Friday, 20 March 2026

کیا آپ جانتے ہیں یہ دنیا آباد کیوں نہیں ہوسکتا اگر نہیں تو جانیئے مکمل رپورٹ اور وہ بھی ثبوتوں کے ساتھ

قرض لینا کسی ممالک کی مجبوری نہیں عیاشی کا بنیاد  ہے کیونکہ جن ممالک کے حکمران ایماندار اور قوم کیلئے مخلص ہوں وہ کبھی بھی قرضہ لیکر ملک کو چلانے کیلئے راضی نہیں ہوتا مگر قرض اور بھی یہود کا تو یہ تباہی کے علاؤہ کچھ نہیں جیسا پوری دنیا ہمارے سامنے ہے اور وہ بھی اپنے ہی نالائقیوں کی وجہ سے



پیرا گوٹے 1850 کے قریب دنیا کا وہ ملک تھا جسے کوئ بھی طاقت اکیلے روک نہیں سکتا تھا مگر ہمیشہ کی طرح اس دنیا پر فسادات کی بنیاد یہودی لا بنگ رہی جیسا کہ ازل سے آج تک 


اللہ تعالیٰ اپنے قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ہم نے تمہیں ہر چیز سے نوازہ دولت اولاد اور نعمتیں عطا کیں اپنے دنیا پر فساد برپا کردیا اس لیئے میں نے اپنے بندے بھیجھے اور آپکے فسادات سے چھٹکارا پایا اگر آپ باز نہ آئے تو پھر بھی ایسا ہی ہوگا


جب یہودیوں نے چار ملکوں میں جنگ کروادی اور نوے
 فیصد مردوں کو ختم کردیا جس سے بچوں کو جنگ لڑنا پڑی
۔
انیسوی صدی میں پیراگوئے معاشی طور پر خطے میں بہت مضبوط ہونے لگ گیا ،یہ جنوبی امریکہ کا واحد ملک تھا جو غیر ملکی قرضوں کا شکار نہیں تھا ،انہوں نے اپنی محنت پر ملک کو کھڑا کیا اور اتنا طاقتور ہوگیا کہ ساتھ والے ملکوں کو خطرہ محسوس ہونے لگ گیا
ساتھ والے ملک پہلے ہی یہودیوں کی بینکوں کے قرضوں میں ڈوبے تھے ،یہ بچا ہوا تھا اور یہودیوں کو یہ پسند نہیں تھا اس لیے انہوں نے ایک چال چلی کہ اس ملک پر جنگ مسلط کردی جائے
1864
میں تین ملک ارجنٹائن ،برازیل اور یوراگوئے نے اتحاد کرکے پیراگوئے پر حملہ کردیا




اس وقت امریکہ میں ابراہام کی حکومت تھی لیکن وہ اندرونی جنگوں میں مصروف تھا 
اور وہ یہودی لا بنگ سے بہت دور تھا اپنے ہی دفاع میں کررہا تھا اور اسوقت ان یہودیوں کے ہاتھوں برطانوی سامراج کٹھ پُتلی بنا رہا اور اسی کی مدد سے پیراگوائے پر ارجنٹائن برازیل یوراگوئے کا اتحاد بنواکر پیراگوائے پر جنگ شروع کروائی مگر دولت اسوقت بھی یہودیوں کا تھا اور آج بھی 
انہی شیطانوں کی ہے جو مظلوموں پر قہر بن کر ٹوٹ رہا ہے 



اسوقت دنیا ایک سپر پاور 
برطانیہ نے اپنی عوام کو یہ بتایا کہ پیراگوئے کا حکمران نپولین کی طرح کا ہے ،وہ دہشتگرد ہے ،بند ریاست ہے کسی سے تجارت نہیں کرتی ،وہاں کا حکمران عوام پر ظلم کررہا وغیرہ وغیرہ 
پرو پیگینڈے کا مقصد برطانیہ کی عوام پیراگوئے کی حمایت میں کھڑی نہ ہو اور ایسا ہی ہوا 
تب برازیل رتھشیلڈ خاندان کے قرضے میں ڈوبا تھا اور ارجنٹائن بیرنگ برادرز کے قرضے میں جو یورپ کی بہت بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا اس کے متعلق ابھی تحریر نہیں لکھی میں نے 
ان دونوں خاندانوں نے ان ملکوں کو ہتھیار خریدنے کے پیسے دئیے اور کہا کہ یہ ملک تمہارے لیے خطرہ ہوسکتا اس لیے اس کو ختم کردو تینوں مل کر اور کچھ علاقے رکھ لینا 
ملکوں کو اپنا لالچ اور ان خاندانوں کو اپنا 
دونوں کے لالچ نے جنگ شروع کروادی 
اس جنگ میں اس ملک کی یعنی پیراگوائے کی ساٹھ فیصد آبادی ختم ہوگئی اور نوے فیصد مرد بھی ختم ہوگئے 
ایک اندازے کے مطابق
 تین لاکھ لوگ پیراگوئے کے مارے گئے جن میں اس ملک کے نوے فیصد مرد تھے
کیونکہ پیراگوائے کے بے گناہ لوگوں اور حکمران کا یہ گناہ کی کہ اسنے اتنی محنت سے اپنے ملک کو سنوارا تاکہ ہمیں کسی سے مدد لینے کی ضرورت پیش نہ آئے اور اپنے ہی دن رات کی لگن کے بدولت اپنے ملک کو ہر طرح سے مضبوط رکھا مگر یہ یہودی فسادیوں کو منظور نہیں تھا تو انہوں نے سازشیں شروع کیں اسوقت کے بابے برطانیہ کے گود میں جا بیٹھا اور اس خطے کے مقدر بدلنے عوام کو برباد کرنے اپنے شیطانی نظام کو آباد کرنے کا منصوبہ بناکر ان چاروں ممالک کو آگ کے دلدل پھینکا اس کے نتیجے میں
برازیل کا ایک لاکھ سپاہی 
ارجنٹائن کا تیس ہزار سپاہی 
یوراگوئے کا پانچ ہزار سپاہی 
اس جنگ میں لڑائی کے علاوہ کچھ مزید چیزیں ہلاکت کا باعث بنی 
جو پانی وہ پیتے تھے اس میں لاشیں ہونے کی وجہ سے وہ زہریلا ہوگیا اور ہیضہ پھیل گیا جس کا شکار دوسرے ملکوں کے سپاہی بھی ہوئے
بھوک اور قحط پڑھ گیا جب سارے مرد جنگ پر تھے تو فصلیں تباہ ،جانور مرگئے 
چیچک بھی کافی پھیل چکا تھا جو کافی ہلاکتوں کا باعث بنا

اس کے علاوہ جیسے جیسے مخالف فوجیں اندر کی طرف آتی گئی لوگ نقل مکانی کرتے گئے جس کے دوران کمزور عورتیں بچے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔
علاج کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے زخمی یا بیمار لوگ بھی کافی تعداد میں مارے گئے





چھ سال جنگ کی وجہ سے جب مرد ختم ہوگئے تو لوپیز نے کہا کہ بچے میدان میں اتریں 
بتیس سو چھوٹے بچوں کو بندوقیں دے کر گھاس کے میدان میں اتار دیا گیا جہاں سامنے بیس ہزار برازیل کے ٹرین سپاہی تھے 
جنگ ہوئی جب بچوں کے پاس گولیاں ختم ہوگئی تو وہ لاٹھی ،پتھر اور خالی ہاتھوں سے حملہ کرنا شروع ہوگئے
 تو برازیل کے کمانڈر نے کہا کہ میدان کو آگ لگادو 
اس آگ میں بچے بھی مارے گئے اور پیچھے مائیں کھڑی دیکھ رہی تھی وہ بچانے کے لیے آگے آئیں اور وہ بھی جل کر راکھ ہوگئی
اسی وجہ سے سولہ اگست کو پیراگوئے میں بچوں کا دن منایا جاتا 
صدر لوپیز جنگل میں چلا گیا اپنے چند سپاہی بیوی اور بیٹے کے ساتھ 
اس کو گرفتار کرلیا گیا اور وہی پر اس کو اور بیٹے کو گولی مار دی اور اس کی بیوی کو ساتھ لیجانے کی کوشش کی گئی تو اس نے کہا کہ مجھے ان دونوں کو دفنانے دو
اس نے ہاتھوں سے قبر کھود کر اپنے شوہر اور بیٹے دفنایا۔
اس طرح یہ جنگ اختتام کو پہنچی ،تینوں ملکوں نے اپنے اپنے حصے کے علاقوں پر قبضہ کرلیا 
اور پھر یہودی خاندانوں نے پیراگوئے پر قبضہ کرکے نئی کٹھ پتلی حکومت کھڑی کردی 

پھر انہی یہودی بینکروں نے پیرا گوئے کی معیشت کے لیے تیس ملین ڈالر کا قرضہ دیا لیکن پیراگوئے میں صرف چار ملین ڈالر ہی پہنچے باقی انہوں بینکوں میں ٹیکسوں کے نام پر کھالیے اور سخت شرائط پر سود الگ چڑھادیا جو انہی بینکرز کے حق میں تھا اور پیراگوئے ملک کو دیوالیہ کردیا 

اور اس قرض اور سود کو لینے کے بہانے ان بینکرز نے کہا کہ ہم پیراگوئے کی سرکاری زمینیں بیچیں گے 
زمینیں خریدنے میں چار کمپنیاں سامنے آئی 
برطانیہ کے لوپیز بوش اور گیجو خاندان جنہوں نے بیس لاکھ ہیکٹر زمین خریدی 
سپین نے کارلوس کاساڈو نے پچاس لاکھ ہیکٹر زمین خریدی
میٹ لارنیگرا جو برازیل کی کمپنی تھی لیکن پیچھے وہی برطانیہ کے یہودی بینکرز تھے انہوں نے چائے کی پتی والے باغات پر قبضہ کرلیا اور مقامی لوگوں سے زبردستی مزدوری کرواکر باغات کا منافع لندن بھیجا گیا ان بینکرز کو 
اینگلو پیراگوئین لینڈ کمپنی یہ بیرنگ برادرز کی کمپنی تھی جنہوں نے پندرہ لاکھ ہیکٹر زمین ہتھیالی اور انہوں نے ایسے ہی چھوڑ دی تاکہ مستقبل میں جب ملک ترقی کرے آبادی بڑھے تب مہنگے داموں فروخت کی جاسکے 

جب ملک جنگ سے فارغ ہوا تو اٹھائیس عورتیں اور ایک مرد کا تناسب رہ گیا 
تعداد بڑھانے کے لیے ایک مرد سے کئی کئی عورتوں کی شادی کروائی گئی ،یہ ان کے مذہب کے خلاف تھا لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے سب مذہبی رہنما خاموش رہے 
عورتیں نے ہی تمام معیشت سنبھالی ،کسان ،دکاندار ،تاجر ہر فیلڈ میں عورتوں نے ہمت دکھائی اور ملک کو دوبارہ پیروں پر کھڑا کردیا۔




عورتوں نے اپنے تمام زیورات ،جمع پونجھی جو جو کچھ تھا ان کے پاس انہوں نے حکومت کو دے دیا 
اس میں کافی کچھ دردناک ہے لیکن تحریر کا اختتام کرتے 
۔
قرض اور سود یہودیوں کا سب سے بڑا ہتھیار رہے ہیں جو لوگ یقین نہیں کرتے میری تحریروں پر کہ یہودی اتنے طاقتور کیسے ہوسکتے کہ وہ ملک کے ملک اپنے بس میں کرلیں 
وہ صرف اپنے پاکستان کو دیکھ لیں جو آئی ایم ایف کے قرضوں تلے دبا ہے حالانکہ اس کو قرضوں کی ضرورت نہیں تھی لیکن ایسے حالات بنائے گئے تھے کہ یہ قرضے میں ڈوبے اور آنے والے وقتوں میں کوئی مزاحمت نہ کرسکے آج پاکستان کی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ قرضے یہودیوں کا ہتھیار ہیں 
۔
Some Coppyed by ✍️ Irfan Opal 

Wednesday, 11 March 2026

جب تک ظلم کو برداشت کرینگے ہم پر مزید ظلم اسی طرح ڈھایا جائیگا افسوس سے احتیاط بہتر ہے


مطلب ظالم ظلم سے باز نہیں آنے والا کیونکہ جب کسی کے ہاتھ ✋ میں جبر کا لکیر پڑا ہو یا کسی کے پیٹ میں حرام کا لقمہ چلا گیا تو نہ وہ کھانے سے کتراتا ہے اور نہ ظلم کے بدلا جا سکتا ہے

مزید پڑھیں

 اب یہ صاف ہوتا جارہا ہے ان لوگوں سے کسی نے ایسا معاہدہ کیا جسے عوام کی کوئ پرواہ نہیں صرف اپنا سوچتے ہیں اور وہ ہیں زرداری شہباز ایم کیو ایم بی این پی اے این پی جے ہو آئ کیونکہ انہوں نے ملکر پچیس کروڑ عوام کو روند ڈالا اب چاہے یہ لوگ جو کہیں بے معنی ہوگی پاکستانیو ان تمام گینگ سے کوئ بھی امید کی جاسکتی ہے خدارا اپنے پیارے وطن کا سوچیں کیونکہ جب وحشت عروج پر تو وہشی پن مزید ابھرتا ہے اب مجھے بھی کچھ محسوس ہو رہا ہے

مزید پڑھیں ✋

 عمران خان صحیح راستے پر گامزن تھا ہاں اگر ان لوگوں کا سیاسی مقابلہ صرف عمران خان سے ہوتا تو پچیس کروڑ عوام پر ایسے غضب ناک نہ ہونے انکا شکار پورا پاکستان اور پوار قوم ہے ہوشیار رہنا پچتانے سے بہتر ہے اور ہوشیاری صرف اپنے لیئے نہیں ملک پاکستان کیلئے کرنی ہوگی کیونکہ گند آپکے گھر کے سامنے جتنا زیادہ بڑھ جائے ایک نہ ایک دن انشااللہ وہ صاف کیا جاسکتا ہے مگر گندھ کی وجہ سے گھر 🏠 کو چھوڑا یا توڑا نہیں جاسکتا ہمارا گھر ہماری جنت ہے ملکر اسے ہمیں ہی صاف رکھنا ہے اگر ہم سے نہ بھی ہو تو ہمارے آنے والے نسلیں انہیں ان گند سے ضرور پاک کر دینگے مگر گھر کی حفاظت کرنا ایسا ہی سمجھیں جیسا کہ شیطان کو دل سے دور رکھنا ہو دو ہزار بائیس سے لیکر دو ہزار چھبیس تک جو کچھ پاکستان میں یہ سب چیزیں چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں

مزید پڑھیں 😥


 یہ لوگ کبھی خود کے خیر خواہ نہیں ہوئے پاکستانی قوم سے کیسے خیر خواہی کی توقیر کی جاسکتی ہے اگر یہ پی ڈی ایم دو ہزار بائیس میں سب نے ملکر پاکستانی قوم اور ملک کے بھاگ ڈور سنبھالا انہیں اپنے کھودے گئے گڑھے صاف صاف نظر آرہے تھے اگر آپس میں اتحاد نہ کی تو وہ انکے کھودے گڑھے میں یہ خود ہی دفن ہو جاتے اور انکا دفن ہونا ہی یقینی تھا کیونکہ اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر ملک پاکستان اور اسمیں بسے 25 کروڑ عوام کو پس پشت ڈال کر دل پر پتھر رکھ کر انہوں نے یہ فیصلہ لیا تاکہ ہماری جانیں جائیدادیں انٹرنیشنل جاگیریں اور بینک 🏦 بیلنس محفوظ رہ سکیں اور انہوں نے کسی تھرڈ پارٹی کی کاوشوں سے اپنی رنجشیں بھلا کر 50 سال کیا گیا

مزید جانیئے کیلئے کلک کریں


 جمع شدہ دولت کو بچانے کی ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر پاکستان پر قابض ہوئے اور خوبصورت پاکستان کو ایسی دلدل میں دھکیلا شائید نکلنا بہت مشکل ہو مگر یہ لوگ حرص و لالچ میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں

مزید جانیں اور پڑھیں

 انہیں کچھ دکھائ نہیں دیتا اور یہ نہیں جانتے اس روح زمین پر جب تک اللہ تعالیٰ کا نام لیوا ہیں تو انہیں خوشی خوشی اس ملک اور قوم کے خون پسینے کا حساب ہر صورت دینا ہوگا اگر خود دیں یا انکی نسلیں مگر حساب تو ہوکر ہی رہیگا جلد یا بدیر ان سے ہر ظلم کا حساب لیا جائے گا انشااللہ



 

Friday, 6 March 2026

تاریخ سر جھکانے والوں نے نہیں سر کٹوانے والوں نے لکھا ہے کیونکہ موت بھاگنے والوں جلد اور جہاد کرنیوالوں کو دیر سے پہنچتا ہے



یاد رکھیں اگر ایران کا حالیہ حکمران جماعت کلعدم ہوکر کوئ اور ایران پر حکمران بنا تو مڈلیسٹ کی کوئ اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ عیش عرب حکمرانوں بشمول دنیا کے آنکھوں پر ایسا کس کر پٹی باندھا گیا انہیں یہ سمجھ تک نہیں آریا ایران کا یہ حکمران جماعت اسلامی دنیا کا ایک مظبوط باڑھ ہے امر یکہ اور اس را ئیل 45 سال سے اس مضبوط باڑھ کو اس لیئے توڑنے میں لگا ہے جب تک اسلامی دنیا کا یہ مضبوط قلعہ ڈھایا نہیں گیا تب تک عرب دنیا کا فاتح ہونا ناممکن ہے مگر یہ اسلام کے ام ری کی اور اس را ئ یلی نوکر کب سمجھے گے اگر میں سمجھ رہا


مزید پڑھیں

 تو انہیں کیوں نہیں سمجھ آرہا اس را ئیل نے پانچ سے سات دہائیاں اسی جنگ میں گزارا فلسطیں پر قبضہ کیا جا سکے لیکن ستر سالوں کی بے دریغ خون خرابہ کے باوجود نہ ہو سکا زرا نہیں کچھ زیادہ سوچیں عی سا ئ اور صی ہو نی جتنے بھی کوشش کررہے ہیں وہ سب رائیگاں چلا گیا کیونکہ اسکے ہر بنائے گئے منصوبے انہی ایرانیوں نے خاک میں ملا دیئے امر ی کہ نے گلف کنٹریز میں ایک ایسا باؤلا کتا 🐶 پال رکھا ہے تاکہ کبھی بھی عرب دنیا کو ام ری کی مفادات کے خلاف آپس میں ملکر ضرب لگانے فرست ہی نہ ملے اگر خدا نخواستہ ایران میں انقلاب کے سائے میں پلنے والا یہ جماعت کلعدم ہو چکا تو انگلی باری پاکستان کی ہے کیونکہ بغل میں بیٹھے منافق سب سے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جیسا کہ میں پانچ سال پہلے افغانستان کے متعلق کہا تھا طالبان کو فتح ملنے کے بعد آمری کہ یہ جان گیا تھا 

مزید پڑھیں اور جانیں

جب تک پاکستان اور طالبان کو کسی نہ کسی طرح آپس میں لڑانا ہی سب سے بڑی فتح ہوگی اور طال بان کو ساتھ ملا کر پاکستان سے جان چھڑوانا جاسکتا ہے اب اگر ایران کے ساتھ بھی یہی ہوا تو زرا سوچیں ہمارے ساتھ کیا ہوگا لیکن اسوقت سمجھنے میں بہت دیر ہو چکی ہوگی ابھی بھی وقت ہے مندروں گرجا گھروں اور چرچوں میں پڑھنے والوں پر نہیں مسجدوں میں اپنے رب کے نام لیواوں پر یقین کرنا سب سے بہترین تدبیر ہے یہ سب جاننے کے بعد کہ ہمارے ساتھ ایسا ہونے والا ہے تو اس سے پہلے خوددار اور مضبوط لائحہ عمل کیوں ترتیب نہیں دیا جارہا کس لیئے اپنے گردن پر چھری چلوانے کی انتظار کررہے ہو اور دوسرے بھائ کی موت پر خاموش رہنے والا چاہے جتنا بھی خاموشی اختیار کریں یا جتنے بھی چشم پوشی کی جائے اسکی زندگی کسی بہادر سے پہلے ختم ہونے کی نشانی ہے 46 سال میں کتنے مسلمانوں کو امر ی کہ اور اس را ئیل نے ملکر تہس نہس کی اور وہ بھی اکثریت انہی کے ساتھ ملے ہوئے حکمرانوں کے اور وہ بھی یہی سوچ رہے تھے

حقیقت سے دور نہیں قریب دیکھیں

 اگر ہم امر یکہ اور اس را ئیل کے ساتھ دوستی کر لیں ہم بچ سکتے ہیں مگر وہ نہ بچ سکے بڑی آسانی سے انہیں نشانہ بنایا گیا امر یکہ اور اس را ئیل کے آنکھون میں 45 سے کھٹکنے والے ایران کے خلاف ہمیشہ سے پابندیاں عائد تھیں اسے ہر طرح سے کمزور کرنے کی کوشش کی بھومی اور پیاسا رکھا مگر یہ بہادر قوم نے سر جھکا کر جینے سے سر کٹوانا پسند کیا انہیں کے ٹکڑوں پر پلنے سے بھومی مرنے کو ترجیح دی انہی کے غلامی سے آزاد مرنے کو گلہ لگایا مگر دنیائے اسلام کے باقی تمام مسلم ممالک امریکہ اور اس را ئیل کے سامنے جھکے اور اپنے اللہ کو خوش رکھ کر آخرت میں اسے خوشی خوشی ملنے سے باطل قوتوں کو عظیم سمجھا ہمیشہ کیلئے موت سے ایک بار مرنے کو پسند کیا اور اپنے دھرتی کو ناپاک ظالموں کو اپنے ہاتھوں سے خوش آمدید کرنے کے بجائے خون میں ڈبو کر آنے کئے مزاحمت کا راستہ چنا اور خواب غفلت میں موت آنے کے انتظار سے شہادت کو ترجیع دی مگر سر جھکا کر دنیا میں چلے جانے سے سر کٹواکر دنیا کو خیرباد کہا کیونکہ تاریخ سر جھکانے والوں نے نہیں سر کٹانے والوں نے لکھا ہے



Thursday, 5 March 2026

Tribalnews1: کینسر کے موذی مرض کا شافی علاج اور طریقہ کار

Tribalnews1: کینسر کے موذی مرض کا شافی علاج اور طریقہ کار: جس دھماسہ بوٹی سے میں نے دو مہینوں میں آخری سٹیج ۵۰% کینسر ختم ہوتے  دیکھا ہے وہ ہرے رنگ کا پاؤڈر ہے جو تازہ بوٹی توڑ کر صاف کرکے سکھاکر پسو...

کوہ سلیمان نادرا سنٹر فاضلہ کیلئے

 
کوہ سلیمان فاضلہ کا نادرا سنٹر کا سامان تونسہ شریف منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ خبر سن کر دل بہت دکھی ہوا، کیونکہ اس فیصلے سے ایک بار پھر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ہمارے کوہ سلیمان کے عوام کا کوئی حقیقی پرسانِ حال نہیں۔
ہم سمجھتے تھے کہ بی ایم پی (BMP) ہمارے عوام کی محافظ ہے، لیکن افسوس آج وہ بھی ہمارے کوہ سلیمان کے عوام کے خلاف کھڑی نظر آتی ہے۔ جب محافظ ہی ساتھ چھوڑ دیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی فریاد کس سے کریں؟
کوہ سلیمان فاضلہ کا نادرا سنٹر لے جایا گیا ہے، کل کوہ سلیمان بارتھی کا نادرا سنٹر بھی لے جایا جا سکتا ہے۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو ہمارے علاقوں کے لوگ مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔
لیکن میرے پیارے دوستو!
میں آپ سب کو ایک اہم اور مخلصانہ مشورہ دینا چاہتا ہوں۔
👉 ان عارضی چیزوں پر لڑائی جھگڑا نہ کریں، اس میں نہ ہمارا فائدہ ہے اور نہ ہی ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے۔ لڑائی میں ہمیشہ نقصان عوام کا ہی ہوتا ہے۔
🔴 حل کیا ہے؟
آج کے دور میں الحمدللہ نادرا ایپ ایک بہت بڑی سہولت ہے۔
میں خود یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کر چکا ہوں اور استعمال بھی کر رہا ہوں، اور یہ واقعی بہت کارآمد ہے۔
📱 نادرا ایپ کے ذریعے آپ:
✔️ شناختی کارڈ بنوا سکتے ہیں
✔️ بچوں کا پیدائش سرٹیفکیٹ (B-Form) بنوا سکتے ہیں
✔️ مختلف نادرا فارم جمع کر سکتے ہیں
✔️ کئی دیگر سہولیات گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں
یہ ایپ Play Store پر موجود ہے۔
اب نادرا سنٹر جا کر لائنوں میں کھڑے ہونے، سفر کے خرچے اور وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔
👉 گھر بیٹھے اپنا کام خود کریں، باعزت طریقے سے۔
میری آپ سب سے عاجزانہ اپیل ہے کہ
🔹 نادرا ایپ ضرور انسٹال کریں
🔹 اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور گاؤں والوں کو بھی اس بارے میں آگاہ کریں
🔹 اگر میرا یہ مشورہ آپ کو اچھا لگا ہو تو اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ہر گھر تک یہ بات پہنچ سکے

کوہ سلیمان پسماندہ کیوں تمن بزدار تمن کھوسہ تمن لیغاری کے سربراہان کی غفلت یا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی



مزید پڑھیں سرزمین بلوچ ڈیرہ غازی راجن پور تونسہ شریف وہوا اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ساتھ دیدہ زیب بڑے بڑے چٹانوں اور اونچے سرسبز درختوں میں چھپے خوبصورت 
کوہِ سلیمان کے پہاڑ آج بھی پسماندہ کیوں؟
صوبہ پنجاب کے جنوبی کنارے پر واقع  کے مغرب میں پھیلا ہوا عظیم پہاڑی سلسلہ  صدیوں سے قدرتی حسن، معدنی وسائل سے مالا مال اور ثقافتی تنوع کا امین ہے، مگر افسوس ہے کہ یہ خطہ آج بھی ترقی تو دور یہ خطہ سوائے پنجاب کے حکمرانوں نااہلی سیاستدانوں اور پاکستان کے قبضے کے علاؤہ یہ سلیمانی خطہ سرکاروں اور سرداروں کے تابع رہنے کے باوجود جدید دوڑ میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

 سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اتنا اہم علاقہ مسلسل بدحالی اور محرومی کا شکار ہے؟ 🤔
سب سے بڑی وجہ حکومتی عدم توجہ ہے۔ جنوبی پنجاب خصوصاً قبائلی اور پہاڑی علاقوں کو ہمیشہ ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز کیا گیا۔ سڑکیں، ہسپتال، اسکول اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولتیں آج بھی بہت سے دیہات میں دستیاب نہیں۔ حتئ کہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے جانوروں کا بھوک اور پیاس سے اموات شروع ہو جاتے ہیں کیونکہ 2025 میں کوہ سلیمان میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے تمن بزدار زندہ پیر دالان تمن کھوسہ اور کئ علاقے پینے کیلئے پانی کے بوند کو ترس رہے ہیں اور غریب لوگ زندگی گزارنے سے پریشان ہیں اور بلوچ علاقے ہمیشہ سے سرکاری وسائل سے محروم رہے جب بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں تو ترقی کا سفر شروع ہی نہیں ہو سکتا۔ 


دوسری اہم وجہ جغرافیائی مشکلات ہیں۔ کوہِ سلیمان کا علاقہ دشوار گزار پہاڑوں، دور دراز بستیوں اور کمزور انفراسٹرکچر پر مشتمل ہے۔ یہاں تک پہنچنا بھی آسان نہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کم ہوتی ہے اور سرکاری ادارے بھی مؤثر انداز میں کام نہیں کر پاتے۔ نتیجہ یہ کہ لوگ آج بھی روایتی طرزِ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ 🏔️
تعلیم کی کمی بھی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ ہے اگر کہیں سکول کی دیواریں ہیں بھی تو وہاں پڑھانے کیلئے معلم صاحبان پڑھانے کے بجائے اپنے کاروبار کو ترجیح دیتے ہیں بہت سے علاقوں میں لڑکوں کے لیے بھی اسکول بہت کم ہیں جبکہ لڑکیوں کی تعلیم تو اکثر خواب ہی رہ جاتی ہے۔

کیونکہ کوہ سلیمان گرلز سکول سرے سے موجود ہی نہیں ہیں اگر کسی وڈیرے یا ملک کے گھر کے ساتھ ہو بھی تو وہ اسکا مسافر یا مال خانہ بنایا جاتا ہے جب تعلیم نہیں ہوگی تو شعور نہیں بڑھے گا، اور جب شعور نہیں بڑھے گا تو ترقی کا راستہ بھی بند رہے گا۔ 📚
اس کے علاوہ یہاں کے قدرتی وسائل کا درست استعمال بھی نہیں ہو سکا۔ اس خطے میں معدنیات، چراگاہیں اور سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں، مگر منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے یہ سب وسائل ضائع ہو رہے ہیں۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر کام کریں تو یہی علاقہ معاشی طور پر مضبوط بن سکتا ہے۔لوکل عوام کے ساتھ ساتھ حکومت پنجاب اور مرکز کو بھی بہت کچھ دلا سکتا ہے سب سے پہلے کوہ سلیمان میں روڈ انفراسٹرکچر سب سے بنیادی ضروریات ہے 
ایک اور مسئلہ قبائلی نظام اور غربت کا چکر ہے۔ غربت تعلیم کو روکتی ہے، تعلیم کی کمی روزگار کو محدود کرتی ہے، اور محدود روزگار غربت کو مزید بڑھاتا ہے۔ یہ ایسا دائرہ ہے جو کئی نسلوں سے چل رہا ہے۔ 🔄
ضرورت اس بات کی ہے کہ جنوبی پنجاب اور خصوصاً کوہِ سلیمان کے علاقوں کو خصوصی ترقیاتی پیکج دیا جائے۔ بہتر سڑکیں، معیاری تعلیم، صحت کی سہولتیں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ خطہ نہ صرف خود ترقی کرے گا بلکہ پورے ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ 🇵🇰
کوہِ سلیمان آج بھی خاموش ہے، مگر اس کی خاموشی میں ایک سوال چھپا ہے —
کیا یہ علاقہ ہمیشہ محروم رہے گا، یا کبھی اس کی قسمت بھی بدلے گی مگر کوہ سلیمان کے خوبصورت اونچے اونچے پہاڑوں سر سبز چراگاہوں آسمان سے ٹکراتے ہوئے گھنے درختوں غربت میں پسے بلوچ لوگوں تعلیم صحت صاف پانی روڈ سمیت تمام بنیادی محروم کوہ سلیمان دنیا کے ترقی یافتہ قوموں سے 1000٪ اس لیئے بہتر ہے کوہ سلیمان میں قتل چوری زناء بالجبر سمیت یہاں آج تک کسی قسم کا کوئ اجتماعی ایسی چیز نہیں بطور قوم یا بطور کوہ سلیمان بدنامی یا ظلم کا سبب مہیا کرے اگر کہیں انفرادی ایسے واقعات رونما ہو بھی جائے تو جلد سے جلد اہل علاقہ کے 

عوام اسکی ہر قسمی سدباب کی کوشش میں لگے رہتے ہیں تاکہ ایسا کوئ دوسرا واقع رونما نہ ہو اور زیادتی کرنے والے کو جتنا جلد ممکن ہو ایسے لوگوں کو کوہ سلیمان کے بلوچ بہت کم برداشت کرتے ہیں اگر ایسے لوگ عدالت سے بھاگنے یا چھپنے کی کوشش کریں اہل علاقہ اسے علاقہ بدر ہونے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ کوہ سلیمان میں گورنمنٹ کا رٹ کسی طرح چیلنج نہ ہو اور بدامنی کو ہوا دینے والے عناصر کسی طرح قابل قبول نہیں 


Tuesday, 3 March 2026

ہمیں اپنے ایمان بچانے کیلئے اللہ تعالیٰ چودہ سو سال پہلے بتایا تھا وہ کیسے جانیئے اس رپورٹ میں

لوگوں کے سر میں دماغ کم بھس زیادہ بھرا ہوا ہے یہ سب کفار کا وہ شرف جنگ ہے جو ہتھیار سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے مگر یہ چیز ہم مسلمانوں میں مگر ہیں تو نام کے مسلمان مگر پھر مسلمان بھائیوں میں بالکل نہیں کیونکہ ہم نے ہمیشہ کف ار کے کہنے پر عمل کیا کفار لکھے گئے ہر الفاظ کو صحیح مانا اور کفار کے ہر پیشن گوئی کو سچ سمجھا افسوس نہ ہم قرآن مجید کے پیشن گوئی کو سچ سمجھتے 

 

مزید پڑھیں

ہیں نہ ہم حدیث پاک پر یقین کرتے ہیں کیونکہ جو قرآن مجید اور حدیث پاک نے بتایا پہلی اور آخری لکیر وہی ہوگا اگر ہم میں زرہ برابر بھی ایمان موجود ہو تو یہ سب کفار کا ازل سے مضبوط چال ہے جسے وہ بہت چالاکی سے مسلمانوں میں بچھاتے ہیں اور ہم اندھے بہرے مسلمان بلا دھڑک اس پر یقین کرتے ہوئے اس پر عمل کرتے ہیں کیونکہ واشنگٹن پوسٹ کہاں سے چھپتا ہے کیا کسی نے آج تک اسی واشنگٹن پوسٹ میں کسی امریکی حکومت یا کسی ادارے یا محکمے کے خلاف کوئ بیان دیکھا ہے بشمول اس را ئیل اور یورپ کے کسی بھی ممالک کا کوئ خاص موضوع جو مسلمانوں کے حق میں ہو اور مظلوم مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے مترادف سمجھا جائے ایسا کوئ بھی خبر آج تک اس واشنگٹن پوسٹ میں نہیں چھپا اب یہ واویلا واشنگٹن پوسٹ پر اسلیئے چھپوایا گیا

مزید پڑھیں

 تاکہ ہم نے جو جنگ کی چنگاری بھڑکادی اب اس چنگاری کو آگ میں تبدیل خود مسلمان کردیں ہم واپس اپنے گھروں میں لوٹ کر صرف دور سے تماشا دیکھیں اور مسلمان آپس میں ہمارے اس چنگاری کو آگ میں تبدیل کیئے جانے والے آگ میں جلتے رہیں جب سب راکھ بن جائیں تو پھر ہمارا کام بہت ہی آسان ہوجائیگا آپ سب جانتے ہیں 1980 میں عراق اور ایران کے مابین شروع کی گئ جنگ آخر کار 1988 میں ختم ہوئ اور یہ بھی جانتے ہونگے یہ جنگ شروع کس کے کہنے پر کی گئ اور پہلے عراق نے ایران پر حملہ کیا کیونکہ اسوقت یہی عراق کے صدر صدام حسین اسوقت امریکہ ایک اہم الائ کے طور پر جانا جاتا تھا اس آٹھ سال کے طویل جنگ میں عراق کو امریکہ نے ہر قسمی ہتھیار جہاز اور گولہ بارود فراہم کیا لیکن اس آٹھ سالہ طویل جنگ بغیر معنی خیز ختم ہوا کیونکہ امریکہ کو اس چیز سے کوئ سرو کار نہیں تھا عاق ایران پر قابض ہو یا ایران عراق پر امریکہ چاہتا تھا ان دونوں کی لڑائ میں ایک تو یہ کبھی ساتھ نہیں چلیں گے دوسرا انکے افواج میں اموات ملٹری کمزور ہو جب امریکہ نے اپنا احداف حاصل کی تو دو اے تین سال کے قلیل مدت گزرتے ہی امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا کیونکہ امریکہ انکے اندرونی معاملات کو اچھی طرح جان چکا تھا کہ اب عراق میں وہ پہلے جیسی طاقت نہیں رہی اسے مارنا بہت آسان ہے اور اسنے وہ کیا جو ہمیشہ سے کرتا چلا آرہا ہے اور پہلی عراق اور امریکی جنگ کا سبب عراق کا کویت پر حملے کو جواز بنایا گیا لیکن کویت پر حملہ بھی اسی امریکی منصوبے کا حصہ تھا مسلمانوں کا کمال اس بات پر ہے امریکہ  اس را ئیل یو رپ وغیرہ کی باتوں پر کیسے یقین کرتے ہیں کیونکہ 1400 سال پہلے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا اے مومنو کفار اور نصاری کو کبھی اپنا بھائ مت بناو وقت آنے پر یہ اپنا ہر قسمی دشمنی بھول کر مسلمانوں پر ملکر لڑتے ہیں لیکن ہم لوگوں نے اس چیز کا۔مشاہدہ اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے پھر بھی ہمیں خود کے آنکھوں پر بھی یقین نہیں آتا تو قرآن کریم کے آیات پر کیسے عمل پیرا ہوں آنا اللہ واناالیہ راجعون 



جب ایمان تاریکیوں میں گم جائے دماغ کی نالیاں بند ہوں آنکھوں پر پٹی بندھی ہو کانوں میں روئ ٹھونس دی جائیں دل پر خوف بٹھایا جائے ایمان کو شراب و شباب یا لالچ میں ڈھانپا جائے تو مسلم دنیا صرف ایک جملہ تصور ہوگا استغفراللہ اللہ اکبر کبیرہ

Featured post

کوہ سلیمان؟ بارتھی سربل سمیت قرب و جوار میں گرج چمک کے ساتھ بارش

http://twitter.com/TRAIBAL_NEWS/status/1108758368695603201