں کتنے مسلمانوں کو امر ی کہ اور اس را ئیل نے ملکر تہس نہس کی اور وہ بھی اکثریت انہی کے ساتھ ملے ہوئے حکمرانوں کے اور وہ بھی یہی سوچ رہے تھے
اگر ہم امر یکہ اور اس را ئیل کے ساتھ دوستی کر لیں ہم بچ سکتے ہیں مگر وہ نہ بچ سکے بڑی آسانی سے انہیں نشانہ بنایا گیا امر یکہ اور اس را ئیل کے آنکھون میں 45 سے کھٹکنے والے ایران کے خلاف ہمیشہ سے پابندیاں عائد تھیں اسے ہر طرح سے کمزور کرنے کی کوشش کی بھومی اور پیاسا رکھا مگر یہ بہادر قوم نے سر جھکا کر جینے سے سر کٹوانا پسند کیا انہیں کے ٹکڑوں پر پلنے سے بھومی مرنے کو ترجیح دی انہی کے غلامی سے آزاد مرنے کو گلہ لگایا مگر دنیائے اسلام کے باقی تمام مسلم ممالک امریکہ اور اس را ئیل کے سامنے جھکے اور اپنے اللہ کو خوش رکھ کر آخرت میں اسے خوشی خوشی ملنے سے باطل قوتوں کو عظیم سمجھا ہمیشہ کیلئے موت سے ایک بار مرنے کو پسند کیا اور اپنے دھرتی کو ناپاک ظالموں کو اپنے ہاتھوں سے خوش آمدید کرنے کے بجائے خون میں ڈبو کر آنے کئے مزاحمت کا راستہ چنا اور خواب غفلت میں موت آنے کے انتظار سے شہادت کو ترجیع دی مگر سر جھکا کر دنیا میں چلے جانے سے سر کٹواکر دنیا کو خیرباد کہا کیونکہ تاریخ سر جھکانے والوں نے نہیں سر کٹانے والوں نے لکھا ہے
Thursday, 5 March 2026
Tribalnews1: کینسر کے موذی مرض کا شافی علاج اور طریقہ کار
کوہ سلیمان نادرا سنٹر فاضلہ کیلئے
کوہ سلیمان پسماندہ کیوں تمن بزدار تمن کھوسہ تمن لیغاری کے سربراہان کی غفلت یا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی
مزید پڑھیں سرزمین بلوچ ڈیرہ غازی راجن پور تونسہ شریف وہوا اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ساتھ دیدہ زیب بڑے بڑے چٹانوں اور اونچے سرسبز درختوں میں چھپے خوبصورت
Tuesday, 3 March 2026
ہمیں اپنے ایمان بچانے کیلئے اللہ تعالیٰ چودہ سو سال پہلے بتایا تھا وہ کیسے جانیئے اس رپورٹ میں
لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگر ہیں تو نام کے مسلمان مگر پھر مسلمان بھائیوں میں بالکل نہیں کیونکہ ہم نے ہمیشہ کف ار کے کہنے پر عمل کیا کفار لکھے گئے ہر الفاظ کو صحیح مانا اور کفار کے ہر پیشن گوئی کو سچ سمجھا افسوس نہ ہم قرآن مجید کے پیشن گوئی کو سچ سمجھتے
مزید پڑھیں
ہیں نہ ہم حدیث پاک پر یقین کرتے ہیں کیونکہ جو قرآن مجید اور حدیث پاک نے بتایا پہلی اور آخری لکیر وہی ہوگا اگر ہم میں زرہ برابر بھی ایمان موجود ہو تو یہ سب کفار کا ازل سے مضبوط چال ہے جسے وہ بہت چالاکی سے مسلمانوں میں بچھاتے ہیں اور ہم اندھے بہرے مسلمان بلا دھڑک اس پر یقین کرتے ہوئے اس پر عمل کرتے ہیں کیونکہ واشنگٹن پوسٹ کہاں سے چھپتا ہے کیا کسی نے آج تک اسی واشنگٹن پوسٹ میں کسی امریکی حکومت یا کسی ادارے یا محکمے کے خلاف کوئ بیان دیکھا ہے بشمول اس را ئیل اور یورپ کے کسی بھی ممالک کا کوئ خاص موضوع جو مسلمانوں کے حق میں ہو اور مظلوم مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے مترادف سمجھا جائے ایسا کوئ بھی خبر آج تک اس واشنگٹن پوسٹ میں نہیں چھپا اب یہ واویلا واشنگٹن پوسٹ پر اسلیئے چھپوایا گیا
مزید پڑھیں
تاکہ ہم نے جو جنگ کی چنگاری بھڑکادی اب اس چنگاری کو آگ میں تبدیل خود مسلمان کردیں ہم واپس اپنے گھروں میں لوٹ کر صرف دور سے تماشا دیکھیں اور مسلمان آپس میں ہمارے اس چنگاری کو آگ میں تبدیل کیئے جانے والے آگ میں جلتے رہیں جب سب راکھ بن جائیں تو پھر ہمارا کام بہت ہی آسان ہوجائیگا آپ سب جانتے ہیں 1980 میں عراق اور ایران کے مابین شروع کی گئ جنگ آخر کار 1988 میں ختم ہوئ اور یہ بھی جانتے ہونگے یہ جنگ شروع کس کے کہنے پر کی گئ اور پہلے عراق نے ایران پر حملہ کیا کیونکہ اسوقت یہی عراق کے صدر صدام حسین اسوقت امریکہ ایک اہم الائ کے طور پر جانا جاتا تھا اس آٹھ سال کے طویل جنگ میں عراق کو امریکہ نے ہر قسمی ہتھیار جہاز اور گولہ بارود فراہم کیا لیکن اس آٹھ سالہ طویل جنگ بغیر معنی خیز ختم ہوا کیونکہ امریکہ کو اس چیز سے کوئ سرو کار نہیں تھا عاق ایران پر قابض ہو یا ایران عراق پر امریکہ چاہتا تھا ان دونوں کی لڑائ میں ایک تو یہ کبھی ساتھ نہیں چلیں گے دوسرا انکے افواج میں اموات ملٹری کمزور ہو جب امریکہ نے اپنا احداف حاصل کی تو دو اے تین سال کے قلیل مدت گزرتے ہی امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا کیونکہ امریکہ انکے اندرونی معاملات کو اچھی طرح جان چکا تھا کہ اب عراق میں وہ پہلے جیسی طاقت نہیں رہی اسے مارنا بہت آسان ہے اور اسنے وہ کیا جو ہمیشہ سے کرتا چلا آرہا ہے اور پہلی عراق اور امریکی جنگ کا سبب عراق کا کویت پر حملے کو جواز بنایا گیا لیکن کویت پر حملہ بھی اسی امریکی منصوبے کا حصہ تھا مسلمانوں کا کمال اس بات پر ہے امریکہ اس را ئیل یو رپ وغیرہ کی باتوں پر کیسے یقین کرتے ہیں کیونکہ 1400 سال پہلے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا اے مومنو کفار اور نصاری کو کبھی اپنا بھائ مت بناو وقت آنے پر یہ اپنا ہر قسمی دشمنی بھول کر مسلمانوں پر ملکر لڑتے ہیں لیکن ہم لوگوں نے اس چیز کا۔مشاہدہ اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے پھر بھی ہمیں خود کے آنکھوں پر بھی یقین نہیں آتا تو قرآن کریم کے آیات پر کیسے عمل پیرا ہوں آنا اللہ واناالیہ راجعون
جب ایمان تاریکیوں میں گم جائے دماغ کی نالیاں بند ہوں آنکھوں پر پٹی بندھی ہو کانوں میں روئ ٹھونس دی جائیں دل پر خوف بٹھایا جائے ایمان کو شراب و شباب یا لالچ میں ڈھانپا جائے تو مسلم دنیا صرف ایک جملہ تصور ہوگا استغفراللہ اللہ اکبر کبیرہ
Monday, 2 March 2026
دین محمدی صرف شمشیر سے نہیں تو کیسے پوری دنیا میں پھیلا دیا گیا پڑھنے کیلیے کلک کریں
اگر طاقت شمشیر میں ہوتی تو رومن امپائر اور منگول سلطنت کو کیوں زوال پزیر ہوئے اگر جاننا چاہتے ہیں تو تفصیل موجود ہے
ت سے زیادہ طاقتور ہو تو اس ریاست میں زوال بہت قریب ہے جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں قدیم روم میں فوجی جرنیل اکثر مسلسل جنگوں کو ایک سیاسی اور سماجی ذریعہ کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے تاکہ عوام کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ فوج ریاست کی سب سے اہم طاقت ہے۔ اس وقت روم کے اندر غربت، بے روزگاری، اور معاشی عدم مساوات جیسے سنگین مسائل موجود تھے۔ اگر عوام ان مسائل پر زیادہ توجہ دیتے تو وہ حکومت اور اشرافیہ کے خلاف بغاوت یا احتجاج کر سکتے تھے۔ لیکن جب جنگ جاری رہتی تھی، تو عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹ کر فوج کی کامیابیوں اور ریاست کی طاقت پر مرکوز ہو جاتی تھی۔
Sunday, 1 March 2026
مسلمانوں نے اپنا راہ بہت جلد کیوں بدلا کیا آپ جاننا چاہتے ہیں تو مکمل تفصیل پڑھیں
Friday, 27 February 2026
خود کو پانے انسان اللہ تعالیٰ کو ہر صورت پاتے ہیں الحمداللہ
Tuesday, 24 February 2026
دعا گو ہوں اللہ تعالی مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین
اسلام علیکم صبح بخیر
ایک نہ ایک دن ہم سبکو قصہ پارینہ بننا ہے موت سانسوں سے بھی قریب رہتا ہے کچھ پتہ نہیں کب اور کس وقت دبوچ لیتا پے مگر صرف یادیں رہ جاتی ہیں انسان غلطی کا کتلا ہے مگر معاف کرنے والے رحمن سے کبھی ناامیدی نہیں کی جاسکتی سفید ٹوپی اور کالا جیکٹ پہنے سفید ریش انسان کبھی اس دنیا میں جناب عالی عزت مآب جیسے القاب سے نوازے جاتے تھے آج مرحوم دفعدار احمد خان جلالانی لکھا اور پکارا جائے گا کیونکہ یہ دنیا کی فطرت ہے کہ ہم عام تمام لوگ یہ کہیں لیکن آپنے بھی یہی کہتے ہیں اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے کیونکہ ہم جانے والوں پر منحصر ہے اگر اس دنیا میں رہ کر اپنے لیئے لڑیں تو ہم بہت کچھ پاکر اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اگر ہم اپنے مستقبل کیلئے کوشش کریں یقیننا دنیائے فانی سے جاتے ہوئے خود کو بھی بہت بڑے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہم طاقت میں مغرور ہوتے ہیں دولت میں مدہوش اور ہم یہ نہیں سمجھتے کہ سب چیزیں عارضی ہیں یہ دولت یہ طاقت یہ عہدے حتی کہ اپنی جان مگر سمجھنے میں ہمیں اگر مشکلات نہ آتے تو یقیننا ہم فائدے میں ہوتے کیونکہ کسی کی پرواہ کیئے بغیر اپنے روح کو زندہ رکھنا ہے نفس کو مار کر اگر نفس کو زندہ رکھیں گے تو روح مارا جائیگا اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے ہم نفس کو زندہ رکھ کر روح کو مار دیتے ہیں اگر ہمیشہ کیلئے امر ہونا ہے تو ابھی سے پڑھیں
اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم @
بسم اللہ الرحمن الرحیم @
@ آنا فتحنا الک فتح االمبین
m
ہم اکثر لوگ فتح خود سے چاہتے ہیں
مگر ہم ہمیشہ شیطان کے ساتھی اپنے نفس کا غلام بنے رہتے ہیں کیونکہ ہم ایک ایسے مذہب کے پیروکار ہیں الحمداللہ زندگی کے آخری سانس تک اگر اپنے رب سے توبہ کریں معافی کا طلبگار بنیں یقین جانیں تم ایسا ہو جاوگے جیسا کہ پیدا ہی ابھی ہوئے ہو غلطیاں تو ہم سے ضرور ہوتی ہیں مگر یہ جان لو جب واپس پلٹو گے تو میرا ایمان اگر ہم دیکھنے کے قابل ہوتے تو یہ دنیا اور آخرت میں ہمارے کی گئ توبہ سے اللہ تعالی چراغاں روشن کرتے فرشتوں کو پکار کر کہتے ہے آپ گواہ ہیں میرے فلانے بندے نے توبہ کی میں نے انہیں معاف فرمایا کہنے لکھنے کا مقصد دفعدار احمد خان جلالانی کو میں قریب سے جانتا تھا بیشک انسان میں ہزار کمی کوتاہیاں ہونگے لیکن ہمیشہ صاف دل خوش اخلاق میں پیش پیش رہا
جب طبیعت میں بگاڑ پیدا ہوا تو عمرہ پاک کی سعادت حاصل کی اور بہت زیادہ اللہ تعالی سے قریب ہونے کی کوشش میں لگا رہا اور دل ہی دل میں ٹوٹ چکا تھا اور اپنے رب کی رحمتوں سے امید رکھتا اور یہی کہتا بس دعا کریں اللہ تعالی ہمیں معاف فرمائے اور روز محشر آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کی شفاعت سے بہرامند فرمائے آمین
Saturday, 31 January 2026
رمضان المبارک میں 10000 کیش اور راشن کیسے مل سکتا ہے بہت آسان
اہور : رمضان المبارک میں عوام کو 10,000 روپے کیش دینے کا اعلان کردیا گیا، مستحقین بینک آف پنجاب کے برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس اور ون لنک نیٹ ورک سے منسلک کسی بھی ATM سے رقم نکلوا سکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کی تاریخ کے سب سے بڑے "رمضان نگہبان پیکیج” کی حتمی منظوری دی، 47 ارب روپے کے اس بھاری بھرکم ریلیف پیکیج سے پنجاب کے تقریباً ایک کروڑ افراد مستفید ہوں گے، جس کا مقصد مقدس مہینے میں مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔
پنجاب کے 42 لاکھ مستحق خاندانوں کو فی خاندان 10,000 روپے فراہم کیے جائیں گے جبکہ راشن کارڈ ہولڈرز کے لیے ماہانہ امداد 3,000 روپے سے بڑھا کر 10,000 روپے کر دی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے 20 لاکھ سے زائد ‘نگہبان کارڈز’ جاری کیے جائیں گے، جن کے ذریعے نقد رقم کی وصولی اور اشیائے ضروریہ کی خریداری ممکن ہوگی۔
مستحقین بینک آف پنجاب (BOP) کے برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس اور ون لنک نیٹ ورک سے منسلک کسی بھی ATM سے رقم نکلوا سکیں گے۔
مزید پڑھیں : رمضان میں خریداری کرنے والوں کےلیے بڑی خبر
صوبے بھر میں کارڈز کی فعال سازی کے لیے 136 مراکز قائم کیے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ خود گھر گھر جا کر مستحقین کو نگہبان کارڈز پہنچائے تاکہ عوام کو لائنوں میں نہ لگنا پڑے۔
اس کے علاوہ ہر تحصیل میں 8 "نگہبان دسترخوان” قائم کیے جائیں گے جہاں روزانہ 2,000 افراد کو باعزت طریقے سے افطاری کرائی جائے گی۔
صوبے کے 30 اضلاع میں 65 سہولت بازار فنکشنل رہیں گے، جبکہ دیگر مقامات پر عارضی بازار لگائے جائیں گے۔
پورے عمل کی مانیٹرنگ کے لیے ایک "رمضان نگہبان ڈیش بورڈ” تیار کیا گیا ہے، حکام کارڈ ہولڈرز کو کال کر کے امداد کی وصولی کی تصدیق کریں گے تاکہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی کا سدِباب ہو سکے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک میں کوئی بھی مستحق خاندان خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔ ہم دکھ سکھ میں غریب عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
Friday, 30 January 2026
بینظیر انکم سپورٹ میں 8 سے بائیس کے طالبات کیلئے رجسٹریشن کا عمل شروع جاننے کیلئے ڈیسک انفارمیش
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے ملک بھر میں تعلیمی وظائف کیلئے رجسٹریشن کھول دی ہے جس کا مقصد کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں سہولت فراہم کرنا اور باصلاحیت طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
حکام کے مطابق والدین یا سرپرست اپنے بچوں کو قریبی بی آئی ایس پی دفتر میں رجسٹر کرا سکتے ہیں، رجسٹریشن کے لیے بچے کا بی فارم اور ایسا موبائل نمبر لازم ہے جو پہلے سے بی آئی ایس پی میں درج ہو، متعلقہ افسر اندراج مکمل کرنے کے بعد ایک پرچی جاری کرے گا جو بچوں کے اسکول میں تصدیق کے لیے جمع کروانی ہوگی، تصدیق کے بعد یہ پرچی دوبارہ بی آئی ایس پی دفتر میں جمع کروائی جائے گی۔
تعلیمی وظائف کے لیے وہ بچے اہل ہونگے جن کی والدہ بینظیر کفالت پروگرام میں شامل ہو، عمر کی حد پرائمری کے لیے 8 سے 18 سال، سیکنڈری کے لیے 13 سے 22 سال مقرر کی گئی ہے، طلبہ کے لیے اسکول میں کم از کم 70 فیصد حاضری لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ اسکول کی تبدیلی کی صورت میں بی آئی ایس پی کو آگاہ کرنا ضروری ہوگا۔
ذرائع کے مطابق وظائف کی رقم 3 ہزار سے 5 ہزار روپے تک ہوگی جبکہ پرائمری تعلیم مکمل کرنے والی طالبات کو اضافی 3 ہزار روپے بطور خصوصی ترغیب دیے جائے گے، بی آئی ایس پی کے مطابق یہ اقدام نہ صرف تعلیم کے فروغ بلکہ بچیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
Featured post
کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش
http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201
-
لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگ...
-
یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بش...
-
قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو ...






















