Wednesday, 1 April 2026

یہ کوہ گراں جو حائل ہیں ہم ان کو ہٹا کر دم لیں گے ہم اہل علم کے رہبر ہیں منزل پر جا کر دم لیں گے




ایک ناقابل فراموش سیاہ دن 😭😭😭😭😭

سردار فتح محمد خان بزدار مرحوم کی برسی کے موقع پر، ان کی ہمہ جہت شخصیت، قبائلی وجاہت اور علمی مرتبے کو خراجِ عقیدت 

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا ذکر تاریخ کے اوراق میں خوشبو بن کر رچ بس جاتا ہے۔ سردار فتح محمد خان بزدار مرحوم ایک ایسی ہی قد آور اور ہمہ گیر شخصیت تھے، جن کا وجود کوہِ سلیمان کی عظمت اور تونسہ کی مٹی کی سادگی کا حسین سنگم تھا۔ 



یکم اپریل 2019 کو ان کی رحلت محض ایک فرد کا بچھڑنا نہ تھا، بلکہ شرافت، متانت اور اعلیٰ انسانی اقدار کے ایک درخشاں باب کا اختتام تھا۔

وہ صحیح معنوں میں مستحکم قبائلی روایات کے امین اور امن کے سچے داعی تھے۔ ان کی شخصیت میں مصلحت پسندی اور صلح جوئی کا وہ نایاب وصف تھا جو تضادات کے دور میں بھی اتحاد اور بھائی چارے کی فضا قائم رکھنے کا ہنر جانتا تھا۔ جامعہ کراچی سے پولیٹیکل سائنس کی ڈگری پانے والا وہ مردِ دانا، جب بارتھی کی خاک پر اپنے لوگوں کے درمیان زمین پر بیٹھتا، تو اقتدار کے تمام مصنوعی تفاخر ہیچ نظر آنے لگتے۔ 


انہوں نے سیاست کو کبھی ذاتی مفاد کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ "تونسہ اتحاد" اور اس خطے کو ضلع بنانے کا جو خواب دیکھا، وہ دراصل ان کی اپنے عوام سے بے لوث محبت کا آئینہ دار تھا۔
کوہ سلیمان//بلوچ قبائل کا مائیک ناز تمن دار جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا مرحوم سردار فتح محمد خان بزدار جو سابق وزیراعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کے والد گرامی تھے اسنے ہمیشہ کیلئے اپنے قوم اور علاقے کا سوچا تھا کبھی بھی کسی کے خلاف نہیں رہے نہ کسی سے زاتی دشمنی رکھا نہ کسی کو تکلیف دی جو تین مرتبہ ایم پی اے رہے مگر اسمبلی میں ہمیشہ سے اپنے محروم علاقے کی وکالت کرتا رہا

 تونسہ شریف اور کوہ سلیمان میں یہ سکولوں کے بلڈنگز تونسہ شریف اور مضافات کے تمام بستیوں میں جانے والے لنک روڈ اور کوہ سلیمان میں کہیں کچی تو کہیں پکی سڑکیں آج بھی مرحوم سردار فتح محمد خان بزدار کے نام پر چلا چلا کر گواہی دے رہے ہیں لیکن یہاں سے خواجگان تونسہ شریف اور بھی بہت سے تمن داروں نے ووٹ لیئے مگر جو کام مرحوم سردار فتح محمد خان کر گئے اسکا بیٹا سردار عثمان احمد خان بزدار بھی نہ کر سکا جب 2018 میں سردار عثمان احمد خان بزدار وزیراعلی پنجاب بنے تو ہر وقت یہی کہتا رہا اگر کام کرنا ہے تو کام کریں اگر نہیں تو تونسہ شریف اور کوہ سلیمان کے عوام کو لالی پاپ مت دکھائیں مجھے یہ منظور نہیں جب تک میرے سانسیں چل رہی ہیں میں آپکو صرف دعوے کرنے نہیں دونگا مجھے اپنے عوام کا مستقبل چاہیئے نہ کہ دعوے آخر جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہو وہی ہوگا 



سردار فتح محمد خان مرحوم ایک ایسی وضع دار تہذیب کے آخری ستون تھے جہاں منصب سے زیادہ اخلاق اور حرفِ وفا کو مقدم رکھا جاتا تھا۔ ان کی مجلسیں علم و دانش کا گہوارہ ہوتیں، جہاں سادگی کے ساتھ عجز و انکساری کا وہ نمونہ ملتا جو عصرِ حاضر میں ناپید ہے۔ وہ پروٹوکول کے قائل نہ تھے، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ اصل سرداری دلوں کو فتح کرنے میں ہے، محلوں کی زینت بننے میں نہیں۔

آج ان کی برسی کے موقع پر ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ سردار فتح محمد خان بزدار جیسے لوگ مرتے نہیں، بلکہ اپنے افکار اور اپنے کردار کی صورت میں نسلوں کی رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ ان کی علمی بصیرت، ان کا منصفانہ مزاج اور امن پسندی ہمارے لیے ایک مقدس ورثہ ہے۔ 


دعا ہے کہ باری تعالیٰ اس مردِ درویش کے درجات بلند فرمائے 

اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ (آمین)






Friday, 20 March 2026

کیا آپ جانتے ہیں یہ دنیا آباد کیوں نہیں ہوسکتا اگر نہیں تو جانیئے مکمل رپورٹ اور وہ بھی ثبوتوں کے ساتھ

قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد  ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو چلانے کیلئے راضی نہیں ہوتا مگر قرض اور بھی یہود کا تو یہ تباہی کے علاؤہ کچھ نہیں جیسا پوری دنیا ہمارے سامنے ہے اور وہ بھی اپنے ہی نالائقیوں کی وجہ سے



پیرا گوٹے 1850 کے قریب دنیا کا وہ ملک تھا جسے کوئ بھی طاقت اکیلے روک نہیں سکتا تھا مگر ہمیشہ کی طرح اس دنیا پر فسادات کی بنیاد یہودی لا بنگ رہی جیسا کہ ازل سے آج تک 


اللہ تعالیٰ اپنے قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ہم نے تمہیں ہر چیز سے نوازہ دولت اولاد اور نعمتیں عطا کیں اپنے دنیا پر فساد برپا کردیا اس لیئے میں نے اپنے بندے بھیجھے اور آپکے فسادات سے چھٹکارا پایا اگر آپ باز نہ آئے تو پھر بھی ایسا ہی ہوگا


جب یہودیوں نے چار ملکوں میں جنگ کروادی اور نوے
 فیصد مردوں کو ختم کردیا جس سے بچوں کو جنگ لڑنا پڑی
۔
انیسوی صدی میں پیراگوئے معاشی طور پر خطے میں بہت مضبوط ہونے لگ گیا ،یہ جنوبی امریکہ کا واحد ملک تھا جو غیر ملکی قرضوں کا شکار نہیں تھا ،انہوں نے اپنی محنت پر ملک کو کھڑا کیا اور اتنا طاقتور ہوگیا کہ ساتھ والے ملکوں کو خطرہ محسوس ہونے لگ گیا
ساتھ والے ملک پہلے ہی یہودیوں کی بینکوں کے قرضوں میں ڈوبے تھے ،یہ بچا ہوا تھا اور یہودیوں کو یہ پسند نہیں تھا اس لیے انہوں نے ایک چال چلی کہ اس ملک پر جنگ مسلط کردی جائے
1864
میں تین ملک ارجنٹائن ،برازیل اور یوراگوئے نے اتحاد کرکے پیراگوئے پر حملہ کردیا




اس وقت امریکہ میں ابراہام کی حکومت تھی لیکن وہ اندرونی جنگوں میں مصروف تھا 
اور وہ یہودی لا بنگ سے بہت دور تھا اپنے ہی دفاع میں کررہا تھا اور اسوقت ان یہودیوں کے ہاتھوں برطانوی سامراج کٹھ پُتلی بنا رہا اور اسی کی مدد سے پیراگوائے پر ارجنٹائن برازیل یوراگوئے کا اتحاد بنواکر پیراگوائے پر جنگ شروع کروائی مگر دولت اسوقت بھی یہودیوں کا تھا اور آج بھی 
انہی شیطانوں کی ہے جو مظلوموں پر قہر بن کر ٹوٹ رہا ہے 



اسوقت دنیا ایک سپر پاور 
برطانیہ نے اپنی عوام کو یہ بتایا کہ پیراگوئے کا حکمران نپولین کی طرح کا ہے ،وہ دہشتگرد ہے ،بند ریاست ہے کسی سے تجارت نہیں کرتی ،وہاں کا حکمران عوام پر ظلم کررہا وغیرہ وغیرہ 
پرو پیگینڈے کا مقصد برطانیہ کی عوام پیراگوئے کی حمایت میں کھڑی نہ ہو اور ایسا ہی ہوا 
تب برازیل رتھشیلڈ خاندان کے قرضے میں ڈوبا تھا اور ارجنٹائن بیرنگ برادرز کے قرضے میں جو یورپ کی بہت بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا اس کے متعلق ابھی تحریر نہیں لکھی میں نے 
ان دونوں خاندانوں نے ان ملکوں کو ہتھیار خریدنے کے پیسے دئیے اور کہا کہ یہ ملک تمہارے لیے خطرہ ہوسکتا اس لیے اس کو ختم کردو تینوں مل کر اور کچھ علاقے رکھ لینا 
ملکوں کو اپنا لالچ اور ان خاندانوں کو اپنا 
دونوں کے لالچ نے جنگ شروع کروادی 
اس جنگ میں اس ملک کی یعنی پیراگوائے کی ساٹھ فیصد آبادی ختم ہوگئی اور نوے فیصد مرد بھی ختم ہوگئے 
ایک اندازے کے مطابق
 تین لاکھ لوگ پیراگوئے کے مارے گئے جن میں اس ملک کے نوے فیصد مرد تھے
کیونکہ پیراگوائے کے بے گناہ لوگوں اور حکمران کا یہ گناہ کی کہ اسنے اتنی محنت سے اپنے ملک کو سنوارا تاکہ ہمیں کسی سے مدد لینے کی ضرورت پیش نہ آئے اور اپنے ہی دن رات کی لگن کے بدولت اپنے ملک کو ہر طرح سے مضبوط رکھا مگر یہ یہودی فسادیوں کو منظور نہیں تھا تو انہوں نے سازشیں شروع کیں اسوقت کے بابے برطانیہ کے گود میں جا بیٹھا اور اس خطے کے مقدر بدلنے عوام کو برباد کرنے اپنے شیطانی نظام کو آباد کرنے کا منصوبہ بناکر ان چاروں ممالک کو آگ کے دلدل پھینکا اس کے نتیجے میں
برازیل کا ایک لاکھ سپاہی 
ارجنٹائن کا تیس ہزار سپاہی 
یوراگوئے کا پانچ ہزار سپاہی 
اس جنگ میں لڑائی کے علاوہ کچھ مزید چیزیں ہلاکت کا باعث بنی 
جو پانی وہ پیتے تھے اس میں لاشیں ہونے کی وجہ سے وہ زہریلا ہوگیا اور ہیضہ پھیل گیا جس کا شکار دوسرے ملکوں کے سپاہی بھی ہوئے
بھوک اور قحط پڑھ گیا جب سارے مرد جنگ پر تھے تو فصلیں تباہ ،جانور مرگئے 
چیچک بھی کافی پھیل چکا تھا جو کافی ہلاکتوں کا باعث بنا

اس کے علاوہ جیسے جیسے مخالف فوجیں اندر کی طرف آتی گئی لوگ نقل مکانی کرتے گئے جس کے دوران کمزور عورتیں بچے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔
علاج کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے زخمی یا بیمار لوگ بھی کافی تعداد میں مارے گئے





چھ سال جنگ کی وجہ سے جب مرد ختم ہوگئے تو لوپیز نے کہا کہ بچے میدان میں اتریں 
بتیس سو چھوٹے بچوں کو بندوقیں دے کر گھاس کے میدان میں اتار دیا گیا جہاں سامنے بیس ہزار برازیل کے ٹرین سپاہی تھے 
جنگ ہوئی جب بچوں کے پاس گولیاں ختم ہوگئی تو وہ لاٹھی ،پتھر اور خالی ہاتھوں سے حملہ کرنا شروع ہوگئے
 تو برازیل کے کمانڈر نے کہا کہ میدان کو آگ لگادو 
اس آگ میں بچے بھی مارے گئے اور پیچھے مائیں کھڑی دیکھ رہی تھی وہ بچانے کے لیے آگے آئیں اور وہ بھی جل کر راکھ ہوگئی
اسی وجہ سے سولہ اگست کو پیراگوئے میں بچوں کا دن منایا جاتا 
صدر لوپیز جنگل میں چلا گیا اپنے چند سپاہی بیوی اور بیٹے کے ساتھ 
اس کو گرفتار کرلیا گیا اور وہی پر اس کو اور بیٹے کو گولی مار دی اور اس کی بیوی کو ساتھ لیجانے کی کوشش کی گئی تو اس نے کہا کہ مجھے ان دونوں کو دفنانے دو
اس نے ہاتھوں سے قبر کھود کر اپنے شوہر اور بیٹے دفنایا۔
اس طرح یہ جنگ اختتام کو پہنچی ،تینوں ملکوں نے اپنے اپنے حصے کے علاقوں پر قبضہ کرلیا 
اور پھر یہودی خاندانوں نے پیراگوئے پر قبضہ کرکے نئی کٹھ پتلی حکومت کھڑی کردی 

پھر انہی یہودی بینکروں نے پیرا گوئے کی معیشت کے لیے تیس ملین ڈالر کا قرضہ دیا لیکن پیراگوئے میں صرف چار ملین ڈالر ہی پہنچے باقی انہوں بینکوں میں ٹیکسوں کے نام پر کھالیے اور سخت شرائط پر سود الگ چڑھادیا جو انہی بینکرز کے حق میں تھا اور پیراگوئے ملک کو دیوالیہ کردیا 

اور اس قرض اور سود کو لینے کے بہانے ان بینکرز نے کہا کہ ہم پیراگوئے کی سرکاری زمینیں بیچیں گے 
زمینیں خریدنے میں چار کمپنیاں سامنے آئی 
برطانیہ کے لوپیز بوش اور گیجو خاندان جنہوں نے بیس لاکھ ہیکٹر زمین خریدی 
سپین نے کارلوس کاساڈو نے پچاس لاکھ ہیکٹر زمین خریدی
میٹ لارنیگرا جو برازیل کی کمپنی تھی لیکن پیچھے وہی برطانیہ کے یہودی بینکرز تھے انہوں نے چائے کی پتی والے باغات پر قبضہ کرلیا اور مقامی لوگوں سے زبردستی مزدوری کرواکر باغات کا منافع لندن بھیجا گیا ان بینکرز کو 
اینگلو پیراگوئین لینڈ کمپنی یہ بیرنگ برادرز کی کمپنی تھی جنہوں نے پندرہ لاکھ ہیکٹر زمین ہتھیالی اور انہوں نے ایسے ہی چھوڑ دی تاکہ مستقبل میں جب ملک ترقی کرے آبادی بڑھے تب مہنگے داموں فروخت کی جاسکے 

جب ملک جنگ سے فارغ ہوا تو اٹھائیس عورتیں اور ایک مرد کا تناسب رہ گیا 
تعداد بڑھانے کے لیے ایک مرد سے کئی کئی عورتوں کی شادی کروائی گئی ،یہ ان کے مذہب کے خلاف تھا لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے سب مذہبی رہنما خاموش رہے 
عورتیں نے ہی تمام معیشت سنبھالی ،کسان ،دکاندار ،تاجر ہر فیلڈ میں عورتوں نے ہمت دکھائی اور ملک کو دوبارہ پیروں پر کھڑا کردیا۔




عورتوں نے اپنے تمام زیورات ،جمع پونجھی جو جو کچھ تھا ان کے پاس انہوں نے حکومت کو دے دیا 
اس میں کافی کچھ دردناک ہے لیکن تحریر کا اختتام کرتے 
۔
قرض اور سود یہودیوں کا سب سے بڑا ہتھیار رہے ہیں جو لوگ یقین نہیں کرتے میری تحریروں پر کہ یہودی اتنے طاقتور کیسے ہوسکتے کہ وہ ملک کے ملک اپنے بس میں کرلیں 
وہ صرف اپنے پاکستان کو دیکھ لیں جو آئی ایم ایف کے قرضوں تلے دبا ہے حالانکہ اس کو قرضوں کی ضرورت نہیں تھی لیکن ایسے حالات بنائے گئے تھے کہ یہ قرضے میں ڈوبے اور آنے والے وقتوں میں کوئی مزاحمت نہ کرسکے آج پاکستان کی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ قرضے یہودیوں کا ہتھیار ہیں 
۔
Some Coppyed by ✍️ Irfan Opal 

Wednesday, 11 March 2026

جب تک ظلم کو برداشت کرینگے ہم پر مزید ظلم اسی طرح ڈھایا جائیگا افسوس سے احتیاط بہتر ہے


مطلب ظالم ظلم سے باز نہیں آنے والا کیونکہ جب کسی کے ہاتھ ✋ میں جبر کا لکیر پڑا ہو یا کسی کے پیٹ میں حرام کا لقمہ چلا گیا تو نہ وہ کھانے سے کتراتا ہے اور نہ ظلم کے بدلا جا سکتا ہے

مزید پڑھیں

 اب یہ صاف ہوتا جارہا ہے ان لوگوں سے کسی نے ایسا معاہدہ کیا جسے عوام کی کوئ پرواہ نہیں صرف اپنا سوچتے ہیں اور وہ ہیں زرداری شہباز ایم کیو ایم بی این پی اے این پی جے ہو آئ کیونکہ انہوں نے ملکر پچیس کروڑ عوام کو روند ڈالا اب چاہے یہ لوگ جو کہیں بے معنی ہوگی پاکستانیو ان تمام گینگ سے کوئ بھی امید کی جاسکتی ہے خدارا اپنے پیارے وطن کا سوچیں کیونکہ جب وحشت عروج پر تو وہشی پن مزید ابھرتا ہے اب مجھے بھی کچھ محسوس ہو رہا ہے

مزید پڑھیں ✋

 عمران خان صحیح راستے پر گامزن تھا ہاں اگر ان لوگوں کا سیاسی مقابلہ صرف عمران خان سے ہوتا تو پچیس کروڑ عوام پر ایسے غضب ناک نہ ہونے انکا شکار پورا پاکستان اور پوار قوم ہے ہوشیار رہنا پچتانے سے بہتر ہے اور ہوشیاری صرف اپنے لیئے نہیں ملک پاکستان کیلئے کرنی ہوگی کیونکہ گند آپکے گھر کے سامنے جتنا زیادہ بڑھ جائے ایک نہ ایک دن انشااللہ وہ صاف کیا جاسکتا ہے مگر گندھ کی وجہ سے گھر 🏠 کو چھوڑا یا توڑا نہیں جاسکتا ہمارا گھر ہماری جنت ہے ملکر اسے ہمیں ہی صاف رکھنا ہے اگر ہم سے نہ بھی ہو تو ہمارے آنے والے نسلیں انہیں ان گند سے ضرور پاک کر دینگے مگر گھر کی حفاظت کرنا ایسا ہی سمجھیں جیسا کہ شیطان کو دل سے دور رکھنا ہو دو ہزار بائیس سے لیکر دو ہزار چھبیس تک جو کچھ پاکستان میں یہ سب چیزیں چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں

مزید پڑھیں 😥


 یہ لوگ کبھی خود کے خیر خواہ نہیں ہوئے پاکستانی قوم سے کیسے خیر خواہی کی توقیر کی جاسکتی ہے اگر یہ پی ڈی ایم دو ہزار بائیس میں سب نے ملکر پاکستانی قوم اور ملک کے بھاگ ڈور سنبھالا انہیں اپنے کھودے گئے گڑھے صاف صاف نظر آرہے تھے اگر آپس میں اتحاد نہ کی تو وہ انکے کھودے گڑھے میں یہ خود ہی دفن ہو جاتے اور انکا دفن ہونا ہی یقینی تھا کیونکہ اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر ملک پاکستان اور اسمیں بسے 25 کروڑ عوام کو پس پشت ڈال کر دل پر پتھر رکھ کر انہوں نے یہ فیصلہ لیا تاکہ ہماری جانیں جائیدادیں انٹرنیشنل جاگیریں اور بینک 🏦 بیلنس محفوظ رہ سکیں اور انہوں نے کسی تھرڈ پارٹی کی کاوشوں سے اپنی رنجشیں بھلا کر 50 سال کیا گیا

مزید جانیئے کیلئے کلک کریں


 جمع شدہ دولت کو بچانے کی ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر پاکستان پر قابض ہوئے اور خوبصورت پاکستان کو ایسی دلدل میں دھکیلا شائید نکلنا بہت مشکل ہو مگر یہ لوگ حرص و لالچ میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں

مزید جانیں اور پڑھیں

 انہیں کچھ دکھائ نہیں دیتا اور یہ نہیں جانتے اس روح زمین پر جب تک اللہ تعالیٰ کا نام لیوا ہیں تو انہیں خوشی خوشی اس ملک اور قوم کے خون پسینے کا حساب ہر صورت دینا ہوگا اگر خود دیں یا انکی نسلیں مگر حساب تو ہوکر ہی رہیگا جلد یا بدیر ان سے ہر ظلم کا حساب لیا جائے گا انشااللہ



 

Friday, 6 March 2026

تاریخ سر جھکانے والوں نے نہیں سر کٹوانے والوں نے لکھا ہے کیونکہ موت بھاگنے والوں جلد اور جہاد کرنیوالوں کو دیر سے پہنچتا ہے



یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بشمول دنیا کے آنکھوں پر ایسا کس کر پٹی باندھا گیا انہیں یہ سمجھ تک نہیں آریا ایران کا یہ حکمران جماعت اسلامی دنیا کا ایک مظبوط باڑھ ہے امر یکہ اور اس را ئیل 45 سال سے اس مضبوط باڑھ کو اس لیئے توڑنے میں لگا ہے جب تک اسلامی دنیا کا یہ مضبوط قلعہ ڈھایا نہیں گیا تب تک عرب دنیا کا فاتح ہونا ناممکن ہے مگر یہ اسلام کے ام ری کی اور اس را ئ یلی نوکر کب سمجھے گے اگر میں سمجھ رہا


مزید پڑھیں

 تو انہیں کیوں نہیں سمجھ آرہا اس را ئیل نے پانچ سے سات دہائیاں اسی جنگ میں گزارا فلسطیں پر قبضہ کیا جا سکے لیکن ستر سالوں کی بے دریغ خون خرابہ کے باوجود نہ ہو سکا زرا نہیں کچھ زیادہ سوچیں عی سا ئ اور صی ہو نی جتنے بھی کوشش کررہے ہیں وہ سب رائیگاں چلا گیا کیونکہ اسکے ہر بنائے گئے منصوبے انہی ایرانیوں نے خاک میں ملا دیئے امر ی کہ نے گلف کنٹریز میں ایک ایسا باؤلا کتا 🐶 پال رکھا ہے تاکہ کبھی بھی عرب دنیا کو ام ری کی مفادات کے خلاف آپس میں ملکر ضرب لگانے فرست ہی نہ ملے اگر خدا نخواستہ ایران میں انقلاب کے سائے میں پلنے والا یہ جماعت کلعدم ہو چکا تو انگلی باری پاکستان کی ہے کیونکہ بغل میں بیٹھے منافق سب سے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جیسا کہ میں پانچ سال پہلے افغانستان کے متعلق کہا تھا طالبان کو فتح ملنے کے بعد آمری کہ یہ جان گیا تھا 

مزید پڑھیں اور جانیں

جب تک پاکستان اور طالبان کو کسی نہ کسی طرح آپس میں لڑانا ہی سب سے بڑی فتح ہوگی اور طال بان کو ساتھ ملا کر پاکستان سے جان چھڑوانا جاسکتا ہے اب اگر ایران کے ساتھ بھی یہی ہوا تو زرا سوچیں ہمارے ساتھ کیا ہوگا لیکن اسوقت سمجھنے میں بہت دیر ہو چکی ہوگی ابھی بھی وقت ہے مندروں گرجا گھروں اور چرچوں میں پڑھنے والوں پر نہیں مسجدوں میں اپنے رب کے نام لیواوں پر یقین کرنا سب سے بہترین تدبیر ہے یہ سب جاننے کے بعد کہ ہمارے ساتھ ایسا ہونے والا ہے تو اس سے پہلے خوددار اور مضبوط لائحہ عمل کیوں ترتیب نہیں دیا جارہا کس لیئے اپنے گردن پر چھری چلوانے کی انتظار کررہے ہو اور دوسرے بھائ کی موت پر خاموش رہنے والا چاہے جتنا بھی خاموشی اختیار کریں یا جتنے بھی چشم پوشی کی جائے اسکی زندگی کسی بہادر سے پہلے ختم ہونے کی نشانی ہے 46 سال میں کتنے مسلمانوں کو امر ی کہ اور اس را ئیل نے ملکر تہس نہس کی اور وہ بھی اکثریت انہی کے ساتھ ملے ہوئے حکمرانوں کے اور وہ بھی یہی سوچ رہے تھے

حقیقت سے دور نہیں قریب دیکھیں

 اگر ہم امر یکہ اور اس را ئیل کے ساتھ دوستی کر لیں ہم بچ سکتے ہیں مگر وہ نہ بچ سکے بڑی آسانی سے انہیں نشانہ بنایا گیا امر یکہ اور اس را ئیل کے آنکھون میں 45 سے کھٹکنے والے ایران کے خلاف ہمیشہ سے پابندیاں عائد تھیں اسے ہر طرح سے کمزور کرنے کی کوشش کی بھومی اور پیاسا رکھا مگر یہ بہادر قوم نے سر جھکا کر جینے سے سر کٹوانا پسند کیا انہیں کے ٹکڑوں پر پلنے سے بھومی مرنے کو ترجیح دی انہی کے غلامی سے آزاد مرنے کو گلہ لگایا مگر دنیائے اسلام کے باقی تمام مسلم ممالک امریکہ اور اس را ئیل کے سامنے جھکے اور اپنے اللہ کو خوش رکھ کر آخرت میں اسے خوشی خوشی ملنے سے باطل قوتوں کو عظیم سمجھا ہمیشہ کیلئے موت سے ایک بار مرنے کو پسند کیا اور اپنے دھرتی کو ناپاک ظالموں کو اپنے ہاتھوں سے خوش آمدید کرنے کے بجائے خون میں ڈبو کر آنے کئے مزاحمت کا راستہ چنا اور خواب غفلت میں موت آنے کے انتظار سے شہادت کو ترجیع دی مگر سر جھکا کر دنیا میں چلے جانے سے سر کٹواکر دنیا کو خیرباد کہا کیونکہ تاریخ سر جھکانے والوں نے نہیں سر کٹانے والوں نے لکھا ہے



Thursday, 5 March 2026

Tribalnews1: کینسر کے موذی مرض کا شافی علاج اور طریقہ کار

Tribalnews1: کینسر کے موذی مرض کا شافی علاج اور طریقہ کار: جس دھماسہ بوٹی سے میں نے دو مہینوں میں آخری سٹیج ۵۰% کینسر ختم ہوتے  دیکھا ہے وہ ہرے رنگ کا پاؤڈر ہے جو تازہ بوٹی توڑ کر صاف کرکے سکھاکر پسو...

کوہ سلیمان نادرا سنٹر فاضلہ کیلئے

 
کوہ سلیمان فاضلہ کا نادرا سنٹر کا سامان تونسہ شریف منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ خبر سن کر دل بہت دکھی ہوا، کیونکہ اس فیصلے سے ایک بار پھر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ہمارے کوہ سلیمان کے عوام کا کوئی حقیقی پرسانِ حال نہیں۔
ہم سمجھتے تھے کہ بی ایم پی (BMP) ہمارے عوام کی محافظ ہے، لیکن افسوس آج وہ بھی ہمارے کوہ سلیمان کے عوام کے خلاف کھڑی نظر آتی ہے۔ جب محافظ ہی ساتھ چھوڑ دیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی فریاد کس سے کریں؟
کوہ سلیمان فاضلہ کا نادرا سنٹر لے جایا گیا ہے، کل کوہ سلیمان بارتھی کا نادرا سنٹر بھی لے جایا جا سکتا ہے۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو ہمارے علاقوں کے لوگ مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔
لیکن میرے پیارے دوستو!
میں آپ سب کو ایک اہم اور مخلصانہ مشورہ دینا چاہتا ہوں۔
👉 ان عارضی چیزوں پر لڑائی جھگڑا نہ کریں، اس میں نہ ہمارا فائدہ ہے اور نہ ہی ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے۔ لڑائی میں ہمیشہ نقصان عوام کا ہی ہوتا ہے۔
🔴 حل کیا ہے؟
آج کے دور میں الحمدللہ نادرا ایپ ایک بہت بڑی سہولت ہے۔
میں خود یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کر چکا ہوں اور استعمال بھی کر رہا ہوں، اور یہ واقعی بہت کارآمد ہے۔
📱 نادرا ایپ کے ذریعے آپ:
✔️ شناختی کارڈ بنوا سکتے ہیں
✔️ بچوں کا پیدائش سرٹیفکیٹ (B-Form) بنوا سکتے ہیں
✔️ مختلف نادرا فارم جمع کر سکتے ہیں
✔️ کئی دیگر سہولیات گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں
یہ ایپ Play Store پر موجود ہے۔
اب نادرا سنٹر جا کر لائنوں میں کھڑے ہونے، سفر کے خرچے اور وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔
👉 گھر بیٹھے اپنا کام خود کریں، باعزت طریقے سے۔
میری آپ سب سے عاجزانہ اپیل ہے کہ
🔹 نادرا ایپ ضرور انسٹال کریں
🔹 اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور گاؤں والوں کو بھی اس بارے میں آگاہ کریں
🔹 اگر میرا یہ مشورہ آپ کو اچھا لگا ہو تو اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ہر گھر تک یہ بات پہنچ سکے

کوہ سلیمان پسماندہ کیوں تمن بزدار تمن کھوسہ تمن لیغاری کے سربراہان کی غفلت یا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی



مزید پڑھیں سرزمین بلوچ ڈیرہ غازی راجن پور تونسہ شریف وہوا اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ساتھ دیدہ زیب بڑے بڑے چٹانوں اور اونچے سرسبز درختوں میں چھپے خوبصورت 
کوہِ سلیمان کے پہاڑ آج بھی پسماندہ کیوں؟
صوبہ پنجاب کے جنوبی کنارے پر واقع  کے مغرب میں پھیلا ہوا عظیم پہاڑی سلسلہ  صدیوں سے قدرتی حسن، معدنی وسائل سے مالا مال اور ثقافتی تنوع کا امین ہے، مگر افسوس ہے کہ یہ خطہ آج بھی ترقی تو دور یہ خطہ سوائے پنجاب کے حکمرانوں نااہلی سیاستدانوں اور پاکستان کے قبضے کے علاؤہ یہ سلیمانی خطہ سرکاروں اور سرداروں کے تابع رہنے کے باوجود جدید دوڑ میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

 سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اتنا اہم علاقہ مسلسل بدحالی اور محرومی کا شکار ہے؟ 🤔
سب سے بڑی وجہ حکومتی عدم توجہ ہے۔ جنوبی پنجاب خصوصاً قبائلی اور پہاڑی علاقوں کو ہمیشہ ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز کیا گیا۔ سڑکیں، ہسپتال، اسکول اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولتیں آج بھی بہت سے دیہات میں دستیاب نہیں۔ حتئ کہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے جانوروں کا بھوک اور پیاس سے اموات شروع ہو جاتے ہیں کیونکہ 2025 میں کوہ سلیمان میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے تمن بزدار زندہ پیر دالان تمن کھوسہ اور کئ علاقے پینے کیلئے پانی کے بوند کو ترس رہے ہیں اور غریب لوگ زندگی گزارنے سے پریشان ہیں اور بلوچ علاقے ہمیشہ سے سرکاری وسائل سے محروم رہے جب بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں تو ترقی کا سفر شروع ہی نہیں ہو سکتا۔ 


دوسری اہم وجہ جغرافیائی مشکلات ہیں۔ کوہِ سلیمان کا علاقہ دشوار گزار پہاڑوں، دور دراز بستیوں اور کمزور انفراسٹرکچر پر مشتمل ہے۔ یہاں تک پہنچنا بھی آسان نہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کم ہوتی ہے اور سرکاری ادارے بھی مؤثر انداز میں کام نہیں کر پاتے۔ نتیجہ یہ کہ لوگ آج بھی روایتی طرزِ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ 🏔️
تعلیم کی کمی بھی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ ہے اگر کہیں سکول کی دیواریں ہیں بھی تو وہاں پڑھانے کیلئے معلم صاحبان پڑھانے کے بجائے اپنے کاروبار کو ترجیح دیتے ہیں بہت سے علاقوں میں لڑکوں کے لیے بھی اسکول بہت کم ہیں جبکہ لڑکیوں کی تعلیم تو اکثر خواب ہی رہ جاتی ہے۔

کیونکہ کوہ سلیمان گرلز سکول سرے سے موجود ہی نہیں ہیں اگر کسی وڈیرے یا ملک کے گھر کے ساتھ ہو بھی تو وہ اسکا مسافر یا مال خانہ بنایا جاتا ہے جب تعلیم نہیں ہوگی تو شعور نہیں بڑھے گا، اور جب شعور نہیں بڑھے گا تو ترقی کا راستہ بھی بند رہے گا۔ 📚
اس کے علاوہ یہاں کے قدرتی وسائل کا درست استعمال بھی نہیں ہو سکا۔ اس خطے میں معدنیات، چراگاہیں اور سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں، مگر منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے یہ سب وسائل ضائع ہو رہے ہیں۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر کام کریں تو یہی علاقہ معاشی طور پر مضبوط بن سکتا ہے۔لوکل عوام کے ساتھ ساتھ حکومت پنجاب اور مرکز کو بھی بہت کچھ دلا سکتا ہے سب سے پہلے کوہ سلیمان میں روڈ انفراسٹرکچر سب سے بنیادی ضروریات ہے 
ایک اور مسئلہ قبائلی نظام اور غربت کا چکر ہے۔ غربت تعلیم کو روکتی ہے، تعلیم کی کمی روزگار کو محدود کرتی ہے، اور محدود روزگار غربت کو مزید بڑھاتا ہے۔ یہ ایسا دائرہ ہے جو کئی نسلوں سے چل رہا ہے۔ 🔄
ضرورت اس بات کی ہے کہ جنوبی پنجاب اور خصوصاً کوہِ سلیمان کے علاقوں کو خصوصی ترقیاتی پیکج دیا جائے۔ بہتر سڑکیں، معیاری تعلیم، صحت کی سہولتیں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ خطہ نہ صرف خود ترقی کرے گا بلکہ پورے ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ 🇵🇰
کوہِ سلیمان آج بھی خاموش ہے، مگر اس کی خاموشی میں ایک سوال چھپا ہے —
کیا یہ علاقہ ہمیشہ محروم رہے گا، یا کبھی اس کی قسمت بھی بدلے گی مگر کوہ سلیمان کے خوبصورت اونچے اونچے پہاڑوں سر سبز چراگاہوں آسمان سے ٹکراتے ہوئے گھنے درختوں غربت میں پسے بلوچ لوگوں تعلیم صحت صاف پانی روڈ سمیت تمام بنیادی محروم کوہ سلیمان دنیا کے ترقی یافتہ قوموں سے 1000٪ اس لیئے بہتر ہے کوہ سلیمان میں قتل چوری زناء بالجبر سمیت یہاں آج تک کسی قسم کا کوئ اجتماعی ایسی چیز نہیں بطور قوم یا بطور کوہ سلیمان بدنامی یا ظلم کا سبب مہیا کرے اگر کہیں انفرادی ایسے واقعات رونما ہو بھی جائے تو جلد سے جلد اہل علاقہ کے 

عوام اسکی ہر قسمی سدباب کی کوشش میں لگے رہتے ہیں تاکہ ایسا کوئ دوسرا واقع رونما نہ ہو اور زیادتی کرنے والے کو جتنا جلد ممکن ہو ایسے لوگوں کو کوہ سلیمان کے بلوچ بہت کم برداشت کرتے ہیں اگر ایسے لوگ عدالت سے بھاگنے یا چھپنے کی کوشش کریں اہل علاقہ اسے علاقہ بدر ہونے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ کوہ سلیمان میں گورنمنٹ کا رٹ کسی طرح چیلنج نہ ہو اور بدامنی کو ہوا دینے والے عناصر کسی طرح قابل قبول نہیں 


Tuesday, 3 March 2026

ہمیں اپنے ایمان بچانے کیلئے اللہ تعالیٰ چودہ سو سال پہلے بتایا تھا وہ کیسے جانیئے اس رپورٹ میں

لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگر ہیں تو نام کے مسلمان مگر پھر مسلمان بھائیوں میں بالکل نہیں کیونکہ ہم نے ہمیشہ کف ار کے کہنے پر عمل کیا کفار لکھے گئے ہر الفاظ کو صحیح مانا اور کفار کے ہر پیشن گوئی کو سچ سمجھا افسوس نہ ہم قرآن مجید کے پیشن گوئی کو سچ سمجھتے 

 

مزید پڑھیں

ہیں نہ ہم حدیث پاک پر یقین کرتے ہیں کیونکہ جو قرآن مجید اور حدیث پاک نے بتایا پہلی اور آخری لکیر وہی ہوگا اگر ہم میں زرہ برابر بھی ایمان موجود ہو تو یہ سب کفار کا ازل سے مضبوط چال ہے جسے وہ بہت چالاکی سے مسلمانوں میں بچھاتے ہیں اور ہم اندھے بہرے مسلمان بلا دھڑک اس پر یقین کرتے ہوئے اس پر عمل کرتے ہیں کیونکہ واشنگٹن پوسٹ کہاں سے چھپتا ہے کیا کسی نے آج تک اسی واشنگٹن پوسٹ میں کسی امریکی حکومت یا کسی ادارے یا محکمے کے خلاف کوئ بیان دیکھا ہے بشمول اس را ئیل اور یورپ کے کسی بھی ممالک کا کوئ خاص موضوع جو مسلمانوں کے حق میں ہو اور مظلوم مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے مترادف سمجھا جائے ایسا کوئ بھی خبر آج تک اس واشنگٹن پوسٹ میں نہیں چھپا اب یہ واویلا واشنگٹن پوسٹ پر اسلیئے چھپوایا گیا

مزید پڑھیں

 تاکہ ہم نے جو جنگ کی چنگاری بھڑکادی اب اس چنگاری کو آگ میں تبدیل خود مسلمان کردیں ہم واپس اپنے گھروں میں لوٹ کر صرف دور سے تماشا دیکھیں اور مسلمان آپس میں ہمارے اس چنگاری کو آگ میں تبدیل کیئے جانے والے آگ میں جلتے رہیں جب سب راکھ بن جائیں تو پھر ہمارا کام بہت ہی آسان ہوجائیگا آپ سب جانتے ہیں 1980 میں عراق اور ایران کے مابین شروع کی گئ جنگ آخر کار 1988 میں ختم ہوئ اور یہ بھی جانتے ہونگے یہ جنگ شروع کس کے کہنے پر کی گئ اور پہلے عراق نے ایران پر حملہ کیا کیونکہ اسوقت یہی عراق کے صدر صدام حسین اسوقت امریکہ ایک اہم الائ کے طور پر جانا جاتا تھا اس آٹھ سال کے طویل جنگ میں عراق کو امریکہ نے ہر قسمی ہتھیار جہاز اور گولہ بارود فراہم کیا لیکن اس آٹھ سالہ طویل جنگ بغیر معنی خیز ختم ہوا کیونکہ امریکہ کو اس چیز سے کوئ سرو کار نہیں تھا عاق ایران پر قابض ہو یا ایران عراق پر امریکہ چاہتا تھا ان دونوں کی لڑائ میں ایک تو یہ کبھی ساتھ نہیں چلیں گے دوسرا انکے افواج میں اموات ملٹری کمزور ہو جب امریکہ نے اپنا احداف حاصل کی تو دو اے تین سال کے قلیل مدت گزرتے ہی امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا کیونکہ امریکہ انکے اندرونی معاملات کو اچھی طرح جان چکا تھا کہ اب عراق میں وہ پہلے جیسی طاقت نہیں رہی اسے مارنا بہت آسان ہے اور اسنے وہ کیا جو ہمیشہ سے کرتا چلا آرہا ہے اور پہلی عراق اور امریکی جنگ کا سبب عراق کا کویت پر حملے کو جواز بنایا گیا لیکن کویت پر حملہ بھی اسی امریکی منصوبے کا حصہ تھا مسلمانوں کا کمال اس بات پر ہے امریکہ  اس را ئیل یو رپ وغیرہ کی باتوں پر کیسے یقین کرتے ہیں کیونکہ 1400 سال پہلے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا اے مومنو کفار اور نصاری کو کبھی اپنا بھائ مت بناو وقت آنے پر یہ اپنا ہر قسمی دشمنی بھول کر مسلمانوں پر ملکر لڑتے ہیں لیکن ہم لوگوں نے اس چیز کا۔مشاہدہ اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے پھر بھی ہمیں خود کے آنکھوں پر بھی یقین نہیں آتا تو قرآن کریم کے آیات پر کیسے عمل پیرا ہوں آنا اللہ واناالیہ راجعون 



جب ایمان تاریکیوں میں گم جائے دماغ کی نالیاں بند ہوں آنکھوں پر پٹی بندھی ہو کانوں میں روئ ٹھونس دی جائیں دل پر خوف بٹھایا جائے ایمان کو شراب و شباب یا لالچ میں ڈھانپا جائے تو مسلم دنیا صرف ایک جملہ تصور ہوگا استغفراللہ اللہ اکبر کبیرہ

Monday, 2 March 2026

دین محمدی صرف شمشیر سے نہیں تو کیسے پوری دنیا میں پھیلا دیا گیا پڑھنے کیلیے کلک کریں

کیا آپ جانتے ہیں اس روح زمین پر اسلام نے جس تیزی سے پھیلا اسکی بنیاد کیا تھے اور اب جس تیزی سے مغدوش ہوتا چلا جارہا اور اسکی بھی کیا وجہ ہو سکتی اگر نہیں جانتے تو آئیے آج تھوڑا سمجھاتا ہوں آج سے تقریبا چودہ سو سال پہلے اس روح زمین پر اسلام بہت کم تھا کہیں کہیں بالکل تھی ہی نہیں جب ہمارے آقائے کائنات نے اسلام کا جھنڈا بلند کی تو اسوقت سوائے چند لوگوں کے اسلامی مجاہدین کے لشکر میں  بہت کم صحابہ کرام رضوان اللہ تھے اور وہ اسلام کی چنگاری کو مکہ معظمہ کے ریگستانوں میں بھڑکا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ چنگاری آہستہ آہستہ بھڑکتا چلا گیا دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی سائے نے پورے عرب کو بہت قلیل مدت میں اپنے لپیٹ میں لے لیا پھر آگے بڑھتے گئے پورے روح زمین پر ایک نور سا رونق افروز منظر ابھرا کوئ بارڈر کوئ ظالم کوئ طاقت اسکے سامنے ٹک نہ سکا اسکی سب سے بڑی وجہ انصاف کے معیار کو متوازن رکھنا پر کسی کے ساتھ ایک جیسا سلوک اسلامی قوانین کے مطابق کوئ کسی سے بڑا یا چھوٹا نہیں سمجھا جاتا کوئ امیر کو کسی غریب سے برتری حاصل نہیں تھا کسی سپہ سالار کو کسی عام انسان پر بلاجواز آف کرنے کی طاقت نہیں تھا 

کسی مسلمان کو کسی بھی غیر مسلم کا حقوق غصب کرنے کا اختیار نہیں تھا کسی امراء کو کسی فقیر پر ڈانٹنے کی طاقت نہیں رہا جب غیر مسلموں نے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے انصاف کو سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک دیکھ کر وہ جان گئے تھے یہی وہ واحد مذہب ہے جو ہمیں ہر قسمی غلامی سے آزادی دلا سکتا یہی وہ واحد مذہب ہے جو ہمیں ہمارا حق دلا سکتا ہے یہی وہ واحد مذہب ہے جسکے سائے میں کسی کو کسی سے برتری نہیں یہ سب دیکھنے کے بعد لوگ جوق در جوق اسلام کی طرف راغب ہوتے چلے گئے اور اسلام کو راہ نجات مان کر اسلامی جھنڈے ئنیچے ہمیشہ کیلئے اپنا مسکن چنا


 کیونکہ جنگوں سے زمینیں ضرور جیتی جاسکتی ہیں مگر ان جیت کو برقرار رکھنا بہت مشکل تھا اصل فتح تو دلوں کا ہے اور دلوں کو صرف کلمہ حق کا عالم بلند کرنے والے دلوں کو فتح کرسکتے ہیں ظلم اور جبر سے اگر کوئ بھی مذہب کے ماننے والے پھلتے پھولتے تو اس دنیا کی تاریخ میں آج تک فرعونوں کی حکمرانی ہوتی اگر ظلم اور جبر سے کوئ سلطنت قائم رہ سکتا تو آج تک اس دنیا پر صلیبیوں کی حکمرانی ہوتی اور مار دھاڑ سے دنیا پر کی گئی قبضہ برقرار رکھا جاتا تو منگولوں کا سلطنت جانے ایک تہائی دنیا پر قبضہ جمالیا مگر وہ آج کہاں ہے لیکن اس دنیا کو فتح کرنے کیلئے دلوں کا فتح لازم ملزوم ہے اور دلوں کو فتح صرف اور صرف اسلام کے وہ مجاھدین فتح کرسکتے ہیں



 جس کے اپنے دلوں میں دین محمدی کا پرچار ہو نور ایمانی سے انکے دلوں کی آنکھیں دیکھ سکتے ہوں مگر آج اسلام کا نام لیوا تو بہت ہیں لیکن اسلامی قوانین کو پس پشت ڈالا گیا ہے کوئ منافقت کا لباس پہنا ہوا ہے تو ڈر کا لبادہ اوڑھ کر ظالموں کے صف میں کھڑا ہے کیونکہ دنیا کی بربادی اب بہت قریب ہے اسلیئے مومن یا مسلمان بننے کیلئے ایمان ضرورت ہے لبادہ نہیں

اگر طاقت شمشیر میں ہوتی تو رومن امپائر اور منگول سلطنت کو کیوں زوال پزیر ہوئے اگر جاننا چاہتے ہیں تو تفصیل موجود ہے

اگر جنگوں سے ریاستوں میں امن آسکتا اگر جنگوں سے ریاست ہمیشہ قائم رہ سکتے اگر جنگوں سے عوام ریاست اور حکمرانی برقرار رہ سکتی اگر جنگوں سے تاریخ برقرار رہ سکتا تو رومن امپائر کیسے زوال پزیر ہونا ہمارے اسلامی دنیا کا سب سے مضبوط ایماندار بہادر امیر امیر المومنین نے فرمایا اگر جنرل ریاس

ت سے زیادہ طاقتور ہو تو اس ریاست میں زوال بہت قریب ہے جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں قدیم روم میں فوجی جرنیل اکثر مسلسل جنگوں کو ایک سیاسی اور سماجی ذریعہ کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے تاکہ عوام کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ فوج ریاست کی سب سے اہم طاقت ہے۔ اس وقت روم کے اندر غربت، بے روزگاری، اور معاشی عدم مساوات جیسے سنگین مسائل موجود تھے۔ اگر عوام ان مسائل پر زیادہ توجہ دیتے تو وہ حکومت اور اشرافیہ کے خلاف بغاوت یا احتجاج کر سکتے تھے۔ لیکن جب جنگ جاری رہتی تھی، تو عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹ کر فوج کی کامیابیوں اور ریاست کی طاقت پر مرکوز ہو جاتی تھی۔
فوجی جرنیل جنگوں کے ذریعے اپنی اہمیت کو ثابت کرتے تھے۔ جب کوئی جنرل کسی علاقے کو فتح کرتا، تو اسے ہیرو سمجھا جاتا تھا۔ فتح کے بعد روم میں بڑی تقریبات منعقد ہوتی تھیں جنہیں “فتح کا جلوس” کہا جاتا تھا۔ ان تقریبات میں جنرل اور اس کی فوج کو عوام کے سامنے پیش کیا جاتا تھا، مالِ غنیمت دکھایا جاتا تھا، اور قیدیوں کو بھی لایا جاتا تھا۔ اس سے عوام کے ذہن میں یہ تصور مضبوط ہوتا تھا کہ فوج ہی وہ طاقت ہے جو روم کو عظیم اور محفوظ بناتی ہے۔ اس طرح عوام کی توجہ غربت اور دیگر داخلی مسائل سے ہٹ جاتی تھی۔

مثال کے طور پر جولیس سیزر نے گال (Gaul) کی جنگوں میں مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔ ان فتوحات نے اسے عوام میں بے حد مقبول بنا دیا۔ عوام اس کی فوجی کامیابیوں سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اس کی سیاسی طاقت میں اضافے کو بھی قبول کر لیا۔ اس دوران روم کے اندر معاشی مسائل اور سیاسی بدامنی موجود تھی، لیکن فوجی فتوحات نے عوام کی توجہ ان مسائل سے ہٹا دیا۔

مزید یہ کہ مسلسل جنگوں نے عوام کو یہ یقین دلایا کہ فوج کے بغیر ریاست کمزور ہو جائے گی۔ جرنیل اس بات کو نمایاں کرتے تھے کہ دشمن ہر وقت موجود ہیں اور صرف ایک مضبوط فوج ہی عوام کی حفاظت کر سکتی ہے۔ اس خوف اور تحفظ کے احساس نے عوام کو فوج کی اہمیت تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔ نتیجے کے طور پر، عوام نے فوج اور جرنیلوں کی حمایت جاری رکھی، حتیٰ کہ جب ان کی اپنی معاشی حالت خراب تھی۔

رومن ریپبلک کے آخری دور میں فوج اور اس کے جرنیل اتنے طاقتور ہو گئے کہ وہ براہِ راست سیاست پر اثر انداز ہونے لگے۔ فوجیوں کی وفاداری اکثر ریاست کے بجائے اپنے جنرل کے ساتھ ہوتی تھی، کیونکہ جنرل انہیں جنگ کے ذریعے دولت، زمین، اور عزت دلاتے رہتے تھے۔ اس طرح مسلسل جنگوں نے نہ صرف فوج کی اہمیت کو عوام کے ذہن میں بڑھایا بلکہ جرنیلوں کو بھی سیاسی طاقت حاصل کرنے کا موقع دیا۔

آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلسل جنگیں صرف دشمنوں کو شکست دینے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی توجہ غربت اور اندرونی مسائل سے ہٹانے، فوج کی اہمیت ظاہر کرنے، اور جرنیلوں کی طاقت بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ تھیں۔ جنگوں نے عوام کو مصروف رکھا، قومی فخر پیدا کیا، اور فوج کو ریاست کا سب سے طاقتور اور قابلِ احترام ادارہ بنا دیا مگر یہ چیزیں ان لوگوں کیلئے اہمیت کا حامل ہیں جو صرف طاقت کیلئے لڑتے ہیں وہ امت مسلمہ کا کوئ بھی ایمان رکھنے والا سپاہی جو دل میں ایمان لیکر لڑتا ہے غازی یا شہید ہونے کا تمنا دل میں لیئے محاذوں پر اپنے فیملی اور اہل و عیال سے دور رہ کر صرف اپنے ملت اپنے عزت اپنے مقصد  اور اپنے حرمت کی غرض سے چاک و چوبند کھڑا رہتا ہے نہ انہیں کبھی طاقت کا لالچ رہا نہ انہیں کسی عہدے کی غرض نہ انہیں کوئ تخت سے سرو کار رہی وہ حقیقی مومن ہیں اور وہ ظالموں کیلئے موت اور مظلوموں کیلئے مضبوط سائبان تصور کیئے جاتے ہیں اور ایسے سپاہیوں کیلئے جو اس ملت کا حصہ ہیں چاہے مسلمان ہوں۔ یا غیر مسلم ملت کے لوگ ان کیلئے ہمیشہ دعاگو رہتے ہیں جیسا کہ حق کی خاطر اپنے شمشیر کو مظلوموں کیلئے ہمیشہ بے نیام کرنے والے سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی صلاح الدین ایوبی #نوردین زنگی جیسے مجاھدین نے ہمیشہ اسلام کا عالم بلند رکھا اور انمیں کسی چیز کی تفریق نہیں تھا ہمارے ساتھ رہنے والے کون ہیں انہوں نے ہمیشہ انصاف کو اپنا دائمی شیار بنایا اس لیئے انہیں مسلم لوگوں کے ساتھ ساتھ وقتا فوقتاً غیر مسلم بھی ساتھ رہے کیونکہ وہ لوگ دیکھتے اور جانتے تھے انصاف سے کی جانے والی حکمرانی میں ہمارا مال جائیداد عزت اور جانیں محفوظ رہیںگے 

Sunday, 1 March 2026

مسلمانوں نے اپنا راہ بہت جلد کیوں بدلا کیا آپ جاننا چاہتے ہیں تو مکمل تفصیل پڑھیں

جو آج ہمیں سکھایا پڑھایا کھلایا پلایا جارہا ہے یہ تمام کے تمام چیزیں دین محمدی سے مماثلت نہیں رکھتے یہ سب کچھ مغرب کی دی ہوئی زہر ہے جو اب ہمارے حون میں حوراک بن کر ابھرا اسلیئے آج امت مسلمہ بالکل بے بس ہوکر سر جھکائے بیٹھا ہے 



اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں جس شکل میں تھا، وہی قیامت تک کے لیے ہے۔ اسلام کی تعلیمات نہ پہلے بدلی تھیں اور نہ آج بدلی ہیں، کیونکہ قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ محفوظ ہیں۔ لیکن اگر ہم غور کریں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ آج کے مسلمانوں کے عمل اور پہلے زمانے کے مسلمانوں کے عمل میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ یہی فرق اصل میں اسلام میں نہیں بلکہ مسلمانوں کی زندگیوں میں پیدا ہوا ہے۔

پہلے زمانے میں اسلام صرف عبادات کا نام نہیں تھا بلکہ مکمل زندگی کا نظام تھا۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں سچائی، امانت، انصاف جہاد اور بھائی چارہ عام تھا۔ لوگ دین کو صرف مسجد تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ تجارت، سیاست، معاشرت اور اخلاق میں بھی اسلام پر عمل کرتے تھے۔ اس زمانے میں مسلمان کم تھے مگر مضبوط تھے،
کپڑے پھٹے تھے ایمان مضبوط تھا گھر کچے تھے ایمان پکا تھا مسلمانوں کی رحم دلی وجہ سے ہر مذہب کے لوگ مسلمانوں سے محبت کرتے اور اسلام میں داخل ہوتے تھے
 کیونکہ ان کے کردار میں اسلام نظر آتا تھا۔
وہ آج ہم مسلمانوں میں نہیں ہے جب ہمارا راستہ سیدھا ہے تو ہم بھتک کر دور جاکر گرے ہیں جب ہم مسلمان اسلام سے دغا کریں یا صراط مستقیم سے منہ موڑ لیں دوسروں کو اسلام کی تعلیمات دیں ہم خود جھوٹ بولیں دوسروں کو روکیں ہم خود رشوت لیں سود کھائیں ظلم پر گامزن رہیں تو دوسرے مذہب کو کیسے قائل کرسکتے ہیں اس لیئے آج ہم مسلمانوں نے خوبصورت اسلام کو بدنام کی ہے 
 لیکن اسلام آج بھی وہی ہے،جو 1400 سال پہلے مکمل ہوا لیکن ہم مسلمانوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ آج بہت سے لوگ اسلام کو صرف نماز، روزہ اور چند رسموں تک محدود سمجھتے ہیں۔ اخلاق، سچائی، برداشت اور عدل جیسے اصول کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے لوگ دین کے لیے دنیا چھوڑ دیتے تھے، آج اکثر لوگ دنیا کے لیے دین چھوڑ دیتے ہیں۔
پرانے زمانے میں علم کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ مسلمان علم، تحقیق اور انصاف میں دنیا کی رہنمائی کرتے تھے۔ آج بہت سے مسلمان علم سے دور ہو گئے ہیں اور آپس کے اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے کمزوری پیدا ہوئی ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ اسلام آج بھی مکمل اور سچا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ پہلے مسلمان اسلام پر چلتے تھے اور آج اسلام کو اپنے مطابق چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آج کے مسلمان دوبارہ سچائی، عدل، علم اور اخلاص کو اپنالیں تو وہی طاقت وہی عزت وہی عدل اور وہی جذبہ ایمان واپس آ سکتی ہے جو پہلے زمانے میں تھی۔ لیکن آج اس دور میں ہم صرف مسلمان ہیں مگر سینے میں زرہ برابر اسلام نہیں اسلام صرف عربی نام رکھنے سے نہیں ہو سکتا اسلام میں ہر وہ چیز شامل ہے جو انسانی اور کسی بھی جاندار کی زندگی کو ہر قسمی اور انہیں متوازن رکھا جاسکے لیکن آج ہم نے خود کو بھی متوازن رکھنے سے الگ رکھا صرف کاہلی لالچ خود غرضی بے اعتمادی جھوٹ جو برائیاں پہلے مسلمانوں کیلئے ہلاکت کا سبب بنا کرتے آج ہم اسے اپنا زندگی کا حصہ تصور کرتے ہیں کیونکہ ہم مسلمانوں نے قرآن مجید کی تعلیمات سے منہ موڑا انگریزی کو ترجیح دی ماں باپ سے نفرت اور سسر ساس سے محبت لیکن مسلمان ممالک میں سربراہ تو مسلمان ہیں مگر قوانین انگریزوں کے 






Friday, 27 February 2026

خود کو پانے انسان اللہ تعالیٰ کو ہر صورت پاتے ہیں الحمداللہ

تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں نے بنائے ہیں جو اپنے دل میں ایمان لیکر نکلتے ہیں دنیا پر ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد کیا جاتا ہے جنہیں دیں محمدی کا جذبہ پایا جاتا ہو اس فانی دنیا پر ظالموں کے دل میں دہشت کا علامت وہی لوگ بنتے ہیں جن کے دل میں عشق الہی بستا ہو آخرت میں درجات انہی لوگوں کا بلند رہتا ہے
 جو دنیا بسے کیڑے مکوڑے کی جان کو جان سمجھے قبر بھی انہی لوگوں کو دل سے خوش آمدید کہتی ہے جنہیں دنیا پر عام رعایا دل سے خوش آمدید کہا کرتا تھا فرشتے بھی انہی لوگوں کا استقبال کرتے ہیں جنہیں دنیا میں غریب لوگ ملنے کیلئے خوش آمدید کہا کرتے تھے ہمارے آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین اسے اپنا پسندیدہ امتی سمجھتا ہے جسے اس دنیا پر لوگ پسندیدہ سمجھا کرتے تھے حوض کوثر میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روز محشر انہی خوش نصیبوں کو شہد سے میٹھا دودھ سے سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا پانی ملتا ہے
 جو اس دنیا پر ہر خاص و عام میں فرق کیئے بغیر گھل مل کر بیٹھتا تھا اور انکے زخموں پر مرہم رکھتا تھا روز میزان اللہ تعالی کی رحمتیں بشمول ہم سب پر برستی ہیں مگر سب سے اس بندے سے محبت فرماتا ہے جو اس فانی دنیا پر ہر مظلوم کے ساتھ ملکر ظالموں سے لڑتا رہتا انکی ہر قسمی دشمنی کو مول لیتا تھا کیونکہ اعمال سے دنیا بھی بنتی ہے اور آخرت بھی سنور جاتا ہے اگر اس دنیا پر ہم لوگ صرف دولت عزت شہرت کیلئے جتنا جینے کی جنگ لڑرہے ہیں یہ صرف چند پل کا ایک خواب کے سوا کچھ نہیں اور ایسے لوگ چاہے حکمران ہوں یا عالم حافظ ہوں یا پیدائشی بزرگان دیں کے خاندانوں کے وارث یہ کچھ بھی کام نہیں آنے والا اگر آپکو اور مجھ سمیت کسی کو بھی اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کا شوق ہے آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کے امتی ہونے کا شرف حاصل کرنا ہے تو اس دنیا پر خود کو سب سے عاجز بنانا پڑتا ہے اسلامی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں


 آج کی گدی نشینوں کو نہیں انکے آباو اجداد کا مشاہدہ کرنے کیلئے آپکو سو سے چودہ سو سال پہلے جانا ہوگا اور وہاں سے افق کو چھونے والے تن اوار ان درختوں کو دیکھیں سوچیں کیا ہم اس دنیا سے جاتے وقت جب ہم اس خاکی زمین کے سپرد کیئے جائیں تو ہمارے ساتھ کیا ہوگا اور ہمارے پلے میں کیا ہے ہم یہاں سے کیا لیکر جارہے ہیں جو ہمیں دفن ہونے سے لیکر قیامت قائم ہونے تک کام آسکتا ہے اگر اکیلے بیٹھ کر صرف چند منٹ سوچیں تو سر چرانے لگ جاتا ہے  کیونکہ ہم اس دنیا فانی میں بیٹھ کر صرف خود کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں نہ کہ اپنے بھلائ کیلئے اگر جنت میں رہائش جو ہم سمجھ رہے ہیں اتنا آسان ہوتا تو سوچیں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران اسلام نے کیا کچھ برداشت نہیں کیئے ان پر کتنے مظالم ڈھائے گئے کیا اسنے کبھی آپنے زندگی کو آسان بنانے کیلئے کبھی آپنے رب سے کوئ شکایت کی کیونکہ وہ جانتے تھے اگر ہم اس دنیا پر سکون سے بیٹھ کر اللہ تعالی کے حکم کے برعکس کریں تو روز محشر ہم جوابدہ ہیں مگر ہم کیوں نہیں سمجھتے لیکن ہم سب جانتے ہیں قرآن مجید میں لفظ بہ لفظ ہمیں آگاہ رکھا اور ہماری رہنمائ کیلئے ہر مشکل کا آسان حل بتادیا لیکن ہم سمجھنے سوچنے اور دیکھنے سے اتنا عاری کیوں کیا ہمیں یہ دنیا سے اٹھایا نہیں جائیگا کیا ہم زمین کے ختم ہونے تک یہاں رہینگے لیکن ہم کمزور ہیں بہت سست ہیں مگر اللہ تعالی نے قرآن مجید ہمارے لیئے یہ پیغام (( اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم )) لکھ کر ہمیں سمجھایا کہ بیشک آپ سست ہونگے شیطان کا غلبہ شدید ہوگا مگر مدد آپ طلب کریں میں آپکو رسد ضرور پہنچاونگا لیکن ہم اتنے سیاہ دل کے مالک بن گئے ہیں 
 اپنے رب سے مدد طلب کرنے کی فہرست تک نہیں نہ ہمیں اللہ تعالی کے غضب کا کبھی خوف رہا اگر کوئ بھی مسلمان زرہ برابر بھی اپنے اللہ سے محبت یا خوف رکھتا ہو تو نہ ظلم کا راستہ اختیار کرتا ہے نہ کسی سے بغض رکھتا ہے نہ کسی کی جان ومال سے حشر کرتا ہے اور نہ کسی امراء کے دولت سے مانوس ہوتا ہے اور نہ وہ اپنے غربت سے پریشان کیونکہ جس دل میں نور ایمانی کا چراغ جل رہا ہو وہ کبھی وسوسے نہیں کرتا اور وہ جانتا ہے 
 👉لاغالبا اللہ 👈 
بیشک اللہ تعالی ہر چیز پر غالب ہے

Tuesday, 24 February 2026

دعا گو ہوں اللہ تعالی مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین

اسلام علیکم صبح بخیر

ایک نہ ایک دن ہم سبکو قصہ پارینہ بننا ہے موت سانسوں سے بھی قریب رہتا ہے کچھ پتہ نہیں کب اور کس وقت دبوچ لیتا پے مگر صرف یادیں رہ جاتی ہیں انسان غلطی کا کتلا ہے مگر معاف کرنے والے رحمن سے کبھی ناامیدی نہیں کی جاسکتی سفید ٹوپی اور کالا جیکٹ پہنے سفید ریش انسان کبھی اس دنیا میں جناب عالی عزت مآب جیسے القاب سے نوازے جاتے تھے آج مرحوم دفعدار احمد خان جلالانی لکھا اور پکارا جائے گا کیونکہ یہ دنیا کی فطرت ہے کہ ہم عام تمام لوگ یہ کہیں لیکن آپنے بھی یہی کہتے ہیں اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے کیونکہ ہم جانے والوں پر منحصر ہے اگر اس دنیا میں رہ کر اپنے لیئے لڑیں تو ہم بہت کچھ پاکر اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اگر ہم اپنے مستقبل کیلئے کوشش کریں یقیننا دنیائے فانی سے جاتے ہوئے خود کو بھی بہت بڑے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہم طاقت میں مغرور ہوتے ہیں دولت میں مدہوش اور ہم یہ نہیں سمجھتے کہ سب چیزیں عارضی ہیں یہ دولت یہ طاقت یہ عہدے حتی کہ اپنی جان مگر سمجھنے میں ہمیں اگر مشکلات نہ آتے تو یقیننا ہم فائدے میں ہوتے کیونکہ کسی کی پرواہ کیئے بغیر اپنے روح کو زندہ رکھنا ہے نفس کو مار کر اگر نفس کو زندہ رکھیں گے تو روح مارا جائیگا اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے ہم نفس کو زندہ رکھ کر روح کو مار دیتے ہیں اگر ہمیشہ کیلئے امر ہونا ہے تو ابھی سے پڑھیں
اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم @
بسم اللہ الرحمن الرحیم @ 

@ آنا فتحنا الک فتح االمبین 


ہم اکثر لوگ فتح خود سے چاہتے ہیں

مزید تفصیلات

 مگر ہم ہمیشہ شیطان کے ساتھی اپنے نفس کا غلام بنے رہتے ہیں کیونکہ ہم ایک ایسے مذہب کے پیروکار ہیں الحمداللہ زندگی کے آخری سانس تک اگر اپنے رب سے توبہ کریں معافی کا طلبگار بنیں یقین جانیں تم ایسا ہو جاوگے جیسا کہ پیدا ہی ابھی ہوئے ہو غلطیاں تو ہم سے ضرور ہوتی ہیں مگر یہ جان لو جب واپس پلٹو گے تو میرا ایمان اگر ہم دیکھنے کے قابل ہوتے تو یہ دنیا اور آخرت میں ہمارے کی گئ توبہ سے اللہ تعالی چراغاں روشن کرتے فرشتوں کو پکار کر کہتے ہے آپ گواہ ہیں میرے فلانے بندے نے توبہ کی میں نے انہیں معاف فرمایا کہنے لکھنے کا مقصد دفعدار احمد خان جلالانی کو میں قریب سے جانتا تھا بیشک انسان میں ہزار کمی کوتاہیاں ہونگے لیکن ہمیشہ  صاف دل خوش اخلاق میں پیش پیش رہا 

مزید تفصیلات

جب طبیعت میں بگاڑ پیدا ہوا تو عمرہ پاک کی سعادت حاصل کی اور بہت زیادہ اللہ تعالی سے قریب ہونے کی کوشش میں لگا رہا اور دل ہی دل میں ٹوٹ چکا تھا اور اپنے رب کی رحمتوں سے امید رکھتا اور یہی کہتا بس دعا کریں اللہ تعالی ہمیں معاف فرمائے اور روز محشر آقائے دو جہاں رحمت اللعاالمین کی شفاعت سے بہرامند فرمائے آمین


Saturday, 31 January 2026

رمضان المبارک میں 10000 کیش اور راشن کیسے مل سکتا ہے بہت آسان

اہور : رمضان المبارک میں عوام کو 10,000 روپے کیش دینے کا اعلان کردیا گیا، مستحقین بینک آف پنجاب کے برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس اور ون لنک نیٹ ورک سے منسلک کسی بھی ATM سے رقم نکلوا سکیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کی تاریخ کے سب سے بڑے "رمضان نگہبان پیکیج” کی حتمی منظوری دی، 47 ارب روپے کے اس بھاری بھرکم ریلیف پیکیج سے پنجاب کے تقریباً ایک کروڑ افراد مستفید ہوں گے، جس کا مقصد مقدس مہینے میں مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔

پنجاب کے 42 لاکھ مستحق خاندانوں کو فی خاندان 10,000 روپے فراہم کیے جائیں گے جبکہ راشن کارڈ ہولڈرز کے لیے ماہانہ امداد 3,000 روپے سے بڑھا کر 10,000 روپے کر دی گئی ہے۔


حکومت کی جانب سے 20 لاکھ سے زائد ‘نگہبان کارڈز’ جاری کیے جائیں گے، جن کے ذریعے نقد رقم کی وصولی اور اشیائے ضروریہ کی خریداری ممکن ہوگی۔

مستحقین بینک آف پنجاب (BOP) کے برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس اور ون لنک نیٹ ورک سے منسلک کسی بھی ATM سے رقم نکلوا سکیں گے۔

مزید پڑھیں : رمضان میں خریداری کرنے والوں کےلیے بڑی خبر

صوبے بھر میں کارڈز کی فعال سازی کے لیے 136 مراکز قائم کیے جائیں گے۔

وزیرِ اعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ خود گھر گھر جا کر مستحقین کو نگہبان کارڈز پہنچائے تاکہ عوام کو لائنوں میں نہ لگنا پڑے۔

اس کے علاوہ ہر تحصیل میں 8 "نگہبان دسترخوان” قائم کیے جائیں گے جہاں روزانہ 2,000 افراد کو باعزت طریقے سے افطاری کرائی جائے گی۔

صوبے کے 30 اضلاع میں 65 سہولت بازار فنکشنل رہیں گے، جبکہ دیگر مقامات پر عارضی بازار لگائے جائیں گے۔

پورے عمل کی مانیٹرنگ کے لیے ایک "رمضان نگہبان ڈیش بورڈ” تیار کیا گیا ہے، حکام کارڈ ہولڈرز کو کال کر کے امداد کی وصولی کی تصدیق کریں گے تاکہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی کا سدِباب ہو سکے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک میں کوئی بھی مستحق خاندان خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔ ہم دکھ سکھ میں غریب عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

رمضان نگہبان میں دس ہزار وصول کرنا اب اور بھی ہوا آسان


Friday, 30 January 2026

کوہ سلیمان؟؟ چوکیوالا سے چھپر روڈ کا کام گزشتہ دو سال بند کیوں جانیئے اس رپورٹ میں



بینظیر انکم سپورٹ میں 8 سے بائیس کے طالبات کیلئے رجسٹریشن کا عمل شروع جاننے کیلئے ڈیسک انفارمیش

لہور)ا( ٹرائیبل نیوز) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے 8 سے 22 سال کے طلبہ کیلئے تعلیمی وظائف کی رجسٹریشن کا آغاز کر 
دیا ہے۔
 👇مزید 
http://tnnurdu.blogspot.com 

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے ملک بھر میں تعلیمی وظائف کیلئے رجسٹریشن کھول دی ہے جس کا مقصد کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں سہولت فراہم کرنا اور باصلاحیت طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

حکام کے مطابق والدین یا سرپرست اپنے بچوں کو قریبی بی آئی ایس پی دفتر میں رجسٹر کرا سکتے ہیں، رجسٹریشن کے لیے بچے کا بی فارم اور ایسا موبائل نمبر لازم ہے جو پہلے سے بی آئی ایس پی میں درج ہو، متعلقہ افسر اندراج مکمل کرنے کے بعد ایک پرچی جاری کرے گا جو بچوں کے اسکول میں تصدیق کے لیے جمع کروانی ہوگی، تصدیق کے بعد یہ پرچی دوبارہ بی آئی ایس پی دفتر میں جمع کروائی جائے گی۔

تعلیمی وظائف کے لیے وہ بچے اہل ہونگے جن کی والدہ بینظیر کفالت پروگرام میں شامل ہو، عمر کی حد پرائمری کے لیے 8 سے 18 سال، سیکنڈری کے لیے 13 سے 22 سال مقرر کی گئی ہے، طلبہ کے لیے اسکول میں کم از کم 70 فیصد حاضری لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ اسکول کی تبدیلی کی صورت میں بی آئی ایس پی کو آگاہ کرنا ضروری ہوگا۔

ذرائع کے مطابق وظائف کی رقم 3 ہزار سے 5 ہزار روپے تک ہوگی جبکہ پرائمری تعلیم مکمل کرنے والی طالبات کو اضافی 3 ہزار روپے بطور خصوصی ترغیب دیے جائے گے، بی آئی ایس پی کے مطابق یہ اقدام نہ صرف تعلیم کے فروغ بلکہ بچیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کرے گا۔


Saturday, 27 December 2025

قائد اعظم محمد علی جناح کے آخری لمحات جو قوم کیلئے ہمیشہ باعث ندامت رہیگا

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح صاحب کے آخری لمحات کی منظر کشی جو کتابوں میں لکھی جا چکی ہیں 💔
اسٹینلے ولپرٹ (Stanley Wolpert) ایک نامور امریکی ماہرِ تعلیم،مورخ اور مصنف تھے،جنہیں برصغیر پاک و ہند کی تاریخ اور خاص طور پر قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی پر ان کی تحقیق کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل ہوئی تھی ۔
انہوں نے Jinnah of Pakistan نامی کتاب لکھی جس میں انہوں نے بہت واقعات درج کئے ہیں ۔
کچھ صفحات آپ کے سامنے رکھتے ہیں ۔

"فاطمی مجھے اب زندہ رہنے میں دل چسپی نہیں ہے۔
جتنا جلد میں چلا جاؤں اتنا ہی بہتر ہے۔
اس سے اب کوئی فرق نہیں پڑتا میں زندہ رہوں یا مر جاؤں۔
جناح صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
وہ ایک ایسے شخص تھے جسے عام طور پر غیر جذباتی اور مضبوط سمجھا جاتا تھا۔
جذبات کے اس مظاہرہ سے ہم سب  حیرت زدہ رہ گئے۔
میں تجربہ سے جانتا تھا کہ جب ایک مریض ہمت ہار دے تو کوئی علاج چاہے کتنا ہی بھر پور کیوں نہ ہو زیادہ کامیاب نہیں ہو سکتا اور اس لیے یہ بات جان کر  کہ اس آہنی قوت ارادی کے شخص نے ہمت ہار دی تھی۔
سخت مایوسی ہوئی۔

ستمبر کے آغاز تک جناح کو نمونیا کے علاوہ تب دق اور پھیپھڑوں کا سرطان بھی ہو چکاتھا۔
ان کا بخار سو درجہ تھا.وزن صرف ستر پونڈ (35 کلو گرام)رہ گیا تھا. ان کی نبض غیر معمولی طور پر تیز اور بے ربط ہوگئی تھی.
ان کی حرکتِ قلب بے ترتیب ہو چکی تھی.سانس لینے کے لیے انھیں آکسیجن کی ضرورت تھی.کراچی سے ڈاکٹر ایم اے مستری کو کوئٹہ بلا بھیجا گیا. ڈاکٹر مستری نے معائنہ کے بعد کہا
اب کچھ نہیں رہ گیا.
جناح کو بے آرامی سے بستر پر کروٹیں لیتے ہوئے یہ کہتے سنا گیا.
کشمیر کمیشن کے ساتھ آج میرا اپائنمنٹ تھا
وہ کیوں نہیں آئے. کہاں ہیں وہ.

جناح صاحب کو اب واپس کراچی لے جانا تھا.کیونکہ وہ جس مقصد سے کوئیٹہ زیارت آئے تھے 
اب مزید اس کی ضرورت نہ تھی. جناح صاحب کو 11 ستمبر 1948 دوپہر دو بجے"ڈکوڈا" ہوائی جہاز سے کوئٹہ سے کراچی لے جانا تھا۔
جب انھیں اسٹریچر پر لٹا کر جہاز کی طرف لے جایا جانے لگا.
جہاز کے عملہ نے ایک طرف قطار میں کھڑا ہو کر انھیں سلیوٹ کیا.
جواب میں انھوں نے  نقاہت سے اپنا ہاتھ بلند کیا.ایک بستر جہاز میں لگا دیا گیا.
فاطمہ جناح، ڈاکٹر مستری اور نرس سسٹر ڈنہم قریب بیٹھ گئے. آکسیجن سلنڈر اور گیس ماسک تیار تھا.
جہاز فضا میں بلند ہوا.کوئی دو گھنٹے کی پرواز کے بعد شام 4 بجکر 10 منٹ پر ماڑی پور اترا.
یہ وہی ہوائی اڈا تھا جہاں آج سے ایک سال سے کچھ عرصہ  پہلے بھی اترے تھے، امیدواعتماد سے بھر پور کہ وہ پاکستان کو ایک عظیم مملکت بننے میں مدد دیں گے۔
تب  ہزاروں افراد انھیں خوش آمدید کہنے آئے تھے.
مگر آج یہاں کوئی بھی نہ تھا.
ہدایت کے مطابق جناح  صاحب  کی آمد کو خفیہ رکھا گیا تھا۔
جہاز سے باہر رن وے پر ایک ملٹری ایمبولنس کھڑی تھی.جسے جناح کے ملٹری سیکرٹری کرنل نول لے کر آئے تھے۔
جناح کے اسٹریچر کو ایمبولنس کے پچھلے حصہ میں رکھا گیا.
جہاں مس فاطمہ جناح، نرس سسٹر ڈنہم بیٹھیں. ڈاکٹر مستری پیچھے جناح کی نئی کیڈلاک کار میں تھے. کوئی چار یا پانچ میل کا فاصلہ طے کر کے ایمبولینس کے انجن نے کچھ آواز نکالی اور وہ رک گئی پانچ منٹ بعد فاطمہ جناح باہر نکلیں کہ ایمبولینس کیوں رک گئی ہے ؟
انھیں بتایا گیا کہ ایمبولینس میں پٹرول ختم ہو گیا ہے.
مگر ڈرائیور انجن میں الجھا ہوا تھا. ماحول میں ایک حبس تھا.جان لیوا گرمی پڑ رہی تھی. مکھیاں جناح صاحب کی چہرے پر بھنبھنا رہی تھیں.جناح صاحب میں اتنی سکت نہیں تھی کہ اپنے ہاتھ سے انھیں ہنکا سکیں. سسٹر ڈنہم اور فاطمہ جناح انھیں باری باری پنکھا جھلتی رہیں. اور
دوسری ایمبولینس کا انتظار کرتی رہیں.ہر منٹ اذیت کا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا💔
ڈاکٹر مستری کار سے باہر نکلے کہ دیکھیں جناح صاحب کی کیا کیفیت ہے؟ وہ یہ جان کر دہشت ذدہ رہ گئے کہ جناح صاحب کی بنض بدستور ڈوبتی جا رہی تھی
وہ بھاگ کر گرم چائے کا تھرموس اٹھا لایا. مس جناح نے انھیں ایک کپ گرم چائے پلائی.یہ کتنا بڑا المیہ تھا کہ ہوائی جہاز کا سفر کرنے کے باوجود یوں ہی سڑک کے کنارے بابائے قوم و گورنر جنرل پاکستان کو دم توڑنا پڑے گا.قریب ہی مہاجروں کی سینکڑوں جھونپڑیاں بنی ہوئی تھیں.جنھیں پتہ نہ تھا کہ جس ہستی نے ان کے لیے پاکستان بنایا وہ آج یہاں یوں سڑک کے کنارے زمانے کے رحم و کرم پر بے بس پڑی ہے.
پاس سے ہارن بجاتی گزرتی کاریں انھیں نہیں پتہ کہ سڑک کے کنارے جو ایمبولینس کھڑی ہے اس میں بابائے قوم موجود ہیں اور بے یار و مدد گار پڑے ہیں.ٹرک بھی آتے گڑگڑاتے گزر جاتے.ایمبولینس کا ڈرائیور انجن کو مرمت کرنے پر لگا ہوا تھا. اور ایک گھنٹہ گزر جانے کے بعد ‏بھی تسلیاں دے رہا تھا.
بس بس ابھی ٹھیک ہو جاتا ہے🤔
ہوائی اڈے سے وزیر منشن (کھار ادر) پہنچنے میں جتنا وقت لگا اتنا وقت کوئٹہ سے بذریعہ ہوائی جہاز کراچی پہنچنے میں نہیں لگا تھا.
خیر جناح صاحب اپنے گھر پہنچ کر کوئی دو گھنٹہ سکون سے سوئے.
پھر انھوں نے آنکھیں کھولیں
اور سرگوشی میں پکارے" فاطمی". سنتے ہی فاطمہ جناح قریب آئیں  کہ 11ستمبر 1948رات 10 بجکر 20 منٹ پر جناح صاحب کا سر داہنی طرف لڑھک گیا.
فاطمہ جناح یہ نظارہ دیکھ کر چیخ   پڑیں
ڈاکٹر مستری بھاگے آئے اور فاطمہ جناح نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ بابائے قوم کو سر سے پاؤں تک سفید چادر سے ڈھانپا جا رہا ہے. فاطمہ جناح یہ منظر برداشت نہ کر سکیں بے ہوش کر زمین پر گر پڑیں. 

قائدِ اعظم 11ستمبر1948
 رات 10 بجکر 20 منٹ پر انتقال فرما گئے۔ 
انا للّٰه وانا الیہ راجعون 
ایک سادہ کفن میں لپیٹ کے،
انھیں اگلے دن کراچی میں دفن کر دیاگیا۔
(جناح فادر آف دی نیشن)
 اسٹینلے ولپرٹ، صفحہ411۔ 413 
#tribalnews1 #Babayqome
#highlights #allfollowers #Historically #foryou #pakistan 

Thursday, 22 May 2025

بد ترین وحشت و دہشت کفار کنٹریز میں مگر بدنام پاکستان کو کیوں کیا جاتا ہے



دنیا میں فحاشی کے لحاظ سے سرفہرست دس ممالک کی غالب مذہب

1. تھائی لینڈ – (بدھ مت)

2. ڈنمارک – (عیسائیت)

3. اٹلی – (عیسائیت)

4. جرمنی – (عیسائیت)

5. فرانس – (عیسائیت)

6. ناروے – (عیسائیت)

7. بیلجیم – (عیسائیت)

8. اسپین – (عیسائیت)

9. برطانیہ – (عیسائیت)

10. فن لینڈ – (عیسائیت)

دنیا میں چوری کی شرح کے لحاظ سے سرفہرست دس ممالک اور ان کی غالب مذہب:

1. ڈنمارک اور فن لینڈ – (عیسائیت)

2. زمبابوے – (عیسائیت)

3. آسٹریلیا – (عیسائیت)

4. کینیڈا – (عیسائیت)

5. نیوزی لینڈ – (عیسائیت)

6. بھارت – (ہندومت)

7. انگلینڈ اور ویلز – (عیسائیت)

8. امریکا – (عیسائیت)

9. سویڈن – (عیسائیت)

10. جنوبی افریقہ – (عیسائیت)

دنیا میں شراب نوشی کی شرح کے لحاظ سے سرفہرست ممالک اور ان کی غالب مذہب:

1. مالڈووا – (عیسائیت)

2. بیلاروس – (عیسائیت)

3. لیتھوینیا – (عیسائیت)

4. روس – (عیسائیت)

5. چیک ریپبلک – (عیسائیت)

6. یوکرین – (عیسائیت)

7. انڈورا – (عیسائیت)

8. رومانیہ – (عیسائیت)

9. سربیا – (عیسائیت)

10. آسٹریلیا – (عیسائیت)

دنیا میں قتل کی بلند شرح والے ممالک اور ان کی غالب مذہب:

1. ہونڈوراس – (عیسائیت)

2. وینزویلا – (عیسائیت)

3. بیلیز – (عیسائیت)

4. ایل سلواڈور – (عیسائیت)

5. گوئٹے مالا – (عیسائیت)

6. جنوبی افریقہ – (عیسائیت)

7. سینٹ کٹس – (عیسائیت)

8. بہاماس – (عیسائیت)

9. لیسوتھو – (عیسائیت)

10. جمیکا – (عیسائیت)

دنیا کی چھ خطرناک ترین گینگوں کی مذہبی شناخت:

1. یاکوزا – جاپان (لا مذہبی)

2. اگبیرس – نائجیریا (عیسائیت)

3. واہ سینگ وُو – ہانگ کانگ / چین (بدھ مت)

4. جمیکا بوس – جمیکا (عیسائیت)

5. پی سی سی – برازیل (عیسائیت)

6. آرین برادرہڈ – امریکا (انتہا پسند سفید فام عیسائیت)

دنیا کے سب سے بڑے منشیات فروشوں کی قومیت اور مذہب:

1. پابلو ایسکوبار – کولمبیا (عیسائی)

2. آمادو کاریو – میکسیکو (عیسائی)

3. کارلوس لیدر – کولمبیا (عیسائی)

4. گریسیلڈا بلانکو – کولمبیا (عیسائی)

5. خواکین گوزمان (ال چاپو) – میکسیکو (عیسائی)

6. رافائیل کارو – میکسیکو (عیسائی)

پھر بھی ہمیں کہا جاتا ہے کہ اسلام دنیا میں دہشت گردی اور تشدد کا سبب ہے، اور ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم اس پر یقین کریں؟

مسلمانوں نے پہلی عالمی جنگ شروع نہیں کی، بلکہ یہ مغربی سیکولر عیسائیوں کی پیدا کردہ تھی

مسلمانوں نے دوسری عالمی جنگ بھی شروع نہیں کی، وہ بھی مغرب ہی نے بھڑکائی

آسٹریلیا کے بیس ملین مقامی باشندوں کا قتل مسلمانوں نے نہیں کیا، بلکہ وہ لوگ تھے جو "محبت کے دین" کے پیروکار تھے۔

جاپان کے دو شہروں (ہیروشیما اور ناگاساکی) پر ایٹمی بم گرانے والے بھی مسلمان نہیں تھے

جنوبی امریکا میں ایک کروڑ سے زائد ریڈ انڈینز کے قاتل بھی مسلمان نہیں تھے بلکہ "امن کا پیغام" لے کر آئے ہوئے عیسائی مبلغ تھے۔

شمالی امریکا میں پانچ کروڑ ریڈ انڈینز کا قتل بھی مسلمانوں نے نہیں کیا

افریقہ سے 18 کروڑ افراد کو غلام بنا کر لے جانے والے بھی مسلمان نہیں تھے بلکہ وہی تھے جو آزادی اور لبرل ازم کے نعرے لگاتے ہیں

مسلمان دہشت گرد نہیں
بلکہ دہشت گردی کی تعریف ہی مغرب کی طرف سے امتیازی اور جانبدار ہے۔

اگر کوئی غیر مسلم حملہ کرے تو وہ ایک "انفرادی جرم" کہلاتا ہے
Www.Facebook.com/Tribalnews
لیکن اگر کوئی مسلمان کسی حملے میں ملوث ہو، تو اُسے فوراً دہشت گردی قرار دے دیا جاتا ہے
چاہے وہ اپنے دین اور امت کے دفاع میں ہی کیوں نہ ہو

ایف بی آئی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق
1980 سے 2005 کے درمیان امریکا میں ہونے والے حملوں میں
صرف 6 فیصد حملے مسلمانوں سے منسوب تھے
جبکہ یہودیوں سے 7 فیصد
لیکن ان پر میڈیا نے کبھی توجہ نہیں دی

لہٰذا ہمیں دوہرے معیارات چھوڑنے ہوں گے
تبھی ہم اسلام کی اخلاقی بلندی اور عدل کو دنیا کے سامنے درست انداز میں پیش کر سکیں گے

اس پیغام کو خود تک محدود نہ رکھیں
اس سچائی کو دوسروں تک بھی پہنچائیں،
کیونکہ میڈیا کی طاقت دولت اور مفاد پرستی نے
اسلام کی تصویر کو مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی

اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ
ہماری ہی قوم کے کچھ منافق اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں

یہ دراصل اسلام کے خلاف ایک جنگ ہے
اور ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو اس حقیقت سے خبردار کریں
جتنے ممکن ہوں اور جتنے وسائل ہمارے پاس ہوں
Https://YouTube.Com/Bolkohesuleman1 
اور آخر میں فخر سے کہیں

میں مسلمان ہوں اپنے دین پر فخر ہے اور اپنی امت اور اس کی جدوجہد پر مجھے ناز ہے

اور اللہ کے محبوب نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا نہ بھولیں۔

Tuesday, 29 April 2025

پورن انٹرٹینمنٹس ( فحاشی پھیلانے کے نئے طریقے ) 2025 میں بہت کچھ بدل گیا حیران کر دینے والے حقائق

پورن انٹرٹینمنٹس ( فحاشی پھیلانے کے نئے طریقے )
2025 میں بہت کچھ بدل گیا حیران کر دینے والے حقائق 


شیطانی جال میں جکڑی انسانیت کا نوحہ

کبھی کبھی انسانیت خود اپنے ہاتھوں سے اپنی بنیادیں کھوکھلی کر لیتی ہے۔
آج ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں "پورن انٹرٹینمنٹ" نے تفریح کی شکل بدل کر تباہی کا عفریت بن لیا ہے۔
یہ محض فلمیں یا تصاویر نہیں، بلکہ ایک ایسا نفسیاتی ہتھیار ہے جس نے نسلِ انسان کو اپنی جڑوں سے کاٹنا شروع کر دیا ہے۔

1. جدید پورن انٹرٹینمنٹ کے مہلک طریقے (2025 کی صورتحال)

VR پورن (Virtual Reality):
اب صرف اسکرین پر نہیں، بلکہ تھری ڈی عینکیں لگا کر انسان "خود کو عمل میں موجود" محسوس کرتا ہے۔
دماغ اور جسم کو اتنا گمراہ کر دیا جاتا ہے کہ حقیقت اور فریب کا فرق مٹنے لگتا ہے۔

AI Generated پورن:
مصنوعی ذہانت اب ایسی ویڈیوز بنا رہی ہے جن میں حقیقی انسانوں کی شکلیں ڈال کر جعلی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں۔
نجی زندگی تباہ، شہوت کی آگ مزید بھڑکائی جاتی ہے۔

ہولوگرام پورن:
ہولوگرام پروجیکشنز کے ذریعے پورن اداکار یا منظر حقیقت میں کمرے کے اندر موجود لگتے ہیں،
اور انسان حقیقی تعلقات سے مزید دور ہو جاتا ہے۔

بچوں کو نشانہ بنانے والا مواد:
نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انٹرنیٹ پر کم عمر بچوں کو بھی ٹارگٹ کر کے ان کے ذہن کو آلودہ کیا جا رہا ہے۔

گیمز میں پورنوگرافک مواد:
عام ویڈیو گیمز میں چھپے ہوئے فحش مناظر، کرداروں کے غیر اخلاقی لباس، اور جسمانی تحریک انگیزی معمول بن گئی ہے۔

ڈیپ فیک پورن:
دشمنی یا تفریح کے نام پر خواتین کی تصاویر لے کر انہیں پورن ویڈیوز میں تبدیل کر دیا جاتا ہے،
جس سے معاشرتی عزت خاک میں مل رہی ہے۔

2. 2025 میں انسانیت کن شیطانی مسائل میں مبتلا ہے؟

نکاح سے فرار، زنا میں اضافہ:
نکاح کو مہنگا اور مشکل بنا دیا گیا، زنا کو آسان اور سستا۔
سوشل میڈیا، ڈیٹنگ ایپس اور فحش ویب سائٹس نے پاکیزگی کا جنازہ نکال دیا۔

ذہنی و روحانی مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد:
ڈپریشن، انگزائٹی، بے مقصدیت، خودکشی کی کوششیں، "میں کچھ نہیں ہوں" کا احساس —
یہ سب پورن کے دائمی اثرات میں شامل ہو چکے ہیں۔

معاشرتی تعلقات کی بربادی:
شوہر بیوی سے بے رغبت، بیوی شوہر سے بدظن۔
والدین اور بچوں کے درمیان حیا کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔

معاشی تباہی:
پورن انڈسٹری کھربوں ڈالر کا کاروبار بن چکی ہے، جبکہ قومیں فقر و افلاس میں ڈوب رہی ہیں۔

معاشرتی جرائم میں اضافہ:
ریپ، حراسانی، کم عمر بچوں کے ساتھ بدسلوکی — یہ سب اسی فحش تفریح کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔

3. قرآن و سنت کا پیغام:

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> "إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ"
(سورۃ النور: 19)

"جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں فحاشی پھیل جائے، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

> "حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے۔"
(بخاری)

4. طبِ قدیم اور قانونِ مفرد اعضاء کی روشنی میں:

حکیم دوست محمد صابر ملتانیؒ فرماتے ہیں:

> "جنسی خواہشات میں بے اعتدالی حرارتِ غریزی کو زائل کر کے
نہ صرف جسمانی بیماریوں کا دروازہ کھولتی ہے بلکہ روحانی بگاڑ کا سبب بھی بنتی ہے۔"

قانونِ مفرد اعضاء کی بنیاد کہتی ہے:

اعصاب (Nerves) کا حد سے زیادہ تحریک میں آ جانا → سسٹم کی تباہی

عضلات (Muscles) میں کمزوری اور جمود

غدد (Glands) کا سکڑاؤ اور ہارمونی عدم توازن

نتیجہ: جسمانی، ذہنی اور روحانی موت

5. آیورویدک تعلیمات:

آیوروید کہتا ہے:

> "اوہج (Ojas) کے ضیاع سے انسان کا جسم، عقل، اور قوت مدافعت تباہ ہو جاتی ہے۔
جنس کا غلط استعمال عمر کو گھٹا دیتا ہے۔"

6. موجودہ علاج اور بچاؤ:

روحانی علاج:
قرآن کی تلاوت، استغفار، نمازِ تہجد، دعا

طبی علاج:

حجامہ اور فصد

جڑی بوٹیاں: سلاجیت، اسگندھ، تخم بالنگا، ستاور، تخم ریحان

غذا: خون اور رطوبت بڑھانے والی قدرتی غذائیں

نفسیاتی علاج:

ڈیجیٹل ڈیٹوکس

سوشل میڈیا کا محدود استعمال

جسمانی مشقت اور ورزش

معاشرتی اقدامات:

نکاح کو آسان بنانا

والدین کا تربیتی کردار

تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم

7. حکیم محمد رضوان الحق سعید منگول کا پیغام:

> "شیطان کی سب سے بڑی چال یہی ہے کہ برائی کو تفریح بنا کر پیش کرے۔
اگر تم نے اپنے دل کو اللہ کے نور سے روشن نہ کیا، تو تمہاری جوانی شیطان کی نذر ہو جائے گی۔"

آخر میں!

آج ہم جس دلدل میں پھنس چکے ہیں، وہاں صرف ایک انقلاب ہی ہمیں بچا سکتا ہے:
حیا، حیاتی توانائی، روحانیت اور طبِ قدیم کا احیاء۔

آئیے!

اپنے دل و نگاہ کو پاک کریں

اپنی نسلوں کو بچائیں

فحاشی اور شہوت کے اس عفریت کے خلاف علم کا پرچم بلند کریں

سوال برائے قارئین:

کیا آپ نے کبھی اپنی زندگی میں ایسا لمحہ محسوس کیا جب آپ نے حیا کی روشنی کو اپنی روح میں محسوس کیا ہو؟
نیچے کمنٹس میں اپنی رائے اور تجربات شیئر کریں۔
اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، شاید آپ کا ایک شیئر کسی کی زندگی بدل دے۔

#انسانیت_کا_نوحہ
#حیاء_کا_پیغام
#پورن_تباہی_کا_راستہ
#طب_قدیم_کا_احیاء
#حکیم_رضوان_الحق
#اپنے_جوانی_بچاؤ
#اسلام_کا_نظام_زندگی
#پورن_انٹرٹینمنٹ_کا_فساد #Pornography_Corruption
#شیطانی_دلدل #Satanic_Swamp
#انسانیت_کا_زوال #Humanity_in_Decline
#جوانی_کا_تحفظ #Protect_Your_Youth
#اسلامی_طبی_تحقیق #Islamic_Medical_Research
#قانون_مفرد_اعضاء #Qanoon_Mufrad_Aaza
#طب_قدیم_اور_نئی_سچائیاں #Ancient_and_Modern_Medicine
#ذہنی_اور_روحانی_تباہی #Mental_and_Spiritual_Destruction
#فطرت_کی_طرف_واپسی #Return_to_Nature
#حکمت_کا_پیغام #Message_of_Hikmah
#جدید_فتنے #Modern_Fitnah
#نوجوانوں_کی_بیداری #Youth_Awakening
#معاشرتی_انحطاط #Social_Decay
#دیسی_علاج #Desi_Remedies
#نفسیاتی_صحت #Mental_Health
#روحانی_نجات #Spiritual_Salvation
#قرآنی_رہنمائی #Quranic_Guidance
#سنت_کا_احیاء #Revival_of_Sunnah
#انٹرنیٹ_کا_شیطانی_استعمال #Satanic_Use_of_Internet
#2025_کا_فساد #Corruption_of_2025

Friday, 26 January 2024

بزدار سردار کی شرافت کا گواہ ہر فرد ہے جسکی زبان سے کہی میٹھی تو کسی کے زبان کڑوی الفاط چشم دید گواہ سوشل پلیٹ فارم

سب سے زیادہ جائز تنقید میں حسن خان اپنے سردار صاحبان پر کرتا ہوں لیکن جواز بناکر ہمیشہ سے اپنے علاقے اور عوام کی بات کی نہ کہ نفرت آمیز لہجے میں کسی بھی فرد یا سیاست دان کے خلاف خواہ مخواہ کسی پر بہتان تراشی یا کیچڑ اچھالی سے میرا کوئ تعلق نہیں جائز مطالبات ہر کسی کا حق ہے میں بھی وہی بولتا اور کہتا ہوں کیونکہ یہ ایسا دور ہے غریب عوام اگر جائز بات بھی کہے تو وہ بھی گوارہ نہیں لیکن ہمارے سردار صاحبان پر طرح طرح کے القابات سے نوازہ جاتا ہے انہی سردار صاحبان نے کبھی کسی پر اف تک نہیں کی مگر جتنا پرامن اور شریف سردار ہمارے بزدار قوم کے ہیں شائید ہی کہیں ایسا کوئ دوسرا سردار دیکھنے اور سننے کو ملا ہوگا کیونکہ اس چیز کیلئے مجھے زیادہ کہنے کی ضرورت تو نہیں ہر چیز سوشل میڈیا پر موجود ہے اگر ہمارے سردار بدامن یا ظالم ہوتے کیا یہ کوہ سلیمان کا امن قائم رکھ سکتا تھا بالکل نہیں جب الیکشن کمپیئن کیلئے نکلتے ہیں تو وہی ایک گاڑی میں دو فرد ساتھ لیکر چلتے ہیں جب کہیں جانا ہو تو وہی ایک گاڑی لیکر جاتے ہیں تاکہ کہیں کسی کے غریب عوام کے ہاں تھوڑا سٹے کرنا پڑا تاکہ انہیں تکلیف نہ ہو دو سے پانچ افراد کا کھانا یا چائے ہر کوئ غریب کے ہاں بن سکتا ہے اگر باقی بلوچ قوم پرستوں کی طرح درجنوں گاڑیاں اور سینکڑوں مسلح افراد لیکر کسی غریب عوام کے ہاں جائیں تو ہم جیسے لوگوں کے پاس آن لوگوں کیلئے اتنی چٹائیاں بھی نہیں انہیں پھیلا کر لشکر کو بٹھایا جاسکے نہ ہمارے سردار اپنے غریب عوام کو اپنا دب دبا دکھاتے ہین اگر ایسا کرنا چاہتے تو یہی قوم سردار صاحبان کے ساتھ چلتے کیونکہ انہیں جیب سے تھوڑا خرچہ کرنا ہے وہ گورنمنٹ کے کھاتے سے نکال کر خرچ کرتے مگر یہ چیزیں بھی انسانوں کی فطرت ہوا کرتا ہے بزدار سرداروں کی فطرت میں یہ دب دبا نہیں عاجزی اور انکساری ہے ہاں سردار اپنے عوام کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھنے تعلیم صحت سمیت ہر قسمی سہولیات سے تو دور رکھتے ہیں مگر سردار عثمان خان بزدار کا قلیل دورانیہ سی ایم شپ میں بہت کوششیں تو کی مگر نہ ہوسکا لیغاری اور کھوسہ کو لے لیں مرحوم سردار فاروق خان لیغاری صدر پاکستان سردار اویس خان لیغاری ہر وقت جیت کر وفاقی وزیر رہتا ہے سردار زوالفقار خان کھوسہ گورنر پنجاب اور وفاقی وزیر رہے اسکا بیٹا سردار دوست محمد کھوسہ کھوسہ وزیراعلی پنجاب بلوچستان سے لیکر دریائے سندھ تک اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو سبھی سرداروں سے زیادہ سردار عثمان خان بزدار نے کام کیئے اگر سردار صاحب کے خلاف تونسہ شریف ڈی جی خان سمیت تمام پارٹیاں اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے متحد ہوکر روڑے نہ اٹکاتے تو تونسہ شریف ڈی جی خان اور کوہ سلیمان میں بہت کچھ ہوجاتا لیکن یہ متحد ہونے والوں کو صاف نظر آرہا تھا اگر عثمان خان بزدار جو کرنا چاہ رہا ہے سب ہو جائیں تو ہمیں سیاست کا بوری بستر لپیٹ کر یہاں سے بھاگ جانا ہے کیونکہ ان لوگوں کے ذہنوں میں پنپنے والے منافرت کی وجہ سے نقصان صرف علاقے اور غریب عوام کا ہوا وہ اپنے بچوں کی روزی تو بچا کر گئے ہیں مگر ہمارے غریب عوام کے بچوں کا پیٹ چیر کر ہمیں دلدل میں گرانے میں کامیاب ہوئے دوسرا پرامن علاقہ کوہ سلیمان جو بھی قومیں آباد ہیں بزدار قوم کی ٹوٹل آبادی اسی کوہ سلیمان میں ہے  قبائلی نظام میں قبائلی علاقہ اور عوام جتنا محفوظ ہے انہی سرداروں وڈیروں اور قومیت کے بل بوتے پر ہے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سے لیکر کوہ سلیمان تک پٹھانوں کے وزیرستان سے لیکر روجھان تک چاہے بلوچ ہوں یا پٹھان ہاں اگر قوموں کے مابین سیاسی اور زاتی کشمکش بڑھ جائیں یا کسی تھرڈ پارٹی کی مداخلت سے ان علاقوں میں آوٹ فورس بھیجا جائے تو اس دن سے امن کے سائے کو خدا حافظ کہہ کر غریب لوگوں کو علاقہ چھوڑا کر کہیں اور ہجرت کرنی ہوگی مگر قبائل ازم میں ان ججز اور حکمرانوں کے قانون سے زیادہ قبائلی قانون زیادہ طاقت ور ہے جو کہیں نا کہیں خوش اسلوبی سے راستہ بناکر مزید خون خرابہ سے روکا جاسکتا ہے لیکن مانتا ہوں سرداری نظام میں خامیاں ضرور ہیں مگر جتنا کہا جارہا ہے اتنا بھی نہیں سرداروں اور وڈیروں کے ظلم کی داستانیں تو بہت ہیں مگر ہمارے تمن بزدار میں وہ نہیں جو لکھا اور بولا جاریا ہے ہمارے بزدار قبائل کوہ سلیمان میں امن کی وجہ بھی یہی سردار اور وڈیرے ہیں اگر یہ لوگ بدامنی کی طرف ہمیں دھکیلیں تو یقیننا یہ کوہ سلیمان بھی اپنے ہمسائے تمن کھوسہ یا بلوچستان کی طرح ہو سکتا ہے جہاں قبائلی فورس یا قبائلی معززین کی رسد کو محدود کیا وہاں صرف خون ہی خون نظر آتا ہے نہ کسی کی عزت محفوظ ہے نہ کسی کا جان و مال ؟؟؟ قلم کار حسن خان بزدار 


Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201